All posts by Muhammad Afraz

رحمان ملک کی خبر کا انتظار ،پانامہ سے بڑا سکینڈل آنیوالا ہے ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میجر جنرل آصف فور کی تبدیلی فوج کا انٹرنل معاملہ ہے جس پر ہمیں زیادہ تشویش نہیں ہونی چاہئے۔ فوج ایک بڑا ادارہ ہے اس میں ایسی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ معمول کی تبدیلی ہے۔ فیصل واوڈا کی گفتگو اور ان کا آرمی کے معاملہ میں گفتگو اور خاص طور پر فوجی بوٹ میز پر رکھنا ٹیلی ویژن کے مباحثہ میں رکھنا اس پر کافی لے دے ہوئی۔ ضیا شاہد نے کہا کہ آج کی ایک بہت بڑی خبر اس خبر کے علاوہ ٹاک آف ٹاﺅن بنی ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھی کھینچا تانی شروع ہے۔ رحمان ملک صاحب کی طبیعت کی ناسازی کے حوالہ سے کہا ہے کہ وہ آج ان کی طبیعت ٹھیک ہے اس لئے وہ چینلز پر نہیں آ رہے بقول ان کے نائبین بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اس پر تفصیل سے بات کریں گے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس سے بڑی خبر ان کے پاس موجود ہے جو اب تک کی خبریں ہیں ان کو پیچھے چھوڑ جائے گی پاکستان کی سیاسی شخصیات کے بارے میں بھی اور کاروباری اور اقتصادی شخصیات کے بارے میں جو معلومات ان کے پاس ہیں اور جو وہ دینے والے ہیں وہ اتنی بڑی معلومات ہیںکہ ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ وہ آج اس پر بات نہیں کرنا چاہئے یا وہ انتظار میں ہیں کل یا پرسوں وہ اس پر تفصیل سے بات کریں گے۔ یہ کہنا تو سبقت مشکل ہے کہ عین وقت پر کوئی فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ فیصل واوڈا کے ساتھ کیا ہو گا لیکن کچھ ہونے والا ہے۔ واوڈا کا جو اقدام تھا اس کو قبول نہیں کیا گیا اور فوجی حلقوں میں اسٹیبلشمنٹ کے سرکلز میں اس کو بُرا منایا گیا ہے۔ جس میں اتنی طویل عرصہ تک مارشل لا رہے ہوں وہاں جب مارشل لا نہیں ہوتے تب آرمی کو بہت زیادہ حساس حالات میں کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہر وقت اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان کی تاریخ ایسی نہ ہوتی کہ طویل مارشل لا نہ آتے تو پھر یہ میرا خیال ہے کہ ایک فوجی بوٹ رکھنے کی بجائے دو بھی رکھ لئے جاتے تو کوئی زیادہ فرق نہ پڑتا کیونکہ اس کا خاص نفسیاتی سماجی اور سیاسی پس منظر ہے اس لئے اس کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ یہ ہمارے ہاں ماضی میں یوسف رضا گیلانی جیسے شریف آدمی نے بھی ترکی کی خاتون اول کا ہار اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ سرکاری تحفوں کا الم غلم کرنا ہمارے ہاں روایت رہی ہے۔ اور لگتا یہ ہے کہ اب ایک بار پھر چکر چلنے والا ہے اور بہت سے لوگ ایک بار پھر ان الزامات کی زد میں آنے والے ہیں۔ کیا وجہ ہے نیب کا اتنا پراسیس سست کیوں ہے اور اتنے برس گزرنے کے باوجود اب تک پورا نہیں ہو پایا۔ اب تقریباً ڈیڑھ دو سال گزر چکاہے اب دوبارہ نوازشریف اور زرداری، یوسف رضا گیلانی کے بارے میں دوبارہ سرکاری خزانے سے چیزیں ان کا الم غلم یا مس ہینڈلنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لگتا ہے کہ ہم آنے والے ڈیڑھ سو سال تک یہی کچھ کرتے رہیں گے لگتا ہے کہ یہ سوچی سمجھی سازش ہے کہ سارا سسٹم چل رہا ہے اسی نیب کے شکنجے سے نکل کر کلیئر ہونے والے لوگ جو ہیں وہ پھر یہ کہیں گے کہ ہمیں تو بڑی سے بڑی احتسابی ادارے نے بھی کلیئر کر دیا۔ اس کا فائدے کی بجائے نقصان ہو گا اس کا فائدہ تبھی ہو گا کہ جب تک نیب کے اندر خرابیاں دور کی جائیں۔ہماری خارجہ پالیسی بہتر جا رہی ہے وزارت خارجہ مبارکباد کی مستحق ہے کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں جانا ہی بڑی کامیابی ہے۔ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ 20,25 15,سال،25 سال تک ادوار دیکھے ہیں جب سلامتی کونسل میں چڑیا تک نے پر نہیں مارا۔ لگتا ہے سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کو بھول ہی گئی ہے۔ بار بار اس کا ذکر، اقوام متحدہ کے بعد سلامتی کونسل جانا یہ ایک کامیابی ہے۔ اب کشمیر کی بات دنیا کے ہر فورم پر ہوتی ہے کشمیر کے بارے میں ایک بنیادی خوبی ہے حتیٰ کہ انڈیا کے اندر جو بغاوت ہے اب ان کو اس طرف آنا پڑے گا کشمیر کے مسئلہ ان چیزوں پر پردہ ڈال کے رکھے گا۔

وزیر اعظم کا سوا لاکھ سے زائد سرکاری آسامیوں پر فوری بھرتی کا حکم

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں سوا لاکھ سے زائد سرکاری آسامیوں پر فوری طور پر بھرتیوں کا حکم دے دیا ہے۔پی ایم ڈلیوری یونٹ نے وزارتوں اور محکموں کی استعداد کار پر رپورٹتیار کرکے تفصیلات وزیراعظم کو پیش کردیں جس کے مطابق وزارتوں اور محکموں کی غفلت کے باعث سوا لاکھ سے زائد سرکاری نوکریاں بھرتی کی منتظر ہیں۔35 وزارتوں میں ایک لاکھ 29 ہزار آسامیاں خالی ہیں جن میں سے 4 ہزار آسامیاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر ہونا ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وزارتوں کو خالی آسامیاں فوری پر کرنے کی ہدایت کردی۔رپورٹ کے مطابق گریڈ 21 اور گریڈ 22 کی 96 آسامیاں خالی ہیں، گریڈ 8 سے گریڈ 15 تک کی 41 ہزار، گریڈ ایک سے گریڈ 7 تک کی 51 ہزار جبکہ گریڈ 16 سے گریڈ 22 کی 13 ہزار421 پوسٹوں پر کوئی افسر تعینات نہیں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ان آسامیوں کی تفصیلات اور انہیں پر کرنے کےلیے وزارتوں کو ریڈلیٹر بھی جاری کیے تھے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میںجاری مہنگائی اور عوام کی مشکلات کاادراک ہے حکومت کی جانب سے مشکل معاشی حالات ہونے کے باوجود بھی ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ماہانہ وظیفہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جمعرات کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا ، اجلاس میں اشیاءضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول اور عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کے اقدامات کا جائزہ لیاگیا اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د ، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ندیم افضل چن اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر میں اشیاءضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول اور مہنگائی کے خلاف غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تجاویز پر غور کیاگیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس میں کہا کہ حکومت کو کم آمدن اور غریب طبقے کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے اور مشکل معاشی حالت کے باوجود بھر پور کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کیلئے 10 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور صحت انصاف کارڈ سے مستحق خاندانوں کو 7 لاکھ 20 ہزار روپے کی انشورنس مہیا کی گئی ہے جبکہ بنیادی اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں کمی کیلئے یوٹیلٹی سٹورز کو7 ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے اجلاس میں ہدایات دی کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں اور عوام کو مزید ریلیف کیلئے واضح لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جبکہ بی آئی ایس پی کے تحت ماہانہ وظیفے میں اضافہ کی تجویز کو جلد حتمی شکل دی جائے۔ وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د کو ہدایت کی کہ کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کو ریلیف کیلئے بھی جلد پلان مرتب کیا جائے اور کھاد کی قیمت میں 400 روپے تک کمی بھی کی جائے۔ وزیر اعظم نے تمام وزارتوں سے متعلق تفصیل رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

میدانی علاقوں میں دھند کی چادر ،پہاڑوں پر برف کی چاندی،سردی میں اضافہ

اسلام آباد (اے پی پی) محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر موسم سرد اور خشک جبکہ شمالی علاقہ جات اور شمالی بلوچستان کے اضلاع میں شدید سرد رہے گا، گلگت بلتستان، کشمیر اور اس کے ملحقہ پہاڑی علاقوں کے اضلاع میں مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ چند مقامات پربارش اور پہاڑوں پر برفباری کی توقع ہے تاہم پنجاب کے بعض میدانی علاقوں میں رات کے اوقات میں دھند پڑنے کا بھی امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور سرد رہا تاہم سکردو میں 11 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور اس دوران سکردو میں درجہ حرارت منفی 11 ڈگری جبکہ استور میں 2 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ جمعرات کو ریکارڈ کئے گئے کم سے کم درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق کالام، گوپس میں درجہ حرارت منفی 13 ڈگری، بگروٹ منفی 11، استور، چترال، پاراچنار منفی 10، کوئٹہ منفی 9، قلات، سکردو منفی 7، گلگت، دیر منفی 6، دالبندین منفی 5، راولاکوٹ، مالم جبہ منفی 4، دروش اور ژوب میں منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔کراچی میں سائبیریا کی ہواں کے باعث سردی برقرار ہے،جمعرات کو کم سے کم درجہ حرارت آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے درجہ حرارت میں مزید کمی واقع ہوسکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں سائبیریا کی ہواو¿ں کے باعث درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی،جمعرات کو کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے درجہ حرارت میں مزید کمی کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا سردی کی لہر 22 جنوری تک جاری رہے گی۔یاد رہے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ کراچی میں جمعہ اور ہفتہ کودرجہ حرارت مزید گرنے کا امکان ہے ، درجہ حرارت 6ڈگری تک جاسکتا ہے۔ وادی نیلم کے برفانی تودے میں 22 گھنٹے رہنے والی ننھی صفیہ چل بسیصفیہ کو گذشتہ روز آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا سرگن میں برفانی تودہ گرنے کے باعث صفیہ کے دو بھائیوں سمیت خاندان کے آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے تھےننھی صفیہ کی میت پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیلم منتقل کردی گئی ہے جہاں اس کی تدفین کر دی گئی۔

بوٹ کا معاملہ ،وزیر اعظم نے فیصل واوڈا کے ٹی وی پر شوز میں شرکت پر پابندی لگا دی

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی پروگرام میں بوٹ لے جانے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا پر کسی بھی ٹاک شو میں شرکت کرنے پر پابندی لگادی۔وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ وزیراعظم نے فیصل واوڈا سے ٹاک شو میں ان کے رویے پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ فیصل واوڈا پر دو ہفتوں کیلئے ٹاک شو میں شرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بوٹ ٹیبل پر رکھ کر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان عمران خان کی قیادت میں متحرک، فعال اور امن پسند ملک کی شناخت پا رہا ہے، 5ماہ میں سلامتی کونسل کا دوسری بار اجلاس عالمی سطح پر کشمیر کے ایک مسلمہ تنازعہ ہونے کا واضح اعتراف ہے ،5 اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدام کے بعد سلامتی کونسل کی دوسری بیٹھک ہماری سفارتی کامیابی ہے،عمران خان نے جس جرا ت اوردلیری سے کشمیریوں کا مقدمہ لڑا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔جمعرات کو اپنے ٹوئٹر پیغام میںوزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پانچ ماہ میں سلامتی کونسل کا دوسری بار اجلاس عالمی سطح پر کشمیر کے ایک مسلمہ تنازعہ ہونے کا واضح اعتراف ہے،جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود اور غور طلب ہے،5 اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدام کے بعد سلامتی کونسل کی دوسری بیٹھک ہماری سفارتی کامیابی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کے جائز، قانونی اور جمہوری حقوق کی گونج دنیا کے سب سے بڑے فورم پر سنائی دی، بھارتی دعوو¿ں کی پھر نفی ہوئی کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے حق خودارادیت کے عہد کو نبھائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جس جرا ت اوردلیری سے کشمیریوں کا مقدمہ لڑا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی،عمران خان کی قیادت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کردار مثالی ہے،انہوں نے تدبراور بہترین صلاحیتوں سے سفارتی محاذ پر کشمیریوں کی وکالت کی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خطے میں کشیدگی اور تناو¿ کم کرنے میں پاکستان کے کردار کی تعریف خوش آئند ہے،پاکستان عمران خان کی قیادت میں متحرک، فعال اور امن پسند ملک کی شناخت پا رہا ہے۔

متنازعہ شہریت قانون کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں 10ہزار درخواستیں دائر

نئی دہلی‘ممبئی‘ بنگلور‘ اترپردیش‘ بہار(نیٹ نیوز) بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے اور بھارتی سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف درخواستوں کے ڈھیر لگ گئے، لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کو شہریت قانون کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر اوسط 200 درخواستیں بذریعہ ڈاک موصول ہو رہی ہیں۔شہریت قانون، این آر سی کے خلاف تقریبا 10 ہزار درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، ہزاروں درخواستیں پراسس کرنے سے سپریم کورٹ کا عملہ دباﺅکا شکار ہے اور اضافی وقت دینا پڑ رہا ہے۔درخواستوں میں شہریت قانون کو غیر قانونی، بنیادی کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے کالے قانون کے خلاف احتجاج نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، شاہین باغ میں جہاں خواتین کے احتجاج کو ایک ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے، وہیں ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں ایک لاکھ کے قریب افراد کشتیوں کے ذریعے مظاہرے میں شریک ہوئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مسلم مخالف شہریت قانون کے خلاف جگہ جگہ احتجاج، وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مقامات پر مظاہرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے لگا، دلی کے علاقے شاہین باغ میں مسلم خواتین کا احتجاج مزاحمت کی مثال بن چکا ہے جہاں مظاہرین ایک ماہ سے زائد عرصے سے سراپا احتجاج ہیں، ان خواتین کا جذبہ دیکھ کر ریاست اتر پردیش اور بہار میں بھی خواتین کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے نکل پڑیں۔شاہین باغ میں مسلم خواتین سے اظہار یکجہتی کے لئے بھارتی پنجاب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ سیکڑوں سکھ اظہاریکجہتی کیلئے پہنچے جہاں انہوں نے مظاہرین کیلئےلنگر کا اہتمام کیا۔ ادھربھارتی ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں ایک لاکھ کے قریب افراد نے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کیا جس میں دور دراز علاقوں سے لوگ کشتیوں پر سفر کر کے پہنچے۔دوسری جانب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلبا پر تشدد کے خلاف احتجاج ہوا جس میں سیکڑوں افراد کے ساتھ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی صدر عاشی گھوش نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسے دو یونین علاقوں میں تقسیم کرنے کے مودی حکومت کے اقدام کی شدیدمذمت کی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خطاب کے دوران عاشی گھوش نے جامعہ ملیہ میں جاری احتجاج میں شرکت کی اور مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوںنے اس موقع پر کہاکہ ہمیں اپنی جدوجہد میں کشمیر کو نہیں بھولنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ہم سے آئین کے تحت حاصل آزادیوں کو چھیننے کی حکومت کی سازش کا حصہ ہے ۔ بھارتی معروف سوشلسٹ لیڈر شرد یادو نے متنازع شہریت ترمیمی قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جنگل راج سے بھی براحال ہے اور غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور پولیس کا اتنا ظلم تو ایمرجنسی میں بھی نہیں ہواتھا۔نشریاتی ادارے کے مطابق سوشلسٹ لیڈر شردیادو نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز لکھنو¿میں گزشتہ دنوں متنازع شہریت ترمیمی قانون کےخلاف پرامن تحریک کے دوران گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس )کے سابق افسر ایس آر داراپوری ،سنسکرت کارکن دیپک کبیر ،صدف ناز اور ریاضی کے ٹیچر رہے پون امبیدکر کی حمایت میں پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔انھوں نے 19دسمبر کے واقعہ کی تفصیل بتائی اور جیل میں اپنے ساتھ غیر انسانی سلوک اوربدترین تشدد کی دردناک داستان سنائی۔

میجر جنرل بابر افتخار نئے ترجمان پاک فوج مقرر،آصف غفور جی او سی اوکاڑہ تعینات

راولپنڈی(بیورو رپورٹ) میجر جنرل بابر افتخار کو شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کردیا گیا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سابقہ ترجمان میجر جنرل آصف غفور کو جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)اوکاڑہ تعینات کردیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے مطابق میجر جنرل بابر افتخار نے 1990 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا، میجر جنرل بابر افتخار کا تعلق آرمڈ کور کی 6 لانسرسے ہے۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کی، انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے بھی گریجویشن کی ہے اس کے علاوہ میجر جنرل بابر افتخار نے رائل کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اردن سے بھی گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل بابر افتخار کمانڈ، سٹاف اور انسٹرکشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، انہوں نے آرمر بریگیڈ میں بطور بریگیڈ میجر خدمات انجام دیں، وہ شمالی وزیرستان کی انفنٹری ڈویژن میں بطور بریگیڈ سٹاف خدمات انجام دیتے رہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق میجر جنرل بابر افتخار کور ہیڈ کوارٹر میں چیف آف سٹاف بھی رہے، آپریشن ضرب عضب میں میجر جنرل بابر نے آرمرڈ بریگیڈ اور انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ کی۔میجر جنرل بابر افتخار پاکستان ملٹری اکیڈمی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو)اسلام آباد کے فیکلٹی ممبر رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر بننے سے قبل میجر جنرل بابر افتخار آرمرڈ ڈویژن کی کمانڈ کر رہے تھے۔یاد رہے کہ میجر جنرل آصف غفور کو 15 دسمبر 2016 کو پاک فوج کے ترجمان (ڈی جی آئی ایس پی آر)کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، اب انہیں اوکاڑہ میں پاک فوج کی 40 ویں انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ انہوں نے 1988 میں پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ الحمد للہ، اپنی مدت کے دوران تعاون پر سب کا شکریہ ادا کرتو ہوں جبکہ تمام ذرائع ابلاغ کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں۔ میرے پاس ہم وطن پاکستانیوں کی محبت اور تعاون کا شکریہ ادا کرنے کیلئے الفاظ بہت کم ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے لکھا کہ میں نئے ڈی جی آئی ایس پی آر کیلئے دعاگو ہوں۔تین سال تک ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر کام فائز رہنے والے میجر جنرل آصف غفور نے اپنے تبادلے کے بعد نجی اکاونٹ سے کئے گئے ٹویٹ میں کہا ہے کہ آپ کی محبت اور حمایت کا شکریہ، مضبوط رہتے ہوئے پاکستان کیلئے اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ خداکی رحمت ہو۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے حوالے سے اگر تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے یہ ذمہ داری کرنل شہباز خان کو ملی تھی جنہوں نے مئی 1949 سے لیکر جولائی 1952 تک ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔کموڈور مقبول حسین نے اگست 1952 سے اکتوبر 1965 تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ کرنل زیڈ اے سلہری نے نومبر 1965 سے اگست 1966 تک ڈی جی آئی ایس پی آر کی ذمہ داریاں نبھائیں۔دیگر ناموں میں لیفٹیننٹ کرنل مسعود احمد، بریگیڈیئر اے آر صدیقی، بریگیڈیئر فضل الرحمن، بریگیڈیئر ٹی ایچ صدیقی، بریگیڈیئر جنرل صدیقی سالک، میجر جنرل ریاض اللہ، میجر جنرل جہانگیر نصر اللہ، میجر جنرل خالد بشیر، بریگیڈیئر ایس ایم اے اقبال، میجر جنرل سلیم اللہ، بریگیڈیئر جنرل غضنفر علی، میجر جنرل راشد قریشی، میجر جنرل شوکت سلطان خان، میجر جنرل وحید ارشد، میجر جنرل اطہر عباس، میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ، میجر جنرل آصف غفور کے بعد یہ نئی ذمہ داری میجر جنرل بابر افتخار کو ملی ہے۔

پاکستان کشمیر پر ریفرنڈم کے لیے تیار ،ایٹمی ملک بھارت پر انتہا پسندوں کا قبضہ ،عمران خان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہایران کے ساتھ فوجی تنازعہ تباہ کن ہو گا،ہم مشکل ہمسائیگی والے ماحول میں رہتے ہیں۔ہماری پوری کوشش ہے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات خراب نہ ہوں۔ یہ خطہ ایک اور تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا ،ہماری دعا ہے کہ طالبان، امریکا اور افغان حکومت مل کر قیام امن کی منزل حاصل کر لیں، ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہروں کو انٹرنیشنل میڈیا توجہ دے رہا ہے لیکن کشمیر کا المیہ اس سے بہت ہی بڑا ہے اور اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو ہی یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ پاکستان کسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کے لیے تیار ہے۔ جرمن ٹی وی ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم کا کہناتھا کہ میں سیاست میں اس لیے آیا تھا کہ میں نے محسوس کیا تھا کہ پاکستان کے پاس بہت زیادہ صلاحیتیں اور امکانات ہیں۔ جب میں بڑا ہو رہا تھا تو پاکستانی معیشت ایشیا میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کر رہی تھی اور یہی بات 1960 کے عشرے میں ترقی کے لیے ایک ماڈل ثابت ہوئی تھی۔ پھر ہم راستے سے بھٹک گئے۔ میرا سیاست میں آنے کا مقصد پاکستان کی انہی صلاحیتوں کا دوبارہ حصول تھا۔یہ درست ہے کہ ہم مشکل ہمسائیگی والے ماحول میں رہتے ہیں اور ہمیں اپنے اقدامات کو متوازن رکھنا ہی ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب پاکستان کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک ہے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔ پھر ایران ہے، جس کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب نہ ہوں۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے، جو ایک اور تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پھر ہمارا ہمسایہ ملک افغانستان بھی ہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہا ہے، ایک ایسا ملک جس نے گزشتہ 40 برسوں میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ طالبان، امریکا اور افغان حکومت مل کر قیام امن کی منزل حاصل کر لیں۔ بھارت میں بی جے پی حکومت کے ساتھ کشیدگی اور کشمیر کی صورتحال بارے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ میں وہ پہلا لیڈر تھا، جس نے دنیا کو اس بارے میں خبردار کیا تھا کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔ بھارت پر ایک ایسی خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ غالب آ چکی ہے، جو ‘ہندتوا کہلاتی ہے۔ یہ آر ایس ایس (راشٹریہ سوایم سویک سنگھ) کی نظریاتی سوچ ہے۔ آر ایس ایس ایک تنظیم کے طور پر 1925 میں قائم کی گئی تھی، جرمن نازیوں سے متاثر ہو کر، اور اس کے بانی نسلی برتری پر یقین رکھتے تھے۔ اسی طرح جیسے نازی آئیڈیالوجی کی بنیاد اقلیتوں سے نفرت پر رکھی گئی تھی، آر ایس ایس کی بنیاد بھی مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں سے نفرت ہی ہے۔یہ بھارت کے لیے ایک المیہ ہے اور اس کے ہمسایوں کے لیے بھی، کہ اس ملک پر آر ایس ایس نے قبضہ کر لیا ہے، وہی آر ایس ایس جس نے عظیم مہاتما گاندھی کو قتل کروایا تھا۔ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایک ایسا ملک ہے، جسے انتہا پسند چلا رہے ہیں۔ کشمیر گزشتہ پانچ ماہ سے مسلسل محاصرے کی حالت میں ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب میں وزیر اعظم بنا تو میں نے بھارتی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مکالمت کی کوشش کی۔ میں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم اپنے باہمی اختلافات دور کرنے کے لیے دو قدم آگے بڑھیں گے۔ لیکن جلد ہی میں نے یہ دیکھ لیا کہ بھارت نے آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کی وجہ سے اس پر کوئی بہت اچھا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ بات اس وقت بھی پوری طرح ظاہر ہو گئی تھی، جب بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا، حالانکہ اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے مطابق بھی یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بارے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم دنیا کے کسی بھی حصے سے کسی کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ آئیے، پہلے اس طرف کے کشمیر کا دورہ کیجیے اور پھر بھارت کے زیر انتظام حصے کا۔ خود ہی فیصلہ کر لیجیے۔ انہو ںنے کہاکہ آزاد کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں اور اس حصے کے عوام ہی وہاں کی حکومت منتخب کرتے ہیں۔ کسی بھی دوسری انتظامیہ کی طرح، ان کی بھی مشکلات ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا، ہماری طرف سے دنیا بھر سے مبصرین کو بلا لیجیے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مبصرین کشمیر کے پاکستانی حصے میں جا سکتے ہیں مگر انہیں کشمیر کے بھارتی حصے میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کشمیر کے لوگوں کو ہی یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ پاکستان کسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ کشمیریوں کو خود کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزادی۔انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی طرف عالمی برادری زیادہ توجہ نہیں دیتی ہے ۔ آپ ہی سوچیے کہ ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہروں کو میڈیا کتنی توجہ دے رہا ہے۔ کشمیر کا المیہ تو اس سے بہت ہی بڑا ہے۔ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے ان کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں۔ بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آٹھ ملین کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اور جو کچھ بھارت میں مجموعی طور پر اقلیتوں کے ساتھ بھی، اس پر بین الاقوامی برادری کے رویے میں قدرے سرد مہری پائی جاتی ہے۔ بھارت کا شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے)واضح طور پر اقلیتوں کے خلاف ہے، خاص طور پر بھارت کے 200 ملین مسلمانوں کے خلاف۔ ان تمام امور پر دنیا کے خاموش رہنے کی وجہ زیادہ تر تجارتی مفادات ہیں۔اس کے علاوہ اسٹریٹیجک حوالے سے بھارت کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ چین کی موازن قوت بنے، تو اس لیے بھی ان دونوں تنازعات کے بارے میں عالمی رویے بالکل مختلف ہیں۔ جرمنی اور یورپی یونین کے کردار کے بارے میں عمران خان نے کہاکہ میری رائے میں جرمنی بہت بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جرمنی یورپ کا مضبوط ترین ملک ہے اور یورپی یونین کا بہت بڑا رکن ملک بھی۔ جب میں نے چانسلر میرکل سے بات کی تھی، تو میں نے انہیں ان امور کی وضاحت کی تھی، یہ کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔ اور انہوں نے دراصل اس بارے میں ایک بیان بھی دیا تھا، جب وہ بھارت کے دورے پر تھیں۔ افغانستان کی موجودہ مزاکرات کی صورتحا ل کے بارے میں پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ایک فائر بندی کی طرف پیش رفت جاری ہے۔ صدر اشرف غنی کے دوبارہ انتخاب کے بعد افغانستان میں نئی حکومت اقتدار میں آ چکی ہے۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔افغانستان میں قیام امن سے وسطی ایشیا میں تجارت کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ تب افغانستان ہمارے لیے بھی ایک اقتصادی راہداری بن جائے گا۔ جب افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا، تو اس کا فائدہ ہمارے اس صوبے خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی پہنچے گا، جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ طالبان نے کچھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا تھا اور پاکستان کی مدد سے دو مغربی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو گئی۔ اس لیے، ہمارا جتنا بھی اثر و رسوخ ہے، ہم اپنی پوری کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے، اس کا موازنہ چین میں ایغور باشندوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا جو کہا جاتا ہے کہ چین میں ایغور باشندوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ چین ہمیشہ ہی ہمارا بہت قریبی دوست رہا ہے۔ چین نے ان انتہائی مشکل حالات میں بھی ہماری بہت مدد کی، جب میری حکومت کو گزشتہ حکومت سے ورثے میں ایک پورا اقتصادی بحران ملا تھا۔ اس لیے ہم چین کے ساتھ مختلف امور پر نجی سطح پر تو بات کرتے ہیں لیکن عوامی سطح پر نہیں، کیونکہ یہ حساس معاملات ہیں۔ پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل کے برٹش رائل فیملی میں اپنے شاہی کردار سے دستبردار ی کے فیصلہ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ مجھے پاکستان میں اتنے زیادہ مسائل پر توجہ دینا ہوتی ہے کہ مجھے یہ کوئی بہت بڑا موضوع لگا ہی نہیں۔ دیکھا جائے، تو یہ ان کی اپنی زندگی ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی اس طرح گزارنا چاہتے ہیں، تو کسی کو بھی اس میں کوئی مداخلت بھلا کیوں کرنا چاہیے؟ اگر کوئی نوجوان جوڑا اس طرح اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہے، تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔

جوتے والے بابو جوتا چلا دے

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی طرف سے ایک ٹی وی شو میں ’بوٹ‘ کو دی گئی برابری اور عزت پر ان کی جماعت اور اپوزیشن سمیت ہرکوئی سیخ پا ہے۔ فیصل واوڈا نے بغیر لگی لپٹی کے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ہماری جمہورت کا چہرہ اور اوقات بھی یہی ہے۔ فیصل کے ’ بوٹ‘ لانے کے عمل کو نامناسب فعل کہا جا سکتا لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ حرکت غیر شائستہ ہو سکتی ہے لیکن غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی ہر گز نہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایوب خان سے لے کر ضیاءالحق اور پھر مشرف تک پارلیمنٹ نے جتنی عزت ان ’بوٹوں ‘کو دی اگر وہی عزت اس جمہوری نظام اور ان کو منتخب کرنے والی عوام کو دی ہوتی تو آج فیصل واوڈا کو جوتے کی منہ دکھائی نہ کرنا پڑتی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس جمہوریت کو ہمیشہ ’ بوٹوں‘ نے ہی پامال کیا لیکن اپنے سیاسی فائدے کےلئے اس پامالی کو خوش آمدید بھی ہمارے جمہوریت پسندوں نے ہی کیا۔اسی پارلیمنٹ نے ان ’بوٹ‘ پہننے والوں کو عزت دیتے ہوے ان کے غیر آئینی اقدامات کو آئینی ترامیم کے ذریعے جاز قرار دیا۔ کیا ذولفقار رعلی بھٹو ایوب خان کی کابینہ کے رکن نہ تھے۔کیا نواز شریف نے اقتدار کے لیے ضیاءالحق کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ کیا مسلم لیگ ق نے مشرف کو مسیحا نہیں مانا۔ کیا پرویز الٰہی نے جنرل مشرف کو دس بار وردی میں منتخب کروانے کی بات نہیں کی۔کیا مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے فورسز ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پی ٹی آئی سے بھی زیادہ تیزی نہیں دکھائی۔ مسلم لیگ ن نے ساراکریڈٹ اکیلے لینے کے چکر میں اپوزیشن سے مشورے کے بغیر ہی اس بل کی غیر مشروط حمایت اعلان کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔’ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو‘ نہیں چلے گا۔ کیا نواز شریف نے 7 دسمبر کو اپنے آٹھ پیاروں کو لندن میں ایک اجلاس میں اس بل کی غیر مشروط حمایت کا نہیں کہا تھا؟ حکومت تو ترمیم 7جنوری کو لائی لیکن نواز شریف نے اس پر پہلے ہی مہر ثبت کر دی۔ کیا اسحاق ڈار اور شہباز شریف سمیت دس انتہائی معتبر ساتھیوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ان سے اس میٹنگ میں طے کیے گئے معاملات کی رازداری کی خاطر سب سے قرآن پر حلف نہیں لیا گیا تھا؟۔ نواز شریف نے ماضی کی طرح اپنی سہولت کے لیے سودا کر لیا۔ بھاڑ میں گئی کارکنوں اور لیڈران کی قربانیاں۔ مسلم لیگ نواز نے تو حکومت سے پہلے ہی آئینی ترمیم پر گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ پھر سارا ڈرامہ کس لیے۔ حلف والے اجلاس کی چند باتیں سامنے آئی ہیں اس کے ٹکڑے جوڑ رہا ہوں جلد ہی اس پرلکھوں گا۔
فیصل واوڈا نے نواز شریف کی بیماری کوبھی ڈرامہ قرار دیا اور لندن میں ان کی ایک ریسٹورنٹ میں موجودگی پر بھی تنقید کی۔ فیصل صاحب یہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں ۔ اس سارے فسانے کے پیچھے ایک تصویر ہے جس میں نواز شریف ایک ریسٹورنٹ میں خاندان کے افراد کے ہمراہ بیٹھے ہیں۔ مسلم لیگی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کو کسی بھی پبلک مقام پر جانے کی شدید مخالفت کی تھی کہ اس طرح حکومت کو تنقید کا موقع ملے گا۔ لیکن نواز شریف جانے پر بضد تھے جس کے سامنے سب نے ہتھیار ڈال دیے اور ایک پینڈورا بکس کھل گیا۔ نواز شریف کا موقف یہ تھا کہ وہ bed ridden نہیں ہیں کہ گھر سے باہر نہ جا سکیں۔ مسلم لیگی حلقوں کادعوی ہے کہ نواز شریف کی ہوا خوری کی مشقیں جاری رہیں گی۔ فیصل واوڈا نے تو خود سمیت اپنی سیاسی برادری کو آئینہ دکھایا ہے اور آئینہ محض اصل کا عکس دکھاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اگر فیصل ’ بوٹ‘ کی جگہ’ وردی‘ لے آتے تو شاید اتنی تنقید کا سامنا نہ کرتے۔ گوکہ وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پی ٹی آئی کی طرف سے فیصل واوڈا کی اس حرکت کی مذمت کر دی ہے لیکن پی ٹی آئی کے حلقوں میں فیصل واوڈا کی جے ہو ‘کے نعرے لگ رہے ہیں۔ لیکن کچھ حسد کے مارے ان سمیت دو وزا ءکی کابینہ سے رخصتی کی باتیں کر رہے ہیں ۔
فیصل واوڈا کا براہ راست نشانہ مسلم لیگ نواز تھی لیکن اس پروگرام میں موجود مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے نمایندوں کی طرف سے بائیکاٹ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ چلے مسلم لیگ کی حد تک تو سمجھ آ تا ہے لیکن قمر الزماں کائرہ کا میدان چھوڑنا سمجھ سے بالا تر تھا۔کیا کوئی یہ حقیقت جھٹلا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نواز کا تو جنم ہی آمریت کی کوکھ سے ہوا تھا، وہیں اسے سینچا اور پروان چڑھایا گیا۔ اگر فیصل واوڈا نے انہیں اپنی جنم بھومی یاد دلائی ہے تو کیا برائی کی۔ حاشیہ آرائی کے لیے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ریٹنگ بڑھانے کے لیے یہ پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا اور دلیل یہ دی جا رہی کہ اتنا بڑا جوتا سٹوڈیو میں میزبان کی مرضی کے بغیر لایا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ ایک تاثر ہو سکتا ہے جس میں وزن ہے تاہم پروگرام کے اینکر نے اس کی تردید کی ہے۔ اس وقت جس قدر سیاسی تلخی بڑھتی جا رہی ہے تو اپنا غصہ اتارنے کےلئے متحارب مہمان ٹی وی شوز میں ہتھیار بھی لا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسی مملکت پاکستان میں 23 ستمبر 1958 میں اسمبلی میں ممبران کی آپس میں لڑائی کے دوران ڈپٹی سپیکر شاہد علی پٹواری زخمی ہوے اور چل بسے۔
کچھ کا خیال تھا کہ ایک مرحلے پر فیصل واوڈا نے جوتا چلا بھی دینا تھا۔ اگر فواد چوہدری ٹی وی شوز کے میزبانوں کو punchin bag بنا سکتے ہیں تو فیصل واوڈا سے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن سیاسی پنڈتوں کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت ، علاج کے لیے بیرون ملک روانگی ، کچھ مسلم لیگیوں کی ضمانت پر رہائی، احتساب اور نیب آرڈیننس کے معاملے اور خاص طور پرآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کا ایک پیج پر آنا ان جماعتوں کے منتخب ممبران ، وزراءاور کارکن شدید نالاں تھے۔ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ پارٹی اجلاسوں اور کابینہ میں بھی اسunholly alliance پر سوال اٹھ رہے تھے۔سوشل میڈیا میں تو اپنے لیڈران کے ایسے لتے لیے جا رہے ہیں کہ بیان سے باہر ہے خاص طور پر احتساب کے معاملے پر مبینہ مک مکا کے تاثر کو زائل کرنے کےلئے ٹی وی شو میں جوتوں سمیت آنے کی اقدامات کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تا کہ مک مکا کے اس تاثر کو زائل کیا جا سکے۔ پہلی ہی قسط میں لگ رہا ہے کہ یہ فلم باکس فس پر کامیاب ہو نہ ہو اس کے سیکوئل آتے رہیں گے۔ پڑھا لکھا طبقہ بھی مسئلے پر ایک پیج پر نہیں ہیں۔ کچھ کا یہ دعویٰ تھا پہلے جو بات پس دیوار اور اشارے کنایوں میں کی جاتی تھی ، فیصل واوڈانے پہلی بار ایک تلخ حقیقت کو سربازار آشکار کر دیا۔ کچھ کی تشریح یہ ہے کہ ایک وفاقی وزیر کی طرف سے دوسری سیای جماعتوں پر اٹھائی گئی انگلی نے پی ٹی آئی کو بھی ایکسپوز کر دیا کہ ان کے پیچھے بھی کوئی قوت ہے۔ ہمارے جمہوری نظام کی اصلیت اور ان سیاسی جماعتوں کی خاص طور پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ نواز کی سیاست یہی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ سیاسی طور پر نا بالغ پی ٹی آئی کی اس حرکت سے اس گھر کوآ گ گھر کے چراغ سے ہی لگے گی۔ ارے بھئی کوئی پہلی بار لگے گی اس گھر کے مکین عادی ہو چکے ہیں اس چتا میں جلنے کے۔
سنجیدہ حلقوں کی غیر سنجیدگی دیکھیں کہ یہ دانشور ایک ٹی وی شو میں جوتے کی آمد کو جمہوری نظام کو بھی جوتا کلب میں شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ارے بھئی سب کچھ سکرپٹڈ سمجھ کر رئیل ٹی وی شو کی طرح لطف اندوز ہوں۔ جس معاشرے میں مزاح کے نام پر بےہودگی پھلانے والے شو زیادہ دیکھے جا رہے ہوں وہاں پر اس قسم کے شوز کی ریٹنگ آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے۔ گو کہ پی ٹی آئی نے فردوس عاشق اعوان کے ذریعے فیصل واوڈا کی اس حرکت سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا ہے لیکن اس بیان پر سوشل میڈیا پر وہ اپنے ہی ہمدردوں کی شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں اور فیصل واوڈا کو پذیرائی مل رہی ہے۔ لیکن ماضی کو سامنے رکھا جائے تو یہ ٹرینڈ جاری رہے گا ۔ اگلی قسطوں کا انتظار کریں جن کے بارے میں سنا ہے کہ محض جوتا دکھائی کی بجاے کچھ ایکشن بھی دیکھنے کو ملے گا۔ جوتا دکھائی کے بعد جتنی کوریج فیصل واوڈا کو مل رہی ہے یقینا پی ٹی آئی کے باقی لوگ حسد سے جل رہے ہیں اور انہوں نے بھی اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ کوئی اتفاق کرے یا نہ لیکن negative publicity زیادہ بکتی ہے۔ لگتا ہے گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭

اُمت ِمرحومہ!

اُمت ِمسلمہ بلکہ مرحومہ کے کسی بھی ملک پر کوئی مشکل وقت آتا ہے تو،ستاون مسلم ممالک کو جیسے سانپ سونگھ جاتاہے۔ دوسری جانب یورپ اور مغرب ہے جو ” انسانوں“ کو بچانے کے لیے کبھی افغانستان پر چڑھائی کرتا ہے کبھی عراق اس کو ” پکارتا“ ہے۔کبھی ایران میں ” انسانی حقوق کی پامالی“ کو ختم کرنے کو دوڑتے ہیں کبھی کوریا انہیں کھٹکتا ہے کبھی وینزویلا ان کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔ یہ سب متحد ہیں۔دفاع اور خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ پارلیمنٹ تک۔جبکہ مسلمانوں کو ایک ایک کر کے انہی کے اندر سے دشمن تلاش کر کے ذبح کر رہے ہیں اور مسلم حکمران اپنی توندوں کو موٹا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔دنیائے کفر اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کاایک وسیع اور مہیب جال بچھا چکی ہے۔ اسلام کو ایک جنگ جو دین اور مسلمانوں کو دہشت گرد قوم ثابت کرنے کے لیے عالم گیر پیمانے پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔صہیونی میڈیا کی قوت کے بل پر دنیا کی اکثریت اس جھوٹ کا شکار بنا دی گئی ہے۔اسلام اور مسلمانوں سے شعوری عناد اور عداوت رکھ کر یورش کرنے والے تھوڑے ہیں‘باقی انبوہ کثیر ان دشمنوں کا ہے ‘جنہیں وجہ عنادتک معلوم نہیں۔وہ ایک زبردست سائنسی پروپیگنڈے سے اسلام کے دشمن بنا دیے گئے ہیں۔ان کم نصیبوں میں سے اکثریت تو ان کی ہے ‘جو خود اس چشمہ حیات کے متلاشی و متمنی ہیں ‘جو صرف اسلام کا حیات بخش نظام فراہم کرتا ہے اور جو پوری انسانیت کو حیات ابدی ‘دائمی سکون اور امن اور انصاف دے سکتا ہے۔ مگر ظاہر ہے یہ بات انہیں معلوم نہیں کہ وہ چشمہ ¿ حیات کہاں ہے اور سچی بات یہ ہے کہ انہیں بتانے والا بھی کوئی نہیں۔اس لیے کہ وہ مسلمان حکمران اور رہنما جنہیں یہ معلوم ہے ‘ان کی اکثریت خود بھی اس چشمہ صافی سے اپنی روحوں کی تشنگی مٹانے پر تیار نہیں۔وہ اس پاک و صاف منبع حیات کو چھوڑ کر ان ہی گندی نالیوں اور آلودہ نہروں سے پیاس بجھا رہے ہیں ‘ جو مغرب کی متعفن تہذیب کے جوہڑوں سے نکلتی ہیں۔ جن سے پیاس بجھتی نہیں اور بھڑکتی ہے۔
دنیائے اسلام میں سینکڑوں ہزاروں داعیان حق صدائے حق بلند کرنے کو موجود ہیں ‘ مگر اکثر ان کی صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے ‘اس لیے کہ ان کے اندر وہ اتحاد و یگانگت مفقود ہے جو اس دعوت حق میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے ….جس کے لیے خالق ارض و سما نے حکمت و بصیرت اور محبت فاتح عالم کو شرط قرار دیاتھا۔ ” اور اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور خوب صورت نصیحت سے دعوت دو….“ ۔اس حکمت و بصیرت سے محروم ہو کر امت مسلمہ دنیا کو اپنے کردار و عمل سے متاثر کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ہمارا سارا ”قبیلہ “ ان ہی بیماریوں میں مبتلا ہے ‘جن میں پورا یورپ ‘ شمالی اور لاطینی امریکا اور دوسری ترقی پسند دنیا مبتلا ہے۔اقبال ؒ نے تہذیب مغرب کی اجتماعی خودکشی کی جو پیش گوئی کی تھی ‘اس کے پورا ہونے کا وقت سر پر آ پہنچا ہے۔ آج یورپ و امریکا میں انسانیت کو مٹا کر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے طریقوں پر تو اختلاف ہو سکتاہے ‘ لیکن اس بات پر وہ سب عملاً متفق ہیں کہ زندہ رہنے کا حق صرف ان ہی کو حاصل ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو یہ لوگ مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں لاکھوں انسانوں کی قتل و غارت گری کے حق میں نہ ہوتے۔ وہ اس سلسلے کو روکنے کے بجائے اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ‘ لیکن حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔یہ جوں جوں مسلمانوں کو قتل کرنے اور ” جدید تہذیب “ کو لانے کی سعی کرتے ہیں رد عمل بڑھتا چلا جارہا ہے اور ان کے کھلے تضاد نے دنیا کو ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے۔
مغرب سے اٹھنے والی آندھی نے عالم اسلام کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملا دی ہے۔میرے خیال میں امریکہ ایک قہر خداوندی کی شکل میں اسلام کے قلب پر ٹوٹا ، اس وقت اسلامی دنیا کے حکمران توقع کے عین مطابق بے چارگی اور کسمپرسی کے انداز میں نہ صرف اس کے سامنے سپر انداز ہو گئے ‘بلکہ اپنی ساری قوت بھی کفر و شرک کے علمبرداروں کے سپرد کر دی ‘ تا کہ وہ زیادہ آسانی سے بے بس مسلمانوں کی گردنیں کاٹ سکیں۔یہ حقیقت بھی کچھ کم الم انگیز نہیں کہ اس چیلنج کو اسلامی دنیا کے ضمیر نے بھی جرا¿ت و ہمت سے قبول نہیں کیا۔یہاں تک کہ وہ اسلامی تحریکات بھی اس چیلنج کو کماحقہ سمجھ پائیں نہ ہی ان کی طرف سے اس کا مقابلہ یا تدارک کرنے کی کوئی اجتماعی سعی دیکھنے میں آئی ….جن کا دعویٰ یہ تھا کہ اسلام اس دور میں انسانیت کے لیے آخری پناہ گاہ اور واحد چشمہ آب حیات ہے۔ مختلف ممالک میں اسلامی تحریکیں مقامی مسائل اور معاملات میں الجھی رہیں اور ان کی طرف سے بھی امریکی جارحیت کا جواب اس فہم و فراست اور بینش و بصیرت سے نہیں دیاگیا جس کا وقت تقاضا کرتا تھا۔ اس کے برعکس ایک عمومی ناامیدی ‘بے جواز غم و غصے یا حالات سے سمجھوتے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔یہ درست ہے کہ اسلامی تحریکات کے لیے کام کے مواقع محدود تر ہو رہے ہیں اور چیلنج کی شدت گزرتے وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔زمین جو پہلے ہی خراب تھی ‘ اب بالکل بنجر نظر آتی ہے۔موسم ناموافق اور پانی کمیاب ہے ‘ لیکن اہل حق کے لیے تو ازل سے یہی کچھ مقدر کیاگیا ہے۔وہ بنجر زمینوں میں کھیتیاں اگاتے اور اپنے خون پسینے سے سینچتے چلے آئے ہیں۔ان کےلئے تائید و نصرت الٰہی کے سوا پہلے کوئی مادی سہارا تھا ‘نہ آج موجود ہے۔کچھ نیک دل انسان اور پاک روحیں اگر تائید و تعاون کے لیے مل جائیں ‘تو انہیں اپنا حق جاننے کے بجائے تائیدایزدی اور عنایت الٰہی سمجھنا چاہیے۔
یہ درست ہے کہ اسلامی دنیا مغرب کے گھیرے میں آ ئی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔مغربی فکر ‘اقدار ‘ٹیکنالوجی ‘ ثقافت ‘ معاشرت اور معیشت سے پہلے ہی مسلمانوں پر دائرہ تنگ ہو رہا تھا ‘اب سیاسی اور عسکری غلبہ بھی مسلط ہو رہا ہے۔بڑھتے ہوئے دباﺅ سے بہت سے لوگ گھبرا کر کہہ اٹھے ہیں کہ اس وقت اسلامی تشخص برقرار رکھنا اور مسلم قوم کی بقا اور وجود کو باقی رکھنا اصل چیلنج ہے۔ لیکن کیا عجب تاریکیوں کا یہ سفر اسلام کی پر نور منزل پر پہنچنے کا پیش خیمہ ثابت ہو۔یہ بھی درست ہے کہ علمائے اسلام کو مغرب اپنے راستے کا روڑا سمجھتا ہے ‘سردست وہ ان کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوگا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ستاون ممالک بائیس تیئس ممالک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور اپنے شہریوں کی تکہ بوٹی ہوتے دیکھتے رہیں۔ مسلمانوں پر چڑھائی کرنے والے جتھہ بندی کر کے نکلے ہیں وہ اسلام کے خلاف متحد ہیں جبکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کا دم بھرنے والے بلوں میں گھس جاتے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی اگر ہزاروں میل دور کا سفر کر کے عراق ‘ افغانستان اور دیگر ملکوں پر چڑھائی کر سکتے ہیں تو دنیا کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ غزہ کے محصور سولہ لاکھ انسانوں کی مدد کے لیے کوئی بھی اسلامی حکمران بات بھی نہیں کر سکتا اور یہ بھی ناممکن بنا دیاگیا ہے کہ وہ اسلام کا عالمگیر سچ ان ظالموں کے سامنے پیش کریں اور ان کی دوہری اور دو غلی پالیسی کا بودہ پن کھول کر بیان کر سکیں۔ ان حکمرانوں کے پاس کچھ کرنے کا وقت کم رہ گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ستاون ملکوں کے گونگے بہرے اور اندھے حکمرانوں کو اپنی اس معذوری کا علاج تلاش کرناہوگا ورنہ یہ معذوری ہمیں ذلت کی گہرائیوں میں لے جائے گی۔امریکا اور اس کے اتحادی ایک ایک کر کے اسلامی ملکوں کو اسی طرح کچلتے جا ئیں گے اور ہر ایک اپنی گردن بچانے کی فکر میں رہے گا تو پھر وہ وقت بہت جلد آ جائے گا جب یہ چار چار کنال کے جسم ‘طوفانی پیٹ اوردودو مرلے کی گردنیں ایک ایک کر کے ڈرون حملوں راکٹوں اور ” جعلی مقابلوں“ میں اڑا دی جائیں گی۔آج نہیں تو کل وقت آئے گا۔
ان کے حکمران جیسے بھیڑوں کا ریوڑہوتے ہیں جو دنیا میں کٹتے مٹتے مسلمانوں کے خون کا تماشا دیکھتاہے۔
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭

سیاسی نظام کی تبدیلی کیوں ضروری ؟(2)

پاکستان کے موجودہ حالات کا گہرائی میں جاکر جو بھی جائزہ لے گا، وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہم اپنی تاریخ کے ایک سنگین بحران سے دوچار ہیں اور اس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ اس کےلئے تمام سیاسی اور دینی قوتوں کے درمیان حقیقت پسندانہ مشاورت اور ملک و قوم کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے مناسب اور موثر لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے عمران خان نے ایک تاریخی موقعے کو بڑی بے دردی سے ضائع کیا ہے۔ جولائی 2018ءکے انتخابات، منصفانہ انتخابات نہیں تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان میں آج تک ایک بھی انتخاب دیانت اور انصاف کی بنیاد پر نہیں ہوا۔ 1970ءکے انتخاب کے بارے میں دعویٰ تو کیا جاتا ہے کہ وہ منصفانہ تھا، لیکن جن کی نگاہ زمینی حقائق پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ خاص طور پر مشرقی پاکستان میں انتخابات کو بری طرح عوامی لیگ کا یرغمال بنا دیا گیا۔ تاہم، جو سیاسی لہریں ملک کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھیں، ان کی بھی عکاسی انتخابی نتائج میں پائی جاتی تھی۔ مختصر الفاظ میں، مختلف شکلوں میں اورمختلف طریقوں سے ہرسطح پر، ملک کے ہر انتخاب پر اثرانداز ہوا گیا ہے اور 2018 ءکے انتخابات کے نتائج میں بھی یہ چیز موجود تھی۔ لیکن اس کے باوجود ایک دو جماعتوں کو چھوڑکر سب نے ایسے داغدار نتائج کی بنیاد پر بھی پارلیمنٹ کو موثر کرنے اور حکومت سازی کی تائید کی۔ ہماری بھی سوچی سمجھی راے یہ تھی کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو کام کا موقع ملنا چاہیے اور انھیں اپنی پوری مدت ملنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ان قوتوں کا ساتھ نہیں دیا جو انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف اور اس کی قیادت نے اس تاریخی موقعے کوضائع کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اہمیت دینے اور اپوزیشن سے تعلقاتِ کار قائم کرکے نظام کو چلانے اور مستحکم کرنے کے بجاے ٹکراﺅ،کش مکش اور گہری صف بندی کا راستہ اختیار کیا۔ اپوزیشن میں خصوصیت سے مسلم لیگ (ن) کا رویہ بھی منفی رہا ہے اور تصادم کی سیاست کے فروغ میں اسے بری الذمہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔شروع میں پیپلزپارٹی کا رویہ زیادہ متوازن تھا لیکن اب وہ بھی تصادم کے راستے پرچل پڑی ہے۔ ہماری نگاہ میں اس غلطی کی زیادہ ذمہ داری حکومت اور اس کے نمایندوں پر ہے۔ خود وزیراعظم صاحب اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔انھیں دانش مندی سے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ راستہ نہ ان کے مفاد میں ہے اور نہ ملک اور جمہوریت کے مفاد میں۔ اس صورتِ حال میں پارلیمنٹ غیرموثر ہوتی جارہی ہے۔ پارلیمانی کمیٹیاں بھی اپنا کردار ادا نہیں کررہیں۔ کونسل آف کامن انٹرسٹ جو ایک دستوری ادارہ اور وفاق کی علامت ہے اور اسے ہرتین ماہ میں ایک بار لازماً ملنا چاہیے۔ اس کا سال بھر میں صرف ایک اجلاس ہوا ہے اوروہ بھی محض صوبوں کے اصرار پر۔پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں گذشتہ 16 مہینوں میں سب سے کم قانون سازی ہوئی ، جو بہت تشویش ناک ہے۔ بلاشبہ موجودہ حکومت کے دور میں کابینہ کے اجلاس زیادہ باقاعدگی سے ہورہے ہیں اوراس کے لگ بھگ اجلاس حکومتی ترجمانوں کے بھی ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر ترجمان، ابہام پیدا کرنے اور تصادم کی فضا کو پروان چڑھانے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔
اس اصول کو ذہن نشین رہنا چاہیے کہ حکومتی کابینہ اسی وقت موثر ہوسکتی ہے جب وہ پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہو۔ ارکان کی پارلیمنٹ میں دلچسپی کا یہ حال ہے کہ جو بھولے بسرے اجلاس ہوئے ہیں، ان میں بھی کوئی اجلاس وقت پر شروع نہیں ہوا۔ ارکان کے سوالوں کے جواب بھی پورے نہیں آسکے، بلکہ کچھ اجلاس تو چند منٹ کے بعد موخر کرناپڑے۔ یہ پارلیمنٹ کی بڑی تاریک تصویر ہے جو موجودہ حکومت کے دور میں قوم کے سامنے آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن جیسے اہم ادارے کے ارکان جنھیں دستورکے مطابق 45دن کے اندر مقرر ہونا چاہیے تھا، چھے مہینے سے زیادہ گزرنے کے باوجود تاحال مقرر نہیں کیے جاسکے ہیں۔اور اس وقت کوئی چیف الیکشن کمشنر بھی موجود نہیں۔ کئی اہم سرکاری اداروں کے سربراہ مقرر نہیںکیے جاسکے۔جہاں افسر مقرر کیے جاتے ہیں وہاں باربار تبدیلی کا یہ حال ہے کہ مرکز اورپنجاب دونوں میں چیف سیکرٹری، سیکرٹری اور پولیس افسران ناقابلِ فہم عجلت میں بدلے جارہے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ گورننس کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ان حالات میںاگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مناسب ہم آہنگی اور تعلقاتِ کار قائم نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ کا چلنا مشکل ہے۔ بلاشبہ ہماری اولین ترجیح پارلیمنٹ کی مدت پوری کرنے کےلیے تھی، لیکن موجودہ حالات میں اگر حکومت اور اپوزیشن رویہ نہیں بدلتے ہیں تو پھر نئے انتخاب اورنئی پارلیمنٹ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔
ہم پوری ذمہ داری سے عرض کریں گے کہ مسئلہ نئی پارلیمنٹ سے بھی حل نہیں ہوگا، کیوں کہ ہماری سیاسی پارٹیاں، جمہوری پارٹیوں کی طرح کام نہیں کررہی ہیں۔ جماعت اسلامی اور غالباً اے این پی کے سو ا کسی جماعت میں باقاعدہ اور موثر انتخابات نہیںہوتے۔ تاہم اے این پی میں بھی موروثی سیاست اسی طرح براجمان ہے، جس طرح پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دوسری جماعتوں میں مستحکم ہے۔ پارٹیوں کے پاس کوئی واضح پروگرام اور شفاف پالیسی نہیں ہے۔ جس کا تلخ ترین تجربہ تحریک انصاف کی حکومت میں سامنے آیا ہے کہ 22سال کی جدوجہد اور تبدیلی کے حسین خواب دکھانے کے باوجود، جب حکومت ملی، توان کے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا۔ میرٹ کی بات بہت ہوتی تھی، مگر ان تقرریوں میں جس چیز کا سب سے زیادہ قتلِ عام ہوا، وہ خود میرٹ ہے۔روایتی سیاسی اثرات پوری طرح کارفرمانظر آئے ہیں۔ آدھی کابینہ جنرل مشرف، زرداری اورنوازشریف کی وزارتوں کے سابق ارکان پر مشتمل ہے یا وزیراعظم کے محض ذاتی دوستوں اور معتمدین پر۔پوری معیشت آئی ایم ایف کے اشاروں پر منحصر کردی گئی اور عالمی مالی اداروں سے متعلقہ افراد کو معیشت کی باگ ڈور سونپ دی گئی۔ حکومت کی مجموعی کارکردگی مایوس کن ہے، لیکن ’سب اچھا ہے‘ ثابت کرنے کے لیے وزیروں اور خصوصی نمایندوں کی بڑی تعدادایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے۔
احتساب کا جو حشر کیا گیا ہے، اس میں جو بدسلیقگی برتی گئی ہے، اس کے بارے جتنا کہا جائے کم ہے۔ عوام کا اعتماد اس پر سے اٹھتا جارہا ہے۔ وہ حکمران اور سرکاری عمال جو قومی خزانے کو لوٹنے یا نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تھے، ملزم سے مجرم ثابت ہونے کے بجاے مظلوم بنتے جارہے ہیں اور ان کی اور ان کے ساتھیوں کی سودے بازی کی حیثیت بڑھ گئی ہے۔ نیب کاکرداراحتساب سے زیادہ انتقام کا نظر آنے لگاہے اور اس کی کارکردگی بالکل غیرموثر رہی ہے۔ نو نو مہینے حراست میں رکھنے کے باوجود،کوئی مناسب شہادتیں فراہم کرنے میں ناکامی اس کا کھلاثبوت ہے۔دعوے نیب چیئرمین کے بھی بہت بلندبانگ، لیکن عملی اقدام کمزور اور غیرموثر۔ احتساب جسے عمران خان نے اپنے انتخابی نعروں میں سرفہرست رکھا تھا، وہ مذاق بنتا جارہا ہے۔
ان حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو شدید خوداحتسابی کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ ملک کے حالات کا گہری نظرسے مطالعہ کریں۔ مختلف شعبوں کے ماہرین کے تعاون سے مسائل کا صحیح ادراک کریںاور ان کے حل کے لیے مناسب اور موثر پالیسیاں تشکیل دیں۔ ان پر عوامی بحث و مباحثہ ہو اور سیاسی قیادت میں ایسے لوگوں کو لایا جائے جو دیانت و امانت کےساتھ صلاحیت اور قابلیت بھی رکھتے ہوں۔ پارلیمنٹ میں سوالات اور پارلیمانی کمیٹیاں وہ ادارے ہیں، جہاں معلومات حاصل کرکے سرکاری پالیسیوں اور ان کے نتائج پر گرفت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کو متحرک کیا جائے۔ تحریک ِ اسلامی کے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنی نظریاتی اورتہذیبی شناخت کے مطابق ملک کے مسائل اور عوام کے حالات کو بہتربنانے کے لیے موثر منصوبہ بندی کرے اور ایک ایسا موقف اختیار کرے، جس میں عوام اپنے جذبات کی صداے بازگشت سن سکیں۔ معاشی میدان میں جماعت نے ایک مفیددستاویز تیار کی ہے،اسے بڑے پیمانے پرپھیلانے اور اس کی مزید تفصیلات طے کرنے اور ان پر سیمینار منعقد کیے جانے چاہییں۔ اسی طرح ہرہرشعبے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے سامنے صرف ایک الیکشن یا کسی ایک حکومت کی بدنظمی سے نبٹنے کا چیلنج نہیں ہے، بلکہ پیش نظر ملک کے نظام میں تبدیلی ہے اوراس کا خاکہ ہمارے منشور میں ہے۔ تاہم، اس کا تفصیلی نقشہ کار تیارکرنے اور اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اوپر سے لے کر نیچے تک، ہماری قیادت کی گرفت ان تمام موضوعات پر ہونی چاہیے تاکہ اپنی گفتگوﺅں، دعوتی ملاقاتوں، تقریروں اورمضامین میں ان کو پیش کرسکیں۔ عمومی تقاریر کا اپنا رول ہے، لیکن جو تبدیلی ہم لانا چاہتے ہیں اور جو ملک کو مطلوب ہے، اس کے لیے یہ دوسرا کام ازبس ضروری ہے۔ اس میدان میں تحریک ِ انصاف کی ناکامی سے جو خلا پیدا ہواہے، وہ جماعت اسلامی کوپُر کرنا چاہیے۔ اس خلا کو پُر کیے بغیر قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد کے مطابق تعمیرنو ممکن نہیں۔ یہ ہمارے ملک و قوم کےلئے زندگی اورموت کا مسئلہ ہے۔ فکری یکسوئی، منظم اجتماعی جدوجہد، رائے عامہ کی تسخیر اور رائے عامہ کی قوت سے سیاسی نظام کی تبدیلی کے ذریعے ہی پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنایا جاسکتا ہے۔ (ختم شد)
(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن)
٭….٭….٭