All posts by Muhammad Afraz

مائنس آل !

شمع جونیجو
ڈیرن اور رابنسن اپنی کتاب “Why Nations Fail ” میں سمجھاتے ہیں کہ قوموں کے تباہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ اداروں کا کمزور یا متنازعہ ہونا ہے۔کسی بھی ملک میں اگر ادارے آپس میں تنازعات کا شکار ہوجائیں،انسٹی ٹیوشنل ہرارکی (Institutional Hierarchy)تباہ ہو تولاقانونیت بڑھنے لگتی ہے، احتساب نہیں ہورہا ہوتا،عدالتیں کمپرومائز ہو جاتی ہیں، مہنگائی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور جب مہنگائی ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو عوام میں فرسٹریشن بڑھ جاتی ہے، پھر مظاہرے اور انارکی شروع ہوجاتی ہے اور اگر جمہوریت بھی کمزور ہو توریاست کی رٹ کو چیلنج لاحق ہوجاتے ہیں کیونکہ ادارے ایک دوسرے کی بات نہیں مانتے اور یوں کولیپس کر جاتے ہیں۔اداروں کے کولیپس کرنے پر بھی ریاست غیر جانب دار نہیں ہوتیں اور یوں قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
میرے خیال میں تو پاکستان میں یہی ہورہا ہے۔ پچھلے تین سال سے ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے ۔ایسے لگ رہا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ کل کیپٹن صفدر کو جس مقدمے میں گرفتار کیا گیا اس کا مدعی خود دہشت گردی کے مقدمے میں مطلوب ہے لیکن جھوٹا مقدمہ خبر نہیں ۔ جس طرح سے بیان کیا جا رہا ہے کہ کیپٹن صفدر کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنے کےلئے ایک اعلیٰ پولیس افسر کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ انتہائی خوفناک صورتحال کی نشاندہی ہے جس پہ میں نے گزشتہ روز ایک ٹویٹ بھی کیا کہ کیا ہم مارشل لا ءکی طرف جارہے ہیں؟ کیونکہ مجھے یہ مائنس آل کی طرف جاتا نظر آرہا ہے کہ سب جائیں گے، ادارے ناکارہ ہوجائیں گے اور پھرانارکی ہوجائے گی۔عوام کا بہرحال رد عمل تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مختصر ترین مارشل لاءہوگا۔میری جب سندھ پولیس کے کچھ سینئر افسران سے بات ہوئی تو وہ نہ صرف دل برداشتہ تھے بلکہ مریم نواز کے کمرے تک پہنچنے والے اقدام پر انتہائی غصے میں بھی نظر آتے تھے۔ اداروں میں ڈائریکٹ تصادم انتشار کا باعث بن رہا ہے لیکن مین حیران ہوں کہ یہ سب کانفلکٹ impose کرنے والوں کو سمجھ میں کیوں نہیں آرہا؟
ہم کوئی بھی اسٹریٹجی سیٹ کرنے سے پہلے ٹارگٹ گولز کو مدنظر رکھتے ہیں کہ آﺅٹ کم کیا ہوگا۔ یہاں اپوزیشن کو مارنا مسئلہ نہیں ہے، یہاں عوام الگ سڑکوں پر آئی ہوئی ہے، بعض علماءبددل ہیں کہ ان کو ”وہاں بلا “کے ان کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے اور اگر عمران سے ملنے جائیں تو وہ انھیں ریاست مدینہ کا سبق پڑھانا شروع کردیتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو وہاں مستحکم صورتحال کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اور اگر عمران سے ملیں تو وہ انہیں اکنامکس سکھانا شروع کردیتا ہے۔ ایک سیاسی مخالف نے تو بپھر کے یہ بھی کہہ دیا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں بھی عمران کو سیکورٹی پڑھانے کےلئے بلایا جائے تاکہ ”انہیں “پتہ چلے کہ ملک پر کس کو مسلط کیا گیا ہے۔
مسئلہ کیا ہے ؟
میرے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی وہ کام نہیں کر رہا جس کی اسے تنخواہ مل رہی ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ قانون سب کےلئے ایک نہیں ہے۔ اگر عمران خان مزار قائد پر نعرے لگائے تو ٹھیک، لیکن اگر کیپٹن صفدر نے وہی کیا تو بے حرمتی۔ اگر نواز شریف کہتا ہے کہ ادارے عمران خان کے ساتھ ہیں تو غداری ہے لیکن اگر عمران خان خود یہی کہے تووہ ایک پیج پر ہونا ہوتا ہے۔ یہ دہرا معیار ملک کو کدھر لے کر جائے گا۔ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک اہم ریاستی ادارہ کے سربراہ کا نام لیا جارہا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا نہیں دیکھا اور یہ بات خود ادارے کےلئے بھی پریشان کن ہونی چاہئے۔ میں نے 2017ءمیں پانامہ کیس کے حوالے سے’ خبریں‘ ہی میں کالم لکھا تھا کہ ادارے افراد سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔میں نے اپنے دسمبر کے ایک کالم میں لکھا تھا کہ میں نے جنرل ضیاءاور مشرف کے دور میں بھی اداروں کے خلاف نعرے نہیں سنے۔ اب جو ہورہا ہے وہ اس پوری محنت پر پانی پھیرنا ہے جو جنرل راحیل کے دور میں تھینک یو راحیل شریف کی صورت میں سامنے آئے تھی کیونکہ یہ پہلی حکومت ہے جو اپوزیشن کے ایک جملے کے جواب میں اداروں کو ملوث کرکے چار تھپڑ مار دیتی ہے اور یوں حالات خراب سے خراب تر ہوتے جار رہے ہیں۔ میاں نواز شریف پر بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا مطلب بات چیت کے دروازے بند کرنے کے مترادف تھا جس کے جواب میں میاں صاحب نے گوجرانوالہ میں ”نیا ایٹمی دھماکہ“ کر دیا ، ان کو کراچی جلسے میں روکا گیا تو چار مزید تقریریں ویسے ہی سامنے آگئی جیسے ہرکولیس ہائیڈرا کا ایک سر کاٹتا ہے تو چار اور نمودار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ آپ کتنے سر کاٹیں گے اور کتنوں کو باغی بنائیں گے۔
جنرل راحیل شریف جب تک چیف تھے تب تک کم از کم آج کل جیسا ڈیڈ لاک نہیں تھا،وہ یہاں برطانیہ تک آکے ہماری بات ضرور سنتے تھے اور اپنی بھی ”سناتے “ تھے۔ ان سالوں میں کوئی وزیر خارجہ نہ ہونے کے باوجود ”ڈو مور “ اور ”پاکستان ایک فیلڈ اسٹیٹ نہیں ہے “پر مکالمہ کیا جاتا تھا۔ میں نے کئی گوروں کو قائل بھی ہوتے دیکھا۔ روسی انسٹی ٹیوٹ جہاں سرتاج عزیز کسی سوال کا جواب دیے بغیر بھاگ لئے تھے وہیں جنرل عاصم باجوہ، عامر ریاض یا دوسرے….نہ صرف لندن کے تھنک ٹینکس میں آکر ملٹری ڈپلومیسی اور ضرب عضب پر بات کرتے تھے بلکہ ہماری تنقید پر بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیتے تھے۔ وہ دور آج کل کی بلیک اینڈ وائٹ پالیسیز سے بڑا مختلف ہے۔ جہاں پاور پلرز سے بات کرنے کےلئے انہی سے ”سرٹیفائیڈ محب وطن “ہونا ضروری ہے۔مجھے یاد ہے کہ 2015ءاور 2016ءمیں میری اپنی پی ایچ ڈی کے پروپوزل بنانے کے دوران ”ہاﺅ ٹو ری تھنک دا رول آف ملٹری ان پاور اینڈ گورننس“ پرفوج کے ایک نئے آئینی کردار پر بھی بڑی اوپن انڈیڈ بحثیں ہوئیں کہ کیا ایک نیا سوشل کانٹریکٹ ضروری ہے؟ میں نے نوٹ کیا کہ تقریباً ہر ایک کی نظر کرم عمران خان پر تھی کہ بس عمران آجائے تو ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں گی اور چوروں کا لوٹا ہوا پیسہ ملک واپس آجائے گا۔ مجھ جیسے کئی پولیٹکل سائنٹسٹس کےلئے اس پر اتنا وارفتہ ہوناحیران کن تھا ۔دوسرا جہاں ملکی پالیسیزکوورٹ طریقے سے چھپ کے بنائی جاتی ہیں وہاں سیدھا سیدھا اس کی لابنگ کرنا ایک غلط اسٹریٹجی تھی۔ اب تو یہ سب کچھ اتنا سامنے آچکا ہے کہ اگر میں یہ بات یہاں نہیں لکھوں گی تو کوئی اور کسی دوسری جگہ لکھ لے گا۔ریاستی اداروں کا کیا کردار ہے یہ سب کچھ میڈیا پر بھی آگیا ہے۔ یہ بھی بول رہے ہیں اور وہ بھی۔ جب سب کچھ اوپن ہوچکا ہے تو میں اپنی ہی ایک 2015ءوالی ملاقات کا احوال سناتی ہوں۔ پنڈی والے ایک پنڈت سے رائل اسکاٹ میں ایک تقریب کے دوران میں نے سوال کیا کہ کسی بھی گھوڑے پر سب کچھ داﺅ پر لگانے سے پہلے ”رسک اسیسمنٹ“بہت ضروری ہے۔آپ رسکس کو اسیس کیے بغیر اور کانسیکونسز کی پرواہ کیے بغیر ایک ایسے گھوڑے پر کیسے سب کچھ داﺅ پر لگا سکتے ہیں جو نہ پہلے کوئی ریس جیتا ہے اور نہ ہی اتنا قابل اعتبار ہے کہ اس پر عشروں کا کورب blow کر دیا جائے۔اس پنڈت نے تقریباً مذہبی ایمان کے ساتھ جواب دیا کہ ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی تعمیل کےلئے عمران ضروری ہے کیونکہ چوروں کو صرف عمران ہی پکڑ سکتا ہے۔ میں نے ان کو کہا تھا کہ عمران بہت مقبول ہے اسے organic طریقے سے آنے دیں لیکن یہ ہائبرڈ سسٹم نافذ کرنے کی ”انہیں“ بہت جلدی تھی ۔ جس کا نتیجہ ایک تباہی کی صورت میں یوں سامنے آرہا ہے کہ اکانومی ڈوب چکے ہیں اورادارے کولیپس کر رہے ہیں کیونکہ ایسے لگ رہا ہے کہ شخصیات اداروں سے زیادہ طاقتور ہوتی جارہی ہیں۔ جس طرح اکانومی کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے ، فارن پالیسی کو جس طرح سے چلایا جارہا ہے اور جس طرح سے اپوزیشن، میڈیا اور سول سوسائٹی کو دبایا جارہا ہے اس سے مجھے رابنسن کی تھیوری پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔ خدارا ایسا نہ کریں اور دس قدم آگے بڑھنے کےلئے دو قدم پیچھے ہٹ جائیں۔ پاکستان سے زیادہ کچھ اہم نہیں۔
(کالم نگارسینئر تجزیہ کارہیں)
٭….٭….٭

بھرے مجمع میں تُو بولا تو کیا بولا

مسز جمشید خاکوانی
نواز شریف نے بھرے مجمع میں جو باتیں کیں اس کے ذریعے ریاستی اداروں اور عوام میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں اگر عوام کا درد ہوتا توسارا ملک گروی اور خزانہ خالی کر کے یہ نہ کہتے، اب دیکھتے ہیں عمران خان حکومت کیسے چلاتا ہے تین سال تو یہ ملک اٹھ ہی نہیں سکتا ۔یہ الفاظ تھے تو عمران خان ہوا میں وعدے پورے کرتا ۔ چلیں مان لیتے ہیں عمران خان کی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو گئی لیکن اس کا الزام اداروں پر کیوں ؟ یہ وہی لوگ ہیں جو مسلسل این آر او کی بھیک مانگتے رہے اور جب مکمل انکار ہو گیا تو ملک اور اداروں کےخلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ اس وقت بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے ایسے میں ملک کے اندر انتشار اور جلسے جلوسوں کے ذریعے امن و عامہ کا مسئلہ فورسز کو بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف کیے ہوئے ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپوزیشن اداروں کی پشت پر کھڑی ہوتی لیکن یہاں تو تین بار کے وزیر اعظم 1971ءمیں ہتھیار ڈالنے کا طعنہ اپنے ہی اداروں کو دے رہے ہیں حالانکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کا تنازعہ سیاستدانوں کا پیدا کردہ تھا۔اِ دھر ہم اُدھر تم کا نعرہ کس نے لگایا تھا؟ یہ الفاظ بھٹو کے تھے جو ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ انہی سیاستدانوں نے کرسی کی خاطر عوام میں لسانیت اور رنگ و نسل کے بیج بوئے ،اسی نفرت کے بل پر مشرقی پاکستان بھارت کے قریب ہوا مکتی باہنی تشکیل پائی مغربی پاکستان کو چند سیاستدانوں کی ضد کی وجہ سے غاصب سمجھا جانے لگا تب فوج کو مشرقی پاکستان بھیج دیا گیا جہاں کے سکولوں میں پاکستان مخالف تعلیم دی جا رہی تھی ۔جب عوام میں نفرت پیدا ہو جائے تو دنیا کی کوئی فوج اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور ایسی صورت میں تو بالکل نہیں جب آپ کی فوج بے سرو سامان رہ جائے۔ اس ہار کے پیچھے جو بھی عوامل تھے اس سے قطع نظر ایک اور زاویہ سے دیکھتے ہیں ۔
1940ءمیں فرانس کی حکومت نے ہتھیار ڈالے ۔کیا فرانس کے وزیر اعظم نے طعنہ زنی کی ؟جاپان کے وزیراعظم نے جاپان کی فوج کو 1945ءمیں ہتھیا ڈالنے پر مجرم ٹھیرایا ؟ کیا جرمنی کے وزیر اعظم نے 1918.1945 میں ہتھیار ڈالنے پر جرمن فوج پر طعنہ ذنی کی ؟ کیا امریکہ بہادر کا ٹرمپ اپنی فوج کی افغانستان میں شکست پر میڈیا میں آکر اپنی فوج کی مذمت کرے گا ؟ ارے نہیں بھئی یہ اعزاز تو صرف بعض پاکستانی سیاستدانوں کو حاصل ہے کہ وہ دنیا کی نمبر ون فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے دشمنوں کو خوش کر تے ہیں ۔یاد رکھیں کہ ہماری عوام پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف کوئی لفظ نہیں سن سکتے ۔
ایک مشہور کہاوت ہے بندر آپس میں مل جائیں تو مل کر پورا باغ کھا جاتے ہیں اور اگر آپس میں لڑ پڑیں تو مل کر پورا باغ اجاڑ دیتے ہیں ۔ان سیاستدانوں نے بھی خود ہی ایک دوسرے کو غدار قرار دیا ایک دوسرے کے خلاف مقدمے بنائے خود ہی ایک دوسرے کی کرپشن کا پیچھا کیا خود ہی ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کیس درج کروائے ۔کیا کوئی یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ جتنے مقدمات ہیں ان سے متعلق کوئی فوجی افسر پٹیشن لے کر عدالت گیا ہو کوئی ایک مقدمہ بتا دیں ۔ نواز شریف نے ہمیشہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش جاری رکھی ۔اکتوبر 1999ءکو جنرل مشرف کے بیرونی دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا،رینک لگا رہے تھے جو گھبراہٹ میں لگ نہ سکے ۔ اس کے فوراً بعد جنرل مشرف جو کہ پاکستان کے آرمی چیف تھے، ان کے طیارے کا رخ بھارت کی طرف موڑنے کا حکم دیا ۔بہر حال یہ زمین پر طیارہ ہائی جیکنگ کی انوکھی واردات تھی جسے اس ادارہ نے ماننے سے انکار کیا ۔کارگل میں فوج کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا ابھی تازہ تھا کہ جو کہ نواز شریف کے تختہ الٹنے کی وجہ بنا ،اب ہر بار تو باندر کے ہاتھ میں استرا نہیں دیا جا سکتا ۔ نواز شریف نے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے پر مشرف کو غدار قرار دیا جبکہ آج جب آرمی چیف کہتے ہیں ہم منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس پہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔آخر ریاستی ادارے کیا کریںکہ ان سیاستدانوں کی تسکین ہو سکے۔
پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر افواج میں شمار کی جاتی ہے جس نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ پاک فوج کے متعلق بین الاقوامی وقائع نگاروں کی آرا اور کچھ واقعات سناتی ہوں ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ،ٹائمز کے نمائندے لوٹس کرار نے ستمبر 1965ءکے شمارے میں جنگ ستمبر کے محاذوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر لکھا تھا ۔
میں پاک بھارت جنگ کو شائد بھول جاﺅں گا لیکن پاک فوج کا جو افسر مجھے محاذ پر لے گیا تھا اس کی مسکراہٹ کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ یہ مسکراہٹ مجھے بتا رہی تھی کہ پاکستانی نوجوان کس قدر نڈر اور دلیر ہیں۔ جوان سے جرنیل تک میں نے اسی طرح آگ سے کھیلتا دیکھا ہے جس طرح بچے گولیوں سے کھیلتے ہیں ۔لوٹس کرار نے اپنی رپورٹ اس فقرے کے ساتھ شروع کی تھی جو قوم موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا جانتی ہو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔
برطانیہ کا مشہور اخبار ڈیلی میل کا جنگی وقائع نگار ایلفرڈ کک بھی پاکستان میں ہی موجود تھا اس نے لاہور کا آخری اور انتہائی خون ریز معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے۔
لاہور کے محاذ پر بھارتیوں نے بھینی (باٹا پور سے پانچ میل شمال کی جانب )بی آر بی پل کے مقام پر تمام رات گولہ باری جاری رکھی پونے تین بجے یعنی صبح فائر بندی کے وقت انہوں نے بھینی پل پار کرنے کے لیے انفینٹری سے دو شدید حملے کیے ان حملوں کی پشت پناہی کے لیے بھاری توپ خانے کی جو گولہ باری کی وہ اس سیکٹر کی شدید ترین گولہ باری تھی معاہدے کے مطابق جنگ بندی کے طے شدہ وقت کے پندرہ منٹ بعد تک گھمسان کی جنگ جاری رہی اور پاکستانیوں نے بھارتیوں کے یہ دونوں حملے پہلے حملوں کی طرح پسپا کر دیئے پھر کہیں جا کر فائر بندی ہوئی۔ جنگ بندی کے بعد دور کہیں بھارتی سر زمین سے دھویں کے کالے سےا ہ بادل اٹھنے لگے۔ میں نے پاک فوج کے افسر کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا وہ ہلکی سی ہنسی ہنس کر بولا ” ہندوستانی اپنی لاشوں کو جلا رہے ہیں “۔ تھوڑی دیر بعد انڈین آرمی کے بہت سے ٹرک میدان میں آہستہ آہستہ چلتے نظر آنے لگے وہ لاشیں اٹھانے آئے تھے جبکہ پاک فوج کے پیادہ اسٹریچر اپنے جوانوں کی لاشیں ڈھونڈ رہے تھے۔ اس وسیع و عریض میدان میں شہدا ءکی کل تعداد چھپن تھی۔ یہ گذشتہ رات کے شہدا تھے ان کے مقابلے میں بھارتی صرف ڈوگرئی کے علاقے سے لاشوں کے چودہ ٹرک بھر کر لے گئے۔ وہ صرف تازہ لاشیں لے گئے گلی سڑی لاشوں کو وہ ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ وہ لاشوں کو ٹانگوں اور بازووں سے اٹھا کر لکڑی کے گٹھوں کی طرح ٹرکوں میں پھینک رہے تھے بلکہ لاشوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر لے جاتے اور اندر پھینک دیتے۔ ایک ایک ٹرک میں وہ نوے ،سولاشوں کو بھر کر لے گئے۔ یہ لاشیں پسماند گان تک نہیں پہنچائی گئیں بلکہ واہگہ بارڈر کے قریب ہی ڈھیر لگا کر ان پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی۔ یہ سلوک ان سپاہیوں کے ساتھ ہو رہا تھا جو اپنے عیار حکمرانوں کی پاکستان دشمنی پر قربان ہو گئے تھے ۔ اس کے بر عکس پاک فوج اپنے جوانوں کی لاشیں اتنے احترام اور آہستگی سے اٹھاتی جیسے ان کو ہلکے سے جھٹکے سے بھی تکلیف ہوگی ۔جب شہید کی میت آتی تو افسر اس کے ہاتھ چومتے چہروں سے مٹی صاف کرتے باری باری سیلوٹ کرتے۔ اس محاذ پر پاک فوج کے پانچ ہزار جوانوںنے دشمن کا چالیس ہزار کا لشکر روک رکھا تھا جو جنگوں کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ ایک جوان سے میں نے پوچھا یہ کیسے کیا ؟ اس نے خون اور مٹی سے ملا ہوا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا پہلے روز جب ٹینک گرجے اور توپوں کے دھماکے ہوئے تو خیال آیا ہندو اٹھارہ برسوں کی تیاری کے بعد پاکستان مٹانے آ گیا ہے اس وقت تھرڈ بلوچ رجمنٹ کے ایک جوان نے مورچے سے گلا پھاڑ کر نعرہ لگایا کہ ”پاکستانیو آج بے غیرت نہ ہو جانا “ کسی اور مورچے سے نعرہ اٹھا کہ ”مسلمانو آج پیٹھ نہ دکھانا “
بس ان نعروں کے بعد ہم نے مارنے یا مر جانے کی ٹھان لی……..اور آج ہم نے آٹے چینی کے لیے مرنے مارنے کی ٹھان لی ہے ۔ غیرت ہم سے منہ چھپائے پھر رہی ہے غدارِ وطن ہمیں تھپکیاں دے دے کر اکسا رہے ہیں بریانی کی ایک پلیٹ ہے اور ہم ہیں دوستو ۔
عمران خان نے صحیح فیصلہ کیا ہے جب تک سخت ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا یہ باتیں بڑھتی جائےں گی !
(کالم نگارسماجی اورسیاسی ایشوز پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭

نیر مسعود،اردو کا عاشق

شاکر حسین شاکر
الحمرا لاہور میں عطاءالحق قاسمی نے جشنِ انتظار حسین کرایا۔ ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ عاشقان انتظار حسین کی اردو سننے کے منتظر رہے کہ مداح نے انتظار حسین سے سوال کیا اتنا عرصہ لاہور میں رہنے کے باوجود آپ کے لباس، گفتگو اور تحریر سے دلی اور لکھنو نہیں گیا۔ سوال سنتے ہی سفید پاجامے اور کرتے میں ملبوس مسکراتے ہوئے بولے ” نئیں ایسی کوئی گل نئیں مینوں ہن کجھ کجھ پنجابی بولنی آ گئی اے“ ۔ یہ سنتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اگلے ہی لمحے انتظار حسین پھر اردو میں بات کرنے لگے۔ انتظار حسین اگرچہ بھارت سے آ گئے تھے لیکن ان کی یادوں میں وہاں کے لوگ موسم، رسومات، تہوار، لہجے اور مکان ہمیشہ موجود رہے۔ انتظار حسین کو پڑھتے ہوئے پوری توجہ درکار ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح لکھنے سے تعلق رکھنے والے نیرمسعود بھی اپنے قاری کو کچھ اس طرح ساتھ لے کر چلتے کہ ان کے لکھے ہوئے لفظوں کی انگلی چھوٹنے کو جی نہیں چاہتا۔
یہ ساری تمہید ہم نے نیر مسعود کو یاد کرنے کے لیے اس لیے باندھی ہے کہ دو تین ماہ قبل ان کی تیسری برسی گزری لیکن پورے ملک میں ان کو کسی نے یاد نہیں کیا۔ لکھنﺅ میں انتقال کرنےوالے نیر مسعود اردو کے نامور ادیب، نقاد اور محقق پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کے بیٹے تھے جن کے علمی و ادبی مقام کو دیکھتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر طاہر تونسوی نے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ 16 نومبر 1936ءکو پیدا ہونے والے نیر مسعود نے 1957ءمیں فارسی ادب میں ایم اے اور اس کے بعد فارسی اور اردو میں پی ایچ ڈی کیا۔ لکھنو یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کے ساتھ وابستہ رہے۔ ان کی لکھی ہوئی کتب کی تعداد یوں تو بہت زیادہ ہے لیکن اس وقت جو ذہن میں آ رہی ہیں ان میں عطرِ کافور، سیمیا، طاس چمن کی مینا، ادبستان (خاکے)، افسانے کی تلاش، منتخب مضامین میر انیس، مرثیہ خوانی کا فن، رجب علی بیگ سرور، کافکا کے منتخب افسانے، جدید فارسی افسانے، تعبیر غالب، معرک انیس و دبیر اور مجموعہ نیر مسعود شامل ہیں۔ نیر مسعود لکھنو کے عاشق تھے اس بارے میں وہ خود کہتے تھے: ”میں لکھنﺅ سے کبھی باہر نہیں گیا۔ جن دنوں اردو میں پی ایچ ڈی کرنے الہ آباد رہا تو میں ہر ماہ لکھنﺅ آ جاتا تھا حالانکہ الہ آباد میں میری حقیقی بہن کا گھر تھا اور وہ میرا خیال بھی بہت رکھتی تھی۔ میں جیسے ہی لکھنﺅ سے باہر آتا تو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے میرا دل لکھنو ہی میں رہ گیا ہے ۔زندگی میں ایک مرتبہ ایران گیا وہ بھی سولہ سترہ دنوں کےلئے ورنہ جب بھی کبھی لکھنو سے باہر آیا تو زیادہ سے زیادہ پانچ چھ دن باہر رہا۔ ساری زندگی لکھنﺅ اور اپنے گھر ادبستان میں گزر گئی۔ میں نے جو بھی لکھا اسی گھر میں بیٹھ کر لکھا۔ حتی کہ پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی الہ آباد میں نہیں لکھ سکتا تھا۔ وہاں سے حوالے لکھ کر گھر آ جاتا اور پھر لکھنﺅ میں آ کر اس کو تحریر کرتا۔ اسی طرح جب کوئی افسانہ شروع کرتا اور درمیان میں کہیں دوسرے شہر کام جانا پڑتا تو وہ افسانہ واپس آ کر مکمل کرتا۔ میں اپنے آپ کو گھر گھسنا سمجھتا ہوں جو ہر وقت گھر کی محبت میں مبتلا رہتا ہے“۔
اب یہا ں پر ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ میں نیر مسعود کا عاشق کیسے بنا یعنی ملتان شہر میں رہنے والا جس کی مادری زبان پنجابی ہو وہ لکھنﺅ میں مقیم ایک خوبصورت نثر لکھنے والے کا عاشق کیسے بن گیا؟ قصہ کچھ یوں ہے کہ اچھی کتاب کی تلاش میں ہر وقت سرگرداں رہتا ہوں۔ کراچی سے اجمل کمال اپنے نام کی طرح کمال کا ایک جریدہ آج شائع کرتے ہیں۔ میں نے نیر مسعود کی خوبصورت تحریریں اس جریدہ میں پڑھیں تو یہ عادت ہو گئی کہ جہاں ان کی کوئی تحریر یا کتاب دکھائی دیتی تو میں سب کام چھوڑ کر نیر مسعود کی تحریروں کا مطالعہ کرتا۔ پھر گاہے گاہے رضا علی عابدی، علامہ قبلہ سید عقیل الغروی اور پروفیسر ڈاکٹر ابرار عبدالسلام سے ان کی تخلیقات کی بابت بات چیت ہوتی رہتی۔ رضا علی عابدی کو نیر مسعود کے انتقال کی خبر ملی تو انہوں نے ان کی میر انیس پر لکھی کتاب پر ایک لائن میں تبصرہ کچھ یوں کیا: میر انیس کی جیسی سوانح انہوں نے لکھی کون لکھ پائے گا۔ بہت یاد آئیں گے۔
نیر مسعود خود تو چلے گئے لیکن اپنے افسانوں، خاکوں اور تنقید کی شکل میں ایک اثاثہ چھوڑ گئے جو انہیں کبھی بھی ہم سے جدا نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے آبائی گھر ادبستان، اپنے والد گرامی سید مسعود حسن رضوی پر جس طرح کے خاکے لکھے اس طرح کے خاکے شاید ہی اب کوئی اور لکھ سکے گا۔ جب ان کے والد کا وقت آخر آیا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا:
کسی نے مول نہ پوچھا دلِ شکستہ کا
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا
نیر مسعود نے یہ شعر ان کےلئے لکھے ہر خاکے میں حوالے کے طور پر دیا۔ نیر مسعود نے اپنی زندگی میں جو تنقیدی کام کیا وہ بھی اپنی طرز کا الگ کام ہے۔ ان کے مضامین کے موضوعات ایسے ہیں جن پر پہلے کسی نے قلم نہیں اٹھایا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے ہر مضمون کی تحقیق پر الگ سے ایک تحقیق ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر لکھنﺅ کا عروج و زوال، واجد علی شاہ اختر، میر ببر علی انیس، میر کا مسکن اور مدفن، رجب علی بیگ سرور کے نثری اسالیب، توبہ النصوح منظوم، زعفرجن اور دیگر مقالے اتنے اہم ہیں کہ اسے ایم اے اردو کے نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ میرے لیے توبہ النصوح منظوم ہونا ایک خبر تھی۔ جب نیر مسعود کا یہ مقالہ پڑھا تو معلوم ہوا ڈپٹی نذیر احمد کے مشہور زمانہ ناول توبہ النصوح کو سید امیر حسن فروغ لکھنوی، مرزا محمد جعفر اوج (فرزندِ مرزا دبیر) اور میر بادشاہ علی بقا (فرزندِ میر وزیر علی صبا) کے شاگرد اور حیدرآباد میں ہائیکورٹ کے وکیل تھے۔ انہوں نے 1908-09ءمیں اس ناول کو مثنوی کی شکل میں نظم کیا جس کا نام مفادِ آخرت رکھا گیا۔ جس کو 1918 ءمیں مولوی غلام عباس مہتمم امامیہ جنرل بک ایجنسی لاہور نے جارج اسٹیم پریس سے شائع کرایا۔ نیر مسعود کی والدہ کا جب انتقال ہوا تو ان کے والد سید مسعود حسن رضوی ادیب نے ان کے بارے میں کہا
مٹی سے بچاتے ہیں سدا جس کا تنِ پاک
اس گل پہ گرا دیتے ہیں خود سینکڑوں من خاک
جب نیر مسعود کا انتقال ہوا تو ان کو جب لکھنﺅ کے کربلا منشی فضل حسین وکٹوریہ گنج میں انہی کے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا تو یقیناقبرستان میں موجود تمام احباب کے لب پر مندرجہ بالا شعر ہو گا۔ یاد رہے یہ وہی قبرستان ہے جہاں پر یگانہ چنگیزی بھی دفن ہیں کہ نیئر مسعود اسی قبرستان کا حصہ بنے جہاں پر علم و ادب کی نامور شخصیات آسودہ خاک ہیں۔ یعنی لکھنﺅ کا عاشق لکھنﺅ کی پہچان بننے والوں کے ساتھ اگلی منازل طے کر رہاہے۔
(کالم نگار، کئی کتابوں کے مصنف
اور صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں)
٭….٭….٭

نظریات ، مفادات اور خدشات

عثمان احمد کسانہ
آج کے کالم کے مندرجات کا اطلاق کسی ایک طبقہ پر کرنے کے تاثر کو میں ابتدا میں ہی زائل کیے دیتا ہوں کہ صرف سیاست ہی نہیں ہماری پوری سیاسی، معاشرتی ، ملی اور سماجی زندگی کے تمام گوشے انہی تین الفاظ کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں ۔پہلا لفظ ” نظریات “ کہننے سننے کو تو بہت حسین ، با معنی اور باوزن محسوس ہونے والا لفظ ہے مگر اس کا عملی اطلاق کہاں ہوتا ہے اس کیلئے کامل یکسوئی اور مکمل انہماک کیساتھ پورے معاشرتی ڈھانچے کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔یہ کہہ دینا بھی مایوسی اور نادانی کے زمرے میں آتا ہے کہ ہم نظریات سے عاری قوم بنتے جا رہے ہیں ۔ ہمارا ماننا تو یہ ہے کہ ہمارا وجود اور ہمارے وطن عزیز کاتو قیام ہی ایک نظریئے کا مرہون منت ہے ۔ ہمارے ملک کا اساسی نظریہ ایک مقدس و متبرک سوچ پر مبنی ہے اور ہمارے بزرگوں نے اسی نظرئیے کو ہی اپنا رہبر و رہنما مان کر اپنا تن من دھن قربان کیا تب جا کر یہ پاک سر زمین معرض وجود میں آئی ۔پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا ہم قومی سطح پر جیسے جیسے تقسیم کے عمل کا شکار ہوتے گئے ویسے ویسے ہمارے نظریات بھی جدا جدا ہوتے گئے ۔پہلے پہل ایک دوسرے کے نظریات سے صرف اختلاف ہوتا تھا پھر کیا ہوا کہ آہستہ آہستہ برداشت کا کلچر اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہوا اور برداشت کو بزدلی سے تعبیر کیا جانے لگا ۔ سیاست میں عدم برداشت نے جو گُل کھلائے ہیں اس کااندازہ ہم آجکل ہونے والے جلسوں کی تقاریر اور پھر ان پر ہونے والے رد عمل سے بخوبی لگا سکتے ہیں ۔مذہب کی بات یہاں اس لئے نہیں کی جا سکتی کہ اس کا تعلق نظرئیے نہیں عقیدے کیساتھ ہے اور عقیدہ برداشت نہیں کیا جاتا یا تسلیم کیا جاتا ہے یا تبدیل ۔ بہر حال بات برداشت کی نہیں نظرئیے کی کرتے ہیں کہ نظریہ کسی بھی قوم کیلئے راہ عمل متعین کرتا ہے اور پھر یہی راہ آنے والی نسلوں کیلئے نشان منزل بن جایا کرتی ہے ۔ اگر ہم ایک خاندان اور گھرکے یونٹ کو ہی بنیاد بنا کر اس سے پھر مجموعی قومی مزاج کی تشکیل کی بات کریں تو یہاں بھی اجتماعیت کیساتھ انفرادیت کی اہمیت اپنی جگہ مسلم رہے گی ۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے کوسُنے ، سمجھے اور اس کو گنجائش دئیے بغیر ہم ایک اجتماعی نقطہ نظر تشکیل دے لیں ۔
اس نقطے پر میں یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر فرد کا اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے اور وہی اسے سب سے عزیز ہوتا ہے ۔اس فردکا تعلق کسی خاندان سے ہو ، جماعت یا گروہ سے ، فرقے اور طبقے سے ہو یا ملک و قوم سے بہر صورت اس کی تمام ترجیحات اس کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں نظریات اور مفادات کا ٹکراﺅ ہوتا ہے ۔مفاد کا ہونا یا اس کے حصول کیلئے کاوش کرنا کوئی مذموم فعل نہیں ہاں البتہ نظریات کو مفادات کی بھینٹ چڑھا دینا نامناسب عمل ہے ، ایسی سوچ پر قدغن ہونی چاہیے اور ایسے طرز عمل پر سوال بھی اٹھایا جانا چاہیے۔ یہاں یہ پہلو بھی غور طلب اور قابل توجہ ہے کہ کسی ایک کا مفاد کسی دوسرے کے نقصان کی قیمت پر ہو تو ضد اور انا کی جنگ چھڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔ اور جب کسی فرد واحد یا جماعت کے مفادات براہ راست ریاست کو نقصان پہنچانے والے بن جائیں تو پھر بغاوت سے لیکر غداری تک ہر طرح کے خدشات کا جنم لیناکوئی اچنبے کی بات نہیں ۔ پاکستان کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی سیاسی چپقلش کے نتیجے میںپاکستانی قوم ان دنوں جس صورتحال سے دوچار ہے اس کی وضاحت کیلئے اتنا کہنا کافی ہے کہ ہم نے اپنا تاریخی سفر نظریات کو بنیاد بنا کر شروع کیا تھا کہ درمیان میںاشرافیہ کے مفادات نے ایسے روڑے اٹکائے کہ پوری قوم بلا تفریق خدشات میں گھِرگئی ہے ۔ ہر کسی کو اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔ عام آدمی جو اپنی حیات سے جڑے کئی طرح کے مسائل نما خدشات میں جکڑا ہوا ہے وہ بے چارہ جسم و روح کا رشتہ بحال رکھنے کے چکر میں صبح سے شام جس طرح اپنی لاش کو اپنے کندھوں پہ اٹھائے پھرتاہے اس کا حال وہ جانتا ہے یا اس کا خدا ۔ چلیں عام آدمی کو اس کے حال پہ چھوڑتے ہیں یہ جو جاری سیاسی محاذآرائی نظر آتی ہے یہ بھی تو بچوں کے مستقبل کا تنازعہ ہی تو ہے ۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت قومی افق پر موجود تقریباً تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں میں ہر سطح پر اپنی آئندہ نسلوں کی بقا اور قیادت کے تحفظ کا رونا ہی تو رویا جا رہا ہے ۔ قابلیت و اہلیت کے تمام من گھڑت معیارات کو ایک طرف رکھ کے دیانتداری سے پرکھا جائے کہ کونسی قیادت ہے جس نے اپنے بعدیا اپنی جگہ پر اپنے کارکنان کیلئے کوئی جگہ چھوڑی ہو یا کارکنان کی صلاحیتوں کو نکھار کر یا ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کر کے ان کے ہاتھ اپنی جماعت کی باگ ڈور پکڑائی ہو ۔ دوسرے اور تیسرے درجے کی بات کرنے کی بجائے اعلیٰ قیادت کو یکھا جائے تو انگلیوں پر گن لیجئے کہ کس قیادت میں اتنا حوصلہ اور دم خم ہے کہ اپنے بعد کسی اور کو جگہ دے ۔
یاد رکھئے !جماعتیں نظریات پر پنپتی اورکارکنوں کی بدولت پروان چڑھتی ہیںاور بے لوث محنتی ، مخلص کارکن ہی اصل اثاثہ ہوتے ہیںجبکہ اولادیں مفادات کے تحفظ کیلئے تیار کی جاتی ہیں ۔ یہ کوئی نہ سمجھ آنے والا فلسفہ نہیں بڑی سادہ سی بات ہے کہ جہاںقیادت سے غیر مشروط وفاداری کا رواج ہو گا ، جہاں جی حضوری کا کلچر ہوگا، جہاں قائد اِبن قائد ہو گا وہاں نظریئے کی بجائے مفادات کی ہی فکر کی جائیگی ۔یہی نہیں بلکہ کسی بھی طرح کا خدشہ ظاہر کرنے والا کارکن بغاوت کے اعزازسے نواز دیا جاتا ہے ۔ سوال اٹھانے اور اصلاحات کی بات کرنے والے کو اپنے انجام کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔ اسی تسلسل کو جماعتوں کی اندرونی سیاست سے نکال کر قومی و ملکی معاملات پر پرکھ لیجئے ۔ یہ سلسلہ بہت دور تک چلتا ہے اور ہر جگہ یہی اصول کار فرما نظرآتا ہے کہ اگر آپ اپنی روایتی جدوجہد سے اچانک ہٹ کر انقلاب یا اس جیسی کسی اور نئی چیز کو مارکیٹ میں پیش کرنا چاہتے اور پھر اسے مقبول بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے سب سے پہلے موزوں ماحول اور بے داغ کردار تلاش کرنا ہوگا اور اس کیساتھ ساتھ معروضی حالات کا بھی لحاظ رکھنا ہو گا ۔ ہمارے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بالکل واضح بتا رہی ہے کہ کسی کی طاقت کو چیلنج کر کے محض غم و غصہ تو نکالا جا سکتا ہے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ نظریئے کی بات کرنے والے کو پہلے اپنا دامن مفادات کے دھبوں سے پاک کرنا چاہیے ، پھر اپنی ذات کو ہرطرح کے خدشات سے مبرا کرنا چاہئے وگرنہ بغاوت اورغداری تو لازم آتی ہی ہے الٹا انارکی پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ پھر نتیجہ کیا ہو گا اس کا اشارہ کل اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے اپنی گفتگو میں یہ کہہ کر دے دیا ہے کہ ہو سکتا ہے کسی کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے اور نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے ۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سچی لگن گوہرِ مقصود ڈھونڈ لاتی ہے

اعجاز احمد بٹر
زندگی جتنے موڑ لیتی ہے یا جتنے بھی رنگ بدلتی ہے ہمیں بھی ساتھ وہی موڑ مڑنا پڑتے ہیں اور انہی رنگوں میں ڈھلنا ہوتا ہے۔ کہیں محنت و مشکلات کی دھوپ تو کہیں غم کے مہیب سائے ،کہیں آرام و سکون کی چھاﺅں تو کہیں دکھوں کے کڑے پہرے ہوتے ہیں۔ زندگی کے یہ سب حقیقی کردار ہمارے راستوں میں پڑتے ہیں ہمیں ہر موسم کی شدت کے ساتھ ان راستوں سے گذرنا ہوتا ہے لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ہم عزم مصمم اور پختہ ارادوں کے ساتھ حالات کا دھارا بدل سکتے ہیں۔ کچھ معاملات نصیبوں سے وابستہ ہوتے ہیں جن کا شکوہ بھی کر لیا جائے تو کیا ہوگا ؟ لیکن محنت شاقہ سے زندگی کی تلخیوں میں کچھ نہ کچھ تو حلاوتیں گھولی جا سکتی ہیں۔ مجھے اپنے قارئین کی طرف سے مسلسل فون کالز،ای میلزاور ایس ایم ایس موصول ہورہے تھے، کہا جارہا تھا کہ میں اپنے عدالتی واقعات کو بھی قلمبند کروں ، میں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ عدلیہ میں نئے آنے والے دوستوں اور قانون کے طالب علموں کےلئے قانونی موشگافیوں کو بیان کیا جائے۔ اگرچہ راقم بھی ہنوز علم کا طالب ہے تاہم مجھے اپنے قارئین کو یہ بتانا مقصود ہے کہ محنت ، لگن اور قوی ارادوں سے کامیابیوں کے زینے چڑھے جا سکتے ہیں ۔مجھے یاد ہے جب میں 1973ءمیں نامساعد حالات کے باعث قانون کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے گاﺅں سے اپنے چچا محمد صفدر( سیکشن افسر وزرات داخلہ) کے پاس اسلام آباد منتقل ہوا جن کی شفقت سرپرستی ورہنمائی مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی رہی ۔
میرے باپ نے ہجرت کی تھی میں نے نقل مکانی
اس نے ایک تاریخ لکھی تھی میں نے ایک کہانی
سفارش نہ ہونے کے باعث تین ماہ کے مختصر عرصہ میں شارٹ ہینڈ کورس کرکے رجسٹریشن آرگنائزیشن جو کہ نادرا کا پیشروادارہ تھا ۔ میں بطور کلرک ملازمت کی وہاں سے استعفیٰ دے کر وزارت داخلہ میں سٹینو کی ملازمت کی اسی دوران شبانہ روز محنت سے قانون کی تعلیم مکمل کی سیاست میں ماسٹر کیا 1982ءمیں بطور سول جج جائن کیا جہاں سے سیشن جج تک ترقی پائی۔ اس سے قبل اسلام آباد میں بطور سٹینو 9سالہ ملازمت کے دوران آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجائے تگ و دو کرتا رہا لیکن کبھی اسلام آباد سے مری یا کسی دوسرے تفریحی مقام پر جانے کی فرصت ملی نہ اس طرف دھیان ہی گیا۔ بقول رفیق سندھیلوی
یہ آسماں کے مناظر تجھے مبارک ہوں
ہماری آنکھیں دبی ہیں چٹان کے نیچے
میں بھی محنت اور مجبوریوں کی بھاری چٹان کے نیچے دبا ابھرنے کی سعی کرتا رہا مجھے یاد ہے وزرات داخلہ کی ملازمت کے دوران میری ڈیوٹی اسلحہ برانچ میں تھی۔ ایک صاحب کو لائسنس حاصل کرنے کی جلدی تھی اور وہ اس وقت مجھے پانچ ہزار روپے دینے پر آمادہ تھا تب (1974) میں وہ رقم میری کئی ماہ کی تنخواہ کے برابر تھی لیکن دل نے ایک بار بھی ان پانچ ہزار روپوں کی تمنا نہ کی، شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ کریم نے اس دیانت اور سچے جذبوں کے انعام میں مجھے اس چٹان کے نیچے سے نکال دیا ۔
محترم قارئین ! آپ نے کم کم ہی ججز کو رکشوں ، لوکل بسوں میں سفر کرتے دیکھا ہوگا لیکن اس ناچیز نے اکثر رکشوں اور لوکل بسوں کے سفر سے حظ اٹھایا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں بعض اوقات ماں جی سے بڑے بھائی کو آٹھ آنے اور مجھے چار آنے ملتے ۔میں نے ایک بار ماں جی سے پوچھا کہ ماں جی بڑے بھائی کو زیادہ پیسے اور مجھے کم کیوں تو ماں کہتی کہ ’میرا جج پتر وی تے توں ای آں ناں،( میرے جج بیٹے بھی تو آپ ہی ہو ناں )۔ ماں کم پیسے دینے پر مجھے ’جج پتر‘ جج بیٹا ۔ کہتی حالانکہ اس وقت میری عمر چھ سات سال ہوگی لیکن اللہ نے واقعی مجھے جج بنا دیا۔ یہ ایک ماں کے منہ سے نکلے الفاظ کی دعا کی صورت بارگاہ الہی میں شرف قبولیت ہے ۔ پھر جب میں جج کے عہدے پر فائز ہوا تو اللہ نے مجھے بیٹی عطا کی۔ سچ ہے بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں اللہ نے بیٹی اور جج کا عہدہ تقریبا ایک ساتھ عطا کئے۔ مجھے یاد ہے وزارت داخلہ میں سٹینو کی ملازمت کے دوران ماں مجھے دوپہر کے کھانے کےلئے ایک پراٹھا بنا دیتی جس میں اچار کی ایک ڈلی رکھی ہوتی میں دوپہر کو کنٹین کے سالن وا لے گرم پتیلے کے ساتھ پراٹھا لگا کر گرم کرتا اور اچار کی ڈلی کے ساتھ کھا لیتا اور خدا کا شکر ادا کرتا۔ کبھی حالات کا شکوہ تک نہیں کیا۔ صرف اللہ تعالی سے التجا کی دعا کی اور اللہ کی ذات مبارکہ نے مجھے عزتوں کی رفعتوں پر فائز کر دیا جس پر اللہ کی ذات پاک کاہمیشہ شکرگذار رہا ہوں کہ اللہ بڑا مہربان ہے ۔
قارئین کرام ! اس کالم میں عدلیہ کے قابل رشک و قابل عزت شعبہ سے وابستہ ہونے سے پہلے کی کچھ روداد بیان کردی ہے جس کے چیدہ چیدہ واقعات آئندہ بھی پیش کرتا رہوں گا۔ میری کوشش ہے کہ ایسے دلچسپ مگر منفرد عدالتی واقعات کو سامنے لاﺅں جن کو سن اور پڑھ کر ایک طرف قانون کے طالب علموں کی رہنمائی ہو سکے کہ یہ کس قدر مقدس پیشہ ہے۔تو دوسری طرف عام لوگوںتک بھی یہ بات پہنچائی جا سکے کہ ایک جج کسی کیس کوسنتے اور اس کا فیصلہ کرتے ہوئے کن چیزوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
(سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں)
٭….٭….٭

یہ آگ لگنے سے پہلے کا وقت ہے لوگو!

شمع جونیجو
میں نے جب 2016ءمیں ملٹری ایتھکس میں اپنی پی ایچ ڈی شروع کی تو ( COIN کا ﺅنٹر انسرجنسی)کے پہلے پہلے ٹریننگ سٹیشنز میں سے ایک یو ایس ملٹری اور نیوی کی ورکشاپس کا تھا جس میں لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے فورورڈز ( پیش لفظ) میں نے اپنی نوٹ بک میں لکھ لئے۔ وہ پیراگراف انسرجنسی اور سیاسی طاقت کی تفریق کا تھا۔ پاکستان میں کتابیں زیادہ نہیں پڑھی جاتیں لیکن ترکی کا ایک ڈرامہ ارتغرل بہت مشہور ہوا ہے۔اس ڈرامہ میں ایک بات کو زور دے کر سمجھایا گیا ہے کہ گورنمنٹ ریاست سے مختلف ہے۔ ریاست سے وفاداری کا مطلب گورنمنٹ کی اطاعت نہیں ہے۔ ارتغرل ریاست یعنی کہ سلطان کا وفادار ہے لیکن وزیر کی گورننس کے خلاف اس نے انت مچایا ہوتا ہے۔ اور پاکستان میں یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کا مخالف ہونا ریاست سے بغاوت نہیں ہے ۔یہ بات اگر ”ان “ کی سمجھ میں آجاتی تو آج پاکستان میں کوئی غدار نہ ہوتا نہ ہی ملک دو لخت ہوا ہوتا۔
میںنے ڈان لیکس کے بعد نون لیگ کے کچھ لیڈران سے کہا تھا کہ آپ دو کشتیوں کے سوار نہیں ہوسکتے، ایسا کریں گے تو سو پیاز بھی کھائیں گے اور سو جوتے بھی۔ 2017ءسے نون لیگ کے ساتھ یہی ہورہا ہے اور اب میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے لئے اب لازم ہوگیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی بقاءکے لئے نواز شریف کے بیانیے کوریویو کرے۔ اگلے گھنٹے مریم نواز کی پریس کانفرنس بھی شاید یہی طے کرے اور سیدھی فائرنگ کے ساتھ ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرے تب تک یہ کالم چھپنے کے لئے نکل چکا ہوگا۔ لیکن میرا اندازہ یہی ہے کہ اب نواز شریف کے بیانیہ کا وقت ہے۔ مریم بولے گی اور بہت کھل کے بولے گی کیونکہ خاموش رہ کے نون لیگ نے مار ہی کھائی ہے۔
خاموشی کی ہمیشہ ایک زبان ہوتی ہے لیکن وار کرافٹ کے بنیادی اسباق میں ایک سبق یہ بھی ہے کہ کبھی کبھار اپنی بات سنوانے کے لئے بہت شور کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ جب تک آپ شور نہیں مچائیں گے، آپ کی بات کوئی نہیں سنے گا۔ اور شور مچانے کے لئے کبھی کبھی بس ایک تقریر کافی ہوتی ہے جو کہ میاں صاحب نے پچھلے ہفتے دو سال کی خاموشی کے بعد کی۔ جس طرح سے حکومت کی طرف سے میاں نواز شریف کو لانے کے لئے ایک ماحول باندھا جارہا تھا، سفارتی حلقوں کےلئے یہ مشکل نہیں تھا کہ اس تقریر میں کیا ہوگا۔
کووڈ کے باوجود،امریکی الیکشن، چائنا انڈیا جھڑپوں، اور عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجود سفارتی حلقے میاں صاحب کی پولیٹیکل اویکننگ (سیاسی بیداری) کو نوٹ کر رہے تھے۔ اگر پاکستانی سفارت خانے کو ہماری فائلیں بنانے سے فرصت ہوتی تو شاید وہ بھی یہ نوٹ کردیتے اور بی ہائینڈ ڈی ڈورز ( دروازوں کے پیچھے)کچھ بات چیت ہوجاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ میاں صاحب کی تقریر کاسب سے اہم نقطہ سی پیک کو پشاور کی بی آر ٹی سے ملا کے اخراجات کاکہا گیا جس سے ہمیں بھی کچھ اندازہ ہوا کہ لندن میں آج کل اتنے چینی بھائی کیوں نظر آرہے ہیں۔ سعودی شیخوں کی موجودگی تو ویسے بھی گھر کی بات لگتی ہے ۔
میاں صاحب کی تقریر کو اگر ڈی کوڈ کیا جاتا تو ارتغرل کا سیکوئیل پاکستان میں بنایا جاسکتا تھالیکن عمران خان حکومت کی طرف سے حسبِ معمول اس تقریر کا صرف انڈین میڈیا کے حوالے سے پروپیگنڈہ کیا گیا۔ بدقسمتی سے ہر بات پر کسی کو بھی غداری اور انڈین ایجنٹ قرار دینا ہمارا وطیرہ بن چکا ہے لیکن دنیا میں ایک بار پھر یہ تاثر یقین پکڑ گیا کہ پاکستان میں طاقت کا منبع پارلیمنٹ ہرگز نہیں ہے۔ اور یہی وہ امپیکٹ تھا جس کے حوالے سے پہلے وضاحتیں دی گئیں لیکن میرے خیال میں شیخ رشید جیسے خود ساختہ ترجمانوں نے بات اور بگاڑ دی تو لاک ڈاﺅن کے باوجود یہاں لندن میں میاں صاحب کے گھر پر پولیس کی اجازت کے بغیر نقاب پوشوں سے مظاہرہ کرایا گیا اور پھر آج میاں شہباز شریف کو نیب نے گرفتار کرلیا جس کا میرے خیال میں ان کو بہت نقصان ہونا ہے کیونکہ یہی بات میاں صاحب نے بھی کہی تھی کہ ایک ادارہ (نیب) اپنے اوچھے ہتھکنڈوں اور سیاسی کردار کی وجہ سے متنازع ہو چکا ہے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ انٹرنیشنل سفارتی حلقوں میں یہ جملہ بہت ٹرینڈ کر رہا ہے۔ جس طرح سے اقوام متحدہ ، ایمنسٹی ، اور دوسرے کئی اداروں میں پاکستان میں سیاسی واچ ہنٹ، جرنلسٹس کو ہراساں کرنے کے ہر واقعے کو رپورٹ کیا جارہا ہے وہ ریاست کے لئے انتہائی نقصان کن ہے۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اب تو سفارتکار ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں جو میاں صاحب کی تقریر کے بعد جو ”ڈومینو ایفیکٹ“ ہو رہا ہے وہ کہاں تک جائے گا۔ مجھے ڈومینو ایفیکٹ سے زیادہ اس امیج کا کنسرن ہے جو غیر سیاسی ہونے کے بیان کے بعد پے درپے عیاں ہونی والی ملاقاتوں نے کھول دی اور یہی میری پی ایچ ڈی تھی کہ اگر پاکستان میں ایک نیا سوشل کنٹریکٹ ہو تو اس سوشل کنٹریکٹ میں اہم ریاستی ادارے کے سیاسی کردار کا آئینی رول کیا ہونا چاہئیے۔
آج شہباز شریف کی گرفتاری کے وقت بعض ایسے نعرے لگے جو نہایت ہی پریشان کن ہیں۔ اے پی سی نے ویسے ہی اکتوبر میں جلسے جلوسوں کا پروگرام بنایا ہوا ہے ، مولانا فضل الرحمن کو ہلکا لینا ایک اور غلطی ہے۔ وہ اب کسی بھی ملاقات میں پیچھے نہیں ہٹنے والے۔ کراچی الگ سے ایتھنک اور مذہبی آگ کے دہانے پر ہے۔ جتنی تیزی سے اب آگ بھڑکنے لگی ہے تو مارچ ابھی بہت دور دِکھ رہا ہے جس میں سینیٹ الیکشن کے بعد مکمل اختیارات لینے کے لئے آئینی تبدیلیوں کا پلان ہے وہ کہیں کسی تباہی کا باعث نہ بن جائے ۔ وصی شاہ نے کیا خوب کہا ہے
یہ آگ لگنے سے پہلے کا وقت ہے لوگو
پھر اس کے بعد تو تختہ نہ تخت ہے لوگو
(کالم نگارسینئر تجزیہ کارہیں)
٭….٭….٭

پاکستان کی قدر کریں

لبنیٰ مقبول
14 اگست 1947ءکو دنیا کے نقشے پر ایک نئی شناخت کے ساتھ منصہ شہود پر آنے والی اسلامی ریاست، پاکستان، کوئی معمولی ریاست نہیں تھی۔ یہ وہ ریاست تھی جو بظاہر کوئی جنگ لڑے بغیر قائداعظم کی سیاسی بصیرت پر حاصل کی گئی تھی۔ دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کئے جانے والے پاکستان نے اپنی تشکیل کے پہلے دن سے ہی عالمی طاقتوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ نئی مملکت نے جلد ہی اپنے منفرد محلِ وقوع کے باعث خطے میں اپنی جغرافیائی حیثیت اور اہمیت کو منوا لیا۔ اسی منفرد حیثیت کے باعث ماضی سے لے کر اب تک، عالمی طاقتیں پاکستان کو کبھی بھی، کسی بھی طور نظر انداز نہ کر سکیں اور کسی نہ کسی طریقے سے، بھلے وہ دوستانہ اور مصالحتی انداز ہو یا پھر سیاسی دباﺅ، پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی طرف متوجہ رہی ہیں۔
اپنی تشکیل کے بعد سے ہی، گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بیک وقت مختلف محاذوں پر برسرِ پیکار رہا جس کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں ہمیشہ سے حائل رہیں۔ لیکن ان سب مسائل اور مشکلات کے باوجود پاکستان اپنے اہم جغرافیے کے باعث اپنے پڑوسی ممالک اور خطے میں موجود دوسرے ممالک کے درمیان ایک دوستانہ رابطے کا ماحول بناتا ہوا ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے جس کی طاقت کا اصل راز اس کی بڑی آبادی، اہم جغرافیہ اور منفرد محلِ وقوع، نڈر اور طاقتور فوج اور برادر ملک چین کے ساتھ پہلے دن سے ہی دوستانہ تعلقات میں پوشیدہ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کے ممالک کے مابین ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی سیاست میں بھی پاکستان کی اہمیت مسلمہ ہے جسے نظرانداز کرنا دنیا کےلئے آسان نہیں۔ چین اور امریکہ کے درمیان ہونے والی معاشی ورلڈ آرڈر کی دوڑ میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ شاید اسی سیاسی اہمیت کے پیش نظر عالمی طاقتیں کبھی پاکستان پر ناجائز پابندیاں عائد کرتی رہیں تو کبھی تمام تر رنجشوں کو یکسر بھلا کر پاکستان کو گلے لگاتے ہوئے نظر آتی ہیں۔
پاکستان کی اصل طاقت اورفخر عوام کا جذبہ اور پاک افواج کا عزم ہے جس کا شمار دنیا کی چند منظم ترین، طاقتور، تربیت یافتہ اور جذبہ شہادت سے سرشار فورسز میں ہوتا ہے۔ پاک فوج کی بہترین عسکری صلاحیتوں کی وجہ سے ساری دنیا اسے قابلِ رشک نظروں سے دیکھتی ہے۔ جذبہ¿ ایمانی سے لیس، جرا¿ت و بہادری کی ناقابلِ فراموش داستانوں کے ساتھ پاک فوج کا ہر سپاہی اندرونی و بیرونی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ پاک فوج ہماری نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔ پاک فوج نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کےلئے کام کیا اور ایٹمی میزائل ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں سے لیس پاک فوج نے ہمیشہ ہی دشمن کو ہر محاذ پر ناکوں چنے چبوائے۔ آئی ایس آئی پاکستان کا ایساقابلِ فخر ادارہ ہے جس پر پوری قوم کو ناز ہے۔ پاک فوج کی اسی عسکری صلاحیت کی وجہ سے دشمن کبھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر پایا۔ اقوامِ متحدہ کی عالمی امن فوج کی بات ہو یا اندرونِ ملک امن و امان کی بحالی، قدرتی آفات سے نمٹنا ہو یا بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ہو، سیاچن کی یخ بستہ سردی ہو یا تپتے ریگزاروں میں سرحدوں کی حفاظت افواجِ پاکستان کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے۔28 مئی 1998 ءکو چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کر کے پاکستان دنیائے اسلام کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ دنیا پاکستان کو ایٹمی طاقت کے طور پر قبول کرنے کےلئے تیار نہیں تھی اور عالمی سطح پر ایک عرصے تک اس بات پر کافی پروپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہیں لیکن الحمدللہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام فول پروف کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے حصار میں ہے۔
پاکستان کی بے پناہ طاقت اس کی نڈر، بے باک اور با صلاحیت پاکستانی قوم ہے۔ آبادی کے تناسب سے ملک میں نوجوانوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور پاکستان عالمی سطح پر بھی نوجوانوں کی اکثریت کے ساتھ ٹاپ رینکنگ پر ہے اور یہ یقینا پاکستان کے تابناک مستقبل اور ترقی کےلئے ایک خوش آئند بات ہے۔ پاکستانی نوجوان دنیا کے ہر میدان میں اپنی ذہنی صلاحیتوں اور ہنر سے خود کو منوا چکے ہیں۔ ان نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں ایک انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ افرادی قوت کے درست اور بروقت استعمال کے ساتھ پاکستان تیز ترین معاشی و سماجی ترقی کی مزید نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی کا کوئی ثانی نہیں۔ اس کے بلندوبالا پہاڑ، برف سے ڈھکی چوٹیاں، بہتے جھرنے، ندیاں،خوبصورت جھیلیں، پانچ دریا،زرخیز اور سر سبز و شاداب وادیاں، قدیم تہذیبیں، تاریخی مقامات، معدنی ذخائر سے مالا مال چٹانی سلسلے، گھنے جنگلات،وسیع ریگستان، گہراسمندر، خوبصورت ساحل، جزائر اور چارموسموں کی موجودگی کے ساتھ ہر قسم کی آب و ہوا اس کو سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بناتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف رنگا رنگ ثقافتیں، بولیاں، اور قدیم اور تاریخی تہذیبوں کی موجودگی پاکستان کو ایک بہترین اور مثالی ملک بنا دیتی ہے۔ اب اگر پاکستان کا اندرونی جائزہ لیا جائے تو یہ انمول دھرتی بیش بہا خزانوں اور وسائل سے مالا مال نظر آتی ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ کاشتکاری کے علاوہ مویشی بانی، پولٹری اور ماہی گیری بھی یہاں کے لوگوں کا ایک قابلِ ذکر ذریعہ معاش ہے جس کو بھرپور توجہ کے ساتھ ملکی معیشت میں زرِمبادلہ کے زخائر بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے کہ حکومت مستقل بنیادوں پر سنجیدگی کے ساتھ طویل المیعاد منصوبہ بندی کرتے ہوئے نئے ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ زرعی ٹیکنالوجی میں آگے بڑھے۔
پاکستان قدرتی معدنیات کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ اہم معدنیات میں کوئلہ، نمک، جپسم، خام لوہا، کرومائیٹ، تانبا، سنگ مرمر، قیمتی پتھر، گیس اور خام تیل شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایسے معدنی ذخائر موجود ہیں جو کہ ابھی تک دریافت نہیں کئے جا سکے ۔ یہ ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے پاکستان میں موجود معدنیات و قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ 8ستمبر 1958 ءکا دن پاکستان کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دن گوادر کا 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پاکستان کی ملکیت میں شامل ہوا۔ اس وقت شاید کسی کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ آنےوالے برسوں میں گوادر پاکستان کی قسمت بدلنے کا باعث بن جائے گا۔ 2002 ءمیں گوادر پورٹ کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ گوادر پورٹ کا قیام، پاکستان کے بہترین مستقبل کی نوید رکھتا ہے۔ دراصل گوادر پورٹ ہی سی پیک جیسے گیم چینجر کی بنیاد بنا۔ پاکستان کا سی پیک، اشیائے ترسیل کا ایک ایسا میگا منصوبہ ہے جو کہ بہت سارے ممالک کو سڑکوں اور ریلوے کے جدید نظام کے ساتھ ساتھ، گوادر سی پورٹ کے ذریعے آپس میں ملاتے ہوئے تجارت کے نئے دروازے کھول کر دنیا میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دے گا۔اس کے علاوہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک کی سماجی و اقتصادی ترقی کےلئے کئی مواقع فراہم کرتا ہے۔ سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی مدد سے وسط ایشیائی ممالک علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے سکتے ہیں۔چین اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اس طرح اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کے چین کے ساتھ تجارت کے نئے دروازے کھل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا یہ منصوبہ دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور اس وقت دنیا بھر کی نگاہیں اس عظیم الشان منصوبے کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ آج دوست تو دوست دشمن بھی اِس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
بلاشبہ ہماری پاک دھرتی نہایت انمول ہے۔ یہ پاک وطن عطیہ خداوندی ہے۔ ہمارے آباواجداد کی بیش بہا قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ آج جس طرح ہم اپنے پیارے وطن میں آزادی سے سانس لے رہے ہیں اس آزادی کے حصول کےلئے ہمارے اسلاف نے بڑی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ سر کٹائے گئے، عصمتیں پامال ہوئیں، جاگیریں نیلام ہوئیں، عورتوں نے اپنی عزتیں بچانے کےلئے کنوں میں چھلانگیں لگائیں۔ لاکھوں بچے یتیم ہوئے، لاکھوں عورتیں بیوہ ہوئیں خاندان کے خاندان صفحہ ہستی سے مٹ گئے صرف اور صرف دنیا کے نقشے پر اس پاک وطن کو لانے کےلئے۔ یہ سب معمولی نہیں تھا نہ ہی اتنا آسان۔
پاکستان کی قدر کیجئے کہ یہ کوئی معمولی ریاست نہیں ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا وہ قلعہ ہے جسے عالمِ اسلام کی لیڈر شپ کےلئے چنا گیا ہے۔ پاکستان دنیائے اسلام کا وہ واحد ملک ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کےلئے نہ صرف آواز اٹھاتا ہے بلکہ دامے درمے سخنے قدمے جو ممکن ہو، کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی چھتری تلے امن فوج میں شامل ہوکرہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور اس طرح پاکستان دنیا بھر میں امن کے فروغ کےلئے عملی اقدامات میں آگے رہا ہے۔ اس وقت اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے قدرتی وسائل، ہنر مند افرادی قوت اور باصلاحیت اذہان کا بروقت اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ مناسب طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ان کو ملکی ترقی کے بہتے دھارے میں شامل کیا جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک وطن کی سلامتی، دفاع اور تحفظ کے ساتھ اس کی تعمیر و ترقی و خوشحالی کےلئے ہم سب پرعزم ہو کر ایک صف میں کھڑے ہوجائیں۔ اس کےلئے حکومت، اداروں اور عوام کو نیک نیتی کے جذبے کے ساتھ ایک سوچ پر آنا ہوگا اور وہ سوچ ہوگی ملکی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کی سوچ، پائیدار امن کی سوچ، اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی سوچ۔ اگر ہم متحد ہوگئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
پاکستان کی قدر کیجیئے۔ انفرادی سطح سے اجتماعی سطح پر متحد ہو نے میں ہی پاکستان کی ترقی کا راز مضمر ہے۔ پاکستان کی ترقی کےلئے ہم سب کو بحیثیت ایک قوم کے پہلے اپنی انفرادی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے نہایت ذمہ داری اور لگن کے ساتھ قدم بڑھانا ہوگا تاکہ ہم اجتماعی طور پر اپنی منفرد شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے سبز ہلالی پرچم کی شان میں اضافہ کر سکیں۔ اپنے پاک وطن میں ایک آزاد قوم کی حیثیت سے رہنے کا حق ادا کر سکیں، اس انمول دھرتی کا نام عالمی سطح پر روشن کر سکیں۔
(بشکریہ: ہلال)
٭….٭….٭

مودی کے بُت پر بلقیس بانو کی کنکریاں

عارف بہار
وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں جس طرح نریندر مودی اور ان کے بھارت کی عمومی ذہنیت ،متعصبانہ سوچ اور حکمت عملی کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دیے اس سے توقع یہی تھی کہ وہ جواب میں پاکستان اور چین کا تذکرہ ضرور کریں گے ۔کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کی گردان دہرائیں گے اور دہشت گردی کا منترا پڑھ کر دنیا کو رام کرنے کی کوشش کریں گے ۔پاکستان کے ساتھ تو بھارت حالت جنگ میں کھڑا ہے اور چین کے ساتھ بھی اس کے تعلقات میں کشیدگی کا عنصر نمایاں ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گلوان وادی اور پنگاگ جھیل کے علاقے میں چین وسیع وعریض رقبہ کر چکا ہے ۔دونوں طرف سے مذاکرات جاری ہیں مگر تاحال ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہ نہیں ہوا۔اس پس منظر میں بھارتی عوام اور میڈیا بھی نریندر مودی سے ایک غیر معمولی خطاب کی توقع لگائے ہوئے تھے ۔ٹی وی سٹوڈیوز میں اس تقریر پر تجزیوں کے لئے ماہرین کو لابٹھایا گیا تھا۔اُدھر مودی پاکستان اور چین کے خلاف آگ اگلیں گے اِدھر سیاسی تجزیہ نگار اس پر مودی کی ٹارزن جیسی شبیہ بنا کر پیش کریں گے۔ مودی کی تقریر نے ان سب کی امیدوں پر اوس ڈال دی ۔مودی نے اقوام متحدہ کے اس عالمی ادارے سے سب سے پھُسپُھسا خطاب کیا ۔حد تو یہ کہ خود بھارت کے ذرائع ابلاغ نے بھی اپنے وزیر اعظم کی تقریر کو چنداں اہمیت نہیں دی ۔
مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کے ایک ارب تیس کروڑ لوگ اقوام متحدہ میںاصلاحات کے مکمل ہونے کے انتظار میں ہیں۔آج بھارت کے لوگ تشویش میں مبتلا ہیں کہ آیا یہ عمل تکمیل کو پہنچے گا بھی یا نہیں؟آخر کب تک بھارت کو فیصلہ سازی سے الگ رکھا جائے گا۔جس کے بعد مودی نے کورونا وبا اور ویکسین پر بات کی ،بھارت کی جمہوریت کا تذکرہ کیا ماضی کے بھارت کی داستان چھیڑی مگر ان کی تقریر ان چیلنجز کے ذکرسے خالی رہی جس کا بھارت کو لمحہ ¿ موجود میں سامنا ہے ۔بھارت جس طرح اپنا عالمی قد اونچا کرکے اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت چاہتا ہے اس خواہش پر عمران خان کی تقریر نے اوس ڈال دی ہے ۔عمران خان نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے دعوے دار اور خواہش مند بھارت کو دنیا کا بدترین متعصب ،نسل پرست ،اقلیتوں کے لئے غیر محفوظ اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کو روندنے والا ثابت کیا تھا ۔
بھارت کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ عمران خان اپنے روایتی کھلے ڈلے انداز میں مودی کی سیاست اور مودی کے ہندوستان کے بخئے ادھیڑ کررکھ دیں گے اسی لئے عمران خان کی تقریر شروع ہوتے ہی بھارتی نمائندہ اجلاس سے واک آﺅٹ کر گیا اور تقریر کے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی نمائندے کا یہ کہنا تھا کہ کل آپ نے ایک ایسے شخص کو سنا جس نے پارلیمنٹ میں اسامہ بن لادن کو شہید کہا۔عمران خان کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے کے لئے بھارت کے پاس یہی ایک نکتہ باقی رہ گیا تھا جبکہ عمران خان نے تفصیل سے بھارت کی سوچ وفکر اور اس کے نئے اُبھرتے ہوئے خدوخال کو دنیا کے سامنے بیان کرکے مودی اور بھارت کے سارے نقاب نوچ ڈالے ہیں ۔جس کے بعد مودی کے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کو کچھ بھی باقی نہیں تھا اس لئے نریندر مودی نے تقریر کے نام پر آئیں بائیں شائیں سے کام چلایا۔یہ کمزور تقریر مودی کے لاجواب ہوجانے کا ثبوت ہے اور اس سے بھارت میں عمومی طور پر مایوسی پھیل گئی ہے ۔
اقوام متحدہ کوئی کُشتی کا اکھاڑا یا میدان جنگ نہیں ہوتا جہاں زور بازو آزمایا جائے ۔حریف کو چاروں شانے چت کیا جائے اور تیر وتفنگ کو آزمایاجائے ۔یہ سال میں ایک بار منعقد ہونے والا عالمی اجتماع ہوتا ہے جس میں زورِبازو کی بجائے زور ِکلام دیکھا جاتا ہے ۔یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی عالمی لیڈر نے اپنا اور اپنی قوم وملک کا مقدمہ کس انداز میں لڑا ۔کرہ ¿ ارض کو درپیش چیلنجز پر کس بصیرت اور خیالات کا مظاہرہ کیا ۔حقیقت میں یہ عالمی راہنماﺅں کا تقریری مقابلہ ہی ہوتا ہے جس میں لیڈر شپ کا ویژن تلاش کیا جاتا ہے ۔مودی عالمی فورم پر یہ مقابلہ ہار گیا ہے ۔اس لئے مودی کے پاس اپنے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرنے کو باقی نہیں رہا ۔کشمیر میں مودی جو کھیل کھیل رہا ہے اس پر تمام دنیا کے ذرائع ابلاغ مسلسل رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس پر بند کمرہ اجلاسوں میں بات کر چکی ہے۔بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا بھی عالمی ذرائع ابلاغ کا موضوع رہ چکا ہے ۔
شہریت قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کے دھرنے میں متحرک بیاسی سالہ خاتون بلقیس بانو المعروف” شاہین باغ کی دادی“ اور ” دبنگ دادی “کو امریکہ کے شہرہ آفاق میگزین ”ٹائم“ کی طرف سے مودی کے پہلو بہ پہلو دنیا کی سو بااثر شخصیات میں شامل کرنا مودی کی جمہوریت اور سیکولرازم کے دعوﺅں کا بین الاقوامی استرداد ہے۔میگزین نے مودی کو دنیا کی بااثر شخصیات میں شامل تو کیا مگر تصویر کے لفظی خاکے اور تبصرے میں سارا مزہ خراب کر دیا ۔میگزین نے ایک جملے میں ہی ان کی سیاست کا بیڑہ غرق کیا کہ ”مودی بھارت کے وزیر اعظم ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے وزیر اعظم ہیں“۔ یوں مودی کے مقابلے میں مزاحمت اور جرا¿ت کی علامت کے طور پر بھارت کی ایک ضعیف العمر اور کمزور مسلمان خاتون کا انتخاب اس کے ٹارزن ہونے کی قلعی کھول دیتا ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ مودی کے مقابلے میں مزاحمت کی علامت کے طور پر اسد الدین اویسی یا کسی طالب علم راہنما سمیت کسی اورمسلمان سیاسی شخصیت کا انتخاب کیا جاتا جس نے شہریت کے ترمیمی بل کے خلاف مہم میں مرکزی کردار ادا کیا تھا مگر چھپن انچ چوڑے سینے کے مقابلے میں دھان پان سی خاتون کو مزاحمت کی علامت بنانا ٹارزن کے مجسمے اور امیج کے بت کوکرچی کرچی کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے ۔
عمران خان نے مودی کی شخصیت اور سوچ وفکر کے بارے میں جو کچھ کہا ٹائم میگزین کے اس ایک جملے میں اس کاخلاصہ موجود ہے کہ یوں لگتا ہے مودی صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کے وزیر اعظم ہیں۔ عالمی ایوان میں ان شواہد اور حقائق کو جھٹلانے کی بجائے مودی نے خاموشی کا ہی راستہ اختیارکرنے میں ہی عافیت جان لی۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

دو وقت کی روٹی

لقمان اسد
پرانے وقتوں میں یہ چیزیں عام تھیں اور یقیناہمارے معاشرے کی یہ خوبصورت ترین روایات تھیں کہ گھر میں بھلے کوئی بھی چیز کھانے کے لئے تیار ہوتی سب سے پہلے اس ہمسائے کا دراوزہ کھٹکھٹایا جاتا جن کے حالات مالی طور پر بہتر نہیں ہوتے تھے۔ گھر کے بزرگ اپنے کسی بچے کو حکم صادر کرتے کہ جاو¿ بیٹا یہ کھانا فلاں ہمسائے کے گھر دے کر آو¿پتہ نہیں آج ان کے گھر کچھ کھانے کو ہے بھی سہی یا نہیں۔وہ بچہ جا کر کھانا دے آتا اور واپس جیسے ہی گھر پہنچتا والد یا والدہ بچے سے پہلا سوال یہی کرتے بیٹا کھانا پہنچا کر آگئے ہو ۔جواب ملتا جی ماں جی وہ بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دے رہے تھے۔ ان مہذب روایات کے بہت فوائد تھے دینِ اسلام بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے یہ ہمارا فریضہ ہے جبکہ اس عمل کا بڑا فائد ہ تو یہ بھی ہے کہ بچوں کے اذہان و قلوب سے دولت جمع کرنے کی حرص نکل جاتی ہے، ان کی بچپن سے یہ تربیت ہونے لگ جاتیہے کہ جو چیز بھی ہم نے اپنے پہننے اور کھانے کے لےے خرید کرنی ہے ہمارے ارد گرد رہنے والے ان افراد کابھی اس میں حصہ ہے جو ان چیزوں کے حصول و خرید کی قوت نہیں رکھتے۔
اگر پچھلے زمانے یا وقت کا آج سے موازنہ کیا جائے تو آج ہر طرف دولت کی ریل پیل نظر آتی ہے۔ گھر سے باہر نکلو تو لمبی لمبی گاڑیوں پر نظر پڑتی ہے جن کی قیمت لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے۔ پہلے وقتوں میں انسان سادہ گھروں میں رہتے تھے اور زندگی بھی سادہ بسر کرتے تھے ان کے دل بہت نرم تھے وہ اپنی ضرورت سے زائد آمدن ضرورت مند لوگوں پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ وقت اور زمانے نے کروٹ بدلی ایک دوسرے کا دکھ سکھ مشترکہ سمجھنے والے انسان اچانک بدلنا شروع ہوگئے ۔وہ سرمایہ دار اور زمیندار جو اپنے علاقوں اور شہروں کے غربا کے پاس خود چل کر ان کا دکھ سکھ بانٹنے جاتے اب انہیں ان کا کچھ خیال نہیں ہے۔ ایسے لوگ اب بھی معاشرے میں موجود ضرور ہیں مگر بہت کم ۔گزشتہ دنوں شہر سے تھوڑا دور ایک علاقے میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک کم عمر بچہ ہوٹل پر برتن دھونے میں مصروف تھا میں اس کے قریب پہنچا دعا سلام کے بعد پوچھا کیا مجبوری ہے اتنی گرمی میں ہوٹل پر کام کیوں کر رہے ہو کیا آپ کے والد حیات نہیں ہیں؟ کہنے لگا میں اپنے والد کے ساتھ ہی تو کام کرتا ہوں۔ اتنی دیر میں بچے کے والد بھی آگئے۔ میں نے ان سے سوال کیا اس بچے کی ابھی پڑھنے کی عمر ہے اسے کیوں آپ نے اس کام پر لگا دیا ہے۔ بچے کا والد گویا ہوا کرائے کا گھر ہے مل کر مزدوری نہیں کریں گے تو دو وقت کی روٹی کیسے کھائیں گے ،جوان بچیوں کی شادی کرنی ہے ان کا جہیز اکٹھا کرنا ہے یہی سوچتا ہوں کہ بچیوں کی پہلے شادی کرلوں پھر اپنا گھر نصیب میں ہوا تو بناو¿ں گا۔ میں نے کہا کہ بیٹے کو پڑھاو¿، ہوسکتا ہے یہ اچھا پڑھنے لگ جائے اور کہیں اچھی ملازمت اسے مل جائے ۔مایوسی کے عالم میں اس نے جواب دیا ہم غریبوں کے بچوں کو نوکری کون دیتا ہے۔ ان سطور کی وساطت سے مجھے وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے یہ عرض کرنا ہے کہ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنرکی ہی اگر وہ ڈیوٹی لگا دیں کہ کم از کم وہ ہر ضلع کے ایسے افراد کا تو ڈیٹا اکٹھا کریں جن کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں ہے اور ان کے وہ بچے جن کی عمر ابھی سکول میں جا کر زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونے کی ہے وہ محنت، مشقت اور مزدوری کرنے پر مجبور ہیں حکومت اس حوالے سے اور کچھ نہیں کر سکتی محکمہ بیت المال سے تو انہیں امداد دی جاسکتی ہے۔ وطن کارڈ کے اجرا سے لے کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور موجودہ حکومت کے احساس پروگرام تک آخر یہی ایک کمزوری خامی اور ناقص پالیسی ہی کیوں چلی آرہی ہے کہ حقداروں تک یہ حکومتی امداد کیوں نہیں پہنچ پاتی۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حال ہی میں احساس پروگرام سے مستفید ہونے والے 50%افراد ایسے ہیں جو صاحبِ ثروت ہیں وزیرِ اعظم سے ملک کے غریب عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہےں کہ وہ تقریروں میں تو غریبوں کے حق میں پر اثر انداز میں بولتے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ غریبوں کے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے ۔وہ غریب جن سے موجودہ حالات اور مہنگائی نے دو وقت کی روٹی تک بھی چھین لی ہے۔ مہنگائی کا عفریت بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ اشیائے ضروریہ کے نرخ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں تو غریب کیا کھائے گا۔ دیہاڑی دار مزدور طبقہ پر عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ ادویات کی قیمتوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔متعلقہ ادارے، انتظامیہ اور حکومت سب کا رویہ غیر سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عوامی فلاح و بہبود کی کسی کوئی پروا نہیں۔
وزیراعظم ملک میں پناہ گاہیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ قوم سے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ بھی پورا کریں۔مافیاز نے قوم کا جینا محال بنا دیا ہے، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ عام ہو رہی ہے جبکہ ایسے لگتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے۔ حکومت غریب عوام کیلئے اتنی سہولت تو میسر کردے کہ وہ دو وقت کی روٹی آرام سے کھا سکیں۔ کرپٹ مافیا خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہئے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ عوام کو دووقت کی روٹی میسر نہ آ سکی اور وہ احتجاج کیلئے نکل آئے تو حکومت کا برقرار رہنا مشکل ہو جائیگا۔ قوم کو عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ابتک کی حکومتی کارکردگی نے انہیں مایوس کیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ انہیں تبدیلی کے نام پر بیوقوف بنایا گیا تھاکیونکہ ان کی زندگی تو پہلے سے زیادہ سخت ہو گئی ہے۔ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا از حد ضروری ہے۔
خوشبوو¿ں کی شاعرہ پروین شاکر نے کہا تھا ۔
پھر ایک بار تجھی سے سوال کرنا ہے
نگاہ میں تیرا منصب بحال کرنا ہے
لہو سے سینچ دیا اور پھر یہ طے پایا
اسی گلاب کو اب پامال کرنا ہے
اس ایک مرہم نوروز و لمس تازہ سے
پرانے زخموں کا بھی اندمال کرنا ہے
یہ غم ہے اور ملا ہے کسی کے در سے ہمیں
سو اس شجر کی بہت دیکھ بھال کرنا ہے
(کالم نگارسیاسی و قومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

خفیہ ملاقاتیں!

عثمان احمد کسانہ
ایک عرصے سے ہمارے ملک کی سیاست الزامات اور ایک دوسرے کے متعلق حیران کن انکشافات کے گرد گھوم رہی ہے جس کا شائد اب آخری مرحلہ ہے کیونکہ جس رفتار سے یہ سلسلہ چل نکلا ہے اب یہ اپنے انجام کے بالکل قریب دکھائی دیتا ہے ۔ملاقات دن کی روشنی میں ہو یا رات کے اندھیرے میں ،اس کو اب اس طرح سے خفیہ رکھنا محال ہے جو آج سے چند سال پہلے تک ممکن تھا ۔ البتہ باجودیکہ سیاست میں اخلاقیات نہ ہونے کے برابر رہتی جارہی ہے پھر بھی مشورہ ہے کہ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف ہر دو اطراف کے سیاسی زعما کو اس بات کی اہمیت ضرور پیش نظر رکھنی چاہئے کہ سیاستدان اگر کسی سے ملاقات کرتا ہے اور اس کی خبر نہیں بننے دینا چاہتا تو اس کی اس معصوم خواہش کا احترام ضرور کیا جانا چاہئے ، کیونکہ وقت اور مقام بدلتا ہے ملاقاتی وہی رہتے ہیں۔ آج جن لوگوں کو منت سماجت کرتے دیکھا جا رہا ہے یہ کل کو پھر اپنی پوزیشن بدل کر اقتدار کی سیڑھی تک پہنچنے کی کامیاب یا ناکام کوشش ضرور کریں گے جبکہ آج جو لوگ ملاقاتوں کو موضوع سخن بنائے ہوئے ہیںہو سکتا ہے بلکہ مجھے توسیاست و صحافت کا طالبعلم ہونے کے ناطے کامل یقین ہے کہ کل کلاں کو یہ ملاقات کا وقت مانگنے والوں کی قطار میں سر فہرست ہونگے ۔
ہماری سیاسی تاریخ میں سب سے غیر اہم موضوع یہ ہے جسے آج اتنا اہم بنا دیا گیا ہے کہ ہر ٹی وی چینل اور ہر اخبار پر بس یہی خبر ہے کہ کون کب کس سے ملا اور کیوں ملا اس پر پھر مفروضوں سے لیکر اندازوں اور قیافوں تک کو پورے وثوق کے ساتھ خبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ خفیہ ملاقاتوں کا ایجنڈا کیا ہوتا ہے ، ان کے مقاصد کیا ہوتے ہیں اور ان کا ماحصل سوائے اس کے کیا ہوتا ہے کہ اپنے مخالفین کو خاموش پیغام دیا جائے یا اپنی پوزیشن واضح کی جائے ۔وطن عزیز پاکستان اپنے قیام سے لیکر اب تک اپنے ہمسایہ ممالک کی منافقت اور دشمنی کا بری طرح سے شکار ہے ۔ خاص طور پر بھارت جیسا کمینہ اور گھٹیا دشمن تو خدا کسی کو بھی نہ دے ہمیں تو اس کی ناپاک ہمسائیگی سے بھی دن رات نمٹنا پڑتا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ سیاست سیاست کھیلتے اتنا آ گے نکل جاتے ہیں کہ اپنا فائدہ تلاش کرتے کرتے دشمن کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بننے لگتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر سیاست صرف سیاستدانوں کا کام ہے تو پھر ملک کا دفاع اور اس کی اندرونی و بیرونی سلامتی بھی صرف ان ادروں کے ذمہ ہے جن کو اکثر بے جا سولات کی زد میں رکھ کر دشمن کے موقف کو تقویت دی جاتی ہے۔ایسی ہی کسی بھی صورتحال کے پیش آمدہ خطرات اور بھارت کی چالبازیوں پر پیشگی منصوبہ بندی کرنے کیلئے سیاستدانوں کا اپنے ہی ملک کے محافظوں سے مل بیٹھنا کوئی اچنبے کی بات نہیں ۔
بہر حال سیاسی طور پر ہر روز نت نئے موضوعات تلاش کرنے والے کچھ نہ کچھ ایسا نکال لاتے ہیں کہ بازار سیاست کی گہما گہمی اور حرارت میں کمی نہ آنے پائے ۔ حالیہ ملاقاتوں کے ضمن میں یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی کہنے والوں یا اسے مہروں کی حکومت کہنے والوں نے اور کسی کو نہیں اپنے موقف کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے ،ان کے اپنے بیانیے کی خود ساختہ عمارت میں دراڑ آگئی ہے ،اب ایک ہی جماعت میں دو طرح کے نظریات کا اشکال حقیقت بن کر سامنے آیا ہے ۔ باقی اب اس ملاقاتی ہتھوڑے کو جس پر چاہے چلاتے جائیں سب ایک ایک کر کے زمین بوس ہوتے جائیں گے حالانکہ اس موقف میں اپنی جگہ بڑی طاقت ہے کہ قومی سلامتی اور ملکی مفاد کسی ایک جماعت یا ادارے سے نہیں جڑا ہوا ، وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کی خاطر کوئی بھی کسی بھی وقت کسی سے بھی مل سکتا ہے اور ملنا بھی چاہئے اس میں کوئی عیب یا ندامت نہیں ہونی چاہئے ۔ کیا اپنے ہی ملک کی سلامتی کے محافظوں سے ملاقات کرنے والے سیاستدانوں پر سوالیہ نشان لگانا دانشمندی کا تقاضا ہے ؟ ہاں البتہ سیاستدانوں یا کسی بھی باشعور شہری کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے ملک کے مفاد اور اپنے ذاتی وقار کے منافی کوئی بیان بازی یا سودے بازی کرے ۔
جہاں تک تعلق ہے حکومت کا تو اسے ہر اس معاملے پر متعلقہ ادراوں کی رائے ضرور لینی چاہئے جس کی آئین اجازت دیتا ہے جبکہ اپوزیشن کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی اسی طرح آئین پاکستان کی پابند ہیں جس طرح کوئی اور ہے ۔ یہ کیا کہ اگر کسی مسئلے پر وہ اپنی رائے دینے کیلئے اکٹھے ہوں تو غصے میں سب کے لتے لے جائیں ، پبلک کے سامنے ان کا موقف اور ہو اور تنہائی میں ملنے والوں کے سامنے موقف اور ہو اس دو رنگی سے نقصان کے علاوہ اور کچھ نہیں ہاتھ آئے گا ۔ملک میں حکومت کرنے اور اس حکومت کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر اس کی مخالفت میں اپنا موقف دینے کے مواقع بھی کثیر ہوتے ہیں اور طریقے بھی ان گنت ۔اگر ہم محض اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین کو ہی غلط اور بددیانت ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں تو پھر رد عمل کے طور پر وہ اے پی سی بھی نہ کریں تو کیا کریں ۔ حکومت کو ابھی اپنی اداﺅں پہ خود غور کرنا ہے کہ کیا دھرا ان کا کھاتے کسی اور ادارے کے پڑ رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ چھپ چھپ کے ملنے والے بھی سیاستدان ہیں ، ان کو بے نقاب کرنے والے بھی سیاستدان ہیں اور پھر مفت کی ترجمانی کرنے کو بھی سیاستدان ہی آسانی سے میسر ہیں۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭