All posts by Muhammad Afraz

ایک عظیم باپ کی معصوم سی خواہش

شفقت اللہ مشتاق
ستمبر کا مہینہ آتا ہے تو مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں غم اور خوشی ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور غم اور خوشی کی اس ہمنوائی کو انسانی کوششوں سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ 10ستمبر 1994 کے دن میری شادی ہوئی تھی اور یہ وہ دن تھا جس دن میرے والد محترم خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے وہ اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے زیادہ خوشی والا دن سمجھتے تھے۔ ہمارے گھر میں ہر طرف رونقیں ہی رونقیں رقص کناں تھیں۔ مبارک بادوں کی آوازیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ میرے سر سے ویلیں دے دے کر عزیزواقارب نے مغینان اورخواجہ سراؤں کو مالا مال کردیا تھا اور ان کے دل سے یہی دعائیں نکل رہی تھیں کہ شالا ایسے لمحے روز روز آئیں اور میں ان کی دعاوں سے خوفزدہ ہورہا تھا کہ اگر اللہ نے ان کی سن لی تو مجھے کئی شادیاں کرنا پڑ جائیں گی اور میں کثرت ازدواج کا نہ تو قائل ہوں اور نہ ہی متحمل ہوں۔ ویسے بھی دو بیویوں کے لئے بڑے ہی تحمل اوربرداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور میں تو پہلے ہی اعصابی طور پر کمزور تھا پھر کمزور اور طاقتور کا کیا مقابلہ۔ خیر شادی تو پھر شادی ہوتی ہے۔ کوئی خوش ہو نہ ہو والدین کا تو یہ خواب ہوتا ہے اور پھر خواب کا پورا ہونا، توبہ توبہ۔آج ہمیشہ آج نہیں رہتا بالآخر کل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ آج کل میں بڑا فرق ہوتا ہے اور سال کا بیت جانا تو بہت ہی بڑا فرق ہوتا ہے۔ پھر وہ دن آیا جب خوشی غم میں تبدیل گئی خوشی کے گیت وینوں میں بدل گئے ہاسے ہنجوؤں میں تبدیل ہوگئے اور 19ستمبر 1994 کو میرے بارے میں خواب دیکھنے والا میرا باپ ابدی نیند سو گیا۔ خوشیوں کو عملی شکل دینے والا خوشیاں ساتھ لے کر ایسے دیس چلا گیا جہاں سے کوئی اپنے بچوں کو پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ یوں میں یتیم ہو گیا۔ مجھے کیا معلوم یتیمی کیا ہے۔ اس سے پہلے بیٹھے بٹھائے کھانا پینا اور موج مارنا۔ رات کے اندھیرے میں ڈر کے مارے باپ کے ساتھ چمٹ جانا۔ سفر اور حضر میں والدین کی دعاوں کے لحاف میں مکمل طور پر محفوظ ہونا۔ کسی کے ہونے کا احساس تک نہ ہونا اور اس بات کا بھی احساس تک نہ ہونا کہ آج کل میں بدل جائے گا اور سدا ماں پیو حسن جوانی نے نہیں رہنا۔ بابل کی گلیاں باپ کے دم قدم سے آباد ہوتی ہیں اور ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد ان گلیوں کا سُونا پن عذاب بن جائے گا۔ بہن بھائی گلے لگ کے روئیں گے،آہیں بھریں گے اور بالآخر ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے پھر رو پڑیں گے اور یوں آہوں اور سسکیوں میں ہم بھی بوڑھے ہوجائیں گے لیکن والدین کے ساتھ گذرے شب وروز بھلا نہ پائیں گے۔ یہ ویسے بھول بھی کیسے سکتے ہیں جس والد نے مجھے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا مجھے سیدھی سمت میں دیکھنا سکھایا اور کامیابی کے زینوں پر چڑھنا سکھایا اس کو بھول جانا اگر اتنا آسان ہوتا تو مجھ جیسا بھلکھڑ کب کا بھلا چکا ہوتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے۔ اور ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خود ڈپٹی کمشنر بن جائے اور اگر ایسا نہ ہو سکے تواس کا بیٹا ڈی سی بن جائے۔ اس کے لئے لوگ جب کسی پر بہت ہی خوش ہوتے ہیں تو دعا دیتے ہیں کہ اللہ آپ کو ڈپٹی کمشنر بنائے اور اگر کسی کے خلاف ہوجاتے ہیں تو اس کو اس کی اوقات یاد دلانے کے لئے بھی سہارا اسی عہدے کا لیا جاتا ہے اور یہ کہہ کر اپنا غصہ نکالا جاتا ہے کہ آپ تھوڑا ڈی سی لگے ہوئے ہیں۔ بہرحال ہر باپ اپنے بیٹے کو ڈی سی بنانا چاہتا ہے۔
یہی خواہش میرے والد محترم کی بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجھے مقابلے کے امتحان کے عمل سے گذارا اور میری پوری رہنمائی کی۔ میرے سامنے کتابوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ اخباروں اور جرائد روزانہ مجھے خرید کر دینا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ خود اخبارات کا اس لئے عمیق مطالعہ کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ سی ایس پی یا پی سی ایس کے امتحان کا اشتہار آجائے اور مجھے پتہ ہی نہ چلے۔ روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی تیاری کے بارے میں مجھ سے پوچھ گچھ کرکے جائزہ لیتے کہ آج میری تیاری کا معیار کیا رہا ہے۔ گاہے بگاہے ہلکی پھلکی سرزنش بھی کرتے اور اگلے ہی لمحے مورال اپ کردیتے۔ حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کرتے مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا احاطہ کرتے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے پورا لائحہ عمل تجویز کرتے۔ عزت وقار سے جینے کا درس دیتے۔ اور پھر محنت سے ہر کام کے ہونے کی یقین دہانی کرواتے۔ عبادات سے رب کو منانے کے بارے میں بڑے پر امید ہوتے پچھلی رات کی عبادت کو اکسیر سمجھتے تھے اور جب بھی کسی بزرگ سے دعا کرواتے تو مقصد مجھے ڈی سی بنانا ہوتا۔ خیر امتحان پر امتحان اور پھر ہر تحریری امتحان میں کامیابی اور بالآخر انٹرویو میں ناکامی۔ کوئی بات نہیں ڈسٹرب ہونے کی کوئی ضرورت نہیں بننا ہم نے ڈی سی ہی ہے۔ ایک پی سی ایس امتحان میں ٹرائی مجسٹریٹ، سیکشن افسر، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر اور تحصیلدار کی پوسٹوں میں ہوئی۔فوقیت کے لئے رضامندی میں نے دینا تھی اول الّذکر تین سکیل 17 کی آسامیاں اور تحصیل دار سکیل 16 کی پوسٹ تھی۔ والد محترم نے مجسٹریٹ کے بعد اس لئے تحصیلدار کو فوقیت دلوائی کہ دونوں ترقی کرتے کرتے ڈی سی بنتے ہیں خیر مجسٹریٹ تو میں نہ بن سکا البتہ تحصیلدار کے طور پر میری تعیناتی ہوئی اور پھر ان کا سوچنا کہ میں کتنے سالوں بعد ڈی سی بنوں گا۔ ان کی اس سوچ نے مجھے تو بالآخر مورخہ 27 مارچ 2021 کو ڈپٹی کمشنر بہاولنگر بنا دیا اور ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا لیکن افسوس یہ سارا کچھ وہ بچشم خود نہ دیکھ سکے۔
لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ سارے خواب اول تو پورے نہیں ہوتے اور اگر ہو بھی جائیں تو بعینہ نہیں ہوتے۔ میں اکثر سوچوں میں کھو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں والد اور بیٹے کا بھی کیا کمال کا رشتہ ہے کہ ایک بیٹے کو کامیاب بنانے کے لئے عمر بھر کی کمائی لگا دی جاتی ہے۔ شاید اولاد ہی والدین کی عمر بھر کی کمائی ہوتی ہے۔ دوران ملازمت جب کبھی کوئی والد اپنے بیٹے کے خلاف یا بیٹا والد کے خلاف میرے سامنے پاس پیش ہوا تو مجھے میرے والد کی عظمت یاد آئی جو اس وقت تک زندہ رہے جب تک میں کسی کام کا نہ بنا اور جب میں برسر روزگار ہوا تو وہ پریتوں اور محبتوں کے سارے وعدے پورے کرکے دُور بہت دُور چلے گئے۔ کاش آج ہوتے تو وہ یہ دیکھ کر بڑے خوش ہوتے کہ اللہ تعالی نے ان کی ہر خواہش پوری کردی ہے۔بقول راقم الحروف
تیرے بن مشتاقؔ مجھے تو
سونا سونا گھر لگتا ہے
(کالم نگار‘ممتاز شاعراورضلع بہاولنگر
میں ڈپٹی کمشنر تعینات ہیں)
٭……٭……٭

غربت اور مہنگائی کا خاتمہ ضروری

لقمان اسد
آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات میں ملنے والی بھرپور کامیابی اور پھر وہاں پر با آسانی اپنی حکومت قائم کر لینے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خاصی مطمئن ہے۔بجا طور پر تحریک انصاف کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے لیکن یہ سچ بھی اپنی جگہ واضح ہے کہ سیاسی میدان میں آئندہ کی کامیابیاں سمیٹنے کے لیے حکومت کو غربت اور مہنگائی جیسے عوام دشمن عوامل کے خلاف صف آرا ہونے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔
عام انتخابات 2018ء کی اپنی الیکشن کمپین میں تحریک انصاف نے عام آدمی کو جو سہانے خواب دکھائے تھے اب عوام انہیں ہر صورت شرمندۂ تعبیر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے تحریک انصاف نے یوں تو بہت سے بڑے، بڑے دعوے کیے تھے مگر چند ایک چیزوں پر زیادہ زور دیا جن میں مہنگائی، غربت اور بے روز گاری کا خاتمہ شامل تھا۔ حکومت کی تین سالہ کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو مذکورہ چیزوں میں نمایاں کمی ہونے کی بجائے ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو یہ بات کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگی کہ وہ عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کی تکمیل اور دعووں کو سچ ثابت کرنے میں ابھی تک ناکام ہے جس کے باعث عوام کی بے چینی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سیاست میں رومانس زیادہ دیر نہیں چلتا جس قدر بھی مقبول سے مقبول اور ہر دل عزیز عوامی رہنما ہو جب وہ اقتدار سنبھال لیتا ہے تو تھوڑا سا عرصہ گزرنے کے بعد عوام اپنی توقعات اور امنگوں کے مطابق ہی کام کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
دیگر حکومتی معاملات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے یہاں پر صرف گذشتہ تین برسوں میں مہنگائی میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کا تذکرہ ہی اگر کیا جائے تو حکومتی دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات سے لیکر بجلی کے نرخوں کھاد اور لوہے کے علاوہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ عام طبقے کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ کم تنخواہ والے ملازمین اور خاص طور پر دیہاڑی دار اور مزدورطبقہ کے لیے تو دو وقت کی روٹی کمانا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ بلاشبہ حکومت نے عوامی فلاح کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں صحت کارڈ کا اجراء، احساس پروگرام کے تحت غریب افراد کو ہر دو،تین ماہ بعد ملنے والی مالی امداد، کامیاب جوان کامیاب پاکستان ”لون اسکیم“، میرا پاکستان میرا گھر اسکیم اور کسان کارڈ جیسے احسن اقدامات شامل ہیں لیکن اس سب کے باوجود مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی برق رفتار شرح کا کنٹرول نہ ہونا حکومت کی بڑی ناکامی تصور ہوتا ہے۔
اسی طرح ترقیاتی کاموں کی رفتار اس حد تک سست روی کا شکار ہے کہ یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے۔ گذشتہ دو سالوں سے میانوالی تا مظفر گڑھ دو رویہ شاہراہ کی تعمیر کی نوید حکومت سنا رہی ہے اور پچھلے سال پی سی ون کی تیاری اور منظوری کی خوشخبری بھی وزیر مواصلات نے دی تھی لیکن بدقسمتی سے اس منصوبے کا ابھی تک آغاز نہیں کیا جاسکا۔
ضلع لیہ میں بننے والا ”لیہ، تونسہ پُل“ جسے ملکی ترقی کے حوالے سے گیم چینجر منصوبے کا نام دیا گیا کی تعمیر 2019ء سے مکمل ہوچکی ہے لیکن رابطہ سڑک کی تعمیر کا کام دو سال بعد بھی شروع نہیں ہوسکا۔ سال 2021ء اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے اور حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے قریب ہے اگر حکومت نے اب بھی عوام سے کیے گئے وعدوں کو حقیقت کا رنگ نہ دیا تو 2023ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو عوامی سطح پر پذیرائی نہ ملنے کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کے لیے ضروری ہے کہ زیرِ تعمیر ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھا کر انہیں جلد پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ غربت اور مہنگائی میں کمی لانے کے لیے عملی اور حتمی اقدامات بروئے کارلائے تاکہ عوامی سطح پر اپنی مقبولیت کے گراف اور سیاسی ساکھ کو بہتر بنا سکے۔
(کالم نگارسیاسی و قومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭

نظریاتی سرحدوں کے پاسبان‘ڈاکٹر صفدر محمود

محمد فاروق عزمی
سابق وفاقی سیکرٹری، ممتاز اور نامور بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر محمو 13 ستمبر کی صبح لاہور میں انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
آپ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے مجاہدین کی جماعت میں صفِ اول کے مجاہد تھے، پاکستان کے ایسے عظیم سپوت تھے کہ جہاں کہیں کسی نے قائد اعظمؒ یا پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی آپ نے اپنے قلم کو بندوق کی طرح استعمال کیا۔ آپ تحقیق و جستجو کے میدچان میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ پاکستان کی تاریخ اور تحریک پاکستان سے وابستہ قائدین اور اکابر خصوصاً زندگی بھرقائدا عظمؒ آپ کا خاص موضوع رہے۔ آپ تحقیق کی مشکل گھاٹیاں عبور کرکے سچ کا کھوج لگاتے اور پھر بڑے مدلّل اور ٹھوس انداز میں مخالفین کی باتوں کا تاریخی شواہد کے ساتھ جواب دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے لکھے کو سند کا درجہ حاصل ہوتا اوراسے مستند سمجھا جاتا۔ قائد اعظمؒ سے بے مثال محبت کرتے تھے۔ سول سروس کے افسر ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج، سادہ، دیانتدار اور بااصول شخصیت کے مالک تھے۔ یہ ساری خوبیاں بھی شاید اُن کی زندگی میں قائد اعظم علیہ رحمہ سے لازوال محبت کی راہوں پر چلتے ہوئے در آئی تھیں۔ ایک لحاظ سے وہ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکر کے صحیح معنوں میں محافظ، ان کے روحانی فرزند اور پاکستان کے بیٹے تھے۔ ان کی ساری زندگی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر دو قومی نظریے کی حفاظت کرتے، بانیانِ پاکستان کے دفاع میں اور پاکستان کی محبت میں گذری۔ مرحوم نے ساری زندگی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر پہرہ دیتے گزار دی۔ انہوں نے پاکستان کے بد خواہوں اور نام نہاد دانشوروں کا اپنے قلم سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اُن کی رحلت سے تحقیق اور جستجو کا ایک عہد تمام ہوا، ان کا خلا مدتوں پُر نہ ہوسکے گا۔
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی ادبی اور علمی حلقوں میں خاص پہچان ان کی پاکستان سے محبت کے حوالے سے بہت نمایاں رہی۔ پاکستان اور قائد اعظمؒ کے مخالفین اورنام نہاد دانشوروں کو ٹھوس شواہد اور تاریخ کے مستند حوالوں سے مدلل جواب دے کر ان کے منہ بند کرنا، ڈاکٹر صاحب کا خاص موضوع تھا۔ لیکن شاید بہت زیادہ لوگ نہیں جانتے کہ ڈاکٹر صفدرمحمود کو روحانیت اور تصوف سے بھی خاص شغف تھا، بظاہر سوٹ میں ملبوس ٹائی لگائے وہ ایسے کلین شیو صوفی تھے کہ روحانیت اور تصوف کے موضوع پر ان کی تحریریں قلب و نظر کے سکون کا ذریعہ بن جاتی تھیں۔ روحانیت کے موضوع پر ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ صفحہ قرطاس پر آگاہی اور بصیرت کے ایسے پھول کھلاتے اور ایسی خوشبو بکھیرتے کہ قلب و نگاہ میں نورِ الٰہی کی شمع روشن ہوتی چلی جاتی۔ ڈاکٹر صاحب نے ایسے نام نہاد دانشوروں کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا جو قائد اعظمؒ پر پاکستان کوسیکولر اسٹیٹ بنانے کا الزام دھرتے اور اس بیان کی نفی کرتے جس میں قائد اعظمؒ نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب مغرب کے اس مادر پدر آزاد معاشرے سے بیزار تھے۔ جس میں جسم فروشی، ناؤنوش اور نائٹ کلبوں نے نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ پاکستان کی نوجوان نسل اور طلباء و طالبات کے معصوم ذہنوں اور اجلے دماغوں کو ”آزاد خیالی“ کے مغربی زہر سے بچا کر رکھنا چاہتے تھے۔
وہ ایسے مغربی معاشرے کی اندھی تقلید کے پُر زور مخالف تھے کہ جس معاشرے میں آزاد خیالی کے نام پر خاندانی نظام کے پرخچے اڑا دیئے جائیں اور جہاں رشتوں کے تقدس کو کوڑے دانوں میں پھینک دیا جائے۔ وہ اس ساری غلاظت سے اپنی نوجوان نسل کو بچا کر رکھنا چاہتے تھے وہ اپنی تحریروں میں قلب و نظر اور باطن کی صفائی کا درس دیتے تھے۔ان کی نظر میں ایک صوفی کے نزدیک بدن اور کپڑوں کی صفائی ہی کا فی نہیں بلکہ طہارت کا اصل مطلب قلب و نگاہ، فکر و نظر اور باطن کی پاکیزگی ہے۔ گو کہ ان کی علمی ادبی حلقوں میں پہچان اور شہرت پاکستان اور بانیانِ پاکستان سے محبت اور اُن کے دفاع کے حوالے سے ہے، لیکن روحانیت، تصوف، بزرگانِ دین اور اللہ کے بندوں سے محبت بھی ان کا موضوع تھا اور وہ گاہے گاہے اپنے قلم سے ایسی تحریریں بھی لکھتے تھے، جس سے ان کے اندر کے ”صوفی“ کا راز فاش ہوجاتا ہے۔ گو کہ وہ خود کو دنیا دار اور اغراض میں ڈوبا شخص ظاہر کرتے، لیکن ان کے باطن میں چھپا صوفی انہیں تصوف، فقر اور روحانیت کے موضوع پر لکھنے پر اکساتا رہتا۔ ان کی تحریروں میں ”غنیۃ الطالبین“ اور ”کشف المحجوب“ کے حوالے بہت کثرت سے ملتے۔ ان کی ایسی ہی تحریروں کے مجموعے ”امانت“، ”درد آگہی“، ”روشنی“، ”حکمت“ اور ”بصیرت“ کے نام سے قارئین میں بہت مقبول ہوئے۔ یہاں بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر محمود صوفی ڈاکٹر صفدر محمود کو پوشیدہ رکھنے میں ناکام ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ اُن کی تُربت پر اپنی کروڑ ہا رحمتیں نازل فرمائے۔
ڈاکٹر صفدر محمود 30 دسمبر 1944 کو گجرات کے ایک گاؤں ڈنگہ میں پیداہوئے، گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات کے مضمون میں ماسٹر کیا۔ 1974 میں آپ نے سیاسیات کے مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1976 میں آپ اعلیٰ مرکزی سروسز کے لیے منتخب ہوئے۔ آپ قائد اعظم یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں کئی برس تک وزٹنگ پروفیسر رہے۔ حکومت پنجاب کے علاوہ مرکزی حکومت میں بھی بہت سے اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ پنجاب اور وفاق کے بہت سے محکموں اور وزارتوں کے سیکرٹری رہے۔ 1997 میں وہ یونیسکوکے ایگزیکٹو بورڈ کے تین سال کے لیے رُکن منتخب ہوئے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم آئی سسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن بھی رہے۔ انہیں یونیسکو کے عالمی ایجوکیشن کمیشن کے نائب صدر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ تاریخ کے شعبہ میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر 1997 میں آپ کو صدارتی تمغہئ برائے حُسن کارکردگی دیا گیا۔
گذشتہ ایک سال سے آپ شدید علیل تھے۔ علاج کی غرض سے کئی ماہ امریکہ کے ہسپتال میں داخل رہے۔ لیکن مکمل صحت یاب نہ ہوسکے۔
بہرحال ڈاکٹرصفدرمحمود اب اس دنیا میں نہیں رہے تاہم ان کی یادیں باقی رہیں گی۔ بلاشبہ وہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے ”پاسبان“ تھے۔
خدا رحمت کنند، ایں عاشقانِ پاک طینت را
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭

مسٹر جو بائیڈن! اپنے گریبان میں بھی جھانکیں

سردارآصف احمدعلی
افغانستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طالبان حکومت بنا چکے ہیں اور اب ان کا کنٹرول پورے افغانستان پر ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے لیکن ابھی طالبان کے سامنے بہت بڑے چیلنجز ہیں جن کا انہیں سامنا ہے اور اس میں سرفہرست یہ ہے کہ ان کی معیشت کے حالات درست نہیں ہیں۔ لاکھوں سرکاری اہلکاروں کو تاحال تنخواہیں نہیں مل سکیں، بینکوں میں کرنسی قریب قریب ختم ہو چکی ہے۔ بازاروں میں ہر چیز کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے اور اناج اور ادویات کی قلت شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اناج کے ذخائر بڑی مشکل سے صرف ایک ماہ تک مزید چل سکتے ہیں۔
دوسری طرف یہ کہ طالبان نے سابقہ شمالی اتحاد کے کسی رکن کو نئی حکومت میں شامل نہیں کیا اور نہ ہی خواتین کابینہ میں شامل کی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کو ایک بہانہ مل گیا کہ افغانستان کی امداد یا اسے تسلیم نہ کرنے کا اور دوسری طرف امریکہ نے ساری دنیا پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ اس حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے بلکہ پاکستان کو بطور خاص کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کو تسلیم نہ کرے۔ اس سارے منظرنامے میں محسوس یہی ہو رہا ہے کہ وہ افغانستان کی معیشت کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے اور اس کے 9.5 ارب ڈالرز فریز کر دیئے گئے ہیں جبکہ اس ملک میں بے پناہ انسانی مسائل ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک مثبت فیصلہ سامنے آیا ہے کہ وہ انسانی حوالے سے ایک ارب ڈالر اکٹھا کرے گی جو کہ گرانٹ کی شکل میں ہوگی اور وہ بنی نوع انسان کی امداد کے لئے ہوگی جس میں خوراک، ادویات اور اس قسم کے دیگر وسائل افغانستان کے عوام پر خرچ کئے جائیں گے۔ اس فیصلے کو یقینا سراہا جائے گا اور میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان بھی اس گرانٹ میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ہر قسم کی مدد بھی افغانستان کو مہیا کرنی چاہئے۔ جس میں، مَیں یہ تجویز پیش کر رہا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان ایک افغان فنڈ قائم کرنے کا فوری اعلان کریں۔ اس میں پبلک اور مخیر حضرات کو دعوت دی جائے کہ وہ افغان بھائیوں کے لئے دل کھول کر مدد کریں۔ یہ مدد اناج کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور پارچہ جات کی شکل میں بھی دی جا سکتی ہے۔ ادویات اور خوراک اور انسانی استعمال کیلئے دیگر اشیاء بھی اس میں شامل ہونی چاہئیں اور نقد رقم بھی اس مد میں دی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو کم از کم 50 ہزار ٹن اناج کا عطیہ بھی افغانستان کو فوری دینا چاہئے۔ اس اناج میں گندم، چاول، مکئی اور باجرہ وغیرہ کا انتظام بھی فوری کرنا چاہئے۔ باقی رہا افغانستان کی بحالی کا مسئلہ جیسا کہ دنیا انہیں کہہ رہی ہے کہ اپنی حکومت کو آپ وسیع کریں جس میں تاجک، ترکمان، ہزارہ جات، اسماعیلی اور دیگر چھوٹے چھوٹے گروہوں کو بھی حکومت میں شامل کرنا چاہئے اور میں یہ ماننے کو بالکل تیار نہیں کہ افغانستان میں ایسی خواتین نہیں ہیں جو طالبان کے معیار کے مطابق کابینہ میں نہ آ سکیں۔ پھر انہیں کچھ مزید اقدامات کرنے کے حوالے سے مجھے کوئی مشکل نظر نہیں آ رہی۔ اب دنیا میں یہ تو کسی نے نہیں کہا کہ آپ فلاں فلاں پارٹی کے لوگوں کو حکومت میں شامل کریں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ افغان کابینہ میں تمام قومیتوں کی نمائندگی نظر آئے۔ اس صورت میں دنیا مجبور ہو گی کہ افغان حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ باقی یہ کہ افغانستان کی معیشت کا طویل البنیاد مستقبل کیا ہوگا۔ یہ بات عیاں ہے اور ساری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین معدنیات سے بھری ہوئی ہے اس کی مالیت آج کے قیمتوں کے مطابق تین کھرب ڈالر ہے لہٰذا طالبان اس کے آئندہ معاہدے کر سکتے ہیں اور ان معاہدوں میں جو ڈاؤن پے منٹس فوری مل سکتی ہیں اور پھر افغانستان ایشیا کا تجارتی مرکز بھی ہے لہٰذا جب تجارت کھل جائے گی تو ان کے ریونیوز بڑھنے شروع ہو جائیں گے۔ خاص طور پر پاکستان کے ذریعے اور پاکستان کی اپنی تجارت وسطی ایشیا اور روس تک پہنچے گی۔ سی پیک کی افغانستان میں ایکسٹینشن بھی ممکن ہے اور مجھے یقین ہے کہ چین اس حوالے سے بڑی گہری دلچسپی رکھتا ہوگا لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کا مستقبل بڑا روشن ہے کیونکہ پہلی بار سارے افغانستان میں ایک ہی حکومت ہے جو کہ 1908ء کے بعد پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے۔ ان کی سنٹرل اتھارٹی یعنی مرکزی حیثیت پہلی بار پورے افغانستان میں موجود ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سارے پہلو افغانستان کو ایک کامیاب ملک بنانے میں بڑے مفید ثابت ہوں گے۔
مغرب بالخصوص امریکہ کا مسئلہ لمحہ موجود میں یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ انہیں افغانستان میں بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور اب واشنگٹن میں پاکستان کا نام لینا شروع کر دیا گیا ہے کہ وہ ایک ڈبل گیم کھیل رہا تھا۔ ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ اگر پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا تھا تو ہمارے اڈے آپ کیسے استعمال کر رہے تھے اور راہداری آپ کو کیسے ملی ہوئی تھی اور پاکستان کی 70 ہزار شہادتیں امریکہ کی افغانستان پر مسلط کردہ جنگ کے باعث ہی ہوئی تھیں اور تقریباً 200 ارب ڈالر کا نقصان اب تک پاکستان کا ہو چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) وہ افغانستان میں موجود تھی اور ہم پر حملے کر رہی تھی تو اس وقت ٹی ٹی پی پر وہاں تک تو امریکہ کا کوئی ڈرون نہیں پہنچا۔ نہ ہی بلوچ باغیوں کو پاکستان میں خانہ جنگی کرانے سے روکا گیا اور نہ ہی بھارت کو روکا گیا کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان سے دہشت گردی نہ کرے۔ یہ ہمارے جائز گلے ہیں جن کا جواب آج تک امریکہ نے نہیں دیا اور اب اس شکست کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی جا رہی ہے۔ اس مرحلے پر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا پاکستان آپ کا ماتحت ملک ہے؟۔ کیا پاکستان ایک خودمختار ملک نہیں ہے؟جبکہ ہم دوستی کا ہاتھ بار بار بڑھا رہے ہیں اور ان کی مدد بھی انخلاکے سلسلے میں، افغانستان کے اندر کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بھی آپ کا جواب بڑا غیر مناسب ہوتا ہے لہٰذا میں تو یہ مشورہ دوں گا کہ جناب جوبائیڈن صاحب! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں۔ اس میں جب آپ کو اپنی عصبیت نظر آئے گی تو پھر آپ اپنی اصلاح بھی کر سکیں گے۔ طاقت کے بل بوتے پر ملکوں پر حکومت نہیں کی جا سکتی، تاریخ کا یہی فیصلہ ہے۔
(کالم نگار سابق وزیرخارجہ اورممتاز ماہرمعیشت ہیں)
٭……٭……٭

سانحہ کار ساز۔تفتیشی افسر کے انکشافات

آغا خالد
کارساز پر بے نظیر بھٹو شہید کے جلوس میں دو بم دھماکوں کے ملزمان کا ہنوز کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا جبکہ کارساز پر یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد180 سے زائد تھی اور حکومت پاکستان کی دعوت پر اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان آنے والی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ میں کراچی پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کو سراہا گیا تھا اور اپنی رپورٹ میں یو این کمیشن نے کہا تھا کہ پنڈی میں محترمہ پر قاتلانہ حملے کی تفتیشی رپورٹ میں بہت زیادہ سقم پائے گئے جبکہ کراچی میں ایسا نہیں ہوا اور ذمہ دارانہ تفتیش کی گئی۔محترمہ کی شہادت کے حوالے سے پنڈی کیس کے فیصلے میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کو عبرت ناک سزا سنائی گئی تھی اور اس کے بڑے ملزم پرویز مشرف کو مفرور قرار دیدیا گیاتھاجبکہ اس سلسلہ میں کراچی میں محترمہ پر قاتلانہ حملے کے اہم تفتیشی افسر نیاز کھوسو سے”خبریں“ نے تفصیلی بات چیت کی جوحال ہی میں پولیس سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں مگر نیاز کھوسو کی اس کیس کے حوالے سے انفرادیت یہ ہے کہ محترمہ پرایک ہی وقت میں ہونے والے دو خودکش دھماکوں کی تفتیش کیلئے بنائی جانے والی چار مختلف ٹیموں میں وہ شامل رہے اور آخر میں وہ اکیلے ہی اس کیس کی تفتیش کرتے رہے۔ محترمہ پر کارساز میں حملے کے فوراً بعد اس وقت کے ڈی آئی جی سعود مرزا کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی تھی جس میں نیاز کھوسو بھی شامل تھے بعد ازاں شبیر شیخ اور ان کے بعداس وقت کے ڈی آئی جی (اور اب ڈی جی ایف آئی اے)ثناء اللہ عباسی کی تفتیشی ٹیم میں بھی وہ شامل رہے۔ نیاز کھوسو کا کہنا ہے کہ محترمہ بے نظیر پنڈ ی میں قاتلانہ حملے کے گرفتار ہونے والے ملزمان سے تفصیلی تفتیش کی گئی تھی جنہوں نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ انہیں اتنا معلوم ہے کہ اس وقت کے طالبان سربراہ بیت اللہ محسود نے محترمہ پر قاتلانہ حملے کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دی تھیں جن میں سے ایک میں وہ بھی شامل تھے جبکہ دوسری ٹیم کے متعلق وہ زیادہ نہیں جانتے دونوں ٹیموں کو کراچی میں حملے کے لئے ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ملزمان نے تفتیشی ٹیم کو یہ بھی بتایا تھا کہ کراچی میں محترمہ کو شہید کرنے کیلئے جو منصوبہ بندی کی گئی تھی اس کے مطابق پہلے خودکش دھماکے کے بعدمحترمہ بم پروف ٹرک کی وجہ سے بچنے سے ا گرکامیاب ہوجائیں تو انہیں دوسری گاڑی میں سوار کراتے وقت دوسرے خودکش بمبار کوکام دکھانے کابھی حکم تھاتاکہ محترمہ کے بچنے کی کوئی امیدباقی نہ رہے مگر دوسرا خودکش بمبار پہلے دھماکے کے بعد ہر طرف لاشیں دیکھ کر شاید گھبرا گیا اور اس نے محترمہ کے ٹرک سے نکلنے سے پہلے دوسرا دھماکہ بھی کردیا اور اس طرح محترمہ محفوظ رہیں۔کھوسو کا کہنا ہے کہ موقع واردات پر ملنے والے اعضا کا ڈی این اے کرایا گیا سب کے اعضا مل گئے تھے ما سوائے دو انسانی سروں کے جن کا ڈی این اے اور چہرے کی میچنگ نادرا سے کرائی گئی مگر نادرا کو کامیابی نہ ملی۔ اس سے تفتیشی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ دونوں سر خودکش بمباروں کے ہیں اور ان کا تعلق یا تو پاکستان سے نہیں یا علاقہ غیر کے ایسے ملزمان کے گروہ سے ہے جنہوں نے شناختی کارڈ نہیں بنوائے اس لئے نادرا میں ان کا ریکارڈ نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وقتاًفوقتاً ان کا ڈی این اے دیگر ملزمان سے کرایا جانا ضروری تھا مگر اس سلسلے میں ہمیں سندھ حکومت سے زیادہ تعاون نہیں ملا۔ انہوں نے”خبریں“ سے خصوصی بات چیت میں یہ انکشاف بھی کیا کہ ہم نے تفتیش میں مدد کیلئے اس وقت ایوان صدر(جہاں آصف زرداری منصب صدارت پرفائزتھے) اور بلاول ہاؤس کو متعدد خطوط لکھے مگر کسی ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ہم نے ان خطوط میں ان دونوں سے بار بار استدعا کی کہ وہ ہمیں محترمہ بے نظیر کا پرویز مشرف کو لکھا گیا وہ خط یا اس کی کاپی فراہم کریں جس میں محترمہ نے اپنی جان کے دشمن تین لوگوں کی نشاندہی کی تھی اور الزام لگایا تھاکہ مجھے کچھ ہونے کی صورت میں انہیں ذمہ دار سمجھا جائے۔واضح رہے کہ محترمہ نے کارساز بم دھماکے کے فوراً بعد 17اکتوبر2007 کو پولیس کی جانب سے حملے کی درج کی گئی ایف آئی آر کو مسترد کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف کو خط لکھا تھا کہ تین لوگ ان کی جان کے درپے ہیں اور اگر مجھے کچھ ہوجائے تو انہیں قاتل نامزد کیا جائے جبکہ کارسازبم دھماکے کا ذمہ دار بھی انہیں ہی ٹھہرایا گیا تھا۔ نیاز کھوسو کا کہنا ہے کہ محترمہ نے اس وقت کے صدر کو خط لکھا تھا اس لئے ہم بار بار ایوان صدر کا ہی دروازہ کھٹ کھٹاتے رہے کیونکہ اس خط کا ریکارڈ وہیں سے مل سکتا تھا مگر کوئی جواب نہیں ملا مجبوراً ہم نے اخباری ریکارڈ سے مدد حاصل کرکے بلاول ہاؤس کو لکھا کہ اخباری تراشوں کے مطابق جس وقت محترمہ نے خط لکھا تو وہ بلاول ہاؤس میں مقیم تھیں ممکن ہے اس خط کی کوئی کاپی محترمہ کے ریکارڈ میں موجود ہوتو انہیں دی جائے تاکہ وہ تفتیش کا سلسلہ آگے بڑھا سکیں کیونکہ محترمہ نے جن لوگوں پراپنے قتل کی ساز ش کا الزام لگایا تھا ان سے تفتیش بہت ضروری ہے اور جرم کا کھرا وہیں سے اٹھنے کا امکان تھامگر ہماری کسی درخواست کو درخورا عتنا نہیں سمجھا گیا ان کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ اور بد قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ محترمہ کے نام پر اقتدار حاصل کرنے اور ان کے نام پر سیاست چمکانے والوں نے تفتیشی ٹیم کے نوٹسز کا جواب تک نہیں دیا۔ انہوں نے ایک اور دل خراش واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ کے ساتھ ٹرک پر سوار پیپلزپارٹی کے لیڈروں کو ویڈیو کی مدد سے شناخت کرکے متعدد نوٹسز بھیجے گئے کہ وہ تفتیشی ٹیم کو اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔ دس سے پندرہ لوگوں کو نوٹسز جاری کئے گئے مگر صرف مخدوم امین فہیم مرحوم اورآغا سراج درانی نے نوٹسز کا جواب دیا اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا جبکہ رحمان ملک سمیت اورکوئی لیڈر اپنا بیان ریکارڈ کروانے پر تیار نہ ہواان حالات میں ہم مزید تفتیش کیا کرتے البتہ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہر 17اکتوبر کو انہیں محترمہ کا کیس یاد آجاتا تھا اور حکومتی عملداروں میں سے کوئی نہ کوئی فون کرکے تفتیشی رپورٹ کے متعلق پوچھتا تھا اور جب انہیں ان حالات سے آگاہ کیا جاتا تھا جو میں نے آپ کو بتائے ہیں تو دوسری طرف ٹیلی فون کی لائن بے جان ہوجاتی تھی جبکہ اس سلسلے میں سندھ کے سینئر وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہاکہ نیاز کھوسو کو ساری باتیں اب کیوں یاد آرہی ہیں جبکہ وہ ہماری مخالف جماعت میں شامل ہوچکے ہیں پہلے انہوں نے یہ کیوں نہیں بتایا اور نہ ہی میڈیا پر ایسی کوئی بات سنائی دی۔انہوں نے”خبریں“ کے رابطہ کرنے پرکہا کہ ہم توپہلے ہی مظلوم ہیں اس کیس کی پہلی ایف آئی آر پر بھی ہمیں تحفظات تھے اس لئے محترمہ کی درخواست پر ایک سال کے بعددوسرا مقدمہ درج کیا گیا اور اس میں بھی مطلوب ملزمان کوتفتیشی ٹیم کے حوالے نہیں کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ کو بھی دھو دیا گیا تو ہم تو ایسے فریادی تھے جنہیں سننے پر کوئی تیار ہی نہ تھا اور جب تمام ثبو ت و شواہد مٹادیئے گئے تو کیس ہمارے حوالے کیا گیا انہوں نے کہا کہ ہمیں پنڈی والے فیصلے پر بھی تحفظات ہیں یہ حیرت کی بات ہے کہ ایسے ملزمان کو عدالت نے چھوڑدیا جو خود اعتراف جرم کرچکے ہیں اور متعدد گواہوں نے انہیں پہچانا اور ان کے خلاف گواہی دی ہم اس کیس کے خلاف بھی اپیل میں گئے ہیں۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

میم سین بٹ
لاہور میں آزادی کے بعدترقی پسنددانشوروں میں فیض احمد فیض اوراحمد ندیم قاسمی بہت کم پاک ٹی ہاؤس جاتے رہے تھے۔ احمد ندیم قاسمی بھی پیراڈائز ریسٹورنٹ کی بندش کے بعد مجلس ترقی ادب اوراپنے ادبی جریدے ”فنون“ کے دفتر میں ہی محفل جما لیتے تھے ان کی محفلوں میں عطاء الحق قاسمی،امجد اسلام امجد،نجیب احمد، خالد احمد، اشرف جاوید،ضیا بٹ وغیرہ مستقل طور پر حاضری دیتے رہے تھے۔ بعدازاں ”فنون“ کے دفتر میں محفل جمانے والوں میں عطاء الحق قاسمی کی زیرادارت ”معاصر“ اورخالد احمد کی زیر ادارت ”بیاض“ کے نام سے نئے ادبی جرائد بھی چھپنے لگے تھے ”فنون“ کے بعد ”بیاض“ میں بھی چھپنے والوں میں ضیا بٹ نمایاں تھے۔ادبی حلقوں میں انہیں خالد احمد نے متعارف کرایا تھا اورحلقہ ارباب غالب کے اجلاس میں پڑھنے کیلئے ان سے پہلا افسانہ ”دوڑ“ لکھوایا تھا جسے بعدازاں خالد احمد نے”فنون“ میں بھی شائع کروادیا تھاریس کورس کے حوالے سے مہارت سے لکھا جانے والا یہ افسانہ ان کے افسانوی مجموعہ ”بھاری پانی“میں بھی شامل ہے۔
افسانہ نگارضیاء بٹ سرکاری افسر تھے ریلوے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرآڈٹ رہے تھے ریلوے کے علاوہ اوقاف اور سول ایوی ایشن میں بھی ڈیپوٹیشن پر تعینات رہے تھے ان کا آبائی تعلق ہمارے ننھیالی قصبے ظفروال سے تھا جہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کرکے لاہور چلے آئے تھے اور اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلہ لے لیا تھا جہاں پروفیسر علم الدین سالک جیسی علمی و ادبی شخصیت کے شاگرد خاص رہے تھے۔ضیاء بٹ کے افسانوں کے 3 مجموعے شائع ہوئے جبکہ مضامین کامجموعہ ”دیدہ حیراں“ کے نام سے چھپا۔ جس کا انتساب انہوں نے بڑے صاحبزادے مظہر الحق بٹ کے نام کیا تھا اس کتاب کے مضامین ضیاء بٹ مرحوم کے سوانحی حالات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں انہوں نے افسانوں کے مجموعہ ”سوزدروں“ کا انتساب چھوٹے صاحبزادے اطہر الحق بٹ،دوسرے افسانوی مجموعہ ”بھاری پانی“ کااپنی انتساب صاحبزادی صبیحہ امین اورتیسرے افسانوی مجموعہ ”روشنی“ کا انتساب نواسے خواجہ وقاص کے نام کیا ان کی ایک کتاب ”بیاض“ جبکہ باقی تینوں کتابیں مطبوعات لوح و قلم لاہورکے تحت شائع ہوئی تھیں۔
ضیاء الحق بٹ مرحوم کے بڑے صاحبزادے مظہر الحق بٹ سے گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی تو وہ ہمیں اپنے والدمحترم کی چاروں کتابیں دے گئے جنہیں ہم نے چند روز میں پڑھ لیا۔ ضیاء بٹ مرحوم کے افسانوی مجموعہ ”سوزدروں“ میں سے ہمیں ”وجدان“ جبکہ ”بھاری پانی“ سے اسی عنوان کااور”جلتی بھجتی روشنی“ میں سے ”دانشور“ افسانہ سب سے زیادہ پسند آیا تاہم اس کا انجام تشنہ محسوس ہوا۔ ضیاء بٹ نے اپنے افسانوں کے بیشترکردار اردگرد کے ماحول سے لئے۔ انہوں نے چند افسانوں میں کرداروں کے نام بھی اصل لکھے تھے ان کا مشاہدہ تیز تھااورانہیں کہانی کی بنت پر بھی مکمل عبورحاصل تھا،احمد ندیم قاسمی ان کے مشاہدے کی گہرائی اور گیرائی دیکھ کر حیرت زدہ رہتے تھے،خالد احمد نے ان کے بارے میں رائے دی تھی کہ وہ موضوع اور اظہار کے درمیان ہمہ جہت توازن پیدا کر لیتے ہیں اور ہمارے معاشرتی حقیقت پسند افسانہ نگاروں میں اعلیٰ تر مقام رکھتے ہیں،منصورہ احمد نے بھی درست لکھا تھاکہ ان کے افسانے ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں،”دیدہ حیراں“ میں ضیاء بٹ نے دلچسپ بات بتائی کہ تقسیم ہند سے دوبرس قبل جب وہ آبائی قصبے سے لاہور شہر منتقل ہوئے تھے تو مال روڈ پر دونوں طرف سایہ دار درخت ہوتے تھے لوگ اسے ٹھنڈی سڑک کہتے تھے آدھ پون گھنٹے بعد جب مال روڈ سے کوئی موٹرکارگزرتی تو چوک میں کھڑا سپاہی اپنے سٹینڈ پر پاؤں مارکر گاڑی والے کوسلیوٹ کیا کرتا تھا۔
ضیاء بٹ سرکاری ملازمت کے دوران داتا دربار پر اوقاف افسر تعینات رہے تھے داتا دربار سے انہیں تصوف میں دلچسپی پیدا ہوگئی اورتصوف کی قدیم ترین کتابیں تعرف،کشف المعجوب، فصوص الحکم،انفارس العارفین وغیرہ کا مطالعہ کرتے اورروحانی استادکی تلاش کیلئے مختلف شخصیات کے پاس جاتے رہے تھے لاہور میں مستقل طورپرمنتقل ہونے سے پہلے ضیاء بٹ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے بھی یہاں آیا کرتے تھے۔
اپنے مضامین کی کتاب میں ضیاء بٹ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ ایک نسل کسی حد تک یاد رکھتی ہے پھر ایسا وقت آتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آیا ضیاء بٹ بھی کبھی اس دنیا میں آیا تھا!“ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ضیاء بٹ مرحوم کی تحریریں ادبی دنیا میں ان کا نام تادیر زندہ رکھیں ی ممکن ہے مستقبل قریب میں ایم اے،ایم فل یا پی ایچ ڈی کاکوئی طالبعلم ان کے افسانوں پر تحقیقی مقالہ بھی لکھ دے۔
ضیابٹ اب پاک عرب سوسائٹی کے قبرستان میں ابدی نیند سورہے ہیں، بقول حیدر علی آتش۔۔۔
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
رویئے کس کے لئے،کس کس کا ماتم کیجئے
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

سرمائے اور غربت میں بڑھتی ہوئی خلیج

جاوید ملک
”کریڈٹ سوِیس“ کی ایک نئی انکشافاتی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سال 2020ء کے اندر کروڑ پتی افراد کی تعداد میں ڈرامائی طورپر اضافہ ہوا ہے جبکہ دولت کی نابرابری بڑے پیمانے پر شدید ہونے کی طرف گئی ہے، اس کے باوجود کہ سرمایہ داری وینٹی لیٹر پر پڑی ہوئی ہے۔ (صرف سال 2020ء میں) امریکی ریاست کے اندر 17 لاکھ 30 ہزار نئے افراد کروڑ پتی بنے ہیں، جرمنی میں یہ تعداد 6 لاکھ 33 ہزار اور آسٹریلیا میں 3 لاکھ سے زائد ہے۔
اگر یہ کروڑ پتیوں کے لیے اچھا سال تھا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ارب پتیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ثابت ہوا۔ پچھلے 12 مہینوں میں، 650 امریکی ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں 1.2 ٹریلین ڈالر اضافہ ہوا ہے۔ جیف بیزوس دنیا کا وہ پہلا شخص بن چکا ہے جو 200 ارب ڈالر سے زائد دولت کا مالک ہے۔
رپورٹ میں گہرے ہوتے سرمایہ دارانہ بحران کے ریگستان کے بیچ و بیچ ہریالی کا نقشہ کھینچا گیا ہے، جس میں درج ہے کہ ”نا موافق معاشی حالات کے تحت گھریلو دولت نے شدید ثابت قدمی دکھائی ہے“۔ در حقیقت، رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ 2020ء کے دوران گھریلو دولت میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کروڑ پتیوں کا میگزین”فوربز“ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا: ”ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبا محض امیر ترین افراد کے لیے ہی نہیں بلکہ کروڑ پتیوں کی اکثریت کے لیے بھی خوشخبری ثابت ہوئی“۔
مگر کیا ہم 300 سال کے بد ترین بحران اور جی ڈی پی کے دیوہیکل سکڑاؤ سے دوچار نہیں ہوئے ہیں؟ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ محنت کش طبقہ ایک دہائی سے اجرتوں کی کٹوتی، نجکاری اور آسٹیریٹی کا شکار ہے، مگر دیوہیکل معاشی سکڑاؤ کے باوجود ہمارے سماج کی دولت میں ایک سال پہلے کی نسبت بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
قرض، گھروں کی قیمتوں میں اضافہ، اشیاء کی قلت اور روزگار کی مقابلہ بازی سمیت طویل اوقاتِ کار پر مبنی نوکریاں سب معمول کی باتیں بن چکی ہیں، اور مسلسل لاک ڈاؤنز کے باوجود محنت کشوں کو سکھ کا سانس لینے کا موقع نہیں ملتا۔
غریبوں کی غربت میں مزید اضافہ ہوا ہوگا اور پیداوار منہدم ہوئی ہوگی، مگر رپورٹ کے مطابق ان سب کا امیروں کی دولت سے کوئی سروکار نہیں۔ محنت کش طبقے اور اجرتوں پر گزر بسر کرنے والی انسانیت کی اکثریت کے بر عکس، امیروں نے سرمایہ کاری اور بچت کی شکل میں بے تحاشا دولت اکٹھی کی ہوئی ہے۔
جیسا کہ رپورٹ میں درج ہے، ”امیر ترین افراد تمام معاشی سرگرمیوں کے منفی اثرات سے نسبتاً محفوظ رہے ہیں اور، اہم بات یہ کہ، انہوں نے شیئرز کی قیمتوں اور گھروں کی قیمتوں پر کم شرحِ سود سے بھی منافعے کمائے ہیں“۔
مثال کے طور پر، پراپرٹی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والے معاشی خطرات سے قدرے محفوظ رہتے ہیں۔ امریکی ریاست کے اندر، فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود کم رکھنے کی غرض سے تیزی کے ساتھ بانڈز خریدے، اور گھریلو قرضے کم کرنے کے لیے مداخلت کی۔ امیر ممالک کی ایک مخصوص پرت بچت کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، خاص کر زیادہ تنخواہوں والے، اب اس بچت کا ایک حصہ پراپرٹی کی خریداری پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ان عناصر کے باعث دنیا کے اکثر علاقوں میں گھروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بلاشبہ نئے ’کروڑ پتیوں‘ کی اکثریت محض برائے نام کروڑ پتی ہیں کیونکہ وہ جن گھروں میں رہ رہے ہیں، ان کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی ہے۔
دیگر اثاثے بھی اسی طرز پر چل رہے ہیں، اور زیادہ تر اثاثوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ باالفاظِ دیگر، دولت رکھنے والوں کی دولت میں اس لیے مزید اضافہ ہوا ہے کیونکہ ان کے اثاثوں کی قیمت بڑھ چکی ہے۔ جن کے پاس وبا سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا، ان کے ہاتھ اب بھی خالی ہیں۔
پہلے سے دولت مند افراد کی گھریلو دولت میں اضافے کی وجہ سماج کے ذرائع پیداوار کی بڑھوتری نہیں ہے۔ امیروں کی اہلیت ہی یہی باقی بچی ہے کہ وہ سٹے بازی کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔
سٹاک مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے غبارے، ریاست اور حقیقی معیشت سے بڑے پیمانے پر لا تعلق ہیں، جس کا انحصار کار آمد اشیا بنانے والی انسانی محنت کے اوپر ہے۔ حکمران طبقہ جب معیشت میں پیسہ پھینکتا ہے تو اس سے بس یہی ہوتا ہے کہ دولت تقسیم ہو جاتی ہے۔ افراطِ زر کے باعث غریبوں کی اجرتوں کی کوئی قدر نہیں رہتی، جبکہ اثاثوں کے مالکان اپنے اثاثوں کی قیمتوں کو مزید بڑھتا ہوا پاتے ہیں۔
جیسا کہ رپورٹ وضاحت کرتی ہے: امیر ترین 10 فیصد افراد عالمی دولت کے 82 فیصد کے مالک ہیں، اور وہ اکیلے 45 فیصد گھریلو اثاثوں کے مالک بھی ہیں۔
جیسا کہ مارکس نے وضاحت کی تھی، ”سماج کے ایک حصے میں دولت کے ارتکاز کا مطلب یہ ہے کہ اسی وقت سماج کے دوسرے حصے میں اذیتیں، سخت محنت، غلامی، جہالت، ظلم اور اخلاقی پستی پروان چڑھ رہی ہے“۔
سرمایہ دارانہ نظام انہی بنیادوں پر چلتا ہے؛ امیروں کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے، جبکہ اس دولت کو بصورتِ دیگر سماجی ضروریات پورا کرنے اور سماجی بیماریوں کا خاتمہ کرنے کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اس کی بجائے، اس کو ان کی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؛ جبکہ انسانیت کی اکثریت کو مزید غربت میں دکھیل دیا جاتا ہے۔
امیر افراد محنت کش طبقے کی پیدا کی گئی دولت کا سہارا لے کر بحران کے اثرات سے خود کو محفوظ کر رہے ہیں، جبکہ بحران کا بوجھ محنت کش طبقے کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ 2020ء کے دوران 4 کروڑ سے زائد امریکیوں نے خود کو بے روزگار رجسٹر کروایا، جبکہ عالمی سطح پر خواتین محنت کشوں کی 40 فیصد ان شعبوں میں کام کرتی ہیں جسے وباء سے شدید نقصان پہنچا، جیسا کہ ریستوران، پرچون کی دوکانیں اور ہوٹل۔
یہ حیرانگی کی بات نہیں کہ امیروں پر ٹیکس لگانے کے مطالبے کو مقبولیت ملی ہے۔ البتہ، اس طریقے سے اقلیتی طبقے کا دولت اکٹھا کرنے اور اس پر جوا کھیلنے کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، وہ اپنی دولت سے چمٹے رہنے کے لیے کچھ بھی کر گزر سکتے ہیں، جیسا کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنے اثاثے بیرونِ ملک منتقل کرنا۔
سوشلزم کی ضرورت اس سے قبل کبھی اتنی واضح ہوکر سامنے نہیں آئی۔ سرمایہ داری کا تختہ کرپٹ سمجھے جانے والے حکمران طبقے سمیت الٹنا پڑے گا۔ ایسا ذرائع پیداوار پر قبضہ کرتے ہوئے انہیں محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول میں دے کر کیا جا سکتا ہے، تاکہ سماج کی دولت، جسے محنت کشوں نے پیدا کیا، کو منافعوں کی بجائے جمہوری منصوبہ بند معیشت کے تحت انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ یہ عمل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انسانیت کی اکثریت، یعنی محنت کش طبقہ، خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کرے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭

نریندر مودی بنام جوبائیڈن

سجادوریا
ہیلو،مسٹر بائیڈن،نمسکار،میں امید کرتا ہوں کہ مزاج بخیر ہوں گے کیونکہ افغانستان میں حا لیہ شکست کے بعد آپ خاصے گھائل ہو چکے ہیں،ان حالات میں مزاج کا بخیر ہونا،ممکن نہیں،لیکن اُمید کرنے میں کیا حرج ہے؟۔”شرارتی“ میڈیا ایسی ”افواہیں“ پھیلا رہا ہے کہ آپ نجی محفلوں میں روتے پائے گئے ہیں۔میں ان ”شرارتی“ میڈیا والوں کی افواہوں پر بالکل یقین نہیں کرتا،ان کا کام ہی ’جلتی پر تیل‘ ڈالنا ہوتا ہے۔یہ آپ کی شکست کے بعد کے جذبات کو کیا سمجھیں گے؟میں پوری طرح سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کس اذیت سے گزر رہے ہیں۔
مسٹر بائیڈن،آپ پریشان نہ ہوں،ذلت و رُسوائی ہوتی رہتی ہے،انسان کو تھوڑا ڈھیٹ بن جانا چاہئے اور اپنے میڈیا کو کنٹرول میں رکھنا چاہئے،بھارتی میڈیا کو ایسے کنٹرول کر رکھا ہے کہ اتنی گھٹیا صحافت کر رہا ہے کہ ان کا اپنا تماشا بن گیا ہے،مسٹر بائیڈن آپ تو جانتے ہیں کہ چین نے لداخ میں بھارتی افواج کی پٹائی کی،چین نے کئی کلومیٹر بھارتی علاقے پر قبضہ کر لیا۔چینی فوج نے مُکوں اور گھونسوں سے کئی بھارتی فوجی بھی ہلاک کردیے،لیکن میری حکومت کو ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوئی،میرے وزیر انتہائی بے شرمی سے میڈیا کی ملی بھگت سے واقعات کو چھپاتے رہے۔شکست و شرمندگی تو گویا ہم نے محسوس ہی نہیں کی۔ہمیں معلوم ہے کہ چین ایک بڑی طاقت ہے،اس کی عسکری قوت بھی قابو سے باہر ہو چکی ہے،اس لئے بھارت نے مناسب سمجھا کہ شرمندگی برداشت کر لو چین سے پنگا نہیں لینا چاہئے۔
جنابِ صدر ِ امریکہ،یہ تو شرمندگی کا ایک واقعہ لکھا ہے،اس سے بھی بڑی رُسوائی تو پاکستان کے ہاتھوں برداشت کر چکا ہوں۔مسٹر بائیڈن، آپ تو جانتے ہیں اور آپ کی خفیہ ایجنسیوں نے بھی بتایا ہو گا کہ پاکستان نے بھارت کے ناک میں دم کر رکھا ہے،میں نے تو مذاق مذاق میں ”سرجیکل“ اسٹرائیک کے لئے جہاز پاکستان بھیجے تھے،وہ بھی رات کو چوری چھپے ان کے چند درخت شہید ہو گئے۔میں سمجھا وہ بھی اسے مذاق ہی سمجھیں گے،لیکن سر ایک بات بتانا پڑے گی کہ نوازشریف واقعی شریف انسان تھے،ایسا ہنسی مذاق بھی برداشت کر لیتے تھے بلکہ اپنی افواج کو ہی دباوٗ میں لاتے تھے،ہمیں ہمیشہ خوش رکھتے تھے۔جب سے عمران نیازی آیا ہے تب سے آپ تو پریشان ہیں ہی،ہمیں بھی ذلیل کر رہا ہے۔ہمارے دوست نواز شریف کو تو جیل میں ڈالا لیکن ہمارا دوست نوازشریف بھی کمال کا ایکٹر ہے،جیل میں ایسی پلیٹ لیٹس کی گیم ڈالی،میڈیا میں اپنے چہیتے صحافیوں سے ایسی فضا بنوائی کہ عمرانی حکومت تو کیا عدلیہ بھی پریشان ہو گئی کہ جیل سے رہا کرنا پڑا۔میں آپ کوبتا رہا تھاکہ پاکستان کی فضائیہ نے میرے ”ابھی نندن“ کو پکڑلیا۔کشمیریوں نے پٹائی بھی کی،لیکن پاک فوج موقعے پر پہنچ گئی،ابھینندن کو بچایا،پھر فنٹاسٹک چائے بھی پلائی۔ایسی بھارت کی دُرگت بنائی کہ جگ ہنسائی ہمارا مقدر بن گئی لیکن ہم نے ڈھٹائی اور شرمندگی سے اپنے بے شرم میڈیا کو ”فرضیکل اسٹرائیک“ کا ٹاسک دے دیا۔
مسٹر بائیڈن! میں ایمانداری کی بات کہوں،افغانستان میں امریکہ کی شکست کے پیچھے بھی مجھے پاکستان دکھائی دیتا ہے۔پاکستان نے افغانستان میں صرف امریکہ کی ہی نہیں انڈیا کی بھی ٹھکائی کی ہے۔جناب صدر،پاکستان نے کمال ذہانت سے پہلے سوویت یونین کے ٹُکڑے کر دیے،اب امریکہ اور بھارت کی لُٹیا ڈبو دی۔پاکستان کی فاتحانہ للکار،جنرل فیض حمید کا کابل میں چائے پینے کا انداز،سچ کہوں ناقابلِ برداشت ہو رہا ہے۔
مسٹر بائیڈن،بھارت کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے ہو؟ہم نے بھارتی عوام کو بھوگا،ننگا رکھ کر اربوں افغانستان میں لگا دئیے،وہاں سڑکیں بنائیں،بسیں فراہم کیں،افغان فوج کو تربیت دینے میں مدد دی،اشرف غنی،امرللہ صالح سمیت کئی افغان رہنماوٗں پر انویسٹمنٹ کی،لیکن سب ڈوب گیا۔آپ تو جانتے ہیں ایک’بنیا‘پائی پائی پر مر جاتا ہے۔اپنے عوام کو بے وقوف بنا ئے رکھا،افغانستان میں آپ کی آشیر باد سے اربوں اُڑا دیے۔اب ہمارے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکہ بھاگ گیا ہے،انڈیا اس خطے میں تنہا ہو چکا ہے،چین،رُوس اور پاکستان خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں۔بھارت میں میری حکومت کی انتہا پسند پالیسیاں،اندرونی خلفشار پیدا کر چکی ہیں۔بظاہر ایسے لگتا ہے کہ امریکہ کا خوف بھی اب نہیں ہے،اگر مقبوضہ کشمیر میں کوئی تحریک دوبارہ جاگ گئی تو بھارت اس پر قابو نہیں پا سکے گا۔چین اور پاکستان تو پہلے ہی ہم پر دباوٗ بڑھانا چاہتے ہیں۔
جنابِ صدر! ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان نے اپنے لئے مشکل ترین حالات کے باوجود بہترین فیصلے کیے ہیں،عالمی سازشوں،عالمی میڈیا کی بد عنوان رپورٹس اورمقامی سیاسی و عسکری رہنماوٗں کی غفلتوں کے باوجود اپنی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھی۔پاکستان نے ایسے وقت کا انتظار کیا،جب امریکہ کو تھکا دیا جائے اور بھگا دیا جائے،پاکستان نے چین کے ساتھ ایسے مضبوط اسٹریٹیجک تعلقات قائم کر لئے ہیں کہ اب اس خطے میں بیرونی مداخلت کے امکانات کو ختم کر دیا ہے۔پاکستان،چین اور عرب ممالک افغانستان میں نظامِ دنیا کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔امریکہ اور بھارت انتہائی بے بسی سے دور بیٹھ کر دانت پیستے رہیں گے۔جناب صدر،ہمارے لئے چین بڑا دردِ سر بن چکا ہے،اسی طرح پاکستان بھی ہمیں خطے میں تنہا کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔سری لنکا، مالدیپ، بنگلہ دیش اور نیپال ہمارے پڑوسی ممالک ہیں،وہ بھی آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ہم جان چکے ہیں کہ امریکہ ہماری مدد نہیں کر پائے گا۔
مسٹر بائیڈن،طالبان نے امریکہ اور نیٹو فورسز کے ساتھ جو کیا ہے،اس میں پاکستان کا دماغ شامل ہے،پاکستان نے طالبان کو ایسے تمام اطوار سکھا دیے ہیں جن سے دنیا کو ہینڈل کرنے میں مدد ملے گی۔میں گزارش کرتا ہوں کہ پاکستان پر دباوٗ کم نہ کیا جائے،پاکستان کو فیٹف کے شکنجے میں کسنا چاہئے،اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرنی چاہئیں،آئی ایم ایف،ورلڈ بینک جیسے عالمی اداروں کو استعمال کر کے پاکستان میں عمرانی حکومت کو دباوٗ میں رکھنا چاہئے۔ورنہ ان عالمی اداروں کا کوئی کام نہیں، انکو بند کر دینا چاہئے۔
میں نے بطور وزیر اعظم ہندوستان آپکو خط اس لئے لکھا ہے کہ ہمارا ساتھ دیں،ہماری مشکلات سمجھیں،اگر بھارت کو تنہا چھوڑا گیا تو ہم بھی امریکہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور چین سے جا ملیں گے،اس خطے میں امریکہ پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا۔جنرل بخشی پہلے ہی امریکہ کو بُزدل اور خوف زدہ کہہ رہا ہے۔اگر ہماری مدد نہ کی گئی تو ہم بھی چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنا لیں گے،میرا خط ایک دھمکی سے کم نہ سمجھا جائے،کیونکہ ہمارے پاس وقت کم ہے،ہمیں اس خطے میں ایک راکھشش پاکستان کا سامنا تھا،اب افغانستان میں راکھششوں نے حکومت بنا لی ہے۔طالبان تو کشمیر کی باتیں کرنے لگے ہیں۔اس لئے ہمیں خطرات کا سامنا ہے۔امید ہے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا جائے۔
آخر میں آپ سے ہمدردی کرتا ہوں،آپ کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتا ہوں۔امریکی شکست نے دنیا کا توازن بدل دیا ہے۔اب دنیا امریکہ کو نہیں،چین کو نئی سُپر پاور کے طور پر دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔میرا ”گمان“ ہے کہ امریکہ ان سب حالات کو سمجھتا ہے۔میرا مقصد صرف آپکو ’چتاونی‘ دینا ہے۔بائے!اپنا خیال رکھنا اور ہمارا بھی۔
آپکا خیر اندیش
نریندرا مودی،وزیر اعظم ہندوستان
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

آزادی ئ صحافت مگر ذمہ داری کے ساتھ

انجینئر افتخار چودھری
خبر کی صداقت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ اگر کوئی فاسق آپ کے پاس خبر لے کر آئے تو اس کی تصدیق کر لیا کرو۔یہ سورہ حجرات کی آیت کریمہ ہے۔ اس موضوع پر بات کرنا اشد ضروری ہے کہ آج ڈی چوک میں صحافی آ کر بیٹھ گئے ہیں وہ کسی مجوزہ بل کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں وہ بل جو ابھی آیا ہی نہیں اس پر بلبلا اٹھنا عجب تماشہ ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل پاس ہو کر قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو آزادی ء صحافت پر کاری ضرب لگے گی اور بھاری جرمانے کے علاوہ قید کی سزا بھی سنائی جائے گی۔ویسے مجھے حیرانگی اس بات کی ہے کہ جھوٹ الزام تراشی کسی کی کردار کشی کے متعدد قوانین بنے ہوئے ہیں یہ لوگ ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے ملک خدادداد میں قوانین کی پابندی ہو رہی ہے۔یہاں پورا ملک کھا کے لندن جا بیٹھے ہیں اور ڈکار بھی نہیں مارتے ویسے مظہر شاہ بھی گوالمنڈی کے تھے پنجابی فلموں کے نامور ولن۔
آزادی ء صحافت کی بڑی تنظیم جس کا تعلق منہاج برنا سے ہے ان کے نائب صدر افتخار مشوانی کا کہنا ہے اس قسم کا کوئی بل اگر آ بھی جائے اور وہ قانون بھی بن جائے تو سپریم کورٹ ایسی کسی بھی سزا کو معطل کر سکتی ہے۔
دیکھئے اگر اللہ تعالیٰ نے کتاب مقدس میں واضح احکامات دئے ہیں توہمیں اسی سے روشنی لینی چاہئے۔لگتاایسا ہے کہ ہم نے نام تو اسلام کا لینا ہے لیکن کام اسلامی نہیں کرنا۔آزادی اظہاررائے ذمہ داری کے ساتھ وقت کا تقاضہ ہے۔حیرانگی اس بات کی ہوتی ہے کہ سارے سیاست دان موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان بلاول صاحب کوہی دیکھ لیجئے ان کے دور میں سندھ میں کیا ہو رہا ہے ان کی وہ بات تو آپ نے سن رکھی ہو گی کہ کس کی جرأت ہے مجھ سے کوئی سوال کر سکے۔ اس صحافی کی لاش کو تو ہم نے دیکھا ہے جس بے چارے نے یہ خبر بریک کی تھی کہ بلاول جب ٹرین مارچ پر نکلے تو ان کے حواریوں نے کرائے پر لائے گئے لوگوں کو طے شدہ رقوم نہیں دیں۔میں حیران ہوں یہ بھی ڈی چوک میں بیٹھے ہوئے صحافیوں کے ساتھ گلے لگ کر آزادی ء صحافت کا رونا رو رہے ہیں۔ن لیگ کے دور میں سب سے زیادہ صحافی قتل ہوئے۔یہ پارٹی تو میڈیا پر خرچہ کرنا جانتی ہے۔کہتے ہیں پاکستان میں لفافہ سیاست کی بنیاد ہی نواز شریف نے رکھی ہے۔
آپ صحافیوں کے سفر کی داستانیں سن لیں یہ سب وہ ہیں جو نواز شریف دور میں مزے کرتے تھے۔لیکن میری اپنی مرضی اور خواہش ہے کہ ہم اس مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کریں۔ ہمیں بھی علم ہے کہ دھرنوں سے حکومتیں نہیں بدلتیں اگر بدلتیں تو ہم نے جو دھرنہ ۲۰۱۴ میں دیا تھا کم از کم ۲۰۱۵ میں تو حکومت بدل جانی چاہئے تھی لیکن حکومت بدلی تو ۲۰۱۸ میں۔ لہٰذا مریم بی بی یا بلاول بھٹواور مولانافضل الرحمن اگر اپنی خواہشات کی تکمیل ہمارے صحافی بھائیوں کے ذریعے کرانا چاہتے تو یہ ان کی بھول ہے۔
پاکستان تحریک انصاف صحافی بھائیوں کی قدر کرتی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے جب ان مطالبات کے پیچھے وہ لوگ نظر آتے ہیں جنہوں نے حکومت کے خاتمے کے لئے پہلے دن سے ہی تحریک چلا رکھی ہے۔میرے صحافی دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ میں نے ہمیشہ آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کی ہے۔ افضل بٹ سے پوچھ لیں میں مشرف دور میں جناب احمد فراز کو بھی ان مظاہروں میں لے کر گیا۔ میں نے کالی پٹیاں بینر پوسٹر اپنے گھر میں تیار کئے اس لئے کہ میں ایک ڈکٹیٹر اور جابر کی وجہ سے ۷۱ دن جدہ جیل میں رہا میں نے جدہ میں مقیم پاکستانیوں کے حق میں آواز اٹھائی تھی جس کا جرمانہ والدہ کی موت دیکھنے کی صورت میں ملا۔اپنے دکھ اور اپنی کہانی سنانا اچھا لگتا ہے لیکن کسی کی سننا مشکل ہوتا ہے جنرل اسد درانی ان دنوں سعودی عرب میں سفیر تھے۔ یہ ۲۰۰۲ کا زمانہ تھا اس وقت مشرف کا طوطی بولتا تھا لہٰذہ مجھ سے بڑھ کر صحافی کے دکھ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا میں ”خبریں“ کا بیورو چیف تھا میں نے جدہ کی ڈائری میں ان نون لیگیوں اور غیر نون لیگیوں کی گرفتاری پر لکھا تھا جن میں کچھ اب اس دنیا میں نہیں رہے اور جو ہیں اللہ سلامت رکھے۔پھر ہوا کیا کہ مجھے ہی دھر لیا لہٰذا میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ مجوزہ بل کے بارے میں گزشتہ رات میرے پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نبیل چوہدری نے کھلے لفظوں میں کہا کہ ابھی کوئی بل آیا ہی نہیں اور نہ اس قسم کی باتیں ہوئی ہیں ان کا کہنا تھا کہ میڈم شیریں مزاری جو انسانی حقوق کی وزارت چلا رہی ہیں انہوں نے بھی انکار کیا ہے۔آپ کو علم ہے محترمہ دبنگ خاتون ہیں بغیر لگی لپٹی بات کرنا ان کا خاصہ ہے۔
پاکستان واحد ایسا ملک ہے جہاں صحافت کو بھی مادر پدر آزادی ملی ہوئی ہے۔عمران خان اور بلاول کا گو کوئی تقابل نہیں بنتا لیکن دیکھ لیجئے ایک صحافی عمران خان کو کہہ رہا ہے مجھے بتائیں میں آپ کا گلہ پکڑوں یا کسی فوجی کا تو اس قدر جرائت بلاول کے سندھ میں کسی کو حاصل ہے۔ادھر اس صحافی کو قتل کر دیا جاتا ہے ادھر اسے برداشت کیا جاتا ہے میاں نواز شریف تو کسی صحافی کو سوال دیکھے بغیر انٹرویو نہیں دیتے تھے جو شخص پرچیاں پڑھ کر بات کرتا ہوں اس نے ان بے باک لوگوں کا کیسے سامنا کرنا تھا۔
میرے اس کالم کا لب لباب بھی یہی ہے کہ کہ فیک خبر کو لگام دینا ہو گی مجھے یہ بتائیں ہم نے کل ہی دیکھا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کی موت کی خبر سوشل میڈیا پر آ گئی آپ سب باتوں کو چھوڑیں ہم محسن کش لوگ ہیں لیکن یہ بتائیے ان کی فیملی پر کیا گزری ہو گی۔سید علی گیلانی کو ہم نے مار دیا۔ڈاکٹر نبی نے بتایا کہ ٹویٹر پر سید علی گیلانی کا ایک اکاؤنٹ تھا وہ ان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا موت کے تیسرے دن اسی اکاؤنٹ سے مودی کی مذمت جاری ہو رہی تھی انہیں یاد دلایا گیا کہ سر آپ مر چکے ہیں اور اس کے بعد اب وہ مسلمان سے سکھ نجوت سنگھ سدھو بن گئے ہیں۔
کیا صحافتی تنظیمیں ان جھوٹوں کے بارے میں کچھ کہیں گی۔
ہم کب کہتے ہیں کہ صحافی زندہ نہیں ہے لیکن صحافی کو اگر زندہ رہنا ہے تو خدا کے لئے ریاست کو بھی زندہ رہنے دے اس ملک خداداد کو زندہ رہنے دے جس کے لئے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں۔ ضیا شاہد کو اللہ جنت بخشے ان کو پڑھیں اور دیکھیں کہ یہ آزادی کیسے ملی۔
ڈی چوک آپ کا ہے پورا ملک آپ کا ہے آپ جہاں چاہیں بیٹھیں مطالبہ کریں آپ اللہ کے کرم سے زندہ بیٹھے ہیں زندہ اٹھیں گے یہ سندھ نہیں اسلام آباد ہے یہاں صحافی وزیر اعظم کو گلے سے پکڑیں یہاں کوئی حرکت میں نہیں آئے گا
جیتے رہیں لیکن ایک بات یاد رکھیں جھوٹ مکر اور فریب کا ساتھ نہ دیں آج ایک بڑے دین دار صحافی نے،،اگر،،کی بنیاد پر پورا کالم لکھ ڈالا اور لکھا کہ اسلام قبول کرنے پر پابندی لگ رہی ہے تو دل میں سوچا یہ پاپی پیٹ کس قدر گھٹیا ہے کہ اس بندے پر الزام دھر رہا ہے جس نے خود گوروں کو مسلمان کیا ہے دراصل یہ لوگ ریاست مدینہ نہیں بلکہ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں پلاٹ حج نوکریاں سفر عیاشیاں مفت ہوں اور سن لیں عمران خان میرے شیر لیڈر نے کیا خوب کہا تھا ”چھوڑوں گا نہیں رلاؤں گا،،
ہاں میں لڑائی جھگڑے کے سخت خلاف ہوں۔فواد چوہدری جیسا زیرک شخص اور وزیر جس کی گفتار سے مخالفین کی صفوں میں کھل بھلی مچ جاتی ہے انہیں چاہئے ان سے مکالمہ کرے اور ان سے کہے کہ آزادی ء صحافت ضرور ہو گی مگر ذمہ داری کے ساتھ۔
(کالم نگار پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرل ایڈوائزر ٹریننگ اور ایجوکیشن ہیں)
٭……٭……٭

حکومت اور الیکشن کمیشن آمنے سامنے

کنور محمد دلشاد
حکومتی وزرا کے سنگین الزامات کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیااور آئینی ماہرین سے آرٹیکل 204،163 (1) جی اور الیکشن ایکٹ 2017کی دفعہ 10کی روشنی میں اہم فیصلے کی توقع کی جارہی ہے۔ جس میں گذشتہ روز ایوانِ صدر میں ہونے والی میٹنگ کے دوران الیکشن کمیشن کے سینئرز حکام کے ساتھ بعض وزرا کے ناپسندیدہ ریمارکس کے بارے میں غوروخوض کیے جانے کی امید کی جارہی ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اہم اجلاس میں سینیٹر تاج حیدر چیئرمین قائمہ کمیٹی کی خصوصی دعوت پر مَیں نے بھی سا ت ستمبرکو چالیس منٹ کی بریفنگ دی تھی اور ان ہی نکات پر بات کی تھی جو اعتراضات الیکشن کمیشن نے بعدازاں لگائے ہیں۔میری بریفنگ پر حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال پر جو نکات اٹھائے تھے،اس کی تائید کی تھی۔میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ انڈیا کو 25سال کا عرصہ لگا، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے پائلٹ تجربات کرتے ہوئے۔لہٰذا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں جن خرابیوں کی نشان دہی کی گئی ہے،اس کے ازالہ کے لیے اہم پیش رفت کی جانی چاہیے۔
وزیراعظم کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی سہولت کے بارے میں تکنیکی طورپر بریف نہیں کیا جارہا، حالانکہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ماہرین کی خدمات حاصل کی تھیں،ان کا بھی یہی مشورہ تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے شفاف الیکشن ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ فول پروف نہیں ہے اور الیکشن کمیشن اتنا بڑا انتخابی خطرہ مول نہیں لے سکتا۔الیکشن کمیشن نے پارلیمانی روایات کے مطابق مجوزہ انتخابی ترامیم پر 34نکات پر مشتمل تحفظات سے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین تاج حیدر کو خط کے ذریعے آگاہ کیا۔ الیکشن کمیشن کا یہ آئینی و قانونی فیصلہ 34نکات پر محیط تھا۔اس خط کو آئین کے آرٹیکل 218اور 219کی روشنی میں ملاحظہ کرنا چاہیے تھا اور خط کے متن کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو سپریم کورٹ نے رازداری،شفافیت اور غیر جانبدارانہ طریقہ کار پر جو ماضی میں ریکارکس دیئے تھے،اسی کے پس منظر میں الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم کو آگاہ کردیا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر عجلت میں کیے گئے فیصلے سے ملک میں انتخابی ووٹنگ تباہ کن ہوگی۔الیکٹرانک ووٹنگ منصوبے پر عمل درآمد ہمیشہ پیچیدہ،مشینوں کا استعمال قابل عمل نہیں،عوام کا انتخابی عمل سے اعتماد اُٹھ جائے گا۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے جلد نتائج کا امکان نہیں،انتخابی فراڈ روکنا مشکل ہوگا۔دنیا کے بہترین جمہوری ممالک بھی انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال نہیں کرتے۔اس میں زور آزمائی کے ذریعے ووٹ کے اندراج اور ووٹ کی خریداری کا امکان ہوتا ہے۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کرتے ہوئے اس میں ایسی خفیہ چِپ لگائی جاسکتی ہے جو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کارآمد ہو۔
حکومتی ارکان کو الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگانے کے بجائے الیکشن کمیشن کی جانب سے 34اعتراضات پر مبنی خط کے متن پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی مقرر کردینی چاہیے تھی جو باریک بینی سے تمام خدشات پر غور و فکر کرنے کے بعد اپنی رائے پیش کرتی۔ترقی یافتہ ممالک جن میں جرمنی،نیدرلینڈ اور یورپی ممالک شامل ہیں،انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مسترد کرکے پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی الیکشن کرانے کو ترجیح دی ہے۔مَیں اس سلسلہ میں ذاتی تجربہ پیش کررہا ہوں کیونکہ 2008کے امریکی صدارتی انتخابات میں مجھے اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مدعوکیا تھا۔ہم نے جب4نومبر 2008کو واشنگٹن میں بعض پولنگ سٹیشنوں کا معائنہ کیا تو ہمیں حیرانی ہوئی کہ ووٹرز کی اکثریت مینول طریقے سے ووٹر بیلٹ فارم حاصل کرکے ووٹ بیلٹ باکس میں ڈال رہے تھے اور بیلٹ پیپرز کے حصول کا وہی طریقہ دیکھنے میں آیا جو ہمارے ملک میں رائج ہے۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی میں محمد فاروق نے ایک خاتون ووٹر سے دریافت کیا کہ وہ بیلٹ پیپر بیلٹ بکس میں ڈالنے کی بجائے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو استعمال کیوں نہیں کررہیں جو پولنگ اسٹیشن پر موجود تھیں،تو خاتون ووٹرز نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ سسٹم فراڈ ہے اور فلوریڈا میں گذشتہ صدارتی انتخاب میں اس کے فراڈ کوقوم دیکھ چکی ہے۔ہمارے تجسس کو نیپال کے چیف الیکشن کمشنر اور انڈیا،انڈونیشیا،افغانستان کے الیکشن حکام نے بھی محسوس کیا اور افغانستان کے چیف الیکشن کمشنر نے بھی اس کا بغور جائزہ لیا اور انڈین الیکشن کمشنر کو بھی بڑی حیرت ہوئی۔اسی دورے کے دوران انٹرنیشنل فار الیکٹورل سسٹم کے صدر جس کا تقر رامریکی صدور خود کرتے ہیں،ان سے بھی اس سسٹم کے بارے میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔انہوں نے بھی اسی خدشے کا اظہار کیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ہیرا پھیری کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔اسی دورے کے دوران ہماری یو ایس ایڈ کے چیف ایڈمنسٹریٹر سے بھی پاکستان کے انتخابی نظام کے بارے میں بات چیت ہوئی،اُنہو ں نے ہمیں بتایا کہ پاکستان میں مقیم امریکی سفیر ایچی پیٹرسن پاکستان کے حالیہ انتخابات سے مطمئن ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان،ملک میں شفاف الیکشن کرانے کے داعی ہیں تو انہیں زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا،امریکا میں جو طریقہ کار ہے،اس کی رپورٹ ہمارے پاس موجود ہے،اس کے علاوہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے متبادل طریقہ کار کی بھی رپورٹ موجود ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے بعض ساتھی آنے والے انتخابات سے قبل انتخابات کومتنازع بنارہے ہیں،یہ تاثرات پھیلائے جارہے ہیں کہ حکومت ملک کو سنگین انتخابی بحران کی طرف لے جارہی ہے۔وزیرِ اعظم کو ان کی آئینی ماہرین نے بریف نہیں کیا کہ انتخابی قوانین میں ترامیم سے الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی سہولت کے بارے میں الیکشن کمیشن اپنے انتظامی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ازخود روڈ میپ تیار کرے گا اور ٹیکنالوجی کا انتخاب اور الیکٹرا نک ووٹنگ مشین کی قسم کے تعین کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو مل جائے گا،جس کے لیے الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ ترامیم کے ذریعے سمندر پارپاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق اس ملک میں ہی وہیں دے جہاں وہ رہائش پذیر ہے،جس کے لیے نادرا یا کسی ادارے یا ایجنسی کی معاونت آئین کے آرٹیکل 220کے تحت حاصل کرسکتا ہے۔الیکشن ایکٹ میں ترامیم سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے لیے مدت کا تعین نہیں کیا گیا،الیکشن کمیشن مرحلہ وار یا تجرباتی طورپر اس کو آگے بڑھانے کے لیے ٹائم فریم مقررکرنے کا مجاز ہوگا۔اور ملک انتخابی بحران سے بھی نکل جائے گا۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭……٭……٭