All posts by Muhammad Afraz

قائداعظم ؒکا تصورِ پاکستان…. (1)

پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد
قوم ، ملک، جائے پیدایش اور زبان عموماً کسی گروہِ انسان کو اپنے تشخص اور وجود کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ مشرق ہو یا مغرب ، قبل اسلام کا دور ہو یا تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کے ادوار اور بعد میں آنے والے روشن خیالی ، نشاتِ ثانیہ اور انسان پرستی کے ادوار، ہرزمانے میں اقوام عالم نے اپنی شخصیت اور وجود کو ان میں سے کسی نہ کسی تصور سے وابستہ کر کے خود اپنی تعریف بطور ایک خطہ میں بسنے والے افراد کے (یونانی اقوام، افریقی اقوام ، ایشیائی اقوام) یا رنگ ونسل کی بنیاد پر (زرد اقوام ، سفید اقوام ، سیاہ اقوام)یا اپنی علاقائی زبان( انگلش ، فرنچ، جرمن، ڈچ) کی بنیاد پر اپنا تعارف کرایا۔حتی کہ بحری راستوں کو بھی ان میں سے کسی ایک تصور سے منسوب کر دیا ، مثلاً بحیرہ عرب، ساوتھ چائنا سی وغیرہ ۔
قوم پرستی اور رنگ و نسل یا کسی خطے کی بنا پر اپنی پہچان کا تصور ، اسلام کے بنیادی عالم گیریت اور الہامی دین ہونے کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مسلمان فرماں روا جنھوں نے طویل عرصے تک برصغیر پرحکومت کی ، اسلام کے دعوتی پہلو پر بہت کم توجہ دی۔تاہم اپنے اقتدار کو اقلیت میں ہونے کے باوجود تقریباً آٹھ صدی سنبھالے رکھا۔ اگر وہ دین کی اشاعت کے لیے حکمت عملی بناتے تو بہ آسانی آبادی کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہوجاتی، یا وہ اسلام کے ان اصولوں کو جو شریعت نے بیان کیے تھے، نافذ کرتے تو اسلام کے عدل اجتماعی سے متاثر ہو کر بے شمار افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے لیکن بدقسمتی سے اکثر فرماں روا ، موروثی بادشاہت کے تحفظ کے علاوہ کسی اور اعلیٰ مقصد سے دل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ بہرصورت مغلوں کی حکومت کے زوال اور انگریز سامراجیت کے یہاں پر غلبے کے بعد برصغیر میں جو غالب رجحانات پائے جاتے تھے،انھی میں سے ایک رجحان یہ تھا کہ انگریزی طور طریقوں کی پیروی کو اس تعبیر کے ساتھ اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ انگریز نے اکثر اچھائیاں اسلام سے ہی سیکھی ہیں، گو اسلام قبول نہیں کیا۔ ایک طبقے نے انگریز کی ہر بات کو کفر اور شرک قرار دیتے ہوئے مسلسل جہاد کی حالت کا اعلان کیا۔ ایک طبقے نے انگریز سے نجات کےلئے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کی، لیکن بہت جلد ان حضرات کو تجربات نے یہ سکھایا کہ یہ اتحاد ان کی نجات کی جگہ مقامی ہندو اکثریت کی مستقل غلامی پر جا کر ختم ہو گا۔اس لیے مسلمانوں کے دین ، تہذیب و ثقافت اور مفاد ات کے تحفظ کی صرف ایک ہی شکل ممکن ہے کہ ان کےلئے ایک آزاد خطہ وجود میں آئے ۔ یہی وہ شعور تھا، جو تصورِ پاکستان کی شکل میں دو قومی نظریہ کی صورت میں وجود میں آیا اور جس کی تعمیر میں سر سید احمد خان، علامہ محمد اقبال ، مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا مودودی اور سب سے بڑھ کر قائداعظم محمد علی جناح نے قیادت کا کردار ادا کیا۔
برصغیر میں اسلام کا تعارف محمد بن قاسم کی فتح سندھ کے علاوہ بےشمار تاجروں اور صوفیائے کرام کی مساعی جلیلہ سے ہوا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں تصوف آمیز اسلام، جو ظاہر کے مقابلے میں قلب اور داخل کی اصلاح کو فوقیت دیتا تھا، اور جو بادشاہت اور عوام کےلئے زیادہ سہولت مند تھا، رواج پا گیا ۔اس زمینی حقیقت کی بنا پر وہ علمائے کرام بھی جو اعلیٰ سیاسی شعور رکھتے تھے اور جو حاکمیت الٰہیہ کے تصور کو سمجھتے تھے، غالباً مصلحت عامہ کی بنا پر بادشاہت کی مخالفت کی جگہ نصیحت کے ذریعے اس کی اصلاح کی طرف راغب رہے ۔حضرت مجدد الف ثانیؒ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور اور صوفیا نے بادشاہت کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ دعوتی اور اصلاحی سر گرمیوں سے نظام میں بہتری کی کوشش کی۔ اس پس منظر میں اسلام کا جو تصور برصغیر میں رواج پا یا، وہ ایک محدود مذہبیت کا تصور تھا، جو چند عبادات اور شخصی معاملات تک محدود ہو گیا ۔اسی لیے انگریز کی آمد سیاسی قیادت کی تبدیلی سے زیادہ نہیں سمجھی گئی اور برصغیر میں کم از کم مسلمانوں نے یہی سمجھا کہ جب تک ہند میں مسلمانوں کو سجدے کرنے کی اجازت ہے، ان کا دین بھی آزاد ہے ۔ وہ عبادت کی آزادی کو نہ صرف مذہبی بلکہ دینی آزادی بھی سمجھتے رہے ۔اور ایک مذہبی طبقہ ہندو کانگریس کے ساتھ مکمل تعاون کے ذریعے ہندوستانی قومیت، یا ایک قومی نظریہ کا علم بلند کیا۔ اس طرح یہ فکر برصغیر کے مسلمانوں کے ایک طبقے میں سرایت کر گئی۔اس کے برعکس علامہ محمد اقبال ، قائد اعظم اورمولانا مودودی نے دوقومی نظریہ کو تحریک پاکستان کی بنیاد بنایا ۔ علامہ اقبال نے فکری طور پر اپنے خطبات اور شاعری کے ذریعے اور خصوصاً اپنے کل ہند مسلم لیگ کے الٰہ آباد میں صدارتی خطاب میں یہ بات واضح کی کہ اسلام محض عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ مکمل نظامِ ہدایت ہے ۔ اسی طرح قائد اعظم نے1930ءکے بعد اپنے تمام خطبات اور بیانات میں ایک ہی بات کو پیش کیا کہ مسلمان اپنے دین ، اپنی ثقافت ، اپنی تاریخ ، اپنے نام وران و مشاہیر کے لحاظ سے ہندوﺅں سے بالکل مختلف ہونے کی بنا پر ہر لحاظ سے ایک مکمل اور الگ قوم ہیں، جو زمین ، رنگ اورنسل کی قید سے آزاد اور صرف اور صرف عقیدہ و ایمان کی بنا پر ایک قوم ہیں، اور ان کے دین کا تحفظ صرف اور صرف اسی شکل میں ہو سکتا ہے جب وہ آزادانہ طور پر اپنے نظام حکومت ، نظام معیشت ، نظام معاشرت، نظامِ قانون ، نظام تعلیم غرض زندگی کے تمام معاملات میں قرآن و سنت کی بنیاد پر عمل کرنے کےلئے آزاد ہوں ۔ظاہر ہے یہ عمل آزاد خطہ اور سر زمین کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے پاکستان کا وجود میں آنا، ایک منطقی ضرورت تھا ۔
تصورِ پاکستان، یعنی ایسی سرزمین کا حصول جس پر زمین کے اصل مالک کا نظام اس کی مرضی کے مطابق نافذ ہو ۔ جنگ آزادی1857ءسے بہت پہلے ،اسی وقت وجود میں آچکا تھا، جب برصغیر میں پہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ اس کی توثیق بعد میں پیش آنے والے واقعات نے کی ۔ 1857ءکی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد برصغیر کے مسلمان بڑی حد تک مایوسی کا شکار ہو گئے اور اب انھیں آسان راستہ یہی نظر آیا کہ وہ انگریز کے اقتدار کو مانتے ہوئے اپنے ذاتی فوائد کے حصول کے لیے مفاہمت کارو یہ اختیار کریں۔ جو مسلمان اس پر آمادہ نہ تھے،انھیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ان کی زمینیں، ان کے کاروبار ختم کردیے گئے اور ہندو زمینداروں نے بڑھ چڑھ کر مسلمانوں کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اختیار کرنا شروع کیا ۔بہت سے مقامات پر”داڑھی ٹیکس“ لگایا گیا۔ گائے کی قربانی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مساجد کو تاراج کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی ۔یہ سب انگریز کی سرپرستی میں ہوا اور حکومت نے اس پر کوئی گرفت نہ کی۔ انگریز سامراج نے مسلمانوں کو غلام بنانے کےلئے عسکری وانتظامی قوت کے ساتھ تعلیمی قوت کو بھی استعمال کیا اور سرکاری زبان فارسی اور عربی اور عوامی زبان اردو کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر ان تمام مسلمانوں کےلئے جو کل تک تعلیم یافتہ تھے اور حکومت کے مختلف شعبوں عدالتوں، انتظامیہ اور تعلیمی ذمہ داری ادا کر رہے تھے، ایک لمحے میں تعلیم یافتہ سے ناخواندہ میں تبدیل کردیا ۔ ہندو اس سے بہت پہلے انگریز کے ساتھ ساز باز اور تعاون کرنے میں پیش پیش تھے اور انگریزی تعلیم کو اختیار کر چکے تھے اور سرکاری مناصب کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے سرسید احمد خان نے علی گڑھ میں ایک مدرسے کا آغاز کیا، جو آگے چل کر اینگلو محمڈن اورینٹل کالج اور پھر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے نام سے مشہور ہوا۔ دوسری جانب ہندو 1831ءسے انگریزی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور راجا رام موہن رائے کی کوششوں سے برطانوی حکومت ان کے ساتھ کھل کر تعاون کر رہی تھی۔ تعلیم، کاروباراور پیشہ ورانہ شعبوں میں ہر طرف ہندو چھائے ہوئے تھے، خصوصا ًبیوروکریسی میں ہندو عمل دخل غیر معمولی تھا۔ انیسویں صدی میں برصغیر میں مسلمانوں کا سیاست میں کوئی نمایاں اثر نظر نہیں آ رہا تھا۔اس صورتِ حال میں 1885ءمیں بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس انگریز حکمرانوں کی مشاورت اور حمایت کے ساتھ قائم ہوئی تاکہ عوامی سطح پر بھی انگریز کی حمایت حاصل کی جائے اور مسلمان جو انگریز حکومت کے رویے سے غیر مطمئن اور شاکی تھے، ان کے مقابلے میں ایک توازن پیدا کرنے والی عوامی قوت انگریز کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ انڈین کانگریس کے ذمہ داران نے کھلے عام انگریز سے اپنی وفاداری کی بنیاد پر اس تنظیم کی بنیاد رکھی۔
مسلمانوں کو جگانے والا ایک واقعہ اس دوران میں یہ پیش آیاکہ 1905ءمیں برطانوی وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے اپنی اصلاحات میں بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا، ایک حصہ مشرقی بنگال اور آسام کا جس میں مسلمان اکثریت تھی اور اس کا مرکز ڈھاکاتھا ،مشرقی بنگال بعد میں مشرقی پاکستان بنااور دوسراحصہ مغربی بنگال جس کا مرکز کلکتہ تھا ۔یہ تقسیم ہندوﺅں کو گوارا نہیں ہوئی ۔انھوں نے مسلسل مہم چلا کراور حکومت میں اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی حکومت کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا۔ ان حالات نے ہر صاحب ہوش مسلمان کو یہ بات باور کروا دی کہ برصغیر میں بسنے والے قطعاً ایک قوم نہیں ہیں بلکہ یہاں صدیوں سے دو اقوام موجود رہی ہیں جن کے مفادات ،عقائد، دین، تاریخ ،ثقافت، زبان ہر چیز دوسرے سے ممتاز ہے اور کوئی بھی حکومت جس کی بنیاد محض کثرت تعداد پر ہو مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی ۔ 1906ءمیں ڈھاکہ میں نواب وقارالملک کی صدارت میں کل ہند مسلم لیگ کا قیام اسی شعور کا اظہار تھا۔ (جاری ہے )
(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن)
٭….٭….٭

میرے درد کا کوئی درماں ہو

سلمیٰ اعوان
بیل بجی تھی۔40 کے پیٹے میں ایک سنجیدہ سی لڑکی نما خاتون نے دروازہ کھولا ۔ دروازے پر ادھیڑ عمر کے ایک اے ایس آئی کے ساتھ ہیڈ کا نسٹیبل کو کھڑے دیکھ کر گھبرا ئے ہوئے تاثر اور سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے آنے کی غرض و غایت کا پوچھا۔
”آپ کوئی اکیڈیمی چلارہی ہیں؟“ اے ایس آئی نے سوال کیا۔ خاتون نے تھوڑے سے تذبذب بھرے لہجے میں کہا۔”کہہ لیجیے ۔باقاعدہ اکیڈیمی تو کرونا سے پہلے تھی۔آج کل تو نہم دہم کے چند بچے آرہے ہیں۔وہ بھی اُن کے والدین نے بہت مجبور کیا ہے۔“
دراصل15پر گذشتہ پانچ دنوں سے کالیں آرہی ہیں کہ یہاں ٹیوشن ہورہی ہے۔پہلی بار ہم نے اِسے نظر انداز کیا۔دوسری بار بھی توجہ نہیں کی۔اب چھ بار مسلسل اِن کالوں کو نظر انداز کرنا مشکل تھا۔ میراخیال ہے کہ یہ آپ کے پاس پڑھنے والے بچوں میں سے ہی کوئی ہیں۔
خاتون نے گیٹ کھولتے ہوئے کہا ”آپ اندر آکر دیکھ لیں کہ ان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔بچے کتنے ہیں اور ماسک پہنے ہوئے ہیں یا نہیں؟“۔
اے ایس آئی نے کہا ”اِس کی ضرورت نہیں۔میڈم آپ انہیں پڑھائیں۔ آپ نیک کام کررہی ہیں۔اس ملک کے بڑے غریبوں کے بچوں کو جاہل رکھنا چاہتے ہیں۔یہ عام لوگوں کا علاقہ ہے جہاں گھروں کے اندر ایک کمرے میں بیس بیس بچے بیٹھے ہیں۔جب سے لاک ڈاﺅن ہوا ہے ۔والدین مسلسل انہیں ٹیوشنوں پر بھیج رہے ہیں۔الحمد اللہ ہم بھی علاقے کی پٹرولنگ پر ہوتے ہیں۔ ایک کیس کسی بچے کا رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ پڑھائیں انہیں۔علم دیں۔اس ملک کو تعلیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے“۔
خاتون کی آنکھوں میں حیرت اُبھری۔پولیس کا بندہ سوچ میں بڑا منفرد لگا تھا۔ خاتون ماہرِتعلیم ہی نہ تھی بلکہ ملکی سیاست اور حالاتِ حاضرہ سے بھی گہری دلچسپی رکھتی تھی۔ عام پولیس کی سوچ میں اِس احساس کا پیدا ہونا خوش آئند لگا۔ایک کپ چائے کی آفر کی۔پولیس والا انکاری ہوا ۔مگر اس کا اصرار اُسے گھسیٹ کر اندر لے آیا۔
آپ کا براہ راست واسطہ لوگوں سے رہتا ہے۔کورونا کی صورت ہماری معلومات کے مطابق گذشتہ ماہ سے نارمل ہی ہے۔پھر بھی سکول کھولنے میں حکومت کے عزائم اور پابندیاں ناقابلِ فہم ہیں۔آپ اس بارے میں کیاکہتے ہیں؟۔
میڈم، میرے خیال میں نالائق لوگ اکھٹے ہوگئے ہیںجن کے پاس نہ تجربہ ہے اور نہ پلاننگ۔ میں ڈبل ایم اے ہوں۔ ایم اے انگریزی اور ایم اے سیاسیات۔سارے امتحان میں نے نوکری میں ہی پاس کیے۔مقابلے کا امتحان بھی دیا۔تحریری میں پاس ہو گیا۔ انٹرویو میں فیل ہوگیا۔کیوں؟ میری پُشت پر بڑی سفارش نہیں تھیں۔دو تصویریں دکھاتا ہوں۔ایک اپنے علاقے کی۔اسی سے ملتی جلتی صورت باقی جگہوں کی بھی ہے۔پوش علاقوں کو چھوڑ دیں۔ پہلے ذرا کورونا بارے صورت واضح کردوں۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بارش میں نشیبی علاقے جھیلیں بن گئے تھے۔جہاں آنے جانے کی مشکلات کا سامنا تھاوہیں بچوں کی موجیں ہوگئیں۔یہ منظر گذشتہ بہت سالوں سے ہم دیکھتے چلے آرہے ہیں۔بچے نہا رہے ہیں،موج مستیاں کر رہے ہیں، ایک دوسرے پر پانی اچھال رہے ہیں۔کوئی کہے گندہ پانی تھوڑا بہت ان کے اندر نہیں جاتا تو غلط ہے۔ اندرجاتا ہے۔گو واٹر پلانٹ سے گھر والے ڈرم بھربھر لاتے ہیں مگر پھر بھی ان کی زندگیوں میں احتیاطیں نہیں ہیں۔
بند روڈ پر گاڑیوں،رکشوں اور چنگ چیوں کا ایک طوفان آیا رہتا ہے۔چوک پر ایک جانب لنڈا بازار کھلا ہوا ہے۔جوتوں کی سیڑھیاں،رسیوں میں لٹکے کپڑے اور اُن پر مکھیوں کی طرح بھنبھناتے لوگ ۔بھاﺅ تاﺅ۔ایک جانب ایک ٹھیلے میں رکھے بڑے سے تھال میںچپلی کباب تہہ در تہہ دھرے ہیں۔اردگرد کھڑے تین چار لوگ نان چٹنی کے ساتھ انہیں مزے سے کھا رہے ہیں۔مٹی گھٹا سب ساتھ ساتھ اندر جا رہا ہے۔
غریب پر جوانی تو بس ہوا کے کسِی خوشگوار جھونکے کی طرح پل بھر کو ہی چھوتی ہے۔ پھر زندگی کو گھسیٹنے والے پہیے اس پر ایسے چب ڈال دیتے ہیں کہ صورت ہی اجنبی بن کر رہ جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے نا خالص غذائیں اور ماحول کی آلودگی کے باوجود بچپن اور جوانی میں ان کا ایمونٹی سسٹم طاقتور رہتا ہے۔ گذشتہ دو تین ماہ میں بچے تو بچے بڑوں کا بھی کوئی خاص کیس سامنے نہیں آیا ۔کوئی بیمار بھی ہو ا تو ہسپتال کی بجائے عام ڈاکٹر یا دیسی ٹونے ٹوٹکوں سے خود ہی رُل کھل کر ٹھیک ہوگئے۔ بیمار کیا وہ پہلے نہیں ہوتے تھے؟
اب سُنیئے تعلیم کی صورت ۔شعبہ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔آن لائن کلاسز، آن لائن امتحان، انٹرنیٹ کے دیگر ذرائع کا استعمال۔جی توچاہتا ہے پوچھیں میاںکسِ ٹارگٹ پر ہیں۔وہ تو کہتے ہیں کہ کتاب کا زمانہ ختم ہوگیا ہے۔انٹر نیٹ کا دور ہے۔ہم قوم کو اس میں طاق کردیں گے۔
یکساں نصاب کا نعرہ ہے۔ اس ملک میں یکساں نصاب ۔ آپ تعلیم دیتی ہیں۔کتنے نصاب ہیں؟ کہیں کیمبرج،کہیں آکسفورڈ،کہیں امریکن سسٹم، کہیں سیکنڈری بورڈ، کہیں اردو میڈیم اور کہیں مدرسہ سسٹم جس میں آگے بھی بے شمار شاخیں ہیں۔لگتا ہے جیسے کہیں آسمان سے اُتر کر آئے ہیں۔زمینی حقائق جانتے ہی نہیں۔
آن لائن کلاسز ،بھڑکیں اورشیخیاں۔کیا کوئی جدید سے جدید طریقہ تدریس کلاس روم ،استاد ،بچے اور اُن کے درمیان اُس رشتے کا نعم البدل ہوسکتا ہے۔جو ان تینوں کی مثلث سے جنم لیتا ہے۔اب ذرا آن لائن کلاسوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے لیں۔ بڑے بچوں کے طریقہ امتحان کی چند مثالیں سُن لیں۔
گروپ میں امتحان۔بچوں نے مضامین بانٹے ہوئے ہیں۔جو بچہ جس مضمون میں اچھا ہے ۔اسی کی تیاری۔باقی مضامین گئے بھاڑ میں، ایک دوسرے کی مدد سے پرچے کیئے جا رہے ہیں۔کہیں کتابیں کُھلی ہوئی ہیں۔دس بجے صبح پرچہ ہے۔اُستاد کی کوئی مجبوری ہوگئی ہے۔لیجئے رات کو نو بجے پیپر ہورہا ہے۔
ایک ماں کے تین یا چار بچے۔مختلف کلاسیں۔ اتنے سارے لیپ ٹاپ، موبائل یا کمپیوٹر نچلے متوسط طبقہ کہاں سے پیدا کرے ؟بڑے لوگوں کے پاس تو چلو یہ سب کچھ ہے۔بڑے سکولوں میں مہنگی فیسیں دینے والوں کے بچے تو پہلے ہی اسِ طریقے سے کافی مانوس ہوتے ہیں۔ نیٹ سے ریسرچ کرنا اُن کی تعلیم اور نصاب کا حصّہ ہے۔مارے تو غریب کے بچے گئے۔گورنمنٹ سکولوں میں پڑھنے والے ۔جہاں سو کی کلاس۔ اُو پر سے گذشتہ خادمِ اعلیٰ نے انگلش میڈیم کر دیا۔بجائے اس کے کہ مڈل کے بعد درجہ بندی کی جاتی کہ کونسے بچوں کے ہاتھوں میں ٹول پکڑانے ہیں؟کونسے اعلیٰ تعلیم کے لئیے موزوں ہیں؟نتیجہ کیا ہے؟کلرک بنا رہے ہیں۔بی اے پاس بابو جو درخواست نہیں لکھ سکتا ہے۔ 10 لاکھ سالانہ پر امیر کا بچہ ڈاکٹر انجنئیربن رہا ہے۔نکما نالائق ڈاکٹر جسے خاک پتہ نہیں۔ یہ ہیں ہمارے حکمرانوں کی تعلیمی پالیسیاں۔
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭

کیا کرے کوئی!

ڈاکٹر نبیل چودھری
بات تو سچ ہے وہ کیا کہتے ہیں شمع کی آخری لَو تیز ہوا کرتی ہے۔ اگلے سال مارچ میں سینیٹ کے انتخابات سے پہلے اپوزیشن جسے ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہے وہ حکومت کا بازو مروڑنا چاہتی ہے لیکن بد قسمتی سے اس نے جو محاذ چنا ہے اس نے اسے مزید گرا کے رکھ دیا ہے۔ فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں لے رکھا ہے، اس نے جو اہداف حکومت پاکستان کو دیے ہیں اس میں منی لانڈرنگ اور دیگر انتہائی اہم قوانین بنانے کا کہا ہے، جو دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ہیں۔ذرا سوچئے کہ حکومت کو یہ بل پاس کرنا ہے جس سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے اگر وہ یہ قوانین نہیں بناتاتو بلیک لسٹ میں جا سکتا ہے۔ایسے موقع پر اپوزیشن کا کہنا ہے جی ہم ووٹ اس صورت میں دیں گے کہ ہمارے اوپر کرپشن چارجز ہٹا دئیے جائیں ۔
قارئین! یہ وہ الزامات اور کیسز ہیں جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے اپنے ادوار میں بنائے تھے اور نیب میں چل رہے ہیں ۔نیب بھی انہی کے دور کا اور اسکے چیئرمین بھی ان دو پارٹیوں کے نامزد کردہ، کیسز بھی ایک دوسرے کے خلاف بنائے گئے اور اب چونکہ ایک تیسری طاقت جس کے بارے میں انہیں یقین ہی نہیں تھا کہ وہ بر سر اقتدار آئے گی اس نے کیس واپس لینے سے انکار کیا ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں ۔مزے کی بات یہ ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ کر قومی دولت کی واپسی کے نعرے لگانے والوں نے اب ایک دوسرے سے جپھی ڈال لی ہے ۔عمران خان نے تو الیکشن جیتا ہی احتساب کے نعرے پر ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان نے لوٹی ہوئی دولت سے ایک پائی بھی واپس نہیں کرائی، یہ بات بھی جھوٹ ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ دولت لوٹنے والوں کو در بدر کر دیا ۔کیا آپ کو یاد ہے جو کہا کرتے تھے کہ ہم نے رہنا ہے تم نے چلے جانا ہے ۔ اگر لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں آئی تو یہ خوشخبری کیا کم ہے کہ چھیچھڑوں کی راکھی کرنے والے ہسپتالوں میں رل رہے ہیں۔ یہ وہ واحد ٹرائکا ہے جو رل بھی گئی اور چس بھی نہیں آئی۔
یہ عمران خان ہے ، اس نے جو وعدہ کیا ہے وہ نبھا رہا ہے۔ اس کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کی لمبی لائن ہے مگر ہے کوئی جو اس کو اس کے مصمم ارادے سے باز رکھ سکے ۔پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت دو سال پورے کر چکی ۔میں سمجھتا ہوں آپ معاشی اعشاریوں کو چھوڑیے جو پاکستان کے غلے سے چوری ہو رہا تھا اللہ کے کرم سے اب اس پر کڑے پہرے ہیں ،وہ مداری جو ڈالر کو عارضی طور پر کھڑے کیا ہوا تھا وہ لندن کی شاہراہوں پر گھوم رہا ہے۔ اب تو یہ مل بیٹھ کر بین کرنے کےلئے ایک اے پی سی منانے جا رہے ہیں ۔سچ کہا ہے کسی نے کہ یہ چلے ہوئے کارتوسوں کا اجتماع ہو گا ۔ایک اے پی سی پہلے بھی ہو چکی تھی۔ لیکن 2008ءمیں ان لوگوں نے جو چیزیں طے کیں ان سے منہ موڑا۔ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کو دھوکہ دیا۔ پی ٹی آئی جو اس وقت کے پی کے میں حکومت بنا سکتی تھی اسے باہر کیا گیا ۔اس بائیکاٹ کافائدہ پیپلز پارٹی کو ملا،ا گرچہ زرداری گروپ کو اس کام میں وصیت کا سہارا لینا پڑا۔ بات لمبی ہو جائے گی لیکن یہ کہانی پھر سہی۔
اب تو ہم بات کریں گے پاکستان کو در پیش سب سے بڑے مسئلے کہ اسے اس آگ کے دریا سے کیسے نکلنا ہے؟ علی محمد خان جو پی ٹی آئی کا اصل چہرہ ہیں انہوں نے کیا خوب بات کی کہ اللہ مدد کرے گا ہم اس دریا سے کود کے پار ہوں گے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو گا اور بہت سے لوگوں کے ضمیر جاگیں گے ۔کل کلاں اگر پاکستان کسی مشکل میں پھنستا ہے تو قارئین یاد رکھئے اس کا سبب یہ تین لوگ ہوں گے جن میں فضل الرحمن، آصف زرداری اور نوز شریف ہوں گے۔ شہباز شریف کی بات نہ کیجئے وہ کبھی لیڈر نہیں رہے ،وہ ایک اچھے منیجر ضرور ہو سکتے ہیں جو کسی کمپنی کو آمرانہ انداز میں تو چلا سکتے ہیں لیکن لیڈر نہیں ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے، نواز شریف کی شخصیت ایسی ہے جو اپنے گرد لوگوں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔ مجھے بعض اوقات ماتم کرنا پڑتا ہے کہ ایک اچھا خاصا بندہ ملک دشمنوں کے ہاتھ لگ گیا ۔نام مسلم لیگ کا کام سرخوں والے، اس بندے کو پٹڑی سے اتارا گیا۔ میں نے تو جدہ میں بڑا وقت گزارا ہے ۔ہم اس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں آمریت کے دنوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرد کا جبر ادارے پر قہر کی صورت میں نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ریاستی ادارے ہیں جنہوں نے ہمیں سکون دیا ۔کل کوئی سوچ سکتا تھا کہ کراچی کی رونقیں بحال ہوں گی ۔سیلاب، بارشیں اور ان سے ہونے والی تباہی کا ہمیں علم ہے کہ آبی گزر گاہوں پر زمین فروشوں نے پلازے کھڑے کئے۔ یہ سیلاب تو جدہ والا سیلاب ہے جو شارع تحلیہ پر موجود نہر پر فلیٹ بننے کی وجہ سے جدہ کے مکینوں پر قہر بن کر ٹوٹا تھا ۔محمد بن سلمان نے کمال کام یہ کیا کہ جدہ کے تما م سابقہ میئرز کی کٹ لگا دی، لوگوں کو عبرت ناک سزائیں دیں ۔کاش میں پاکستان میں بھی وہ دیکھوں جو محمد بن سلمان نے کیا ۔
قارئین ہم لوگ چپ رہنا سیکھ گئے ہیں۔ ہمارے ارد گرد گرد زیادتی ہو رہی ہو ہم خاموش رہتے ہیں ،بس کے اڈے پر لاوارث گٹھڑی پڑی رہتی ہے کوئی یہ سوچتا تک نہیں کہ یہ ہے کس کی اور پھر وہ جب دھماکہ کرتی ہے تو دیواروں کے ساتھ لپٹے چیتھڑے ہمارے ہی ہوتے ہیں۔ اس ملک عظیم کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی۔ یہاں لوٹنے والوں کی تصویریں ڈرائنگ روموں میں آویزاں ہوتی ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ لٹایا ہو اس کی کوئی بات نہیں کرتا ،اس کی وجہ سے نیکی کے رحجانات میں کمی ہو گئی ہے۔ مجھے کوئی بتا دے کہ کس کے ڈرائنگ روم میں میجر راجہ عزیز بھٹی، راشد منہا س ،چودھری رحمت علی، محمد علی جوہر آویزاں ہیں؟ یہ ایک سوال میرے ذہن میں مدت سے آ رہا ہے کہ کیا یہ ہمارے ہیرو وقت کے ریلے میں بہہ جائیں گے ۔اس اہم نکتے پر غور کریں۔
اب ذرا ان ٹیکنالوجسٹوں کی بات بھی کر لیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ٹیوٹا کے علی سلمان اور انجینئر افتخار کی کوششیں قابل ستائش ہیں لیکن میں شفقت محمود کی شفقت کو کہیں نہیں دیکھ رہا اور نہ فواد چودھری نظر کرم ڈال رہے ہیں ۔ایک آدھ سطر میں فواد چودھری کو سلام پیش کرنا ضروری ہے جو ایک قانون دان ہوتے ہوئے ٹیکنالوجی میں پاکستان کو آگے بڑھا رہے ہیں۔بس ایک کام کریںاسلام اوردو قومی نظریہ اس سے جڑے معاملات کو نہ چھیڑا کریں ۔یہ اس گھرانے سے ہیں جہاں سید مودددی آتے رہے جہاں ہمارے بہت ہی پیارے انکل چودھری شہباز حسین رہتے ہیں جنہیں مدینے والی سرکار کے در پر دیکھا ہے، ہم ان کے ہاتھوں میں پلے بڑھے۔ اللہ سلامت رکھے ایک محبت کی خوشبو ہے شہباز ہے جس کا نام ۔چودھری صاحب ٹیکنالوجسٹوں کی بھی سنیں ۔جب ٹیکنالوجی کے ان بنیادی ستونوں کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو ان کی توقیر کریں ترقی کے راستے کھولیں ،ٹیکنالوجی کونسل کو آزاد کریں ان کی بنیادی ضروروتوں کا خیال رکھنا اب چودھری صاحب کی ذمہ داری ہے۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭

تہذیب و روایات کا زوال

محمد فاروق عزمی
دور حاضر میں مسلم امہ کی زبوں حالی اور اصل بربادی کا ایک سبب مغرب کی غلامی ، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اور بے جا پیروی بھی ہے۔ ہم نے بلا سوچے سمجھے مغرب کی ہر وہ چیز اپنا لی جو ہمیں چمکتی نظر آئی، لیکن ہر چمکتی شے سونا نہیں ہوتی۔ آج جس درد کی ٹیسیں مسلم امہ کے بدن سے اٹھ رہی ہیں۔ یہ انہی مغربی اداﺅں پر مرمٹنے کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اپنی روایات اور اپنی تہذیب کو یکسر فراموش کر دیا جس کے نتیجے میں ملنے والے درد سے اس وقت پوری امتِ مسلمہ کراہ رہی ہے۔
تہذیب اسلامی کے ساتھ ہمارا رشتہ جب تک مضبوط رہا، باطل کے ایوانوں میں مسلم روایات اور تہذیب اسلامی کے خلاف زبان کھولنا بھی آسان نہ تھا۔ اب یہ رشتہ کمزور تو ہوا سو ہوا الٹا ہم نے اپنی ہی تہذیب اور روایات کے ساتھ دشمنی اختیار کر لی۔
مسلمان کی شان تو یہ تھی کہ اس کا ہر گزرتا دن اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر ہوتا۔ مگر دردناک حقیقت یہ ہے کہ ہر نیا طلوع ہونے والا سورج ہمیں تاریکیوں اور پستیوں میں دھکیل کر غروب ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ سے وطن عزیز میں عجب ہوا چلی ہے۔ عوام الناس کی دل آزاری اور ان کے مذہبی جذبات سے کھیلنا خواص کا دل پسند مشغلہ بن گیا ہے۔ صدیوں پرانی اسلامی روایات اور تہذیب اسلامی کی بنیادوں کو کھود کر کمزور کرنے کے لئے پورا زور لگایا جا رہا ہے اور اس کے لئے تمام حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی بھی دور میں اسلامی تہذیب نے شکست نہیں کھائی، شکست اگر کھائی ہے تو مسلمان نے کھائی ہے۔ تاریخ اسلام کے سرد خانے میں رکھے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے تابوت دلِ مسلم میں ہمیشہ اس غم کو زندہ رکھیں گے کہ مسلمانوں کی ساری شان و شوکت کا زوال مسلمانوں کے اپنے ہی ہاتھوں سے ہوا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک ہم نے قرآن کو سینوں سے لگائے رکھا اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنا کامل ایمان سمجھا ۔ نہ عسکری میدانوں میں مسلمان کو شکست ہوئی اور نہ علم و عرفان کی امامت اس کے ہاتھ سے گئی۔
مساجد کو اسلامی تہذیب میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ سب مسجدوں سے افضل مسجد حرام شریف(مکہ معظمہ) پھر مسجد نبوی شریف (مدینہ منورہ) پھر مسجد قدس (بیت المقدس) اور پھر مسجد قبا (مدینہ طیبہ)۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کو سب جگہوں سے زیادہ محبوب مسجد یں ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ بازار ہیں۔
اب یہ میرے وطن عزیز میں کیا غضب ہو رہا ہے کہ مساجد کے تقدس کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ یہ کس کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے؟یہ کون لوگ ہیں اور کس کی اجازت سے اپنے کیمرے اور باجے گاجے اٹھائے مسجدوں میں گھس آتے ہیں اور ناچ گانوں کی عکس بندی کرتے ہیں ایک تسلسل کے ساتھ مساجد کو اس ناپاک اور قبیح حرکتوں کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے۔ مسجد جہاں داخل ہونے کے لئے بتا دیا گیا کہ بدن اور کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے۔ کون سا پاﺅں پہلے اندر رکھنا ہے اور کون سا پاﺅں پہلے باہر نکالنا ہے ، آواز کتنی بلند رکھنی ہے ، اور آداب نشستِ و برخاست کیا ہیں۔ان مسجدوں میں جوتوں سمیت کیمرے اٹھائے عکس بندی کرنے اور مقدس مقامات کے تقدس کو پامال کرنے، اور دوران شوٹنگ مسجد کے اندر خواتین اور مردوں کے لباس تبدیل کرنے جیسے قابل مذمت اقدام کی اجازت دینے والے جان لیں کہ اگر ہم اپنی اقدار و روایات پر واپس نہیں آئے تو باطل قوتیں اسی طرح ہم پر غلبہ پاتی رہیں گی۔
کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو فیس بک اور یو ٹیوب پر مسلسل مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنی رہی ۔ محو حیرت ہوں کہ کیا ضروری ہے کہ مسجدوں کے میناروں کے سائے میں ہی رقص کیا جائے۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟اور کیوں ہو رہا ہے؟ احکام شریعت کے حصہ اول میں صفحہ پر درج ہے کہ مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیری لاتا ہے ۔ احادیث میں اس کی سخت ممانعت وارد ہے کُجا یہ کہ مساجد میں رقص کیا جائے اور گانے فلمبند کیے جائیں۔مسجد یں اللہ کا گھر ہیں اور عبادت کی جگہ ہیں۔ یہ ہر گز ہرگز پکنک پوائنٹ اور سیر گاہیں نہیں ہیں۔ لاہور کی تاریخی مساجد خصوصاً بادشاہی مسجد یا فیصل مسجد اسلام آباد اور دیگر بھی کئی مساجد بلاشبہ طرز تعمیر کی عمدہ مثال ہیں۔ مسجد قرطبہ کی طرح دیگر مشہور مساجد بھی مسلمانوں کے جمیل و جلیل ماضی کا شاہکار ہیں اور جلال و جمال اسلام کا آئینہ ہیں۔ مسلمان اس آئینے میں اپنے ماضی کا عکس دیکھ سکتا ہے لیکن ان مقدس مقامات کو تفریح گاہوں میں تبدیل ہوتا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
کہتے ہیں جس قوم کا دانش ور طبقہ اپنے قول و فعل اور کردار سے غافل ہو جائے اس قوم کا زوال بہت جلد اس کی دہلیز پر دستک دینے لگتا ہے۔ جو حق کے راستے میں سرخرو ہو گا اسی کا نام زندہ رہے گا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ ارباب اختیار اس رواج پاتی ”ہوا“ کو روکیں، مساجد عبادت کی جگہ ہیں۔ یہاں فلموں اور گانوں کی عکس بندی پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور آزاد خیالی کے پردے میں چھپی ان سازشوں کو پہچانیں جو ہماری نظریاتی، تہذیبی اور اسلامی روایات کے قلعوں میں نقب لگا رہی ہیں۔ ارباب اقتدار و اختیار سے گزارش ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح ہونے سے بچائیں۔ عوام الناس کی دل آزاری نہ ہونے دیں۔ لوگ بے روزگاری، مہنگائی برداشت کر لیں گے ، کر رہے ہیں لیکن ان کے عقائد سے کھیلنا ، مقدس ہستیوں کی تکذیب ، مقدس مقامات کی بے حرمتی ناقابل برداشت عوامل ہیں ۔ ٹوٹے دلوں کے مجروح آبگینوں میں پکنے والا لاوا بہہ نکلا تو سب کچھ جل کر خاکستر ہو جائے گا، وقت کو پہچانیں ورنہ وقت آپ کی ہر شناخت ختم کر دے گا۔
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کرنہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

شفقت اللہ مشتاق
یوں تو کائنات حق گو اور بے باک لوگوں کے خون سے کلی طور پر رنگین اور عبارت ہے لیکن خونِ حسینؓ نے اس رنگ کو اتنا گہرا کر دیا ہے کہ اس کو جو بھی دیکھتا ہے دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتا ہے۔ یہ رونا بے بسی کا رونا ہے، اس بے بسی کا جو کربلا کے حسینؓ کے سامنے لمحہ بھر کےلئے بھی نہ ٹھہر سکی۔ اگرچہ بظاہر عارضی طور پر یزیدی قوتیں تنومند ہو گئیں اور انسانیت عورتوں کی طرح بین کرنے لگ گئی ۔ فضامیں ہرروز ایک آواز گونجتی ہے کہ یہ انسانیت کس کام پہ لگ گئی ہے کبھی تو اس کی غیرت جاگے گی اور یہ اسلام کے پلو سے اپنے آنسو پونچھے گی ،ا تنے میں اس کا خون جوش مارے گا اور وہ خونِ حسینؓ کا بدلہ لینے انسانیت کے دروازے پر پہنچ جائے گی۔ انسانیت، انسانیت کے دروازے پر۔ پھر تڑ تڑ دروازے ٹوٹیں گے، حسینی اور یزیدی قوتوں کا آمنا سامنا ہوگا لیکن اس میدان کار زار میں یہ فیصلہ ضرور ہو گا کہ کون حسینؓ کے ساتھ ہے اور کون یزید کے ساتھ۔ مصلحتوں کے دروازے مکمل طور پربند ہوتے ہیں تب جا کے ظلم کی رات ختم اور حسینی سحر طلوع ہوتی ہے لیکن اس کےلئے ابھی تک انسانیت تیار نہیں ہوئی۔
حسینؓ استعارہ ہےں حوصلے کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں عزم و استقلال کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں عہد و وفا کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں صبر و رضا کا۔ حسینؓ استعارہ ہیں وارثِ علومِ مرتضیؓ و مصطفی کا۔ حسینؓ استعارہ ہےں محافظ عز وآبا کا اور حسینؓ استعارہ ہےں معرکہ کرب و بلا کا۔ یونہی تو انسانیت حسینؓ پر نازنہیں کرتی۔ یقینا مٹائے جانے والے مٹا نہیں کرتے بلکہ مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں۔اُس وقت یزید کو متفقہ طور پر بلا شرکت غیر خلیفہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رب کے بندے غیرکی بات کیسے سن سکتے ہیں وہ تو ایک کے ہیں اور ایک کی ہی بات سنتے ہیں اوراسی نے خلیفہ کا ایک معیارخود قائم کردیا تھا۔لہٰذا اسی ایک کے ماننے والے اس معیار کو برقرار رکھنے کےلئے کربلا تک بھی جا سکتے ہیں اور ہر چیز لٹا بھی سکتے ہیں۔ ہر چیز کی قربانی اور وہ بھی اتنی بڑی قربانی آخر کیوں؟ ایک کے سامنے ایک ایک ہو کر پیش ہونا ہے اور اس مینڈیٹ کا حساب دینا ہے جو مینڈیٹ انسان کو دنیا میں دے کر بھیجا گیا تھا۔
حضرت امام حسینؓ کے ہاں بہت بڑا مینڈیٹ تھا۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے گھر پیدا ہونے والے بچے حسینؓ کی مبارکبادیں تونبی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں سے بھجوائی گئی تھیں اور اس بچے کا نام اللہ تعالی نے خود رکھا تھا۔ شادیانے ملائکہ نے بجائے اور عرش اور فرش پر چراغاں کا اہتمام کیا گیا اور تعلیم وتربیت اللہ تعالی کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کی گئی۔ آخر یہ سب کچھ کرنے کا کوئی تو مقصد تھا۔ اللہ پاک کے ہر کام میں حکمت ہے۔ پال پوس کر ایک ایسا مرد تیار کرنا مقصود تھا جو شریعت کے تحفظ کو یقینی بناتا اور اس عمل کی تکمیل کےلئے اس کو حد سے گزر جانا تھا۔ یزید فاسق و فاجر ہے اور فاسق و فاجر کے ہاتھ پر شریعت محمدی نے بیعت ممنوع کردی ہے۔ شریعت کی پاسداری حسینؓ کا مینڈیٹ تھا۔ یزیدی قوتیں مصرہیں کہ حسینؓ یزید کی بیعت کرےں تاکہ حجت تمام ہو جائے لیکن حسین ؓ ایسا خلاف شرع فعل کرنہیں سکتے کہ کل دلیل کے طور پر یہ بات پیش کی جائے کہ اگر نبی برحق کی آغوش اطہر کا پروردہ اور تربیت یافتہ اس کی بیعت کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ اس اجتہادی مسئلہ کو امام عالی مقام نے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے حل کرنا تھا۔ اسی لئے انہوں نے مدینہ چھوڑا کہ کہیں یزیدی قوتیں مدینہ کو تاخت و تاراج نہ کردیں۔ پھر مکہ چھوڑا کہ رب کے گھر میں کشت و خون نہ ہو جائے۔ پھر عرب کی ساری آبادیوں کو بچانے کےلئے کرب و بلا میں جا کر اپنا ،اپنے بچوں کا،اپنے بھائیوں کا، بھتیجے اور بھانجوں کا، عزیز و اقارب کا،اپنے دوستوں کا بلکہ اپنی ہر چیز کا خون پیش کرنا گوارہ فرما لیا لیکن شریعت کا خون نہ ہونے دیا۔ اس ساری صورتحال کا انسانیت نے تماشہ دیکھا اب آنے والی نسلوں تک انسانیت کا تماشہ دیکھا جائیگا ۔ حسینؓ کل بھی باطل کے مقابل کھڑے تھے، حسینؓ آج بھی کھڑے ہیں اور حسینؓ کل بھی کھڑے ہوںگے اور انتظار کر یںگے اندھی اور بہری انسانیت کا۔ اور یہ انتظار اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ اس انسانیت کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور یہ یقینا کھلیں گی۔ پھر تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے۔ حسینیت کل بھی زندہ تھی اور آج بھی زندہ ہے۔
درج بالا سطور ایسے وقت میں قلمبندکی جا رہی ہیں جب ایام محرم الحرام گزر رہے ہیں۔ امام حسینؓ کا ہر عقیدت مند اپنے اپنے انداز میں مظلوم کربلا کو پرسہ پیش کر رہا ہے، کہیں سوزو سلام کی محفلیں منعقد کی جارہی ہیں اور کہیں مجالس برپا ہو رہی ہیں اور ایام محرم اس چیز کو واضح کر رہے ہیں کہ معرکہ حق و باطل میں فتح تلوار پر خو ن کو ہی حاصل ہوئی تھی۔ تعداد میں 72لیکن عزم و ارادے اس قدر پختہ کہ کسی ایک بھی جانثار کو اندیشہ¿ خوف و ہراس لاحق نہ تھا۔ ایک مرحلے پر یوم عاشور سے ایک رات قبل جب آپ نے دانستہ چراغ گل کیا اور اپنے احباب سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ میری موت یقینی ہو چکی ہے، آپ نے اب تک میرا جو ساتھ دیا ہے اس کے نتیجے میں جنت آپ سب پر واجب ہو چکی ہے اور آپ جانا چاہیں تو بے شک جا سکتے ہیں مجھے بہرحال کسی سے کوئی گلہ نہ ہوگا۔ مگر قارئین تاریخ کربلا کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ کسی ایک بھی جانثارِ حسینؓ نے شب کی سیاہی کا سہارا نہ لیا اور چراغ کے دوبارہ روشن ہونے پر امام حسینؓ نے دیکھا کہ آپ کا کوئی ایک بھی جانثار ساتھی ساتھ چھوڑ کر نہیں گیا حالانکہ ان سب کو پتہ تھا کہ موت ہم سب پر اپنا سایہ کر چکی ہے اور صبح ہم میں سے کوئی ایک بھی شخص دنیا میں نہیں رہے گا لیکن تین دن کی بھوک پیاس اور ریگزار ِکربلا میں بے سروسامانی کا عالم کچھ بھی جانثار ان امام حسینؓ کے پائیہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کر سکا۔ 72شہید مر کر بھی امر ہو گئے۔
(ممتاز دانشور اورمحکمہ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر ہیں)
٭….٭….٭

سینیٹ و بلدیاتی انتخابات، پیچیدگیاں دور کی جائیں

کنور محمد دلشاد
سینٹ کے انتخابات اب تک خفیہ رائے شماری کے تحت ہوتے رہے ہیں،تاہم وفاقی حکومت نے اس طریقہ کار کو تبدیل کرکے اوپن بیلٹ کا طریقہ متعارف کرانے اور اس کے لیے آئینی ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وفاقی کابینہ اس کی منظور ی دے چکی ہے۔ 1973 ءکی آئین ساز اسمبلی کے ارکان نے خفیہ رائے شماری کا طریقہ اس لئے طے کیا تھا کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان جو سینٹ انتخابات میں ووٹر ہوتے ہیں سیاسی پارٹیوں کی قیادت کے مفاد پرستانہ اثر سے آزاد ہو کر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ لیکن خفیہ رائے شماری عملًا ووٹروں کی خرید و فروخت اور یوں بازارِ سیاست میں ضمیروں کی نیلامی ، خیانت اور بدعنوانی کی ترویج و فروغ کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی۔ سینٹ کے گزشتہ انتخابات فروری 2018 ءمیں اس کے باعث نہایت حیران کن نتائج سامنے آئے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے لئے ووٹروں کی خریدوفروخت 80 کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی تھی اور تحریک انصاف کی بعض خواتین ارکان نے ووٹوں کی خرید و فروخت میں حصہ لے کر عمران خان کو بھی حیرت زدہ کردیا تھا جس پر عمران خان نے جمہوری طریقے کے مطابق ان خواتین کو پارٹی سے بھی خارج کر دیا تھا۔ بطور اپوزیشن لیڈر عمران خان نے تسلیم کیا کہ سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں صرف تین نشستیں رکھنے والی جماعت نے اپنے دو سینیٹرز منتخب کر وائے اور اس طرح فروری 2018 ءکے سینٹ الیکشن میں جس پارٹی کا ایک رکن بھی صوبائی اسمبلی میں نہیں تھا اس کی جانب سے بھی امیدوار لانے سے دھاندلی کی واضح نشاندہی ہوتی ہے۔ لہٰذا سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے کھیل کو دفن کرنے کے لیے نیشنل ڈیموکریٹک فاﺅنڈیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں قانونی پٹیشن اپنے وکیل محمد باقر ایڈووکیٹ کے ذریعے داخل کرائی اور مارچ 2018 ءسے کیس کی سماعت وقفے وقفے سے جاری ہے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی میرے نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔
قانون سازی کے ماہرین کے لیے یہ بتاتا چلوں کہ جب فروری 2009 ءمیں سینٹ کے الیکشن میں ریکارڈ توڑ ہارس ٹریڈنگ دیکھنے میں آئی تو میں نے اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق کی منظوری سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو 11 مارچ 2009 ءکو الیکشن کمیشن کی سفارشات پیش کیں کہ سینیٹ کے انتخابات کو خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹ کا طریقہ متعارف کراتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کی جائے اور سینٹ کے ارکان کا انتخاب وزیراعظم اور وزیر اعلی کے انتخابات کی طرز پر عوام میں ڈویژن کے ذریعے کروایا جائے۔ اس وقت کے وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان اور صدر آصف علی زرداری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے موقف کی تائید کی تھی۔ صدر آصف علی زرداری کی یہ آرا ءریکارڈ پر ہےں کہ سینیٹ انتخابات میں سودے بازی ختم کرکے شو آف ہینڈ کا طریقہ رائج کیا جانا چاہئے اور میں نے بطور وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان جواصلاحات کی رپورٹ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی،صدر آصف علی زرداری اور چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوائی تھی اب بھی یقینا الیکشن کمیشن میں محفوظ ہوگی لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ضمیروں کی نیلامی کے راستے کھولنے والے طریقے کو تبدیل کرکے سیاسی کرپشن کے ایک بڑے دروازے کو بند نہ کیا جا سکے ۔ حکومت نے سینیٹ کے انتخابات کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کا جو فارمولا وضع کیا ہے اس کے مطابق سینیٹ کے بیلٹ پیپرز پر ووٹرز کے نام درج ہوں گے اور اس کے آگے امیدوار کا نام ہوگا اور ووٹر کو لازمی طور پر پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینا ہوگا۔ میری رائے میں یہ طریقہ کار بین الاقوامی جمہوری اقدار کے خلاف اور مضحکہ خیز ہے ۔میری تجویز ہے کہ سینیٹ کے ارکان کے انتخابات کے لیے وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے جو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے انتخابات کے لیے آئین میں درج ہے ۔سیاسی جماعتوں میں ماہرین کی کمی نہیں ہے لہٰذا آسان طریقہ اختیار کرتے ہوئے سیاسی ماحول کو خیانت سے پاک کرنے کی جانب نتیجہ خیز پیش رفت ممکن بنائی جائے۔
اب کچھ ذکر پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کا ، نئے بلدیاتی ایکٹ 2019 ءکے تحت پنجاب کے شہروں میں یونین کونسل جبکہ دیہات میں تحصیلوں اور دیہی کونسلوں کے قیام کے لیے انتخابات کا پہلا مرحلہ نومبر دسمبر میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی مشینری فعال ہوچکی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تمام قانونی مرحلے 25 اکتوبر 2020 ءتک مکمل ہو جائیں گے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی کسوٹی صحت مند با اختیار بلدیاتی ادارے ہوا کرتے ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے ستر برسوں میں سب سے زیادہ تجربات بلدیاتی اداروں پر ہی کیے گئے۔ یہ ادارے طویل دورانیے کے لیے معطل بھی رہے جب کہ بحالی کے زمانے میں بھی سیاسی مداخلت نے انہیں کامیابی سے چلنے نہیں دیا۔ بلدیاتی سسٹم میں استحکام نہ ہونے کا نتیجہ یہ رہا کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں شہری پینے کے صاف پانی سے لے کر صحت و صفائی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ کھیلوں کے میدانوں سے لے کر عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کا فقدان بھی دیکھنے میں آیا۔ اسی پس منظر میں وزیراعظم عمران خان نے متذکرہ سہولتوں کی گراس روٹ لیول تک فراہمی کی غرض سے یہ نظام متعارف کروایا ہے ۔اس کے تحت صوبے کے بجٹ کا تینتیس (33) فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کو ملے گا جو خوش آئند ہے ۔تاہم اس کا موثر نفاذ وزیراعظم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ جو زمام اقتدار بلدیاتی اداروں کے انتخابات اور طریقہ کار کو ضع کر رہے ہیں ان بیوروکریٹس پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ الیکشن کمیشن آئینی و قانونی طور پر غیر جانبدار ہے لیکن پنجاب حکومت میں وزیر اعلیٰ کے ترجمان اور وزراءلوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ءکی جو تشریح کر رہے ہیں اس سے ابہام پیدا ہو رہا ہے ۔ پنجاب حکومت نے دو الگ الگ قانون متعارف کرائے ہیں جن کی رو سے ایک مقامی حکومتوں کے بارے میں اور دوسرا ویلیج پنچایت اور اور نیبر ہڈکونسلوں کے بارے میں ہے ، جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ خیبرپختونخواہ میں ایک ہی منظم نظام ہے جہاں مقامی حکومتیں ہیں اور ویلج و نیبر ہڈ کونسلیں ہیں جو باہم مربوط ہیں۔ ایک نیا تصور تحصیل کونسل کا متعارف کرایا گیا ہے جسے سٹی کونسل کہیں گے ،مگر یہ بھی پرانے نظام میں نیا اضافہ ہے۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ءآئین میں وضع کردہ ہدایات آرٹیکل 140 اے کے برعکس معلوم ہوتا ہے جو صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ ایسی مقامی حکومتوں کو قائم کریں جس میں منتخب نمائندے ہوں اور آرٹیکل 32 کے تحت ان لوکل حکومتوں کو مکمل سیاسی ،مالیاتی اور انتظامی اختیارات منتقل کریں۔پنچایت ، نیبرہڈ والے قانون میں مقامی حکومت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے کیونکہ مقامی حکومت کا لفظ استعمال کیا جائے تو پھر 140 اے کے تحت صوبوں کو اختیارات مل جاتا ہے ۔ موجودہ حالت میں شاید وفاق مستقبل میں اس طرح کا کوئی وفاقی قانون بنانے کا ارادہ رکھتا ہو۔بہر کیف یہ دونوں قوانین ایک دوسرے سے مکمل مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ دونوں قانون حکومتی اور ریاستی اداروں کے اختیارات کی بالادستی نمایاں کرتے ہیں۔ کنٹرول، بالا دستی، نگرانی اور برخاستگی و معطلی کا اختیار حکومت کے پاس ہے اور حکومت کا یہ اختیار شرائط سے بالاتر ہے۔ حکومت کے پاس اختیار ہوگا کہ مقامی حکومتوں کو ہدایات اور نگرانی کے لیے جوائنٹ اتھارٹی قائم کرے جس میں پبلک سرونٹ اور منتخب نمائندے شامل ہوں ۔
نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم ماضی کے ماڈلوں کا چربہ بھی لگتا ہے البتہ چند پہلو نئے ہیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن ،میونسپل کارپوریشن ،میونسپل کمیٹیاں،قانون کمیٹیاں، تحصیل کونسلیں ماضی کے مختلف ماڈل میں بھی رہی ہیں جو نئے ماڈل میں بھی موجود ہیں۔ ماضی کے تمام ماڈلوں میں دیہی آبادی کے لیے ضلع کونسلیں اور صدر پرویز مشرف کے ماڈل میں ضلعی حکومت کا تصور موجود تھا۔ پنجاب ویلیج پنچایت اینڈ نیبرہڈ کونسل ایکٹ 2019 ءکے تحت پنجاب بھر میں دیہی علاقوں میں ویلیج پنچائیت اور شہری علاقوں میں نیبرہڈ کونسل متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہیں مقامی حکومت نہیں کہا گیا ،ان کا کوئی قانونی اور تنظیمی تعلق مقامی حکومتوں کے ساتھ ہوگا ، الیکشن ایکٹ 2017 ءمیں بھی اس کا تصور موجود نہیں ہے اور مئیرکے براہ راست انتخابات کے لیے بھی وفاقی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کرنا ہونگی۔ یہ بالکل نیا تجربہ ہے اور انڈیا کے لوکل گورنمنٹ سسٹم سے ملتا جلتا ہے جہاں پنچایتی راج آئین کے تحت ہے اور مقامی حکومتیں سٹیٹ قوانین کے تحت ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ اپوزیشن اس تاک میں ہے کہ نومبر اکتوبر 2020 ءمیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ءکو عدالتوں میں چیلنج کر کے انتخابات ملتوی کروادیے جائیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا موقف ہے کہ انتخابات سے قبل آئینی و قانونی پیچیدگیاں دور کی جائیں ۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭….٭….٭

نوازشریف کب واپس آئیں گے؟

کامران گورائیہ
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے برطانوی شہر لندن میں قیام پذیر ہیں جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔ پاکستان میں عدم موجودگی کے باوجود وہ اپنے سیاسی مخالفین کے حواس پر طرح سے چھائے ہوئے ہیں ۔ ان کی چہل قدمی کرتے یا کسی ریسٹورنٹ میں کافی یا چائے پیتے ہوئے بنائی گئی ایک تصویر ملکی سیاست میں ایسی ہلچل پیدا کردیتی ہے کہ حکمران جماعت اور نئے پاکستان کے دعویدار وں سمیت تمام مخالف سیاسی حلقے ان کی صحت کو متنازع بنانے کی کوششوں میں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایک نہ ختم ہونے والی بحث بھی چل نکلتی ہے۔طرح طرح کے تبصرے کئے جاتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ نوازشریف صحت یاب ہو چکے ہیں یا سرے سے بیمار ہی نہیں ہوئے تھے۔نوازشریف کب واپس آئیں گے؟دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان واپس لانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کا ر لائے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے کہ نوازشریف کو بیرون ملک جانے ہی کیوں دیا گیا۔یہ اور اسی طرح کے جملے اور بیانات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے ایک بار بار پھر میاں نوازشریف موضوع بحث ہیں،حکومتی صفوں میں خاصا اضطراب پایا جاتا ہے۔پاکستانی سیاست میں ایک ہلچل کا سا سماں بندھا ہوا ہے۔ کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرتا جس دن نوازشریف کا نام حکومتی بیانات اور پالیسی کا حصہ نہ رہتا ہو۔ ملک کے دگر گوں اور بدترین معاشی حالات کو پیش نظر رکھتے اور زمینی حقائق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے موازنہ کیا جائے تو یہ سمجھنا اور کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نواشریف ملکی سیاست کا ایک مضبوط ترین ستون ہیں۔ ان کی اہمیت اس شیر کی طرح ہے جو عمر رسیدہ ہوکر بھی جنگل کا بادشاہ کہلاتا اور سمجھا جاتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ن کے تمام مرکزی عہدیداروں نے نواز شریف کو علاج مکمل ہونے تک وطن واپس آنے سے روک دیا ہے۔ گزشتہ دنوںمسلم لیگ ن کا اجلاس شہبازشریف کی رہائشگاہ پر ہوا جس میں نوازشریف کی صحت کا یک نکاتی ایجنڈا زیر بحث رہا۔ اجلاس میں خواجہ آصف، رانا تنویر، احسن اقبال، رانا ثنااللہ خان، ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق سمیت اہم رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے تمام صوبائی عہدیداران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نوازشریف نے علاج ادھورا چھوڑ کر واپس آنے کی رضامندی ظاہر کر دی جبکہ سینئر لیگی ارکان انہیں منع کرتے رہے کہ آپ ہرگز واپس نہ آئیں۔ اجلاس کے دوران نواز شریف کی واپسی پرملکی صورتحال سے واقف کوئی رکن رضا مند نہیں ہوا اور مطالبہ کیا کہ جب تک صحت یاب نہ ہوں آپ پاکستان واپس نہ آئیں۔ اجلاس کے دوران لیگی صدر شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف کو ٹیلی فون پر ملک بھر کے لیگی عہدیداران کے فیصلوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ن لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نواز شریف علیل ہیں اور وہ اپنا علاج مکمل ہونے کے بعد وطن واپس آئیں گے۔ احسن اقبال، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ سمیت دیگر رہنماﺅں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف کو درخواست کی جائے گی کہ معالجین کی اجازت ملنے تک وہ اپنا علاج جاری رکھیں اور علاج مکمل کروانے کے بعد ہی واپس آئیں۔ نواز شریف بیرون ملک گئے تو کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں علاج کی سہولتیں معطل رہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ نواز شریف کی صحت پر عدلیہ بھی ان چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھے گی۔جوں ہی ڈاکٹروں نے ان کے مکمل علاج کا سرٹیفکیٹ دیا تو وہ فوراً واپس آ جائیں گے۔ نواز شریف کی غیرموجودگی میں ان کے مقدمات کی قانونی پیروی جاری رہ سکتی ہے۔ پارٹی کی متفقہ رائے سے یہ فیصلہ کر کے نواز شریف کو اپنا علاج مکمل کروانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔نواز شریف کی صحت و زندگی کا فیصلہ ٹی وی شوز میں نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت علاج کے لئے ملی تھی۔انہوں نے کہاکہ اے پی سی کے حوالے سے رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں مسلم لیگ ن کی تجاویز پر دوبارہ اجلاس ہو گا۔ہم اس حکومت کو اتنا موقع دینا چاہتے ہیں کہ عوام ان حکمرانوں کی اصلیت دیکھ لیں۔ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف کو درخواست کی جائے گی کہ معالجین کی اجازت ملنے تک وہ اپنا علاج جاری رکھیں اور علاج مکمل کروانے کے بعد ہی واپس آئیں۔مسلم لیگ ( ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑکر قانون کی عملدرای کے لئے وطن واپس آئے تھے، جوں ہی ڈاکٹروں نے ان کے مکمل علاج کا سرٹیفکیٹ دیا تو وہ فورا واپس آ جائیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کے علاج کی رپورٹس عدالت میں جمع کروا دی گئی ہیں اور آئندہ بھی کروا دی جائیں گی۔ آج عوام کو حکومت کی اصلیت پتہ چل گئی ہے۔
موجودہ حالات کو نظر میں رکھاجائے تو یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ نوازشریف پر قدرت ابھی مہربان ہے،یہ ان کی سیاسی طاقت کی کرشمہ سازی ہی تو ہے کہ وہ ملک سے دور رہ کر بھی اپنے سیاسی مخالفین کے حواس پر چھائے ہوئے ہیں جبکہ اپنے سیاسی رفقا اور کارکنان کے دلوں کی دھڑکن بھی تصور کئے جاتے ہیں۔نوازشریف کے سیاسی مخالفین کے دلوں کی دھڑکنیں تو ان کی محض ایک تصویری جھلک دیکھ کر بے ترتیب ہونے لگتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان مسلم لیگ ن ہی کو اپنی سب سے بڑی رکاوٹ اورنوازشریف کو اپنا سب سے بڑا سیاسی حریف سمجھتے ہیں۔ سیاسی آداب کا تقاضا تو یہ ہوا کرتا ہے کہ سیا سی مخالفین کو مات دینے اور اپنے عوام کے دلوں پر راج کرنے کے لئے کارکردگی دکھائی جائے۔نوازشریف کی کچھ عرصہ سے اختیار کی گئی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا جارہا ہے،اور اس حقیقت کو نظرانداز کردیا گیا ہے کہ نوازشریف کی یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے متعلق پچھلے کئی روز سے ایک بارپھر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ وہ وطن واپس آئیں گے یا نہیں؟ یہ بھی کہا رہا ہے کہ نوازشریف اگر پاکستان واپس نہ آئے تو ان کی جماعت مسلم لیگ ن دو تین یاچار چھ ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر رہ جائے گی اور اس اہم اور بڑی حقیقی سیاسی قوت کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔لیکن کچھ ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں جن کا مطلب نوازشریف کی ملک میں یقینی واپسی نکلتا ہے۔اور اب تو یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ نوازشریف وطن واپس بھی آئیں گے اور ان کی جماعت کسی قسم کے انتشار کا شکار بھی نہیں ہوگی۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا ووٹ بینک اتنازیادہ اور وسیع ہے کہ انھیں وطن واپس آنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی جبکہ اس ملک کے عوام بھی نوازشریف کے میگا پراجیکٹس اور ترقیاتی منصوبوں کو یاد کرکے ان کی جلد ازجلد واپسی کےلئے دعا گو ہیں۔قدرت کئی بار میاں نواز شریف پر مہربان ہوتی واضح نظر آئی ہے ۔ پرویز مشرف کے دور میں جب انہیں جلا وطن کر دیا گیا تو نواز مخالف قوتوں کا یہی کہنا تھا کہ ان کی سیاست ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئی ہے اور اب وہ کبھی وطن واپس نہیں آئیں گے لیکن وہ نہ صرف واپس آئے بلکہ تیسری بار ملک کے وزیراعظم بھی بنے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭

اسلاموفوبیا کا شکار مغربی معاشرہ

عارف بہار
مغرب میں ایک بار پھر اسلامو فوبیا کا جن بو تل سے باہر آکر چہار سو دندناتا پھرتا ہے ۔ایک رائے تو یہ ہے کہ مغرب میں یہ جن کبھی بوتل میں بند ہی نہیں ہوا بلکہ یہ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچانے کےلئے ہمیشہ آزاد رہا ۔فرق صر ف یہ ہے کہ کبھی اس کی تشہیر ہوتی رہی تو کبھی اس پر اخفاءکا پردہ پڑ ا ہے۔یہ پردہ سرک جائے تو مغرب کا اسلامو فوبیا برہنہ حالت میں دنیا کے سامنے آتا ہے۔ نائن الیون کے بعد اس عارضے نے ایک وباءکی شکل اختیار کرلی کیونکہ اسلام کو بدنام کرنا اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ بریکٹ کرنا مغرب کی ریاستی پالیسی بن گئی ۔اگر یہ ریاستی پالیسی نہیں بھی تھی تو حکومتوں نے جم کر اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے لئے ان کے پاس آزادی ¿ اظہار کا گھڑا گھڑایا بہانہ موجود تھا ۔اسلامک ٹیررسٹ اور مسلم ٹیررسٹ کی جو اصطلاحات نائن الیون کے بعد مغربی میڈیا نے بے دردی سے استعمال کیں اس نے اسلامو فوبیا کے اثرات مغربی ذہنوں میں پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔نائن الیون کے فوراََ بعد جن مغربی ملکوں میں مسلمان آبادی کے بڑھنے پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے ان میں اسلاموفوبیا کو ایک منظم انداز میں ہوا دی دی گئی ۔فرانس ان میں سرفہرست تھا جہاں الجزائری مسلمان بہت تیزی سے ریاست میں سرایت کررہے تھے ۔الجزائر چونکہ فرانس کا غلام رہا تھا اس لئے دونوں معاشروں میں قریبی ربط وتعلق مدتوں قائم رہا۔اسی تعلق کی وجہ سے فرانسیسی معاشرے پر الجزائری نژاد باشندوں کا اثر رسوخ بڑھتا جارہا تھا ۔نائن الیون کے بعد ایک مصری نژاد یہودی دانشور خاتون نے امریکی اخبار میں لکھے گئے ایک طویل مضمون میں یورپ کے یوریبیا یعنی عرب کلچر کے غلبے کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا ۔ اس خاتون نے خبردار کیا تھا کہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یورپی باشندے مسلمان حاکموں کے ”ذمی “ بننے اور انہیں ” جزیہ“ دینے کی تیاری شروع کردیں۔
مغربی میڈیا میں یہ سوچ شدت سے اُبھری کہ اگر عرب اورمسلمان دنیا سے آبادی کا انخلاءاسی انداز سے جاری رہا تو یورپ کچھ عرصہ بعد مسلمان اکثریتی معاشرہ بن جائے گا اور اس کا مطلب مغرب سے فرد کی آزادی ،ترقی ،روشن خیالی ،معاشی خودکفالت سمیت ایک پورے کلچر کا خاتمہ ہوگا۔اس انداز کی ذہن سازی نے مغرب میں جنونیوں کی ایک فوج تیار کر لی ہے ۔ آزادی اظہار کی جو نیلم پری مغرب نے ہولو کاسٹ سمیت بہت سے معاملات میں خود مغرب نے مقید اور محدود کر رکھی ہے اس کو مسلمانوں کے آنگن میں رقص کرانے پر اصرار کیا جاتا ہے ۔چند دن قبل ڈنمارک میں ایک سفید فام فاشسٹ نے بھرے بازار میں قرآن پاک کو نذر آتش کیا ۔ اس واقعہ کی وائرل ہونے والی وڈیو کودیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ سفید فام جنونی پورے اطمینان سے ایک پبلک مقام پر آیا قرآن پاک کو زمین پر رکھا تیل چھڑک کر آگ لگائی اور اس دوران وہ مسلمانوں ، اسلام اور پیغمبر اسلام کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا(نعوذ باللہ) ۔قریب کھڑے کچھ لوگ اس سے بحث کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر سفید فام شخص اپنے حلیے اور رویے سے پاگل اورخوں خوار دکھائی دیتا تھا۔ ویڈیو میںصاف نظر آرہا ہے کہ اس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں نے اس سے بحث تک محدود رہنے میں ہی عافیت محسوس کی۔اب بدنام زمانہ فرانسیسی میگزین ”چارلی ہیبڈو “ نے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کرنا شروع کئے ہیں۔چارلی ہیبڈو نے2015ءمیں گستاخانہ خاکے جاری کئے تھے جس پر عالمگیر سطح پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا ۔اس مذموم حرکت نے مسلمانوں کو غصے اور اشتعال سے بھر دیا تھا اور اسکے نتیجے میں میگزین کے دفتر پر حملہ ہوا تھا جس میں کچھ کارٹونسٹس سمیت بار ہ افراد مارے گئے تھے ۔اس کے کچھ ہی دیر بعد پیرس میں ایک اور حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان حملوں کے الزام میں فرانسیسی حکومت نے جن افراد کو گرفتار کر رکھا ہے ان کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہونے کے موقع پر میگزین نے پرانے خاکے دوبارہ شائع کیے ہیں۔کیپشن میں لکھا گیا ہے ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔یہ خاکے 2005ءمیںسب سے پہلے ڈینش اخبار گیلینڈ پوسٹن نے شائع کئے تھے ۔ایک سال بعد یہی خاکے فرانسیسی اخبار نے بھی شائع کئے اوراب برسوں بعد یہ خاکے دوبارہ شائع کئے جارہے ہیں۔مغرب میں یہ سب کچھ آزادی¿ اظہار اور آزادی¿ صحافت کے نام پر ہو رہا ہے۔اسی لئے وہاں کے قوانین بھی ان مذموم حرکات کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور حکومتیں اپنی بے بسی کا رونا روتی ہیں۔
حقیقت میں یہ آزادی ¿ اظہار کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کو چھیڑنے اس کی توہین کرنے اور اسے ردعمل اور غصے کا شکار بنا کر فساد پیدا کرنے کی منظم اور سوچی سمجھی سکیم ہے۔جس کا پہلا مقصد سکتے کے مریض کا امتحان لینے کے لئے اس کے منہ پر آئینہ رکھنے جیسا ہے ۔آئینہ اگر دھندلا ہوجائے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ سانس چل رہی ہے اور مریض میں زندگی کی رمق باقی ہے ۔اس طرح کے آثار نظر نہ آنا مریض کی موت واقع ہوجانے کا اعلان ہوتا ہے ۔ مغربی محققین اور مشترقین بخوبی جانتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں پیغمبر اسلام کا مقام کیا ہے اور مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کا معیار کیا ہے ؟ عقیدت اور محبت کے اس فلک بوس مینار پر وقفوں سے سنگ باری کرکے حقیقت میںیہ امتحان لیتے ہیں کہ مسلمان معاشرہ غیرت ایمانی کے کس مقام اور معیار پر موجود ہے ۔یہ وہ معاشرہ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا ،خدا کا بیٹا اور نجانے کیا کچھ بھی کہتا ہے مگر فلموں میں ان کامذاق اُڑا کر اہانت رسول و پیغمبر کا ارتکاب بھی کرتا ہے(نعوذ باللہ) اور اس قبیح فعل کو آزادیوں کے پردے کے پیچھے چھپاتا ہے ۔یوں توایسے معاشرے سے گلہ گزاری بے سود ہے مگر معاملہ غیرت و حمیت کا ہو تو پھر ردعمل دکھانالازمی ہوتا ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرکے مغربی معاشرہ اور نام نہاد دانشور طبقہ حقیقت میںجہاں ایک طرف مسلمانوں کی غیرت وحمیت کا امتحان لیتا ہے وہیں مغربی معاشروں میں اسلام کے پھیلاﺅ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے ۔یہ ایک منظم مہم ہے اور اس کے پیچھے سفید فام فاشسٹ رویے اور صلیبی جنگوں کی یادیں ہیں ۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اس ذہنیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اسی عالمی فورم پر نفرت کی ان لہروںکو کنٹرول کرنے کے لئے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا مگر ایک سال ہوگیا یہ ذہن پوری طرح دندناتا پھر رہا ہے ۔اس مفتن اور مفسد ذہن کا مقابلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی سطح پر قوانین کی تیاری اور عمل درآمد کی پالیسی بننا لازمی ہے وگرنہ یہ جنونیت دنیا کو یونہی مضطرب اور فساد کا شکار کرتی رہے گی۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

عثمان بزدار پر تنقید کیوں؟

سجادوریا
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جب سے منصب پر فائز ہوئے ہےں،ان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ بننے پر وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہےں،اللہ کا احسان سمجھتے ہےں اور وزیر اعظم عمران خان کے بھی مشکور ہےں جنہوں نے وزیراعلیٰ کی دوڑ مےں شامل طاقتور امیدواروں کو چھوڑ کرایک نسبتاً کمزور اور گمنام اےم پی اے عثمان بزدار کا انتخاب کیا۔جہاں مےں نے عثمان بزدار کی خوش قسمتی کا ذکر کیا ،وہاں کئی حوالوں سے بدقسمتی بھی ان کے پیچھے لٹھ لے کر پڑی ہوئی ہے۔ بدقسمتی ےہ ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ،اپوزیشن اور ”کئی اپنے“ بھی ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہےں۔کئی بہانوں سے تنقید کرتے ہےں،سازشےں بھی تےار ہوتی ہےں۔کئی تو باقاعدہ”اب گئے“، ”کل گئے“ ، ”جانے والے ہےں“ کا ڈھول گلے مےں لٹکائے سوشل میڈیا اور میڈیا کے گلی بازاروں مےں اےسے گھومتے ہےں کہ عام آدمی سوچنے لگتا ہے کہ’ عثمان بزدار ‘جانے والا ہے۔میڈیا کے بعض نامور لوگ ان سے محض اسلئے ناراض رہتے ہےںکہ وزیراعلیٰ ان کے شاےان شان پروٹوکول نہیں دےتے،ان کے احکامات کی تعمیل نہیں ہو پاتی،ان کے پسندیدہ افسران کو تعینات نہیں کرتے،ان سے ملاقات نہیں کرتے،حالانکہ وہ اپنا مقام اورمرتبہ ثابت کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی تصاویر بھی ان کو واٹس اپ کرتے ہےں۔لےکن خاموش طبع وزیر اعلیٰ ٹس سے مس نہیں ہو تے ،اپنی دُھن مےں مگن ،میڈیا کے تمسخر کو اپنی خاموشی وسادگی کے تفاخر سے اُڑا کے رکھ دےتے ہےں۔تنقید سے بالکل نہیں گھبراتے بلکہ خود کو زےادہ بااعتماد سمجھتے ہےں۔ان کی باڈی لےنگوے¾ج ان کے اعتماد کا پتہ دےتی ہے،ان کے اعتماد کے اہم محرکات مےں وزیر اعظم کی تھپکی،ان کا شفاف کام اور ان کی باسلیقہ خاموشی شامل ہےں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب اےک شریف النفس انسان ہےں،چرب زبانی کے سامنے سے بچ کے گزرتے ہےں۔جب ان کو وزیر اعلیٰ بناےا گےا تو سےاسی جادوگروں اور صحافتی جغادریوں کی خےالی دنےا تو چوپٹ ہو گئی،انہوں نے تجزیوں اور تبصروں کے کدال جن جگہوں پر برسائے تھے وہاں سے’خام خےالی‘ کی رےت کے ڈھےر نکلے۔ان کے اندازے اور تخمینے ’کج بحثی‘ ثابت ہو گئے۔انہوں نے جن نامور امیدواروں کے نام پےش کیے،ان کے فضائل بےان کئے،جب وہ نام مسترد ہو گئے تو ان کو اپنی دانشوری کی سُبکی محسوس ہو ئی اور آج تک اس غصے کو چھپا نہیں سکے۔کبھی سازشوں ،کبھی جھوٹی خبروں اور کبھی اپنے سےاسی آقاﺅں کی خوشنودی کی خاطر عثمان بزدار کو ٹارگٹ کرتے ہےں۔
اگر سےاسی صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو چند سوالات اُٹھتے ہےں،جن کا جواب ڈھونڈا جائے تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ عثمان بزدار کیوں ابھی تک موجود ہےں ،اورخود کو مزید مضبوط بنا رہے ہےں۔مےں سمجھتا ہوں کہ ان کی شرافت و کم گو شخصیت ان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ان کی اس طاقت نے صوبے مےں اےک اتحادی حکومت کو کامےاب بنا رکھا ہے،انہےں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پروےز الٰہی کا اعتماد حاصل ہے، گورنر پنجاب سے بھی اچھی بنتی ہے۔سب سے بڑی بات ےہ کہ تحریک انصاف کے اندر دھڑوں مےں بھی تعلقات کا ذریعہ ہےں۔جےسا کہ خےال کیا جاتا تھا کہ پارٹی مےںعلیم خان،جہانگیر ترین اور شاہ محمود قرےشی کے گروپوں مےں وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی کے حصول کے لئے مقابلہ تھا،اگر کوئی اےک گروپ اگر جیت جاتا تو پارٹی تقسیم ہو جاتی ۔عمران خان نے سےاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ،اےک نےوٹرل اور کمزور اےم پی اے کا انتخاب کیاجس پر کسی طاقتور گروپ کو اپنی شکست کا احساس نہیں ہوا،بلکہ سب نے بخوشی قبول کیا اور کہنے لگے کہ ےہ وزیر اعظم اور پارٹی چےئرمےن کا اختےار ہے جس کو چاہے نامزد کرے۔اب ےہ تمام گروپ وزیر اعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہےں اور اپنے حلقے کے مسائل کے حل کے لئے رابطے مےں رہتے ہےں۔
وزیر اعلیٰ کو اےک بار پھر میڈیا کے ایک حصے اور اپوزیشن نے خوب لتاڑا ،جب انہےں ایک کےس مےںنےب نے طلب کیا۔ دانشوران قوم تو جھوم اُٹھے،کئی تو فےصلہ سنا بےٹھے کہ پی ٹی آئی خود سازش کرکے وزیر اعلیٰ کو ہٹانا چاہتی ہے۔اس کےس مےں بےوروکرےسی کی منافقت کا پردہ چاک ہوا ۔ جب وزیر اعلیٰ نےب مےں پےش ہوئے ،ان کا اعتماد بتا رہا تھا کہ کچھ غلط نہیں کیا۔ کیا شراب کا لائسنس پہلی بار دیا گےا؟ کیا ایک سابق بیوروکریٹ نے اپنی اخلاقی ساکھ کو برباد نہیں کیا جب ریٹائر ہونے کے بعد وعدہ معاف گوا ہ بننے کی پےشکش کر دی اور الزام وزیر اعلیٰ پر لگا دیا ؟وزیر اعلیٰ کے رشتے دار نے دباﺅڈالا اور رشوت لی تو اس اعلیٰ افسر کا ضمیر کہاں سوےا ہوا تھا؟اس وقت ےہ خبر میڈیا کو جاری کر دےتے ،کسی ذریعہ سے سوشل میڈیا پر خبر ڈال دےتے۔لےکن ان کے عمل نے ان کی دےانت کو مشکوک بنا دیا ۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے دستاویزات پےش کر دیں کہ لائسنس پہلے جاری ہوا اور منظوری کے لئے خط بعد مےں لکھا گےا۔ابھی معاملہ نےب کے پاس ہے دےکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ابھی تک میڈیا مےں سامنے آنے والے حقائق اور خبروں سے ےہی رائے بن رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے خود کو دستاویزات کے ذریعے شفاف ثابت کر دیا ہے۔اس کےس کا زےادہ بوجھ بےوروکرےسی کے کاندھوں پر پڑتا نظر آرہا ہے۔بظاہر اس کےس نے عثمان بزدار کو زےادہ مضبوط کر دیا ہے۔حالانکہ ےہ کےس عثمان بزدار کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔
بہر حال دوسالہ دور اقتدار مےں عثمان بزدار نے کئی اتار چڑھاﺅ دےکھ لئے ہےں۔ وہ بلےک مےلنگ اور الزام تراشیوں کو سمجھ چکے ہےں۔اپنے اختےارات کو سمجھ گئے ہےں،بےوروکرےسی مےں اپنا اثرورسوخ بنا چکے ہےں۔جنوبی پنجاب سےکرٹرےٹ کو قائم کر چکے ہےں۔اب عوامی سطح پر ان کا اپنا امےج بن چکا ہے۔ان کی اپنی شناخت اور جگہ بن چکی ہے۔اسلئے ان پر تنقید کرنے والوں کواپنے رویے پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔عثمان بزدار نے اپنی اہلیت اور کارکردگی سے اپنے ناقدین کو شرمندہ کر دیا ہے۔سےاسی مخالفین ان کا مذاق اڑا تے ہےں تا کہ شہباز شریف کو پنجاب کا نجات دہندہ پےش کیا جا سکے۔عثمان بزدار اےک نےا نام،گمنام چہرہ تھا اور پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں،غےر تجربہ کاراور محدود علاقے مےں سےاست کرتے تھے،جب انہےں صوبے کا چیف منسٹر بناےا گےا تو انہےں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہو گا،انہےں گرومنگ کا مسئلہ رہا ہو گا۔لےکن ان دوسالوں مےں عمران خان کی سپورٹ اور اعتماد کی وجہ سے چیف منسٹر مضبوط پوزیشن مےں آ چکے ہےں۔
مےرا”گمان“ ہے کہ جب تمام مسائل اور نےا چہرہ ہونے کے باوجود عثمان بزدار نے اپنا کِلہ مضبوط کر لیا ہے،اب تو ان کی پوزیشن با اعتماد ہے ،اب ان پر تنقید بھی کم ہو گئی ہے،اس لئے مےں سمجھتا ہوں بزدار صاحب کو ترقےاتی کاموں پر توجہ دےنی چاہیے۔خاص طور پر جنوبی پنجاب کی پسماندگی پر توجہ دےنا ہو گی۔اس خطے کی سب سے بڑی سڑک اےم اےم روڈ کی فوری تعمیر کا آغاز کرنا چاہئے،موٹروے سے اتر کر بلکسر،تلہ گنگ،میانوا لی اور مظفر گڑھ ،ملتان تک عوام شدید ذہنی،جانی اور مالی پرےشانیوں کا شکار ہےں۔انہےں موٹروے کی متبادل اےک بڑی سڑک اس علاقے کے لوگوں کا حق ہے جس کو اےک عرصے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔چیف منسٹر نے اگر اپنے عوام اور علاقے کی ترقی و خوشحالی پر توجہ مرکوز رکھی تو خود کو سازشوں اور تنقید سے بالاتر کرنے مےں کامےاب ہو جائےں گے۔کھل کر کھےلنے کا حوصلہ کر پائےں گے۔پھر ہم بھی پوچھےں گے ےہ تنقید کیوں؟
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ویل ڈن۔ عاصم سلیم باجوہ

سارہ شمشاد
پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے کہ جب عوامی عہدے رکھنے والے اپنے پر اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب بلاچوں و چراں دے رہے ہیں بلکہ ثبوتوں کے ساتھ کسی بھی قانونی فورم پر خود کو پیش کرنے کی بھی پیش کش کر رہے ہیں۔ یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر مسائل کے انبار تلے دبی قوم 7 دہائیوں سے دیکھ رہی تھی کہ ان کے منتخب نمائندوں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بااختیار افراد جوابدہ ہوں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کے حوالے سے بعض سوالات اٹھائے گئے تو انہوں نے انتہائی خندہ پیشانی سے ان سوالوں کے جوابات دیئے اور ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان کو مشیر اطلاعات کی حیثیت سے استعفیٰ بھی پیش کر دیا۔ عاصم سلیم باجوہ کے جوابات سے مطمئن ہو کر وزیراعظم نے ان کے استعفیٰ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ،جو انتہائی خوش آئند ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سب خود کو بلاتخصیص عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں آج تک جتنی بھی قوموں نے ترقی کی اس کی بڑی وجہ قانون کی حکمرانی ہے۔ عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے ٹھوس شواہد سامنے رکھنے کے باوجود بعض سیاسی جماعتیں کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آتیں اور اسے سیاسی بنانے کی خوا مخواہ کوشش کی جا رہی ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری پر تیزی سے کام جاری و ساری ہے ایسے میں عاصم سلیم باجوہ کے تسلی بخش جواب کے باوجود اسی پر سیاسی رسہ کشی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
کورونا جیسی آفت کے باوجود پاکستانی معیشت مثبت اعشاریے پیش کر رہی ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کے نتیجے میں ملک میں ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں تو ایسے موقع پر عاصم سلیم باجوہ کی کردار کشی کا مقصد سی پیک کو نشانہ بنانا بھی ہو سکتا ہے اور میرے خیال میں اس کے پیچھے ہمارے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ویسے بھی ہمارے میڈیا میں عاصم سلیم باجوہ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کے تانے بانے بھارتی ایجنسی را کے ساتھ ہونے کی خبریں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ ایسے نازک حالات اور حساس موقع پر سیاستدانوں کو بھی چاہئے کہ وہ انتہائی سمجھداری کا ثبوت دیں اور اپنی صفوں میں چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کو پہچانیں کیونکہ اس نازک موقع پر پاکستان کسی سازشی تھیوری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اس پر کوئی اور رائے نہیں ہو سکتی کہ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ادارے کی ٹریننگ کا بھی بھرپور عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بلاتاخیر خود پر لگائے گئے الزامات کا بھر پور جواب دیا۔ اس سے ان کے ادارے کی توقیر اور ان کے قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر کا عہدہ عاصم سلیم باجوہ نے انتہائی مشکل حالات میں جس مہارت کے ساتھ نبھایا تھا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی دشمن ان کا نام سن کر ہی کانپ جاتا ہے۔ قوم کا یہ سپوت سرائیکی وسیب سے تعلق رکھتا ہے جس پر وسیب کے باسی بجا طور پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے حقائق عوام کے سامنے رکھے۔ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے احتساب کے نعرے کو نہ صرف تقویت بخشی ہے بلکہ خود احتسابی کا بھی عملی مظاہرہ کیا ہے۔ غیر منتخب اراکین کابینہ کے اثاثوں کی تفصیلات کی فراہمی موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے جبکہ عاصم سلیم باجوہ نے خود احتسابی کا مظاہرہ کرکے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ احتساب اور بلاامتیاز پاکستان کے لئے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ نیب کرپٹ عناصر کے قلع قمع کے لئے اپنا کردار مزید بہتر انداز میں ادا کرے۔ اسی طرح ایف آئی اے اور دیگر محکموں کو بھی چاہیئے کہ وہ احتساب کے نظام کو بہتر بنائیں اور کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو وطن عزیز کو لوٹنے کی جرا¿ت نہ ہو سکے۔
(کالم نگارقومی امور پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭