All posts by Muhammad Afraz

شدید دھند سے مزید مشکلات کا سامنا ،حد نگاہ کم ،ٹرینوں کا شیڈول متاثر ،سردی کی شدت مزید بڑھنے لگی

لاہور (جنرل رپورٹر) ملک کے بیشترعلاقوں میں شدید سردی اور میدانی علاقوں میں دھند چھائی رہی جس سے ٹریفک کی روانی متاثر اور ٹرینوں کا شیڈول درہم رہم ہوگیا، اس صورتحال میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی سے گلگت تک سردی ہی سردی، میدانی علاقوں میں دھند کا راج برقرار رہا جس سے معمولات زندگی متاثر ہو گئے، پنجاب اور سندھ میں دھند اندھا دھند چھا گئی، موٹر ویز اور نیشنل ہائی وے پر حد نگاہ انتہائی کم رہی، ڈرائیوز کو مشکلات کا سامنا رہا۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو فوگ لائٹس استعمال کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئیں۔اٹک، کندیاں، چشمہ، پپلاں اور صادق آباد میں بھی دھند کے باعث لوگ پریشانی سے دوچار رہے۔ سندھ کے بعض علاقے بھی دھند میں گم رہے۔ ٹرینوں کا شیڈول بھی دھند کے باعث بری طرح متاثر ہوا ۔ کراچی سے آنے والی قراقرم ایکسپریس 7 گھنٹے 55 منٹ تاخیر سے لاہور پہنچی، کراچی ایکسپریس 4 گھنٹے 50 منٹ، ملت ایکسپریس 12 گھنٹے 40 منٹ، پاک بزنس 10 گھنٹے اور پاکستان ایکسپریس 8 گھنٹے 50 منٹ تاخیر کا شکار ہوئی۔محکمہ موسمیات نے کہا کہ آئندہ چند روز کے دوران ملک بھر میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا، کم سے کم درجہ حرارت سکردو میں منفی18، استور منفی 12، بگروٹ منفی 11، گلگت منفی 08، کالام منفی 05 اور قلات میں منفی 04 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام آباد 2، لاہور 6، کراچی 9، فیصل آباد 3 اور ملتان میں 6ریکارڈ کیا گیا۔

اپوزیشن نے نیب آرڈنینس کو این آر او کی ماں قرار دیدیا

اسلام آباد، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی نے قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس کو مدر آف قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او)قرار دے دیا۔ دوسری جانب اس حوالے سے پی پی رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جب آصف زرداری نے کہاکہ نیب اور معیشت ساتھ نہیں چل سکتے تو کہا گیا ہم این آر او مانگتے ہیں لیکن اب نیب آرڈیننس لاکر حکومت نے اپنے ساتھیوں کو این آر او پلس دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنےساتھیوں کو بچانے کے لیے نیب میں ترامیم متعارف کرائیں، نیب اب صرف 2 سیاسی جماعتوں کا احتساب کرسکے گی۔پی پی رہنما کا کہنا تھاکہ یوٹرن کی حد ہوگئی، عمران خان کا فائنل یوٹرن نزدیک ہے، یہ ان کی سیاست کا آخری یوٹرن ہوگا، جب سلیکٹڈ کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے تو انہیں یوٹرن دے دیا جاتاہے۔یاد رہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف نیب کارروائی نہیں کرے گا جب کہ ترمیمی آرڈیننس سے ٹیکس اور اسٹاک ایکسچینج سے متعلق معاملات میں بھی نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوجائے گا۔ مصطفی نواز کھوکھر اور چودھری منظور نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس این آراو ہے یا این آراو پلس ہے جب کہ نیب آرڈیننس کے حوالے سے عدالت میں نہیں جانا چاہتے، پارلیمنٹ میں بات کریں گے۔ہم سیکورٹی کے حوالے سے پولیس کے شکر گزار ہیں، یہ خود جلسے کریں تو ٹھیک ،اپوزیشن کو اجازت نہیں، اب ہم پنجاب کے آٹھ سے دس اضلاع تک جلسے کریں گے، ہم نے پہلا فیز کارساز سے شروع کیا تھا، اب ہم نے دوسرا فیز لیاقت باغ سے شروع کیا ہے۔ نیب آرڈیننس میں اصلاحات کی بات کی تو کہا گیا این آر او مانگ رہے ہیں۔ اب مالم جبہ اور بی آر ٹی میں اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے نیب آرڈیننس لایا گیا۔ نیب کے ذریعے صرف اپوزیشن جماعتوں کا احتساب ہو رہا ہے۔حکومت کی گھبراہٹ اور عمران خان کے جھوٹ بے نقاب ہو رہے ہیں۔ ہم ہر معاملہ عدالت میں نہیں لے جانا چاہتے۔ نیب آرڈیننس پر پارلیمنٹ میں بات کریں گے جبکہ نیب آرڈیننس عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔پاکستان مسلم لیگ(ن)نے بھی وزیراعظم کا نیب آرڈیننس مسترد کر دیا۔ ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی عوام کے لیے بڑی خبر ہے کہ عمران خان اپنی حکومت کے ہر منصوبے کی انکوائری روکنے کے لیے نیب آرڈیننس لا رہے ہیں، سلیکٹڈ حکومت کا نیب آرڈیننس اپنی کرپٹ حکومت اور دوستوں کو این آر او دینے کی سازش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے جھوٹے الزامات کے باوجود سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا۔مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر چوری نہیں کی تو اپنی حکومت کے کرپشن میں ڈوبے منصوبوں کی نیب انکوائری بند کرنے کے لیے آرڈیننس کیوں لا رہے ہیں؟ جنہوں نے چوری نہیں کی ہوتی وہ اپنے آپ کو نواز شریف، شہباز شریف اور مسلم لیگ(ن)کی طرح خود احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔

سردی سے بچاﺅ کے لیے مستحق افراد کو پناہ گاہوں میں خصوصی سہولتیں دی جائیں،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایات کی ہیں کہ سردی کی شدت کے پیش نظر کوئی بھیشخص جائے پناہ سے محروم نہ رہے اور دونوں حکومتیں پہلے سے موجود پناہ گاہوں میں جگہ نہ پانے والے اضافی افراد کیلئے خوراک اور عارضی پناہ گاہوں کا فوری بندوبست یقینی بنائیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو یہ ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ شدید سرد موسم میں کوئی بھی شخص پناہ گاہ سے محروم نہ رہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پناہ گاہوں کا قیام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے ابتدائی منصوبوں میں سے ایک تھا۔ پنجاب حکومت پہلے ہی لاہور میں ریلوے سٹیشن، ٹھوکر نیاز بیگ، بادامی باغ، داتا دربار اور لاری اڈا کے مقامات پر5 پناہ گاہیں قائم کر چکی ہے جبکہ دو مزید پناہ گاہوں کا قیام پائپ لائن میں ہے۔ پنجاب حکومت نے ضرورتمند اور بے گھر افراد کو شیلٹر ہومز کی فراہمی کے پیش نظر 36 اضلاع میں پناہ گاہوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح کے پی کی حکومت بھی مختلف شہروں میں بے گھر افراد کو سائبان اور خوراک فراہم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں تین پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جہاں بے سہارا اور بے گھر افراد کو قیام و طعام کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نا قابل تصور خوبصورتی چھپائے ہوئے قدرتی شاہکار اور سیاحت کے لا محدود مواقع رکھنے والی سر زمین ہے۔ برطانیہ کے ٹریول میگزین وینڈ لسٹ میں ” پاکستان کے سب سے زیادہ حیران کن 9قدرتی شاہکار “ کے عنوان سے چھپنے والے آرٹیکل کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے کمنٹس میں یہ بات کہی ۔ برطانوی میگزین کی ویب سائٹ کے مطابق وینڈر لسٹ برطانیہ کا نمایاں خود مختار ٹویول میگزین ہے ۔ جو دنیا بھر کے سیاحوں کو سیاحت کے وستیاب مواقع ، سیاحتی مقامات کی نمایاں خصوصیات کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات کے فوٹوز اور ان علاقوں کے بارے میں حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرتا ہے۔ پاکستانمیں سیاحت کی استعداد کے بارے میںمیگزین نے لکھا ہے کہ ”کوہ ہمالیہ کی بلند ترین جادوئی وادیوں اور خوبصورت جغرافیہ کے باعث پاکستان کو 2020ءکی بہترین سیاحتی سرزمین قرار دیاگیا ہے جہاں ہر سیاح پرامن ماحول میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں“ پاکستان میں حیران کن قدرتی مناظر کی فہرست میں میگزین نے بلتورو گلیشیئر، وادی نیلم، ہنگول نیشنل پارک، ٹرانگو ٹاورز، دیوسائی کے میدان، تھر کے صحرا، سیف الملوک، وادی ہنزہ اور ایبٹ آباد جھیل کو شامل کیا ہے۔ میگزین کے آرٹیکل میں ” پاکستان میں لازم کرنے والے 13بہترین کام“ ”پاکستان کی 7خوبصورت ترین مساجد“ اور ”چار ایسے تجربات جوآپ کو پاکستان کی محبت میں گرفتار کر سکتے ہیں“ کے عنوان سے لکھے گئے تین مزید آرٹیکلز کا لنک بھی دیا گیا ہے۔ یہ مضامین پاکستان کی ثقافت، رسم و رواج، روایات اور تاریخی ورثہ کے حوالے سے ماضی قریب میں برطانوی میگزین نے شامل کئے ہیں۔

لکھنو میں پاکستان زندہ باد کے نعرے،بھارت مردہ باد کی آوازیں بھی گو نجتی رہیں

نئی دہلی (نیٹ نیوز) پاکستان زندہ آباد کا نعرے کشمیرکے بعد پورے بھارت میں پھیل گیا ہے۔ تفصیل مطابق شہریوں کو پاکستان جانے کے لئے کہنے والے پولیس آفسر نے اعتراف کر لیا۔ بھارتی پولیس افسر نے اعتراف کیا ہے کہ نوجوانوں نے پولیس اور بھارتی فوج کو دیکھ کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ پولیس افسر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ نوجوان پولیس اور بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ گئے اور پتھراﺅ بھی کیا۔ پھر سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ تاہم پولیس افسر کا کہنا ہے کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کو گرفتار کیاجائے گا۔بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر میروٹ کا ایس پی شہریوں کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ تم لوگ پاکستان چلے جاﺅ ورنہ جیل میں ڈال دوں گا۔ ویڈیو میں بھارتی پولیس آفیسرکو دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔یاد رہے بھارت میں متنازعہ شہریت بل پر بی جے پی کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ نئی دہلی احتجاج میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاﺅس کی جانب مارچ شروع کردیا تھا۔ بھارتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نئی دہلی احتجاج میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاﺅس کی جانب مارچ کیا۔ جس کے بعد دہلی بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ احتجاج میں پولیس کی فائرنگ سے 27 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ واضح رہے بھارت میں نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر اقلیتوں کو بھی دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔ شہریت بل کیخلاف نئی دہلی احتجاج میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاﺅس کی جانب مارچ شروع کردیا تھا۔ جس کے بعد دہلی بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ مظاہروں کے دوران 27 سے زائد افراد کو بھارتی پولیس نے فائرنگ کر دیا ہے۔ بھارت میں بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگ گیا۔ مراد آباد میں کانگریس کی ریلی میں پاکستان کی حمایت میں لگنے والا نعرہ بھارتی میڈیا کو ذرا بھی نہ بھایا۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی وادی میں گونجنے والا نعرہ بھارت کی ریاست اتر پردیش تک جا پہنچا۔ بھارتی ریاست یوپی میں کانگریس کی ریلی نکالی گئی جس میں بھارتی حکومت سے تنگ وہاں کی عوام نے پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کردیئے۔ریلی میں لگنے والے پاکستان زندہ باد کے نعرے بھارتی میڈیا کو ذرا نہ بھائے اور وہ ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہا۔بھارتی میڈیا یہ بھی یاد رکھے کہ بھڑکتی ہوئی یہ وہ آگ ہے جو ان لوگوں کے سینوں میں تقسیم کے وقت سے دبی ہے، یوپی اوربھارتی پنجاب کے بیشتر علاقے ان کی مرضی کے بغیر بھارت میں شامل کیے گئے۔پاکستان کے اندرونی معاملات پر انگلی اٹھانے والا بھارت ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لے۔ کشمیر کے بعد یوپی بھی پاکستان زندہ باد۔ کہہ رہا ہے، بس مقبوضہ وادی کی طرح سبز ہلالی پرچم بلند ہونا باقی ہے۔

صوبوں کواہمیت دیں

وزیر احمد جوگیزئی
پاکستان کی فیڈریشن میں جو فیڈ ریٹنگ یونٹس ہیں وہ سندھ ،پنجاب ،بلوچستا ن ،کے پی کے ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں ۔کل تک تو پاکستان کی فیڈریشن میں سرکاری طور پر قبا ئلی علاقے بھی شامل نہیں تھے لیکن آج الحمدللہ قبا ئلی علاقے کو با قاعدہ طور پر خیبر پختون خوا میں شامل کر لیا گیا ہے ۔اولیف کیروئے ،(olaf caroe) جوکہ عرصہ دراز تک خیبر پختون خوا کے ایڈ منسٹریٹر رہے ،انھوں نے 1958ءمیں پاکستان کے ایک نجی دورے کے دوران کہا کہ اگر قبائلی علاقے پاکستان کے ریگولر قانون کے تحت لے آئے جائیں تو یہ بہت بڑا کام ہو گا اور بہت ہی اچھا کام ہو گا ۔اس کام سے نظام کو دھچکا تو لگے گا لیکن یہ کام عمدہ ہو جائے گا ۔چلیں اس معاملے میں تو دیر آید درست آےد کا محا ورہ فٹ بیٹھتا ہے یہ کام بے شک دیر سے ہی لیکن انجام تو پاگیا ۔
قبائلی علا قے پاکستان کے قانون کے تحت تو آ گئے ہیں ۔لیکن میں بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس فیڈریشن کو یعنی کہ پاکستان کی فیڈریشن کو چلانے کے لیے ،چاہے اسلام آباد میں حکمران کو ئی بھی ہو اس کو فیڈ ریٹنگ یو نٹس کو چلانے کے لیے بہت ہی خوش اسلوبی ،فراخ دلی کے ساتھ صوبوں کی خوا ہشات کو پوری کرنا اسلام آباد کا اولین فرض ہے ۔اگر فیڈریشن میں کسی یونٹ کو اچھا اور کسی کو برا سمجھے جائے گا یعنی کہ صوبوں کے درمیان پسند اور نا پسند کے معا ملات چلائے جائیں گے اور صوبوں کے درمیان فرق روا رکھا جائے گا تو فیڈریشن کی بیسک سکیم ( basic scheme) کو نقصان پہنچے گا اور اس حوالے سے حال ہی میںسندھ اور وفاق کے درمیان پیش آئے واقعات کی بات کرتا ہوں ۔یہ خبریں تواتر سے سامنے آتی رہی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے کراچی کے دوروں کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کو خبر تک نہیں دی جاتی ۔اور وزیر اعلیٰ کو وزیر اعظم کے دوروں سے متعلق اطلا عات اخبار اور ٹی وی کے ذریعے ملتی رہی ہیں اور سرکاری طور پر ان کو آگاہ نہیں کیا جاتا ۔وزیر اعظم کا وزیر اعلیٰ سندھ کو ائر پورٹ پر یا پھر اپنی میٹنگز میں مدعو نہ کرنا اپنا سیاسی فرض سمجھتے ہیں جو کہ سراسر ایک غلطی ہے اور یہ غلطی فیڈریشن کو نقصان دیتی ہے ۔کیا کراچی کے مسائل کو حل کرنا پورے پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے ؟ کیا بلوچستان کی محرومیاں اور پسماندگی پورے ملک کا مسئلہ نہیں ہے ؟ کیا بلوچستان کی گیس سے پورا ملک مستفید نہیں ہوا ؟ اور پھر بعد میں اس گیس کی قیمت کو جب ( divisible assests) میں ڈالا گیا تو اس کی قیمت کم سے کم رکھی گئی اور باقی صوبوں کے گیس کے ترقیاتی اخراجات بڑھا چڑھا کر بنائے گئے تاکہ بلوچستان کو گیس کا ریونیو نہ ملے اور بلوچستان کی آبادی ہی کتنی ہے ؟ جتنی بھی ہے ان کو ہر طریقے سے تعلیم بھی پہنچائی جا سکتی تھی اور صحت بھی پہنچائی جا سکتی تھی ۔اور بلوچستان کو اپنے ریسورس کو ڈویلپ کرنے میں مد د بھی دی جا سکتی تھی ۔بلوچستان کو اور بلوچستان کے عوام کو جو اصل میں خوف اور خطرہ ہے کہ ان کے وسائل پر قبضہ نہ کر لیا جائے ۔
دیکھنے کی اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سوئی گیس 1952ءمیں دریافت ہو ئی ۔اور سال 2000ءتک اس گیس کی حفاظت پر کوئی خرچہ نہیں ہو رہا تھا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ پی پی ایل اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان ایک معاہدہ موجود تھا جس کے تحت گیس کی حفاظت نواب اکبر بگٹی کی ذمہ داری تھی جس کے لیے ان کو یقینا معاوضہ بھی ملتا تھا ۔لیکن جب پی پی ایل کی نجکاری کی گئی اور او جی ڈی سی کا قیام عمل میں لایا گیا تو انھوں نے نواب صاحب کو معا وضے کی ادائیگی میں ہچکچاہٹ محسوس کی اور یہی ہچکچاہٹ ہی وفاق اور نواب صاحب کے درمیان مسائل پیدا کر گئی اور اسی چپقلش میں آخر کار نواب صاحب کی جان بھی چلی گئی ۔ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگر بلوچستان کی معدنیات کو ترقی دینی ہے تو جس علاقے میں معدنیات نکلیں اس علاقے کے لوگوں کو جوائنٹ اسٹارٹ کمپنی بنا کر دیں اور کام کو آگے بڑھائیں ۔جس طریقے سے ریکوڈک کیس کو ہینڈل کیا گیا اور اس معاملے کو الجھا کر رکھ دیا گیا اس طریقے سے بلوچستان ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی بلوچستان کی مدفون شدہ دولت کا پاکستان کو کوئی فائدہ ملے گا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کے لیے ایک خاص انداز میں ایک خصوصی ترقیاتی پلان بنایا جائے تب جا کر ہی بلوچستان کی ترقی کے خواب کی تعبیر عمل میں آسکتی ہے ورنہ دوسری صورت میں اسلام آباد کی زیادتیاں اسی طرح جاری رہیں اور جس طرح کا طرز عمل سندھ میں اپنایا گیا اسی طرح کا سلوک باقی صوبوں کے ساتھ بھی کیا جائے گا تو حکومت کے ناکام ہونے میں کو ئی کسر باقی نہیں رہے گی ۔
اب اس پیرائے میں کچھ بات کرتے ہیں ہماری خارجہ پا لیسی کی ۔جو حالت ہماری داخلی معاملات میں ہے وہ ہی حالت خارجی معا ملات میں بھی ہے ۔ہم فیصلہ نہیں کر پاتے کہ پاکستان کا بھلا کیسے کریں ،مقروض تو ہم ہیں ہی لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ پاکستان کے جو دوست پہلے ہی بہت کم ہیں ،ترک صدر اردگان اور ملا ئیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ہمارے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا تھا ۔اور پھر ہمارے وزیراعظم صاحب نے خود ہی اس پروگرام کے سلسلے میں منعقد ہونی والی کا نفرنس میں شرکت ہی نہیں کی ۔اور اس خوف سے نہیں کی کہ ایک دوست ملک جس کے ہم بہت مقروض بھی ہیں وہ ناراض نہ ہو جائے اور اسی لیے ہمارے وزیر اعظم نے کو الا لمپور کانفرنس میں شرکت نہیں کی ۔اس کانفرنس میں شرکت نہ کرکے بھی یقینا پاکستان کے دوست تو دوست ہی رہیں گے لیکن اس فورم سے کشمیر کے حوالے سے جو پریشر بھارت پر آنا تھا وہ آیا لیکن اتنا نہیں جتنا آسکتا تھا ۔اس دنیا کے جتنے بھی مسا ئل ہیں وہ گفت و شنید سے حل ہو تے ہیں اور گفت و شنید کے لیے بھی بنیادی تیاری ضروری ہو تی ہے ۔پاکستان کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک خاص جا رحانہ پالیسی کو استوار کریں اور اس حوالے سے خارجہ ماہرین کو پالیسی بنانے میں شامل کریں ،ان ہی کے ذریعے ہی خارجہ پالیسی کو چلائیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں ۔بد قسمتی سے کشمیر کے معاملے میں بھی ہم موثر نہیں رہے ہیں جو قرار دادیں کشمیر کے حوالے سے یو این میں منظور ہو ئیں ان کا درست انداز میں کبھی فالو اپ ہی نہیں کیا گیا جو کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے ہمیں پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ان معاملات پر توجہ دینے اور ان میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭

پاک و ہند کا نظام ۔ استحکام اور انتقام(2)

افتخار گیلانی
ہندوستان میں اعلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری حکومت اور جوڈیشری کے درمیان ایک ایشوبنا ہوا ہے۔ فی الوقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججوں پر مشتمل ایک کولجیم، نام سلیکٹ کرکے ، حکومت کو بھیجتی ہے، جو خفیہ اداروں سے کوائف وغیرہ معلوم کرکے صدر کے پاس سفارش بھیجتی ہے، جہاں سے تقرری کا آرڈر جاری ہوتا ہے ۔ ایک طرح سے جج ہی ججوں کو منتخب کرتے ہیں۔ جو کسی بھی جمہوری ملک کو جہاں پارلیمنٹ کو فوقیت حاصل ہوتی ہے، زیب نہیں دیتا ہے۔ اس عمل کو صاف و شفاف بنانے کے لیے حکومت نے پارلیمنٹ سے نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن بنانے کا ایک قانون پاس کیا تھا ۔جس کے ممبران میں وزیرا عظم، وزیر قانون،حکومت کی طرف سے نامزد دو معروف قانون داں ، چیف جسٹس اور دیگر جج شامل تھے۔ مگر چند سماعتوں کے بعد ہی سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے اس کو مسترد کردیا۔ حکومت نے بھی اس قانون کو پھر واپس لاگو کروانے کی ضد نہیں کی۔ یہ معاملہ ہندوستان میں ہنوز موضوع بحث ہے۔
پاکستان میں عدالتوں کو آمر حکمرانوں نے وقتاً فوقتاً استعمال کیا ہے ۔ مگر جمہوری حکمرانوں نے بھی کچھ کم کسر نہیں چھوڑی ہے۔ جس طرح وزیر اعظم نواز شریف کے حامیوں نے 1997 میں چیف جسٹس کے چیمبر اور سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا، کسی ملک میں بھی اس طرح کی حرکت کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔پھر 1998 میں ایک آرمی چیف کو بیک جنبش قلم معطل کرنا اور پھر ایک سال بعد دوسرے آرمی چیف کو اس وقت معطل کرنا ، جب وہ غیر ملکی دورہ سے واپس آکر جہاز میں ہی تھا۔ اور اس پر طرہ کہ جہاز کو لینڈ کرنے کی اجازت نہ دینا بس یہی ظاہر کرتا ہے کہ طاقت کے نشے میں چور حاکم دیگر اداروں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر ان کی تذلیل کرارہا ہے۔ اس طرح کے حاکم کو پھر حالات کے پلٹتے ہی بدلہ کےلئے بھی تیار رہنا چاہیے۔ہندوستان میں 1998 میں بحریہ کے سربراہ وشنو بھاگوت کو حکومت کے ساتھ اختلافات کی بناپر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ ایڈمرل کا ٹائٹل بھی ان سے چھینا گیا۔ اس وقت کے وزیردفاع جارج فرنانڈس نے اپنے چیمبر میں بلا کر حکومت کے فیصلہ سے ان کو آگاہ کیا۔ واجپائی حکومت کی اتحادی پارٹی تامل ناڈو کی آل انڈیا انا ڈی ایم کے پارٹی نے اس کو ایک ایشو بناکر حمایت واپس لےکر حکومت ہی گرا دی۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان میں فوجی سربراہ بس ایک مہرہ ہوتا ہے۔ کابینہ کی سلامتی سے متعلق امور کمیٹی میں اس کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے۔سکیورٹی اداروں کے ان پٹ کے بغیر شاید ہی وزیر اعظم کوئی فیصلہ کرنے کامتحمل ہوسکتا ہو۔
2007 میں جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن گلیشئر سے فوجوں کی واپسی کے ایک معاہدے پر دستخط ہونے ہی والے تھے، کہ آرمی چیف جنرل جوگندر جسونت سنگھ نے شمال مشرقی صوبوں کا دورہ کرتے ہوئے میڈیا میں اس کے خلاف ایسے وقت بیان دیا کہ جب پاکستان کاسیکرٹری دفاع دہلی میں ایگریمنٹ پر دستخط کرنے کے لیے آیا ہوا تھا۔ سنگھ کے بیان کے بعد ایگریمنٹ پر دستخط کرنے کی تقریب ہی منسوخ کردی گئی۔2001میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ اور پھر 2008میں ممبئی حملوں کے وقت جب واجپائی اور پھر منموہن سنگھ نے بالترتیب کابینہ کی سلامتی سے متعلق امور میٹنگ میں آرمی اور دیگر سروسز چیف سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کےلئے کہا تو ان کو بتایا گیا کہ ملک ایک طویل جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔بتایا گیا کہ ملک میں اسٹریٹجک تیل کے ذخائر اور ایمونیشن کے 12 سے 15دن کی مکمل جنگ برداشت کر سکتے ہیں۔ مگر واجپائی نہ منموہن سنگھ نے فوج کی اس کمی کو کبھی ایشو بنایا۔ بلکہ فوج، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کو بتایا گیا کہ وہ یہ بتائیں کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہیں مگر اس کا فیصلہ سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ دونوں وزراءعظم کو ملک کے سخت گیر طبقہ نے خوب ملامت کا نشانہ بنایا ۔ مگر انہوں نے اس تنقید کو فوج تک پہنچنے نہیں دیا۔
مجھے یاد ہے، نومبر 1996 میں پاکستان میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کی معزولی کی خبر جب بی بی سی سے نشر ہو رہی تھی، میں کچھ ساتھیوں کے ہمراہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ان کا پہلا ردعمل یہ تھاکہ کرپشن اور دیگر الزامات کے باوجود ایک منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔جمہوریت کے ثمرات انقلابی نہیں بلکہ ارتقائی ہوتے ہیں۔دونوں ملکوں ہندوستان اور پاکستان میں جمہوری نظام میں بہتری لانے کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔جنوبی ایشیا کی سیاست کا ایک وصف مشترک ہے۔ وہ یہ کہ یہاں پوری سیاست ایک شخص کی انانیت اور ذات کے گرد محصور ہوجاتی ہے۔ یہاں ذاتی وفاداری کو اہمیت دےکر اور فیصلوں میں من مرضی پر اڑکر، پارٹی کی اندرونی جمہوریت کا جنازہ نکال کر رکھ دیاجاتا ہے۔ مگر نریندر مودی نے اس کی اندرونی جمہوریت کا اب جنازہ نکال کر رکھ دیاہے۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے مڈل کلاس بھی ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کی 125کروڑ کی آبادی میں مڈل کلاس کا تناسب21.36فیصد ہے جبکہ پاکستان کی 25کروڑ کی آبادی میں اس طبقہ کی تعداد صرف 6.8فیصد ہے۔ دونوں ممالک میں جمہوری نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ویسٹ منسٹر پارلیمانی نظام میں امیدوار ووٹروں کو ذات برادری اور مذہب کے خانوں میں بانٹ کر اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔ جس طرح وزیرا عظم کی تقرری کے لیے لازم ہے کہ ایوان میں اس کو 50فیصد سے زائد اراکین کی حمایت درکار ہونی چاہیے ، اسی طرح امیدوار پر بھی لازم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے حلقہ کے 50فیصد رائے دہندگان کی حمایت حاصل کرے۔ میں اس جانب اشارہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سادگی کا مطلب بد حالی ہر گز نہیں ہے۔سادگی میں ایک خوبصورتی اور کشش ہوتی ہے جسے اس خوبی کو اپنانے والا بخوبی دیکھ سکتا ہے۔ پاک صاف اور باوقاررہنے کے لئے پیسے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گاندھی جی کی نصیحتوں کو یورپ کے سیاست دانوں نے حرف بہ حرف اپنا لیا ہے لیکن مہاتما گاندھی کے پیروکاروں نیز آخری رسول کو ماننے والوں نے ان تعلیمات کو بہت پہلے ہی بھلا دیا ہے جس کا انجام آج عوام کو بدحالی اور تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں آزادی کے بعد فرسودہ اور ناقص انتخا بی نظام کے نتیجہ میں جمہوری لبادہ میں اشرافیہ (Oligarchy)کا جو طبقہ معرض وجود میں آیا، اس نے ملک کے وسائل اور دولت کو دونوں ہاتھوں لوٹا ہے۔ (ختم شد)
(بشکریہ: دی وائر اردو)
٭….٭….٭

2020ئ۔ امیدیں اور توقعات

چوہدری ریاض مسعود
نئے عیسوی سال 2020ءکا آغاز ہو رہا ہے۔ 2019ءمیں پاکستانی عوام کے مسائل اور مشکلات میں جس قدر تیزی سے اضافہ ہواوہ ہماری سیاسی تاریخ کی کتاب میں رقم ہو چکے ہیں۔ قوم کو مضبوط معیشت کے لارے لگا کر جس طرح ان پر مہنگائی اور بیروزگاری کے بم گرائے گئے‘ صنعتی و تجارتی پہیے کو جام کر کے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کیا گیا‘ ٹیکسوں کا جال وسیع کر کے جس طرح ملکی پیداوار اور برآمدات میں کمی ہوئی اس کا تمام تر ذمہ دار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی سابق حکومتوں کو ٹھہراتے ہوئے سخت شرائط پر غیرملکی قرضے لے کر جس طرح ”نئے پاکستان“ کو قرضوں کے مزید بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے اس سے 2019ءکے دوران اس قوم کی مایوسیوں اور ناامیدیوں میں یقینا اضافہ ہوا ہے۔
2019ءکا سال اس لحاظ سے بھی بدقسمت ہے کہ اس دوران حکومت اور اپوزیشن‘ حکومت اورعوام کے درمیان فاصلے پہلے سے بڑھے ہی ہیں۔وزیراعظم ہر پلیٹ فارم پر زور شور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اخبارات میں مافیا بیٹھا ہوا ہے جن کی روزی بند ہونے سے وہ حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ ملک میں ہر سطح پر غیریقینی اور بے چینی کی سی صورتحال نمایاں رہی ہے۔ حکومت کی ناقص اور ڈنگ ٹپاﺅ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں ڈالر نے روپے کو ناک آﺅٹ کیے رکھا وہاں افراط زر اور شرح سود میں اضافہ‘ شرح منافع میں کمی‘ برآمدات اور قومی بچتوں میں کمی‘ مہنگائی اور بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ‘ مجموعی قومی پیداوار اور شرح نمو میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل میں ریکارڈ اضافہ تحریک انصاف کی حکومت کے کھاتے میں ہی جاتا ہے۔ کرپشن کرپشن کا شور مچا کر عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے حکمرانوں سے اب عوام منہ موڑتی جا رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہر معاملے میں ڈیڈ لاک جیسی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اتحاد و اتفاق‘ برداشت اور رواداری کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔ ہر طرف سے بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔
گرفتاریوں کا موسم‘ مقدمات کا موسم‘ پکڑ دھکڑ کا موسم‘ ضمانتوں کا موسم‘ بدلتی فضاﺅں کا موسم‘ سرد ہواﺅں میں گرم ہواﺅں کا موسم اور نہ جانے کس کس قسم کے موسم‘ جھکڑ‘ طوفانوں کا ہر طرف چرچا ہے۔ ہر طرف سونامی جیسی لہریں بلند ہو رہی ہیں نہ جانے اس کی زد میں کون کون آتا ہے۔ ان حالات میں ہماری عوام نئے سال 2020ءمیں کس طرح کی امیدیں اور توقعات وابستہ کر سکتی ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ ساری قوم دعا گو ہے کہ نئے سال میں کشمیریوں کو بھارتی ظلم و ستم سے مکمل نجات ملے اور حق خودارادیت ملے۔ کشمیری عوام بھی اپنی 72 سالہ طویل جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر آزادی کی صورت میں حاصل کر سکیں۔ یاد رہے کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہو چکا ہے اور پاکستان کو عالمی رائے عامہ خاص طور پر مسلم امہ کی بھرپور مدد اور تعاون حاصل کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو کر کام کرنا ہوگا۔ شہریت کے نئے متنازعہ اور ظالمانہ قانون کی وجہ سے بھارت کا مکروہ سیکولر چہرہ پہلے ہی عالمی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ اس وقت بھارت کی کئی ریاستوں میں آزادی کیلئے تحریکیں چل رہی ہیں‘ جن کا فائدہ پاکستان اٹھا سکتا ہے‘ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے اندر سیاسی اور معاشی استحکام ہو۔ حکومت اور اپوزیشن اس مسئلے پر یکساں نظریات اور پالیسی رکھتی ہو۔ اگر 2020ءمیں ایسا ہو جائے تو بھارت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔
پاکستانی عوام یہ دلی خواہش رکھتی ہے کہ عالمی سطح پر ملکی ساکھ بحال بھی ہو اور مستحکم بھی ہو اس سلسلے میں بیرون ممالک میں قائم پاکستان کے سفارت خانوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔ اس وقت دنیا میں مختلف ممالک کے درمیان اقتصادی طور پر مضبوط اور مستحکم ہونے کی صحت مندانہ جنگ جاری ہے۔ ہم اپنی ناقص حکمت عملی‘ ناکام منصوبہ بندی اور معاشی ماہرین کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اس میدان سے کہیں دور ہیں۔
2020ءمیں عوام یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہو گی کہ ہم دنیا کے ترقی یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط ممالک کی صف میں شامل ہوں ‘ہم کشکول گدائی کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیں۔ مشکل صورتحال کا سامنا کرنا اور اپنے وسائل پر بھروسہ کرنا سیکھیں۔ یہ کام موجودہ خراب اقتصادی صورتحال میں مشکل تو ضرور ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر متحد ہو کر حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔ انہیں یہ قابل عمل اعلان بھی کرنا ہوگا کہ 2020ءکے دوران ہم کوئی نیا قرضہ کسی صورت میں بھی نہیں لیں گے۔ ہم قرضوں کی آڑ میں کسی کی بھی غلامی قبول نہیں کریںگے۔ ہم ایک باہمت اور مضبوط قوم کی طرح دولت مند سامراج کے سامنے ڈٹ جائیں گے‘ ساری دنیا کو علم ہے کہ پاکستانی قوم کسی وقت بھی خواب غفلت سے بیدار ہو کر متحد ہو سکتی ہے اسی لیے وہ پاکستان میں انتشار پھیلانے‘ یہاں صوبائیت‘ لسانیت اور فرقہ واریت کی گھناﺅنی سازش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان ملک دشمن طاقتوں کی ڈور بھارت ہلاتا ہے۔ انڈین را (RAW) کے ایجنٹ کلبھوشن یادو کے سیاہ کرتوت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے پاکستان کی بہادر افواج نے بلوچستان سے گرفتار کر لیا تھا۔ یقینا عوام کو اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے اور دہشت گردوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے کارنامے پر دنیا ہر سطح پر ہماری بہادر افواج کی کارکردگی کو سراہتی ہے۔ پاکستانی عوام یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ نئے سال 2020ءکے دوران ملک میں ہر طرف امن‘ سلامتی‘ سکون‘ اتحاد‘ اتفاق‘ رواداری‘ بھائی چارہ‘ ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔ ان تمام مقاصد کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ 2020ءکو قومی حمیت کا سال سمجھتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے آزادی حاصل کریں۔ قرضوں کی زہر آلودگولیاں ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں۔ ہمیں سال 2020ءکے آغاز سے بھی اس بات کا تہیہ کرنا چاہئے کہ ہم عالمی اداروں اور ”این جی اوز“ کی ملک دشمنی پر مبنی رپورٹوں پر کبھی بھی یقین نہیں کریں گے کیونکہ وہ اپنے مخصوص مفادات کے حصول کیلئے خود ساختہ رپورٹیں جاری کرتی رہتی ہیں۔
سال 2020ءکے دوران ہمیں اللہ کی دی ہوئی لازوال نعمتوں‘ قدرتی وسائل‘ معدنی دولت اور افرادی قوت کو ملک و قوم کی خوشحالی کے لیے استعمال کرنے کی قابل عمل پالیسی اپنانی ہو گی۔
بلوچستان میں پائے جانے والے قیمتی معدنی ذخائر سے استفادہ کرنے کی بجائے ہم بلوچستان اور اس کے عوام کو پسماندہ رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ادارے کو بڑی طاقتیں ان معدنی ذرائع اور گوادر کے پانیوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔ سال 2020ءمیں حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک میں قدرتی وسائل سے استفادہ اور سیاحت کی دولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی پالیسی کا واضح اعلان کرے۔ زراعت کے شعبے میں انقلاب لانے کیلئے 8لاکھ ہیکڑ قابل کاشت لیکن بیکار پڑی ہوئی اراضی کو استعمال کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں بے شمار مقامات پر ہربل میڈیسن پارک بنائے جا سکتے ہیں۔ آج کے دور میں ہربل میڈیسن دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اس لیے 2020ءمیں حکومتی ماہرین کو اس اہم شعبے کی طرف خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ حکومتی معاشی اور مالیاتی ماہرین اس بات کا تہیہ کر لیں کہ وہ نہ فرضی اعدادوشمار جاری کریں گے اور نہ ہی فرضی اعدادوشمار پر اپنی خوش کن پالیسیاں بنائیں گے۔ وہ سال 2020ءمیں عوام کو حق اور سچ بتائیں گے اور کسی صورت میں بھی اس پر سیاست نہیں کریں گے۔
ریاست مدینہ کے قیام کے نعرے لگانے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ سچائی کبھی ”جھوٹ کے دبیز سیاہ پردوں“ میں بھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ عوام کو حقائق بتانے سے ہی صورتحال کی اصلاح کے لیے منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ سال 2019ءمیں حکومتی ترجمان مسلسل یہ دعوے کرتے آ رہے ہیں کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت مضبوط ہو رہی ہے حالانکہ عوام کی مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے دلدوز چیخیں نکل رہی ہیں اور حکمران ہر وقت ”چین کی بانسری“ بجا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انہیں عوام کے حقیقی مسائل کا کیسے علم ہو سکتا ہے؟ اب چند دنوں سے حکومتی ترجمان ایک یو ٹرن لے کر نیا پکا راگ الاپ رہے ہیں کہ سال 2020ءمیں عوام کو مضبوط معیشت کے ثمرات ملنا شروع ہو جائیں گے حالانکہ ہماری باشعور عوام کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ قرضوں پر چلنے والی معیشت مہنگائی کی شکل میں عوام کو صرف ”کڑوے اور بے کار پھل“ ہی دے سکتی ہے۔
جس ملک میں تیل‘ گیس‘ سونے اور دیگر کئی اقسام کی قیمتی معدنی دولت موجود ہو اور وہاں 2019ءکے دوران تیل گیس‘ بجلی اور سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں‘ مہنگائی میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہو چکا ہو وہاں 2020ءمیں کہاں دودھ اور شہد کے چشمے اُبل سکتے ہیں؟
یہ حقیقت ہے عوام کو تحریک انصاف کی حکومت سے بہت سی امیدیں اور توقعات وابستہ تھیں لیکن اپوزیشن کےساتھ بے مقصد محاذ آرائی نے جمہوریت اور سیاست دونوں کا ”تیا پانچہ“ کر دیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ رسہ کشی اور تناﺅ کی وجہ سے ملک و قوم کی ترقی کا خواب خواب ہی رہا۔ایسی صورتحال میں اصلاح احوال کے ہلکے سے بھی آثار نظر نہیں آ رہے۔ ابھی سال 2020ءکے آغاز میں ہی چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا اہم مسئلہ بھی درپیش ہونا ہے اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں قانون سازی کا مرحلہ بھی طے ہونا ہے۔ عوام کو امید بھی ہے اور توقع بھی ہے کہ یہ دونوں مشکل مرحلے حکومت اور اپوزیشن باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے متفقہ فیصلہ کر لیں تو ہمارے ہر طرح کے اور ہر سطح کے مسائل حل ہو سکتے ہیں‘ لیکن دونوں کی ہٹ دھرمی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جسے دور کرنے کے لیے کوئی بھی فریق تیار نہیں ہے۔ ہمارے ان غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے سال 2020ءہم سب کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

قانون کی اہمیت

منظور احمد عارف
برطانیہ کے سابق آنجہانی وزیراعظم ہیرلڈ ولسن 1945ءمیں پارلیمنٹ کے رکن بنے اور وہ 1964ءمیں برطانیہ کے وزیراعظم منتخب ہوئے‘ لیکن انہوں نے مارچ 1967ءمیں اچانک استعفیٰ دے کر پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سیاست میں آئے تھے تو انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہو جائیں گے‘ آج ان کی عمر ساٹھ برس ہو گئی ہے چنانچہ وہ اقتدار اور سیاست دونوں کو خیرباد کہنے کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ برطانیہ کی تاریخ کے ایسے وزیراعظم تھے جنہیں رخصت کرنے کے لئے ملکہ برطانیہ الزبتھ خود۔ 10ڈاﺅننگ سٹریٹ گئیں ولسن اس لحاظ سے حیران کن شخصیت کے مالک تھے کہ انہوں نے اپنے دوراقتدار میں ایسے بے شمار فیصلے کئے جن کے نتیجہ میں پوری دنیا میں برطانیہ کے وقار میں اضافہ ہوا‘ ہیرلڈ ولسن نے ویتنام کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے معذرت کرلی۔ انہوں نے عالمی مشترکہ منڈی کے معاملہ پر ریفرنڈم کرایا اور بین الاقوامی دباﺅ کے باوجود برطانوی پاﺅنڈ کی قیمت کم کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے دنیا میں پہلی اوپن یونیورسٹی بھی قائم کی۔ ہیرلڈ ولسن کے دور میں ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا جو آگے چل کر برطانیہ میں قانون اور انصاف کے لئے بڑا ہی اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ 1966ءمیں جاپان کے وزیراعظم ساتوایساکوا نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ یہ جاپان کے کسی وزیراعظم کا پہلا دورہ تھا‘ جاپانی وزیراعظم نے ایئرپورٹ سے سیدھا ولسن کی سرکاری رہائش گاہ پر جانا تھا‘ جب جاپانی وزیراعظم کا قافلہ سنٹرل لندن پہنچا تو اس وقت ولسن پارلیمنٹ ہاﺅس میں تھے‘ ولسن نے وقت کا اندازہ لگایا۔ ان کے پاس صرف پانچ منٹ تھے اور وہ پانچ منٹ میں 10ڈاﺅننگ سٹریٹ نہیں پہنچ سکتے تھے‘ لہٰذا انہوں نے فوراً پولیس چیف کو فون کیا اور اسے اپنا مسئلہ بتایا اور اس سے درخواست کی کہ اگر وہ چند لمحوں کے لئے ٹریفک رکوا دیں تو وہ جاپانی وزیراعظم کے استقبال کے لئے وقت پر پہنچ سکتے ہیں‘ جس پر پولیس چیف نے فوراً انکار کر دیا‘ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ”سر اس ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں جس کے ذریعے ہم وزیراعظم کے لئے ٹریفک رکوا سکیں“ ولسن نے اپنی مجبوری دہرائی لیکن اس کے جواب میں پولیس چیف نے کہا ”سر آپ لوگ لا میکر ہیں‘ اگر آج آپ لا بریک کریں گے تو کل برطانیہ کا ہر وزیراعظم قانون توڑے گا‘ دوسرا یہ کہ اگر آپ لا بریکر وزیراعظم کے طور پر تاریخ میں جانا چاہتے ہیں تو میں ٹریفک رکوا دیتا ہوں‘ جس پر ہیرلڈ ولسن خاموش ہوگئے اور فون بھی بند کر دیا‘ دنیا کے تمام قانون دان‘ تمام دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ قانون ایک دھارے کی طرح ہوتا ہے‘ جو ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے‘ جس طرح آبشاریں ندیاں اور دریا اونچائی سے اتروائی کی طرف آتی ہیں۔ اسی طرح قانون‘ انصاف اور اخلاقیات بھی حکمران طبقے‘ اشرافیہ اور سیاستدانوں سے عوام کی طرف بہتی ہیں‘ کسی ملک میں قانون کا کتنا احترام کرنا چاہئے اس کا فیصلہ حکمران طبقے کا رویہ کرتا ہے۔ جب کسی ملک کے حکمران پیسے دے کر کسی باغ کا پھل توڑتے ہیں تو اس ملک کے سارے باغ اور سارے باغبان ہمیشہ کے لئے چوروں‘ ڈاکوﺅں اور اچکوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب کسی ملک کا حکمران ٹریفک کے سگنل پر کھڑا ہوتا ہے تو پورا ملک ریڈ سگنل کا احترام کرتا ہے‘ قوموں اور ملکوں کے قوانین بھی بالائی طبقوں سے ٹوٹنا اور جڑنا شروع ہوتے ہیں‘ اگر کسی ملک کا حکمران طبقہ قانون کا احترام کرتا ہے تو پورا ملک قانون کو اپنا جزوایمان بنا لیتا ہے لیکن اگر حکمران قانون روندنے لگیں تو اس ملک سے قانون‘ انصاف اور امن تینوں رخصت ہو جاتے ہیں‘ قانون قوموں کی بنیادی طاقت ہوتا ہے‘ آپ امریکہ کی ایک مثال پر غور فرمائیں‘ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ایک وقت امریکہ کے طاقتور ترین حکمران تھے‘ اس قدر طاقتور کہ اس نے پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود افغانستان اور عراق پر حملہ کیا ان ملکوں میں تہس نہس مچا دی اور دنیا کا کوئی حکمران‘ کوئی ملک اس کا راستہ نہ روک سکا‘ لیکن اس کی اپنی دو بیٹیاں ٹیکساس میں شراب نوشی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار ہوئیں‘ عدالت میں پیش ہوئیں‘ عدالت نے انہیں سزا سنائی اور سابق صدر بش اپنے تمام تر اختیار کے باوجود انہیں سزا سے نہ بچا سکے۔ امریکہ کے ہی ایک سابق صدر بل کلنٹن نے ایک بار کہا تھا کہ ”امریکہ کا قانون ایک ایسی قوت ہے جو ہمیں پوری دنیا پر حکومت کرنے کی طاقت دیتا ہے“۔
تو یہ ہوتا ہے قانون اور قانون کی اہمیت‘ آج اگر امریکہ طاقتور ہے تو اس کی وجہ اس کا قانون اور اس قانون کا احترام ہے اور پھر آج ہمارے ولسن تو برطانیہ کے ہزاروں ولسنوں سے زیادہ مضبوط اور زیادہ بااختیار ہیں دیکھنا یہ ہے کہ قانون کا احترام کیا ہے اور کس قدر ہے‘ کتنے لوگوں کے خلاف قانون توڑنے کے جرم میں کارروائی ہوئی کتنے لوگوں کو سزائیں ہوئیں کتنے لوگوں کا محاسبہ ہوا کتنے مفاد پرست سیاستدانوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا‘ کتنے صاحب اقتدار کی کارکردگی سے بائیس کروڑ عوام کو آگاہ کیا گیا۔ کتنے آئین توڑنے اور ملک توڑنے والوں کو ان کے کئے دھرے کا خمیازہ بھگتنا پڑا‘ کیا ہمارے حکمران ہوا میں ہی تلواریں چلاتے رہیں گے یا پھر ان دکھوں کا کوئی مداوا بھی ہو گا کیا ہماری آئندہ نسلیں اسی ماحول میں پرورش پاتی رہیں گی یا ان کا کوئی مستقبل سنہری بھی ہو سکے گا۔ آج ہمارے سامنے بے شمار ملکوں کی مثالیں موجود ہیں جن پر عملدرآمد کرکے اس ملک کے مستقبل کو بھی درخشاں بنایا جا سکتا ہے۔
قانون کی پاسداری کا ایک واقع گزشتہ سال 16اکتوبر کو دیکھنے میں آیا وہ اس طرح کہ انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو کو ٹریفک جام میں پھنس جانے کے بعد فوجی تقریب میں شرکت کیلئے تیز دھوپ میں دوکلومیٹر پیدل چلنا پڑا فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدرجوکو ودودوسینئر حکام کے ساتھ دارالحکومت جکارتہ سے اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ساحلی شہر سیلے کون میں ملکی فوج کے 72ویں یوم تاسیس کی تقریب شرکت کیلئے روانہ ہوئے۔ ان کا قافلہ اپنی منزل مقصود کے قریب پہنچ کر شدید ٹریفک جام میں پھنس گیا اور گاڑی میں آدھ گھنٹہ تک انتظار کرنے کے بعد صدر نے فوجی تقریب میں پہنچنے کیلئے سخت دھوپ میں چل کر جانے کا فیصلہ کیا اور گاڑی سے اتر کر پیدل چلنا شروع کردیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقع کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد متعلقہ محکموں کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تاہم صدر نے پیدل چلنے میں کوئی عار محسوس نہ کی انہوں نے ٹریفک قوانین کی پابندی کرکے ایک مثال قائم کردی فرض شناس اور قانون پاسداری سب کیلئے مقدم ہوتی ہے کیا ہمارے کبھی کوئی ایک ایسا واقع رونما ہوا ہے بلکہ اس کے برعکس ہمارے ملک کے صدر مملکت حال ہی میں ملک کے نئے صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جب اپنے آبائی شہر کراچی میں پہلی مرتبہ پہنچے تو ہوائی اڈا سے نکلنے کے بعد ان کے قافلے میں بیسیوں گاڑیاں آگے پیچھے موجود تھیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کو راستہ ناپنے میں سخت دشواری پیش آئی اور اس واقع پر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کافی ذکر خیر بھی ہوتا رہا جس پر صدر مملکت کا یہ بیان بھی شائع ہوا کہ انہوں نے تو متعلقہ محکموں کو منع کردیا تھا اور آئندہ محکمے اور اعلیٰ حکام احتیاط کریں گے کہ عوام کو آمدورفت میںدشواری پیش نہ آئے۔ ان ہدایات پر کتنا عمل ہوتا ہے یہ آئندہ دیکھنے میں آئے گا۔
اس قسم کے واقعات ہمیں دعوت فکر دیتے ہیں کہ ہم اس امر پر غور کریں کہاں ہے وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اور کہاں ہیں وہ ریاست مدینہ کے دعویدار جبکہ اسلام تو اس بات کا درس دیتا ہے کہ اللہ کی نظر میں سب انسان برابر ہیں اور کسی کالے کو گورے پر یا گورے کالے پر فضیلت حاصل نہیں۔ اسلام میں تو ہر حکمران اپنی قوم اور اپنے عوام کا خادم تصور کیا جاتا ہے ہمارے حکمران تو حکمران عام آفیسر تک عوام کے کتنے خادم ہیں ایسے واقعات ہمیں دعوت فکر دیتے ہیں کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور اپنے اندر ایسی سپرٹ، قابلیت، جذبہ خود داری، ہوشمندی، جرا¿ت، رواداری اور خوداعتمادی پیدا کریں اور اپنے آنے والے وقتوں کیلئے ایسے عوامی نمائندوں کا انتخاب کریں جوکہ صحیح معنوں میں عوام کے خادم کاکردار ادا کریں اور اقتدار، عہدے یا اختیارات، ہونے یا ملنے کے باوجود عوام کے خادم خاص ثابت ہوں کہ یہی اسلامی اصول یا رواداری کا تقاضا ہے ۔
(کالم نگارقومی اورسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سیکولر بھارت کا مسلم دشمن ایجنڈا

عبدالستار اعوان
بھارتی صحافی اور ادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب ’دی اینڈ آف انڈیا‘میں لکھاتھا : ”بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ‘پاکستان یا کوئی اور ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے متعصبانہ رویوں کی بدولت خود کشی کا ارتکاب کر ے گا “۔ تقسیم ہند کے بعد بھارتی آئین میں ”سیکو لرازم “ (Secularism) کا لفظ واضح طور پر شامل کیا گیا تھااور بھارتی حکمرانوں اور اداروں نے ہر دور میں یہی بلند وبانگ دعوے کیے کہ بھارت ایک سیکولر نظریے کی بنیاد پر قائم کردہ ریاست ہے ۔ سیکولرسٹیٹ کا مطلب تھاکہ یہ ریاست کسی خاص مذہب اور فرقے کے نظریات کی علمبردار نہیںہوگی اوریہاں تمام مذاہب کو یکساں حقوق دیئے جائیں گے لیکن عملا ً اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے اوریہ ریاست اگر کسی کے لئے جنت کا روپ دھار چکی ہے تو وہ صرف اور صرف ہندو انتہاپسند ہیں باقی تمام مذاہب کے لئے یہ سرزمین تنگ کی جارہی ہیں اور ان سے زندہ رہنے کا حق چھینا جا رہا ہے ،بلکہ ہندوو¿ں میں بھی ملیجھ اور اچھوت ایسی اقلیتیں ہیں جن کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور اعلیٰ ذات کے ہندو اور ریاستی ادارے انہیں قابل ذکر مقام او ر بنیاد ی حقوق دینے کو تیار نہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسی ریاست میں ہو رہا ہے جو سیکولر نظریات کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔
یوںتو اس ریاست کے قیام کے فور ی بعد ہی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف متعصبانہ رویوں کو بھرپور طورپر فروغ دیا گیا تاہم جب سے نریندر مودی نے اقتدارسنبھالاہے مسلمانوںکی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے ۔ حال ہی میں (مورخہ11دسمبرکو)مودی اور اس کے حواریوں کی ایک اور فسطائیت اور مسلم دشمنی کا بد ترین مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب ایوان بالا میںایک متنازعہ شہریت بلCAB(Citizenship Amendment Bill) منظورکیاگیا۔ یہ بل واضح طور پر مسلم مخالف ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ دوسرے ممالک (بالخصوص بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان)سے بھارت آنے والے ہندوﺅں ، بودھوں ، سکھوں اور عیسائیوں کوبھارتی شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں ۔دوسرے لفظوں میں اس بل سے بی جے پی کا مسلم دشمن ا یجنڈابالکل واضح ہوگیا ہے کیونکہ جب بنگلہ دیش ، پاکستان ، افغانستان اور دیگر ریاستوں سے ہندو بھارت کا ر±خ کر یں گے تواس سے بھارتی مسلمان مزید اقلیت میں تبدیل ہوکر کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔
یہ تو ا س بل میں واضح کیا گیا ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والے مسلمانوں کوقبول نہیں کیا جائے گاجبکہ سیکولر بھارت کا اصل چہرہ یہ ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والے اپنے ہی مسلم با شندوں کوبھی برداشت کرنے کوتیارنہیں۔ اس نام نہاد سیکولر ریاست کی تنگ نظری دیکھیے کہ اس متنازعہ بل کے نفاذ کے لیے بھارتی سپریم کورٹ بھی باقاعدہ ایک فریق بن گئی ہے اور اس نے اس بل کے نفاذ کو روکنے کی درخواستیں مسترد کی ہیں۔ یوں اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ” سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل“ کا نفاذ مودی سرکار اور بھارتی سپریم کورٹ کا مشترکہ ایجنڈا ہے ۔
شہریت بل کی منظور ی کے بعد شمال مشرقی ریاست آسام سے شروع ہونے وا لے مظاہرے دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی ریاستوں میگھالے، مغربی بنگال، اروناچل ، اترپریش، کیرالہ، ہریانہ اور پنجاب تک پھیل گئے ہیں۔ان مظاہروں کی اہم بات یہ ہے کہ ان میں اکثریت طلبہ اور نوجوان نسل کی ہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آبادسمیت ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ پولیس اور فوج مظاہرین پر وحشیانہ تشدد کر رہی ہیں اور اب تک دودرجن سے زائد ا فراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام پر ہم چپ رہے، بابری مسجد کا غیر منصفانہ فیصلہ سامنے آیاہم صبر کر گئے اور اب ایک بالکل متنازعہ شہریت بل منظورکر کے مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے اور ایک متنازع قانون پراحتجاج کرنے پر ہم پر گولیاں برسائی جا رہی ہیںلیکن ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم نے بہت ظلم برداشت کرلیا اب مزید جبر و تشدد ہم سے برداشت نہیں ہو سکتا ۔
بل کی مخالفت کے حوالے سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اسے مسترد کیاہے۔ کلکتہ کے وزیراعلیٰ ممتا بینر جی کی قیادت میںدس ہزار سے زائد افراد نے متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کیاہے۔ اس موقع پر ممتا بینرجی کاکہنا تھاکہ مغربی بنگال میں اس بل کا نفاذ میرے لاش سے گزرکر ہو گا۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کامل ناتھ بھی اس بل کے خلاف جلسوں اور ریلیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ” انڈیا میک“ نہیں بلکہ ” انڈیا ریپ“ ہو رہا ہے۔کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی نے اپنے ہی عوام کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔ایک ہندو طالب علم شری کمار نے میڈیا پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریت بل دراصل بھارت کے” سیکولر نظریے“ کی نفی ہے کیونکہ ایک سیکولرریاست کو ایسے قوانین منظور کرنازیب نہیں دیتا۔
دوسری طرف مختلف عالمی اداروں نے بھی اس قانون کو متنازع قرار دیا ہے ۔ خبر ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متنازعہ سٹیزن بل فور ی طور پر ختم کرے کیونکہ ایسے اقدامات عالمی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورز ی ہیں۔اقوام متحدہ نے بھارت کے اس بل کو بنیادی طور پر مسلمانوں کے خلاف ایک امتیازی قانون قراردیا ہے۔جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل گوگل مین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت سیکولر ازم، جمہوریت اور پلورل ازم(اجتماعیت) کی روایات کو اپنے ہاتھوں سے ختم کررہی ہے ۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ تمام ریاستیں بھارت کے اس اقدام کی مخالفت کریںکیونکہ مودی اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا مقصد مسلمانوں کی محرومیوںمیں اضافہ کر ناہے۔امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھی اس بل کو غلط سمت میں ایک خطرناک قدم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔
یوں اس بل کے حوالے سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی مودی سرکار حمایت کھوبیٹھی ہے اور اسے شدید تنقید کا سامنا ہے ۔ اگر فوری طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروںنے مودی حکومت کو ایسے اقدامات سے نہ روکا تونفرت پر مبنی ان پالیسیوں کے پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جب سے بی جے پی برسراقتدار آئی ہے بھارتی مسلمانوں کا مستقبل داﺅ پر لگا دیا گیاہے ، مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ قوانین منظور کیے جارہے ہیں اور متعصبانہ کارروائیوں ، نفرت آمیز رویوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو اہے ۔ انہی حالات کے پیش نظرمختلف عالمی ادارے اور تجزیہ کار مودی سرکار کو” سیکولر ازم“ کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں اور ان کے اقدامات کو ”سیکولر ازم “کے تابوت میں آخری کیل کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے ۔ ان حالات کے تناظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت جلد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا ہے اور بقول خشونت سنگھ :”پاکستان یا کوئی بھی دوسرا ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے متعصبانہ رویوں کی بدولت خود کشی کا ارتکاب کر ے گا “۔
(کالم نگارسماجی وادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

جہانیاں :لڑکے لڑکی کی پسند کی شادی سے دوگھر تباہ ،معاشرہ کس طرف جا رہا ہے،ضیا شاہد

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جہانیاں کے قریب تھانہ ٹبہ سلطان کی حدود میں انیس سالہ لڑکے احسن جاوید کی اسی گاﺅں کی انیس سالہ لڑکی رافعہ تبسم سے پسند کی شادی جرم بن گئی۔پنچایت کے فیصلے پر لڑکی کو واپس والدین کے گھر بھیج دیا گیا جہاں بھائیوں نے اس پر تشدد کیا لڑکی واپس شوہر کے پاس گئی تو بھائیوں نے پچیس کے قریب لوگوں کے ساتھ مل کر لڑکے کے گھر دھاوا بول دیا فائرنگ کی لڑکے کی دادی کو بہت پیٹا ساتھ لے گئے اور پندرہ دن اغوا کئے رکھا خاتون کو نشہ آور اشیاءکھلاتے رہے بعد میں پولیس نے بوڑھی خاتون پٹھان بی بی کو بازیاب کرایا لیکن خاتون تاحال غائب ہے مقدمہ درج کیا تاہم ملزم آزاد ہیں۔شاہدرہ کے تھانہ فیروز والا علاقہ رانا ٹاﺅن میں خاوند نے دوسری بیوی نرگس سے مل کر پہلی بیوی عابدہ کو قتل کر دیا لاش کو گلے میں پھند ا ڈال کر موٹر سائیکل کے پیچھے باندھ کر جوہڑ میں پھینک دیا۔ دوسرے کیس میں شاہدرہ کے علی نواز کھوکھر نے دو شادیاں کر رکھی تھیں ایک نرگس سے جبکہ دوسری مقتولہ عابدہ سے جس کے چار بچے تھے نرگس کی اولاد نہ تھی جس کا اسے غم تھا۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تاہم ابھی تک گرفتاری نہیں ڈالی۔سینئر صحافی ضیاءشاہد نے کہا کہ میں نے پہلا ایم اے عربی میں کیا،قرآن پاک اور احادیث مبارکہ بھی پڑھیں عربی شاعری بھی پڑی ذوالفقار بھٹو کی سربراہی میں پہلی اسلامی سمٹ میں جس میں شاہ فیصل بھی آئے تھے اس میں میں میرٹ پر مترجم بنا میری ڈیوٹی مصری صدر انوار السعادات کے ساتھ لگی دو دن ان کے وفد کے ساتھ بطور مترجم رہا ۔احادیث مبارکہ اور قرآن پاک بغیر ترجمے کے پڑھ سکتا ہوں۔ چینل فائیو کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شادی بیاہ کے سلسلے میں نبی کریم کے پاس جتنے معاملات آئے آپ نے فرمایا شادی بیاہ میں لڑکے لڑکی کی رضامندی شامل کی جائے۔لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا لیکن عام طور پر لڑکی کی خاموشی کو ہی رضا مندی سمجھ لیا جاتا ہے۔لڑکی نے قبول نہیں کہا تو نکاح نہیں ہوتا لڑکی جب تک دل و زبان سے اقرار نہیں کرتی شرعی طور پر نکاح نہیں ہوتا۔شادی کے سلسلے میں بچوں کی رضا مندی کو پیشگی اہمیت دیں بجائے اس کے کہ لڑکا لڑکی بھاگ کر شادی کر لیں خود بڑے ان کی شادی کرائیں۔حدیث کے مطابق مالی طور پرزیادہ فرق نہ ہو ایسا نہ ہو کہ لڑکا بالکل کماتا ہی نہ ہو صرف یہ کہ لڑکی تیار ہے تو بھگا کر لے جائے ۔عام طور پر پولیس کے بارے کہا جاتا کہ پولیس نے گرفتاری تو کی لیکن گرفتاری ڈالی نہیں۔پولیس آفر کا انتظار کر رہی ہے کس پارٹی کی طرف سے زیادہ پیسہ ملتا ہے۔ایسے کیسز عام طور پر ایڈیشنل آئی جی کے پاس گئے ہیں ٹیلی فون پر ان سے بات ہوئی انہوں نے کہا وہ دونوں پر ایکشن لیں گے۔میرے خیال میں سیدھا کیس ہے فرانزک کی تو ضرورت نہیں۔خاتون کی لاش موٹر سائیکل کے پیچھے باندھی گئی گھسیٹی گئی کیسے ہو سکتا ہے کسی نے دیکھا نہ ہو۔گواہ تلاش کرنا بہت ضروری ہے ہمارا نمائندہ اس پر کام کرے۔جسٹس ر طارق افتخار نے کہا کہ پسند کی شادی پر عام طور پر ہمارے معاشرے میں لڑکی والے رد عمل دیتے ہیں۔لڑکے کی دادی کو پندرہ روز اغواءکئے رکھنا سنگین جرم ہے۔اسلام میں لڑکا اور لڑکی بالغ ہوں تو شادی کر سکتے ہیں البتہ ایسی شادی کرنے والوں کو معاشی معاملات بھی مدنظر رکھنا چاہئیں۔لڑکے کی دادی پر بڑا ظلم ہوا اس کا کیا قصور تھا۔میرے خیال میں زیادہ جذباتی پن نہیں دکھانا چاہئے انیس سال کی عمر میں شاید لڑکا مالی طور پر کمزور ہو گا۔دوسرے کیس میں درندگی کی انتہاءکر دی گئی چار بچوں کی ماں کا قتل پھر لاش کی بے حرمتی بڑا ظلم ہے۔پولیس نے گرفتاری کیوں نہ ڈالی۔ کرمنل کیسز میں جلد انصاف ضروری ہے۔نمائندہ خبریں راشد علی نے بتایا کہ پٹھانی بی بی کے مطابق اسے نشہ آور انجکشن لگائے جاتے رہے عدالت کے حکم پر ملزمان کے خلاف مقدمہ ہوا تاہم مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں انصاف دیا جائے۔