All posts by Muhammad Afraz

زندہ قومیں اور امتحانات

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق
ویسے تو اس وقت پوری دنیا یکساں مصائب و آلام کا شکار ہے مگر پاکستان کی جو صورت حال ہے وہ بہت گھمبیر ہے اور اس کیفیت سے باہر آنے کے لیے مختلف حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے اور عوام اس بات کو سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ دراصل وہ سیاسی کلچر دم توڑ رہا ہے جو چند سپورٹروں کی مدد سے اپنے راہنما کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے تھے اور ذاتی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اب وہ سلسلے ختم ہو گئے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کئی امتحانوں سے نبرد آزما ہیں ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ عالمی وبا کی سزا تو پوری قوم بھگت رہی ہے مگراس کی جزا چند لوگ حاصل کر رہے ہیں ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں نے اس قیامت کی گھڑی کو سونے اور چاندی کی گھڑی بنا لیا ہے ۔ اپوزیشن نے اس کو سیاست کے لیے زرخیز زمین سمجھتے ہوئے حکومت کو گرانے اور وطن لوٹ کر دیار غیر میں سہولت اور ضرورت کے اسباب وافر بنا لیے ہیں ان کو واپس لانے کی بھی وکالت کر رہے ہیں۔
اس وقت قومی معاملات کو الجھنوں سے نکال کر پاکستان کی بقا اور سالمیت کے لیئے اختلافات کو بھلا کر عالمی منظر نامے پر ابھرنے والی پاکستانی تصویر کو بھیانک سے اچانک خوبصورت بنانے کے مواقع مل رہے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کی اہمیت کے حوالے سے جو صورت حال بنی ہوئی ہے اس نے بھارتی سرکار کو انگشت بدنداں کر دیا ہے ۔ لداخ میں جو چھترول بھارت کی ہوئی ہے، وہ پاکستان کی نصرت سے تعبیر کی جا رہی ہے۔ لداخ کا علاقہ چین کے قدموں میں اور بھارتی فوج کی ذلت آمیز شکست کے بعد مودی کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی، اس کی بولتی بند اور اس کے بیانات بند ہو گئے ہیں۔ یہ پاکستان کی فتح نہیں تو اور کیا ہے۔ ہماری عسکری حکمت عملی کے سامنے ہندو بنیا کی مکاری اور دجل و فریب کے تار پود بکھر گئے ھیں ۔اس وقت جو کامیابیاں حالات کی نزاکت کی روشنی میں وزیر اعظم کو مل رہی ہیں اس پر اپوزیشن حسد کی آگ میں جل رہی ہے ۔ زندہ قوموں نے ہی تاریخ کا رخ بدلا ہے اور اب بھی انشاءاللہ انقلابی تبدیلیوں کے بطن سے اطمینان افروز سحر نمودار ہو گی ۔ انشاءاللہ جلد ایسا ہو گا۔
لاک ڈاﺅن میں ہم اس ہستی کو زیادہ سے زیادہ یاد کر سکتے ہیں جس کو ہم بھولے ہوئے ہیں اور ہم سب نے اسی کے پاس لوٹ کے جانا ہے ۔ ہم دنیا میں اپنی آمد کی وجہ بھول گئے ہیں اور ہم دنیا بنانے اور لوگوں کا حق کھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم اس کا ذکر کریں ،اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں وہ ہمارے سارے بگڑے کام درست کر دے گا ۔ کرونا جیسی وبا بھی ختم ہو جائے گی۔ اگر ہم اپنے نفس کی کمزوریاں ، کردار کی کوتاہیاں اور صرف اور صرف اپنی ہی سیرت کی چوریاں پکڑنا شروع کریں ۔ تو حالات بدل سکتے ہیں مگر ہم دن رات دوسروں کی عیب جوئی میں لگے ہوئے ہیں ۔ ہمارے بعض اینکر پرسنز کی تو جھوٹ بولنا عادت ہی بن گئی ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اس عادت کو ترک نہیں کر سکتے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے اور ہمیں جھوٹ کی عادت سے بچائے ۔ سچ میں آزمائش ضرور ہے مگر آسائش زیادہ ہے ۔ اس وقت دنیا میں جھوٹ کی آندھیاں چلی ہوئی ہیں جس کی سزا کرونا وبا کی صورت میں ہمیں مل رہی ہے۔ اگر ہم جھوٹ کو اجتماعی طور پر ترک کر کے ہمیشہ کے لیئے ایک برائی سے نجات پا لیں تو اس کے دونوں جہانوں میں فائدے ہی فائدے ہیں۔
اس وقت قربانی اور ایثار کا موسم بہار آ گیا ہے ۔ لاک ڈاﺅن میں جو انفرادی اور اجتماعی نقصان ہوئے ہیں اور بدستور ہو رہے ہیں ان کو اگر ہم خوش دلی سے برداشت کریں گے تو اس میں ہمیں فایدہ ہو گا ۔کیوں کہ وطن عزیز کے حصول میں شریک ہمارے اجداد و اسلاف نے جو قربانیاں دی تھی اس کے مقابلے میں آج وطن عزیز کی سلامتی کے لیے یہ کیا ہم سب کچھ بھی قربان کر دیں تو خسارے کا سودا نہیں ہے ،اس لیئے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرو اور آج کرونا کے ڈر اور خوف سے مالی نقصان کو حکومت کے سر پر نہ تھوپیں بلکہ اس کی بقا اور احیا کے لیئے ریاست مدینہ کے نظام کا تصور پیدا کریں۔ اس وقت ہم بحیثیت قوم بہت بڑے امتحان اور آزمائش سے گزر رہے ہیں ۔ اللہ تعالی ہمیں اس امتحان میں کامیاب فرمائے اور ایک نئی اطمینان افروز صبح طلوع ہو جس کی کبھی بھی شام نہ ہو۔
پوری دنیا وبائی بلائے ناگہانی کی لپیٹ میں ہے اور ایک کروڑ سے زائد لوگ متاثرین میں ہیں اور پچاس لاکھ موت سے بغلگیر ہو چکے ہیں۔ اس افراتفری کی کیفیت اور حالت میں مسلم امہ سو رہی ہے اور اسرائیل جاگ رہا ہے ایک بہت بڑی جنگ مسلمانوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے جس جنگ کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے ۔اس وقت لداخ میں جو ہندو بنیئے کے ساتھ ذلت آمیز سلوک ہوا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ان کی حکمت عملی خاک میں مل گئی ہے چین نے انہیں عبرت ناک شکست دی ہے اور یہ پاکستان کی فتح ہے، اس شکست کا انتقام لینے کے لیئے ہندوستان پھر سے تیاریاں کر رہا ہے اور اسرائیل بھی اس میں شریک ہے ۔ امریکہ میں نسلی فسادات کی آگ بھڑک رہی ہے اور اسلام کی نشاة ثانیہ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا۔ اپوزیشن کے لیئے اب کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بیجا نکتہ چینی پر وقت ضائع کریں ۔اس وقت انتخابات کا وقت نہیں احتساب کا امتحان ہے اس میں جو صد فی صد نمبر لے گا وہی قوم کی نمائندگی کا حق دار ہو گا ۔ اور ایک شخص جس نے عمران خان کو شکست دی تھی وہ پورے نمبر لے کر اس جہان فانی سے کوچ کر گیا اور اپنی جائیداد تک پاکستان کے لیئے وقف کر گیا ،اس نے بڑی شان سے زندگی گزاری اور اپنی موت بھی قابل رشک بنا گیا ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں طارق عزیز کی بات کر رہی ہوں جو سب کا عزیز تھا اور اس کی تربیت میں ایک محب وطن پاکستانی کی جھلک نظر آتی تھی ۔ وہ ایک سچا کھرا پاکستانی تھا جس سے اینکر پرسن نے سوال کیا تھا کہ پاکستان میں جو تبدیلی لا سکتا ہے اس شخص کے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ تو تھوڑے سے توقف کے بعد گرج دار لہجے میں اس نے کہا ہاں جس کو میں نے ہرایا تھا ۔اب آپ یہ بھی جان گئے ہوں گے کہ عمران خان کو ہرایا تھا ۔
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی
وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭

سید علی گیلانی، حریت کانفرنس اور جذبہ¿ حریت

عارف بہار
سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے گویا کہ کشمیر کی سیاست کے تالاب میں تادیر جاری رہنے والا ارتعاش پیدا کر دیا ۔ان کے خط میں اس فیصلے کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں اور سوشل میڈیااور اخبارات میں اس فیصلے کے مضمرات واثرات پر تجزیوں اور بحث کا نہ تھمنے والا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔کسی کو اس میں تقسیم کشمیر کی بو نظر آرہی ہے کسی کو اس فیصلے کے پیچھے سیدعلی گیلانی کی کوئی اور ناراضگی جھلکتی دکھائی دے رہی ہے ۔ کچھ آوازیں تو یہ بھی اُ ٹھ رہی تھیں کہ سید علی گیلانی انتہائی علیل اور نجانے کس ذہنی کیفیت میں ہیں اور ان کے گرد چند افراد ا یک گروہ سید علی گیلانی کے نام پر فیصلے کر رہا ہے اور ان کا حریت کانفرنس سے الگ ہونے کے اعلان پر مبنی خط بھی ایسی ہی واردات ہے ۔سید علی گیلانی کے ایک عزیز نے بتایا کہ کہ وہ بستر علالت پر ضرور ہیں مگر ان کی ذہنی حالت صحت مند لوگوں سے زیادہ بہتر ہے اس لئے ان کو بے خبری میں رکھ کر فیصلے کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔سید علی گیلانی نے مختصر آڈیو پیغام جار ی کرکے اس خط اور اس کے مندرجات کو مکمل اون کر کے پھیلائی جانے والی خبروں اور تاثر کی نفی کی ۔
سید علی گیلانی کشمیر کی مزاحمت کے سب سے مقبول اور سب سے سربرآوردہ قائد ہیں ۔ نائن الیون کے بعد تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں یوں لگ رہا تھا کہ کشمیر میں عسکریت کا دور اختتام کو پہنچنے والا ہے ۔کشمیر میں عسکریت کی جگہ ”پیس پروسیس “ اور ”ہیلنگ ٹچ“جیسی اصطلاحات کا چرچا تھا اور صاف دکھائی دے رہا تھا کہ یہ مہم اب کے کامیاب ہو گی اور کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی قابل عمل سمجھوتہ ہوجائے گا ۔جس میں کشمیر پر اقتدار اعلیٰ بھارت کا ہوگا مگر اس کے نیچے کشمیریوں کو نقل وحرکت کی آزادی ہوگی اور وہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور پاکستان اور بھارت کے درمیان آسانی سے آمدورفت جا ری رکھ سکیں گے ۔اس منصوبے کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی اور پاکستان میں جنرل مشرف بھی اس فارمولے کو قبول کر نے جا رہے تھے ۔اس منصوبے کو کشمیر کے اندر بھارت نواز کیمپ کی حمایت تو حاصل ہی تھی مگر حریت کانفرنس کے کیمپ سے بھی حمایت دلانے کی مہم جاری تھی ۔سید علی گیلانی نے جب یہ دیکھا کہ اس منصوبے میں کشمیر پر حتمی اقتدار اعلیٰ بھارت کا ہی رہنا ہے اور پاکستان کو اس صورت حال کو بادل نخواستہ سہی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہی ہے تو انہوں نے اس عالمی سکیم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کا مشکل فیصلہ کیا ۔انہوںنے خود کو ”پیس پروسیس “ سے الگ کر دیا اور یوں حریت کانفرنس دو دھڑوں میں بٹ گئی ۔سید علی گیلانی نے کشمیر ی عوام سے رجوع کر لیا اور انہوںنے اپنے موقف کی حمایت میں وادی کے طول وعرض میں عوام سے رابطہ شروع کیا ۔انہوںنے بچی کچھی عسکریت کی کھل کرحمایت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام ان کے گرد جمع ہوتے چلے گئے ۔وہ کسی جنازے کے جلوس میں ہوں یا کسی گھر میں تعزیت کررہے ہوں نوجوان پروانوں کی طرح ان کے گردجمع ہوتے چلے جاتے ۔سیدعلی گیلانی نے کشمیری نوجوانوں کے جذبات کی زیادہ شدت سے ترجمانی شروع کی اور یوں وہ کشمیر کی فضا میں آگ لگا دینے والے لیڈر کی حیثیت سے اُبھرے ۔اس کے باوجود میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک بھی اپنے اپنے حلقہ ہائے اثر پر گرفت قائم رکھے ہوئے رہے۔سیدعلی گیلانی نے اس نازک دور میں بہت جرا¿ت کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کی ترجمانی کی اور یہاں تک کہ جنرل مشرف کی رخصتی کے ساتھ ہی عالمی سکیم بھی وقتی طور پر ناکام ہوگئی ۔ دہلی میں جنرل مشرف کے ساتھ سید علی گیلانی کی ایک ملاقات شدید تلخی اور توتکار کے ساتھ اختتام کو پہنچی تھی۔
رواں عشرے میں کشمیر میں جو نیا انقلاب اُبھرا اس میں سیدعلی گیلانی مرکزی حیثیت کے حامل تھے اوراس انقلاب میں حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے بے اثر ہو کر رہ گئے تھے اور ان کی جگہ تین بااثر سیاسی شخصیات سید علی گیلانی ،میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل ”مشترکہ مزاحمتی فورم“ نے سیاسی مزاحمت کی کمان سنبھال لی ۔یہ حریت کانفرنس کی جگہ ایک نئے فورم کا ہی اُبھار تھا اور اس میں جماعتوں کی بجائے تین شخصیات کی اہمیت تھی۔مشترکہ مزاحمتی فورم نے برہان وانی کی شہادت کے بعد کے حالات پر اپنا کنٹرول قائم کیا۔پانچ اگست کے بعد بھارت نے کشمیر کی ساری قیادت کو جیلوں میں ڈال کر بے اثر کر دیا ۔سید علی گیلانی دس سال سے نظر بندی کا شکار ہیں ۔محمد یاسین ملک کو جن مقدمات میں پھنسایا گیا ہے انہیں دوسرا مقبول بٹ اور افضل گورو بنانا نہایت آسان ہے ۔میرواعظ ایک بڑ دینی اور سماجی نیٹ ورک رکھتے ہیں ۔جامع مسجد ان کا مرکز ہے اور جامع مسجد کو خاردار تاروں میں محصور کرکے اور تالہ بندی کر کے بھارت نے میرواعظ کے خلاف آخری انتہا تک جانے کا اشارہ دیا ۔یہ کشمیر میں اُبھرنے والی یکسر نئی صورت حال ہے جہاں کوئی اصول ،قاعدہ ضابطہ نہیں بلکہ طاقت ہی آخری زبان ہے۔حریت کانفرنس تیزی سے کشمیر کے حالات میں غیر متعلق ہو کررہ گئی ہے۔ایسے میں سید علی گیلانی کا اس ٹریڈ مارک سے الگ ہونا اچنبھے کا باعث نہیں ۔حریت کانفرنس سے الگ ہونے کا مطلب تحریک آزادی سے الگ ہونا نہیں ۔سید علی گیلانی تحریک کا معتبر حوالہ ہیں اور رہیں گے ۔انہوںنے ایک نازک دور میں مزاحمتی تحریک کی قیادت کرکے شاندار کردار ادا کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے اپنا نقش قدم چھوڑا ہے۔وہ کشمیریوں کے مقبول جذبات کے ترجمان ہیںاور رہیں گے ۔ سیاسی اتحادوں کا بننا ٹوٹنا اس راہ میں معمول کی سرگرمی ہوتی ہے ۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

شکریہ….جنوبی پنجاب کیلئے انتظامی اختیارات کا نظام

پیارے پڑھنے والے! جو حضرات اور خواتین ”خبریں“ کے مسلسل قاری ہیں ان کے ذہن میں یہ بات یقیناً ہو گی کہ میں نے اور ادارہ ”خبریں“ نے جنوبی پنجاب کے مسائل کے حل کے لیے کتنا کام کیا ہے اور وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کو ہم ایک مدت سے سامنے لا رہے ہیں۔ اسی لیے جنوبی پنجاب میں ”خبریں“ سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ ہم نے ان لوگوں کو ”اون“ کیا تو سچ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے بھی ہمیں ”اون“ کیا۔ میں آج کل لاہور میں رہتا ہوں اور لاہور کے علاوہ کراچی، ملتان، اسلام آباد، مظفر آباد آزاد کشمیر اور پشاور سے اخبار نکالتا ہوں۔ سندھی اخبار خبرون کراچی سے چھپتا ہے اور مجھے اپنی جائے پیدائش گڑھی یاسین ضلع شکار پور کی یاد دلاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کر کے میں بہاولنگر آیا۔ کچھ فاصلے پر ہارون آباد میں میری زمین تھی جو اخبار نکالنے کے باعث فروخت ہو گئی لیکن بہاولنگر میں شہر سے قریب ہی میرے ماموں اور نانا کی زمین اور گھر تھا۔ بہاولنگر میں بھی ہم انہی کے گھر میں رہتے تھے۔ امروکہ سے لے کر سابق ریاست بہاولپور کے آخری سٹیشن تک جا بجا ہمارے عزیز رشتہ دار موجود ہیں بہاولنگر کے بعد میٹرک میں نے ملتان سے کیا۔ آج بھی ان علاقوں سے گہرا رشتہ ہے کیونکہ بچپن اور لڑکپن یہیں گزرا۔ بعد میں پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لاہور آیا اور دوران تعلیم ہی صحافت میں آ گیا۔ یہ مختصر روداد اس لیے سنائی کہ میری پیدائش سندھ کی ہے ،اصل گھر جالندھر مشرقی پنجاب میں تھا لیکن نشوونما اور میٹرک تک تعلیم میں نے جنوبی پنجاب میں پائی۔ مجھے اس علاقے سے پیار ہے۔ یہاں میرا بچپن اور لڑکپن گزرا ہے۔ میں پنجابی بولنے والا ہوں لیکن سرائیکی مجھے بہت اچھی لگتی ہے اور سرائیکی کا مشاعرہ ”خبریں“ ہر سال کرواتا ہے جو 6,6 گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔
میں نے لاہور کے بعد ملتان ایڈیشن شروع کیا تھا اوراس علاقے ہی سے مظلوموں اور محروموں کی طرف سے بطور خاص مجھے بہت پذیرائی ملی لیکن میں نے ہمیشہ دیکھا کہ یہاں سے وزیر بنتے تھے ،وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنتے تھے، گورنر تو اکثر جنوبی پنجاب کا ہوتا تھا مگر لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے درخواستیں لے کر 14,14 گھنٹے سفر کر کے لاہور آنا پڑتا تھا۔ الگ صوبے کی تحریک شروع ہوئی تو پہلے یہ سننے میں آیا کہ نئے صوبے کا دارالحکومت ملتان ہو گا ،پھر بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان کے تین اضلاع یعنی سابق ریاست بہاولپور میں یہ تحریک پھیل گئی کہ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد مغربی پاکستان میں بہاولپور کو الگ صوبہ بنایا جائے، یہ تحریک ابھی تک چل رہی ہے۔ ادھر ملتان میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ بہاولپور بھی ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان کی طرح ہمارا سرائیکی علاقہ ہے۔ اس لیے جنوبی پنجاب میں ایک ہی صوبہ ہونا چاہیے۔ اب میں لاہور میں ہوں اور یہاں کا ووٹر ہوں اس لیے ملتان یا بہاولپور میں سے کون سا صوبہ ہونا چاہیے، میرا پختہ یقین ہے کہ یہ مسئلہ عوام کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ ایم پی اے، ایم این اے حضرات فیصلہ کریں یا پھر ریفرنڈم کروا لیا جائے۔ یہ پڑھے لکھے اور جمہوری حقوق سے آشنا لوگوں کا ملک ہے ،جو اکثریت چاہے وہی فیصلہ ہونا چاہیے۔
میں یہاں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا شکریہ ادا کروں گا کہ وہ بھی اس غیر ضروری بحث میں نہیں پڑے اور جنوبی پنجاب کی حکومت سردست انتظامی اختیارات کے حوالے سے انہوں نے ملتان اور بہاولپور میں تقسیم کر دی ،یعنی جنوبی پنجاب کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایک شہر میں ہو گا اور ایڈیشنل آئی جی پولیس دوسرے شہر میں ،بہر حال عملی طور پر اختیارات اب لاہور سے ملتان اور بہاولپور منتقل ہو گئے ہیں لہٰذا ازراہِ مذاق کہہ رہا ہوں کہ اب ”اساں قیدی تخت لاہور دے“ والی نظم مزید فوٹو سٹیٹ کر کے نہ تقسیم کی جائے ،اگر آپ کے حقوق اور مالیاتی فنڈ واپس لاہور میں منگوا لیے جاتے تھے تو یہ سابق حکمرانوں کا غلط فیصلہ تھا۔
جنوبی پنجاب کے مسئلے کا اصل حل تو یہ ہے کہ نیا صوبہ بنایا جائے یا اگر لوگ اصرار کریں تو دو صوبے بنا دیئے جائیں تا کہ لوگوں کو دور دراز کا سفر طے کر کے لاہور نہ آنا پڑے۔ مثال کے طور پر اگر رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں کسی استانی کا بھی کوئی مسئلہ ہے تو کام اس کا لاہور ہی سے ہو گا، فاصلہ ملاحظہ کریں ۔اسی طرح ڈیرہ غازی خان سے بھی چل کر ضرورت مندوں کو لاہور ہی آنا پڑتا تھا، اب پولیس کے معاملات ہوں تو ایڈیشنل آئی جی ان سارے ضلعوں کا انچارج ہو گا جو جنوبی پنجاب میں آتے ہیں اگر باقی محکموں کے انتظامی معاملات ہیں تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری آخری فیصلہ کرے گا، گویا تخت لاہور کی غلامی سے انہیں نجات مل گئی۔ اس آزادی پر میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مدت سے رُکا ہوا فیصلہ کر کے مستقبل کے لیے راستے صاف کر دیئے۔
جہاں تک نئے صوبے کا تعلق ہے آئین میں اس کے لیے طریقہ کار درج ہے۔ آئین کے آرٹیکل میں واضح ہے کہ پاکستان کے چار صوبے ہوں گے۔ پنجاب ،سندھ ،سرحد (اب خیبرپختونخوا)، بلوچستان ،ظاہر ہے کہ آپ کو اب ایک یا دو صوبے اور بنانے ہیں تو اس کے لیے پہلے پنجاب کی صوبائی اسمبلی یہ قانون منظور کرے گی پھر وفاقی اسمبلی آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ سینٹ سے اس کی منظوری لینی ہو گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آج کل سیاسی محاذ آرائی کا دور ہے جو حکومت کہے گی وہ اپوزیشن نہیں مانے گی۔ قومی اسمبلی میں حکومت کی اکثریت ہے تو سینٹ میں اپوزیشن تگڑی ہے۔ آئین میں ترمیم تو ایسے حالات میں ہو سکتی ہے جب ساری بڑی جماعتیں متفق ہوں یا کم از کم زیادہ کا اتفاق ہو لیکن میں ملتان چھوڑ کر برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں مگر بہاولنگر ،ملتان سے میرا گہرا رشتہ ہے۔ معلوم نہیں پرانے سیاستدان جو جنوبی پنجاب سے آئے اور جنہوں نے لاہور ،اسلام آباد میں گھر بنا لیے انہوں نے اس علاقے کے عوام کا کیوں نہیں سوچا؟ جتنی غربت، بیروزگاری، بدانتظامی، لوٹ کھسوٹ جنوبی پنجاب میں ہے، لاہور،گوجرانوالہ، راولپنڈی میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ پینے کو پانی نہ علاج کی معقول سہولت، سکول کم ہیں لہٰذا جگہ جگہ لوگوں نے پرائیویٹ اکیڈمیاں بنائی ہوئی ہیں۔ نشتر ہسپتال ملتان میں وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں اور ایک بڑا ہسپتال رحیم یار خان میں ہے۔ بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں پٹرول کا ٹرالہ الٹ گیا تھا اور پٹرول دور دور تک پھیل گیا تھا۔ قریبی آبادی سے غریب لوگ برتن لے کر پٹرول جمع کرنے آئے تو کسی بدبخت نے سگریٹ سلگانے کے لیے دیا سلائی روشن کی، فضاءمیں پٹرول کی اس قدر بُو تھی کہ پورے علاقے میں آگ لگ گئی ،کتنے ہی لوگ اس آگ میں جل کر ختم ہو گئے اور جو بچ گئے ان کے لئے بہاولپور ہسپتال میں برن یونٹ نہیں تھا، یعنی آتشزدگی کا علاج کرنے کا سیکشن۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے جلے ہوئے مریضوں کو ملتان اور کچھ کو لاہور پہنچایا ،اسی دور میں معلوم ہوا کہ شہبازشریف کی حکومت میں بہاولپور کے لئے برن یونٹ منظور ہوا تھا لیکن پھر حکومت نے یہ فنڈ واپس منگوا کر کسی اور جگہ خرچ کر دیا۔ لاہور میں میٹروبس بھی ہے جس کے جنگلے بہت مشہور ہیں ،اب تو نامکمل اورینج ٹرین بھی ہے نہ جانے اورنج ٹرین کب مکمل ہو گی کہ منصوبہ ادھورا پڑا ہے لیکن ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر کی تو بہت خستہ حالت ہے۔ خدا کرے کہ نئے نظام میں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں سے جنوبی پنجاب کے ایک یا دو صوبوں کے لئے علیحدہ رقم مخصوص کی جائے، وہ رقم وسطی یا شمالی پنجاب میں خرچ نہ ہو سکے۔ جنوبی پنجاب میں غربت ہی نہیں، جہالت بھی کافی ہے۔ صنعتیں گنتی کی ہیں، روزگار کے مواقع موجود نہیں، سرکاری نوکریاں ملتی نہیں یا پھر جس کی ہمت ہوتی ہے وہ لاہور سے تقرری کرواتا ہے۔
پاکستان ایک وفاق ہے ،وفاق کی ہر اکائی کو منصفانہ حقوق ملنے چاہئیں۔ آپ صرف اسلام آباد اور لاہور کو چار چاند نہیں لگا سکتے جبکہ باقی علاقوں میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو۔ امید کی جاتی ہے کہ پاکستان میں ایک دن نئے صوبے بھی بنیں گے اور ہر صوبے کے اندر بھی فنڈز کی تقسیم ضلع اور تحصیل وار ہو گی یعنی جتنی آبادی جہاں ہے اتنے فنڈز اس وقت تک کے لیے صوبہ نہ سہی ملتان اور بہاولپورکو صوبے کے اختیارات بذریعہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کا تجربہ پیش ہے۔ راقم الحروف اور ادارہ ”خبریں“ نے اس مقصد کے لئے بڑی جدوجہد کی ہے، ہمیں آپ کی دُعاﺅں کی ضرورت ہے اور ہماری دُعائیں آپ کے ساتھ ہیں کہ آپ کے مسائل اب جنوبی پنجاب ہی میں حل ہونے لگیں گے۔ اس نئے تجربے کو کامیاب بنانے کے لئے رشوت، اقربا پروری، دھونس اور دھاندلی سے گریز کرنا ہو گا اگر ایڈیشنل چیف سیکرٹری اورایڈیشنل آئی جی طے کر لیں تو اس علاقے کے لوگوں کو کچھ راحتیں مل سکتی ہیں۔
٭٭٭

تبدیلی کاسفر

عظیم نذیر
تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے۔ الیکشن سے پہلے میرے کپتان کا یہ پسندیدہ نعرہ تھا اور کپتان نے جو کہا کرکے دکھایا۔ اب اگر جائزہ لیں تو ہر چیز تبدیل ہوچکی ہے اور تو اور ریاست مدینہ کا تصور بھی تبدیل ہوکر رہ گیاہے۔ کپتان کے مشیروں کو سارا کریڈٹ جاتا ہے جن کی دن رات کوششوں سے ان تبدیلیوں کا راستہ کھلا۔ سلام ان وزیروں کو جو ایک دوسرے کی جانب سے لائی گئی تبدیلیوں سے عوام کو بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ خود وزیراعظم نے یہ کہہ کر میرے سوا کوئی چوائس نہیں ملکی سیاست ہی تبدیل کر دی۔ اپوزیشن کو بجٹ منظوری کے معاملے میں ہی پتہ چل گیا کہ وقت صرف بڑھکیں مار کر ہی گزارنا پڑے گا کیونکہ بجٹ منظوری کے دن سے ایک روز پہلے اپوزیشن کی دھواں دھار پریس کانفرنس سے لگتا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہوجائے گا لیکن بجٹ منظوری کا معاملہ شور شرابے اور احتجاج کے دوران ہی حل ہوگیا۔ گوبجٹ اسمبلی نے منظور کرلیا ہے لیکن واقفان حال کئی باتوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں جو ان کے خیال میں بجٹ پاس ہونے کے بعد ظہور پذیر ہوں گی۔ جیسے ان کا کہنا ہے صنعتکاروں کو مزید مراعات اور ٹیکس رعایتیں دی جائیں گی‘ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے انجینئرنگ سروسز کا انکم ٹیکس 8 فیصد کی بجائے 3 فیصد کردیا جائے گا۔ 3 فیصد رعایتی شرح کا اطلاق ویئر ہاﺅسنگ سروسز‘ اسٹیٹ مینجمنٹ کمپنیز کی خدمات اور ڈیٹا سروس فراہمی پر بھی ہوگا جبکہ میوچل فنڈز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 25 فیصد کی بجائے 15 فیصد رکھی جائے گی۔ بجٹ کے بعد سرمایہ داروں کو رعایتیں ملیں گی اور غریب‘ تنخواہ دار اور مزدور پرانی اجرت پر ہی کام کریں گے لیکن ہر روز اشیاءکی پچھلے دن سے زیادہ قیمت ادا کریں گے اور ممکن ہے کہ ان کے صرف پیٹ بھرنے میں اتنے پیسے خرچ ہونے لگیں کہ وہ اپنی باقی تمام ضروریات کو پس پشت ڈال دےں اور انہیں دوا دارو‘ کپڑا لتا اور بچوں کی تعلیم تک نظرانداز کرنا پڑے۔
سٹیٹس کو کے حامی‘مافیاز اور اشرافیہ جو حالات کو اس نہج پر پہنچا نے کے ذمہ دار ہوں گے وہ ابھی تک یہ نہیں سوچ رہے کہ اس صورتحال کا ردعمل ان کیخلاف ہوگا حکومت کیخلاف نہیں۔ اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کیونکہ عوام پر دباﺅ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ عوام پر آنے و الے دباﺅ کا رخ ابھی حکومت کی طرف ہے لیکن اب وہ سمجھنے لگے ہیں کہ حکومت بھی اشرافیہ کے سامنے بے بس سی ہے کیونکہ سٹیٹس کو کے حامی ہر تبدیلی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ سرمایہ داروں کا مقصد صرف پیسے جمع کرنا ہوتا ہے عوام نچڑ جائیں گے تو سب سے پہلے سرمایہ دار کے گریبان کو آئیں گے۔ بھوک سارے آداب بھلا دے گی اور مجبور مزدور مالکان کی پاکٹ پونینز کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے اور یہیں سے اصل اور حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوجائے گا۔ تبدیلی ہمیشہ نیچے سے آتی ہے کیونکہ اس کیلئے عوامی شعور کی ضرورت ہوتی۔ سرمایہ دار بے شعور عوام کو اپنی انگلیوں پر نچاتا ہے مزدور ناچتا چلا جاتا ہے لیکن وہ اپنے ساتھ ہونیوالی نا انصافیوں سے سبق سیکھتا ہے اور ان نا انصافیوں کا سبق نسل درنسل منتقل ہوتا رہا ہے اور عوام کو جاہل رکھنے کیلئے اشرافیہ کی بے پناہ کوششوں کے باوجود وقت کے ہاتھوں وہ باشعور ہوجاتے ہیں اور اشرافیہ کا زور ٹوٹنے لگتا ہے لیکن مکمل تبدیلی کیلئے پھر بھی طویل عرصہ چاہیے کیونکہ تبدیلی کوئی ٹی وی چینل نہیں ہوتی۔
حکومتوں میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے لیکن موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے اس کے حصے میں اونچ نہیں آسکی۔ حکومت تھوڑا اوپر چڑھنا شروع کرتی ہے تو اشرافیہ‘ مافیا اور سرمایہ دار خطرہ سمجھتے ہوئے اسے نیچے کھینچنے کیلئے عجیب وغریب شوشے چھوڑ دیتے ہیں۔ماضی کی کئی حکومتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا کیونکہ مضبوط جمہوریت مضبوط حکومت اور مضبوط لیڈرشپ اشرافیہ کو سوٹ ہی نہیں کرتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے اشرافیہ موجودہ حکومت کا متبادل نہ ملنے کی سزا عوام کو دے رہے ہیں‘ متبادل ملے بھی کیسے اشرافیہ کی شرائط پر بدترین معاشی بحران میں کوئی اپنی سیاست ختم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دوسری طرف عوام چکی کے تین پاٹوں(اشرافیہ‘ مافیاز اور حکومت) کے درمیان پس رہے ہیں۔ ابھی تک بےشک عوامی ردعمل حکومت کی طرف ہے۔ اگر اشرافیہ حکومت تبدیل نہ کراسکے تو عوامی ردعمل کا رخ اشرافیہ کی طرف ہوسکتا ہے۔ حکومت بھی اگر سمجھ داری کا مظاہرہ کرے اور عوام کو بتائے کہ اس کے ہاتھ کہاں کہاں بندھے ہوئے ہیں اور جو پیسہ پچھلے دو سال میں جمع ہوا وہ کہاں خرچ ہوا پھر عوام کیلئے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا کہ ان کا دشمن کون ہے اوراس بات کا قوی امکان ہے کہ عوام سمجھ جائیں گے کہ سالہا سال سے ان کے ساتھ ہاتھ کہاں سے ہو رہا ہے۔ خون چوسنے والی جونکوں کی صرف نشاندہی نہ کریں بلکہ انہیں کھینچ کر ملک سے الگ کریں۔ گو ابھی تک بات صرف نشاندہی تک رکی ہوئی ہے کیونکہ شور مچا ہوا ہے کہ کسی کو سزا ملی نہ کوئی پیسہ ریکور ہوا۔ مقصد صرف حکومت پر اتنا دباﺅ ڈالنا ہے کہ وہ خود ہی بھاگ جائے اور سٹیٹس کو کے حامیوں سے مل کر ایک نیا این آر او تشکیل دے دے اور تبدیلی کی کوششوں کو بھی گڈ بائے کر دے تو پھر سب اچھا ہی اچھا نظر آئے گا۔ موجودہ حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ چاہتے ہیں حکومت میں مائنس ون کر دیا جائے لیکن یہ نہیں جانتے کہ عمران خان مائنس بھی کر دیا جائے تو جو بھی آئے گا وہ بھی انہیں نہیں چھوڑے گا۔ یعنی وہ اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ سٹیٹس کو توڑ کر رہیں گے۔ جون ایلیا کاایک شعر ہے
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
مشکل ترین حالات میں بھی اپنا وجود برقرار رکھنے والی حکومت کمزور نہیں یہ بات سب کو سمجھ لینی چاہئے‘ یہ بات اشرافیہ‘ سرمایہ دار اور مافیاز کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آنے والے وقت میں حکومت پر دباﺅ بڑھانے کیلئے کئی منفی حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ عوام ان پر یقین بھی کر لیں گے کیونکہ انہیں تبدیلی ابھی کہیں نظر نہیں آ رہی لیکن تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے اتنی جلدی تو کوئی انقلاب بھی نہیں آ سکتا۔ ممکن ہے اس حکومت کے دور میں ان کے ٹارگٹ کے مطابق کوئی تبدیلی نہ آ سکے لیکن کئی معاملات میں وہ ایسی بنیاد رکھ جائے گی جو حقیقی تبدیلی کی بنیادثابت ہوگی۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭

آن لائن گیمنگ خودکشیوں کا سبب بننے لگی!

عرفان علی سیال
پاکستان میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے استعمال کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے ۔ انٹرنیٹ پاکستان میں1992 ءسے دستیاب ہے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائڈر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ذریعہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ، پاکستان میں انٹرنیٹ کی شروعات1992-93 ءمیں عمران نیٹ کے ذریعہ فراہم کردہ ایک ڈائل اپ ای میل خدمت کے ساتھ متعارف کروائی گئی تھی۔ اس ڈائل اپ ای میل منصوبے کی کامیابی کے بعد ، 1993 ءمیں اسلام آباد میں پائیدار ترقیاتی نیٹ ورکنگ پروگرام کے نام سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا۔ یہ خود کفایت شعار منصوبہ ڈائل اپ فراہم کرتا تھا ۔ آخر کار بہت سارے ترقیاتی نیٹ ورکنگ پروگرام کے ابھرنے کی وجہ سے اس پروگرام میں دلچسپی کم ہوگئی۔ کراچی میں ڈجی کام کے نام سے ایک کمپنی قا ئم ہوئی جس نے ابتدا میں کراچی، لاہور ، فیصل آباد ، اسلام آباد اور پشاور کو ای میل سروس فراہم کی اور پھر کراچی میں انٹرنیٹ بھی متعارف کرایا۔ آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں انٹرنیٹ کی خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ اب کوئی بھی معلومات کسی بھی انسان کی دسترس سے دور نہیں ہے۔
اگر دیکھا جائے تو دنیا میں بھی انٹرنیٹ کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ 1962 میں ایک سائنسدان جے سی آر لائک نے اس کی بنیاد انٹرگلیکٹک نامی نیٹ ورک بنا کر رکھی۔ دراصل یہ ایک ایجنسی سے تعلق رکھتے تھے ، جس کا اولین مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے ہر طرح کی معلومات تک رسائی دینا ممکن بنانا تھا۔ بس اس خواب کو لے کر جے سی آر لائک میدان میں اتر گئے۔ ان کے 2بیٹے وینٹ کرف اور بوب کھین، جنہوں نے 1974ءمیں انٹرگلیکٹک نیٹ ورک کا نام انٹرنیٹ رکھ دیا۔ اگرچہ پاکستان میں انٹرنیٹ کا زیادہ تر استعمال تفریحی اور تعلیمی مقاصد یا پھرخبروں کے حصول کےلئے کیا جاتا ہے لیکن کرونا وباءکے باعث اب بہت سارے کاروبار بھی آن لائن ہو رہے ہیں، جہاز یا ریل گاڑی کی ٹکٹیں لینے ،لائبریری سے کتابیں نکلوانے، سرکاری محکموں کے خلاف شکایت درج کروانے اور خریداری کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے ۔ انٹرنیٹ استعمال کرنا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال اچھی بات نہیں ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض آن لائن گیمز کی وجہ سے اب ہمارے نوجوان جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ تشدد کو فروغ دینے والی گیمز کے باعث نوجوانوں میں خودکشی کرنے کا رجحان بڑھنا ایک افسوک ناک اور تشویش ناک عمل ہے۔ یہ گیمز ایک نشے کی طرح ہیں جس کی لت لگ جاتی ہے اس لیے والدین اور بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اوپر اختیار رکھتے ہوئے ایسی گیمز زیادہ نہ کھیلیں۔ ماضی قریب میں دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کا ویڈیو گیمز کھیلنا پسند نہیں کیا جاتاتھا۔ آج سے چند سال پہلے جب کمپیوٹر ہر گھر میں عام نہیں ہوا تھا تو مارکیٹوں میں موجود ویڈیو گیمز کی دکانوں میں موجود نوجوانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا اور والدین بھی چاہتے تھے کہ ان کا بچہ یہاں مت جائے۔ والدین کی بچوں کو ویڈیو گیم آرکیڈ میں جانے سے روکنے کی کئی وجوہات تھیں اور ان میں سے بیشتر وجوہات جائز بھی تھیں مگر بدقسمتی سے اس وجہ سے ویڈیو گیمز کے حوالے سے معاشرے میں ایک منفی تاثر پھیل گیا۔ ہمارے ہاں جنگی مشن اور لڑائیوں سے بھرپور ویڈیو گیم پب جی حقیقت میں جانیں نگلنے لگی ہیں۔ لاہور پولیس کے مطابق شہر میں گزشتہ چند روز میں کئی نوجوانوں نے ویڈیو گیم پب جی کھیلنے سے منع کرنے پر خودکشی کر لی ، جس کے بعد پولیس کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسی تمام پرتشدد گیمز اور آن لائن پیجز کو بلاک کرنے کے لیے پی ٹی اے کو درخواست دی جائے گی۔ لاہور کی ملتان روڈ کے رہائشی، 16 سالہ نوجوان نے خودکشی کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس کے والدین نے اسے آن لائن گیم کھیلنے سے منع کیا اور اس نے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کر لی۔خودکشی کرنے کے بعد بھی اس کے موبائل پر پب جی گیم چل رہی تھی۔اس واقعہ سے دو روز قبل بھی شہر کے ایک اور20 سالہ نوجوان نے اسی گیم کی وجہ سے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر اپنی جان لے لی تھی۔ آن لائن گیمز کی وجہ سے بہت سے گھر اجڑ چکے ہیں اور بہت سے اجڑ سکتے ہیں۔ گھروں میں تلخیاں چل رہی ہیں۔ جس طالب علم کے پاس موبائل ہے اور اگر وہ اس سے فری فائر یا یہ گیم کھیل رہا ہے تو اس کا مستقبل خطرے میں ہے۔ آپ خود ہی سوچیں ایک بچہ جو اپنے ماں باپ کے بلانے پر انہیں لفٹ کرانے کو تیار نہیں کھانا سامنے پڑا ہے مگر کھانے کو تیار نہیں سکول کالج کا کام مکمل کرنا ہے لیکن وہ کتابوں کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں وہ زندگی میں آگے چل کر کیا کرے گا؟ ہر وقت گیم میں مار دھاڑ اور گولیاں مارنے سے اس کے دل میں نفرت اور غصے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جن میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ایسے بہت سے بچوں میں اسلحے کے استعمال کا شوق پیدا ہوتا ہے اور وہ حقیقت میں یہ سب کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے گیم میں دیکھا ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات اپنی ہی گولی کا خود ہی شکار ہو جاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ویڈیو گیمز پر گھنٹوں بیٹھنے سے نہ صرف آپ کے دماغ پر اثر پڑتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ آپ کی جسمانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ مگر کسی بھی چیز کے استعمال کی زیادتی نقصان دہ ہے۔ اس میں صرف ویڈیو گیمز ہی نہیں۔ یہی حال سوشل میڈیا کا بھی ہے۔میرا انتظامیہ سے یہ مطالبہ ہے وہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات کریں اس سے پہلے بھی سیلفی اور ٹک ٹاک کے زیادہ استعمال سے کئی قیمتی جانیں جا چکی ہیں۔ لیکن پاکستان میں گذشتہ کئی ماہ سے لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ایسے واقعات میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
(کالم نگار مختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

آخری چوائس

کامران گورائیہ
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور اقتدار کا دوسرا وفاقی بجٹ با آسانی قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا ہے۔ حکمران جماعت کے پیش کردہ بجٹ کو اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ بھی مانگ لیا۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے وفاقی بجٹ میں بحث کے دوران حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی آپس میں دست و گریبان رہے۔ بجٹ کی اس بحث میں حکمران جماعت انتشار کا شکار بھی نظر آئی اور چند اراکین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے بالواسطہ طور پر اپنی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا، یہی نہیں بلوچستان نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والی حکومت کی اتحادی جماعت ق لیگ نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کو اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کرنا پڑا ۔اس کے دو بہت ہی خاص پہلو تھے ایک یہ کہ حکمران جماعت کی اہم اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم کے عشائیے میں شرکت نہیں کی بلکہ ق لیگ نے اسلام آباد ہی میں الگ سے اپنے ہم خیال سیاسی نمائندوں کے لئے عشائیے کا اہتمام کیا جس کا ایک مطلب احتجاج رجسٹرڈ کروانا تھا اور دوسری بات اپنی پاور شو کرنا تھا ۔ ق لیگ کے چوہدری برادران اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے کیونکہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے چوہدری برادران کو عشائیے میں شرکت کے لئے قابل کرنے کیلئے رابطہ کیا تو وزیراعظم کا یہ پیغام بھی دیا کہ وہ چوہدری مونس الہی کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے سے متعلق سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اس پیش کش کا نتیجہ تھا کہ حکومت اتحادی جماعتوں کے تعاون سے وفاقی بجٹ منظور کروانے میں کامیاب ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیئے گئے عشائیے کی دوسری خاص وجہ ان کا شرکا سے خطاب تھا جس میں انہوں نے کہا کہ وزارت عظمی کے لئے ان کے سوا کوئی دوسری چوائس موجود نہیں ہے۔ عمران خان کے اس بیان نے بہت سی سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ خود سے اسمبلیاں توڑ دیں گے، استعفیٰ دیں گے نا گھر جائیں گے بلکہ ڈٹ کر وقت کے حالات اور مخالفین کا مقابلہ کریں گے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنے اقتدار کی آئینی مدت پوری کرے گی۔
وزیراعظم کے خطاب میں استعمال کیے گئے الفاظ کا مطلب یہ بھی تھا کہ اتحادی جماعتوں کو بدگمان ہونے اور دوسرے سیاسی گھونسلوں کی طرف اڑان بھرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں پر آمریت کا دور دورہ رہا ہو یا جمہوری ڈکٹیٹر شپ کی ریل پیل، ہر عروج کو زوال آیا اور بہت سے حکمران تو ایسے بھی ہیں جو آج کی نوجوان نسل کو یاد ہی نہیں ہوں گے۔ قائد ملت لیاقت علی خان سے لیکر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو سے لیکر ہیوی مینڈیٹ کا اعزاز حاصل کرکے وزارت عظمی کے منصب پر براجمان ہونے والے میاں نوازشریف، فیلڈمارشل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور پرویز مشرف جیسے آمر حکمرانوں تک نے سوچ لیا تھا کہ وہ ہیں تو یہ ملک ہے، وہ نہیں تو کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن قدرت کی کرشمہ سازی کا کمال ہے کہ آج کرسی کی مضبوطی کا دعوی کرنے والے ہیں نا ہیوی مینڈیٹ کوئی اقتدار میں رہا نا ہی بچا ہے ۔تو یہ ملک اور یہاں کے عوام جن کو ہمیشہ سے غربت، افلاس، مہنگائی، بے روز گاری اور پسماندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور پچھلے دو برسوں کے دوران عوام کو دلائی گئی نئے پاکستان کی امید بھی دم توڑ گئی ہے لیکن وزیراعظم کا فرمانا ہے کہ ان کے سوا کوئی چوائس نہیں ہے۔اس بیان کے ردعمل میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم سے فوری طور پر استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور احسن اقبال نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت نے اپنی نالائقی، نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے کے قریب کا اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی آج عوام کی قوت خرید سے باہر ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ضرورت تو یہ تھی کہ وزیراعظم قومی اسمبلی میں آئے تھے، تو کہتے کہ میں نے معیشت کو تباہ کردیا ہے، میں ٹیکس اکٹھے نہیں کرسکا، معیشت کو نہیں بڑھا سکا اور میرے پاس واحد راستہ ہے کہ آپ کے اوپر بوجھ ڈالوں اور پیٹرول پر ٹیکس کو 15 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 44 روپے 55 پیسے کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمت ہوتی تو وزیراعظم یہ بات کرتے ۔بات یہاں پر نہیں رکے گی کیونکہ حکومت معیشت کو بڑھانے، ٹیکس وصولی، معیشت کو سنبھالنے، صنعتوں کو بڑھانے، سرمایہ کاری کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ پیٹرول، ڈیزل پر ٹیکس بڑھائے اور عوام پر بوجھ ڈالے۔ رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہم یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے اور عوام کی عدالت میں یہ مقدمہ رکھ دیا ہے کہ اس حکومت کی ناکامیوں میں ایک اور اضافہ ہواہے کہ حکومت نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنی نالائقی، نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے۔ سابق وفاقی وزیرخواجہ آصف نے پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے ٹوئٹس کا حوالہ دیا اور کہا کہ وزیراعظم اگر اپنے ٹوئٹس پڑھ لیں تو اس فقرہ پر بھی غور کریں کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر جرا¿ت ہے تو عمران خان اس ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )اپنا نیا لیڈر چن لے تاکہ قوم کو اس شخص سے چھٹکارا ملے کیونکہ سارا پاکستان ان کی انا کی نذر ہوچکا ہے۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے لیے 30 جون کا بھی انتظار نہیں کیا، پاکستان کے عوام یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکےں گے۔ مسلم لیگ (ن )کے رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں سے مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے اور عوام کو اس ایک نکتے پر جمع کریں گے کہ مہنگائی کا یہ طوفان جو 2 سال سے چل رہا ہے اور اب سونامی کی شکل اختیار کرچکا ہے اس کے آگے بند باندھا جاسکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم عمران خان کی گذشتہ اجلاس میں تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم صاحب نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے دیا۔ یہ وہ اسامہ بن لادن ہے جس نے پاکستان کے شہریوں، پاکستان کے بچوں کو شہید کیا ، ہمارے فوجیوں کو شہید کیا ہے۔ ان کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو کے کیس سے لے کر کارساز اور 1993 میں رمزی یوسف پر قاتلانہ حملے تک کا الزام اسامہ بن لادن پر ہی ہے۔ یہ آدمی جن کو ہم وزیر اعظم کہتے ہیں، وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کو، مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم کو، جو دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئیں، یہ وزیر اعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید نہیں کہتے مگر اسامہ بن لادن کو شہید کہہ سکتے ہیں۔
اب جبکہ بجٹ منظور کیا جا چکا ہے لیکن آنے والے چھ ماہ بہت اہم ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان کابینہ اجلاس میں خود کہہ چکے ہیں کہ کارکردگی دکھانے کے لئے اب صرف چھ ماہ کی مہلت ہے اور حقیقت یہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس اب صرف 6 ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے جس کے بعد سلیکٹرز دوسری خواہش پر طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سماجی انصاف اور تبدیلی ….( 2)

جاوید کاہلوں
ہم جانتے ہیں کہ انگریزوں نے برصغیر پر بڑی تگ ودو سے قبضہ جمایا تھا۔ یہ برصغیر تب دنیا کیلئے ایک سونے کی چڑیا کہلاتا تھا۔ ندی نالوں اور قدرتی دریاﺅں کی اس سرزمین پر قدرتی دھن برستا تھا‘ انگریز قابض ہوگئے۔ اپنا نظام چلانے اور معاشرے میں امن وامان قائم کرنے کی خاطر انہوں نے لارڈ میکالے کا لکھا ہوا قانون نافذ کیا۔ اسے نافذ کرنے کےلئے ایک بہترین جوڈیشری اور انڈین سول سروس تشکیل دی اور ان اداروں نے بہترین امن وامان قائم کرکے سو برس سے اوپر ملکہ کے وائسرائے کو اتنا مضبوط کئے رکھا کہ اس نے ہر برس جی بھر کے انڈیا میں لوٹ مار کرکے برطانوی خزانے کو لبالب بھرے رکھا۔ ظاہر ہے کہ اگر کسی معاشرے میں سکون نہیں ہوگا تو ذرائع پیداوار سکڑ جائیں گے اور حکمران بھرپور لوٹ مار سے محروم ہوجائیں گے۔ سو انڈین سول سروس کے زیرانتظام مال وپٹوار اور کار سرکار کو اس طرح سے رواج دیا گیا کہ مقامی لوگ مطمئن رہتے اور قومی معاشی کارکردگی میں اپنا سیر حاصل کردار ادا کرتے رہتے۔ انگریزوں کے ہاتھوں ایسے ہی حسن انتظام کی وجہ سے آزادی کے برسوں بعد تک بھی کئی بوڑھے گوری گورنمنٹ کے انتظام وانصرام کی تعریف کرتے رہتے تھے۔
انگریزوں کی ایسی لوٹ مار تو ایک طرف رہی کہ وہ یہاں آئے بھی اس لئے تھے مگر ایسے ڈاکے ڈالتے وقت بھی وہ اپنے مفتوح علاقوں تک کیلئے ”سماجی انصاف“ والا رویہ سجائے رکھتے تھے۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ برطانیہ میں کوئی نہری نظام نہیں اور نہ ہی وہاں کی زمین ایسی قدرتی ہموار ہے۔ برصغیر میں سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت یہاں کے زراعت کے سیکٹر میں تھی۔ اپنی فیکٹریوں اور ملوں کے لئے انہیں خام مال یعنی کہ کپاس وغیرہ یہاں کی زمینوں سے بھی حاصل کرنا ہوتی تھی۔ اگر ان میں ”سماجی انصاف“ کی رمق نہ ہوتی تو وہ ہر حیلے بہانے سے یہاں کے کسانوں کا گلا دباتے رہتے اور ٹیکس وغیرہ کی شرح بڑھاتے رہتے مگر ایسا کرنے کی بجائے انہوں نے یہاں کے مقامی انجینئروں سے مل کر دنیا کا ایک بہترین نہری نظام وضع کر ڈالا۔ وسیع ریگستانوں اور غیرآباد علاقوں میں نہریں کھدوا کر لے گئے اور نئے ضلع آباد کرکے ان کی کروڑوں ایکڑ زمین کو سیراب کیا۔ اپنا خزانہ جی بھر کرفل کرلیا اور حکمرانی کے لوشے بھی لئے۔ اس طرح فاتح بھی خوش اور مفتوح بھی شاداں۔
اسی طرح سے ایک اور مثال ریل کے نظام کی بھی دی جاسکتی ہے۔ برطانوی حکومت کو سوویت یونین کےخلاف دفاع اور مقامی مصنوعات کو بندرگاہوں تک پہنچانے کیلئے ایک مربوط ریل کا نظام درکار تھا۔ انہوں نے اس طرح سے مقامی ہندوستانیوں کو ایک جدید ریلوے کے نظام سے روشناس کروا کر مقامی لوگوں کی نقل وحمل میں بے پناہ سہولت فراہم کی۔ اس کے بائی پراڈکٹ کے طور پر برصغیر کا دفاع بھی مضبوط ہوا اور ساتھ ہی برصغیر کے طول وعرض سے یہاں کی دولت اور ذخائر بھی بندرگاہوں تک آسانی سے پہنچنے لگے۔ اپنے ایسے منصوبوں کی تکمیل کیلئے انہوںنے جہاں راوی دریا کے بہاﺅ کے عین نیچے سے لاہور کے پاس بی آر بی نہر کو گزارنے کیلئے ایک سائفن ترتیب دی۔ اسی طرح سے کوئٹہ کو براستہ چمن قندھار کے ساتھ ملانے کیلئے شیلا باغ کے مقام پر دنیا کا آٹھواں عجوبہ تعمیر کیا۔ یہ اپنے وقت کے اونچے پہاڑ کو کاٹ کر ایک طویل ترین ریل کی پٹڑی کی سرنگ تھی جوکہ آج کل درہ بولان کے بند پر نہ صرف موجود ہے بلکہ اس پر ٹرین بھی چلتی ہے۔
کہنا یہ مقصود ہے کہ اگر معاشرے میں ”سماجی انصاف“ کے اصولوں کے تحت امن وامان قائم کیا جائے تو پھر فاتح اور مفتوح تک میں صدیوں نباہ ہوسکتا ہے جیسے کہ انگریزوں کے دور میں ہوا۔
بہرحال1947ءآیا تو برصغیر انگزیزوں سے آزاد ہوگیا۔ کچھ ریاستوں کے علاوہ پاکستان اور بھارت دونوں دنیا کے نقشے پر ابھر آئے۔ رفتہ رفتہ گوری عدالتوں اور گورے افسروں کی جگہ مقامی لوگوں کی تعیناتیاں شروع ہوگئیں۔ رکھ رکھاﺅ چونکہ ابھی پرانے ہی چل رہے تھے اس لئے کافی سالوں تک نظام بخوبی چلتا رہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ سترکی دھائی تک پرانے جج اور پرانے بیورو کریٹ تقریباً سبھی ریٹائر ہوگئے اور ان کی جگہ پر ”میڈ ان پاکستان“ قسم کے براﺅن انگریزوں نے لینا شروع کر دی اور یہاں سے ہی وطن عزیزکے نہ صرف معاشی ادارے تباہ ہونا شروع ہوگئے بلکہ وہ ریل تھی کہ پی آئی اے‘ واپڈا تھا کہ سٹیل مل‘ کونسا سرکاری محکمہ یا کارپوریشن تھی جس میں کہ اجاڑ پڑنا نہیں شروع ہوچکا تھا۔ ایک طرف یہ اجاڑ تھا تو دوسری طرف اسی ستر کی دھائی کے بعد جب کبھی بھی کوئی نام نہاد جمہوری دور یا پھر فوجی دور آ یا۔ سب نے ہمیشہ میڈیا پر آکر”نظام بدلنے“ کی بات کی یعنی کہ ہر آنے والا جانتا تھا کہ بددیانتی‘ کرپشن اور سماجی نا انصافی‘براﺅن دیسی بیوروکریسی کے ہاتھوں‘ معاشرہ¿ پاکستان کی جڑوں تک میں رچ بس چکی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان ادوار میں اور تو اور‘ جب کبھی میاں نوازشریف یا زرداری وغیرہ جیسے لوگ بھی باریاں لے رہے ہوتے تو عوامِ پاکستان کی آنکھوں میں دھول دھونکنے کے لئے اور الیکشن جیتنے کے لئے ہمیشہ ”نظام بدلنے“ کی بات کرتے۔اپنے دو دو یا تین تین ادوار میں انہوں نے وطن عزیز کو نوچا یا پھر عوام کی فلاح کیلئے کوئی نظام بدلا۔ اب یہ بات تاریخ کے اوراق میں منتقل ہوچکی ہے ہاں مگر زمینی کہانی اپنی مکمل بدصورتی میں عوامِ پاکستان کی اکثریت پر اب عیاں ہوچکی ہے۔
ایسی کرپشن اور بددیانتی جس میں افسروں کے ساتھ سیاستدان بھی حصہ دار بن جائیں۔ ایک ہی لازمی نتیجہ نکلنا ہوتا ہے کہ خزانہ خالی ہوجاتا ہے اور ملک چلانے کیلئے پھر قرضے اٹھانے پڑتے ہیں اور قرضوں کا حصول مشکل ہوجائے تو پھر اس طرح اندھا دھند ٹیکس بڑھانے پڑتے ہیں کہ ” سماجی انصاف“ نامی چیز کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں۔ براﺅن بیورو کریٹس کے پاس ویسے بھی اپنی ذات سے آگے سوچنے کا کوئی وقت نہیں ہوتا اس لئے جب بھی ان کے سامنے خزانہ بھرنے کی بات ہو تو وہ کسی بھی مرغی سے روزانہ سونے کا انڈا لینے کی بجائے حکومت کو اسے ذبخ کرکے سارے انڈے بیک وقت نکالنے کا مشورہ دیں گے اور ذبح بھی بلکہ کسی بھدی اور کند چھری سے کرنے کا کہیں گے جبکہ ان کے برعکس انگریزوں کے وقت میں ان کے سینئرز نہ صرف تعمیر وطن کرتے تھے بلکہ نہری نظام اور ریل جیسے بڑے بڑے منصوبے بھی ادھر ترتیب دیتے تھے جس سے کہ معاشرے میں ایک سماجی انصاف قائم رہتا تھا اور بڑی بڑی بغاوتیں نمودار نہیں ہوتی تھیں۔
شریفوں اور زرداریوں کے تلخ ادوار میں (بیوروکریٹ) اور چوکیدار (سیاستدانوں) نے جس طرح آپس میں مل کر ملک کے وسائل لوٹے‘ اس سے پاکستان تقریباً دیوالیہ ہوچکا تھا۔ آئی ایم ایف اور دنیا کے دوسرے مالیاتی ادارے اپنے سودی شکنجوں سے وطن کی گردن پر سوار ہوچکے تھے کہ ایک بار پھر عمران خان نے میدانِ سیاست میں کود کر وہی پرانا تبدیلی کا نعرہ مستانہ کچھ نئے انداز میں بلند کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عام پاکستانی اور بالخصوص ملک کا پڑھا لکھا نوجوان جذباتی انداز میں ”تبدیلی“کے اس نعرے کے پیچھے چل پڑا لہٰذا 2018ءکے انتخابات میں عمران خان کی پارٹی حکومت میں آگئی۔ اسلام آباد کے علاوہ سندھ کو چھوڑ کر باقی تین صوبوں میں بھی اس کی اتحادی حکومتیں تشکیل پاگئیں۔
اب اقتدار سنبھالے ان کو دو سال گزربھی چکے ہیں مگر ”تبدیلی“ ہے کہ دور دور تک اس کا سراغ مل نہیں رہا۔ اگر کچھ ہونا ہوتا تو کسی بھی حکومت کیلئے اس کے پہلے سو دن ان کی سمت متعین کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ پہلے ادوار اور عمران خان میں ایک فرق بہت واضح ہے کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے چور اور چوکیدار میں علیحدگی ہوچکی ہے کہ وہ ذاتی طور پر ایک دیانتدار انسان ہے۔ وہ اپنے ارادوں میں بھی پکا اور مضبوط دکھائی دیتا ہے مگر اسے راستہ صاف دکھائی نہیں دے رہا حالانکہ وہ سامنے ہے اور واضح بھی ہے۔ ان کے مقابل سارے چور(افسر شاہی اور پرانے سیاسی لیڈر) اکٹھے ہیں اور سازشوں پر سازشیں کررہے ہیں۔ ملک کی عدلیہ میں بھی ان چوروں کے ”باجگزار“ کافی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ عدل کے نام پر جاوبے جا مقامات پر عدالتی ہتھوڑے مار کر سپیڈ بریکر لگاتے ہیں اور سیدھے کام کو بھی دلالی راستوں پر پھنسا کر اپنے محسنوں کی خدمت کرتے ہیں۔ حالات یقینا مشکل ہیں اور اگر دیکھا جائے تو رہنما کہلانے کا حق بھی تو اسے ہوتا ہے جو کہ تاریک راہوں میں بھی قوم کو سیدھے راہ پر لے آئے اور بیڑہ پار کروائے۔ قائداعظم کچھ یونہی قائداعظم نہیں بنے تھے۔ انہوں نے بھی اپنی امانت‘ دیانت اور لگن سے ”قوم کے رہنما“ کا لقب پایا تھا۔
لہٰذا عمران خان ہمت کرو۔ لٹیروں سے لوٹ کا مال کبھی سیدھی انگلی سے باہر نہیں نکلا۔ یہ نکالنے کیلئے تمہیں اپنی انگلی ٹیڑھی کرکے ان کے گلے کے اندر تک ڈالنی ہوگی اور ایسا بالکل ممکن ہے قانونی لحاظ سے بھی۔ پیچھے رہ گئی فقط دو باتیں۔ پہلی یہ کہ عوامِ پاکستان پر مکمل بھروسہ کرو اور افسروں کو نکیل ڈالنے کیلئے ان عوام کو نہ ٹوٹنے والا مقامی حکومتوں کا مالیاتی طور پر با اختیارنظام فی الفور جاری کرواﺅ۔ دوسرا تمہارے پاس زراعت کا شعبہ اور اس کا نسل درنسل جفا کش کسان ہے اس پر سے مالیئے کے علاوہ تمام ڈائریکٹ اور ان ڈائریکریکٹ ٹیکس ہٹاﺅ۔ اس کو بہترین بیج‘ سستی کھاد اور ٹیکس فری زراعتی مشینری فراہم کرو۔ وہ راتوں رات وطن عزیز کی معاشی کایا پلٹ کر رکھ دے گااور یہی تمہارا معاشرے کیلئے سماجی انصاف ہوگا اور یہی ایک تبدیلی ہوگی۔ ( ختم شد)
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭

کشمیری بےوقوف نہیں

اے حق -لندن
جمعرات کا ہی دن تھا اور پاکستان کے وزیر اعظم قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ ملک کی بدحالی، تباہ ہوتی معیشت اور اس کے ذمہ داران کے علاوہ امریکہ کے پاکستان پر عدم اعتماد کے ذکر کے ساتھ ہی مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر فرمایا ۔ وزیر اعظم نے کشمیر پر چند منٹ کی گفتگو میں اپنی خوب تعریفیں کیں اور کہا کہ ” میں نے امریکہ میں جا کر لیڈروں،میڈیا ،ٹرمپ کو سمجھایا کہ انڈیا ’آر ایس ایس ‘ کی تھیوری پر چل رہا ہے۔ اس سے امریکہ اور مغرب کے میڈیا میں انڈیا کے خلاف باتیں ہونے لگیں۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد آج پہلی بار پاکستان کو انڈیا کے مقابلے میں باہر بہتر میڈیا ملتا ہے۔جب ہم یو این کے ٹور سے واپس آئے اور ہمارا کام تھا کہ ہم اس کو اور آگے لے کر جاتے،تو یہاں ایک ڈرامہ شروع ہو گیا کہ حکومت جا رہی ہے،کنٹینر آ گئے،پورا ایک مہینہ جو ’پیک‘جانا چاہئے تھا کشمیر ایشو کو،وہ نیچے چلا گیا۔ نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں اور قانون سازیوں سے کشمیر ایشو آج دنیا بھر میں پہنچ گیا ہے،اب ہمارا کام ہے کہ ہم پورا پلان کریں کہ ہم اسے آگے لے کر جائیں۔انڈیا ہمیں اس طرح دبانا چاہتا ہے کہ جس طرح انہوں نے انڈیا میں مسلمانوں کو دبایا ہوا ہے۔کشمیر ایشو، میرا یہ خیال ہے،ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں، یہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے۔انڈیا آٹھ لاکھ فوج وہاں رکھ کران کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ غیر مستحکم ہے،اس نے کشمیریوں کو بالکل تنہا کر دیا ہے۔اب کو ئی بھی ”پرو انڈین “لیڈر شپ کشمیر میں چل ہی نہیں سکتی۔بندوق کے زور پہ وہ کتناچلے جائیں گے،اسی لاکھ لوگوں کو اس طرح دبا کے ،یہ غیر مستحکم ہے اور میرے خیال میں انشا اللہ ”کووڈ “کے بعد جب یہ ختم ہوتی ہے تو ،یہ موومنٹ رک نہیں سکتی“۔
اس تقریر سے ایک ہی دن قبل خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” آپ جتنا بھی انکار کر لیں لےکن یہ بات حقیقت ہے کہ بدقسمتی سے ”فال آف کشمیر “ہو چکا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے اور تاریخ میں یہ بوجھ آپ کے دور پہ رہے گا۔“ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ کشمیریوں سے پوچھیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام سے پوچھیں کہ کیا آ پ کی فارن پالیسی کامیاب رہی ہے ؟ وہ آپ کو جواب دیں گے۔ “ ایک کشمیری کی حیثیت سے وزیر اعظم پاکستان کی اس تقریر پہ یہی تبصرہ مناسب ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان، کشمیریوں کو بے وقوف نہ سمجھیں، پاکستان اور کشمیر کے گہرے تعلقات کی جڑیں نہ کاٹی جائیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو بلاشبہ معیاری کہا جا سکتا ہے اور یہ تقریر ان کی شخصیت کا ایک تعارف بھی پیش کرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وزیر اعظم عمران خان ریاست کی کمزوریوں اور خامیوں کی بہترین عکاسی کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کے عہدیدار مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم کی رننگ کمنٹری تک ہی محدود ہیں، پاکستان کی کشمیر کاز سے متعلق ذمہ داری کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں؟ اس بارے میں ان کی زبانیں خاموش ہیں۔ عالمی برادری اسی وقت مسئلہ کشمیر پر توجہ دے سکتی ہے کہ جب پاکستان کی طرف سے یہ باور کرایا جائے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو انڈیا میں مدغم کرنے کے اقدام و صورتحال اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی بدترین فوج کشی پر پاکستان خاموش تماشائی بن کرنہیں رہ سکتا۔
کشمیریوں کی مزاحمت 80 سے زائد سال کے حالات و واقعات کا ایک تسلسل ہے جو 1980کی دہائی میں نوجوانوں کے عزم آزادی سے تیز تر ہوا۔ انڈیا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو کشمیریوں کی تحریک آزادی سے لاتعلق کر دیا جائے تا کہ اسے کشمیریوں کو دبانے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مسئلہ ، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان کی حمایت کا نہیں بلکہ پاکستان انتظامیہ کی طرف سے سیاسی طور پربھی کشمیریوں کو اپنی مرضی سے چلانے کی ناقص پالیسی کا چلا آ رہا ہے۔ کشمیر پاکستان کی سلامتی اور بقا سے منسلک و مربوط معاملہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس معاملے میں کمزور، ناقص پالیسی، حکمت عملی اختیار کرنے سے خود پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچارہی نہیں کیا جا رہا بلکہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
بلال نامی ایک نوجوان 1986ءمےں اےک چوک میں نصب بہت بڑے ٹاور پر جھنڈا لہرانے کیلئے چڑھا تو انڈین فوجیوں نے اس کو گولیوں سے بھون دیا جس سے وہ نوجوان کافی بلندی سے گر کر شہید ہو گےا ۔ اس وقت سے اب تک شہید ہونے والے ہزاروں کشمیری نوجوانوں نے یہ واضح کیا ہے کہ کشمیر کاز سے اخلاص کیا ہوتا ہے اور مزاحمت کس کس طرح کی جا سکتی ہے۔ کشمیری آزادی کیلئے اپنا تن من دھن قربان اور قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ اگر کشمیر کاز کے لئے متحرک شخصیات اس بات کا تعین کرنے سے قاصر ہیں کہ آئندہ کے طریقہ کار اور حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے کشمیر کی کون کونسی شخصیات کے اجلاس سے اس معاملے میں موثر پیش رفت ہو سکتی ہے! تو پھر یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا پاکستان کی موجودہ انتظامیہ کی پالیسی کے پیچھے ہی میمنے کی طرح سر جھکا کر چلنا ہے؟
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سرمایہ دارانہ نظام گندہ ہے پردھندہ ہے

عظیم نذیر
حکومتوں کا بجٹ ایوانوں اور اداروں کی ساکھ بچانے کیلئے ایک ناٹک کے سوا کچھ بھی نہیں رہا۔ سرمایہ داری کے عجب فریب ہیں۔ سماجی تضادات کو دبانے کیلئے جعلی تضادات گھڑے جاتے ہیں‘ تحریکوںکے اوپر جعلی تحریکیں مسلط کر دی جاتی ہیں‘ کبھی مقتدر طبقات کے نمائندوں کو مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی جمہوریت کی جھوٹی عملداری دکھانے کیلئے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں بحثوں کے ڈرامے کئے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک تماشے کا اہتمام ہر سال بجٹ کے نام سے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ صرف عوام کو باور کرانے کیلئے ہوتا ہے کہ ان پر اثرانداز ہونے والی معیشت کے حوالے سے فیصلے انہی کے منتخب کردہ لوگ کرتے ہیں۔
حکومت قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتی ہے‘ اپوزیشن منافقانہ احتجاج کا ڈھونگ رچا کر معاملہ ٹھپ کر دیتی ہے‘ ماہرین میڈیا پر پیچیدہ معاشی اصلاحات پر طویل اور ناقابل فہم تبصرے کرتے ہیں اور شاید سال بھر میں یہی چند دن ہوتے ہیں جن میں میڈیا پر معیشت کی بھی بات ہوجاتی ہے۔ ادھر اسمبلی میں کھوکھلی بحث کے بعد بجٹ پاس ہوجاتا ہے اور عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگلا پورا سال معیشت اسی بجٹ کے مطابق چلائی جائے گی لیکن چند ہفتے میں ہی سارا منظر بدل جاتا ہے ہر روز نیا بجٹ ایسے آجاتا ہے جیسے سال بھر کیلئے کبھی بجٹ پیش ہی نہ کیا گیا ہو۔
اس نظام میںعوام پر سب سے بڑا ٹیکس مہنگائی ہوتا ہے جس کی وصولی ہر سطح پر دن رات جاری رہتی ہے لیکن سرمایہ دار ہر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار پاتے ہیں‘ موجودہ حکومت اپنے دور کے پہلے دو سال میں سرمایہ داروں کو 2 ہزار ارب سے زائد کا ٹیکس معاف کرچکی ہے جو ایک ریکارڈ ہے دوسرے الفاظ میں یہ پیسہ عوام کی جیبوں سے نکل کر سرمایہ داروں کی تجوریوں میں منتقل ہوگیا۔
ملک میں معاشی بحران گزشتہ دو دہائیوں میںاتنا شدید ہوچکا ہے کہ سالانہ بجٹ بے معنی ہوکر رہ گیا۔ ہے اب اسے محض ایک سیاسی رسم یا فارمیلٹی ہی کہا جاسکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ معیشت کے معاملات میں ریاستی مداخلت کے باعث کسی قدر استحکام موجود ہوتا تھا اور اگلے ایک ڈیڑھ سال کی معاشی منصوبہ بندی ممکن ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب بہت سی سرمایہ دار ریاستیں بھی سوویت یونین کی طرز پر پانچ سالہ معاشی منصوبہ بندی کیا کرتی تھیں لیکن 80ءکی دہائی کے بعد معیشتوں میں ریاستوں کا عمل دخل کم ہوتا گیا۔ حکومتیں زیادہ سے زیادہ منڈیوں کے تابع ہوگئیں اور معیشت کی فیصلہ سازی سامراجی اداروںکے سپرد کرکے خودتماشائی بن گئیں۔ پاکستان جیسے ممالک کا تو سارا بجٹ ہی آئی ایم ایف جیسے اداروں کے اشاروں پرمر تب سے ہونے لگا حکومتی نمائندے تو صرف آئی ایم ایف کا تیارکردہ بجٹ پیش کرتے ہیں۔ بجٹ کی بعض شقیں تو ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر انگلی اٹھانا تک ممنوع قرار پاتا ہے۔ 2008ءکے بعد سے آنے والے معاشی بحران میں کوئی دوررس منصوبہ بندی ممکن ہی نہیں رہی۔ ایک وقت تھا کہ عوام بجٹ میں انتہائی دلچسپی لیتے تھے۔ یہ ایک تہوار کی طرح ہوتا تھا۔ لوگ گھروں‘ گلیوں اور بازاروں میں ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے بجٹ کی خصوصی نشریات سنا کرتے تھے۔ اب تو خال خال ہی کوئی بجٹ تقریر سنتا نظر آتا ہے کیونکہ لوگ جان چکے ہیں کہ حکومتی پالیسیوں میں کوئی دم نہیں اور ایسے بجٹوں سے ان کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔
بجٹ سے ایک دن پہلے جاری ہونیوالے اقتصادی سروے کو ہی دیکھ لیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ معاشی بحران پالیسی سازوں کے قابو سے کس قدر باہر ہوچکا ہے۔ اس سال کے اقتصادی سروے کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ بجٹ میں مقرر کیا گیا شاید ہی کوئی حکومتی ہدف پورا ہوا تھا۔ 68 سال میں پہلی بار معیشت 0.38 تک سکڑ گئی ہے جس کا سیدھا مطلب لوگوں کی آمدنی میں کمی اور بیروزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہے‘مہنگائی کی شرح گیارہ فیصد ہوگئی جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد سے بڑھ کر9.1 فیصد تک پہنچ گیا کیونکہ سامراجی اداروں اور بینکوں کو سود کی مد میں ہزاروں ارب ادا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے مالی سال کے دوران2.7 ارب روپے قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی کی بھینٹ چڑھ گئے جو کل حکومتی آمدنی کا62 فیصد حصہ بنتا ہے۔
قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ اوپر سے نیچے تک حکمرانوں اور سرکاری افسروں کے اخراجات پر اٹھ جاتا ہے اور پیچھے صرف خسارے بچتے ہیں جنہیں پورا کرنے کیلئے مزید قرضے لئے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت مجموعی ملکی قرضوں میں گیارہ ہزار ارب روپے کا اضافہ کرچکی ہے۔ ان دو سالوں میں کل ملکی قرضہ 24 ہزار ارب سے بڑھ کر35 ہزار ارب ہوچکا ہے۔ ایسی معاشی صورتحال میں کوئی عوام دوست بجٹ کیسے بن سکتا ہے۔ غور کیا جائے تو اس نظام میں ایک ہی طرز کا بجٹ ہے جسے ہر سال مختلف مشکلوں میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ داری کا بجٹ ہوتا ہے جس میں صرف سرمایہ داروں کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ عوام کی تعلیم‘ علاج اور دوسری بنیادی ضروریات کیلئے رقوم صرف خانہ پری اور دکھانے کیلئے رکھی جاتی ہیں لیکن اس سال حکمرانوں کو بحران کا سارا ملبہ کرونا پر ڈالنے کا موقع مل گیا حالانکہ معیشت پہلے ہی شدید بحران سے دوچار تھی۔
مسئلہ سامراجی مداخلت اور سرمایہ داروں کے انتہائی اثرورسوخ کا ہے جب تک انہیں مضبوط کرنے والا نظام موجود ہے انسانوں کی وسیع اکثریت سے مٹھی بھر سرمایہ داروں کو دولت کی منتقلی جاری رہے گی۔ مہنگائی‘ بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہی ہوگا۔ موجودہ نظام میں محنت کش طبقے کیلئے جبر‘ استحصال اور ذلت ہی بچتی ہے‘ سرمایہ دارانہ نظام اتنا سفاک ہے کہ کارل مارکس نے اس کے متعلق کہا کہ
”اگر آپ سرمایہ داروں کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرلو تو ایک سرمایہ دار ہی آپ کو اسے فراہم کرنے کا ذمہ لے لے گا“
سرمایہ دارانہ نظام ختم کرنے سے ہی مضبوط معاشی ڈھانچہ استوار کیاجاسکتا ہے جس میں عوام کی بہتری کیلئے منصوبہ بندی ہو‘ ملکی وسائل عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کئے جائیں تو عوام کی زندگی سے تنگی اور افلاس کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا اور عوام کو آسودگی اور آسائشیں مہیا ہوسکیں گی۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭

سیاسی تربیت کا فقدان

وزیر احمد جوگیزئی
حکمران جماعت تحریک انصاف کے لیڈران میں سے ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے جس کی کہ سیاسی تربیت ہوئی ہو پڑھ لکھ کر یقیناانسان ایک بڑا آدمی ضرور بن جاتا ہے ۔ہر طرف کی جان کاری رکھتا ہے ،لیکن کسی بھی سیاسی لیڈر کی سیاسی تربیت کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے ہی ہو تی ہے اور سیاسی کارکن نچلی سطح سے سیاست کا آغاز کرکے ہی اوپر تک آتے ہیں ۔چاہے وہ مسلم لیگ ن ہو یا پاکستان پیپلز پا رٹی ہو ،جماعت اسلامی ہو یا پھر جمعیت علمائے اسلام یا پھر عوامی نیشنل پارٹی ان تمام جماعتوں کے اندر ایک سیاسی کلچر موجود ہے اور ہر شخص جو کہ ان جماعتوں میں نچلی سطح سے شروع کرکے اوپر تک آتے وہ اپنی پہچان ساتھ لے کر آتے ہیں ۔ہمارے ملک کی موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف بد قسمتی سے کسی بھی سیاسی کلچر سے عاری ہے ۔یہ جماعت اب تک صرف اور صرف احتجاج کرنا جانتی ہے اور احتجاج کرتے کرتے اقتدار تک پہنچ گئی ہے ۔انھیں عوامی مسائل کا کو ئی ادراک نہیں ہے ۔پاکستان تحریک انصاف میں ہر کو ئی ایجیٹیٹر (agitator) ہے اور ایجیٹیٹر رہنما نہیں ہو ا کرتے ۔ رہنما بننے کے لیے بہت ساری مشکلا ت اور بہت سارے تجربات سے گزرنا پڑتا ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ اس میدان میں استادوں کی آشیر باد کی بھی ضرورت ہو تی ہے تب جا کر انسان لیڈر بنتا ہے ۔یا پھر دوسرا آپشن یہ ہے کہ انسان کسی سیاسی گھرانے میں پیدا ہو ا ہو اور اس کی تربیت اچھے استادوں سے ہوئی ہو پھر کوئی شخص اچھا لیڈر بن سکتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان جو کہ آج اقتدارکی کرسی پر برا جمان ہیں وہ آج بھی ایک ایجیٹیٹر ہی معلوم ہو تے ہیں ۔وہ خود کو رہنما کہتے ہیں لیکن کردار اس کے بر عکس ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ چاہے ان کی حکومت کے منسٹر ہوں ،ایم این اے ہوں یا صوبائی عہدے داران ہوں وہ سب بھی انھی کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ان میں سے سیاسی ورکرز کی خوشبو نہیں آتی ۔جو ہم آجکل جو گفتگو کابینہ کے ارکان کے درمیان اور کابینہ کے اجلاسوں میں دیکھی ہے وہ کابینہ اجلاسوں میں یا پھر سیاسی جماعتوں میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔سیاسی اختلافات اور نا راضگیاں تو ہر سیاسی جماعت میں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن بات اس حد تک نہیں جاتی کہ کابینہ اجلاس میں چیخ و پکار تک معاملات چلے جا ئیں۔
یہ سارا معاملہ بھی اسی بات کی نشان دہی کرتا ہے جس کہ میں ذکر کر رہا ہوں ،اور وہ ہے سیاسی تربیت کا معاملہ ،جس کا حکمران جماعت کے رہنماﺅں میں شدید فقدان ہے ۔بہرحال پاکستان اور جمہوریت کا ایک لمبا سفر ہے اور اس سفر میں ہم نے یہ تجربہ بھی دیکھنا تھا ۔وزیر اعظم عمران خان صاحب کی کئی حوالوں سے پذیرائی ہوتی رہی ہے ۔اور یقینا عمران خان کو سیاسی رول ادا کرنے میں بہت سے لوگوں نے مدد بھی کی ،لیکن عمران خان صاحب کا طرہ امتیاز ہمیشہ سے سوشل ورک رہا ہے ،اور اس میں بہت کامیاب بھی رہے ہیں انھوں نے تعلیم کے میدان میں بھی بہت کام کیا یو نیورسٹیز بنائی ہیں ،صحت کے میدان میں انھوں نے شوکت خانم ہسپتال جیسا بے مثال منصوبہ بنایا ۔اور پھر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ فنڈ ریزنگ کے حوالے سے بھی بہت مہارت رکھتے ہیں اور ان تمام کاموں نے ان کی وزیر اعظم بننے میں مدد کی ہے لیکن پھر بات یہ ہے کہ ان کو کنگ میکر بننا چاہیے تھا نہ کہ کنگ ،وہ خود با دشاہ بن بیٹھے ہیں لیکن بادشاہ کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے کشادہ دل و دماغ ،فہم و فراست اور دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا ظرف بھی بدرجہ اتم موجود ہو نا چاہیے ۔قوت برداشت بھی حکمرانی کی لازم اور ملزوم صفت ہے۔ اگر یہ صفات کسی بھی حکمران میں نہ ہوں تو حکومت کرنا محال ہو جاتا ہے ۔اور آج یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کسی کی بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کرونا وائرس کے لاک ڈاﺅن کے حوالے سے بضد ہیں کہ یہ ضروری نہیں تھا جبکہ کہ پاکستان اور دنیا بھر کے ڈاکٹرز پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کرونا پر قابو پانا ہے تو مکمل طور پر لاک ڈا ﺅن کیا جائے یہی اس بیماری کا علاج ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے وزیر اعظم صاحب اس حوالے سے بھی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور کے نتیجے میں ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔
پاکستان میں شروع سے ہی صوبائی خود مختاری ایک بڑا مسئلہ اور جیسا کہ انگریزی میں کہتے ہیں کہ bone of contentionرہا ہے اور بالا آخر ہماری قومی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے کئی دہا ئیوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ صوبائی مختاری اس ملک کی وحدت اور یگانت کے لیے نہایت ہی ضروری ہے بلکہ ہے کلیدی
حیثیت رکھتی ہے ،اور اس معاملہ کا حل 18ویں آئینی ترمیم کی صورت میں نکالا گیا لیکن اب اس ترمیم میں نقائص نکالے جا رہے ہیں طرح طرح کے بہانے تلاش کیے جا رہے ہیں اس میں تبدیلی کے جواز دیے جا رہے ہیں جوکہ قطعی طور پر غیر مناسب ہیں ۔میں یہ نہیں کہتا کہ آ ئینی ترمیم کرنی ہی نہیں چاہیے ترمیم کریں با لکل کریں لیکن تب کریں جب آپ کے پاس کم از کم اس کام کے لیے نمبر ز پورے ہوں ،بغیر نمبرز پو رے کیے ہو ئے یہ کام کرنا حکومت کی غیر سنجیدگی کا مظہر ہے ۔آئینی ترمیم تب کی جاتی ہے جب اس کی ضرورت ہو ۔جب فیڈریشن کو اس کی ضرورت ہے اس کے علاوہ آئینی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے باقی تمام ریاست امور وزیر اعظم بخوبی نبھا سکتے ہیں ۔اور وزیر اعظم کو اپنا کام بخوبی سرانجام دینے کے لیے اچھے مشیروں اور ساتھیوں کی بھی ضرورت ہوتی جوکہ وزیر اعظم کے شانہ بشانہ چلتے ہو ئے مسا ئل کا حل نکا لتے ہیں ۔جب تک وزیر اعظم وفاقی وزراءصوبائی وزراءاور وزا ئے اعلیٰ ایک ہی کلام ایک ہی بیان اور ایک ہی پیغام قوم کو نہیں دیں گے ہمارے مسائل کم ہو نے کی بجا ئے مزید بڑھتے جا ئیں گے ۔
تمام سیاسی قائدین کے متحد ہونے تک ہم ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکیں گے ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے حکمرانوں میں اس قسم کی اہلیت ہی دیکھنے میں نہیں آرہی ۔اللہ تعالیٰ ان حکمرانوں کو ہدایت دے اور پاکستان کے اصل مسائل کی طرف توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔جب تک عوام کے پاس تعلیم نہیں ہو گی ،آبادی کنٹرول میں نہیں ہو گی تب تک ہما رے محدود وسائل میں ہمارے لا محدود مسا ئل کا کوئی حل نہیں نکل سکے گا ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭