All posts by Muhammad Afraz

داسو واقعہ: تخریب کاری کا خدشہ

رانا زاہد اقبال
وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے داسو کے مقام پر چینی انجینئرز کی بس کو پیش آنے والے حادثے میں تخریب کاری کے خدشے کا اظہار کیا ہے، حادثے کے عینی شاہدین کا بھی کہنا ہے کہ بس کے گرنے سے پہلے دھماکے کی آواز سنی گئی۔ دہشت گردی کے واقعہ میں پاکستانی منصوبوں میں معاونت کرنے والے چینی باشندے ان پاکستان دشمن ایجنٹوں اور تخریب کاروں کا نشانہ بنے ہیں جن کا واضح مقصد ہے کہ دوست ملکوں کے ماہرین کو عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا کر کے یہاں کام کرنے سے روکا جائے۔ ملک کے ایک بہت بڑے منصوبے پر کام کرنے والے غیر ملکی انجینئرز کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والوں نے پاک چین دوستی اور پاکستان کی ترقی کے عمل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ کمزور سیکورٹی نظام کا دشمن نے فائدہ اٹھایا۔ جہاں معلومات اکٹھی کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا پیشہ ورانہ مہارت کا حامل نظام موجود ہو وہاں عملی سطح پر ایسے سقم کا پایا جانا یقینا کسی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان کے ساتھ چین کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات سب پر واضح ہیں۔ دونوں ملکوں کی سوچ میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جب دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی غیر مشروط حمایت و امداد کی۔ دونوں ملکوں کے مابین گہرے تجارتی اور معاشی تعلقات بھی اس امر کا ثبوت ہیں کہ دونوں اقوام ایک دوسرے سے بخوبی واقف اور باہمی گہرے رشتوں میں بندھی ہوئی ہیں۔ تیزی سے تغیر پزیر بین الاقوامی صورتحال میں بھی پاکستان اور چین کے تعلقات تاحال مثالی ہیں اور سی پیک کی وجہ سے مستقبل کے حوالے سے دونوں ملکوں کی ایک دوسرے سے توقعات بڑھی ہیں۔ اسٹرٹیجک تناظر میں دیکھا جائے تو سی پیک کی وجہ سے چین کے ساتھ ہماری دوستی اقتصادی کے ساتھ ساتھ اسٹرٹیجک دوستی میں بدل گئی ہے۔ دشمن ملکوں نے بھی سی پیک پر خصوصی نظریں مرکوز کر دی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپس میں لڑانے کی اس کوشش کی مذموم کاروائی کے پس منظر میں وہی طاقتیں کارفرما ہیں جو اکنامک کوریڈور کے مخالفین ہیں۔ اب جب کہ دونوں ملکوں کو ایک جیسے خطرات کا سامنا ہے اور دونوں قومیں برابر متاثر ہو رہی ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مشترکہ مسئلے کو مشترکہ حکمتِ عملی سے حل کیا جائے۔ ان شرپسند عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور پھر ان کا قلع قمع کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے جو دونوں ملکوں کے اہم منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ سی پیک چین کی اپنی ضرورت تھی لیکن یہ اس کی ایسی ضرورت تھی جو اس سے زیادہ پاکستان کی ضرورت بن گئی ہے۔ خراب معیشت اور قرضوں کی وجہ سے پاکستان اپنے وسائل میں اتنے بڑے منصوبے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کے لئے ایک سہارا ثابت ہوا اور یہاں سرمایہ کاری کے لئے بیرونی دنیا کا اعتماد بحال کرانے کی وجہ بنا۔ اگر یہ بھرپور طریقے سے آگے بڑھتا ہے تو یہ پاکستان کی دیرینہ معاشی، سیاسی اور سفارتی بیماریوں کے لئے تریاق کا کام دے سکتا ہے۔ معاشی لحاظ سے یہ ہمیں معاشی بحران سے ہمیشہ کے لئے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کو وہ بنیادیں فراہم کر سکتا ہے جس سے ہم آنے والے وقتوں میں پائیدار ترقی کی منازل بخوبی طے کر سکتے ہیں۔
سی پیک کے خلاف بھارتی سازشیں اور مذموم عزائم ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور سی پیک کو ناکام کرنے کے حوالے سے بھارت کے دہشت گردوں سے رابطوں، مالی معاونت، تربیت اور سرپرستی کے بارے میں بھی پاکستان نے دنیا کو آگاہ کیا ہوا ہے۔ بھارت کے ایماء پر امریکہ نے بھی ان منصوبوں کی شدید مخالفت کی مگر چین اور پاکستان کے ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم و ارادے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بھارت روزِ اول سے پاکستان کا دشمن اور ہمہ وقت اسے تہس نہس کر نے کے لئے تہیہ کئے ہوئے ہے۔ امریکہ خطے میں چین کے مقابل ایک مصنوعی قوت کھڑی کرنے کے درپے ہے۔ دونوں کے اس خطے میں اپنے اپنے مقاصد ہیں جن کے لئے یہ ایک دوسرے کو استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ کی خواہش کے مطابق بھارت طاقتور ہوتا تو یہ چین کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے دریغ نہیں کرتا۔ پاکستان تو پہلے ہی اس کی خباثت کے نشانے پر ہے۔ بھارت ایسی ہی سازشوں میں مصروف ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں ملک اس سازش پر قابو پانے میں کامیاب رہیں گے اور ہر طرح کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد پر نظر رکھیں گے۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

”افغانستان سے امریکہ کے انخلاکی کہانی“

نگہت لغاری
احساس برتری اور احساس کمتری باقاعدہ دو بیماریاں ہیں جب یہ کسی بھی انسان کو اپنی زد میں لے لیتی ہیں تو خود بیمار اور اس کے لواحقین بھی اس مہلک اور دوررس بیماری کی زد میں آ کر کئی تقسیم کے نقصانات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو جسمانی بیماری سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے۔ جسمانی بیماری چونکہ جسم پر ظاہر ہو جاتی ہے اس لیے اس کا علاج کسی نہ کسی بھی طریقے سے ممکن ہو جاتا ہے لیکن نفسیاتی بیماری چونکہ انسان کے دل ودماغ میں چھپی بیٹھی ہوتی ہے اس لیے س کا اعلاج ڈھونڈنا بھی قدرے مشکل ہو جاتا ہے لیکن آج کل اس بیماری کو باقاعدہ ایک مہلک بیماری کا درجہ دے کر اس کا نصاب مرتب کردیا گیا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں تو اتنے میڈیکل ڈاکٹرز نہیں ہیں جتنے ماہرین نفسیات ہیں انہیں THERAPIST کہا جاتا ہے اور ان کی فیس بھی میڈیکل ڈاکٹر سے زیادہ ہے کیونکہ اس کا طریقہ علاج بھی کافی محنت طلب ہے۔
میڈیکل ڈاکٹر تو مریض کی بظاہر جسمانی حالت اور میڈیکل رپورٹس سے مدد لے کر دوائی کا نسخہ دے کر فارغ ہو جاتے ہیں مگر ماہر نفسیات کو نفسیاتی مریض کے کئی سیشن لینے پڑتے ہیں۔ مریض کی کئی بے معنی باتیں حوصلے سے سننی پڑتی ہیں اور پھر جواب میں ایک جانکاہ تقریر کے ذریعے علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق جب کوئی انسانی ”نفسیاتی مرض“ کا شکار ہو جاتا ہے تو اس میں اس کے والدین‘ ماحول‘ تعلیم وتربیت حتیٰ کہ حسب نسب بھی ایک رول ادا کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم نفسیاتی مریض کے حسب نسب کو اس لیے شامل کرتے ہیں کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نفسیاتی مریض زیادہ تر اپنے حسب نسب کے بھی زیر اثر ہوتے ہیں اور یہ اندازہ اس لیے کھل کر سامنے آیا ہے کہ ایک کمتر حسب نسب کا انسان اپنی قابلیت اور اعلیٰ تعلیم کے باوجود کہیں نہ کہیں اپنے اس احساس کمتری کا اظہار ضرور کر جاتا ہے۔ یورپ چونکہ بہت سی جنگوں اور نامساعد حالات سے گزرا تو اس نے انسانی زندگی میں کچھ اعلیٰ ترین اصولوں کو داخل کرلیا اور دنیا نے دیکھا کہ اس کے نتائج انسانی زندگی اور انسانی معاشرے پر بہت اچھے ثابت ہوئے۔ دور کیوں جائیں جب ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں وارد ہوئی تو اس زیادتی سے ہٹ کر انہوں نے بہت اعلیٰ اصول اور ضابطے ملک میں لاگو کیے وہ ایک جانور بھی خریدتے وقت اس کا حسب نسب دیکھتے تھے۔ بہرحال یہ ساری تمہید عنوان کی کہانی شروع کرنے سے پہلے بتانا بہت ضروری تھا کیونکہ جب امریکہ نے جاپان‘ ویت نام‘ عراق اور افغانستان میں بے معنی جنگیں شروع کیں تو ماہر نفسیات نہ ہونے کے باوجود میں نے امریکی لوگوں (خاص طور پر حاکم وقت) کی نفسیات سمجھنے کیلئے بے دریغ تحقیق کی کیونکہ ان جنگوں کے نتائج میں انسانوں نے جو دکھ اٹھائے وہ میرے لیے ناقابل یقین تھے۔ میں نے ان دنوں جو کچھ لکھا میری اپنے قارئین سے گزارش ہوگی کہ وہ تحریریں ضرور پڑھیں۔ یہ تحریریں 2002ء سے شروع ہوئیں۔ میں صرف چند کالمز کے نام لکھ رہی ہوں ان کے عنوان ہی شاید آپ کو پڑھنے پر مجبور کریں۔
(1) US WARS ON HUMAN RIGHTS
(THE NEWS INTERNATIONAL. (20.8.205)
(2) SUPRIM CIVALZED SATAT CAEAS)
HUMMAN BEINGS (NEWS -29.3 202)
(3) US MORE MARSHAL MISSIONS.
PANDIRING POINT (NEWS – 22.7.203)
(4) A WAR BETWEEN GIANT GOERG AND LANKY LADAN (NEWS – 17.6.202)
مجھے یہ بہت کچھ لکھنے پر خود امریکیوں کے احساسات اور بیانات نے کہنے پر مجبور کیا جو انہی کے اخباروں میں چھپ رہے تھے۔ ہیومن رائٹس کیلئے بڑی جنگ کے بارے میں عراق اور افغانستان بھیجے جانے والے اس انچارج افسر جنرل نیومین کا بیان سنیں۔ ”ہم اپنے بیوی بچوں کے حقوق کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے ایک ایسے دوردراز ناواقف ملک میں بھیجے جارہے ہیں جن کا ہمارے ساتھ کوئی رشتہ یا تعلق نہیں۔ ہمارے ساتھ اسلحے کی ہزاروں گاڑیاں‘ جنگی جہاز‘ کھانے اور دوائیوں کے لاکھوں پیکٹ اور پورٹیل ٹائلیٹ ہیں اور ہمارے مدمقابل اُجد جاہل اور غیرتربیت یافتہ جنگجو ہیں۔ یہ سب باتیں ہمارے بااختیاروں کی ”خرابی“ دماغ نہیں تو اور کیا ہے۔
ایک امریکی ریڈ کریسنٹ ڈاکٹر رولن یگ مین کی ایک رپورٹ امریکی اخبار INDIPANDANT میں شائع ہوئی۔ اس نے ہولناک انکشاف کیے اس نے کہا۔ عراق میں جنگ کے دوران امریکی فوجیوں نے عراق کی کرنسی میں ایک ایسا نامعلوم سوراخ (INVISIBLE HOLE) کر دیا تھا کہ جب عراقی عورتیں اپنی چھپی ہوئی رقم لے کر اپنے بچوں کیلئے دودھ اور خوراک خریدنے گئیں تو دکانداروں نے انہیں اس کرنسی کے عوض سودا دینے سے انکار کردیا کیونکہ وہ کرنسی DEMONITISE کردی گئی تھی۔ کیوبا نیول بیس کے زندان میں جب میں VISIT کرنے گیا تو وہاں انسانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھ کر مجھے یقین نہیں آتا تھا سب قیدی صرف ایک انڈدیر میں الگ الگ پنجروں میں بند تھے ان قیدیوں نے بتایا کہ ہمیں ہماری گندگی کھلا ئی جاتی ہے اور ہمارے سامنے ہماری مقدس کتاب کو ناقابل بیان بے حرمتی سے گزارا جاتا ہے۔ وہ آگے لکھتا ہے میں ایک ہسپتال میں موجود تھا۔ امریکی فوجی کچھ مشتبہ لوگوں کو ہسپتال میں ڈھونڈنے آئے اور سسکتے بلکتے مریضوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے درجنوں مریض مر گئے۔ جنگ کے دوران کچھ امریکی طالب علموں نے احتجاجی جلوس نکالا ان کے پلے کارڈز پر لکھا تھا۔
GIVE BACK PEACE TO MANKIND DO NOT CHOP OUR FATHARS.
ان تمام حقیقتوں کے باوجود حقِ جواز کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صدر بش نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا۔
TAKE WARS AS CIVILISING MISSION AND ACT OF PEACE, BUT SAY AT IS BUSSINESS.
امریکیوں نے تو بش کو مارکیٹ مین کا خطاب دے رکھا تھا کہ اس کا ہر لین دین سودا بازی پر مبنی ہوتا ہے۔
میں نے اپنے کالم کے آغاز میں نفسیاتی بیماریوں کا ذکر کیا تھا۔ اگلی ساری کہانی اسی کی وضاحت میں لکھی، دراصل امریکی اس نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں جو دراصل احساس کمتری پر مبنی ہے۔ اگر امریکہ کی تاریخ پر روشنی ڈالی جائے تو امریکہ کا وجود ایک مہم جو کرسٹوفر کولمبس کی دریافت ہے۔ جب یہ دریافت ہوا تو وہاں کے اردگرد کی کئی قومیں تلاش روزگار میں امریکہ میں آ کر بس گئیں، اس لیے ان کی قومیت یا حسب نسب کی کوئی اپنی تاریخ ہی نہیں ہے۔ جب یہ 1700ء میں دریافت ہوا تو یہاں بسنے والے مختلف قوموں کے لوگوں کو ”دی نیشن آف ہنٹرز“ کہا جاتا تھا اور یورپی ممالک ان کو حقارت سے دیکھتے تھے۔ 1783ء میں برطانیہ نے اسے بطور ملک تسلیم کیا۔ اس جغرافیائی اور قومی احساس کمتری نے امریکیوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا اور وہ پوری دنیا کو اپنا ماتحت بنانے کے لیے ہر قسم کے حربے استعمال کرنے لگے پھر 1914ء میں جب امریکہ ترقی کرتے کرتے ایک زرعی ملک سے صنعتی ملک میں تبدیل ہوا تو امریکیوں کا معیار زندگی بلند ہو گیا اور وہ پرتعیش زندگی گزارنے لگے۔ وہ اِن سہولیات سے پُر زندگی کے اتنے عادی ہو گئے کہ انہوں نے دوسرے ملکوں کے قدرتی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے انسانیت کو پیروں تلے روندتے ہوئے خودغرضی اور گراوٹ کو چھو لیا، حتیٰ کہ ایسی سازش کی جس پر دنیا حیران رہ گئی۔
ایک فرانسیسی مصنف نے اپنی کتاب “FRIGHTINING FRAUD” میں لکھا ہے کہ 9/11 کا حادثہ امریکہ نے خود انجینئر ڈ کیا تھا تاکہ اس بہانے افغانستان اور عراق پر جنگ مسلط کی جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ امریکیوں کے نفسیاتی مرض کی داستانیں بہت طویل ہیں۔ اس سے جتنے نقصانات انسانیت نے برداشت کئے ہیں، پتہ نہیں آگے کب تک جائے گا۔ امریکہ میں ایک کلب ہے، اس کا نام ہے ڈیٹرکیشن کلب، وہاں کی ممبرشپ بہت ہی مہنگی ہے۔ وہاں کلب میں بہت ہی قیمتی اشیاء رکھ دی گئی ہیں، وہاں لوگ آتے ہیں اور ہنس ہنس کر ان قیمتی اشیاء کو توڑنے کی کارروائی میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پھر خوشی خوشی اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ سب نارمل اور صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں مگر وہ اس توڑ پھوڑ سے پرسکون ہو جاتے ہیں۔
مجھے سیاست، سیاستدانوں اور سیاست دانی سے کوئی دلچسپی نہیں، نہ مجھے اس کا کچھ زیادہ علم ہے بلکہ مجھے تو ان الفاظ سے ہی نفرت ہے کیونکہ ہر برائی انہی کی ناجائز اولاد ہے۔ مجھے نہیں معلوم طالبان، القاعدہ، اسامہ یا امریکہ کون کیا چاہتا ہے، بس مجھے تو صرف انسان اور اس سے وابستہ اس کے معاملات اور اس کی پرسکون زندگی کی خواہش ہے۔ ان میں سے جو بھی ان باتوں کی پاسداری کرے گا، میں اسی کو سچا اور حق بجانب کہوں گی۔ 20 سال تک امریکہ نے اپنے لوگوں اور دوسرے لوگوں کو جس عذاب سے گزارا، اب بس شرمندگی سے منہ چھپا کر بھاگ گیا ہے مگر جاتے جاتے بھی اپنی سوچ اور ذہنی مرض کو واضح کرتا گیا ہے۔ سینکڑوں فوجی گاڑیاں چھوڑ گیا ہے مگر چابیاں نکالتا گیا ہے۔ سنا ہے ان فوجی گاڑیوں کا میکنزم ایسا ہے کہ انہیں ڈوپلی کیٹ چابی نہیں لگ سکتی۔ وغیرہ وغیرہ
(کالم نگارانگریزی اوراردواخبارات میں لکھتی ہیں)
٭……٭……٭

امن کیلئے امن کانفرنس…… ایک نئی تجویز

سردارآصف احمدعلی
حال ہی میں، اسلام آباد میں ایک افغانستان امن کانفرنس بلائی جو بعد میں ملتوی بھی کر دی گئی اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اشرف غنی صاحب نے اس کو ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے اور اس کانفرنس میں طالبان کو بھی نہیں بلایا گیا۔ مجھے اس مرحلے پر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس کانفرنس کے بارے میں نہ تو کوئی گہری سوچ کارفرما نظر آئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مناسب تیاری دکھائی دی جبکہ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تو یہاں کانفرنس بلانے کا مقصد سمجھ سے باہر ہے۔ اب اس ضمن میں، میں تو یہی عرض کروں گا کہ کانفرنس اگر بلائی ہے تو پھر اس کے لیے مناسب کام بھی کیا جائے اور اس کی تیاری کی جائے۔ میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ امن کانفرنس اور افغانستان کی تعمیرنو دونوں کام ہی لازم و ملزوم ہیں اور انہیں الگ الگ اور علیحدہ علیحدہ دیکھنا مناسب نہیں ہوگا اور ایک سگنل دینا چاہیے۔ افغان حکومت اور افغان اپوزیشن کو کہ جب تک امن نہیں لاتے، اس وقت تک افغانستان کی تعمیر نو ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس لیے چند دن پہلے میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ یہ دونوں موضوع بیک وقت زیر بحث آنے چاہئیں۔
جہاں تک امن کانفرنس کے انعقاد کا تعلق ہے تو افغانستان کے ہر ہمسایہ ملک کو دعوت دینی چاہئے جس میں چین، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، ایران اور پاکستان کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ جن کا براہ راست افغانستان سے تعلق ہے یا رہا ہے، انہیں بھی کانفرنس میں مدعو کرنا ضروری ہے۔ اس میں روس سرفہرست ہے اور نیٹو کی نمائندگی بھی اہم ہے اور سعودی عرب کا ہونا بھی ضروری ہے اور افغانستان کے اندر سے اشرف غنی کی حکومت کے نمائندے، طالبان کے نمائندے اور ہزارہ قوم کے جو لیڈر صبا خلیلی ہیں اور جنرل دوستم جو افغانی ترکوں کے راہنما ہیں اور جناب عبداللہ عبداللہ جو کہ حکومت کا بھی حصہ ہیں اور تاجک قوم کے بھی وہ لیڈر ہیں۔ جو بڑے بڑے دھڑے افغانستان کے ہیں، ان کا بھی کانفرنس میں موجود ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کانفرنس کو قیام امن کے سلسلے میں ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں افغانستان کی تعمیر بھی ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہے اور تعمیر نو کے حوالے سے کانفرنس جو ہے اس میں جی نائن کے ممالک کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے بلکہ لازمی ہے اور اس میں امریکہ کی شرکت بھی لازمی ہے اور روس کا ہونا بھی ضروری، چین کا ہونا بھی ضروری ہے اور اس میں سعودی عریبیہ، یو اے ای کا ہونا بھی لازمی اور ورلڈ بنک، ایشیائی ڈویلپمنٹ بنک، آئی ایم ایف، اور اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کی شرکت بھی لازمی ہونی چاہیے۔ یہ دونوں کانفرنسیں بیک وقت سائیڈ بائی سائیڈ چلنی چاہئیں اور جو ری کنسٹرکشن کانفرنس ہے اسے چاہئے کہ وہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے ایک رقم کا اعلان کرے جو کہ آئندہ دس سال میں افغانستان کی تعمیرنو پر خرچ کی جائے۔ اس میں جی آر آئی اور سی پیک بھی ہونا چاہیے اور جو ری کنسٹرکشن کانفرنس ہے اس کو ایک کمٹ منٹ کرنی چاہیے کہ اس قدر رقم ہم آئندہ دس سالوں میں خرچ کریں گے اور اس کی شرائط یہ ہوں گی۔
-1 اشرف غنی اور طالبان دونوں ایک سیاسی امن معاہدے پر دستخط کریں۔
-2 سارے افغانستان میں سب دھڑے سیزفائر کریں۔
-3 سارے دھڑے جنگی قیدیوں کو رہا کریں۔
-4 ایک ٹرانزیشن گورنمنٹ بنائی جائے جس میں سب دھڑوں کی نمائندگی ہو اور یہ نمائندگی زمینی حقائق کے مطابق ہو۔
-5 ٹرانزیشن گورنمنٹ کی قیادت ایسے شخص کے سپرد کی جائے جو سارے افغان دھڑوں کے لیے قابل قبول ہو۔
-6 ٹرانزیشن گورنمنٹ ایک جرگے کا اہتمام بھی کرے جس میں آئندہ طرز حکومت کے بارے میں فیصلے ہو سکیں۔ لوئی جرگہ کے فیصلوں کے مطابق ٹرانزیشن گورنمنٹ عملدرآمد کرے اور اس میں اگر الیکشن ہوتا ہے جو کہ لوئی جرگہ کا فیصلہ ہے کہ الیکشن ہونا چاہئے تو پھر ٹرانزیشن گورنمنٹ اس الیکشن کا انتظام کرے اور ایک ایسا الیکشن کرایا جائے جو افغان عوام کو قابل قبول ہو۔ ایسی شفافیت ہو جو دنیا کے لیے بھی قابل قبول ہو۔
یہ شرائط جو میں نے پیش کی ہیں یہ دونوں کانفرنسوں میں پہلو بہ پہلو چلنی چاہئیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان میں قیام امن کے لیے اشرف غنی کی حکومت ہے اور وہ پاکستان کو ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور ایسے ایسے الزامات عائد کر رہے ہیں جو حیران کن ہیں۔ لگتا ہے کہ اشرف غنی امن نہیں چاہتا اور خانہ جنگی چاہتا ہے کیونکہ اس کا فائدہ صرف خانہ جنگی میں ہے جو کہ ہندوستان بھی یہی چاہتا ہے۔ اگر اشرف غنی نے اپنے ملک کے ساتھ دشمنی کرنی ہے تو پھر وہ اس پالیسی پر ضرور کاربند رہیں اور اگر وہ اپنے ملک میں قیام امن چاہتے ہیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ استعفے دے دیں ورنہ ان کا حشر بھی نجیب اللہ جیسا ہوگا۔
(کالم نگار سابق وزیرخارجہ اورممتاز ماہرمعیشت ہیں)
٭……٭……٭

پورے پنجاب کے اشتہاریوں کوگرفتار کریں

خضر کلاسرا
میری کوشش ہوتی ہے کہ سویرے سویرے جہاں قومی اخبارات کی عرق ریزی کروں، وہاں تھل بالخصوص لیہ، بھکر میانوالی کے مقامی اخبارات کی زیارت بھی کروں۔میرے خیال میں قومی اخبارات میں دوردراز علاقوں کی سکینڈ لز اور دیگر ایشوز پر خبریں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اور اگر ہوتی ہیں تو اتنی نمایاں جگہ نہیں ہوتی، یوں پسماندہ علاقوں کے ایشوز دب کر رہ جاتے ہیں۔اس لیے ہمارے جیسے صحافیون مقامی اخبارات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ابھی کل ہی لیہ کے ایک مقامی اخبار کی اس خبر نے اپنی طرف متوجہ کرلیا کہ میانوالی مظفرگڑھ۔ ایم ایم روڈ۔ مطلب قاتل روڈ، خونی روڈ کی ابتر حالت کی وجہ ٹریفک حادثات کی وجہ سے صرف 6 ماہ کے دوران55افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں، مطلب 55خاندانوں کے گھر لاشیں پہنچیں اور ا ن کا نہ ختم ہونے کا غم کا آغازہوگیا۔ماں باپ‘ بہنوں، بیٹیوں کی زندگیاں یکسر تبدیل ہوکر رہ گئیں۔ابھی تک رپورٹر کی تحقیقی خبر کو پڑھ میں جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ ٹریفک حادثات میں گاجر مولی کی طرح انسانی جانوں کی تعداد اس قاتل روڈ کی ہے جوکہ صرف لیہ سے گزرتاہے، یعنی کہ بلکسر سے میانوالی اور میانوالی سے بھکر تک یاپھر مظفرگڑھ کی حدود میں گزرنے والے قاتل روڈ کی نہیں ہے، اگر مکمل ایم ایم روڈ پر اس سال حادثات کی تعداد میں زندگی کی بازی ہارنے والے کو شامل کرلیاجائے تو وہ کہیں زیادہ ہوگی۔ فرض کریں اس سال کے پہلے چھ ماہ میں پورے قاتل روڈ پر ٹریفک حادثات میں جابحق ہونے والے افراد کی تعداد 55 ہے تب بھی بہت بڑی تعداد ہے، اور حکومت اس روڈ کو تسلسل کیساتھ نظرانداز کرنے کی وجہ سے جوابدہ ہی نہیں قابل گرفت ہے مطلب وقت کے قاضی کو اس بارے میں از خود نوٹس لینا چاہیے۔ ا س کو موٹروے میں تبدیل کرنے میں لعیت ولعل سے کام کیوں لیاجارہاہے؟
قاتل روڈ کے خونی کردار کے بارے میں لکھتے ہوئے میرے سامنے میانوالی کے موٹرسائیکل پر سکول جاتے دو بچوں اور ان کے جوان باپ کی لاشیں آرہی ہیں جوکہ میانوالی میں اسی روڈ کی ابترحالت کی وجہ سے ٹرالر کے نیچے آکر زندگی کی بازی ہارگئے تھے۔ ان معصوم بچوں کی ماں اور دادا دادی سمیت دیگر خاندان کا دکھ کون محسوس کر سکتاہے؟اسی طرح سرائے مہاجر کے قریب ایم ایم روڈ پر ایک بس نے سکول سے آٹھویں اور نو یں کلاس کی سات بچیوں جوکہ سائیکل رکشہ پر سوا رتھیں، کچل دیا۔ اب اندازہ کریں ان خاندانوں پر کیا گزری ہوگی جن کی بچیاں اپنے آخری امتحانی پیپر کے بعد خوشی خوشی گھر جارہی تھیں اورپھرحادثہ کے بعد کفن میں لپیٹ کر ماں باپ کے حوالے کی گئی تھیں۔پنجاب حکومت کی طرف سے اس حادثہ کے بعدکیا گیا۔ وہ ایک اور دکھ بھری کہانی ہے؟ ایم ایم روڈ۔
وزیراعظم عمران خان کے حلقہئ انتخاب اور آبائی شہر میانوالی سے بھی گزرتاہے، وزیراعظم عمران خان، لائیو کال پروگرام۔ وزیراعظم آپ کے ساتھ‘ میں ایک کالر کی میانوالی سے کال پراسی ایم ایم روڈ کی حالت زار کا یوں ذکر کیاتھا کہ وہ خود بھی ایک بار اس خونی روڈ کی بدتر حالت کی وجہ سے ٹریفک حادثہ سے محفوظ رہے تھے لیکن اقتدار میں وزیراعظم عمران خان کو تین سال ہوگئے لیکن اس ایم ایم روڈپر توجہ نہیں دی جو کہ یہاں کی باسیوں کی زندگیاں بچانے کیلئے ضروری تھی بلکہ روف کلاسرا جیسے سنیئر صحافی نے ایم ایم روڈ کی طرف توجہ دلائی تو موصوف ناراض ہوگئے۔ اب اس کے بعد کیاعرض کیاجاسکتاہے؟ وزیراعلی عثمان بزدار نے بھی ایم ایم روڈ کے حوالے سے تھل کے عوام کو مایوس کیا، وہ اسے موٹروے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ لینے کی بجائے اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ یہ وفاق کرے،یوں تھل کے ضلع بھکر کے رکن قومی اسمبلی ثنااللہ مستی خیل ایوان میں آبدیدہ ہوکر بتارہے تھے کہ میٹرو بس سروس پر جھوٹے لینے والے کیا جانیں؟
ایم ایم روڈ جوکہ قاتل روڈ کانام پاچکاہے، وہاں انسانی زندگیاں موت کے منہ میں جارہی ہیں اور ہمارے کندھے لاشیں اٹھااٹھاکر تھک گئے ہیں لیکن عوام اور مستی خیل کی آہ و زاری کے باوجود رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 55 قیمتی جانیں ٹریفک حادثات میں لقمہئ اجل بن گئی ہیں۔ میں ابھی انسانی زندگیوں کو ٹریفک حادثات میں گاجر مولی کی طرح کٹنے کی افسوسناک تحقیقی خبر سے نکلا ہی تھا کہ آگے لیہ کی ایک اوردہلا دینی والی خبر منتظرتھی۔وہ یوں تھی کہ لیہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفسیر سید علی رضا نے اس بات کا انکشاف کیاتھا کہ لیہ میں صرف ماہ جون کے دوران پولیس نے لیہ سے 150 اشتہاریوں کو گرفتار کیاہے جوکہ سنگین جرائم کے بعد قانون کی گرفت سے دور تھے۔
ادھر پولیس کے اعلی افسراور ان کے ما تحت ایس ایچ اوز، سید علی رضا کی لیہ میں بحیثیت ڈسٹرکٹ پولیس لیہ تعیناتی سے پہلے سفارش کے اثر یا پھر چونچ گیلی ہونے کے سبب ان اشتہاریوں کو پتھاری داری اور بااثر افراد کے ڈیروں پر موجودگی کی اطلاع کے باوجود خاموش تھے؟ یوں اشتہاریوں کا اجڑ جوریاست اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے بعد لیہ میں موجود تھا، اوروہ عوام کی زندگی کو کس انداز میں تلخ کررہا تھاوہ بھی ایک درد ناک کہانی ہے۔
ادھر میرے ذہن میں بار بار یہ سوال بھی آرہاہے کہ ڈی او پی لیہ سید علی رضا کے مطابق ان کے حکم پر صرف ماہ جون میں 150 اشتہاری لیہ پولیس نے پکڑے ہیں۔اتنی حدتک تو درست ہوگیا لیکن یہ تو اشتہاریوں کی گرفتاریوں کا ایک ماہ کا ڈیٹاہے، اس کے علاوہ لیہ میں ابھی کتنے اشتہاری ہیں جوکہ پولیس کی گرفتاری سے بچ کر قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں اور عوام میں خوف کی فضا کا سبب ہیں۔اور پھر ان کے پیچھے کون لوگ ہیں جوکہ خطرناک جرائم میں اشتہاریوں کو پناہ دے رہے ہیں۔
راقم الحروف کو یہاں لاہورکے ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر کی وہ خبر بھی یاد آرہی ہے جس کا حاصل یہ تھاکہ مقتدرقوتوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منڈی بہاؤالدین سیدعلی رضا کاتابعدار نہ ہونے پر تبادلہ کرادیا ہے۔چودھریوں کے سیاسی عزائم اور دیگر ایشوز کے بارے میں کون نہیں جانتاہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن میں کہاتھا کہ یہ پنجاب کے بڑے ڈاکو ہیں۔راقم الحروف کے خیال میں سید علی رضا کی بحیثیت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لیہ تعیناتی اس لیے لیہ کے عوام کیلئے مفید ہے کہ موصوف اشتہاریوں کو کھلی چھوٹ دے کر عوام کی زندگی اجیرن کرنے کی بجائے ان کو قانون کی گرفت میں لارہے ہیں اور یہ سلسلہ اور بھی تیز ہوگا۔میرے خیال میں شاید ڈی پی او علی رضا کی منڈی بہاؤالدین سے تبدیلی کی وجہ بھی اشتہاریوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگی لیکن لیہ میں ایسا نہیں ہوگا؟ یہاں آخر میں میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی سے بھی کہوں گا کہ اشتہاریوں کا ایشو صرف لیہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق یہ پورے پنجاب میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کو ان کی گرفتاری کے حکم کے ساتھ ایسے افسران کی حوصلہ افزائی کریں جوکہ پہلے سے متحرک ہیں،جس کی ایک مثال ڈی پی او سید علی رضا ہے۔ اور ایسے ڈی پی اوز کی کچھائی کریں جوکہ سیاسی اثرروسوخ اور پتھاداروں کے ہاتھوں کھُل کھیل کر اشتہاریوں کے اجڑپالنے میں مصروف ہیں۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭……٭……٭

افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا ڈرامہ ناکام ہو گیا

ملک منظور احمد
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں، پاکستان کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ افغانستان سے ہمیشہ ایک اچھے ہمسائے اور ایک برادرانہ اسلامی ملک کے طور پر بہتر تعلقات رکھے جائیں، دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط میں اضافہ کیا جائے لیکن پاکستان کی اس خواہش کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات بد قسمتی سے آج تک پروان نہیں چڑھ سکے ہیں۔ اب اس کی وجہ کیا ہے یہ یقینا ایک طویل بحث ہے، لیکن بہرحال دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مثالی قرار نہیں دیے جا سکے ہیں۔ افغانستان گزشتہ 40برس سے ہی جنگ کا شکار ہے اور اس جنگ کے اثرات پاکستان نے بھی بھگتے ہیں اور اب بھی بھگت رہا ہے۔ سویت یونین نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس کا راستہ روکنے کے لیے افغانستان میں سویت مخالف قوتوں کی ہر طرح سے مدد کی اور پاکستان بھی عالمی برادری کے ساتھ ان کاوشوں میں شامل تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں سویت یونین تو شکست کھا کر افغانستان سے نکل گیا لیکن پاکستان کو 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی صورت میں اس جنگ کے نتائج بھگتنا پڑے۔
امریکہ میں نا ئن الیون حملوں کے بعد امریکی اور نیٹو ممالک نے دہشت کے خاتمے کے نام پر ایک اور افغان جنگ شرو ع کی اور یہ جنگ 20سال تک جاری رہی اورامریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کہلائی لیکن اب امریکہ کی جانب سے اس جنگ میں خود ساختہ مقاصد کے حصول کا اعلان کردینے کے بعد انخلا کر سلسلہ تیزی سے جاری ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک 95فیصد امریکی فوجی افغانستان سے واپس جا چکے ہیں۔ لیکن جوں جوں امریکی فوجوں کا انخلا افغانستان سے ہوتا جا رہا ہے افغانستان میں جنگ میں تیزی ہو تی جا رہی ہے۔ افغان حکومت اور طالبان ایک دوسرے کے ساتھ بر سر پیکار ہے ہیں اور دونوں فریقین ہی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بات کرنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ حال ہی میں دوحا میں دونوں افغان فریقین کے درمیان مذاکرات کا تازہ دور ضرور ہوا ہے لیکن بے نتیجہ رہا ہے۔ دونوں فریقین اپنے اپنے موقف اور رویوں میں لچک کا مظاہر ہ کرنے کے روا دار نہیں ہیں اور اس کا نتیجہ نہ صرف افغان عوام بلکہ پاکستان بھی بھگت رہا ہے۔ افغانستان میں جنگ امریکی انخلا کے ساتھ ساتھ جنگ میں تیزی آرہی ہے اور ساتھ ہی افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے اوپر الزامات کا سلسلہ تیز ہو تا جا رہاہے۔ محسوس ایسا ہو رہا ہے کہ افغان حکومت اپنی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہی ہے اور چاہتی ہے عالمی بردادری کو یہ با ور کروایا جائے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار پاکستان ہے اور افغان حکومت اس عمل میں اکیلی نہیں ہے بلکہ بھارت بھی اس حوالے سے پاکستان کے خلا ف پراپیگنڈا کرنے میں پیش پیش ہے۔ حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغان فوج درجنوں کی تعداد اضلاع میں بغیر ایک گولی چلائے ہی ہتھیار ڈال کر فرار ہو چکی ہے بلکہ کئی اضلاع میں تو افغان فوج کے فوجی طالبا ن کے ساتھ شامل بھی ہو چکے ہیں۔
افغا ن فوج تعداد اور وسائل میں طالبان سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود مقابلہ کرتی ہو ئی نظر نہیں آرہی ہے۔ افغان نیشنل سیکورٹی مشیر حمد اللہ محب اور افغان نائب صدر امر اللہ صالح مسلسل پاکستان کے خلاف زہر یلے بیانات دے رہے ہیں۔ جبکہ افغان صدر اشرف غنی بھی اس سلسلے میں پیچھے نہیں ہیں اور دعویٰ کیا کہ پاکستان سے 10ہزار جنگو افغانستان میں طالبان کے ساتھ لڑنے کے لیے پہنچ چکے ہیں، اس کے بعد افغان نائب صدرامر اللہ صالح نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی فضائیہ نے افغان فضائیہ اور دیگر فورسز کو طالبان کے خلاف آپریشن کی صورت میں کاروائی کی دھمکی دی ہے۔ اور ابھی یہ سلسلہ تھما نہیں تھا تو اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا الزام بھی پاکستان پر دھر دیا گیا اور نہ صرف یہ بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ افغان سفیر کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے، لیکن جس نے بھی اس واقعے کی کہانی سنی اس کے ذہن میں سوالات نے ہی جنم لیا، اسلام آباد میں افغان سفارت خانہ بے پناہ وسائل رکھتا ہے ان کے پاس سیکورٹی گارڈ بھی موجود ہیں اور متعدد سرکاری گاڑیاں بھی اس کے باجود افغان سفیر کی بیٹی پورے اسلام آباد اور راولپنڈی میں چار ٹیکسیاں بدل بدل کر کیوں گھومتی رہیں؟ اس کے علاوہ ان کے ساتھ دوسرا کوئی فرد کیوں نہیں تھا۔ وہ راولپنڈی کیا کرنے گئیں تھیں؟ اور سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ انھوں نے تفتیشی ٹیم کو اپنا موبائل ڈیٹا ڈلیٹ کرکے کیوں دیا؟ پاکستان اداروں کی تفتیش کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا واقعہ ثابت نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی افغان سفیر کی بیٹی پر کسی قسم کا کوئی تشدد ثابت ہوا ہے۔ افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا یہ ڈرامہ جو کہ یقینا پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لگایا گیا تھا بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اور اس ڈرامے کی ناکامی کی بڑی وجہ اسلام آباد پولیس کی بہترین اور تیز رفتار تفتیش تھی، اسلام آباد پولیس نے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن مصطفی تنویر کی زیر قیادت نہایت ہی قلیل وقت میں پاکستان کے خلاف رچائی جانے والی اس خطرناک سازش کا پردہ چاک کر دیا۔ مبصرین تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جس عجلت میں افغان سفیر کو پاکستان سے واپس بلا لیا گیا ہے اس سے تو یہی ثابت ہو تا ہے کہ افغان حکومت کو یہ ڈر تھا کہ کہیں افغان سفیر مزید تحقیقات کے نتیجے میں مزید ایکسپوز نہ ہوجائیں۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے خلاف باقاعدہ ففتھ جنریشن جنگ شروع کردی گئی ہے۔ اور پاکستان کی عوام اور اداروں کو مل کر اس جنگ کا مقابلہ کرنا ہے۔ افغان قیادت اس صورتحال میں اپنے سر سے ذمہ داری ہٹانے کے لے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے اور پاکستان کو بغیر کسی لگی لپٹی رکھتے ہوئے اس پراپیگنڈا مہم کا بھرپور جواب دینا چاہیے۔ پاکستان کو اس حوالے سے افغان حکومت کی کمزوریوں اور بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کو بھی دنیا کے سامنے عیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کسی بھی صورت دفاعی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان نے افغانستان میں امن کی جتنی کو ششیں کیں ہیں اور افغانستان میں جنگ کے جتنے نقصانات اٹھائے اور کسی ملک نے نہیں اٹھائے یہی درست وقت ہے پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے مفادات کا بھرپور دفاع موثر انداز میں کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت بھی آن بورڈ ہو تو مقصد حاصل کرنے میں آسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔
(کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
٭……٭……٭

Essay Services – Choosing the Ideal Business

Essay services can be offered by a variety of companies, but the spanish sentence checker only things you need to make sure of are the grade of the essays and the level of support they give. Nearly all companies will provide some type of essay writing service, but not all of them offer the same level Continue reading Essay Services – Choosing the Ideal Business

Want Money Fast?

You Can Use Paydayloans to Find Money Fast

Employing payday loans Ohio is extremely easy. The same-day approval means you get a payday advance.

Finding an improvement credit rapid nebancar is easy and all you won’t need to give evidence of any type and you will need is some evidence of income. Simply by filling out a creditos Continue reading Want Money Fast?

You Can Use Paydayloans to Find Money Fast

How to Obtain a Online Photo Editor

Are you interested in figuring out just how to make utilize of an online photo editor? Whether it’s for a school project or to get pleasure, you’re guaranteed to find something which will help you boost your photographs and turn them into the perfect thing of beauty. It is crucial to select a skilled editor attentively because you never want Continue reading How to Obtain a Online Photo Editor

3 Casino Slot Tips You Need to Know

Your beloved Vegas casinos and other high casino games can be found right here. Get immediate Casino slots results and perform with all of the large Casino slot games at no cost! Find out more info on all the best Online Casinos including details on deposit bonuses, bonus frequency, payouts and more. It’s a fantastic idea to find an internet Continue reading 3 Casino Slot Tips You Need to Know

فردوس عاشق اعوان۔ایک انتھک سیاستدان

صدف نعیم
اس وقت ہر فیلڈ میں خواتین کسی نہ کسی حیثیت میں کام کر رہی ہیں اور ایسی بات نہیں کہ کام نہیں کیا بلکہ مردوں سے زیادہ کام کرکے اپنے آپ کو منوایا بھی ہے۔ ان کامیاب خواتین میں ایک نام ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ہے جو آج معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب اور مشیر اطلاعات کے عہدے پر فائز ہیں۔ میں نے بہت سال جرنلزم میں کام کیا۔ بہت سی سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں مگر ان سے ملاقات نہ بھولنے والی ملاقاتوں میں سے ایک ہے۔ فردوس عاشق اعوان جن کو کبھی برا بھلا کہتے ہوئے دکھایا جاتا ہے تو کبھی کوئی اور چیز وائرل ہو جاتی ہے مگر حقیقت کچھ اور ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ایک شام کھانے کی نشست اور ایک پورا دن سیالکوٹ حلقے میں، میں نے ان کو صرف کام کرتے دیکھا، لوگوں کو آپس میں ملواتے دیکھا اور خاص طور پر تحریک انصاف میں اس وقت سرگرم کارکن کے طور پر بھی دیکھا۔ ایک شام جب کھانے پر ان سے ملاقات ہوئی تو وہ بالکل ایسے گھل مل گئیں جیسے بہت قریب ہوں، بہت سی اپنے دل کی باتیں شیئر کیں اور اس دوران میں نے ایک چیز پر غور کیا کہ ان کو جتنے فون آئے، انہوں نے کسی سے بات نہیں کی، بس اپنا سارا ٹائم اپنی ذات اور ہمارے ساتھ رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی زندگی میں بہت محنت کی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے سیاست میں متعارف کروایا تھا مگر ان کے جانے کے بعد مجھے یوں لگا کہ میری اب اس پارٹی کو کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے وہیل چیئر پر بیٹھ کر بھی پیپلزپارٹی کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیں مگر جب لوگ بدل گئے تو میری ضرورت ہی نہیں تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق زمیندار خاندان سے ہے۔
میری پڑھائی کے سب خلاف تھے مگر میں نے اپنی پڑھائی مکمل کی اور پھر سیاست میں آئی جس کا گھر والوں نے بہت برا منایا۔ میری شادی ایک اوورسیز پاکستانی سے ہوئی اور میری ایک بیٹی بھی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ سیاست اب میری زندگی ہے اور میرے شوہر پاکستان نہیں آتے، باہر رہتے ہیں مگر بیٹی پاکستان میں ہے اور میرا کل اثاثہ ہے۔ سیاست میں آ کر میں نے میڈیا کی سکرین پائی اور باقی سب کچھ کھو دیا کیونکہ میرے شوہر کہتے ہیں کہ میرے پاس آؤ مگر میں سیاست نہیں چھوڑ سکتی اور وہ پاکستان نہیں آتے۔ بہت پیاری شام تھی جس میں انہوں نے اپنے دل کی تمام باتیں کیں پھر ان کے ساتھ سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ چیمبر آف کامرس سیالکوٹ میں پہلا فنکشن ہوا جس میں انہوں نے سب کے مسائل سن کر ان کو آپس میں ملوانے کی کوشش کی پھر اس کے بعد ایک اور سیالکوٹ کی معروف سیاسی پارٹی کی طرف گئے جہاں پر انہوں نے حلقے کے سب لوگوں کو چائے پر بلایا تھا۔ مجھے بھی وہ اپنے ساتھ لے گئیں، وہاں میں نے دیکھا ایک یہی خاتون تھیں جو ہر ایک کے مسئلے سن رہی تھیں اور آگے متعلقہ لوگوں کو بتا رہی تھیں۔ میں نے کوئی غرور، کوئی تکبران میں نہیں دیکھا۔ یہاں پر ایک اور بات کا تذکرہ کرتی چلوں، ایک اور چیز جو ان میں سب سے خاص ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کو حقیر نہیں جانا۔ ایک چیز ہوتی ہے دکھاوے کی، مگر یہ اصل حق دار لوگوں کے کام کرنے کی پوری کوشش کرتی ہیں جو الیکشن میں کھڑا ہوا، اس سے زیادہ تو یہ محنت کر رہی تھیں کہ لوگوں کے مسائل حل ہوں ان کو تحریک انصاف سے مایوسی نہ ہو پھر واپسی پر انہوں نے اپنی گاڑی میں مجھے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ ایسے لگا کہ جیسے میں کسی اپنے کے ساتھ ہوں، رستے میں گاڑی روک کر آئس کریم کھلائی اور سارے رستے یہی باتیں کرتی رہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اور تحریک انصاف کے لیے ایسا کیا ہو جو ان کے حق میں بہتر ہو۔
اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک سادہ انسان ہیں۔ میں نے پارٹی کے اندر آج تک ایسا متحرک کسی اور کو نہیں دیکھا جو اپنے دن اور رات کام میں صرف کر دے۔ ایک رات سیالکوٹ اور پورا دن لاہور یہ کہنا تو آسان ہے مگر کرنا بہت مشکل۔ گاڑی میں بہت گپ شپ لگاتی رہیں اور سچ بتاؤں مجھے صبح آنا جتنا مشکل لگ رہا تھا، ان کے ساتھ وقت گزار کر اتنا ہی اچھا لگا پھر مجھے بھی ہدایت کی کہ دیکھو اپنی محنت کے دم پر چلنا، تمہاری محنت ہی تمہارا اصل کام اور کامیابی ہے اور کہا کہ خبریں تو ویسے بھی میرا اپنا گھر ہے۔ پھر بتایا کہ میں نے اپنی زندگی میں بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں، اس لیے اب مجھے مشکلات میں ڈر نہیں لگتا بلکہ میں ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتی ہوں۔ میں سوچ رہی تھی کہ عہدے پر بیٹھ کر اتنی عزت دے رہی ہیں اور بالکل اپنا سمجھ رہی ہیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے۔
عموماً لوگ خاص طور پر سیاستدان جب عہدوں پر بیٹھتے ہیں تو پتہ نہیں اپنے آپ کو دنیا کی کون سی مخلوق سمجھتے ہیں مگر ایسے لگ رہا تھا کوئی بڑی بہن ساتھ جا رہی ہے اور خیال رکھ رہی ہے۔ اتنے میں لاہور آ گیا کیوں کہ رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے اور ان کی دو جگہ پر ریکارڈنگز بھی تھیں۔ اس کے باوجود یہ مجھے اپنے ساتھ گورنر ہاؤس لے گئیں پھر وہاں جا کر انہوں نے چائے کا کہا، اتنے میں ڈریس سلیکٹ کرنے لگیں تو میں نے کہا میڈم یہ والا پہن لیں تو فوراً انہوں نے لڑکی کو کہا کہ جو صدف نے کہا ہے میں وہی سوٹ پہنوں گی۔ اس کے بعد چائے پی کر میں تو وہاں سے آ گئی مگر سوچ وہیں اٹکی تھی کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جو دوسروں اور خاص طور پر تحریک انصاف کے لیے اتنا کام کر رہی ہیں، وہ اندر سے کتنی اکیلی ہیں اور دل کی صاف ہیں۔ میں مانتی ہوں کہ کچھ باتیں وہ منہ پر کرتی ہیں جو لوگوں کو بُری لگ جاتی ہیں مگر ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے جو انسان منہ پر بات کرتا ہے وہ دل کا صاف ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات وہ منافق نہیں ہوتا کیونکہ منافق انسان سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، بہرحال میں نے جو وقت ان کے ساتھ گزارا وہ انتہائی خوش اخلاق، رحمدل اور دل کی اچھی خاتون ہیں۔ بس محنت زیادہ کر جاتی ہیں جس کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔
٭……٭……٭