All posts by Muhammad Afraz

بھارتی گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے آر ایس ایس نے ہیڈ کوارٹربنا لیا

ممبئی(نیٹ نیوز)مودی سرکار اور دہشتگرد تنظیم آر ایس ایس کا مسلم مخالف ایک اور اقدام، مسلم اکثریتی ریاست گجرات میں آر ایس ایس نے اپنے یڈ کوارٹر کا افتتاح کر دیا۔ جس کا مقصد مسلم اکثریتی ریاست کو اپنے زیر کنٹرول لانا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آر ایس ایس نے ہندوتوا نظریے کے پھیلاﺅ اور مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں اپنا ہیڈ کوارٹرقائم کر لیا ہے جس کا افتتاح گزشتہ روز آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے کیا۔ گجرات میں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر کے قیام سے گجرات کی مسلم آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ایک بھارتی عہدیدار نے بتا یا ہے کہ گجرات میں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر کی تعمیر کےلئے مودی سرکار کی جانب سے 5 کروڑ کا خطیر بجٹ مختص کیا گیاتھا۔ سوشل میڈیا پر خبر آنے کے بعد شہریوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ عوام کو مہنگی بجلی، اشیاءخور و نوش اور دیگر سہولیات کی فراہمی کی بجائے مودی سرکار دہشت گردوں کی مالی معاونت کیوں کر رہی ہےِ؟۔شہریوں کی جانب سے یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس ایک غیر قانونی تنظیم ہے جو ملک میں فسادات پھیلانے میں سرفہرست ہے حکومت کیسے آر ایس ایس کو ملک کے مختلف علاقوں میں ہیڈکوارٹرز قائم کرنے دے سکتی ہے۔ اس حوالے سے معروف بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ دنیا میں کوئی ایسی دہشت گرد تنظیم نہیں جس کے ایسے جدید دفاتر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کو اپنے اثاثوں اور فنڈنگ کو ظاہر کرنا ہوگا۔یاد رہے کہ بھارت میں دہشت گردانہ حملوں اور مسلم مخالف فسادات میں آر ایس ایس کا نام سر فہرست ہے۔ 1927 کا ناگپور فساد ات میں اہم اور اول ہے۔ 1948 کو اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڑسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا۔ 1969 کو احمد آباد فساد، 1971 کو تلشیری فساد اور 1979 کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں ملوث رہی۔ 6 دسمبر 1992 کو اس تنظیم کے اراکین نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دیاتھا۔ آر ایس ایس کو مختلف فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے پر تحقیقی کمیشن کی جانب سے سرزنش کا سامنا بھی کرنا پڑاجن میں1969 کے احمدآباد فساد پر جگموہن رپورٹ،1970 کے بھیونڈی فساد پر ڈی پی ماڈن رپورٹ،1971 کے تلشیری فساد پر وتایاتیل رپورٹ،1979 کے جمشیدپور فساد پر جتیندر نارائن رپورٹ،1982 کے کنیاکماری فساد پر وینوگوپال رپورٹ،1989 کے بھاگلپور فساد کی رپورٹس شامل ہیں۔

پاکستان ،بھارت کو شکست دے کر کبڈی کا عالمی چمپیئن بن گیا

لاہور (سپورٹس رپورٹر) کبڈی ورلڈ کپ 2020 کے فائنل میں پاکستان روایتی حریف بھارت کو شکست ے کر ورلڈ چیمپئن بن گیا۔ مطابق اتوار کو کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی۔ دونوں جانب سے سخت زور آزمائی کی گئی تاہم پاکستانی پہلوانوں کا پلہ بھاری رہا اور انہوں نے بھارتی پہلوانوں کو چاروں شانے چت کردیا۔کھیل ختم ہونے سے ایک منٹ قبل تک پاکستان نے مزید پوائنٹس حاصل کیے جس پر پاکستان کا اسکور 43 اور بھارت کا 39 ہوگیا۔ پاکستان کو پوائنٹس ملنے پر بھارتی پہلوان رونے لگے اور محض ایک منٹ رہ جانے پر بھارتی آفیشلز میدان میں آگئے اور اپنے کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے کا کہہ دیا۔بھارتی ٹیم نے ایک پوائنٹ پر اعتراض کیا اور کھیل کو گندا کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ورلڈ کپ 2014 اور ایشیا کپ 2016 کی تاریخ دہرادی تاہم بھارتی اعتراضات کام نہ آسکے۔ کھیل ختم ہونے تک پاکستان کا اسکور 43 اور بھارت کا اسکور 41 رہا۔

پنجاب ،سندھ میں 25سیاستدانوں کی 71بے نامی جائیدادوں کا انکشاف،ایف بی آر نے تحقیقات تیز کر دیں

لاہور(نیٹ نیوز)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے بے نامی زونز نے پنجاب اور سندھ میں 8 ارب روپے سے زائد کے اثاثے رکھنے والے 25 سیاستدانوں سے متعلق ہائی پروفائل کیسز میں تحقیقات کو مزید تیز کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع نے تایا کہ ان سیاستدانوں نے 2 صوبوں میں 71 بے نامی داروں کے نام پر ہزاروں کینال بے نامی زمینیں اور اثاثے رجسٹرڈ کر رکھے ہیں۔رپورٹ کے مطابق25 میں سے 15 ہائی پروفائل کیسز صرف لاہور زون میں ہی زیر تفتیش ہیں ، کراچی اور اسلام آباد زونز میں 5، 5 کیسز کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ساڑھے 7 ہزار کینال بے نامی زمین پر بنے ایک کیس میں اسلام آباد زون نے اب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر خان کے خلاف بے نامی ایکٹ کے تحت 6 ریفرنسز دائر کیے ہیں۔اسلام آباد زون میں ایک لاکھ 25 ہزار کینال سے زائد بے نامی زمین سے متعلق ایک اور کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس کا تعلق شریف خاندان سے بتایا جارہا ہے۔حکام اسلام آباد زونز میں زیرِ تفتیش دیگر 3 کیسز میں تفصیلات کو سامنے نہیں لارہے ، ذرائع نے تصدیق کی کہ دیگر 3 کیسز میں بھی سیاست دان ہی شامل ہیں اور 5مقدمات میں کل 10 بے نامی دار ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا کہ کراچی زون میں زیر تفتیش 5 کیسز اور لاہور زون میں زیرِ تفتیش 15 مقدمات میں سے کسی ایک میں اب تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ لاہور زون راولپنڈی ڈویڑن کے علاوہ پورے پنجاب کا معاملہ دیکھتا ہے جبکہ کراچی زون، پورے سندھ اور بلوچستان کے معاملات دیکھتا ہے۔اسلام آباد زون پر اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور سول ڈویژن راولپنڈی کی ذمہ داری عائد ہے،ان تمام میں سے، لاہور میں 39 اور کراچی میں 24 بے نامی داروں کو 90 شو کاز نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں۔15 ارب روپے پر مشتمل اومنی گروپ کے اثاثوں، جس کے 45 مالکان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے، سے یہ کیسز الگ ہیں۔خیال رہے کہ اب تک بے نامی ایکٹ کے تحت 10 ریفرنسز دائر کیے جاچکے ہیں،زیادہ تر ہائی پروفائل کیسز جن میں 25 سیاست دان ملوث ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے اقدام کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے ملک بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے علاقوں میں بے نامی اثاثوں کو رپورٹ کرنے کے احکامات کے بعد ضلعی لینڈ ریونیو اتھارٹیز کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار سے سامنے آئے،28 اگست 2019 کو صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک خط میں وزیر اعظم عمران خان نے بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی تھیں جس کے جواب میں گزشتہ 5 ماہ میں خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کی جانب سے بھرپور ردعمل نہیں دیا گیا تھا۔خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور اور ضلع ٹانک میں تھوڑی بہت بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔پنجاب میں صوبے بھر میں72 ارب 79 کروڑ روپے کے 28 ہزار 6 سو 7 کینال پر مشتمل 228 بے نامی جائیدادوں کی 13 اضلاع، بہاولنگر، بہاولپور، چنیوٹ، خوشاب، ملتان، ننکانہ صاحب، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاک پتن، گجرات، حافظ آباد، فیصل آباد اور لاہور میں نشاندہی کی گئی تھی۔سندھ میں بھی ضلعی حکام نے زیادہ جائیدادوں کی نشاندہی نہیں کی تھی۔واضح رہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں 3 بے نامی زونز قائم کیے ہیں جن میں لاہور، اسلام آباد اور کراچی زونز شامل ہیںجو کیسز کی تحقیقات کرتے ہیں اور ریفرنسز فائل کرتے ہیں۔

پاکستان با اعتماد دوست دنیا مثبت چہرہ دیکھے ،بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے ،سیکر ٹری جنرل اقوام متحدہ

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ مقبوضہکشمیر میں انسانی حقوق کا ہرصورت احترام کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اسلام آباد میں مہاجرین کے وفد نے ملاقات کی ، وفد میں افغانستان، تاجکستان اور یمن کے مہاجرین شامل تھے، مہاجرین کے نمائندوں نے دوران گفتگو انتونیو گوتریس کو پاکستان میں تعلیم، کاروبار،اور ہنر سے متعلق تجربات سے آگاہ کیا۔ پناہ گزینوں نے سیکرٹری جنرل کو اپنے ممالک میں ظلم و ستم اور تشدد کی روداد بھی سنائیں۔ انتونیوگوتریس نے کہا کہ پاکستان نے افغان جنگ سے متاثر 45 لاکھ پناہ گزینوں کو پناہ دی اور ان کے لیے بہترین انتظامات کیے، پاکستان کے عوام نے افغان مہاجرین کی بھرپور مہمان نوازی کی، طویل عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبانی پرپاکستان کا شکر گزار ہوں۔ بعد ازاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگونتریس نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک آبی معاہدہ موجود ہے، معاہدہ میں عالمی بنک ضامن ہے، ہمارا بھی ایسا ہی معاہدہ اسپین کے ساتھ ہے، پانی ہتھیار نہیں بلکہ امن کا ضامن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا ہرصورت احترام کیا جانا چاہیے، نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا میں انسانیت کا احترام کیا جانا چاہیے، انسانی حقوق کمشنر کی دو رپورٹس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مکمل عکاسی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والا بڑا ملک ہے،موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سنگین خطرات اور چیلنجز درپیش ہیں جن سے نمٹنا عالمی رہنماو¿ں کی مشترکہ ذمہ داری ہے،پاکستان نے افغان مہاجرین کی بہترین میزبانی کی جس کی وجہ سے ملک کی سلامتی اور معیشت پر بھی اثرات پڑے،کامیاب جوان پروگرام ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا منصوبہ ہے، پاکستان میں سب کے لیے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے وژن سے بہت متاثر ہوں،پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے کوششوں اور کام کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا۔ اتوارکو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سنگین خطرات اور چیلنجز درپیش ہیں جن سے نمٹنا عالمی رہنماو¿ں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خطاب کرنا میرے لیے اعزاز ہے، پاکستان میں ترقیاتی اہداف کو موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کی بہترین میزبانی کی جس کی وجہ سے ملک کی سلامتی اور معیشت پر بھی اثرات پڑے۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاکستان سیلاب اور آفات سے بہت متاثر ہوا ہے، پاکستان میں مختلف آفات سے متاثر ہونےوالے افرادسے اظہار یکجہتی کرتا ہوں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی میں کردار ادا کرنے والا نہیں بلکہ اس سے متاثر ہونے والا بڑا ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے متاثر ہونے والا پہلا ملک نہیں، انہوں نے آسٹریلیا اور امریکا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی ملک اس سے محفوظ نہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان پائیدار ترقی اہداف کے لیے کاوشیں کررہا ہے، پائیدار ترقی کا حصول تمام ممالک اور اقوام کےلئے ضروری ہے۔ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کو صحت سمیت مختلف شعبوں میں چیلنجز درپیش ہیں، غربت کا خاتمہ پاکستان کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا منصوبہ ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب کے لیے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے وڑن سے بہت متاثر ہوں۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہمارا مشترکہ وژن موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا اور پائیدارترقی ہے لیکن ہم موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے معاملات میں ٹریک پر نہیں ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی میں ہمیں ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے کوششوں اور کام کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی رہنما موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کام کررہے اس حوالے سے برطانیہ میں کانفرنس کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے سے متعلق حکومت کے کلین اینڈ گرین پاکستان مںصوبے کو سراہا اور کہا کہ مقامی سطح پر اٹھائے اقدامات موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تیزی سے پگھلتے گلیشیر پریشان کن ہیں ہمیں پانی کے ضیاع سے بچنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ دنیا کے سب ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہیں،مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے کوئی ایک ملک اکیلے قابو نہیں پا سکتا۔ انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا حامی ہوں،پاکستان اوربھارت ایل اوسی اورورکنگ باونڈری پرتحمل کا مظاہرہ کریں۔ان کاکہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہم نے جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ،بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر سفارتکاری اور مذاکرات کے ساتھ کی حل ہو سکتا ہے ۔اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بطورسیکرٹری جنرل اقوام متحدہ میرا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے،دورے کی دعوت پروزیراعظم عمران خان کا شکرگزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی افغان مہاجرین کے لیے کھلے دل کا مظاہرہ کررہے ہیں،پاکستان اب مہاجرین کوبسانےوالا دوسرا بڑا ملک ہے،دہائیوں تک پہلا ملک رہاہے،پاکستان ایک قابل اعتبار اور مہربان میزبان ہے۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کا یہ ہی کردار دنیا میں اجاگر کرنے آیا ہوں ۔

پٹرول، بجلی ، گیس قیمتوں میں کمی لانا ضروری

وزیر احمد جوگیزئی
بات دراصل یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ ہی معاشی ہے ،اور یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے بلکہ شروع دن کا ہی ہے 47ءکے بعد پاکستان کے ابتدائی دنوں میں نواب آ ف بہاو لپور کی ،نظام آف حیدر آباد اور آغا خان کی مدد سے ہمارے ابتدا کے دو تین سالوں کے بجٹ بنے ،ان اشخاص کا پاکستان کے بجٹ بنانے میں کلیدی کردار تھا ۔پنجاب ابتدا میں ایک صحرا تھا ما سوائے اس علاقے کے جس میں کہ کینال سسٹم موجود تھا جو کہ سندھ تک پھیلا ہوا تھا ۔زراعت بھی کچھ خاص نہیں تھی اور کاٹن انڈسٹری بھی محدود تھی ۔سکھر میں بسکٹ بنانے والی کچھ کمپنیاں موجود ضرور تھی لیکن کہنے کا مقصد ہے کہ پاکستان کا کاروباری اور پیدا واری شعبہ نہایت ہی محدود تھا ۔لیکن آج کے دور سے اس دور میں ایک بڑا اور واضح فرق یہ تھا کہ اس دور کی بیوروکریسی نہایت ہی فعال اور متحرک تھی اور حالات بیو رو کریسی کے قابو میں تھے ،اور اس وقت کی بیو رو کریسی نے نہایت ہی مضبوط اور مربوط پلاننگ کی اور پاکستان کو ابتدا میں ہی ایک درست راستے پر ڈال دیا اور اس بیو رو کریسی کی مضبوط پلاننگ کا ثمر ایک مارشل لا ءکو نصیب ہوا اور اس مارشل لا ءنے اس بیو رو کریسی جو کہ پاکستان کی ایڈ منسٹریشن کی بنیاد تھی ۔اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شروع میں ہم اقتصادی طور پر کمزور تو تھے ہی لیکن پلاننگ ایسی کی گئی کہ دیکھتے دیکھتے پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر ابھرنے لگا ۔لیکن اس کے بعد مارشل لا ءکے نفاذ کے باعث اس گروتھ کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا ۔جو بیو رو کریسی ٹرینڈ تھی اور معیشت کو بھی سمجھتی تھی ان کو فارغ کر دیا گیا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ قابل سیاست دان جو کہ تحریک پا کستان سے ہی ساتھ تھے اور قابلیت رکھتے تھے ان کو بھی فارغ کر دیا گیا ۔اور اس طرح ہم راستے سے ہٹتے گئے اور معیشت کو سنبھالنے والے تجربہ کا ر ہاتھوں سے محروم ہوتے گئے ۔اور پھر چل سو چل اس کے بعد جو رہی سہی کسر بچی تھی وہ اس کے بعد آنے والے نیشنلا ئزیشن کے دور نے پوری کردی ۔
اس کے بعد پاکستان کی انڈسٹری انڈسٹری نہیں رہی اور نہ ہی پاکستان کی ترقی کی وہ رفتار رہی ۔جب کسی ملک کے اکابرین میں ملک کی ترقی کے حوالے سے ذاتی مفادات شامل ہو جائیں تو ملک ترقی نہیں کر سکتا ،ملک کی ترقی کے لیے ایک بالکل ہی ( benin) یعنی کہ بالکل ہی بے غرض سوچ چاہیے ۔لیکن چونکہ ہمارا رخ خود غرضی کی جانب مڑ گیا اس لیے ہمارا ملک وہ بن گیا جو نہیں بننا چاہیے تھا ۔اب موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف دینے کے نام پر یو ٹیلیٹی اسٹورز کا ڈھول عوام کے سامنے رکھ دیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے اس ادارے کے ذریعے عوام کو مہنگائی کے اس دور میں ریلیف ملے گا ،سہولت ملے گی ۔لیکن اس حوالے سے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یو ٹیلیٹی سٹورز اس وقت صرف پچاس لاکھ لوگوں کو ہی میسر ہیں ،اگر پچاس لاکھ عوام کو یہ سہولیت مل بھی جاتی ہے تو باقی 22کروڑ کہاں جائیں گے ۔حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے یہ حکومتی اقدام ناکافی ہے ۔اس پیکج کے تحت 15ارب روپے جو کہ اس پیکج میں دیے جا رہے ہیں اس کا 80فیصد حصہ یا تو کسی نہ کسی کی جیب میں چلا جائے گا یا پھر ضا ئع ہو جائے گا اگر موجودہ حکومت اگر حقیقی معنوں میں عوام کو مہنگائی کی وجہ سے ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے کچھ دیگر اقدامات لینے کی ضرورت ہے ۔اس حوالے سے ٹیکسوں میں کمی ہو نی چاہیے ،اس کے ساتھ ساتھ عوام کوپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریلیف دینے کی اشد ضرورت ہے اس سے عوام کو نہ صرف براہ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ زراعت کو بھی فائدہ ہو گا ۔اس کے ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی کمی کی جانی چاہیے ۔اس 15ارب روپے کے پیکج سے نہ تو زراعت کو کو ئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی عام آدمی کو ۔
انڈسٹری کی بہتری کے لیے بجلی سستی ہو نی بہت ضروری ہے ۔ہمیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں صنعت کیوں پنپ نہیں رہی آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں انڈسٹری فروغ نہیں پا رہی ۔اس کی بنیادی وجہ حکومتی پا لیسیوں میں تسلسل کا نہ ہونا ہے ۔کاروبار اس ملک میں فروغ پاتے ہیں جن میں سرمایہ کار اور تاجر اپنے کام میں اس طرح مصروف ہوں کہ ملک کی ترقی ہو رہی ہو۔تاجر اور صنعت کاروں کی ترقی قوم کی ترقی ہے ۔اگر کسی بھی حکومت کو غذائی اجناس سمیت دیگر اشیا ءکو عوام کی دسترس میں لانا ہے تو صنعت اور زراعت کو بے لاگ ترقی دینی ہو گی اس بات کی پرواہ نہیں ہو نی چاہیے کہ زراعت اور صنعت کی ترقی کی وجہ سے یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ زیادہ فائدہ کس کو ہوگا ،جب ترقی ہو تی ہے تو اس کا فائدہ بالآخر سب کو ہی ہو تا ہے ۔نقصان کسی کا نہیں ہو تا ۔اور عوام کی خوشحالی کے لیے حکومت سے تعاون بھی ایک لازمی عنصر ہے ۔عوام کو ہنر مند بنانا ان کو بنیادی ضروریات کی فراہمی اور صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کا بنیادی فرض ہے ۔میں یہاں پر افرادی قوت کو ڈویلپ کرنے کی بات کر رہا ہوں اس کے بغیر کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں ہے ۔عوام الناس کو ہنر مند بنانا حکومت کا اولین فرض ہے اور حکومت کی اولین ترجیح بھی ہو نی چاہیے ۔عوام ہنر مند ہوں گے تب ہی زراعت بھی ترقی کرے گی اور انڈسٹری کا پہیہ بھی چلے گا ۔لنگر خانے کھولنے سے اور لنگر خانوں میں عوام کو دو وقت کی روٹی کھلانے سے ملک ترقی نہیں کرے گا اور نہ ہی ہمارے مسائل حل ہو ں گے ۔اور یوٹیلیٹی سٹورز کو اربوں روپے دے کر عوام کو سستی اشیا ءخوردنوش کی فراہمی بھی یقینی نہیں بنائی جا سکتی ۔حکومت کو اپنی ترجیحات اور پالیسیوں میں تبدیلی لانی ہو گی ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭

پولیس مقابلوں کی کہانی

خضر کلاسرا
وہاڑی پولیس نے ڈکیتی کے چار ملزم پار کردئیے ہیں ، یہ چاروں جن کو پولیس نے ماردیا ہے ، یہ بکری چوری کے الزام میں گرفتار تھے۔ جیساکہ رپورٹ ہوا ہے کہ دو ملزم ابھی تک پولیس کی زیرحراست ہیں ، ان کی درازعمر کیلئے دعاکی جاسکتی ہے۔ اس بات کے تو سب حق میں ہیں کہ جرم کی سزا ملنی چاہیے لیکن اتنی جتنی قانون اجازت دیتا ہے ۔ یاد رہے کہ جو کام عدالتوںکا ہے ، وہ عدالتوں کو کرنے دیاجائے ۔ پولیس کے ہاتھوں پار کیے جانیوالے ملزموں کے ورثاء کے الزام کے مطابق ایک ہفتہ قبل تھانہ سٹی وہاڑی کے اے ایس آئی بابر سعید اور رﺅف گجر نے سی آئی اے نے بکریاں چوری کے الزام میں ہمارے بچوں 25 سالہ محمد شیخ جوکہ ویلڈنگ کا کام کرتا تھا، 17 سالہ اسلام مغل جو بھٹہ پر مزدوری کرتاتھا ، ارسلان ایک دوکان پر ملازمت کرتاتھا اور ان کے ایک دوست چھبا کو نجی ٹارچر سیل میں رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایاگیا اور ان کی موت واقع ہوگئی ۔ پولیس کا موقف وہی ہے جوکہ ہوتا ہے کہ ان پار ہونیوالے ملزمان کیساتھ پولیس کا آمنا سامنا ہوا تو فائرنگ کے تبادلے کے نتیجہ میں چاروں ڈاکو مارے گئے ۔ پولیس کی طرف سے آمنے سامنے کی کہانی پہلی بار سامنے نہیں آرہی ہے بلکہ مختلف ادوار میں خاص طورپر نواز لیگی دور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے دور میں تو پولیس مقابلہ مطلب آمنے سامنے کی کہانی کچھ زیادہ پڑھنے کو ملتی تھی اور پھر کوئی دو چار انسانی جانیں پار کردی جاتیں تھیں ۔ مطلب عدالتوں میںکیس پہنچنے سے پہلے ہی پولیس کی جانب سے مقابلے کی عدالت لگا کر سزا سنادی جاتی تھی جوکہ زندگی جیسے تحفہ کے چھننے سے کم نہیں ہوتی تھی ۔ شہبازشریف کا دور تو خداخدا کرکے اپنے انجام کو پہنچا ہے لیکن آمنے سامنے کی کہانی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دور میں بھی سراٹھایا ہوا ہے ۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے کہ پولیس کی طرف سے پار کرنے کی کہانیاں اتنی تعداد میں دیکھنے کو مل رہی ہیں جتنی کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں تھیں لیکن پولیس کے آمنے سامنے کا سلسلہ جاری ہے جوکہ رکنا چاہیے۔
لیہ میں ایک واقعہ ہوا ، پولیس نے ایک جواںسالہ صغیر عباس بلوچ کو اٹھایا اور پھر اس کے سرکی کھوپڑی پولیس حراست میں ٹوٹ ہوئی ملی ، لیہ سے ملتان تک ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود اس کی زندگی نہیں بچائی جاسکی، اہم نقطہ یہ ہے کہ صغیر عباس بلوچ کو رات گئے پولیس نے گھر کی چارپائی سے تو زندہ اٹھایا تھا ، لیکن پھر اس کے گھر والوں کو اس کی کفن میں لپٹی ہوئی لاش ملی۔ ادھر لیہ پولیس کی وہی اپنی کہانی تھی جوکہ پنجاب پولیس کی ہوتی ہے ۔ وہ ایک شاعر نے کہاہے تھا کہ:
قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی
کہ مقتول خود گرا خنجر کی نوک پر
وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے کے بعدتسلسل کیساتھ اس بات پر بضد ہیں کہ وہ مہنگائی کیخلاف اقدامات اٹھارہے ہیں لیکن بات وہیں پر ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواءکی ۔ پچھلے نواز دور کی طرح تبدیلی حکومت نے بھی ایوان میں تسلیم کیا ہے کہ حکومت پٹرول پر35 روپے اور ڈیزل پر45 روپے ٹیکس وصول کررہی ہے۔ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر بھی حکومت کی طرف سے خاصا ٹیکس وصول کیا جارہا ہے ۔ اس طرح پٹرول اور ڈیزل پر حکومت کی طرف سے ٹیکس کی اتنی بڑی وصولی عوام کیلئے برداشت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جیسے ہی بڑھتی ہیں ، ادھر مہنگائی کا سیلاب عوام کا منتظر ہوتا ہے۔ اپوزیشن میں تو وزیراعظم عمران خان اس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے پر کچھ اور فرماتے تھے لیکن اب اپنی حکومت میں اور کہانی بیان کرتے ہیں جوکہ عوام قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کو اپنی تنخواہ کا تو پتہ ہے کہ وہ کم ہے ۔ اور کہتے ہیں کہ دن رات محنت کررہاہوں لیکن دنیا کے دیگر وزرائے اعظم سے میری تنخواہ کم ہے ۔ ہمارے خیال میں بحیثیت ریاست مدینہ کے حکمران ان کو اس بات کی طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ آئے روز بڑھتی مہنگائی میں عام مزدور یا پھر تنخواہ دار طبقہ کیساتھ کیا ہورہا ہے جووزیراعظم سے کہیں کم تنخواہ لے رہا ہے اور زندگی کے دن بمشکل پورے کررہا ہے۔ ادھر گندم ، آٹا اور چینی کے بحران میں بمطابق وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں ہے تو پھر کون ہے جو کہ حکومت کو ماموں بنا گیا ہے ۔اس بات کا جواب تو وزیراعظم عمران خان کو دینا چاہیے کہ آخر وہ کونسا مافیا ہے جوکہ اتنی دیدہ دلیری کیساتھ گندم اور آٹا کا بحران پیدا کرکے مال بنا گیا ہے اور جہانگیر ترین سمیت وزیراعظم عمران خان کو پتہ نہیں چلا ہے۔ اور اب بھی اس پیدا بحران کی وجہ سے عوام کو آٹا اور گندم اسی ملتے جلتے ریٹ پر مل رہاہے جس پر نامعلوم مافیا لیکر گیا تھا ۔
مظفرگڑھ کے بارے میں عاشق ظفر بھٹی نے اپنے انداز میں مظفر گڑھ جیسے تاریخی ضلع کا مقدمہ یوں بیان کیا کہ 1797ءمیں بننے والا یہ ضلع ابھی تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ، وجہ صرف نااہل نمائندے ہیں جبکہ مظفرگڑھ کی آبادی ملتان کے برابر ہے۔ پر ہائر ایجوکیشن کی طرف سے ایک بھی یونیورسٹی یا یونیورسٹی کیمپس نہیں ہے۔ ادھر سردار کوڑے خان جتوئی کی 86000 کنال وقف کیا ہوا رقبہ موجود ہے، بات تو سمجھ آتی ہے کہ اتنے وقف کردہ رقبہ پر آخر یونیورسٹی بنانے سے حکومت گھبرا کیوں رہی ہے ۔ بھٹی صاحب بحیثیت مظفرگڑھ کے شہری تھل کے ضلع مظفرگڑھ کیساتھ امتیازی سلوک کو اٹھارہے جوکہ قابل تعریف ہے لیکن عوامی نمائندوں پر ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور مظفرگڑھ کے حوالے سے ایوان میں بات کریں کہ آخر یونیورسٹی کے قیام میں کونسی رکاوٹ ہے جوکہ 72 سال سے دور نہیں ہورہی ہے۔ ویسے یونیورسٹی کے کیمپس کی کہانی تھل کے ضلع مظفرگڑھ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ آگے اور اضلاع میں بھی بڑھتاہے مطلب وہاں پر بھی یونیورسٹی اور میڈٰیکل کالجز نہیں ہیں ۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭

جائیں تو جائیں کہاں؟

ضمیراحمدقریشی
6فروری کی اشاعت کا روزنامہ خبریں ملتان میرے سامنے ہے، شوبز کے صفحہ پر چھپی ہوئی ایک خبر اور دوسرے ادارتی صفحہ پر جناب ریاض صحافی کا کالم یہ دونوں میرے فکر کو مہمیز لگارہے ہیں، ایک طرف میں ملکی اخبارات میں شائع ہونیوالے وزیراعظم کے بیان پڑھ کر حیران ہوتا ہوں ملک میں سب کچھ ٹھیک، عوام سکھ کی سانس لے رہی ، معیشت کا پہیہ تیزی سے ترقی کررہاہے، بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہورہاہے، تو دوسری یہ خبر بھی ہے کہ پی ٹی وی پاکستان کے ذرائع ابلاغ کا بصری اہم ترین ادارہ ہے ، جس کے مالی حالات تاحال خراب ہیں، پی ٹی وی لاہور کے ملازمین کا میڈیکل فنڈ ایک طویل عرصہ سے بند ہے، فنکاروں ،ہنرمندوں کے معاوضے کی ادائیگی بھی نہیں ہورہی ، جس سے وہ نہایت مشکلات سے دوچار ہیں، اسی طرح ریڈیو پاکستان لاہور بھی مالی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، حکومت کی جانب سے فنڈ نہ جاری ہونے کی وجہ سے ملازمین اور پنشنرز حضرات کے میڈیکل فنڈ بھی ایک طویل عرصہ سے بند ہیں، ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی اپنے عروج پر ہیں، یوں سمجھ لیں بس نوکری چل رہی ہے، کنٹریکٹ پر کام کرنیوالے جزوقتی ملازمین سازندے اور ہنرمند اور دیگر ملازمین معاوضے نہ ملنے کی وجہ سے بھوکے مر رہے ہیں۔
(دوسری خبر کالم نگار ریاض صحافی کا کالم ہے )
موصوف لکھتے ہیں….وہ سادہ سے پرانے کپڑوں میں ملبوس تھیں کچھ کے سروں پر چادریں توکچھ کالے سفید ٹوپیوں والے برقعے پہنے ہوئے تھیں، کئی خواتین کی گود میں شیر خوار بچے دودھ کے مارے بلک رہے تھے، یہ وہ چہرے تھے جو کوئی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں کے باسی تھے، کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رینگ کر زندگی گزارنے والی خواتین کو تحریک انصاف نے (وی آئی پی پی) شخصیات بنارکھاتھا، جو وزیروں، وڈیروں ،مشیروں کی نشستوں پر بیٹھی اچھے مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان کے پہلو میں بیٹھی ہوئی ایک بے آسرا خاتون کا بچہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھا اسکی چپل سے کھیل رہاتھا، یہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ احساس کفالت پروگرام کے مناظر تھے، جہاں وزیراعظم عمران نے اپنے خطاب میں کہا ہم احساس کفالت کے تحت دو کھرب روپے کے سب سے بڑے فلاحی منصوبے کا آغاز کررہے ہیں، اس کے تحت 70لاکھ مستحق خواتین کو خود کفیل بنایاجائیگا، 25کروڑ کی آبادی کے پاکستان کی 70لاکھ مستحق خواتین 2کھرب روپے کے فنڈ سے مستفید ہونگی، جبکہ عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے ترس رہی ہے، اور جس ملک میں مزدور اور غریب طبقہ کی تعداد سب سے زیادہ ہو اور جو موجودہ اور عمران خان کے دور میں 90روپے کلو آٹا خریدنے کی استطاعت نہ رکھتی ہو، اس ملک کی 70لاکھ خواتین کو خود کفیل بنایاجائیگا، اور باقی گئیں بھاڑ میں۔
اس وقت پاکستان بھر میں 46ریڈیو اسٹیشن دنیا بھر میں اپنی نشریات بکھیر رہے ہیں، اسی طرح ملک کے پی ٹی وی اسٹیشن اپنے بصری تقاصوں کے ذریعے عوام اور بیرون کے لوگوں کو تفریح مہیا کر رہے ہیں، ان اداروں میں لاکھوں افراد ملازمین ہیں، جو دن رات اپنے منصبی کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں، میاں نوازشریف کے دور حکومت میں 2015سے میڈیکل سہولت کا فقدان ہوگیاتھا، مگر ان سے پہلے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دور حکومت میں ملازمین کو اپنی خوشحالی بہت بڑی خوشخبری ملی تھی، وہ یہ کہ انکی تنخواہوں میں یکدم 50 فیصد اضافہ کر دیا گیا تھا، جبکہ پنشنرزحضرات کو صرف 20فیصد اضافہ پر ٹرخادیاگیاتھا، یوں سمجھ لیجئے آصف علی زرداری کے دور میں جو ملازمین پچاس ہزار تنخواہ لے رہاتھا اسکی تنخواہ یکدم ایک لاکھ ہوگئی تھی، جو ملازم اپنی موٹرسائیکل پر دفتر آتے تھے وہ اپنی کار میں آنے لگے تھے، کتنی خوشحالی کا دور تھا۔
میں چونکہ خود ریڈیو پاکستان کا ریٹائرڈ پنشنر ہوں اور 18سال کا عرصہ ہوگیا ہے ریڈیو پاکستان ملتان سے ریٹائرڈ ہوئے ،میری ریٹائرمنٹ کے تین سال بعد میرا اوپن ہارٹ آپریشن پی آئی سی لاہور کے ہسپتال میں ہواتھا، جس کا پورا خرچہ دو لاکھ اکسٹھ ہزار روپے ریڈیو پاکستان نے اداکیے تھے، اور دیگر میڈیکل سہولت اسی طرح بحال تھیں ، ایک ہزار 5ہزار تک کی میڈیکل ادویات باآسانی مل جاتی تھیں، ناکوئی فکر نہ کوئی فاقہ تھا۔مگر یکدم یہ تمام سہولتیں دورہوتی چلی گئیں، 2015سے تاحال ریڈیو پاکستان ملتان 265ریٹائرڈ ملازمین اور تقریباً 70کے قریب ریگولر ملازم ان سہولیات کو ترس رہے ہیں، میں سوچتا ہوں کہ آخر وہ کونسے عوام تھے جب آٹا 30سے 40روپے کلو دستیاب تھا، حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کو دی گئی سہولتیں بدستور جاری تھیں، یہ یکدم انقلاب کیسا آگیا ، نیا پاکستان کا خواب دیکھنے والا عمران خان کے دورحکومت میں آٹا 70روپے کلو پہنچ گیا، ادویات سرکاری ہسپتالوں سے غائب ہوگئیں، اور انکی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگیں۔
دو کھرب روپے کے فلاحی منصوبے کے اعلان کرنیوالے وزیراعظم پاکستان ذرا ملک کی 25 کروڑ آبادی کو مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے دیکھ لیتے، پاکستان بھر سے شائع ہونیوالی خبروں پر ہی نظر دوڑالیتے تو انہیں ملک میں تیل گھی کا بھاو¿ معلوم ہوجاتا۔
مگر ایک اخبار میں چھپنے والی وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے اس بیان کو پڑھ کر رونا آگیا ، ہر روز میرے خلاف افواہیں پھیلائی جاتی ہیں،میں تنقید سے گھبرانے والا نہیں ہوں، اور نا ہی حالات سے سمجھوتہ کرونگا، آپ لوگ نااخبارات پڑھیں اور نہ ہی ٹی وی دیکھیں۔
آئے دن کے بڑھتے ہوئے سوئی گیس بجلی کے نرخ اور اشیائے خورد و نوش کی آسمان سے چھوتی اڑان، قانون کی ناانصافی ، پولیس کے ہاتھوں بڑھتی ہوئی خواتین کی بے حرمتی کیا یہی پاکستان کے عوام کی قسمت میں رہ گیا ہے۔
آج جس سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کو نیب کے ہاتھوں اربوں کروڑوں دولت لوٹنے، ملک سے باہر بنکوں میں منتقل کرنے کی پاداش میں مقدمات قائم کیے ہوئے ہیں اسی زردار ی کے دور حکومت میں سرکاری ملازمین نے خوشحالی کا دور دیکھا تھا، اور اب کیا دیکھ رہے ہیں ، اب تو ہمیں اپنی پنشن کے خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہو رہی ہے۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

معاشی بحران ….خدشات اور توقعات

جاوید ملک
پاکستان کی معیشت روزِ اول سے بحرانات کا شکار رہی ہے۔ اس کیفیت میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ چند ایک استثنائی عرصوں کو چھوڑ کے معاشی بحران یہاں ایک معمول کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ درست ہے کہ ایوب خان اور پھر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں معیشت کی شرح نمو کافی اوپر گئی لیکن یہ ترقی اتنی گہری اور وسیع نہیں تھی کہ پاکستان پسماندہ ممالک کی فہرست سے نکل کر کم از کم درمیانی آمدن والے ممالک کی فہرست میں ہی شمار ہو پاتا۔
نامور تجزیہ نگار عمران کامیانہ کے مطابق وطن عزیز میں ایک ترقی یافتہ صنعتی سماج کی معاشرتی بنیادیں تعمیر کرنے کے لئے بھی جتنے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن وہ سرمایہ داری کے تحت مہیا نہیں ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ سی پیک جیسے دیوہیکل منصوبے بھی اس ضرورت کے سامنے بہت معمولی معلوم ہوتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ سطحی، نمائشی اور ادھوری ترقی ہی دے سکتے ہیں۔
پسماندہ معیشتوں کا بنیادی مسئلہ آخری تجزئیے میں کم پیداواریت (Productivity) ہوتا ہے جس کے پیچھے تکنیکی پسماندگی کارفرما ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے ایک طرف داخلی سطح پر سماجی و صنعتی ترقی کے مطلوبہ وسائل حاصل نہیں ہو پاتے۔ دوسری طرف بیرونی سطح پر ایسی پسماندہ معیشتیں عالمی منڈی میں مقابلہ بازی کی سکت سے عاری ہوتی ہیں جس سے تجارتی خسارے جنم لیتے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک طرف تو سابق نوآبادیاتی ممالک کی معیشتیں داخلی طور پر بحران کا شکار تھیں‘ دوسری طرف ’بریٹن ووڈز سسٹم‘ کے تحت عالمی معیشت کے طریقہ کار اور قوانین یوں مرتب کیے گئے کہ یہ پسماندہ خطے مسلسل سامراجی ممالک اور ان کے گماشتہ اداروں پر منحصر رہے۔
نامور معیشت دان ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق 2003ءمیں پاکستان 100ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 125 تا 130 ڈالر کی درآمد کرتا تھا۔ یوں 25 سے 30 ڈالر کا فرق تھا۔ لیکن آج یہی فرق 125 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دوسرے الفاظ میں درآمدات‘ برآمدات کے دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔
عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک عشرے کے دوران عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ 1.45 فیصد سالانہ گھٹتا گیا ہے اور 2010ءکے بعد سے برآمدات کم و بیش منجمد ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ پاکستانی سرمایہ داری کا بحران گھمبیر ہی ہوا ہے۔
بعض حوالوں سے پاکستان کی سرمایہ دارانہ معیشت کا بحران خطے کے دوسرے پسماندہ ممالک سے زیادہ گہرا ہے۔ مثلاً پاکستان میں سرمایہ کاری کی جی ڈی پی سے شرح 15 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ہندوستان میں یہ شرح 32 فیصد، سری لنکا میں 36 فیصد اور بنگلہ دیش میں 40 فیصد تک ہے۔ اس حوالے سے 175 ممالک میں سے پاکستان کا 151 واں نمبر بنتا ہے۔ اس کم سرمایہ کاری کی وجہ سے پھر کم پیداواریت کا مسئلہ جنم لیتا ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق ملکی معیشت ایک ایسے گھن چکر میں پھنسی ہوئی ہے جس میں کم سرمایہ کاری کی وجہ سے شرح نمو کم ہے اور کم شرح نمو کی وجہ سے پھر بچتیں (Savings) بھی کم ہوتی ہےں جو ایک بار پھر کم سرمایہ کاری کے مسئلے کو جنم دیتی ہیں۔ سٹیٹ بینک کی اسی رپورٹ کی مطابق ملکی تاریخ میں بلند شرح نمو کے جتنے بھی ادوار آئے ہیں وہ بیرونی عوامل پر منحصر تھے (جن میں بیرونی قرضے، سامراجی امداد اور ترسیلات زر شامل ہیں) اور اسی وجہ سے یہ شرح نمو زیادہ لمبے عرصے تک برقرار نہیں رہ سکی۔
ملک کی برآمدات کے حجم میں 2005ءکے بعد سے کوئی اضافہ نہیں ہو پایا ہے جس کی وجہ سے معیشت کا دارومدار درآمدات پر بڑھتا چلا گیا ہے اور معیشت دان عاطف میاں کے الفاظ میں ”پاکستان صارفین کی قوم بن چکا ہے جس کی پیداواری تخلیق کرنے کی صلاحیت بہت محدود ہے۔“
یہ کیفیت ہمیں یہاں کے سرمایہ دار طبقے کے بدلتے ہوئے معاشی کردار میں بھی نظر آتی ہے جو اب زیادہ تر سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے غیر پیداواری شعبوں میں ہی کرتا ہے۔ زرعی زمینوں پر بے ہودہ اور بے ہنگم ہاﺅسنگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں جبکہ صنعتی یونٹ بند کر کے وہاں شاپنگ مال یا بیرونی مصنوعات کے گودام تعمیر کیے جا رہے ہیں۔اس سے حکمران طبقے کی ساری ترکیب بھی بدل گئی ہے اور صنعت سے وابستہ پرانے سرمایہ دار گھرانوں کو پچھاڑ کے رئیل اسٹیٹ سے وابستہ بدعنوان نودولتیے ملک کے امیر ترین لوگ بن گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کی سکت کے لحاظ سے پاکستان کل 137 ممالک کی فہرست میں 115 ویں نمبر پر آتا ہے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

چمڑے کی مصنوعات پاکستان کی اہم برآمدات سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم چمڑے کی صنعت کو ایک مثال کے طور پہ لیں تو یہاں کی صنعت کا زوال بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ مثلاً 2008ءمیں چمڑے کی برآمدات 1.22 ارب ڈالر تھیں جن میں دس سالوں بعد بھی کوئی اضافہ تو درکنار الٹا کمی ہی ہوئی ہے 2019ءمیں یہ بنگلہ دیش سے بھی کم ہو کر 850 ملین ڈالر رہ چکی ہیں۔
ایسے میں ملک بار بار دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچتا رہا ہے اور یہاں کے حکمرانوں کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے اداروں سے بھیک کے لئے رجوع کرنا پڑتا رہا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ 1980ءکی دہائی کے اواخر کے بعد سے پاکستان 13ویں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے۔
ایسے ہر موقع پر یہ سامراجی ادارے ان حکمرانوں کو ڈانٹ پلاتے ہیں اور معیشت کو ’نظم و ضبط‘ میں لانے کے لئے ’سٹرکچرل اصلاحات‘ کے منصوبے مرتب کیے جاتے ہیں۔ یہ منصوبے درحقیقت بحران کا سارا بوجھ محنت کش طبقے پر لادنے کی واردات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہر بار یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آخری بیل آﺅٹ پیکیج ہو گا جس کے بعد معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔ لیکن جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر کچھ سالوں بعد یہاں کے تاریخی طور پر حکمران ایک بار پھر ان اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوتے ہیں۔
بار بار دہرائے جانے والے اس عمل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سامراجی اداروں کی ’اصلاحات‘بھی ان معیشتوں کو زیادہ سے زیادہ وقتی سہارا ہی دے سکتی ہیں اور بنیادی مسئلہ حل کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ مسئلے کا اس نظام کی حدود و قیود میں حل ممکن نہیں ہے۔
اس حکومت کے آنے کے بعد بورژوا اپوزیشن اور کچھ تجزیہ نگاروں میں یہ چلن بھی چل نکلا ہے کہ معیشت کے بحران کو حکمرانوں کی ’نا تجربہ کاری‘ یا ’نا اہلی‘ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سراسر سطحی‘ بلکہ بھونڈی تجزیہ نگاری ہے۔ نظام کے اندر ایک خاص گنجائش ہوتی ہے جس کے اندر ہی افراد حرکت کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی سے قطع نظر پاکستان کی معیشت نامیاتی طور پہ بحران سے دوچار ہے۔
انتہائی محتاط اور مستند سمجھے جانے والے ماہرین کے مطابق بھی پاکستان میں ک±ل معیشت کا 70 فیصد کالی معیشت پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ کالی معیشت‘ سرکاری اعداد و شمار میں نظر آنے والی معیشت کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
اس معیشت کا وسیع حصہ ہر طرح کی کرپشن، بدعنوانی، رشوت ستانی، ٹیکس چوری اور منشیات جیسے دھندوں پر مشتمل ہے۔ یہاں سمگلنگ اور ڈرگ ٹریفکنگ جیسی قانونی طور پر ناجائز سرگرمیوں کے حجم کا تخمینہ پانچ ہزار ارب روپے تک ہے لیکن یہ دیوہیکل کالی معیشت ساری کی ساری ایسے جرائم پر مبنی نہیں ہے بلکہ ٹھیلے والے اور پرچون فروش سے لے کر کنسٹرکشن اور بڑے پیمانے کی صنعت تک ہر ایسی سرگرمی جو سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے اِس کالی معیشت میں شمار ہوتی ہے۔
جیسا کہ مقداری تناسب سے بھی ظاہر ہے ملک کا اکثریتی روزگار (چھوٹے کاروباروں یا نوکریوں کی شکل میں) اسی معیشت سے وابستہ ہے لیکن ان زیادہ تر عارضی نوکریوں میں استحصال کی شدت کہیں زیادہ ہے۔
اِس کالی معیشت کا اپنا ایک سائیکل ہے جو نہ صرف یہ کہ سفید معیشت پر حاوی ہو چکا ہے بلکہ اس کے بغیر منڈی سکڑ جائے گی اور ساری معیشت ہی دھڑام ہو جائے گی۔
کالی معیشت صرف پاکستان کا نہیں بلکہ بالعموم ہر پسماندہ سرمایہ داری کا مسئلہ ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق ہندوستان میں کالی معیشت کا حجم، جو 1955ءمیں جی ڈی پی کا صرف 5 فیصد تھا، اس وقت 62 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے خطوں میں بھی کم و بیش یہی صورتحال نظر آتی ہے۔
کالی یا غیر دستاویزی معیشت کو ’ڈاکومنٹ‘کرنے ‘ یعنی سرکاری لکھت پڑھت میں لا کر ٹیکس نیٹ کا حصہ بنانے کی موجودہ حکومت کی کوششیں پچھلی حکومتوں کی طرح ناکام نظر آتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طرف تو تاجروں کی مزاحمت آڑے آئی ہے جس کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ دوسرا یہ غیر دستاویزی معیشت زیادہ تر چھوٹے کاروباروں پر مشتمل ہے جن کی شرح منافع اتنی نہیں ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آنے کے بعد وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکیں۔ زرعی شعبے میں بھی 80 فیصد تک چھوٹے کاشتکار ہیں۔
برسر اقتدار آنے سے پہلے تحریک انصاف نے معیشت کو ”ٹھیک“ کرنے کے بہت وعدے کیے تھے۔ لیکن سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی اسی نظام میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اسے اسی طرح چلا نا چاہتی ہے تاہم اس صورتحال کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جو اس کے تحت حکمرانی کرنے والوں کو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اصلاح پسندانہ سوچ نظام کو بدلنے کی بجائے ٹھیک کرنے پہ یقین رکھتی ہے۔ اور ایک طبقاتی نظام کو ”ٹھیک“ کرنے کی قیمت ہمیشہ محکوم طبقات ہی ادا کرتے ہیں۔
ویسے تو روزِ اول سے ہی ملک کی معاشی پالیسیوں کا تعین سامراجی ادارے کرتے رہے ہیں لیکن اس وقت معیشت عملاً آئی ایم ایف کے کنٹرول میں ہے جس نے نہ صرف حفیظ شیخ کو دوبارہ امپورٹ کر کے مشیر خزانہ لگوایا ہے بلکہ رضا باقر کی شکل میں سٹیٹ بینک کا گورنر بھی اپنے خاص بندے کو تعینات کروایا ہے۔ یعنی کرنسی نوٹ، جو چھاپنے کا اختیار کسی ریاست کا سب سے کلیدی حق تصور کیا جاتا ہے، اب آئی ایم ایف کے ایک ملازم کے دستخطوں سے قانونی سند حاصل کریں گے۔
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں حکومت کی مجموعی آمدن کا 90 فیصد تک عام لوگوں پر اِن ڈائریکٹ ٹیکس لگا کے حاصل کیا جاتا ہے۔ یعنی غریب آدمی ماچس کی ڈبیہ تک پہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ جبکہ حکمران طبقات کم و بیش کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے موجودہ حالت میں حکومت کے لیے یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔

حلقہ ارباب ذوق اورتنقیدکی روایت

میم سین بٹ
حلقہ ارباب ذوق میںتنقید کی روایت بہت پرانی ہے وہاں کچھ نقاد صرف تنقید کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اورخود اپنی کوئی تخلیق پیش نہیں کرتے ، اپنی تحریر تنقید کیلئے پیش کرنے والے تخلیق کار وںکو کسی اعتراض پرضاحت کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی وہ بیچارے تو نقاد وں سے شہزاد تابش کی زبان میں یہ بھی نہیں کہہ سکتے….
تنقید مجھ پہ کیجئے لیکن کبھی حضور
شہر سخن میں اپنا بھی فن آزمایئے
تفنن برطرف حلقے کامزاج شروع ہی سے توصیفی کے بجائے تنقیدی چلا آرہا ہے ،اس قدیم تنظیم نے ادب میںبڑے بڑے نقاد پیدا کئے ہیں، ڈاکٹرضیاءالحسن کا بھی ان میں شمار ہوتا ہے تاہم یہ حلقہ ارباب ذوق کے کبھی سیکرٹری یاجائنٹ سیکرٹری نہیں رہے،پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج شعبہ اردومیں استاد ہیں ،نقاد کے علاوہ نظم کے بہت اچھے شاعر بھی ہیں،سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق عامر فراز نے گزشتہ اتوارکو پروفیسر محمد خالدکی زیر صدارت پاک ٹی ہاﺅس میں تنقیدی نشست رکھی جس میں سب سے پہلے ڈاکٹر ضیاءالحسن نے ادب اور تنقید کے عنوان سے مضمون پیش کیا انہوں نے مضمون میں نقادوں کی خوب خبر لی اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ضیاءالحسن نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کیلئے لکھے جانے والے تحقیقی مقالوں اور مقالہ نگاروں کا بھی تفصیلی پوسٹمارٹم کیا ۔
ڈاکٹرناصر بلوچ نے مضمون پرگفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ پی ایچ ڈی کی زیادہ تر ڈگریاں الاﺅنسزکی وصولی کیلئے حاصل کی جارہی ہیں،انہوں نے ضیاءالحسن کا مضمون ادبی تنقید کونقصانات سے بچانے کی کوشش قراردیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اس سے نئے مباحث کا آغاز ہوگا اورہونا بھی چاہیے ،شہزاد میاں نے یہ کہہ چٹکی لی کہ اچھا ہوتا مضمون میں مسئلے کا حل بھی بیان کردیا جاتا ،ڈاکٹر ضیاءالحسن کوتو بولنے کی اجازت ہی نہ تھی ان کی جگہ صاحب صدر نے فوری جواب دیا کہ ضروری نہیں مضمون نگار ہی سارے حل پیش کرے ،مقصود وفا نے پروفیسر ناصر بلوچ کی بات کو آگے بڑھایا کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کا تنقید سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ تنخواہ میں اضافے یا اگلا عہدہ لینے کیلئے پی ایچ ڈی کرتے ہیں جوادبی تنقید اورتحقیق کے حوالے سے انتہائی خطرناک معاملہ ہے ہمارے یہاں توتنقید کی اصطلاحات بھی درآمد شدہ ہوتی ہیں، ایک نقاد نے کتاب لکھ دی کہ نظم کیسے پڑھی جائے ؟ وہ اگلی کتاب شاید یہ لکھ دیںکہ نظم کیسے کہی جائے ۔
فرح رضوی نے مضمون کوعام قاری کے تاثر کے قریب قرار دیتے ہوئے امید ظاہرکی کہ اگلا مرحلہ حل کا بھی آجائے گا ،ناصرعلی کو مضمون سنتے ہوئے یہی محسوس ہوتا رہاکہ گویا یہ بھی ان کے دل میں ہے انہوں نے مضمون میں تخلیق کوفوقیت دینے کی تحسین کی ،عامرفراز نے مضمون کو بہت پرلطف قراردیا وہ ضیاءالحسن سے حسب سابق طویل مضمون کی توقع کرتے رہے مگر اس کے جلد ختم ہوجانے پر انہیں غالباََ مایوسی ہوئی عامر فرازکو مضمون میں تھوڑی سی کمی بھی محسوس ہوئی ان کے خیال میں کچھ مثالیں اورحوالے ضروری تھے جس پرکنور عبدالماجد بول پڑے کہ مضمون میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو یہ اچھی بات ہے جس پران کے اردگرد بیٹھے دانشورہنس پڑے ۔
حسین مجروح نے درست نشاندہی کی کہ ضیاءالحسن نے یہ مضمون اپنے ہی طبقے کے خلاف لکھا ہے ،بہت سی تھیوریاں نافذ کرنے میں مدرسین کا ہی ہاتھ ہے ، ہم تو ستائش باہمی کے لوگ تھے ہم نے تنقیدکی تھیوریزدرآمد کیں ،مضمون نگار نے حل تجویز نہ کرکے قاری اورسامع کیلئے میدان کھلا چھوڑدیا ،نقاد وں کو اس خطرے سے بالاتر ہو کر تنقید لکھنی چاہیے کہ تعلقات نہ خراب ہوجائیں ،قاضی ظفراقبال نے بتایا کہ مولانا صلاح الدین احمد کے جریدے ”ادبی دنیا“میں تنقیدکا بہت اچھا سلسلہ رہا جس میں شاعر کا نام ظاہرکئے بغیر نظم یا غزل چھاپی جاتی تاکہ تنقید کرتے وقت شخصیت کی وجہ سے جانبداری کے پہلوسے بچا جا سکے،اب حیات شخصیت پرمقالہ لکھنے کی اجازت بہت بڑی خرابی کا باعث ہے وہ شخصیات خود ہی مقالہ لکھ کر ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے والوں کو دے دیتی ہیں ۔
پروفیسرمحمد خالد نے ڈاکٹر ضیاءالحسن کے تنقیدی مضمون پر صدارتی رائے دیتے ہوئے چیئرمین پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے بتایا کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی امیدوار جب ان کے پاس انٹرویوکیلئے پیش ہوئے تو زیادہ ترکو علم ہی نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے مقالے میں کیا لکھا ہے ،تنقید تو نقادکے اندر سے پھوٹتی ہے جو پچاس شعری مجموعے چھپوا چکے ہیں ان کے اندرکا نقاد مر چکا ہے ،ہم نے مغرب سے جو تھیوریاں درآمدکیں وہ بیکار نہیں لیکن ہمارے لئے بیکار ہیں ہمارے تنقیدکے نئے دبستان فیشن کے طور پر آئے جن کی اپنی شعروادب کی تربیت نہیں ہوئی وہ لوگ تخلیقی تنقید نہیںکرسکتے ،ڈاکٹر ضیاءالحسن کا مضمون بہت اعلیٰ تھا اس کی باریکیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسے پڑھا جا نا چاہیے۔
مضمون پرگفتگو مکمل ہونے پرمقصود وفا نے نظم ”بوجھ“ تنقید کیلئے پیش کی جس کا ڈاکٹر ضیا ءالحسن نے تجزیہ کیاکہ شاعر نے ساری نظم تضادکی بنیاد پربنائی ہے تضاد اس کائنات کی مرکزی خصوصیت ہے دراصل یہ کائنات کا سارا بوجھ ہے جو شاعر نے سرپر اٹھایا ہوا ہے ،ڈاکٹر ناصر بلوچ نے اسے تخلیقی اور خوبصورت نظم جبکہ بوجھ کو تواخر قراردیا ،قاضی ظفر اقبال کے خیال میں نظم میں انسان نے اپنا اثبات کیا ہے کہ وہ بے معنی چیزنہیںہے،عامر فرازکے مطابق انسان نے تنہائی سے بچنے کیلئے سب کچھ بنایا ہوا ہے ،شہزاد میاں نے قراردیا کہ حسرتوں کے ذکر سے بوجھ کا غم ظاہر ہوتا ہے ،فرح رضوی نے قاضی ظفراقبال کی تائید کی کہ انسان بے شک فوقیت رکھتا ہے ۔
کنورعبدالماجدنے نظم پر اپنے تاثرات بیان کئے کہ ایک زخم بھر جاتا ہے،دوسرا زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے اورتیسرا زخم کبھی نہیں بھرتا ،شاعر نے نظم میں تیسرے زخم کی طرف اشارہ کیا ہے ،حسین مجروح کے خیال میں تخلیق کارکا خواب نیند کا خواب نہیں ہوتا ،نظم کی اسا س تضاد پرہے ،تخلیق کارکا خدا کا تصور جداگانہ ہوتا ہے یہ پنچ لائن اس نظم کی جان ہے ،عابد سیال نے تضادکو تنویت قراردیتے ہوئے رائے دی کہ شاعرکو جب یہ احساس ہوا کہ وہ اکیلا رہ گیا ہے تو پھر اس نے اپنی تنہائی کا بوجھ اٹھانے کیلئے خداسے رجوع کرلیا ،پروفیسر محمد خالد نے نظم پر بحث سمیٹتے ہوئے صدارتی کلمات میں کہا کہ انہیں نظم میں تضاد نظر آیا نہ تنویت دکھائی دی ،نظم کا مضمون ایک ہی ہے ،حسرتیں خواب میں اپنی جگہ ڈھونڈتی ہیں، شاعر نے بیچارگی سے بات کی ہے کہ اپنے اپنے دکھ ہیں اور اپنے اپنے خدا ہیں،آخر میں اسد اعوان ،وقار حیدر، عابد سیال ،مقصود وفااورپروفیسر محمد خالد نے کلام سنا کر حاضرین سے داد پائی،مقصودوفا کی نظم تھی….
میری نیندوں میں جاگی ہوئی حسرتیں
میرے خوابوں میں ہیں
صبح مدہوش بھی، شام خاموش بھی
دوسری کہکشاﺅں میں بستے ہوئے
جا چکے لوگ بھی
میرے خوابوں میں ہیں
زخم بھی، پھول بھی
اور خوشیوں بھرے لوگ بھی
روح کی تشنگی،جسم کی بھوک بھی
پرخطر زندگی ،بے خطر موت بھی
سب کو میں نے سر پر اٹھایا ہوا ہے
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

پاکستان روایتی حریف بھارت کو ہرا کر کبڈی کا عالمی چیمپئن بن گیا

( ویب ڈیسک )کبڈی ورلڈ کپ 2020ءکے فائنل میں پاکستان روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر ورلڈ چیمپئن بن گیا۔ اتوار کو کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی۔ دونوں جانب سے سخت زور آزمائی کی گئی تاہم پاکستانی پہلوانوں کا پلہ بھاری رہا اور انہوں نے بھارتی پہلوانوں کو چاروں شانے چت کردیا۔کھیل ختم ہونے سے ایک منٹ قبل تک پاکستان نے مزید پوائنٹس حاصل کیے جس پر پاکستان کا اسکور 43 اور بھارت کا 39 ہوگیا۔ پاکستان کو پوائنٹس ملنے پر بھارتی پہلوان رونے لگے اور محض ایک منٹ رہ جانے پر بھارتی آفیشلز میدان میں آگئے اور اپنے کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے کا کہہ دیا۔بھارتی ٹیم نے ایک پوائنٹ پر اعتراض کیا اور کھیل کو گندا کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ورلڈ کپ 2014ءاور ایشیا کپ 2016ءکی تاریخ دہرادی تاہم بھارتی اعتراضات کام نہ آسکے۔ کھیل ختم ہونے تک پاکستان کا اسکور 43 اور بھارت کا اسکور 41 رہا۔