All posts by Muhammad Afraz

مقامی حکومتوں کا نظام مضبوط بنائیں

وزیر احمد جوگیزئی
ملک میں لیڈرشپ کا فقدان ہے اور معاملات صحیح رخ پر نہیں چل رہے ۔پاکستان انٹر نیشنل ائر لائنز جس کا دعویٰ تھا کہ گریٹ پیپل ٹو فلائے ود (Great people to fly with)نے ایک قلیل عرصے میں بے پناہ ترقی کی اور یہ ایک مثالی ائر لائن بن چکی تھی اور پی آئی اے نے ہی سنگا پور ائر لائنز اور مالٹا ائر لائنز سمیت سات سے آٹھ ائر لائنز کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ۔اور دو ادوار ایسے تھے جب پی آ ئی اے نے کمرشل طور پر بہت زیادہ ترقی کی ۔ایک دور تھا ائر مارشل نور خان کا اور دوسرا دور تھا رفیق سہگل کا ان ادوار میں پی آئی اے نے بے مثال ترقی کی اور پوری طرح پھل پھول گئی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پی آئی اے میں ملازمتوں کا سوال اس دور میں بھی اٹھا تھا۔ عام خیال یہ ہی تھا کہ جب رفیق سہگل صاحب پی آ ئی اے کی سربراہی کریں گے تو پی آئی اے سے ملازمین کی چھانٹی ہو گی اور ملازمتوں کو کم کیا جائے گا ۔لیکن ایسا نہ ہو ا اور پی آئی اے کی اڑان امریکہ اور کینیڈا تک چلی گئی ۔اور اس دور میں بلا شبہ قومی ائر لائنز مشرق سے مغرب تک ہمارے لیے ہماری پوری قوم کے لیے ایک فخر کا نشان بن گئی تھی اور پاکستان کی شان تھی اس دور میں پی آئی اے واقعی ایک شاندار ائر لائنز تھی ۔اس دور میں مقابلہ بھی بہت زیادہ تھا۔ اس دور میں بیشتر دیگر ائر لائنز کراچی کو ٹچ کرتی تھیں لیکن اس کے با وجود پی آ ئی اے نے نہ صرف اپنا بزنس برقرار رکھا بلکہ اور نام بھی کماتی رہی ،اور اگر آج بھی پی آ ئی اے کے حالات کو بدلنا ہے اس ائر لائنز کو صحیح معنوں میں ایک بار پھر قومی ائر لائنز بنانا ہے تو نجی شعبے کی منجھی ہوئی مینجمنٹ کے حوالے قومی ائر لائنز کی بھاگ دوڑ کرنا ہو گی ۔اس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔نہ تو پی آئی اے میں مہارت کی کو ئی کمی ہے نہ قومی ائر لا ئنز کے پا ئلٹ کسی سے کم ہیں اور نہ ہی دیگر شعبوں میں کو ئی مسئلہ ہے ۔اگر کسی چیز کا فقدان ہے تو وہ لیڈرشپ کی کمی کا ہے ۔اس کمی کو دور کرنا ہو گا ۔
میں یہاں پر یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ وفاقی وزیر ہوا بازی نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر قومی ائر لائن کے پا ئلٹس کے حوالے سے نہایت ہی غیر ذمہ درانہ بیان دیا ہے اور تحقیقات مکمل ہو نے سے پہلے ہی اپنے پا ئلٹس کودنیا بھر کی نظروں میں مشکوک بناڈالا ۔اس بیان کے نتیجے میں یورپی یو نین نے پی آ ئی ائے پر 6ماہ کی پابندی عائد کردی ہے جس سے کے قومی ائر لائن کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا ۔اگر کوئی مسئلہ موجود بھی تھا تو حکومت کو اس سلسلے میں خاموشی سے کارروائی کرنی چاہیے تھی اس حوالے سے حکومت کو کس نے روکا تھا لیکن حساس نو عیت کے معاملے کی کھلے عام تشہیر نے قومی ائر لائن کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے اور یہ حکومتی اقدام پی آئی اے کے تا بوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے ۔ بھارت میں بھی اسی نو عیت کا معاملہ اٹھا تھا اور ہزاروں پا ئلٹس کے لا ئسنسز مشکوک قرار دیے گئے تھے لیکن انھوں نے خاموشی سے اس معاملہ کو اندرونی طور پر حل کیا ۔اس حکومت کے اقدامات سمجھ سے با لا تر ہیں ۔
بہر حال لیڈرشپ کی کمی کا مسئلہ صرف اور صرف پی آ ئی اے کو درپیش نہیں ہے ۔پاکستان کا اس وقت بڑا مسئلہ لیڈرشپ کا کمزور ہو نا ہے ۔آج کی لیڈرشپ مینجمنٹ کے ہر اصول میں ناکام ہو گئی ہے ۔آٹے اور چینی کے بحران تو اپنی جگہ پر تھے ہی لیکن تازہ بحران جو کہ پیٹرول کا بحران تھا اس پر میں بات کرنا چاہوں گا ۔پیٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں تا ریخی سطح تک گر گئی بلکہ منفی میں چلی گئیں لیکن ہمارے ذمہ داران کی انتظامی صلاحیتوں کو داد دینا پڑے گی کہ نہ وہ دنیا سے سستا تیل خرید سکے اور نہ ہی وہ عوام کو یہ تیل سستے نرخوں پر بیچ سکے ۔ان دو سے تین مہینوں میں کم از کم دو سال کا پیٹرول کا خسارہ پورا کر سکتے تھے لیکن کچھ بھی نہیں کر سکے ۔یہ حکمران جماعت اور ان کی لیڈرشپ پر بڑا سوال ہے کہ وہ اس خدا کی جانب سے دیئے گئے نادر موقع سے فائدہ اٹھانے میں بھی قطعی طور پر ناکام رہے ۔اب وزیر اعظم کی جانب سے اس معاملہ پر انکوا ئریز کروائی جا رہی ہیں جس سے معاملہ مزید الجھے گا ،میں تو وزیر اعظم عمران خان صاحب کو یہی مشورہ دوں گا کہ مزید الجھنیں پیدا نہ کریں اسمبلی کے سامنے مسائل رکھیں اور اجتماعی سوچ کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کو شش کی جائے ۔120دن کی بجائے 220دن پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے اور اس میں بیٹھ کر عوام کے مسائل حل کیے جا ئیں ۔وزیر اعظم خود بھی ہر اجلاس میں دو گھنٹے کی حاضری یقینی بنا ئیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سے پارٹی میں بھی جان آ ئے گی اور اپوزیشن سے بھی با معنی رابطے کرنے میں مدد ملے گی ۔ابھی تو صرف پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ایک عجب سا مقابلہ لگا ہوا ہے کہ زیادہ بد زبانی کو ن کرے گا اور اس میں سارا وقت ضائع ہو جاتا ہے ۔اور اس قسم کے رویے کا زیادہ تر نقصان صرف اور صرف حکومت کو ہی ہو تا ہے اور کسی کو نہیں ۔کوئی بھی جمہوری لیڈر مقننہ کو بائی پاس نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس میں کامیاب ہو سکتا ہے لہٰذا وزیر اعظم صاحب مقننہ پر زیادہ سے زیادہ دھیان دیں اسمبلی میں حاضری یقینی بنا ئیں اور پارلیمان کو مضبوط کریں ۔اسی سے عوامی مسا ئل کا حل ہو سکتا ہے ۔اور اسی طرح مقامی حکومتوں کے نظام کے کو رائج کیے بغیر بھی عوام کے مسا ئل حل نہیں ہو سکتے ۔مقامی حکومتیں تو ویسے بھی آئین پاکستان کے تحت لازمی ہیں ۔لیکن کس شکل میں ہوں ان کی نو عیت کیا ہو یہ آ ئین میں درج نہیں ہے ۔اگر ملک میں مقامی حکومتوں کو ترقی دی جائے اور یہ حکومتیں خود اپنے وسائل کا بند وبست کریں تو پھر نہ کسی کو اپنے کام کروانے کے لیے لا ہور جانے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی کسی کو کراچی ،کو ئٹہ یا پشاور کا رخ کرنے پڑے گا ۔
تمام مسائل ہوتے ہی مقامی ہیں چاہے وہ تعلیم کا مسئلہ ہو یا پھر صحت کا یا وہ مسئلہ امن اور امان کی صورتحال کا ہو اور مقامی سطح پر ہی ان مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکتا ہے ۔ایک مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام کی موجودگی میں نہ تو نئے اضلاع کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی نئے صوبوں کی ۔اگر خان صاحب ڈیلیور کرنے میں کا میاب ہو نا چاہتے ہیں تو مقامی حکومتوں کے نظام کو رائج کرنے اور ان کی مضبوطی کے لیے ہر قدم اٹھا ئیں ۔اگر مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے اور ان کو وسائل فراہم کیے جاتے ہیں تو پاکستان کے مسائل کوئی آسمان سے اترے ہوئے مسائل نہیں ہیں جوکہ حل نہ کیے جا سکیں ۔ابھی تک پاکستان میں بد قسمتی سے عوام کے نصیب میں حقیقی مقامی حکومتوں کا نظام آیا ہی نہیں ہے اور اس سلسلے میں تمام حکومتیں ناکام رہی ہیں اور اس حوالے سے وہ کام نہیں کر سکیں جو کہ ان سے امید تھی ۔مقامی حکومتوں کے نظام کے بغیر عوام خوشحال نہیں ہو سکتے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭

مافیا میں گھرا ملک

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
حکومت ڈلیور کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور مافیاز کی مسلسل سرپرستی کرکے عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ اب یہ غریب عوام کے لئے ایک خطرہ بن گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کے لئے دی جانے والی وضاحتیں معاشی حالات، وائرس اور تبدیلی بھگتنے والے عوام سے دھوکہ اور انکے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔حکومت بوکھلاہٹ، بد نظمی، بد انتظامی اور افراتفری کا شکا رہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں27 سے 66 فیصد تک ہوشرباءاضافہ کرتے ہوئے اوگرا کو بھی بائی پاس کیا گیا جو غیر آئینی ہے۔ اس اضافہ سے عام آدمی کا تیل نکل جائے گااور وہ حکومت کی تسلیوں کے باوجود گھبرانے پر مجبور ہو جائے گا۔ گزشتہ ستائیس دن سے ملک میں تیل کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والی پٹرولیم مافیا کے خلاف کاروائی بند کرنے اور قیمتیں بڑھنے سے عوام کو انکے اثرورسوخ کا اندازہ ہو گیا ہے اور وہ مستقبل میں اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی سے مایوس ہو گئے ہیں۔ مافیا کے خلاف اعلانات تو بہت کئے گئے مگر موثر کاروائی نہیں ہو سکی جس سے شوگر مافیا، گندم مافیا، بجلی مافیا ، فارما مافیا، آئل مافیااور دیگر گروپوں کا حوصلہ بڑھا ہے اور انھیں جلد ہی کلین چٹ مل جائے گی۔عوام ہی پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرنا تھی بلکہ ڈرامہ ہی کرنا تھا تو انکے خلاف تحقیقات پربھاری اخراجات کیوں کئے گئے اور عوام کو برباد کرنے والوں کے خلاف قانون مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کیوں ثابت ہوا۔ ۔آئل مافیا کی خواہش پرتیل کی قیمت ڈی ریگولیٹ کی گئی تو یہ بے رحم مافیا عوام کو خود کشی پر مجبور کر دیگا ۔حکومت کے پاس تیل کی قیمت بڑھانے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔ اور عوام، کاروباری برادری اور اپوزیشن کی تنقید درست ہے جس کا موقع حکومت نے خود فراہم کیا۔
کرونا وائرس عوام اور معیشتوں کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ خوف اور بے یقینی کی وجہ سے دنیا بھر میں عوام کی عادت میں بنیادی تبدیلی آئی ہے جو مینوفیکچرنگ سمیت معیشت کے مختلف اہم شعبوں کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ اب عوام کی اکثریت میں بچت کا رجحان بڑھ گیا ہے اور صرف بنیادی ضرورت کی اشیاءکے حصول پر اخراجات کئے جا رہے ہیں جو معیشت کی ترقی کے لئے ناکافی ہے۔لوگ اب سخت ضرورت کی وجہ سے باہر نکلتے ہیں اور گاڑیوں، کپڑوں، جوتوں، میک اپ، گھومنے پھرنے، ہوٹلوں اور بیکریوں پرخرچہ نہیں کر رہے ہیں جس سے ایندھن کا استعمال بھی کم ہو گیا ہے جبکہ گھروں میں رہنے کی وجہ سے انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے ۔اب بہت سے لوگوں کا رجحان صحت ،خیرات، صدقات ،عبادات کی طرف ہو گیا ہے جبکہ آن لائن فلموں اور ڈراموں کو دیکھنے کا رجحان بھی تقویت پا رہا ہے۔ہوٹلوں میں کھانے کی 66 فیصداور ایندھن کے استعمال میں 35 فیصد کمی آئی ہے۔ پاکستان میںدیگر اہم شعبوں کی طرح سیمنٹ کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں جبکہ بھارت میںسیمنٹ کی پیداوار 86 فیصد چین میں 30 فیصداور برطانیہ میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔ان حالات میں غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی توپاکستان کا پیداواری شعبہ مزید کمزور ہو جائے گا۔ دنیا کی تئیس فیصد آبادی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں رہتی ہے اوردنیا کے بدترین فضائی آلودگی والے شہر بھی انہی ممالک میں واقع ہیں۔ فضائی آلودگی موسم سرما میں بڑھ جاتی ہے جس سے کرونا کے کیس بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اب میں کچھ بات کرنا چاہوں گا بجٹ کے حوالے سے حکومت نے بجٹ منظور تو کروالیا ہے لیکن بجٹ کے حوالے سے کاروباری طبقے کے بہت سے خدشات اب بھی موجود ہیں ۔بجٹ کی بنیاد مفروضوں اور ناقابل عمل تخمینوں پر رکھی گئی ہے اور یہ معیشت کو کساد بازاری اور دیگر مسائل سے نہیں نکال سکے گا۔تین کھرب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کرنا معیشت کے لیے ذمہ دارانہ عمل نہیں ہے ۔گھٹتے وسائل اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا نتیجہ قرضوں اور خسارے کی صورت میں نکلے گا۔اس حکومت نے قرض نہ لینے کے وعدے کیے تھے وہ وفا نہیں ہو سکیں گے ۔ اور ملک مزید مشکلات میں گھرتا چلا جائے گا ۔ وفاقی حکومت محاصل کی مد میں 3.9 کھرب روپے کماتی ہے جس میں سے 2.9 کھرب روپے قرضوں اور واجبات میں چلا جاتا ہے اور حکومت کے پاس غربت کے خاتمہ یا عوام کی فلاح کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں ہے۔پبلک سیکٹر کی ترقی کے لئے چھ سو پچاس ارب روپے بہت کم ہیں جبکہ محاصل کا ہدف ایسی صورتحال میں بڑھایا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی سکڑ رہا ہے۔ اخراجات اور وسائل کا تخمینہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتااور نہ ہی حالیہ اقدامات سے حکومت کاروباری برادری کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی ۔ کاروباری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے میں پہلے بھی کئی کالمز میں یہ کہہ چکا ہوں کہ حکومت کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کی ضرورت ہے تاکہ پیدا واری لاگت میں کمی ہو سکے ۔ٹیکسٹائل کی برآمدی مارکیٹ چالیس فیصد تک سکڑ چکی ہے جس سے عہدہ برا ہونا ایک چیلنج ہو گا۔
ا ب میں معیشت کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ پر روشنی ڈالوں گا ایس آر اوز کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے ۔ ایس آر او کلچر ملک کی اقتصادی ترقی اورملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس سے جتنی جلدی ممکن ہو جان چھڑائی جائے۔ ملک میں کارٹیلز کی بنیاد یہی ایس آر اوز ہیں۔نوے کی دہائی میں سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے کے ذریعے ایس آر او کلچر کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد وفاداریاں خریدنا اور پارٹی فنڈ دینے والے سرمایہ داروں کو نوازنا تھا جس نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ملک قرضوں کی دلدل میں پھنستا چلا گیا ہے۔
اس وقت معیشت کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں ایس آر اوز کابے دریغ اور اندھا دھند استعمال نہ کیا جارہا ہو۔ اس میںٹیکسٹائل، پلاسٹک، کیمیکل، آٹوموبائل، آئرن اینڈ سٹیل، ٹرانسپورٹ، آئل اینڈ گیس، شوگر اور فلٹر وغیرہ شامل ہیں جس میں ایس آر اوز اور ڈیوٹی ڈرا بیکس کا بازار گرم ہے جس سے مخصوص شخصیات اور گروپس کو فائدہ پہنچا تاہم سرمایہ کاری اور صنعتکاری رک گئی ، روپیہ کی قدر گھٹتی چلی گئی ، کشکول بڑا ہوتا گیا اور معیشت بیٹھ گئی۔ ان اقدامات نے معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ اس گھپلے بازی سے کاروباری برادری مسابقت کے صاف ستھرے ماحول سے محروم ہو گئی ، برآمدات گرتی چلی گئیں، ملکی درآمدات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیںاور پیداوار کم ہو گئی، اہم قومی صنعتیں معیشت پر بوجھ بن گئیں جبکہ بعض افراد راتوں رات ارب پتی بن گئے۔
جب ریفنڈ واپس کرنا ہوتا ہے تو لیا ہی کیوں جاتا ہے اس لئے اس پریکٹس کو ختم کیا جائے اور ساتھ ہی ڈیوٹی ڈرا بیکس کا سلسلہ بھی ختم کیا جائے کیونکہ یہ بھی کارٹیل کی ایک شکل ہے ۔ ایک پراڈکٹ کو برآمد کے مرحلہ تک پہنچنے میں جو جی ایس ٹی لگتا ہے اسے تبدیل نہ کیا جائے اور برآمد کے وقت بل آف لیڈنگ کی روشنی میں چار سے پانچ فیصد ٹیکس وصول کیا جائے تاکہ حکومت کو اضافی ریونیو بھی مل جائے اور برآمد کنندہ کو ریفنڈ کے لئے سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں ۔اس سے کاروباری برادری اور حکومت دونوں کو بہت فائدہ ہو گا ۔حکومت کو اگر واقعی عوام کا بھلا چاہتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ اس غیر معمولی معاشی صورتحال میں عوام کو ریلیف ملے تو حکومت کو درپیش معاشی مسائل کے آﺅٹ آف باکس حل نکالنے ہوں گے ۔
( کالم نگار پاکستان میں گھانا کے قونصل جنرل اور
سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں )
٭….٭….٭

خبر سے نکلتی خبریں

چوہدری ریاض مسعود
پاکستان کی سیاسی تاریخ سیاسی رسہ کشی، سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، سیاسی دشمنی اور سازشوں ،سیاسی گرما گرمی، سیاسی مفادات اور سیاسی گھٹ جوڑ سے بھری پڑی ہے، یہاں عوام کے ساتھ اسلام، سیاست، انصاف اور جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا ہے اس سے یہاں جمہوری ادارے، اقدار اور جمہوری کلچر فروغ ہی نہیں پاسکا، ہمارے سیاستدانوں کے ذاتی مفادات پر مبنی غیر جمہوری طرز عمل اور رویے نے یہاں آمرانہ قوتوں کو پنپنے کے مواقع فراہم کیے، حضرت قائداعظم کی وفات اور قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد یہ سیاسی ناٹک تیزی سے پروان چڑھا، کرسی کا حصول اور کرسی سے گرانے کا غیر جمہوری کھیل ہماری سیاست میں سرائیت کرگیا جس کی وجہ سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا یا تبدیل کروانا، ووٹوں کی خرید و فروخت ،سیاسی انتقام ،سیاسی مفادات، ہارس ٹریڈنگ ،سیاسی لوٹا ،سیاسی رشوت، عہدوں اور پرموٹوں سے نوازنے ،خلائی مخلوق ،ان دیکھی قوتیں، اسٹیبلشمنٹ، ایمپائر کی انگلی اور اسی طرح کی دوسری اصطلاحات ہماری سیاسی ڈکشنری کی زینت بنیں، پہلے پہل سیاسی او رموسمی پرندے رات کے اندھیرے میں اپنے گھونسلے بدل لیتے تھے لیکن اب انکے انداز بھی بدل چکے ہیں اور وہ دن کی روشنی میں بھی ادھر ادھر اڑتے نظر آتے ہیں، حیراں کن مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے یہ ناٹک کھیلتے ہیں، کسی کو بھی ملکی مفادات، عوام کی مشکلات اور فلاح کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، یقینا سیاست اور جمہوریت کے کچھ اصول، ضابطے اور اقدار ہیں لیکن ہمارے سیاستدان ان کو روندتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کا کھیل بڑے فخر سے کھیلتے ہیں۔
اگر ہم اپنی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ قرضوں میں جکڑے اس ملک میں سیاسی جنگ کا ”طبل“بچ چکا ہے اور سیاسی ”ہا ہاکار“کاشور بلند ہورہاہے، جسکی وجہ سے موسمی پرندے ادھر ادھر اڑ رہے ہیں، یہ وہ پرندے ہیں جو ہمیشہ اقتدار کی گھنی چھاو¿ں کے نیچے پناہ لیتے ہیں، انکی سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا کہ وہ اب کس شاخ پر بیٹھیں، مائنس ون، مائنس پی ٹی آئی، مائنس اپوزیشن، مائنس نوازشریف ، مائنس آصف زرداری کا عدم اعتماد اور نہ جانے کون کون سی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، سیاسی رسہ کشی کے اس ماحول میں بھی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، ابھی گذشتہ دنوں ان پرپٹرول بم گرایا گیا ہے جس سے یہ اب تک سنبھلنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے، حکومت کرونا وائرس کی آڑ میں اپنے اداروں میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کے چکروں میں پڑی ہوئی ہے، پاکستان سٹیل ملز جیسے اہم قومی دفاعی ادارے کو بحال کرنے کی بجائے اسکی نجکاری کا ڈول ڈالا جاچکا ہے، جس سے تقریباً دس ہزار کے لگ بھگ ملازمین بیروزگار ہوچکے ہیں، جبکہ سیاحت کے فروغ کا دعویٰ کرنیوالی حکومت نے اچانک پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے 30ہوٹلز بند کرکے 4سو سے زائد ملازمین کو برطرف کردیا، جبکہ پاکستان کی قومی ایئرلائن کا روز ویلٹ ہوٹل نیویارک نجکاری کے طوفان سے بمشکل بچا ہے، کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے اپنی حالیہ میٹنگ میں اس ہوٹل کو اب ”جائنٹ ونچر“ کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بات افسوسناک ہے کہ پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونےوالے پائلٹوں کی وجہ سے جہاں یہ ادارہ مزید بحران کا شکار ہوگیا ہے وہاں ایوی ایشن کی دنیا میں پاکستان کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، حکومت نے اب تک جعلی ڈگریوں کے حامل 236پائیلٹس کو برطرف کردیا ہے جبکہ دنیا کے کئی ممالک کی ایئرلائنز نے بھی پاکستانی پائیلٹس کی چھٹی کروادی ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے شہری ہوابازی کے وزیر پر جعلی ڈگری کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے، یعنی یہاں ”آوے کا آوا“ ہی بگڑا ہوا ہے، ہمارے درجنوں سیاستدانوں پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات بھی مختلف سطح کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، ان دنوں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی رسہ کشی اور کرپشن کرپشن کی جنگ زوروں پر ہے، ہمارے سیاستدانوں کے وعدوں دعوو¿ں اور قول و فعل میں تضاد کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوچکا ہے، ابھی حال ہی میں وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد میں ماحول کے تحفظ کے بارے میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے بہت سے اقدامات کررہی ہے، عین اسی وقت ہی حکومت نے ایک اہم قومی سیاحتی ادارے (پی ٹی ڈی سی) کے تمام موٹلز بند کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا، قارئین کی معلومات کیلئے عرض ہے کہ اس ادارے کے یہ موٹلز پاکستان کے اہم سیاحتی مقامات پر قائم تھے جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح قیام کرتے تھے، حکومت کے اس ”شاہی حکم نامے“ سے سیاحتی دنیا اور سیاحوں کو کیا پیغام ملے گا؟اپنی انتظامی اور مالیاتی کوتاہیوں اور غلطیوں کی اصلاح کرنے اور اپنے معاملات کو درست کرنے کی بجائے سینکڑوں ملازموں کو نوکریوں سے برطرف کرکے موٹلز کو ہی بند کردینا کہاں کی دانشمندی ہے؟
حالانکہ پاکستان کی باشعور اور بیدار قوم حکومت کی ہر چال اور ہتھکنڈوں سے پوری طرح آگاہ ہے، شاید اسی لئے حکومت انہیں مہنگائی کی چکی میں پیس کر حساب برابر کررہی ہے، حکومت کی کمزوریوں اور ناقص انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے آٹا سکینڈل، چینی سکینڈل، پٹرول سکینڈل، مہنگائی اور پھر بیروزگاری جیسے بحران جنم لیتے ہیں، سیاسی اور مالی مفادات کے حصول کا یہ ناجائز دھندا ہمیشہ جمہوریت کی آڑ میں ہی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا نرم و نازک پودا نشونما پانے کی بجائے مرجھایا سا نظر آتا ہے، ہمارے سیاستدانوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہاں کئی بار جمہوریت کو مارشل لاءکی چھڑی سے بھی چلایاگیاہے، اور کئی معروف سیاستدانوں پر مارشل لاءکی پیدوار کے ٹیگ بھی لگ چکے ہیں۔
حکومت کے اپنے اقتصادی سروے 2019-20 اور ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹس ملک کی معیشت کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہیں، عوام کا دل خود ساختہ اعداد و شمار اور ترقی و خوشحالی کے خالی خولی نعروں سے نہیں بہلایاجاسکتا، ماحول کے تحفظ ، 15نیشنل پارک کے قیام کے منصوبے ،سیاحت کی ترقی او ر بڑے شہروں کے ماسٹر پلان کی باتیں کی جارہی ہیں، اچھی بات ہے کہ ملک میں براہ راست ریکارڈ سرمایہ کاری کا دعویٰ بھی خوش کن ہے ، شرح سود میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ یقینا خوش آئند اقدام ہیں ، سی پیک کے تحت نئے منصوبوں کا آغاز ، دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر، احساس پروگرام کے تحت اربوں روپے کی رقوم کی تقسیم ، جنوبی سیکرٹریٹ کا قیام، 5سو بلین قرضے کی واپسی ، وزیراعظم ہاو¿س کے اخراجات میں 30فیصد کمی یقینا حکومت وقت کی کارکردگی کی جھلک پیش کرتے ہیں، لیکن اس ملک کی عوام کو کیا ملا؟ کیا ملک سے مہنگائی اور بیروزگاری ختم ہوگئی؟ کیا لوڈشیڈنگ اور توانائی کا بحران حل ہوگیا، کیا کنسٹریکشن انڈسٹری کو مراعات در مراعات دینے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے، کیا کنسٹریکشن انڈسری سے متعلقہ 40شعبوں نے مثبت انداز میں ترقی کی، کیا زراعت اور کسانوں کے مسائل حل ہوئے، کیا سندھ اور بلوچستان کے تحفظات دور ہوئے، کیا ملک میں سیاسی استحکام آرہاہے، کیا عوام خاص کر دیہی علاقوں کی عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر آگئی ہیں؟ یہ بات یقینی ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن صدق دل سے اکٹھے ہوکر ملک کے مسائل کو حل کرنے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے قدم بڑھائے تو ہر سطح پر تبدیلی اور ترقی ممکن تھی لیکن افسوس صد افسوس ایسا نہیں ہوا اور موجودہ سیاسی حالات کو دیکھ کر سیاسی اتحاد و اتفاق دور دور تک نظر نہیں آتا جو یقینا جمہوریت کیلئے نیگ شگون نہیں ہے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت

میاں حبیب اللہ
کرونائی ماحول میں سماجی دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ کاروبار سکڑ رہے ہیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں اضطراب پایا جاتا ہے ہر طرف مندی کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے لیکن ایسے ماحول میں بھی کاروبار سیاست میں ٹریڈنگ کا گراف بڑھ رہا ہے کوئی اپنا ریٹ لگوا کر اپنی مارکیٹ ویلیو چیک کر رہا ہے تو کوئی مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت اپنی سیاست کو محفوظ بنانے کی سرمایہ کاری کر رہاہے کوئی اپنی بقا کےلئے سیاسی مارکیٹ میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے تو کوئی کسی کو گرا کر آگے بڑھنے کی تگ و دو کر رہا ہے کچھ لوگ ایسے ماحول میں سیاسی بلیک میلنگ کے چکروں میں ہیں کچھ سیاسی مجبوریوں سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں گویا کہ کاروبار سیاست عروج پکڑ رہا ہے لیکن اس خرید و فروخت کے ماحول میں اخلاقیات اچھی روایات نظم و ضبط رکھ رکھاﺅ سیاسی اصول ضابطے سب دفن کر کے مفادات کو پروان چڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔
تازہ خبر ہے کہ پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے کچھ لوگوں نے تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ عثمان خان بزدار سے ملاقات کی ہے ویسے تو یہ ارکان اسمبلی پہلے بھی وزیراعلیٰ سے مل چکے ہیں اس وقت یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ یہ ابتدا ہے آگے چل کر بہت کچھ عیاں ہونے والا ہے لیکن لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تھی اور خرید و فروخت پر سٹاپ لگ گیا تھا اور کچھ عرصہ تک سیاسی منڈی میں خرید و فروخت بند رہی لیکن بدلتے حالات کے تحت جب اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومتی اتحادیوں کو سبز باغ دکھانے شروع کیے اور یہ تاثر دیا جانے لگا کہ وہ حکومت کے اتحادیوں کو توڑ کر نئی حکومت بنا سکتے ہیں اور نئے سیٹ اپ میں اتحادی جماعتوں کو کلیدی کردار دیا جائےگا جس حکومتی اتحادیوں کی اہمیت مزید دو چند ہو گئی اتحادیوں نے مارکیٹ ویلیو کے مطابق اپنے رویے بھی تبدیل کر لیے خصوصی طور پر وفاق میں جب عطا اللہ مینگل نے اپنی جماعت کو حکومت سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا اور ان کی تقلید میں شاہ زین بگٹی بھی میدان میں آگئے تو باقی اتحادیوں کی مارکیٹ ویلیو اور زیادہ بڑھ گئی اور انھوں نے بھی حکومت کو نخرے دکھانے شروع کر دیے۔ حکومت اتحادیوں کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن جس طرح ساس اور بہو ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے لاکھ کوششوں کے باوجود مطمئن نہیں ہوتیں اسی طرح اقتدار کے مزے لوٹنے کے باوجود حکومت اور ان کے اتحادی ایک دوسرے سے مطمئن نہیں ہو رہے۔ اتحادیوں کی کوشش ہے کہ وہ حکومت سے زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کر لیں ۔اس میں اختیارات، فنڈز اور علاقائی بالادستی شامل ہے ایسے میں حکومت نے بھی اصولوں کے برعکس مارکیٹ میں دستیاب متبادل پر سرمایہ کاری شروع کر دی ہے ۔
وفاق اور پنجاب میں اپوزیشن کے متعدد ارکان اسمبلی حکومتی رابطوں میں آچکے ہیں اور وہ اپنی خدمات انتہائی سستے داموں پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ان میں زیادہ تر ارکان اسمبلی یہ چاہتے ہیں کہ ان کے علاقوں میں انتظامیہ اور پولیس کو ان سے تعاون کی ہدایت کر دی جائے تاکہ وہ اپنے ووٹروں سپورٹروں کے کام کروا سکیں اور آئندہ اپنی کامیابی کی راہ ہموار کر سکیں ان ارکان اسمبلی میں زیادہ تر تعداد مسلم لیگ ن کی ہے جو اپنی قیادت کی سرد مہری سے تنگ آ چکے ہیں جو اپنے معاملات کے لیے ہرقسم کی ڈیل اور تعاون کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں ایسے میں ارکان اسمبلی بھی کسی انڈر سٹینڈنگ میں کوئی برائی نہیں سمجھتے یہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ سیاسی خریداری کر کے سیاست کا جنازہ نکالنا چاہتے ہیں یا ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کر کے معاملات کو چلتے رہنے دینا چاہتے ہیں تمام سیاسی گروپ سیاسی خرید و فروخت سے اجتناب کریں ورنہ جوڑ توڑ کی سیاست میں ایسا گند پڑےگا کہ کسی سے سنبھالا نہ جائےگا۔
سیاسی نظام پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے اس سے عوام میں مزید بیزاری کی لہر آئے گی جس کا نقصان بہر حال سیاستدانوں کو اٹھانا پڑے گا لہٰذا ایک دوسرے کا بھرم رہنے دیں کیونکہ کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہونے کے علاوہ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا لڑائی اصولوں اور ضابطوں کے مطابق ہی لڑی جائے تو اچھی ہے اصولوں ضابطوں کے برعکس لڑی جانے والی لڑائی میں سب کی تباہی ہے خدارا ملک میں سیاسی افکار کو مضبوط ہونے دیں ایسی لڑائیوں سے نااہلیاں چھپ جاتی ہیں اور عوام کو دوبارہ بے وقوف بنانے کے کئی جواز سامنے آجاتے ہیں ماضی میں اسی خریدوفروخت کی وجہ سے ہم کئی دہائیاں ضائع کر چکے ہیں۔
(کالم نگار قومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

پروفیسر حمید کوثر: ایک ولی صفت استاد(2)

حافظ شفیق الرحمن
پروفیسر صاحب دیسی کھانوں کے شوقین تھے گجریلا، گاجر کا حلوہ، چھوٹے پائے،قورمہ، مٹن کڑاہی کھیر اور فرنی رغبت سے کھاتے۔کھیر اور فرنی تو خود بناتے۔ مٹھائیوں میں انہیں پتیسہ اور موتی چور کے لڈو پسند تھے۔ مہینے میں دوتین مرتبہ گھر میں مٹھائی خرید کر لاتے۔ وہ ہمیشہ نرالا سویٹ ہاﺅس یا جالندھر موتی چور ہاﺅس سے مٹھائی خریدتے۔پھلوں میں آم، سیب، خربوزہ، آلو بخارا، انگور اور انجیر انہیں پسند تھے۔چائے کے تو وہ رسیا تھے ۔ سردیوں کی راتوں میں صدر بازار میںشریف بٹ نانبائی کی دکان پر محفل جمتی اور چائے کے دور پر دور چلتے۔ گرمیوں کی راتوں کو جب دوست اور احباب اکٹھے ہوجاتے تو صدربازار کے حبیب بنک کے لان میں سب گھاس پر براجمان ہوجاتے۔ بسا اوقات اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بھی محفل آراستہ کرتے۔ یہ محفل ذرا مختلف ہوتی، یہ صرف محفل کلام ہی نہ ہوتی بلکہ مجلسِ طعام بھی ہوتی ۔ موسم سرما میں ماحضر کے علاوہ ڈرائی فروٹ سے بھی شرکاءکی تواضع کی جاتی۔ طعام و کلام کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہتا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کے علاوہ یہ محفل روزانہ کی بنیاد پر ہوتی۔اس محفل کے برس ہا برس تک میزبان پروفیسر صاحب ہی رہے۔ لغت نے تویہی بتایا تھا کہ ایک دن مہمان، دو دن مہمان تیسرے دن بلائے جان ۔میں نے ایک دن ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو فرمایا : لغت تو یہی کہتی ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ حضور نبی کریم کا فرمان حرف آخر ہے کہ امارت دل کی امارت ہوتی ہے ، اگر دل کشادہ ہوتو دستر خوان ازخو د وسیع ہوجاتا ہے، میرے نزدیک اگر یہ بات دل میں راسخ ہوجائے تومہمان سارا سال بھی آتے رہیں تو ان کی آمدباعثِ برکت اور موجبِ رحمت ہوتی ہے ۔ قرآن،سیرت، تاریخ،سیاست، حالاتِ حاضرہ،رواں سیاسی تحریکیں،سماجی مسائل، نفسیات، فلسفہ، شاعری، تاریخ ،ادب اور اکابرشخصیات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی۔ ان محافل کے برس ہا برس کے سامع کی حیثیت سے میں نے کبھی میزبان یا مہمان کسی کے ہونٹوں پر فحش بات تو دور کی بات ہے، کبھی گالی تک نہیں سنی۔ ان محافل کے باقاعدہ شرکاءمیں ازہر درانی، ساجد پال ساجد،عابد رفیق چودھری مرحوم ، محمود اختر انصاری، حاجی مجید، سرفراز بھٹی، سعید مقصود، کرنل ڈاکٹر عبدالرشید، شریف بٹ اور ان کے دسیوں سابق شاگرد موجود ہوتے ۔یہ محافل رات دیر گئے جاری رہتیں۔ میں1978ءسے ان محافل میں شرکت کے لیے نمازِ عشاءکے بعدراج گڑھ سے ڈھاکہ روڈ پہنچتا، یہ سلسلہ 1982ءتک جاری رہا۔ رات کے ڈیڑھ دو بجتے تو میر محفل فرماتے میرا خیال ہے کہ اب محفل بر خاست کردی جائے۔ سب ان کی رائے سے اتفاق کرتے۔ کوئی کار، کوئی سکوٹر اورمیں سائیکل پر دل و دماغ کی جھولیاں تبرکاتِ علمی کے نوادرات سے بھر کر لوٹتا۔یہ محافل محض گپ شپ اور پرسشِ احوال کی روایتی محافل نہ ہوتیں بلکہ ان محافل کا مقصد نسل ِنو اور احباب کی ذہن سازی اور کردار سازی ہوتا۔دوران ِ گفتگو بار بار وہ نوجوانوں کو سیرت طیبہ کے مطالعہ کی دعوت دیتے۔عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالتے۔ اس معاملہ میں وہ بہت حساس اور راسخ العقیدہ تھے لیکن حقائق و شواہد اور دلائل و براہین کی روشنی میں ثابت کرتے کہ منکرینِ ختم نبوت پاکستان اور اسلام کے غدار ہیں۔یہ مسلمانوں کا فرقہ نہیں بلکہ مرتدہیں ۔یہ آئین ِپاکستان کے باغی ہیں اور ریاست کے دشمن ہیں ۔ وہ اکابرین ملت اور بانیان پاکستان اور نظریہ¿ پاکستان کے حوالے سے انتہائی جذباتی تھے ۔ ان کی پسند اور ناپسند واضح ہوتی ۔ دل میں بغض نہیں رکھتے تھے۔ان کی ملاقاتیں پروفیسر علم الدین سالک، پروفیسر مرزا منور، پروفیسر وقار عظیم، احمد ندیم قاسمی،مجید نظامی، ڈاکٹر خواجہ ذ کریا،پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد،ڈاکٹر رشید چودھری بانی فاﺅنٹین ہاﺅس، جسٹس آصف جان،جنرل اعظم مرحوم، بریگیڈئر صاحبداد خان اورجنرل سوار خان سے بھی رہیں۔ ان کے چہیتے شاگردوں میں سابقہ امین و فطین اور ذہین بیوروکریٹ ، صحافی، ادیب اور حاضر طبع شاعرحسین ثاقب بھی نمایاں ہیں۔
ایک کامل الفن شاعر ہونے کی حیثیت سے وہ اردو اور فارسی کے متقدمین، متوسطین اور متاخرین شعراءکی شاعری پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ انہیں شکوہ تھا کہ اردو کے تمام ادوار کے شعراءتصورات ہی نہیں لفظیات تک عجمی شعراءکی اندھا دھند پیروی کرتے ہیں۔ عجمی افکار و تصورات سے متاثر ہو کر وہ دینی شعائر کا تمسخر اڑاتے اور ان کی محافظ دینی شخصیات کی تضحیک کو اپنا فرض منصبی اور شعری تقاضا تصور کرتے ہیں۔ ان کی غزل اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ زاہد، واعظ، ناصح، صوفی، ملا، فقیہ ، محتسب،شیخ حرم، ایمان، جنت، مسجد، منبر،فرشتوں، حرم اور محراب کا مذاق نہ اڑا لیں۔ ان کا نقطہ نظر تھا کہ رعنائی خیال کے نام پر دینی اقدار و افکار اوران کی کسی بھی نوع کی تبلیغ کرنے والی شخصیات کو مذاق کا نشانہ بنانا بالواسطہ دین کا ٹھٹھا اڑانے کے مترادف ہے۔ وہ اسے ایک عجمی سازش سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ وہ اس امر پر اظہار تاسف کیا کرتے کہ اردو شاعری کی تراکیب، اصطلاحات، استعارات، تشبیہات، لفظیات حتی کہ خیالات بھی عجمی شاعری سے مستعار لیے گئے ہیں۔ کاش اردو زبان کے متقدمین، متوسطین اور متاخرین شعراءنے بعد از اسلام عرب شاعری کا مطالعہ کیا ہوتا۔ وہ بڑے فخر و انبساط کے ساتھ بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے حتی المقدور عجمی شعر و سخن کی مروجہ ساختیات سے شعوری طور پر اجتناب برتا ہے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ کلام ”فاتح لکشمی پور“ میجر طفیل شہید نشان حیدر کی منظوم سوانح ہے۔ ان کی غزلیات کا مجموعہ ”سر دلبراں“ ہے۔انہوں نے شاعری کی ہر صنف سخن پر استاذانہ طبع آزمائی کی۔ خلاقانہ طباعی، جدتِ خیال، حسن تغزل، رعنائی تخیل اور ندرتِ فکر و نظر ان کی شاعری کا سولہ سنگھار ہیں۔ شاعری میں ان کے اولین استاد خیام العصر علامہ فخری تھے۔ اولین دور ہی میں ان کا رابطہ ابو الاثر حفیظ جالندھری سے ہوا۔ تا دم آخر اپنی کسی بھی نظم یا کلام کو حلقہ ¿ احباب، مشاعروں اور ریڈیو پر پڑھنے سے پہلے ابو الاثر حفیظ جالندھری کو بہ غرضِ اصلاح سنایا کرتے ۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ استادِ محترم کے استادِ گرامی ابو الاثر حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام لکھا اور فردوسی¿ اسلام کا لازوال خطاب پایا۔ شاہنامہ اسلام اُردو شاعری میں ایک لاثانی اور منفرد تخلیق کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے ملوک و سلاطین کا قصیدہ لکھنے کے بجائے حضور اکرم کی حیات طیبہ کو انتہائی دلنشیں اور دلپذیر پیرائے میں نظم کے پیراہن میں لکھا۔ فردوسی¿ اسلام ابو الاثر حفیظ جالندھری اور فردوسی¿ ایران میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فردوسی ایران نے ایران کے سفاک، جابر، مستبد، ظالم، متکبر، ہوس پرست، زر پرست، نشاط پرست ایرانی بادشاہوں کے حضور ”گلہائے عقیدت“ پیش کر کے انہیں بڑی شخصیات کے روپ میں پورٹرے کیا۔ اس امر کا ذکر خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ فردوسی نے جب اپنا شاہنامہ غازی¿ اسلام اور سومنات شکن محمود غزنوی ؒ کے بیٹے مسعود غزنوی جو صاحب کشف المحجوب حضرت علی ہجویریؒ کے مرید خاص تھے، کے سامنے پیش کیا تو اس نے فردوسی کو دربار سے نکل جانے کا حکم دیا۔
آپ کو یہ جان کر یقینا حیرت ہو گی کہ میرے فکری و معنوی مرشد جناب حمید کوثر ابو الاثر حفیظ جالندھری کے متبنیٰ تھے۔ پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری مرحوم نے اُن کی بے پایاں ارادت مندی، بے کراں سعادت مندی، فراواں فرمانبرداری اور نمایاں خدمت گزاری کے باعث انہیں یہ رتبہ¿ بلند اور اعزازِ لازوال عطا کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابوالاثر جناب حفیظ جالندھری کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ اُن کا انتقال 21 دسمبر 1982ءکو ہوا اور انہیں ماڈل ٹاو¿ن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ اُن کی خواہش تھی کہ اُن کی تدفین علامہ اقبالؒ کے مزار کے قرب و جوار میں کی جائے لیکن بوجوہ اُن کی اس خواہش کا احترام نہیں کیا جا سکا۔ تاہم جناب حمید کوثر نے اپنی کوششیں اور کاوشیں جاری رکھیں۔ یہ کریڈٹ یقینا سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو جاتا ہے کہ اُن کے دوسرے عہد حکومت میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق کی میت کو مینار پاکستان کے وسیع و عریض سبزہ زار کے ایک گوشے میں دفن کیا گیا۔ وہ تحریک پاکستان کے رہنما کی حیثیت سے پہلی شخصیت ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ میاں شہباز شریف کی حکومت پنجاب نے مینار پاکستان میں اُن کا خوبصورت مقبرہ تعمیر کیا۔ مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ماڈل ٹاو¿ن کے قبرستان سے مینار پاکستان کے زیر سایہ سبزہ زار میں ابو الاثر حفیظ جالندھری کی تدفین کے لیے بنیادی اور کلیدی کوشش اُن کے منہ بولے بیٹے ہی نے کی۔ انہوں نے حفیظ جالندھری کے متبنیٰ ہونے کا حق ادا کیا۔ اس ضمن میں اُن کی کوششوں اور مساعی کو دیکھتے ہوئے یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ اگر ابو الاثر کا حقیقی بیٹا بھی ہوتا تو وہ یہ کارنامہ ادا نہ کر پاتا۔ سچ کہا تھا شاعر نے ’یہ رتبہ¿ بلند ملا جس کو مل گیا‘۔ پروفیسر حمید کوثر صاحب کے معنوی و روحانی والد نے شاہنامہ اسلام4جلدوں میں سپرد قرطاس کیا تو بعد ازاںان کے معنوی و روحانی بیٹے نے شاہنامہ اسلام کی پانچویں جلد مکمل کرنے کا عزم کیا۔ اس پر وہ کام کر رہے تھے کہ زندگی نے وفا نہ کی۔ وہ حقیقتاً اپنے روحانی والد کے مشن کے پرچم بردار تھے۔ اُن کا وجود سر تا پا پاکستان تھا۔ یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ پروفیسر صاحب کے روحانی والد جناب حفیظ جالندھری اگر فردوسی¿ اسلام تھے تو اُن کے فکری و معنوی فرزند استاذی المکرم حمید کوثر صاحب مرحوم کو جوہر شناسوں نے فردوسی¿ پاکستان اور شاعر نظریہ پاکستان کا خطاب دیا۔ (ختم شد)
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

دینی علوم کو محفوظ رکھنے کا کام ہمارے علماءنے کیا

پیارے پڑھنے والے اورنگزیب عالمگیر کے بعد مغلوں کی اسلامی سلطنت کے ٹکڑے ہونے لگے اور کچھ عرصہ بعد انگریزوں نے جو تجارت کے بہانے آئے تھے کمپنی قائم کرکے اور مقامی عصبیتوں کو جگاکر ہندوستان کے اہم علاقوں پر قبضہ شروع کیا ،میں سمجھتا ہوں کہ مغل بادشاہوں میں سے بھی اکبر تو خود لادین تھے زیادہ تر بادشاہوں کی رانیاں ہندو تھیں اور رفتہ رفتہ حکومت کے کمزور ہونے سے صوبے اور ریاستیں منہ زور ہوتی چلی گئی ،حتیٰ کہ ہندوستان میں کمپنی حکومت کا آغاز ہوا ، یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ برطانوی تجارتی کمپنی جسے ایسٹ انڈیا کمپنی کا نام دیا گیا تھا نے ”لڑاو¿ اور حکومت کرو“ کی پالیسی پر عمل کیا، کہیں کہیں انکا زبردست مقابلہ بھی ہوا ،بنگال میں نواب سراج الدولہ ،میسورمیں سلطان حیدر علی اور ٹیپو سلطان اور پنجاب میں آگے جاکر رنجیت سنگھ نے انہیں روکنے کی کوشش کی ، پٹھانوں نے اپنی روائتی اسلام دوستی اور حریت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے کبھی ہار نہیں مانی، اور کسی نہ کسی شکل میں وہ مسلسل لڑتے رہے، صوبہ سرحد کا آبائی نام انگریز کا ہی دیا ہوا تھا، یعنی شمال مغربی سرحدی صوبہ کمپنی کی حکومت ختم ہوئی اور براہ راست تاج برطانیہ نے ہندوستان کو سنبھالا تو بھی برطانوی ہند کی سرحدیں افغانستان پر ختم ہو جاتی تھیں، انگریزوں کی بڑی خواہش تھی کہ وہ افغانستان پر بھی قبضہ کرلیں لیکن پٹھانوں کی ہمت جرا¾ت اور جاں فروشی کے سامنے انکی ایک نہ چلی۔
اس دور میں سب سے بڑا نقصان انگریزی حکومت کے باعث جس میں ہندو اکثریت کابول بالا تھا دینی اداروں کو پہنچا ، دیوبند ندوہ اور دوسرے بیشمار ادارے ایک طرح سے قلعے تھے جس میں ہمارے عظیم علماءنے دینی علوم کو زندہ رکھا ، اب مرکزی یا صوبائی کوئی حکومت انکی مدد نہیں کرتی تھی اس کے باوجود دینی مدارس میں جو اپنی جگہ یونیورسٹیوں کی شکل رکھتے ہیں اپنی کتب کو سنبھالا ،خداوند کریم نے خود قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پورے ہندوستان اور افغانستان میں یہ عالم دین ہی تھے جو اس دور کے انتہائی تعلیم یافتہ شائستہ مزاج دینی اور اخلاقی سوچ رکھنے والے تھے ، آپ مدارس کا نظام دیکھیں کونسا شہر کونسی تحصیل کونسا قصبہ اور کونسا گاو¿ں ہے جہاں دینی درسگاہ نہ ہو، گاو¿ں کی چھوٹی مسجد سے لیکر بڑے شہروں کی عظیم درسگاہوں میں ایک دنیا آباد ہے، سب سے بڑی خدمت قاری حضرات نے کی ، ابھی چھاپہ خانہ عام نہیں ہواتھا لیکن آپ کو ایک گاو¿ں میں بھی قرآن پاک حفظ کرنےوالے لڑکے،نوجوان اور عورتیں مل جاتی تھیں، اسی طرح حدیث رسول کریم کے ساتھ ساتھ مختلف علماءنے قرآن پاک کی آیات کے ترجمہ کے علاوہ تفسیریں لکھیں، فقہ کی کتابیں لکھیں،ہرمدرسے میں مفتیان کرام اپنا کام کرتے رہے اور آج بھی کررہے ہیں، دینی مسائل کے بارے میں جس کسی کو کچھ پوچھنا ہوتا وہ انکے پاس جاکر سوال کرتا ،آج پرنٹنگ پریس آگیا ، کمپیوٹر انٹرنیٹ اور ٹیپ ریکارڈر آگئے، لیکن جب یہ سب کچھ نہیں تھا تو بھی ہمارے علماءاور انکے ذہین شاگردوں کے حافظے کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے دین بالخصوص قرآن و حدیث تفسیر فقہ اور تمام دوسرے ضروری علوم ہم تک پہنچانے کیلئے سنبھال کررکھے ، میں خود زمانہ طالب علمی میں سکول کے ساتھ ساتھ دینی مدارس میں بھی پڑھتا رہاہوں اور مجھے معلوم ہے کہ بڑی بڑی ضخیم کتابوں کو ہمارے طالب علم ساتھی اتنی توجہ سے اور بار بار پڑھتے تھے کہ انہیں ساری ساری عبارت یاد ہو جاتی تھی، ماشاءاللہ ہماری قوم بالخصوص نوجوانوں کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے جب میں ایم اے عربی کا طالبعلم تھا تو پنجاب یونیورسٹی میں اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید عبداللہ نے مصر کے جامعہ الازہرکے سکالر جو سابقہ متحدہ ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے کو دعوت دی کہ وہ کچھ عرصہ ہمارے عربی کے طلبہ کو پڑھائیں ، انکا اسم گرامی علامہ عبدالعزیز المینی تھا، وہ عربی شاعری پڑھاتے تھے، بزرگ آدمی تھے، لیکن حافظہ ایسا تھا کہ شاعری کی سب سے بڑی کتاب حماسہ کھول کر ہم کسی نظم پر ہاتھ رکھتے تو وہ کتاب چھوئے بغیر شعرپر شعر سنانے لگتے ، وہ کمپیوٹر تھے ، بعض اوقات کلاس میں آتے ہی پوچھتے آج کیا پڑھنا ہے، ہم کہتے امراءالقیس تو وہ اپنی یادداشت سے امراءالقیس کا کلام سنانے لگتے ، میں نے کچھ وقت کراچی جامعہ بنوریہ میں گذارا ہے ، ملتان میں خیر المدارس میں پڑھا ہوں، جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے چکر لگائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دینی تعلیم حاصل کرنیوالا نوجوان بہت ذہین ہے، میں ساتھ ساتھ سکول میں بھی پڑھتا تھا اس لئے دو کشتیوں پر سوار نہ ہوسکا اور بالآخر تاریخ اور عربی زبان لیکر بی اے آنرز کیا اور پھر ایم اے لیکن میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرنیوالے ادارے لوگوں کے عطیات سے گذربسر کرتے ہیں کیونکہ مدارس کا نظام انہی پر چلتا ہے ، آخر مختلف یونیورسٹیوں کی طرح حکومت انہیں کیوں مالی امداد فراہم نہیں کرتی، دوسرے جب وہ فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں تو جب انکی تعلیم کو بی اے ایم اے کے مساوی تسلیم کرلیا گیا ہے تو انہیں معاشرے میں باعزت اور اعلیٰ مقام کیوں نہیں ملتا۔
بعض حکومتوں نے اپنے طور پر کوشش بھی کی جیسے متحدہ ہندوستان کے زمانے میں حیدرآباد ،بھوپال اور سب سے بڑھ کر بہاولپور میں مسلمان نوجوانوں نے دینی تعلیم کی درسگاہوں کی بہت قدر کی لیکن اس دوران انگریز نے جو تعلیمی نظام دیا تھااور جس کے تحت سکول کالج او ریونیورسٹیاں بنی تھیں پاکستان بننے کے بعد بھی اصولاً تو یہ چاہیے تھا کہ مدارس کے نصاب اور انتظام میں کوئی دخل نہ دیاجاتا لیکن ان کیلئے سرکاری فنڈ مہیا کیا جاتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
ایوب خان کے زمانے میں ایک کوشش ہوئی تھی لیکن علماءکی اکثریت نے اسے ناپسند کیا کیونکہ حکومت فنڈز دینے کے بہانے جمعہ کے خطبہ کو قومیانہ چاہتی تھی یعنی سرکاری گرانٹ کی شرط یہ رکھی گئی کہ جمعہ کے دن خطیب حضرات سرکار کا منظور شدہ خطبہ پڑھ کر سنائیں اور اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہ کریں، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ بحث ان دنوں بھی چلی تھی، علماءنے اسے آزادی اظہار پر پابندی سمجھا اور بجا طور پر اس امر سے انکار کیا کہ گرانٹ لینے کی شرائط مثلاًنصاب میں تبدیلی یا جمعہ کو خطاب کا سرکاری طور پر منظور ہونا انہیں قبول نہیں تھا، علماءکی بات میں وزن تھا ، حکومت بنیادی جمہوریت کے ارکان کی طرح انہیں بھی اپنے ساتھ ملانا چاہتی تھی ، با ضمیر حوصلہ مند اور مشکلات کے خوگرمدارس کے منتظمین نے ایسی شرائط کو ماننے سے صاف انکار کردیا۔
گذشتہ دنوں وزیراعظم نے وزیر تعلیم شفقت محمود کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاموشی سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ، عمران خان کا کہناتھا کہ الیکشن سے پہلے کی جانیوالی تقاریر کے مطابق ملک میں تین قسم کے تعلیمی نظام چل رہے یہں، دینی مدارس کا نظام، سرکاری سکولوں اور کالجوں کا سسٹم ، انتہائی مہنگے پرائیویٹ سکول اور کالج جن کا میڈیم انگریزی ہوتا ہے ، وزیر اعظم کا کہناتھاکہ شفقت محمود صاحب سابقہ وزیراعظم ہاو¿س کے احاطہ میںیونیورسٹی کی تعمیر ہی نہیں کررہے بلکہ ان تین نظاموں کو قریب لانے کی کوشش بھی ہورہی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام بہت اہم ہے ، اس کیلئے سب سے پہلے علماءاور منتظمین مدارس کا تعاون چاہیے ، انہیں یقین دلایا جائے کہ ہم آپ کے نظام میں کوئی دخل نہیں دینگے ، صرف کمپیوٹرانٹرنیٹ اور آن لائن خدمات روشناس کروائیں گے ، کچھ جدید علوم ایسے شامل کروائیں گے تاکہ فارغ التحصیل طلبہ استاد بن سکیں، جج بن سکیں، افسر بن سکیں اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ضروری دنیاوی تعلیم شامل ہو جائے، منتظمین مدارس کا ایک بڑا گروہ شفقت محمود صاحب سے ملتا بھی رہا ہے لیکن اکثر مدارس کے منتظمین کا تعلق دینی سیاسی جماعتوں سے بھی ہے جو عمران خان کی حکومت کیخلاف ہیں، اس لئے اس قدم کو بہت احتیاط سے اٹھانا چاہیے، منتظمین مدارس بالخصوص علماءاور مفتیان کرام کی عزت و احترام آزادی اور عزت نفس کا خاص خیال رکھنا ہوگا ، اگر حکومت کچھ دے رہی ہے تو اسکا احسان نہیں قرض ہے جو اس نے اب تک ادا نہیں کیاتھا،صلاح مشورہ اور تبادلہ خیال سے ہی راستے نکالے جائیں تاکہ ایک اچھا کام جس کی ضرورت ہے خواب نہ ہونے پائے، شفقت محمود صاحب اگر یہ کام کرلیں تو میں انہیں مبارکباد دونگا ، دینی مدارس کے کچھ طالبعلموں کو میں نے دیکھا ہے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اچھے محنتی ثابت ہوتے ہیں۔
٭٭٭

5 جولائی ۔ یوم نجات

اعجاز الحق
جنرل محمد ضیاءالحق نے5 جولائی 1977ءکو ایک فسطائی حکومت ختم کر کے پاکستانی عوام کو ایک بدترین حکمران ٹولے سے نجات دلائی جس کے خاتمے کیلئے کئی ماہ سے ملک کے طول وعرض میں ہرمسجد ومنبر سے صبح ومساءدعائیں مانگی جارہی تھیں۔ محب وطن اور سنجیدہ قومی حلقوں کی جانب سے 5 جولائی کو یوم نجات کے طور پر منایا جانا اسی حقیقت کے گہرے احساس و ادراک کی ترجمانی ہے۔ 1971ءمیں وطن وعزیز کی شکست وریخت میں پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت نے قومی وحدت اور قوم کے اجتماعی ضمیر پر گہرے زخم لگائے تھے۔ وہ اس الزام سے کبھی بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ جمہوریت کے ان علمبرداروں نے جمہوریت ہی کے بنیادی تقاضے پورے نہ کئے جس کے نتیجے میں ملک عزیز دولخت ہو گیا۔شکست خوردہ اور بچے کھچے پاکستان میں اقتدار پر قابض ہوکر جس طریقے سے ملکی نظام کو چلایا گیا وہ یقینا ملک کے اساسی جواز ،قیام اور وجود کی نفی تھی۔ حکمران جماعت کی بداعمالیاں اس قدر ظالمانہ تھیں کہ عوام اس جماعت اور اسکے رہنماﺅں سے شدید مایوس اور متنفر ہوگئے۔ آئین میںچھ یکطرفہ ترامیم کیں۔ اپوزیشن کے ارکان کو اسمبلی سے اٹھا کر باہر فٹ پاتھ پر پھینکا گیا۔ نا انصافی اور جبر کو فروغ دیا گیا۔ عدلیہ کا گلا گھونٹنے کیلئے اس کیWrit Jurisdiction سے باہر دلائی کیمپ قائم کئے گئے جہاں سیاسی مخالفین کو محبوس رکھ کرجسمانی ایذائیں دی جاتیں۔FSF کے نام سے ایک فورت بنائی گئی جس کے ہاتھوں مخالفین پر جسمانی تشدد کیا گیا۔ معزز اور بزرگ قومی رہنماﺅں کی تذلیل کی گئی اور سیاسی قتل وغارت گری کی بنیاد ڈالی گئی جس میں سردار عطاءاللہ مینگل کا بیٹا بھی گیا۔ قلم اور قلمکاروں کا مقصد عقوبت خانے ٹھہرے۔ الطاف حسن قریشی‘ ضیا شاہد‘ حبیب وہاب الخیری‘ مجیب الرحمن شامی اور دیگر جیلوں میںتھے۔ مولانا مفتی محمود اور سردار عطاءاللہ مینگل کی صوبائی حکومتیں توڑ دی گئیں۔ حیدر آباد ٹربیونل قائم کرکے بغیر مقدمہ چلائے بلوچ اور دیگر رہنماﺅں کو محبوس رکھا گیا۔ بلوچستان میں لشکر کشی کی گئی جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ لسانی جھگڑے پر کراچی کا امن وامان ہمیشہ کیلئے تباہ کر دیا گیا۔ چھوٹی سے چھوٹی صنعت کو قومیاکر پارٹی کارکنوں کے قبضے میں دے دیا گیا۔
وزیراعظم براہ راست دھمکیاں دے رہے تھے۔ ”میں کمزور ہوں مگر میری کرسی کمزور نہیں ہے“ یہی وجہ ہے عوام نے مارچ 1977ءکے عام انتخابات میں دھاندلی کے باوجود اس جماعت کو یکسر اور مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے پاکستانیوں نے اس سے اپنی شدید نفرت کا واضح اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں ایک بے مثال احتجاجی تحریک نے جنم لیا۔انسانی حقوق کے ہزاروں علمبرداروں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا لیکن حکومت مخالف یہ تحریک پھیلتی گئی اور اس تحریک میں مذہبی عنصر بھی شامل ہوگیا جس سے یہ تحریک مزید پرتشدد ہوگئی۔ حزب اختلاف نے پی این اے کے نام سے اتحاد قائم کرلیا جس کا ایک نکاتی مطمع نظر بھٹو اور ا س کی حکومت سے چھٹکارا ٹھہرا۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ ملکی حالات بگڑتے گئے اور نظم ونسق کی صورت حال انتہائی دگرگوں ہوگئی۔ ہڑتالوں اور احتجاج نے ملکی نظام مفلوج کر دیا۔ جلاﺅ گھیراﺅ میں شدت آگئی۔ بیگناہ لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور عوام کے جان ومال کا تحفظ ناپید ہوگیا۔
حکمران جماعت نے حزب اختلاف کے ساتھ سیاسی بات چیت کا آغاز کر دیا مگر دونوں طرف عدم اعتماد‘ عدم برداشت اور سخت گیر موقف کے باعث کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ جون 1977ءکے آخری ہفتے میںراولپنڈی کے آرمی ہاﺅس میں چیف آف آرمی سٹاف نے تمام کور کمانڈرز کی غیر رسمی کانفرنس بلائی۔ ملکی حالات کا تفصیلی جائزہ اور صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے تمام شرکاءاس بات پر متفق او ر متحد ہوگئے کہ اگر حکومت اور حزب اختلاف ملکی بحران کا کوئی سیاسی حل نکالتے میں ناکام رہتے ہیں تو ملک اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ کہ مسلح افواج آئین میں دی گئی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گی۔ اس سلسلے میں مسلح افواج کا کردار متعین‘ معین اور واضح ہے۔ اس مجوزہ اور متوقع کارروائی کو آپریشن فیئر پلے (Operation Fair Play) کا نام دیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اجلاس میں موجود شرکاءکے علاوہ مزید کسی اور کو اعتماد میں نہیں لیا جائے گا۔ تاریخ اور وقت کا تعین چیف آف آرمی سٹاف کریں گے۔ ایک آواز آئی کہ آئین کے آرٹیکل6 کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔ ایسے اقدام کی سزا پھانسی کا پھندا ہے۔ سب نے کہا کہ وطن کو بچانے کیلئے یہ سزا ہمیں منظور ہے۔ یاد رہے کہ آئین میںآرٹیکل 6 شامل کرکے بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ ”میں نے مارشل لاءکو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے گہرا دفن کر دیا ہے“ مناسب وقت پر اعلیٰ فوجی قیادت نے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ فوج کیا سوچ رکھتی ہے جس کے بعد بھٹو نے اعلان کیا کہ ”اگر حزب اختلاف اپنی ضد پر قائم رہی تو ملک میں فرشتے آ جائیں گے“۔
بھٹو چاہتے تھے کہ فوج اس تحریک اور حزب اختلاف کو پوری قوت سے کچل دے۔ غلام مصطفی کھر اپنے پارٹی کارکنوں کو اسلحہ تقسیم کرکے ان کو تشدد کیلئے تھپکی دے رہا تھا۔ جنرل ٹکا خان ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد سیاسی عہدہ قبول کرکے پیپلز پارٹی کے مفاد سے وابستہ ہوچکے تھے۔ ان کا خیال اور زور اس بات پر تھا کہ حصول مقصد کےلئے چند ہزار آدمی قتل کر دیناکوئی زیادہ بڑی بات نہیں ہوگی۔ عسکری قیادت حکمران جماعت پر بار بار زور دے رہی تھی کہ بحران کے خاتمے کیلئے جلد کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ بھٹو ہر حال میں اقتدار سے چمٹے رہناچاہتے تھے اور لیت ولعل سے کام لے رہے تھے۔ ایک مرحلہ پر بھٹو اور اس کے ساتھیوں نے سوچا کہ جنرل ضیاءالحق کو ہٹا کر اپنا کوئی خاص وفا دار جنرل اس کی جگہ پر لایا جائے کیونکہ ضیاءالحق اپنی عوام کیخلاف فوجی طاقت کے بے جا استعمال پر تیار نہ ہوئے تھے۔ مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب میں ایسے کسی جنرل کا نام بھی تحریر کیا ہے جس کی بطور چیف آرمی سٹاف تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ بھٹو نے ذاتی اور انفرادی طور پر ہر کور کمانڈر سے رابطہ کرکے اس سے کہا کہ بطور وزیراعظم میری تمام توقع بھروسہ اور اعتماد صرف اور صرف آپ پر ہے۔ اس کو ہر طرف سے یہی جواب ملا کہ جناب وزیراعظم ‘میں اپنے چیف آف آرمی سٹاف کے تحت آپ کا ہر حکم بجا لانے کیلئے تیار اور پابند ہوں۔ اس کے بعد بھٹو نے محسوس کیا کہ کوئی کور کمانڈر بھی فوج کے مسلمہ اصولوں کے برعکس چلنے اور پھر اس کے نتیجے میں Genral Dyreبننے کو تیار نہیں تھا۔
مسٹر بھٹو سے جنرل ضیاءالحق کی ملاقاتیں اکثر ہوتی رہیں۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں مسٹر بھٹو نے جنرل ضیا الحق سے اچانک کہا کہ ”جنرل صاحب! سیاست میری، طاقت اور قوت آپ کی۔Let Us We Both Rule These People چونکہ یہ ایک غیر متوقع اچانک اور بے معنی بات تھی اس لئے جنرل ضیاءالحق نے کوئی جواب نہ دیا اور موضوع دوسرے رخ مڑ گیا۔ غالباً بھٹو ضیاءالحق کی سوچ اور انداز فکر جاننا چاہ رہے تھے۔ فوجی قیادت کے اعصاب پر بے پناہ دباﺅ تھے۔ ایک بریگیڈیئر نے جو کہ ڈویژن کی عارضی کمان کر رہے تھے۔ ملکی حالات کا دباﺅ اس قدر محسوس کیا کہ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کو ایک فوری خط لکھ بھیجا۔ اس خط کے الفاظ کم وبیش یہ تھے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا۔ پاکستانی فوج ایک اسلامی فوج ہے۔ ہر ظالم کا ہاتھ روکنا اس کا فرض اولین ہے۔ آپ اسلامی فوج کے مسلمان سربراہ ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک ظالم اور جابر شخص دھاندلی اور سینہ زوری کے ذریعے ملک پر مسلط ہے۔ آ پ کا فرض ہے کہ اس ظالم کو گرفتار کرکے اس پر فوری مقدمہ قائم کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خط کی متعدد نقول بنا کر تمام فوجی جنرل آفیسرز کو بھیج دیں۔ چیف آف آرمی سٹاف اس کی اس حرکت پر سخت پریشان اور ناراض ہوئے انہوں نے حکم دیا کہ اس بریگیڈیئر کا فوج کے اندر Seductionپھیلانے کے جرم میں کورٹ مارشل کیا جائے اور سخت سزا دی جائے۔ یہ ان حالات کی ایک جھلک ہے جو فوجی قیادت کو درپیش تھے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل دو بریگیڈیئر مظاہرین گولی چلانے سے انکار کرکے سنگین نتائج بھگتنے کا انتہائی اہم اقدام کرچکے تھے۔ فوج چار مہینے سے انتہائی صبر اور نظم وضبط کے ساتھ حکومت کی معاونت کر رہی تھی۔ جون کے آ غاز میں اخبارات کے صفحہ اول پر چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے تینوں چیف آف سٹاف کے پیغامات کی تصاویر کے ساتھ شائع ہوئے جن میں کہا گیا کہ اس کشمکش میں مسلح افواج آئینی حکومت کے ساتھ ہے۔
یہ مفروضہ قطعی طور پر غلط ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف میں کوئی تصفیہ یا سمجھوتہ طے پا گیا تھا یہ جو ایک آدھ معتبر آواز اس سلسلے میں سنائی دیتی ہے کہ سمجھوتہ ہوگیا تھا صرف دستخط کرنا باقی تھے کہ فوج نے بے جا مداخلت کی۔ بصد احترم یہ قطعی غلط اور جھوٹ ہے۔ دونوں فریق اقتدار کے بھوکے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ دونوں ہی اک دوسرے کو دھوکا دے رہے تھے۔
باب العلم کا سادہ وصیقل قول سدید ”کفر کی سلطنت قائم رہ سکتی ہے۔ ظلم کی نہیں ”اس پر صاد مشعل راہ ہے۔
آج چار اور پانچ جولائی 1977ءکی درمیانی شب ہے۔ رات کا ڈیڑھ بج چکا ہے۔ جنرل محمد ضیاءالحق چیف آف آرمی سٹاف کی وردی پہنے جی ایچ کیو میں اپنے دفتر میں موجود ہیں۔ ہتھیار بند فوجی دستے وزیراعظم ہاﺅس میں داخل ہوچکے ہیں۔ بھٹو نے گھبرا کر جنرل ضیاءالحق کو ٹیلی فون کیا اور کہا ضیا صاحب، یہ کیا ہورہا ہے؟ جنرل ضیاءالحق نے اطمینان سے جواب دیا۔ سر! جو ہورہا ہے میرے حکم سے ہورہا ہے۔ بھٹو نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا میرے بچے تو آج ہی بیرون ملک سے آئے ہیں۔ ضیاءالحق نے کہا ”کوئی مسئلہ نہیں آپ اطمینان سے بچوں کے ساتھ وقت گزاریئے۔ صبح ہم آپ کو راولپنڈی سے مری شفٹ کر دیں گے۔ ہمارے کوئی لمبے چوڑے سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ ہم جلدی انتخابات کرا دیں گے جو کوئی بھی جیتے گا ہم اقتدار کے حوالے کر دیں گے ۔انشاءاللہ ۔ پوپھوٹنے والی ہے۔ صبح صادق کا ظہور قریب ہے تقریباً 3 بجے صبح جنرل ضیاءالحق نے تمام کور کمانڈر کو ایک برقی پیغام یعنی سگنل کے ذریعے مطلع کیا۔
From: chief of The Army Staff to All Crops Commanders
Operation Fair Play:Well done.I will adress the the nation tomorrow
یہ اقتدار کےلئے شب خوان نہیں تھا۔ رات کے اندھیرے میں ڈالا گیا ڈاکہ نہیں تھا۔ یہ سازش یا بغاوت نہ تھی۔ یہ جمہوریت کی ناکامی نہ تھی بلکہ نام نہاد جمہوری حکمرانوں کی ناکامی تھی۔ مسلح افواج کا سوچا سمجھا اور متفقہ فیصلہ تھا جس کے متعلق وزیراعظم کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ یہ ”یوم سیاہ “ نہیں تھاعوام کی پکار تھی مقبورومحبوس قوم کیلئے صبح آزادی کی نوید اور ”یوم نجات“ تھا۔
(مسلم لیگ ضیاءکے سربراہ اورسابق وفاقی وزیر ہیں)
٭….٭….٭

پھر مائنس ون…. آخر کیوں؟

شفیق اعوان
ہماری سیاست میں لفظ ”مائنس ون“ کچھ عرصے بعد گونجتا ہے اور جو کبھی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں وہ یکدم آستین کا سانپ قرار دے کر کچل دیے جاتے ہیں۔ جو قوتیں قومی سیاست میں لیڈروں کی جمع تفریق کرتی رہتی ہیں یقینا ان کا سیاستدانوں کو جانچنے کا حساب کمزور ہوتا ہے کیونکہ اسی گھسے پٹے فارمولے کے تحت بار بار یہ پرانی غلطی دہراتی ہیں لیکن سیاست کے میدان کا شہسوار نہ ہونے کی وجہ سے بار بار پسپاہوتی ہیں لیکن ہار ماننے کو تیار نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے ہی تخلیق کردہ بیج کی اپنی ہی زمین پر بار بار آبیاری کرتے ہیں اور پھر کھڑی فصل پر ہل چلا دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی خواہش کے مطابق گندم کے پودے سے سیب کا پھل ملے گا۔ جو کہ خلاف قانون قدرت ہے اس لیے انہیں ہر بار ناکامی ہوتی ہے۔ ایک بار تو جمہوری فصل کو کمزور کرنے کےلئے ”آئی جے آئی“ کی فصل مار دوائی بھی بنائی گئی لیکن اس سے بھی پورے نتائج نہ مل سکے۔ بہتر ہے نت نئے تجربات کی بجائے اس دھرتی کی مٹی کو فیصلہ کرنے دیں کہ اس میں کون سی فصل پنپ سکتی ہے اور وہی فصل اس ملک اور قوم کےلئے بارآور ہو گی۔
وطن عزیز میں” مائنس ون“ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور قرائن سے لگتا ہے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی شاید ”مائنس“ ہی کیا گیا ہو گا۔ اس کے بعد تو جوتیوں میں دال بٹنے لگی اور یہ کالم ان تمام کے ذکر کےلئے ناکافی ہے ۔ پنڈت جواہر لال نہرو کو کہنا پڑا کہ ”میں ےتو اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی جلدی پاکستان میں وزیر اعظم بدل دیے جاتے ہیں“۔ قائد اعظم کے ساتھی لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں مائنس کر دیاگیا۔ ان کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے مائنس کیا گیا۔ پھر محمد خان جونیجو اپنے ہی باغبان کے ہاتھوں مائنس کیے گئے۔ اسی باغبان نے نواز شریف کی آبیاری کی اور وہ ایک تناور درخت بن گئے۔ باغبان کو یہ بات نہ بھائی اور نواز شریف بھی دو باربذریعہ اسحاق خان اور ایک بار اس وقت کے جنرل مشرف کے ذریعے مائنس کیے گئے۔ اس کے بعد باغبان کی منشا کےخلاف یا اپنے مہروں کی کارکردگی سے مایوس ہو کر دو بار نظیر بھٹو کو مختصر وقت کےلئے موقع دیا گیا لیکن ایک بار اسحاق خان اور پھر فاروق لغاری کے ذریعے انہیں بھی مائنس کر دیا گیا ۔آ خر کار وہ اسی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید کر دی گئیں جہاں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھی شہید کیا گیا۔ پھر ظفراللہ جمالی بھی اس باغبان کو ایک آنکھ نہ بھائے اور وہ بھی مائنس ہوئے۔ مقامی بیج کی فصل سے مایوس ہو کر باغبان نے پردیسی شوکت عزیز کو مقامی کھاد و مٹی ڈال کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا۔ لیکن وہ وطن کی مٹی سے میل نہ کھا سکا تو اسے بھی چلتا کیا۔ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کو آصف علی زردای کی صورت میں آزمایا گیا لیکن اسے بھی چین نہ لینے دیا گیا اور اس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی عدالت کے ذریعے مائنس کیا گیا۔ اس کے بعد ایک بار پھرباغبان کی باسی کڑائی میں ابال آیا اور تیسری بار پھر نواز شریف کو چنا گیا۔ لیکن نواز شریف دو بار آزمائے جانے کے بعد جان چکے تھے کہ وہ کسی کی خواہش پر بیک وقت انڈے اور بچے نہیں دے سکتے ۔ نتیجتاً اپنے اقتدار کی قیمت پر وہ بھی مائنس ہوئے اور وہ بھی اسطرح کہ جیل ان کا مقدر ٹھہری ۔ لیکن باقی سیاستدانوں کی طرح زمین سے نواز شریف کے تعلق کو نہ توڑا جا سکا۔
پھر بڑی دھوم دھام سے عمران خان کی صورت میں ایک نئی پنیری لگائی گئی اور اسے سیاسی آلودگی اور باقی سیاسی فصلوں کے برے اثرات سے بچانے کےلئے اس کی نگہداشت اپنے گرین ہاﺅس کی ٹنل فارمنگ میں کی گئی تا کہ اس سے اپنی منشا کے مطابق پھل حاصل کیا جا سکے۔ لیکن یہ پنیری بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی اور قرائن سے لگتا ہے کہ باغبان نے اسے بھی جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اس کی بے بسی دیکھیں کہ اسے خود اپنے مائنس ون ہونے کا اظہار قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر کرنا پڑا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق یہ ایک ڈوبتے شخص کی SOS کال تھی لیکن کنارے پر صرف تماشائی کھڑے تھے اور ہاتھ بڑھا کر بچانے کی بجائے عمران خان کو ماضی یاد کرا رہے تھے جب اس نے انہیں ڈبونے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ شاید یہی مکافات عمل ہے۔ شنید ہے کہ اب باغبان کو ایک نئے بیج کی تلاش ہے لیکن عمران خان جیسا زرخیز بیج بھی انکی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا تو آگے تو لق و دق صحرا ہے یا ان کے ماضی کے آزمائے ہوئے لوگ۔ باغبانوں سے التماس ہے کہ اپنے تجربوں سے اس زمین کو بنجر نہ کر یں اور بہتر ہے اس مٹی کو طے کرنے دیں کون سی فصل پنپ سکتی ہے۔
عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد کے بعد ملی اقتدار کی کشتی دو سال میں ہی ڈولنے لگی۔ اس وقت جس گرداب میں وہ پھنسے ہیں وہ ان کی اپنی پالیسیوں بشمول اتحادیوں سے مسائل اور تحریک انصاف کی اندرونی لڑائیوں کا پیدا کردہ ہے۔ اپوزیشن میں اتنی سکت نہیں کہ وہ حکومت کو کمزور کرنے میں کوئی رول ادا کر سکے۔ عمران خان کے اپنے بیڑے میں بھی ایک زمانے سے نقل مکانی کرنےوالے پرندوں کی بہتات ہے جو اقتدا کا موسم تبدیل ہوتے ہی اڑن چھو ہونے کو تیار ہیں۔ اور جو22 سال سے ساتھ ہیں وہ اپنی صلاحیت ہی ثابت نہیں کر سکے ۔ اب ان کی اہلیت کی کمی تھی یا سیاسی تربیت کی اس کا فیصلہ تو ملاح کو خود کرنا ہے۔ جو بظاہر نظرآ رہا ہے عمران خان کی نااہل ٹیم نے اسکی 22 سالہ جدوجہد کو منزل کی بجائے پھر سے آغازِ سفر پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ہماری تو دعا کہ اب یہ plus minus کا کھیل ختم ہونا چاہیے۔ باغبان اسی نااہل ٹیم کے ایک فصلی بٹیرے سے سخت نالاں ہیں جس نے محض اپنی واہ واہ کےلئے اور جلد بازی میں پوری قوم اور ملک کو اقوام عالم کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پی آئی اے کے کراچی طیارہ حادثے کے بعد وزیر اعظم نے اسے ایک ٹاسک دیا لیکن سارا ملبہ پچھلی حکومتوں پر پھینکنے کے بیانیے میں اس نے قومی ائیر لائن سمیت ملک کی پوری ائیر لائن انڈسٹری کو ہی داﺅ پر لگا دیا۔ اس وزیر نے محض واہ واہ کے چکر میں قومی معیشت اور وقار کو وہ نقصان پہنچا دیا جو بھارتی پروپیگنڈہ بھی نہ پہنچا سکا۔ سنا ہے کپتان اس وزیر کو ہر صورت بچانے میں لگا ہوا ہے۔
میرے گزشتہ کالم ”سرکار بنام غلام سرور خان“کے حوالے سے اسلام آباد سے ایک بابو لکھتے ہیں کہ انہوں نے وزیر موصوف کو بھارت کے 2011 ءکے بوگس پایلٹ لائسنسوں کے سیکنڈل کا حوالہ دے کر کہا کہ اس معاملے کو پبلک کرنے سے پہلے تمام مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹس کےخلاف ایکشن لے لیں تا کہ ہم اقوام عالم کی نظروں میں سرخرو ہو سکیں ۔ لیکن ان کی سرزنش کی گئی کہ سیاسی معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ماڈل کالونی کراچی کے مکین لکھتے ہیں کہ وہ آج تک اپنے گھروں کے نقصانات کے معاوضے سے محروم ہیں۔ یہ وہ کالونی ہے جہاں پی آئی اے کا طیارہ دو درجن سے زائد گھروں پر گر کر تباہ ہوا تھا ۔ حکام اس طرف بھی توجہ دیں۔قارئین کرام اپنی رائے کا اظہار اس وٹس ایپ 03004741474 پر کریں۔
( کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭

کرشن لعل،خواجہ فریدیونیورسٹی اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ

رازش لیاقت پوری
اس سے پہلے کہ میں کچھ لکھنا شروع کروں جناب ضیا شاہد کو مبار کباد پیش کرتا ہوں کہ ان کا ایک اور مشن پورا ہوا کہ اب جنوبی پنجاب صوبے کے سیکرٹریٹ کا قیام بھی عمل میں لایاجاچکا ہے،لیکن دکھ یہ بھی ہے کہ کورونا کے باعث اس بڑی خوشی کا جشن بھی نہیں مناسکتے ۔اب آتا ہوں اپنے اصل مضمون کی جانب، وہ کچھ یوں ہے کہ کرشن لعل کورونا سے پہلے بیمار ہوا ،دوستوں کو بلاتا رہا مگر وباءکے خوف کی وجہ سے کوئی بھی بروقت ان کی مدد کو نہ پہنچ سکا اور چولستان کا یہ خوبصورت فنکار اس جہان فانی سے کوچ کرگیا۔ یکتارے کے ساتھ جلال چانڈیو کے انداز میں مارواڑی اور سرائیکی گانے والا یہ فنکار پاکستانیت کا اتم درشن تھا ،مولا میڈے ملک دی سب توں اچی شان ہووے‘ ان کا ایسا ملی نغمہ ہے جب ان کابیٹا ساتھی فنکاروں کے ساتھ ان کی وفات کے بعد چک 112میں گارہا تھا تو مجھ سمیت سبھی لوگ عجیب کیفیت میں تھے ۔کرشن نے کہاں کہاں اپنے ملک کا سافٹ امیج پیش کیا اس کےلئے پوری کتاب درکار ہے میں یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ کرشن نئے اور پرانے پاکستان کا معتبر حوالہ تھا ،وہ ایسے حالات میں ہم سے جدا ہوا کہ ہم انہیں کرینہہ کے پھول تک پیش نہ کرسکے ،یہ تو بھلا ہو وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہ رحیم یار خان کے فنکار کے خاندان کےلئے ساڑھے پانچ لاکھ کا چیک جلدی بھجوا دیا ورنہ آج ان کے گھر نوبت فاقوںکی ہوتی۔ یہاں نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد کی فوزیہ سعید کی کوششوں کو یاد نہ کرنا کنجوسی ہوگی اور پنجاب آرٹس کونسل سمیت بہاولپور آرٹس کونسل والوںکی خاموشی بھی بہت سارے سوالوں کو جنم دے چکی ہے کہ اب تو وزارت اعلیٰ سمیت وزارت خزانہ بھی ہمارے پاس ہے پھر بھی یہاں کے لوگوں کو کچھ نہ ملے یہ بہت بڑی بدقسمتی والی بات ہے ۔یہاں ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کا بھی شکریہ کہ کرشن اور موہن کے نام صدارتی ایوارڈکےلئے بھجوا دیئے بلکہ ایک میٹنگ میں تو
ان دونوں کا کیس ایسے لڑا کہ شاید وہ خود روہی واس ہوں۔ آڈو بھگت بیمار ہے ،قاصر جمالی ایسا معتبر لکھاری ایڑیاں رگڑ رگڑ کر وفات پاچکا ہے ،چلو حکومت کچھ نہیں کرسکتی تو مقامی وڈیروں ،سیاست دانوں ،سماجی اداروں کو توکچھ نہ کچھ کرنا چاہیئے ،دکھ تو یہ ہے کہ سرمایہ داروں کے سینوں سے بھی دل نکلتے جارہے ہیں کہ خدمت خلق کا کام کرنے سے گریزاں ہیں ،کوروناکے آغاز میں لوگوں میں راشن بانٹنے والے اب عروج پر لوگوں کو بے یارومددگار چھوڑ چکے ہیں ،ہمارے علاقے میں پانچ شوگر ملیں اور دوبڑی کھاد فیکٹریاں ،کروڑوں اربوں روپے سمیٹے جارہے ہیں مگر یہاں کے مقامی لوگوں کی ویلفیئر کےلئے ایک دھیلا بھی کوئی خرچ نہیں کررہا ۔ ابھی کچھ دن قبل موجودہ حکومت نے اپنا ایک اور بجٹ بھی پیش کردیا ہے ،پچھلے بجٹ میں شیخ زید فیز ٹو کےلئے پانچ ارب روپے رکھے گئے،اس سے قبل خواجہ فرید کالج کےلئے 32 کروڑ روپے رکھے گئے مگر ان اداروں کے سربراہوں کے مطابق ایک روپیہ بھی نہیں ملا جبکہ موجودہ حکمران کہتے رہے ہیں کہ یہاں کا بجٹ یہاں خرچ ہوگا ،یہاں ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب بجٹ ہی نہیں دوگے تو پھر خرچ کہاں ہوگا ؟یہ بھی اہل وسیب کے نوجوانوں کےلئے بہت بڑا کام ہے جو سابقہ ن لیگ کی حکومت کرگئی ہے کہ خواجہ فرید کے نام سے ایک بڑی انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی سندھ ،بلوچستان اور وسیب کے سنگم میں بناگئی ہے ورنہ وسیب کے نوجوان آج بھی دوسرے شہروں میں دھکے کھا رہے ہوتے اس نوزائیدہ یونیورسٹی کےلئے اگرچہ پچاس کروڑ روپے موجودہ حکومت سے بھی جاری ہوئے ہیں مگر اتنے بڑے ادارے کےلئے اتنے تھوڑے پیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں ،جس کی وجہ سے اس ادارے کی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ والدین کی ہر طرف چیخیں ہی چیخیں ہیں ،اس لئے موجودہ وی سی ڈاکٹر طاہر سلیمان ،ڈین ڈاکٹر اصغر ہاشمی اور خزانچی ڈاکٹر جاوید اقبال کو کچھ کڑوے فیصلے بھی کرنے پڑ رہے ہیںتاکہ ادارے کے معاملات بہتر سے بہترین ہوجائیں، یہاں بھی اگراچھی سوچ کے مالک ہمارے پیارے فنانس منسٹر ہاشم جواں بخت تھوڑی سی توجہ کریں تو یونیورسٹی کے معاملات حل ہوسکتے ہیں ،ہاں اگر سابقہ دور میں یونیورسٹی میں کوئی کرپشن یا قواعد وضوابط سے ہٹ کر کوئی کام ہوئے ہیں تو ان کی تحقیقات بھی ضروری ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔
ان تمام پریشان کن باتوں کے باوجودایک اچھی بات یہ ہے کہ حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کےلئے زاہد زمان کو ایڈیشنل چیف سکریٹری اور انعام غنی کو ایڈیشنل آئی جی تعینات کردیا ہے اگرچہ یہ صوبے کا نعم البدل تو نہیں مگر پھر بھی ایک قدم اور تو صوبے کی جانب بڑھا ،اب ڈپٹی چیف منسٹر بھی کسی کو بنادیا جائے جو جنوبی پنجاب میں بیٹھے تو معاملات کافی بہتر ہوجائیں گے، لوگوں کی باتوں میں موجود خوشی دیدنی ہے کہ اب انہیں چھوٹے چھوٹے کاموں کےلئے لاہور نہیں جانا پڑے گا ۔ ایک بات واضح کردوں کہ وسیب زادوں کو لاہورسے نفرت نہیں ہے، مگر اس شہر پر اب بوجھ کم ہونا چاہئے ،آبادی کا بوجھ ،ذمہ داریوں کا بوجھ ،طعنوں کا بوجھ کہ سب کچھ لاہوری کھا گئے۔ مجھے بھی لاہور رہنے کا موقع ملا ،یہاں بھی عام لوگ ویسے غریب ہیں جیسے میرے وسیب کے ،مگر کچھ لوگ اور کچھ علاقے اتنے امیر ہیں کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ایسا کیوں ؟اور ہم کیوں نہیں؟ شاید اس کی وجہ ایک لمبے عرصے تک اقتدار اور انتظامی معاملات اہل لاہور کے پاس ہونے کی وجہ سے،اب تونسے وال جب اقتدار کی کرسی پر بیٹھا ہے تو پنجاب بھی توازن میں آرہا ہے ،انتظامی توازن ،معاشی توازن ،سوچ کا توازن وقت کی ضرورت ہے اور یہی توازن اب پوری دنیا کےلئے درکار ہے کہ اب واقعی دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے کہ چک 112 میں کوئی بھوکا سوئے گا تو واشنگٹن میں بھی اس کی تکلیف پہنچے گی ،سو نیک نیتی اور اپنائیت کے جذبے سے لوگوں کے انسانوں کے دکھ کم کرنے کی ضرورت ہے اس کےلئے ہر کسی کو اپنے تئیں آگے آنے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ اگر زندہ ہم نہ رہے تو بچیں گے وہ بھی نہیں ۔
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭

فجی کا شہزادہ

نوین روما
ٹی وی سکرےن پر اےک جارحانہ فوٹےج دےکھی جس مےں اےک 46 سالہ کالے آدمی کو اےک گورا آفےسر اپنے گھٹنے کے زور سے اےسا بے بس کےے ہوئے تھا کہ وہ ہل نہےں پارہا تھا۔ جارج فلائےڈ کو 9 منٹ تک اس پولےس آفےسر نے ہلنے نہےں دےا اور آخری3 منٹ مےں وہ مکمل ہوش و حواس کھو چکا تھا۔ اپنے موبائل کی سکرےن پر اس منظر کو زوم کر کے جارج تک لے آئی ۔جارج کو جےسے ہی دےکھا تو مےں کئی سال ماضی مےں لوٹ گئی جہاں پنجاب ےونےورسٹی کی لائبرےری مےں ڈرتے ہوئے کچھ کتابوں کو الٹ پلٹ کر دےکھ رہی تھی تو ےکدم مےری نظر سامنے کرسی پر بےٹھے ہوئے اےک نو جوان پر پڑی جو مےز پر اخبار رکھے بڑے پر وقار انداز سے اسے پڑھ رہا تھا، اس کے آگے اور بھی اخبار پڑے ہوئے تھے۔ مےں مےز کے قرےب پہنچی اور سوچ رہی تھی کہ کوئی اخبار ہی پڑھ لوں تو اس نے فوراً مےری طرف دےکھا اور جان لےا کہ مجھے اخبار چاہئے۔ چھ فٹ سے بھی زےادہ لمبے ، چوڑے شانوں والے، گول عےنک سے بولتی آنکھوں والے خوبرو نو جوان نے جسے آج بھی مےں سےاہ فارم، کالا، بلےک ےا نےگرو کہنے کو تےار نہےں ہوںانتہا ئی لکھنوئی انداز کی اردو مےں کہا محترمہ کےا آپ اخبار پڑھنا چاہتی ہےں؟ تو مےں اور کنفےوژہو گئی ۔ےہ شمشےر علی سے مےری پہلی ملاقات تھی ۔بعد میں علم ہوا کہ وہ کتنا صاحب علم ہے، اسلام کے بارے مےں اتنے خوبصورت انداز سے بات کرتا کہ اےک عالم دےن دےکھائی دےتا ۔پوری دنےا کے مختلف موضوعات پر سےر حاصل گفتگو کرتا ۔بہت عمدہ کپڑے پہنتا ۔بہادر اور بے باک تھا۔ اردو زبان بہت شفاف اور کمال خوبصورتی سے بولتا۔ ہم انار کلی کی گلےوں مےں گھومتے ،چاٹ پکوڑےاں کھاتے اور کتنی ہی دےر بس اسٹاپ پر بےٹھ کر آنے جانے والوں کو تکتے ۔ مےری ےہ دوستی مےرے کچھ ےونےورسٹی فےلوز کو کھٹکتی تھی اور وہ بار ہا اس کا ذکر بھی کرتے حالانکہ ان کا تعلق مےرے ڈےپارٹمنٹ سے بھی نہےں ہوتا تھا بلکہ اےک نے تو ےہاں تک کہہ ڈالا روما آپ کوا نار کلی کی چپس کھاتے فلاں دن دےکھا تھا وہ فجی کا شہزادہ آپ کے ساتھ تھا۔ لےکن مجھے اےسی باتوں سے کوئی فرق نہےں پڑتا۔اس کا نظرےہ ہمارے ملک کے بارے مےں بڑا اچھا تھا ۔وہ اشرفےہ کو ملک کے استحصال کا سبب جانتاتھا اور مڈل کلاس کو پسند کرتا تھا۔ شمشےر کے چچا اسلام آباد مےں فجی کے سفارت خانے مےں بڑے عہدے پر فائز تھے ےہ بات اس نے بہت بعد مےںبتائی وہ اپنی امارت کا کوئی رعب نہےں ڈالنا چاہتا تھا پھر ےونےورسٹی کے بعد زماں و مکاں مےں اےسے بدلاﺅ آئے کہ اس دوڑ دھوپ مےں شمشےر کہےں کھو گےا پھر اس سے کوئی رابطہ نہ ہو سکابس اچھی ےادےں رہ گئےں ۔
جب مےں نے جارج فلائےڈ کو اےسے زمےن پر بے ےارو مددگار پڑے دےکھا تو مجھے بے اختےار شمشےر ےاد آگےا۔ اس پولےس آفےسر کا کےا نام ہے مےں ےاد بھی نہےں رکھنا چاہتی ۔مجھے اگر ےاد ہے تو صرف اس کا گھٹنا جو ڈےوٹی نہےں دے رہا تھا بلکہ صرف نفرت تھی جو مجھے اس کی آنکھوں مےں نظر آرہی تھی اور اےک ہاتھ اپنی پےنٹ کی جےب مےں تھا ےعنی وہ گورے کا تفاخر ، غرور ،گھمنڈ جو اس کو سب سے اعلیٰ بناتا ہے اور وہ اپنے اس انداز سے بتانا چاہ رہا تھا کہ دےکھو مےری شان و شوکت کہ مےں اس کو قتل کر رہا ہوں تو پھر بھی اپنے مخصوص جاہ و جلال سے۔ مےں نے غلاموں کی تارےخ پڑھتے ہوئے اےک تصوےر دےکھی جس مےں اےک حبشی غلام کو زندہ جلاےا جا رہا تھا اور اس کے ارد گرد بے شمار گورے سوٹ بوٹ پہن کر بڑے فخر سے مختلف سٹائل بنا کر کھڑے تھے اور مسکرا رہے تھے ، گورے کی کالے سے نفرت کی ےہ کہانی کوئی نئی بات نہےں ہے بلکہ ےہ تو ازل سے ہے، غلام در غلام بنتے رہے ہےں۔ ہمارے پےارے آقا نے اس تفرےق کو ختم کےا اورفر ماےا کہ کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فوقےت حاصل نہےں ہے ۔
لیکن بدقسمتی سے ےہ کالے اور گورے کا چکر اےک وبا کی طرح ہمارے گھروں مےں بھی پایا جاتاہے۔ گورے رنگ کا رعب ہمارے معاشرے مےں اےسا ہے کہ گھر مےں اےک دو بندے تو اس کے شکار ہوتے ہی ہےں۔ ےو نےورسٹی سے فراغت کے کچھ عرصے بعد مےں کسی کام سے اپنے کےمپس گئی تو مےری ملاقات اےک سادہ سی دھان پان سی لڑکی سے ہوئی۔ مےں نے اسے شمشےر کے ساتھ اےک مرتبہ بےٹھے دےکھا تھا۔ بات کرنے پر اس نے مجھے بتاےا کہ وہ اور شمشےر اےک دوسرے کو پسند کرتے تھے کےوں کہ شمشےر کے نزدےک انسان کا کردار اس کی صلاحےتےں اور اس کی سادگی ہر اک شے سے بڑھ کر تھی حالانکہ وہ فجی کے اےک معتبر خاندان سے تعلق رکھتا تھا لےکن اس لڑکی کے ماں باپ نے شمشےر سے اس کے رشتے کو نسلی تعصب کی بنا پر مسترد کر دےا۔ ان سب باتوں نے مجھے بہت افسردہ کےا۔ جےسے ہی مےں اپنے مادر علمی پہنچی تو سب وےسا تھاآنکھوں مےں آنسو تھے ۔ بر آمد ے کی سےڑھےوں پر جہاں شمشےر بےٹھا کرتا تھا مجھے اس کی وہی مخصوص خوشبو بھی آئی اور وہ خوشبو رنگ نسل کے تعصب سے پاک تھی جو مجھے ےہ بتا رہی تھی کہ احترام آدمےت ہی اس دنےا کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔
(کالم نگارقومی و سماجی موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭