All posts by Muhammad Afraz

دوسرا ٹی 20بنگلہ دیش کو 9وکٹوں سے شکست، پاکستان کو سیریز میں فیصلہ کن برتری

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں گرین شرٹس نے مہمان ٹیم کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں بنگلہ دیشی ٹیم کے کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستانی ٹیم کو فیلڈنگ کی دعوت دی۔پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کی طرح دوسرے میچ میں بھی شرکت کے لیے شائقین کی بڑی تعداد اسٹڈیم پہنچی اور اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے مختلف پلے کارڈز بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
میچ کے آغاز میں ہی بنگلہ دیشی اوپنر مشکلات کا شکار ہوگئے اور 5 رنز کے مجموعی اسکور پر محمد نعیم بغیر کوئی رنز بنائے شاہین شاہ آفریدی کی گیند کا شکار بنے۔جس کے بعد اگلے آنے والے بلے باز بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور 22 رنز کے اسکور پر مہمان ٹیم کی 2 وکٹیں گر گئیں۔بنگلہ دیش ٹیم کے اگلے آو¿ٹ ہونے والے کھلاڑی لٹن داس تھے جو 41 کے مجموعی اسکور پر صرف 8 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
بابر اعظم نے 66 رنز اسکور کیے اور ناٹ آو¿ٹ رہے—آئی سی سی ٹوئٹر50 رنز سے کم اسکور پر 3 کھلاڑی آو¿ٹ ہونے کے بعد کیریز پر موجود بلے بازوں نے ٹیم کو کچھ سہارا دیا اور ٹیم کا اسکور 86 رنز تک پہنچایا ہی تھا کہ عفیف حسین، فاسٹ باو¿لر محمد حسنین کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔اس کے بعد مہمان ٹیم کے اگلے آو¿ٹ ہونے والے کھلاڑی تمیم اقبال تھے جنہوں نے 65 رنز کی اننگ کھیلی اور رن آو¿ٹ ہوئے۔آدھی ٹیم کے پویلین لوٹنے کے بعد اگلے آنے والے کھلاڑی بھی اسکور میں کچھ زیادہ اضافہ نہ کرسکے اور آخری اوور کی پہلی گیند پر 126 کے مجموعی اسکور پر آو¿ٹ ہوگئے۔جس کے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم 20 اوورز میں 6 کھلاڑیوں کے نقصان پر 136 رنز ہی بناسکی۔پاکستان کی جانب سے محمد حسنین نے 2 جبکہ شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان اور حارث رو¿ف نے ایک، ایک کھلاڑی کو آو¿ٹ کیا۔بنگلہ دیش کی بیٹنگ کے بعد جب پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں اپنی اننگز کا آغاز کیا تو 6 رنز کے مجموعی اسکور پر احسن علی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ابتدا میں ہی اوپننگ بلے باز کے آو¿ٹ ہونے کے بعد بابر اعظم اور محمد حفیظ نے ٹیم کو سہارا دیا اور جارحانہ انداز میں کھیل پیش کرتے ہوئے نصف سنچریاں اسکور کیں۔کپتان بابر اعظم نے 35 گیندوں پر ففٹی اسکور کی جبکہ محمد حفیظ 39 گیندوں پر اپنے 50 رنز مکمل کیے۔
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں کامیابی حاصل کی تھی—فوٹو: آئی سی سی ٹوئٹردونوں بلے بازوں نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 131 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی اور بار اعظم 66 جبکہ محمد حفیظ 67 رنز بنا کر ناٹ آو¿ٹ رہے اور 137 رنز کا ہدف حاصل کرلیا۔علاوہ ازیں کپتان بابر اعظم کو شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا فاتحانہ انداز میں آغاز کرنے والی قومی ٹیم میں دوسرے میچ کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم بنگلہ دیش کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور محمد متھن کی جگہ مہدی کو شامل کیا گیا۔

رابی پیرزادہ نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی

نامناسب  ہونے کے بعد گزشتہ برس کے آخر میں شوبز کو خیرباد کہہ کر مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی کا آغاز کرنے والی سابق گلوکارہ رابی پیرزادہ نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی۔رابی پیرزادہ نے گزشتہ برس اکتوبر میں شوبز چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر مقدس مقامات کی پینٹنگز شیئر کرنا شروع کردی تھی۔رابی پیرزادہ نے شوبز کو خیرباد کہنے کے بعد گزشتہ برس کے آخر میں مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا آغاز کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر حمد و قرآن پاک کی تلاوت کی ویڈیوز بھی جاری کی تھیں۔رابی پیرزادہ کی جانب سے شوبز چھوڑے جانے کے فیصلے کو مداحوں نے سراہا تھا اور ان کی نئی زندگی کی شروعات پر ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارے جانے کے آغاز کے بعد رابی پیرزادہ نے عمرے کی سعادت حاصل کی اور انہوں نے اس متعلق سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کو آگاہ کیا۔سابق اداکارہ و گلوکارہ نے عمرے کے دوران مقدس مقامات پر کھچوائی گئی تصاویر و ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا کہ انہوں نے عمرے کی سعادت حاصل کی

لاہور: فیکٹری میں سلنڈر پھٹنے سے آتشزدگی، 11 افراد جاں بحق

لاہور کے علاقے شاہدرہ میں قائم پرفیوم تیار کرنے والی فیکٹری میں سلنڈر پھٹنے سے عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 2 شدید زخمی ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق کے شاہدرہ کے قریب نواحی علاقے امامیہ کالونی سے ملحقہ پیرزادہ کالونی میں سلنڈر کے دھماکے سے دو منزلہ عمارت میں آگ لگ گئی تھی جس کے بعد وہ زمین بوس ہو گئی جبکہ اس کے ساتھ نمکو بنانے والی فیکٹری بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔اس حوالے سے ڈی او ریسکیو رانا اعجاز نے بتایا کہ آتشزدگی کے وقت 15 سے زائد مزدور فیکٹری میں کام میں مصروف تھے۔یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: گھر میں آتشزدگی سے 10 افراد زخمیہلاکتوں کی وجوہات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا تھا لیکن ہلاکتیں عمارت کی چھت گرنے سے ملبے تلے مزدروں کے دبنے کے باعث وئیں۔سلنڈر پھٹنے سے ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں فیکٹری کے مالک غلام رسول بی جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو اہلکاروں کے مطابق آگ کے باعث فیکٹری کی بالائی منزل پر واقع کوارٹرز کی چھت گرنے سے 12 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ انہیں یہ معلوم تھا کہ اس فیکٹری میں کپڑا بنتا ہے لیکن یہاں پرفیوم تیار کیے جانے اور کیمیکل کی موجودگی کا علم مذکورہ واقعے کے بعد ہوا۔مزید پڑھیں: تربت: گیس سلنڈر پھٹنے سے طالبعلم جاں بحق، 20 افراد جھلس کر زخمیواقعے کے اطلاع ملتے ہی متعلقہ ادارے اور ریسکیو ٹیمز جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔ریسکیو ٹیمز فیکٹری کا ملبہ ہٹانے ی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ اب تک 6 افراد کی لاشوں کو ملبے سے نکالا جاچکا ہے۔واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں سے جن افراد کی شناخت ہوئی ان میں 37 سالہ جمیل، 65 سالہ زاہد، ان کی اہلیہ رشیداں بی بی، 6 سالہ اریبہ اور 9 سالہ موسی شامل ہیں۔سلنڈر پھٹنے سے تباہ ہونے والی فیکٹری پر امدادی کارروائیوں میں ریسکیو 1122 کی 10 گاڑیاں اور ایمبولینسز حصہ لی

عمران خان کے ایک ہی وار سے 3صوبوں میں عدم اعتماد کی افواہیں دم توڑ گئیں،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کسی ایک صوبہ کی ات نہیں ہے۔ پاکستان میں شور مچا ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کی بجائے صوبوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ سب سے پہلے کافی دیر سے عثمان بزدار کیخلاف ایک تحریک چل رہی ہے مسلم لیگ ق بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کے اتحادی ہیں۔ بار بار کہا جا رہا ہے کہ پرویز الٰہی صاحب اگلے وزیراعلیٰ ہیںاور ان کو یہ تقریباً طے ہو چکا ہے کہ وزیراعلیٰ ہیں اسی طرح جام کمال کے بارے میں جو بلوچستان کے وزیراعلیٰ ہیں کہ سپیکر صاحب نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد شروعکر دی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ بلوچستان کی حکومت بھی جا رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے 3 وزیر تبدیل کئے گئے۔ پتہ چلا کہ وہ وزیراعلیٰ کے خلاف سازش کر رہے تھے۔ ہمارے ہاں جب ایک طرف سے سکیم ناکام ہو جاتی ہے تو پھر دوسری طرف سے شروع ہو جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جو سکیم تھی جب کامیاب نہ ہوئی تو پھر آپ دیکھیں کہ صوبوں میں تبدیلی کی افواہیں چلنے لگیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دوسری اور تیسری باتیں کرنے لگیں کہ فلاں صوبہ گیا اور ولاں صوبہ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جو ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کے استعفے کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ایم کیو ایم بھی جا رہی ہے اور وفاقی حکومت بھی ڈانواں ڈول ہے۔ یہ ہمارے ہاں عام طور پر روزانہ چینلز جو ہیں وہ بالعموم سنسنی خیزی کو بہت اہمیت دیتے ہیں کہ فلاں کام ہونے والا ہے پھر اس کے متعلق محتلف کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ مجھے یہ پہلے سے اندازہ تھا دیکھیں حکومت کے پاس دینے کے لئے بہت کچھ ہوتا اور لینے والے ہوتے ہیں انہوں نے بھی بالعموم حکومتم سے ہی لینا ہوتا ہے اپوزیشن سے کچھ نہیں ملا کرتا جب یہ خبریں آئیں کہ وہ لاہور آ رہے ہیں اور وہ باقی جگہوں پر بھی داخل اندازی کر رہے ہیں اور یہ جو صوبوں میں جو حکومتوں کی تبدیلی کی افواہیں اس کا جو ستیا ناس ہو رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ واضح ہو گیا کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ آپ کے پاس تینوں چیزیں ختم ہو گئیں ایک ہی وار سے خیبرپختون خوا، بلوچستان اوراس سے پہلے ایم کیو ایم کی کراچی کی اپوزیشن اور اب سے آخر میں بزدار صاحب کے بارے عمران خان نے کہا کہ وہ یہیں رہیں گے کہیں نہیں جائیں گے یہ صورت حال وقتی طور پر تو ختم ہو گئی ہے۔اس میں شک نہیں کہ کے پی کے 3 وزراءجو فارغ ہوئے ہیں وہ کوئی نہ کوئی ناراضگی کا اظہار کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ جو فوری صورتحال تھی وہ کم از کم تھم گئی اور وقتی طور پر تبدیلی اس کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔سیاست میں ایسی باتیں آتی رہتی ہیں اوراس قسم کے واقعات اور خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ بالآخر حکومتیں عام طور پر حالات کو سنبھال لیتی ہیں۔ اس منفی خبروں کی وجہ سے، عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ چینلز ہوں یا اخبارات اس قسم کی سنسنی خیزی کو اہمیت دی جاتی ہے اور جو صحیح خبر ہوتی ہے مثال کے طور پر پچھلے دو ہفتے کی سب سے بڑی خبر وہ یہ ہے کہ چودھری سرور صاحب کی کوششوں سے انہوں نے پہلے بھی یورپی پارلیمنٹ میں پہلے بھی کوشش کی تھی اور پاکستان کے لئے تجارتی سہولتیں حاصل کی تھیں اب ایک بار پھر دوبارہ انہوں نے بہت بڑی نقب لگائی ہے۔ ہمارے ہاں مثبت خبروں کی بجائے منفی خبروں کی بات کی جاتی ہے اس لئے آپ یہ دیکھیں کہ یہ چھوٹی بات نہیں ہے کہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں کشمیر اور انڈیا کے شہریت بل کو ڈسکس کیا جا رہا ہے اور ان کے بارے میں ایک یا دو دن میں فیصلہ ہونے والا ہے۔ عمران خان نے خیبرپختونخوا میں بڑا بولڈ فیصلہ کیا ہے۔ ایک بندے کو ہٹانا مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ 3 وزراءکو ہٹانا۔ ان کے ساتھ ضرور کچھ لوگ ہوں گے یہ خیبرپختونخوا حکومت کے لئے بڑا سیٹ بیک ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمن پہلے بھی پوری کوشش کر چکے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ دوبارہ اسلام آباد میں آنے کا راستہ اختیار کیا تو ایک بار پھر بہت بڑا کرائسس پیش آیا ہو گا۔پی ٹی آئی کے ناراض لوگ ایک دم مولانا کے پاس چلے جائیں گے۔ فارورڈ بلاک کا خطرہ ہمیشہ ہوتا ہے اور یہ ہر دور میں رہا ہے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ فارورڈ بلاک بن جائے۔ مثال کے طور پر ق لیگ والے بار بار کہتے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ، کچھ شکایات ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم حکومت چھوڑیں گے اس کے باوجود ہر وقت چودھری پرویز الٰہی اگلا وزیراعلیٰ یہ کوئی چھ ماہ سے بات سن رہا ہوں۔ چودھری پرویز الٰہی سے میری اپنی بات بھی ہوئی ہے اور چودھری شجاعت سے بھی میری بات ہوئی ہے۔ اس قسم کی فوری بات نہیں ہے وہ بڑے صاحب کردار لوگ ہیں وہ کسی بھی طریقے سے مسلم لیگ ن کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے۔ عمران خان کی پارٹی پر گرفت مضبوط ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہر آٹھویں دسویں دن یہاں سے لندن چلے جاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جنہوں نے ووٹ دینے ہیں وہ لندن میں بیٹھے ہیں چنانچہ یہ تینوں حضرات جو ہیں شہباز شریف سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ ہر دوسرے دن سنائی دیتا ہے فارورڈ بلاک بننے والا ہے حکومت ختم ہونے والی ہے۔ فارورڈ بلاک بھی نہیں بننا اور حکومت بھی ختم نہیں ہوتی۔ سیاست میں جوڑ توڑ ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حکومت آج گئی کہ کل گئی۔ جب چودھری سرور کو پہلی بار گورنر پنجاب بنایا گیا شہبازشریف صاحب کے دور میں یہ کہا تھا اور اس پروگرام میں کہا تھا کہ یہ بہت غلط انتخاب ہے چودھری سرور ایک مدت تک برٹش پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں اور ان کے تعلقات بھی یورپی پارلیمنٹ میں بہت ذاتی طور پر اچھے تعلقات ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ چودھری سرور کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا جاتا تو اب تک وہ کافی کام کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ یورپ کے جتنے چھوٹے ممالک کی پارلیمنٹس میں بھی ان کا کوئی نہ کوئی اثرورسوخ موجود ہے۔ میںیہ سمجھتا ہوں کہ گورنر کے طور پر ضائع کرنا ایک لحاظ سے ان کا وقت ضائع کرنا ہے۔ اب بھی دیکھیں کہ انہوں نے اپنے دور میں پانی کا مسئلہ حل کیا اورجی ایس ٹی پلس کا درجہ دلوایا۔ اور پاکستان کے لئے سہولتیں حاصل کیں۔

متنازعہ شہریت قانون بھارت کے لیے خطرہ ،نصیر الدین شاہ سمیت 300شخصیات کا خط

نئی دہلی (آئی این پی، آن لائن) شہریت ترمیمی قانون این آر سی کیخلاف احتجاج کرنے والے طلبا اور دیگر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے معروف اداکار نصیرالدین شاہ ، میرا نائیر سمیت تقریبا 300 شخصیات نے اپنے دستخطوں کے ساتھ سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں کھلا خط جاری کیا ہے۔ اس مکتوب میں ان شخصیات نے خواتین اور طلبا کے احتجاج کو سلوٹ کرتے ہوئے کہا کہ دستور ہند کے کو برقرار رکھنا ہی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ ہم اس قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہیں ۔انڈین کلچر فورم کی طر ف سے تین سوسے زائد معروف بھارتی اداکاروں ،دانشوروں اوردیگر اہم شخصیات کے دستخطوں سے جاری ایک بیان میں قانون شہریت اور شہریوں کے قومی رجسٹرکو بھارت کیلئے شدید خطرہ قراردیا۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ ہم قانون شہریت اور این آر پی کے خلاف احتجا ج کرنے والے طلبا اور دیگر افراد کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارت کے دستور جس میںمتنوع معاشرے کا وعدہ کیاگیا ہے کی بالادستی کیلئے ان کی کوششوں پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ مصنفین انیتاڈیسائی ، کرن ڈیسائی ، اداکارہ رتنا ، جاوید جعفری ، نندیتا داس ، للیت دوبے ، ماہر عمرانیات اشیش نندی ، سہیل ہاشمی اور شبنم ہاشمی بھی دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ بھارت میں متنازعہ شہریت قانون کیخلاف ریاستوں کی بغاوت کا سلسلہ جاری ہے،مغربی بنگال کی اسمبلی اور ریاست تلنگانہ نے متنازعہ شہریت بل کیخلاف اسمبلی میں قراردادپیش کرنے کا اعلان کردیا´۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی بنگال کی اسمبلی میں شہریت قانون کیخلاف آج قراردادپیش کی جائے گی ،295 رکنی اسمبلی میں ترنمول کانگریس کو اکثریت حاصل ہے جس کی وجہ سے قراردادآسانی سے منظور ہو جائے گی۔بھارتی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں بھی متنازعہ شہریت قانون کیخلاف قرارداد منظور کی جائے گی ،تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندرشیکھررا? نے قراردادمنظور کرنے کا اعلان کردیا،اسمبلی کے بجٹ سیشن میں شہریت قانون کیخلاف قرارداد منظور کی جائے گی،وزیراعلیٰ چندرشیکھررا?کاکہنا ہے کہ شہریت قانون میں مسلمانوں کو شامل نہ کرنے پر تکلیف پہنچی ہے۔

کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے کٹس تقسیم ،ایمر جنسی کاﺅنٹر قائم

اسلام آباد، لاہور، ملتان، کراچی (نمائندگان خبریں) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقداماتکی ہدایت کر دی ہے۔وزیرِاعظم آفس کی جانب سے متعلقہ وزارتوں کو اس اہم معاملے پر خصوصی مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کرونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں اعلی سطح بین الوزارتی اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ چین میں سامنے آنے والے کرونا وائرس کے اب تک دو ہزار کنفرم کیسز دنیا بھر میں سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان میں چینی باشندوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اور دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرنے والے افراد کی بڑی تعداد کے پیش نظر بروقت حفاظتی اقدامات کی غیر موجودگی میں پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلا کے خدشے کو خارج الامکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔لہذا اس سلسلے میں جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے اور مرتب کی جانے والی سفارشات ایک ہفتے میں وزیرِاعظم آفس کو پیش کی جائیں۔ادھر وزیراعظم کی ہدایت پر بین الوزارتی 15 رکنی کمیٹی تشکیل کمیٹی کا پہلا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ کمیٹی ایک ہفتہ میں سفارشات تیار کرے گی۔کمیٹی میں سیکرٹری خارجہ، داخلہ اور ہوا بازی، حساس ادارواں کے حکام، ڈی جی ملٹری آپریشن، ڈی جی سول ایوی ایشن، ڈی جی ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس اور چئیرمین این ڈی ایم اے سمیت دیگر حکام بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ ان میں سے 3 سروسز ہسپتال لاہور جبکہ 2 نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج ہیں۔نشتر ہسپتال میں داخل دو مریضوں میں سے ایک مریض پاکستانی شہری ہے جبکہ سروسز ہسپتال میں داخل تینوں مریضوں کا تعلق چینی شہر ووہان سے ہے۔ذرائع این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ تمام مریضوں کے سیمپل ہانک کانگ لیبارٹری کو بھجوا دئیے گئے ہیں۔ 24 سے 48 گھنٹوں میں رپورٹس آنے کے بعد ہی علاج کا آغاز کیا جا سکے گا۔ تمام مشکوک مریضوں کو آئیسولیشن اور انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ادھر لاہور کے سروسز ہسپتال کی انتظامیہ نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی لباس پہنا دئیے گئے ہیں۔حفاظتی لباس میں ماسک، گلوز اور گوگلز بھی شامل ہیں۔ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کانٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ کا کہنا تھا کہ حفاظتی لباس مہیا کرنے کا مقصد ڈاکٹرز و دیگر عملے کو مہلک وائرس سے بچانا ہے۔ کروناوائرس کی تشخیص کیلئے محکمہ صحت کوکٹس مل گئیں، کرونا کے مشتبہ مریضوں کی تشخیص کی سہولیات اب لاہورمیں بھی میسر ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق جانوروں سے پھیلنے والے کروناوائرس نے انسانوں کو نشانہ بنالیا، وائرس کی تشخیص کیلئے محکمہ صحت کوکٹس مل گئیں، وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کی سہولیات اب لاہورمیں بھی میسر ہوں گی، مکمل طبی معائنے کے بعد متاثرہ افراد کا مناسب علاج کیا جائے گا۔ڈی جی ہیلتھ کا کہناتھا کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے صوبے کے انٹرنیشنل ائیرپورٹس پربیرون ممالک سے آنے والے افراد کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے، اس حوالے سے سپیشل کاو¿نٹرز بنانے کا ٹاسک بھی دے دیا گیا ہے۔دوسری جانب کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز و دیگر عملے کو حفاظتی لباس مہیا کر دیا گیا ۔ سروسز ہسپتال انتظامیہ نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریض میلی کی علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی لباس پہنا دئیے ۔حفاظتی لباس پی پی ای میں میں ماسک، گلوز، گوگلز بھی شامل ہیں۔میڈیکل سپرنٹنڈٹ سروسز ہسپتال ڈاکٹر سلیم چیمہ نے کہا ہے کہ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کاونٹر قائم کر دیا گیا ہے۔حفاظتی لباس مہیا کرنے کا مقصد ڈاکٹرز و دیگر عملے کو مہلک وائرس سے بچانا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ کرونا وائرس کے معاملے پر چین کی وزارت خارجہ کے ساتھ بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ پیر کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا وائرس ایشو کے حوالے سے اہم بیان میں کہاکہ چین کی وزارت خارجہ کے ساتھ بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چینی صوبے وہان میں 500 کے قریب رجسٹرڈ طلباء ہیں جبکہ نان رجسٹرڈ کو شامل کر کے یہ تعداد 500 سے 800 کے درمیان بنتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ چین نے کیرونا سے متاثرہ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی لگا رکھی ہے،اس وقت تک ہماری اطلاعات کے مطابق کوئی پاکستانی کی اس وائرس سے متاثر نہیں ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ہیلتھ ریگولیشن اینڈ کورآرڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے عوام کو بچانے کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں،اسلام آباد سمیت تمام بڑے ائیرپورٹس پر سکریننگ کاونٹر قائم کردئیے ہیںتمام ہسپتالوں کے سربراہان کو ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرونا وائرس سے بچاو کیلئے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ ووہان کرونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے سندھ بھر کے سرکاری ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور عوام کےلئے آگاہی مہم کا آغاز بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ووہان کرونا وائرس کے خطرے کے باعث صوبائی وزیر سندھ عذرا پیچوہو نے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے مطابق سندھ کےلئے عالمی ادارہ صحت کی ایڈوائزری آ چکی ہے اور کرونا وائرس جانوروں سے بھی پھیلتا ہے، سندھ کے عوام کو احتیاطی تدابیر سے آگاہی مہم کا آغاز بھی جلد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاﺅ کے جسم کے بیشتر حصوں کو ڈھانپنے کی ضرورت ہے اور باقاعدگی سے ڈاکٹرز سے چیک اپ بھی معمول بنانا ہو گا، سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ سندھ کوکرونا وائرس سے پاک رکھا جائے، اس حوالے سے ہنگامی طور پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

طالبان نے امریکی ائیر فورس کا طیارہ مار گرایا،متعدد فوجی ہلاک

اسلام آباد (نیٹ نیوز) طالبان نے افغانستان کے صوبے غزنی میں امریکی ایئرفورس کا طیارہ مارگرایا جس کے نتیجہ میں متعدد فوجی ہلاک ہوگئے اطلاعات کے مطابق بھارت طالبان کے زیرکنٹرول علاقہ میں گرایا گیا طالبان کے حلقوں سے منسلک صحافی طارق غزنوی نے سوشل میڈیا پر طیارے کے جلے ہوئے حصوں کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی ہیں طیارہ الیکٹرانک سرویلنس اور ویڈیو کمیونیکیشن کیلئے استعمال ہوتا تھا علاوہ ازیں امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ وہ طیارہ کی تباہی کی اطلاعات سے آگاہ ہے صوبائی گورنر کے ترجمان کے مطابق طیارے ایک بجکر 10منٹ پر تباہ ہوا ادھر طالبان کے بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ جنگجوﺅں نے امریکی فوجیوں کی لاشیں اور ان کے شناختی کارڈ قبضة میں لے لئے ہیں بتایا گیا ہے کہ امریکی طیارہ کی تباہی کا واقعہ افغان فورسزش کی جانب سے درجنوں حملوں اور 50سے زائد عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد پیش آیا۔ امریکی حکام کرپشن کی وجوہات بارے تحقیقات کررہے ہیں۔ طالبان کے زیر قبضہ علاقے ضلع دہ یک کے سیدو خیل گاﺅں سے ملنے والی ویڈیو میں تباہ شدہ طیارے کا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔غزنی صوبے کے گورنر وحید اللہ کمزئی نے کہا ہے کہ گرنے والا طیارہ غیر ملکی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ طالبان کے زیرانتظام علاقے میں مسافر طیارہ گرا ہے۔طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پشتو میں جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ طیارے پر سوار تمام افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔زبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ دشمن کا انٹیلی جنس طیارہ سیدو خیل میں گر کر تباہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں تمام عملے کے ارکان اور سی آئی اے کے اعلی اہلکار مارے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طیارے کا ملبہ اور لاشیں حادثے کے مقام پر پڑیں ہیں۔دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان نے امریکی فوجی طیارہ مار گرایا ہے جس کے نتیجے میں طیارے پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔جبکہ ایک اعلی دفاعی عہدیدار جو حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں کوئی امریکی اہلکار ہلاک نہیں ہوا جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔اس سے قبل افغان خبر رساں اداے طلوع نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ صوبے کی مقامی کونسل کے رکن خالق داد اکبری نے افغان حکومت سے مدد کی درخواست کی ہے۔جبکہ صوبائی ترجمان نے کہا تھا کہ تکنیکی خرابی کے باعث طیارے میں آگ لگ گئی تھی۔ دریں اثناء اس سے پہلے کی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، طیارے میں 83 مسافر سوار تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ا?ریانہ ایئر لائن کا طیارہ افغانستان کے صوبے غزنی میں گرا ہے۔ طیارے میں تکنیکی وجوہات کے باعث پہلے آگ لگی اور پھر وہ گر گیا۔ طیارے میں 83 مسافر سوار تھے جن کی قسمت بارے فوری علم نہیں ہو سکا ۔

انسانی سمگلروں نے سینکڑوں پاکستانی ایتھوپیا بھیج دئیے ،بھیک مانگنے پر مجبور

اسلام آباد(جوادفیضی سے) روزگار کے حصول اور قسمت بدلنےکے لئے امریکہ ،کینیڈا ، برطانیہ سمیت دیگر ممالک جانے کے خواہش مندوں کو ایجنٹوں اور انسانی سمگروں کے ہاتھوں لٹنے کے واقعات تو سنتے آئے مگر افریقی ممالک خصوصا ایتھوپیا جیسے ملک میں نوکری کاجھانسہ دیکر کروڑوں روپے کی دہیاڑی لگاڈالی گئی پاکستانیوںکی ایک بڑی تعداد ایتھوپیا کے ویزے کا حصول انتہائی کے ساتھ مسلسل بات چیت کرکے حکومت کو قائل کرلیاکہ پاکستانیوں کے لیے ای ایزا لسٹ میں شامل کرلیا جو بہت بڑی بات تھی مگر افسوس کہ پاکستانی ایجنٹس نے ای ویزا کو اپنے مقررہ دھندے کےلئے استعمال کیا اور سینکڑوں لوگوں کو وزٹ ویزا(ای ویزا) دلا کر کروڑوں روپے بٹور لئے اتھیوپیا کے دارلحکومت ادیس ابابا میں سینکڑوں پاکستانی غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے لگے پاکستانی سفیر نے اپنے مراسلے میں مزید لکھا کہ غیر قانونی امور میں ملوث پاکستانی جہاں پاکستان کےلئے بدنامی کا باعث بنے وہاں انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب شلوار قمیض میں ملبوث پاکستانیوں نے ادیس ابابا کی سڑکوں پر بھییک مانگنا شروع کو دی ۔ اس پر اتھیوپین حکومت نے جہاں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کر کے انکوائری شروع کر دی وہاں پاکستان کو ای ویزا لسٹ سے نکال دیا گیا جب لسٹ میں شامل ہونے کےلئے پچاس سال محنت کی جاتی رہی پاکستانی سیفر کے مراسلے میں مزید لکھا گیا کہ پاکستانی مشن میں سینکڑوں غیر قانونی پاکستانیوں کو واپس ملک بھیجوا دیا تاہم اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ایگزیٹ کنٹرول سسٹم کو بہتر بنایا جائے مراسلے میں ایف آئی اے خصوصاً سندھ ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کے حوالے سے سفارشات کی گئیں کہ متعلقہ محکموں سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے مراسلے میں انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنڈ محمد انور کےخلاف ثبوت کا ذکر کرتے ہوئے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

عمران خان ،پیر پگاڑا ملاقات تحفظات ختم،وزیر اعلی سندھ کے شکوے دور کرنیکا وعدہ

کراچی (وقائع نگار خصوصی) حکومتی اتحادی جی ڈی اے اور تحریک انصاف کے درمیان تحفظات ختم ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق پیر پگاڑا سے وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کی اور وزیراعظم کی عمران خان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پیر پگاڑا کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے گھر آئے آپ کے لیے عزت ہے، وزیراعظم نے کہا کہ کنگری ہاﺅس کے باہر سے جب بھی گزرتا تھا یہاں آنے کیخواہش تھی، آج کنگری ہاس آیا ہوں یہ خواہش بھی پوری ہوگئی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے علم نہیں آپ کے تحفظات کیا تھے اور نہ مجھے بتایا گیا، آپ رابطے میں رہیں تاکہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے جس پر پیر پگارا نے کہا کہ ہم بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اور اتحادی اس بات پر متفق ہیں کہ عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔ پیر پگارا نے کہا کہ ہم عوام کو انصاف دلانے کے لیے آپ کے ساتھ ہیں، پہلے بھی وزرائے اعظم کنگری ہاس آئے ہم نے انہیں دل میں جگہ دی۔ وزیر اعظم عمران خان نے یقین دلایا ہے کہ حکومت جی ڈی اے سمیت اپنے اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلے گی اور انہیں مایوس نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ یقین دہانی پیر کی شب کنگری ہاﺅس میں جی ڈی کے سربراہ پیر صاحب پگارا اور اتحاد کے دوسروں رہنماﺅں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کرائی ۔ملاقات میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاق وزراءاسد عمر، چودھری غلام سرور، محمد میاں سومرو، فیصل واوڈا ،پیر صدرالدین شاہ، سردار علی گوہر مہر، سردار رحیم، ایاز پلیجو، حلیم عادل شیخ سمیت دیگر موجودتھے۔ملاقات میں جی ڈی اے نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور سندھ کی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں دیہی سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے اجرا، بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ زرائع کے مطابق پیر صاحب پگارا نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم آپکے اتحادی ہیں دیہی سندھ کی طرف بھی توجہ دی جائے۔سندھ کے نوجوان بڑی تعداد میں بے روزگار ہیں ان کی مایوسی دور کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں سندھ میں ہر سطح پر تباہی کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر پگارا کو یقین دہانی کرائی کہ ہم نے کامیاب نوجوان کے نام سے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔اپنے اتحادیوں کو مایوس نہیں کرینگے۔ اس موقع پر جی ڈی اے سیکریٹری جنرل ایاز لطیف پلیجو نے وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ کو صاف پانی دلوانے کے لیے وزیر اعظم کردار ادا کریں۔ عدالتی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 18 اضلاع کے لوگ گٹرز کا غلیظ پانی پی رہے ہیں۔ سندھ کے شہر اور دیہات کچرے کے ڈھیر بنا دیے گئے ہیں۔ ارسا بھی سندھ سے پانی کی فراہمی میں انصاف نہیں کر رہی۔ اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر حکمرانوں کے قبضے ہیں۔ سندھ کی زراعت، گنے اور گندم کی تباہی کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔ وفاق سندھ سے گیس، بجلی اور پانی کے سلسلے میں انصاف کرے۔ ایاز لطیف پلیجو نے مزید کہا کہ سندھ میں 12سال افسروں کو صرف وزیروں کی لینڈ کروزرز کی ساتھ بہاگنا سکھایا گیا۔وفاقی حکومت سندہ کی تقسیم کی سازش کے خلاف واضع مو¿قف اختیار کرے۔بنگالیوں اور افغانوں کو شناختی کارڈ کے اجرا کا وفاق نوٹس لے۔سندھ کو وفاقی ملازمتوں میں جائز حصہ دیا جائے۔ سندھ نے جمہوریت کے لیے بے حساب قربانیاں دیں اور انعام ملا کرپشن کا۔ وزیراعظم عمران خان سندھ میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ احساس پروگرام اور ہیلتھ کارڈز میں سندھ کو جائز حصہ دیا جائے۔الیکشن میں سندھ میں بھرپور دھاندلی کی گئی۔ مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔سندھ کی غربت اور پسماندگی کا احساس وفاق کو ہونا چاہئے۔ وفاقی حکومت سندھ کو وفاقی ملازمتوں کا پیکیج دے۔ وزیرِ اعظم عمران خان سے کراچی میں ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی۔وفد میں طارق معین الدین خان، سعید اللہ والی، علی حبیب، خالد منصور، بشیر جان محمد، طارق رفیع، بیرام آواری، انجم نثار، آغا شہاب احمد خان،حبیب اللہ ، شیخ عمر ریحان، نسیم اختر و دیگر معروف کاروباری شخصیات موجود تھیں۔ملاقات میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے آبی وسائل محمد فیصل واڈا، وزیرِ برائے بحری امور علی زیدی، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر بھی ملاقات میں موجودتھے۔کاروباری وفد نے وزیراعظم کوتاجروں کودرپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت معاشی ترقی اوراستحکام کے لیے بھرپوراقدامات کررہی ہے تاجربرادری کے مسائل کوبتدریج حل کیا جائے گا۔وزیر اعظم سے تاجروں کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی۔ بی ایم جی گروپ کے چیئرمین قاسم سراج تیلی اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کے 15 رکنی وفد نے وزیر اعظم سے علیحدہ ملاقات کی جن کی سربراہی عقیل کریم ڈھیڈی کر رہے تھے۔ملاقات میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور فیول ایڈجسٹمینٹ چارجز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جبکہ تاجروں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)سے مطلق شکایتوں کے انبار لگا دیے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی کے موقع پروفاقی حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے وزیراعظم کی ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے موقع پرایم کیوایم پاکستان کی ملاقات کا باضابطہ شیڈول طے نہیں تھا۔تحریک انصاف کی وفاقی حکومت مذاکراتی کمیٹی اورایم کیوایم پاکستان کے رہنماﺅں کے مابین جلد اسلام آباد میں ملاقات ہوگی جس میں ایم کیوایم کے مطالبات اورتحفظات کودورکرنے کے لیے اہم پیش رفت متوقع ہے ملاقات میں پیش رفت کے بعد ایم کیو ایم کا وفد وزیراعظم سے ملاقات کرے گا۔ملاقات کا شیڈول مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے بعد طے کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی صنعتکاروں اور تاجروں سے ہونے والی ملاقات میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ بزنس کمیونٹی نے شرح سود میں کمی کو ناگزیر قرار دیا لیکن وزیراعظم نے اس حوالے سے بھی کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔وزیراعظم کی تاجروں و صنعتکاروں سے ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی ہے۔ اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم سے ہونے والی ملاقت صرف مسائل پر بات چیت تک محدود رہی البتہ ماضی کی نسبت اس مرتبہ تاجروں و صنعتکاروں کی بات چیت وزرا اور مشیران کی موجودگی میں زیادہ تحمل سے سنی گئی۔وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں سراج قاسم تیلی، عقیل کریم ڈھیڈی، آغا شہاب، میاں زاہد، خالد تواب، طارق رفیع، سعید للہ والا، بہرام ڈی آواری، حبیب للہ اور شیخ عمر ریحان شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں ملکی صنعتوں کو درپیش مشکلات، ٹیکس کلیکشن میں پیش آنے والی دشواریوں اور گیس ٹیرف و فیول ایڈجسٹمنٹ کے امور پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق تاجروں وصنعتکاروں کو انڈسٹرلائزیشن کے لیے مزید آسانیاں فراہم کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔ ملاقات میں تاجروں و صنعتکاروں نے کہا کہ ٹیکس کلیکشن سے قبل صنعتوں کو ریلیف دینے کی کوشش کی جائے۔ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں وزیراعظم اور وزرا نے تاجروں و صنعتکاروں کے مو¿قف کی تائید کی جب کہ اس دوران وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے بھی سوال و جواب ہوئے۔ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ معیشیت کی مضبوطی اور بزنس کمیونٹی کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے جارہے ہیں۔تاجروں و صنعتکاروں پر مشتمل وفد کا کہنا تھا کہ ایزآف ڈاننگ بزنس سمیت دیگر امور میں مشکلات ہیں۔ تاجروں صنعتکاروں نے وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں واضح طور پر کہا کہ شرح سود کو کم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے شرح سود پر شدید اعتراض کیا۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے شرح سود کو کم کرنے کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔

سیاست، کرپشن، ملاوٹ اور برائلر مرغی!

آغا امیر حسین
پچھلے دنوں مجھے مختلف ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہر ہسپتال، کلینک اور پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس بیماروں کا جم غفیر ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موسم کے تغیر تبدل سے جو بیماریاں پیدا ہوا کرتی تھیں ان کے علاوہ ایسی ایسی بیماریوں میں لوگ مبتلا ہیں کہ نہ صرف ان کا علاج غریب درمیانے درجے کے لوگوں کے لیے کروانا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ نتیجتاً یہ کہ اموات کی تعداد پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یوں تو صوبائی اور مرکزی حکومتیں صحت کے نام پر بے تحاشہ خرچ کر رہی ہیں، تحقیقی ادارے ہیں، وزیر ہیں، سالانہ بجٹ کا بہت بڑا حصہ ان کاموں پر صرف ہو رہا ہے لیکن جس شعبے کو بھی دیکھیں نتیجہ نہ صرف صفر ہے بلکہ اس کے برعکس وہ پیسہ حرپَھر ہو جاتا ہے جسے ہم عرفِ عام میں کرپشن کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ادویات اس قدر مہنگی ہیں کہ اب تو ان کا خریدنا اچھے بھلے متمول لوگوں کے لیے آسان نہیں رہا۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت بنی تھی تو بھٹو صاحب کی کابینہ میں شیخ رشید (بابائے سوشلزم) وزیر صحت بنے تھے۔ وزیر بننے کے بعد جب وہ لاہور تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ”ہاں بھائی کیسی لگی ہماری جنرک سکیم“ میںنے اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا تو کہنے لگے: ”نہیں نہیں صاف صاف بات کرو“۔ میں نے کہا پھر سنیئے کہ ”آپ نے قومی مفاد میں ایک بہت اچھی اور قابلِ عمل اسکیم جنرک کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے نافذ کر کے تباہ کر دیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے ایلوپیتھک ادویات بنانے والے ادارے اور ان کے مالکان کسی بھی ایسی سکیم کو نافذ نہیں ہونے دیں گے جس سے عوام کو فائدہ اور ادویات ساز اداروں کے مالکان کو نقصان ہو۔ یہ ایک مافیا کی شکل میں بہت زیادہ طاقتور ہوچکے ہیں کہ ہر سرکاری افسر اور سیاست دان ان کے اشاروں پر کام کرتا ہے۔ یہ کبھی بھی ”جنرک اسکیم“ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے“۔ شیخ صاحب ناراض ہوکر چلے گئے لیکن ہم نے دیکھا آنے والے چند ہی مہینوں میں جنرک سکیم کا جنازہ نکال دیا گیا۔ ایک معمولی گولی جس پر لاگت چند پیسے سے زیادہ نہیں آتی وہ اس زمانے میں 5/7 روپے میں ملتی تھی آج کل 10/15 روپے میں ملتی ہے، جان بچانے والی ادویات اور انجکشن کا یہ حال ہے کہ ان کی قیمتیں 10/20 ہزار معمولی بات ہے ۔
ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ 20/25 ہزار خرچ کرکے آپ نے جو انجکشن خریدا ہے وہ اصلی ہے یا نقلی؟ اب تو مارکیٹوں میں جوگوشت ملتا ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ گوشت کتے کا ہے، بلی کا ہے یا گدھے کا ہے۔ آئے دن اخبارات میں اس حوالے سے خبریں چھپتی رہتی ہیں۔ پنجاب میں ”فوڈ اتھارٹی“ کام کرتی ہے وہ جہاں بھی چھاپا مارتی ہے دودھ ہو، دالیں، آٹا، مصالحے ہو ںیا پھر تیل اور گھی ہو، ہزاروں من برآمد کرکے تلف کر دیا جاتا ہے اور نمبر دو چیزیں بنانے والوں کو جرمانہ کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط طریقے سے اپنا کاروبار جاری رکھتے ہیں، سزا کا ایسا کوئی تصور نہیں ہے جس سے خوف پیدا ہو اور حکومت اپنی رٹ بحال کرسکے۔ ہر سرکاری افسر الاماشاءاللہ اپنا حصہ وصول کر رہا ہے۔ اس طرح وہ اس ملاوٹ کے کام میں حصہ دار بنا ہوا ہے۔ عوام کو برائلر مرغی کا گوشت کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ آپ کے سامنے ذبح ہو کر دستیاب ہے لیکن آپ کو نہیں معلوم یہ دو اڑھائی کلو کی برائلر مرغی چھ ہفتوں میں ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر پروان کیسے چڑھتی ہے۔ اگر اس کی فیڈ کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوگا کہ مردار جانوروں کی ہڈیوں، انتڑیوں اور گلے سڑے اجناس اور نہ جانے کیا کیا الا بلا سے ان کی فیڈ تیار کی جاتی ہے جن کو کھا کر چھ ہفتوں میں یہ بڑی ہو جاتی ہیں اور بازاروں میں فروخت کے لیے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ انسان یہ سمجھ کر کہ یہ خالص اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح کروا کر گوشت لے جا رہا ہے مگر میرے نزدیک تو یہ برائلر مرغیاں بیماریوں کا گڑھ ہیںاور اگر ان پر تھوڑی سی بھی تحقیق کر لی جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ سنگین بیماریوں کا اصل سبب یہ برائلر مرغیاں ہیں۔ پنجاب فود اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اس پر خصوصی طور پر تحقیق کرے کہ برائلر مرغی کا گوشت معاشرے میں کس قدر بیماریاں پھیلا رہا ہے؟ سبزیوں کا اگر ذکر کیا جائے جو مہنگائی کے سبب عنقا ہوتی جا رہی ہیں تو اکثر یہ رپورٹس سامنے آتی ہیں کہ سبزیوں کو گندے پانی اور کیمیکل زدہ پانی سے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ لیکن اس پر بھی کوئی خاص توجہ حکومت کی نہیں ہے۔ پچھلے دنوں مجھے سعودیہ جانے کا اتفاق ہوا ایئرپورٹ پر قائم ایک اسٹال سے میں نے کچھ ضرورت کی اشیاءخریدیں جو کہ روزمرہ استعمال کرتے ہیں، نام وہی تھے، پیکنگ وہی تھی لیکن اندر جو میٹریل استعمال کیا گیا تھا ویسا نہیں تھا جو ہمارے ملک میں ملتا ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا نمبر ایک میٹریل تھا جس کا احساس ہمیں اس کے استعمال سے ہوا۔ ہم نے پڑھا ہے کہ وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں جو کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کرتے ہیں یہاں ایک بڑی کمپنی کے دودھ پر کچھ لے دے ہوئی اور بچوں کی کئی جانیں گئیں تو اس کمپنی نے اعلیٰ حکام کے تعاون سے مسئلہ حل کروا لیا اور اب ان کے دودھ پر وائٹنر لکھا ہوتا ہے گویا یہ دودھ نہیں کچھ اور ہے جس سے چائے یا کافی سفید ہو جاتی ہے۔ اسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دودھ ہی ہے۔ یہی حال اب ہر قسم کے جوسز کا ہے اور ایسنز کا کاروبار کرنے والے لاہور میں اتنے بااثر ہیں کہ ان سے کوئی پوچھنے کی جرا¿ت نہیں کرتا کہ یہ ایسنز نمبر 1 ہے یا نمبر 2 ۔
قصہ مختصر یہ کہ اب پاکستان میں دیانتداری سے کام کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ دوست ملک چین کو دیکھئے وہاں رشوت ستانی یا ملاوٹ دونوں کی سزا موت ہے۔ سعودیہ میں بھی ملاوٹ کی سزا بہت سخت ہے۔جب تک جزا اور سزا کا نظام درست طور پر نافذ نہیں ہوگا یہ دولت کی ہوس ختم نہیں ہوگی۔تازہ مثال ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی وہ رپورٹ ہے جس کو پڑھے بغیر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اپنے نقطہ¿ نظر سے تبصرے کئے جو میڈیا پر راگ الاپا جاتا رہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم کے دعوے کی نفی کر دی اور عین 22 جنوری کو اس رپورٹ کا اس انداز میں پیش کیا جانا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟ کون لوگ ہیں جو وزیراعظم کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وہ تو ملک میں کوئی اور لیڈر شپ متبادل موجود نہیں ہے اس لیے تمام تر کمزوریوں اور نام نہاد جمہوریت کے بنائے ہوئے سسٹم میں انقلابی اقدامات کرنے کے راستے میں ہزاروں رکاوٹیں ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ لڑائی اپنے انجام کو پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ اگر آپ نے کرپشن، بدعنوانیوں اور ملاوٹ وغیرہ سے نجات حاصل کرنی ہے تو موجودہ جمہوریت کے ذریعے یہ ناممکن ہے ۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے مرکز، کے پی کے اور پنجاب میں حکمران جماعت کے اتحادی بھانت بھانت کی بولیاں بولتے نظر کیوں آ رہے ہیں؟ جبکہ باقی سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں راوی چین لکھتا ہے۔
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭