All posts by Muhammad Afraz

خبریں،چینل ۵ کی خبر پر ایکشن ،شاہی قلعہ میں فاطمہ فرٹیلائزر کی طرف سے شادی ،ڈائریکٹر عہدے سے فارغ

لاہور (خصوصی ر پورٹر) شاہی قلعہ میں شادی کے معاملہ پر چینل 5 اور خبریں کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے ڈائریکٹر شاہی قلعہ آصف ظہیر کو سیٹ سے ہٹا دیا گیا جبکہ ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کو پیش کی گئی رپورٹ یں شاہی قلعہ میں شادی کی تقریب کی ذمہ داری والڈ سٹی اتھارٹی پر عائد کر دی گئی ہے۔ ای ڈی سی آر صفدر ورک اور اسسٹنٹ کمشنر تبریز ملک نے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے کوتاہی برتی گئی، اس لیے ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کے سینئر عہدیداروں نے کوتاہی برتی، وہ شادی کی تقریب کے حوالے سے آگاہ تھے۔ بظاہر شاہی باورچی خانے کی جگہ فاطمہ فرٹیلائزر کو دی گئی۔ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کو کاروباری سرگرمیوں کے لئے اجازت دینا بھی قانونی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ کمشنر کی رپورٹ میں متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کامران لاشاری نے معاملات پر غلط انداز میں میڈیا کو بریف کیا۔ والڈ سٹی اتھارٹی کے چیئرمین اور دیگر افراد پر قوانین کے برعکس اقدام کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا آزاد کشمیر کا دورہ، برفانی طوفان میں زخمی افراد کی عیادت

مطفر آباد: وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے برفانی تودے گرنے سے زخمی ہونے والے افراد سے اسپتال میں ملاقات کی۔وزیراعظم عمران خان اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے آزاد کشمیر کے دورے پر پہنچ گئے۔ انہوں نے سی ایم ایچ مظفرآباد میں زخمیوں کی عیادت کی۔زیراعظم کو وادی نیلم میں شدید برفباری سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور صدر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ عمران خان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو حالیہ قدرتی آفت سے متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ وادی نیلم میں برفانی تودے گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد67 ہوگئی ہے۔

بنگلا دیش کے دورہ پاکستان کا شیڈول طے ہو گیا

پاکستان اور بنگلا دیش کے کرکٹ بورڈز کے درمیان بنگلا دیش کے  دورہ پاکستان کا شیڈول طے ہو گیا ہے جس کے مطابق سیریز میں شامل 3 ٹی ٹونٹی، ایک ون ڈے اور 2 ٹیسٹ میچز پاکستان میں ہوں گے۔سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک ملاقات میں دی گئی جب کہ آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر نے سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل دینے میں معاون کا کردار ادا کیا ہے۔نئے شیڈول کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ ٹیم 24 سے 27 جنوری تک لاہور میں 3 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے گی جس کے بعد مہمان ٹیم وطن واپس لوٹ جائے گی اور پھر واپس آ کر 7 سے 11 فروری تک راولپنڈی میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے درمیان ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ 3 اپریل کو کراچی میں کھیلا جائے گا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دوسرا ٹیسٹ میچ 5 سے 9 اپریل تک کراچی میں ہی ہوگا۔چیئر مین پی سی بی احسان مانی نے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول کو حتمی شکل دینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ششانک منوہر کی معاونت کے مشکور ہیں۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خانکا کہنا ہے کہ نئے شیڈول کی تیاری دونوں بورڈز کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ ٹیم تین مرتبہ پاکستان آئے گی جو اس بات کا ثبوت ہےکہ پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

جہاز نے ہنگامی لینڈنگ کے دوران اسکولوں پر تیل گرادیا، طلبہ متاثر

لاس اینجلس: امریکی مسافر طیارے نے ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران کئی اسکولوں پر تیل گرادیا جس سے طلبہ سمیت 60 افراد متاثر ہوئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی مسافر طیارے نے لاس اینجلس انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کی اور اس دوان طیارے نے تیل خارج کیا جو کئی اسکولوں پر جاگرا۔برطانوی میڈیا کے مطابق طیارے سے تیل خارج ہونے کے باعث کم از کم 60 افراد متاثر ہوئے جن میں زیادہ تعداد اسکول کے بچوں کی ہے جب کہ تیل گرنے سے ان کی جِلد پر خارش پھیل گئی اور سانس لینے میں شدید دشوار بھی پیش آئی۔امریکی ائیرلائن پرواز بھرنے کے بعد انجن میں پیدا ہونے والے نقص کے باعث واپس ائیرپورٹ کی جانب مڑی اور ہنگامی لینڈنگ کی جب کہ طیارے سے خارج ہونے والا تیل تقریباً 6 مقامی اسکولوں پر گرا جس کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد فراہم کردی گئی ہے اور ان کے زخموں کی نوعیت معمولی بتائی جارہی ہے۔لاس اینجلس ائیرپورٹ سے 16 میل کے فاصلے پر قائم پارک ایلمنٹری اسکول پر جب تیل گرا تو دو کلاسیں اسکول کے بیرونی احاطے میں موجود تھیں۔امریکی ائیرلائن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسافر طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کے وقت جہاز کا وزن کم کرنے کے لیے تیل خارج کیا۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور اس کے اسباب کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی لینڈنگ کے وقت جہاز کے تیل کے اخراج کے لیے خصوصی طریقہ کار موجود ہے جنہیں امریکا کے بڑے ائیرپورٹ کے اندر اور باہر سے آپریٹ کیا جارہا ہے، اس طریقہ کار کے تحت تیل کا اخراج طے شدہ غیر آبادی والے علاقوں پر کیا جاتا ہے جب کہ ہنگامی حالت میں تیل کا اخراج جہاز کے زمین پر پہچنے سے پہلے کیا جاتا ہے۔

‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط سینما گھروں میں دکھانے کا اعلان

اس وقت اگر پاکستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری کا کوئی ڈراما سب سے زیادہ مقبول ہورہا ہے تو وہ ‘میرے پاس تم ہو’ ہے۔اس ڈرامے کی اب تک 22 اقساط سامنے آچکی ہیں جبکہ آخری قسط 25 جنوری کو سامنے آئے گی۔ور اب پروڈیوسرز نے ‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری ڈبل ایپیسوڈ صرف اے آر وائے ڈیجیٹل پر ہی نہیں بلکہ سینما گھروں میں دکھانے کا بھی اعلان کردیا۔اے آر وائے ڈیجیٹل کے فیس بک پیچ کے ذریعے اس خبر کا اعلان کیا گیا۔پوسٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈرامے کا اختتام ہونے جارہا ہے اور اس کی آخری قسط اے آر وائے ڈیجیٹل کے ساتھ ساتھ سینما گھروں میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔خیال رہے کہ ‘میرے پاس تم ہو’ کی کہانی خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کی جبکہ اس کی ہدایات ندیم بیگ نے دی ہے۔ڈرامے میں ہمایوں سعید، عائزہ خان اور عدنان صدیقی نے مرکزی کردار نبھائے جبکہ شیث گل، حرا مانی، انوشے عباسی، سویرا ندیم، مہر بانو اور سید محمد احمد نے اہم کردار نبھائے

ممبئی میں بھارت آؤٹ کلاس، آسٹریلیا 10وکٹوں سے کامیاب

آسٹریلیا نے کپتان ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر کی شاندار سنچریوں کی بدولت بھارت کو پہلے ون ڈے میچ میں آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 10وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ممبئی میں کھیلے گئے تین میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا اور خطرنکا اوپننگ بلے باز 13 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔اس کے بعد شیکھر دھاون کا ساتھ دینے لوکیش راہول آئے اور دونوں کھلاڑیو نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری وکٹ کے لیے 121رنز جوڑے۔اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب راہول 47رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے جبکہ مجموعی اسکور میں 6رنز کے اضافے سے دھاون کی 47رنز کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔تاہم بھارت کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب کپتان ویرات کوہلی صرف 16رنز بنانے کے بعد ایڈم زامپا کی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے جبکہ شریاس آئیر بھی صرف 4رنز بنا سکے۔164 رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد رویندرا جدیجا اور ریشابھ پانٹ نے کچھ مزاحمت کی اور 49رنز کی شراکت قائم کی لیکن دونوں بلے باز یکے بعد دیگرے 25 اور 28رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد چلتے بنے۔اس کے بعد بھارتی ٹیم زیادہ رنز بنانے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم آخری اوور میں 255 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔آسٹریلیا کی جانب سے تینوں فاسٹ باؤلرز نے عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور مچل اسٹارک تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ پیٹ کمنز اور کین رچرڈسن نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔256 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ڈیوڈ وارنر اور فنچ نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے اپنی ٹیم کو بہترین آغاز فراہم کیا اور تمام بھارتی باؤلرز کی خوب درگت بنائی۔دونوں کھلاڑیوں نے کسی بھی قسم کا چانس دیے بغیر اپنی اپنی سنچریاں مکمل کیں اور 74 گیندوں قب ہی ہدف حاصل کر کے ممبئی کے وینکھیڈے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو سکتہ طاری کردیا۔مین آف دی میچ وارنر نے 112 گیندوں پر 3 چھکوں اور 17 چوکوں کی مدد سے 128 جبکہ فنچ نے دو چھکوں اور 13 چوکوں کی مدد سے 110 رنز بنائے۔اس میچ میں فتح کی بدولت آسٹریلیا نے تین میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا میچ 17 جنوری کو راجکوٹ میں کھیلا جائے گا

مریم نواز کا نام دوسری مرتبہ ای سی ایل میں ڈال دیا گیا

وفاقی کابینہ نے چوہدری شوگر ملز کے مقدمے میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا نام دوسری مرتبہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں ڈال دیا ہے۔منگل کو منعقدہ اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز پیش کی جسے کابینہ نے منظور کر لیا۔مزید پڑھیں: ‘کیا مریم نواز ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر والد کی تیمار داری کریں گی’اس سے قبل قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز کے ریفرنس میں بھی مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔مریم نے عدالت میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لندن جانا چاہتی ہیں تاکہ اپنے والد کی تیمارداری کر سکیں۔ای سی ایل کے معاملات دیکھنے والی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے 28دسمبر کو مریم نواز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو صحت سے متعلق رپورٹس 48گھنٹے میں فراہم کرنے کی ہدایتتاہم کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی تھی کہ مریم کا نام دوسری مرتبہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر یا مقدس گائے نہیں

مشکلات میں گھری اپوزیشن حکومت گرا کر مقدمات سے جان چھڑانا چاہتی ہے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاست میں اراضگی معمول کی بات ہے لیکن نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ پی ٹی آئی کے رویے سے شاکی ہیں اور اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اب اختر مینگل سے لے کر پرویز الٰہی تک جو خود تو نہیں بات کرتے لیکن وہ سپیکر ہیں لیکن وہ بہاولپور کے جو اپنے ایم این اے ہیں ان کی زبان سے بولتے ہیں ان سے اس قسم کی شکایات آتی رہتی ہیں بہرحال مقبول صدیقی پہلے ہی کابینہ چھوڑ چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت نہیں چھورے گی اور نہیں چاہے گی کہ حکومت ٹوٹے لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ بات برائے بات ہے ورنہ دراصل یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے معاملے میں لندن میں شہباز شریف بھی تحریک عدم اعتماد لانے کی فکر میں ہی لگتا ہے کہ آخری ریزارٹ کے طور پر عمران خان باری باری سب سے بات کریں گے۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم کایہ نقطہ نظر بھی سامنے آ گیا کہ وہ ملاقات بھی نہیں کریں گے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناراضیاں کچھ زیادہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی بڑی تبدیلی کا پییش خیمہ بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معمول کے مطابق یہ معاملات ناراضگیوں پر ختم ہو جائیں اور دوبارہ معاملات ٹھیک ہو جائیں۔ اس افواہ بارے کہ معاملہ صدارتی نظام کی طرف جا رہا ہے یا صدارتی نظام نافذ ہو گا اور ایمرجنسی کے بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی پیش گوئی مناسب نہیں آنے والے حالات سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کراچی ہے۔ لندن میں جو کچھ ہو رہا ہے جس طرح سے شہباز شریف حکومت کی تبدیلی کی کوششیں کر رہے ہیں زیادہ بہتر نہیں ہو گا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس بنیاد پر اس معاملے کو لے۔ اگر واقعی نوازشریف اتنے بیمار تھے اور ان کو 2دن کے اندر بوسٹن پہنچنا تھا ان کے ٹیسٹ ہونا تھے۔ یہاں تو وہ ایک ایک گھنٹہ گن رہے تھے جبکہ وہ لندن جا کر فروکش ہو گئے ہیں باقاعدہ سیاست کر رہے ہیں حالانکہ ان کو منع کیا گیا ہے۔ کیا پی ٹی آئی کا سیاسی وِنگ کمزور پڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ڈلیور نہیں کر رہی ہے اور کارکردگی میں سب صوبوں سے پیچھے ہے مگر پی ٹی آئی وہاں ان کی پوزیشن کمزور نہیں کر سکی۔ سیاست میں بہت ساری باتیں کہی جاتی ہیں سب کی سب مانی نہیں جاتیں، بنیادی طور پر اپوزیشن مشکلات میں ہے اور اپوزیشن کا حکومت میں آنا اتنا ہی ضروری ہے تا کہ وہ سارا احتسابی عمل حتم کر کے دوبارہ معمول پھر لا سکے۔ اس لئے میرے خیال میں ٹائی اس بات پر پڑی ہوئی ہے کہ کیا اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے یا حکومت کامیاب ہوتی ہے البتہ حکومت نے ایک سال میں اتنی کوتاہیاں ہوئیں مثال کے طور پر مہنگائی صوبائی حکومتوں کا معاملہ ہوتا ہے پی ٹی آئی کی دو صوبوں میں حکومت ہے حکومت ان دو صوبوں میں حالات کو مثالی نہیں رکھ سکی۔لہٰذا یہ لگتا ہے کہ عوام کی طرف سے جو عنصر پایا جاتا ہے وہ دراصل حکومت کی بیڈگورننس کی وجہ سے ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے ایک خط لکھ کر صدر پاکستان کے پاس رکھ دیا ہے کیا صدر ان معاملات کو ڈیل کر لیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ وہ صدر پاکستان آخری آدمی ہیں ان کو ڈیل کرنا پڑے گا اس کے بعد تو پھر کوئی اور آدمی رہ نہیں جاتا۔ سیاسی منظر نامہ 50,50 کا معاملہ چل رہا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ اپوزیشن بہت مضبوط ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی کاررکردگی مثالی نہیں۔ صرف آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہی دیکھ لیں اس میں جتنی حکومت کی جتنی پوزیشن خراب عدلیہ کے سوالات نے کی اور کسی نے بھی نہیں کی۔ لہٰذا عدلیہ کے سوالات نے ثابت کردیا کہ حکومت جو ہے وہ اہل نہیں ہے حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ بات صحیح ہو۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہرحال اس کے باوجود مجھے وہ جونیئر کلرک بھی نظر نہیں آئے جن کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا ہو۔ کہ ان کی وجہ سے مسودے میں غلطیاں تھیں یا بار بار اغلاط ہو رہی تھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومت خود بھی زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ پرانی حکومت کا جو دور تھا اس میں وہ چھوٹا سا کام کرتے تھے اور بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے ایک سال میں خاص طور پر پبلسٹی اور پروجیکشن پر اتنی کم توجہ دی ہے کہ اب آ کر تھوڑی سی کمی پوری ہوتی نظر آتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کا جو سٹائل خاص طور پر پنجاب میں رائج رہا ہے وہ یہ تھا کہ اگر کہیں چھوٹاسا بھی واقعہ ہو جاتا تو چیف منسٹر خود وقت پر پہنچ جاتا اور ہمارے جو موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب ہیں معلوم نہیں وہ بہت اچھا کام کر رہے ہوں وہ بالکل اس بات سے غیر متعلق ہیں کہ ان کو زیادہ پروا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں کیا ویلیو جا رہی ہے۔ اس وقت جو حالات نظر آ رہے ہیں تحریک انصاف کی لیڈر شپ کی غلطیوں یا کوتاہیوں کا تعلق ہے یا آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ واقعی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ ایک سال کے اندر حکومت کی وہ پوزیش ہو گئی ہے جو عام طور پر حکومت کے چوتھے سال میں ہوتی ہے۔ نئے الیکشن کا مطالبہ چوتھے سال ہوتا ہے جو ایک سال کے اندر ہی شروع ہو گیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کی شکایات ہیں۔ حکومت کیوں ساتھ نہیں رکھ سکی۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی ہو یا ن لیگ ہو کا جو نقطہ نظر جلد سے جلد اس حکومت کا خاتمہ ہے تا کہ اس حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی رہائیاں عمل میں آئیں گی اور نیب کا خاتمہ ہو گا اور ان کے لئے مشکل وقت ختم ہو جائے گی۔ وہ سیاست نہیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ نوازشریف کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ جلدی امریکہ پہنچا تھا لیکن اتنی دیر سے لندن میں اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ ایک طریقے سے دونوں طرف مقابلہ ہے حکومت کے مقابل وہ ساری فورسز ہی پیپلزپارٹی، ن لیگ، فضل الرحمان، جماعت اسلامی بی این پی، متحدہ لندن بھی اس میں موجود ہے کہتے یہی ہیں کہ ہمارا ایم کیو ایم لندن سے تعلق نہیں ہے لیکن بہت لوگ جانتے ہیں کہ بہت گہرے رشتے دونوں کے درمیان استوار ہیں۔ اب اصل میں مکمل طور پر اکیلی کھڑی ہے اور حلیف جماعتیں زیادہ سے زیادہ اپنی شرائط منوانے کے لئے ان کو کمزور حالت میں دیکھنا چاہتی ہیں اور اپنی باتیں منوانا چاہتی ہیں، اگر کچھ لوگ حکومت سے ناراض ہیں تو دوسری طرف بھی جا سکتے ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت بہت کم مارجن پربنی تھی۔تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ کامیاب ہو گی یا نہیں ہو گی اگر ایسا ہوا تو سارا پانسہ ہی پلٹ جائے گا اور جو آج ولن ہیں وہ کل کے ہیرو ہوں گے جو آج کے ہیرو ہیں وہ کل کے ولن ہوں گے۔ جس طرح سے نیب کے سرکردہ لوگوں کو نیب کا سست روی کا اندازہ ہے سال گزرنے کے باوجود وہ کوئی زیادہ نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ نظر آ رہا ہے کچھ بھی نہیں ہو رہا حالانکہ بہت کچھ ہو بھی رہا ہے۔

اسحاق ڈار کے گلبرگ میں بنگلہ کی 28جنوری کو نیلامی ،ساڑھے 18کروڑ سے بولی شروع ہو گی

لاہور (نامہ نگار)سابق وزیر خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما محمد اسحاق ڈار کے لاہور کے علاقہ گلبرگ میں واقع چار کنال 17مرلے پر مشتمل گھر کو نیلام کرنے کے لئے اشتہار دے دیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق کوٹھی کی نیلامی 28جنوری بروز منگل دن 12بجے ہو گی۔ ڈی سی لاہور دانش ا فظال کی نگرانی میں نیلامی کا پنڈال ہجویری ہاﺅس میں لگایا جائے گا۔ 12کمروں پر مشتمل چار کنال 17مرلے کی کوٹھی کی سرکاری بولی 18کروڑ50لاکھ روپے مقررکی گئی ہے۔ کامیاب بولی دہندہ کو 25فیصدرقم فوری جمع کروانا ہوگی جبکہ بقایا رقم سات یوم کے اندر، اندر جمع کروانا ہوگی۔ ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ کوٹھی کی نیلامی عدالتی احکامات پر کروائی جارہی ہے ۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع 4 کنال 17 مرلے کا گھرنیلا م کرنے کےلئے اشتہاری جاری کردیا گیا ،7 ایچ گلبرگ ہجویری ہاﺅس کی نیلامی 28 جنوری کو 12 بجے ہوگی۔ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال کی نگرانی میں نیلامی کا پنڈال ہجویری ہاﺅس میں لگایا جائے گا، 12 کمروں پر مشتمل 4 کنال 17 مرلے کی کوٹھی کی سرکاری بولی 18 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر ہے۔کامیاب بولی دہندہ کو 25 فیصد رقم فوری جمع کروانا ہو گی جبکہ باقی رقم 7 یوم کے اندر جمع کروانا ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر دانش افضال کا کہنا ہے عدالتی احکامات پر اسحاق ڈار کی کوٹھی کی نیلامی کروائی جا رہی ہے۔

ن لیگ نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی، فیصل واوڈا پروگرام میں بوٹ لے آئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہاتھ میں بوٹ لے کر آگئے۔نجی ٹی وی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا بوٹ لے کر آئے۔ انہوں نے بوٹ ہاتھ میں پکڑ کر ن لیگ اور پارٹی کے حوالے سے انتہائی سخت انداز اپنایا اور کٹیلے سوالات کیے جس پر لیگی رہنما جاوید عباسی اور پی پی رہنما قمر زمان کائرہ پروگرام سے اٹھ کر چلے گئے۔دونوں رہنماں کے پروگرام سے جانے پر فیصل واوڈا نے تبصرہ کیا یہ یہی کرسکتے ہیں، 35 سال سے یہ جو سمجھتے آئے ہیں وہی سمجھ رہے ہیں، یہ چور لٹیرے ہیں ، اپنا مطلب ہو تو لیٹ جاتے ہیں، یہ لوگ ہمیشہ الیکشن چوری کرکے اقتدار میں آئے آج میں نے ان کو بے نقاب کیا اس لیے پروگرام سے چلے گئے۔ فیصل واوڈا نے سابق وزیر اعظم کی صحت کے حوالے سے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے سے پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ وہ بیمار نہیں ہیں بلکہ باہر بھاگنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف کی بیماری ڈرامہ ہے۔ مریم نواز کس کی عیادت کرنے بیرون ملک جانا چاہتی ہیں؟ مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔ پیپلزپارٹی کے قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اگر بوٹ سامنے رکھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ جو کرایا ہے فوج نے کرایا ہے تو ان کے کہنے کا مطلب ہے پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ان کے کہنے پر نہیں فوج کے دباﺅ پر ووٹ دیا ہے۔