All posts by Muhammad Afraz

سیہون: عدالتی چیمبر میں لڑکی سے زیادتی، سول جج کے خلاف مقدمہ درج

سیہون شریف میں عدالت میں انصاف مانگنے کے لیے آئی لڑکی سلمی بروہی سے چیمبر میں مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے پر پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سیہون مظہر نائچ کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں سول جج امتیاز بھٹو کو نامزد کیا گیا۔مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (زیادتی) اور 506 (ہراساں) کے تحت سیہون تھانے میں درج کیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی ایس پی سیہون، بشیر کونہارو نے لاڑکانہ کے دارالامان میں لڑکی سلمی بروہی کا بیان رکارڈ کرکے رپورٹ اعلی حکام کے حوالے کی تھی جس کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات ملے اور پولیس نے مقدمہ درج کیا۔زید پڑھیں: سیہون: خاتون کے جسم پر کسی تشدد یا خراش کا نشان نہیں، طبی رپورٹخیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے سیہون میں تعینات جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے مبینہ طور پر شکایت گزار خاتون کا ریپ کرنے پر انہیں معطل کردیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جوڈیشل مجسٹریٹ کو معطل کر کے فوری طور پر ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ گھر چھوڑ کر پسند کی شادی کے خواہشمند جوڑے کو پولیس نے 13 جنوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا

ملک بھر میں آٹے کا بحران انتظامی کمزوری کا نتیجہ ہے ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے اتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آٹے کا بحران ہر سال جنوری، فروری میں گندم کی فصل آنے سے قبل آتا رہتا ہے جو اس برس بڑے بحران کی شکل میں سامنے آیا ہے البتہ یہ بحران ملک کے دوسرے صوبوں خیبر پی کے، بلوچستان اور سندھ میں آتا رہا ہے پنجاب میں آٹے کا بحران کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ مگر اس بحران کی وجہ شاید گندم کی شدید کمی نہیں ہے بلکہ انتظامیہ اس کی بنیادی وجہ ہے۔ البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ جن لوگوں کی یہ ذمہ داری تھی وہ اپنی ذمہ داری بروقت کیوں پوری نہ کر سکے۔ وزیر، مشیر جن کی ذمہ داری تھی وہ کچھ نہ کر سکے اور وزیراعظم کو خود اس مسئلے کے حل کے لئے 100 چھوٹے دکانداروں سے ملاقات کرنا پڑی۔ حالانکہ یہ مسئلہ وزیراعظم عمران خان کی سطح کا نہیں تھا نچلی سطح پر اس مسئلہ کو حل کیوں نہیں کیا گیا۔

کروڑوں کی زائد المیعاد ادویات فروخت نہ ہونے پر سڑک پر پھینک دی گئیں

لاہور (مہران اجمل خان سے )محکمہ صحت میں اندھیر نگری چوپٹ راج ،ڈرگ انسپکٹرز کی نااہلی کے باعث زائد المعیاد ادویات سڑکوں پر پھینک دی گئیں، شفا ءلیبارٹریز پرائےویٹ لمیٹڈ کی10سال قبل ایکسپائر ہونی والی لاکھوں گولیاں اور انجیکشن فروخت نہ ہونے پر لاہور کی مین پر پھینکے گئے، خطرناک حد تک زائد المعیاد ادویات کی سڑکوں پر موجودگی انسانی جانوں کےلئے خطرے کا باعث بننے لگی، انجیکشن ڈیکسامیتھاسون ، بروسیپن ، آکسی ٹوسن ڈائپیرون اور پیرا سیٹا مول ، اینا فین ، ڈائپیرون گولیاں بغیر چیک اینڈ بیلنس کے مارکیٹ میں فروخت ہوتی رہیں ، چینل فائیو اور خبریں کی نشاندہی پر ڈرگ کنٹرول یونٹ کو ہوش آگیا ، تمام ادویات اپنے قبضے میں لے لیں ۔ گزشتہ رات نامعلوم افراد کی جانب سے ادویات سے بھرا ٹرک شہر کی مین شاہراہ پر پھینکا گیا تھا جس میں ادویات ساز کمپنی شفا ءلیبارٹریز کی مختلف پروڈکٹس موجود تھیں ۔ ڈرگ کنٹرول یونٹ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کثیر تعداد میں غیر معیاری ادویات کا سٹاک کئی گھنٹے سڑک پر پڑا رہا اور شہری جیبیں بھر کر ادویات اپنے گھروں کو لے جاتے رہے ۔ دن دیہاڑے ڈرگ انسپکٹرز مبینہ طور پر بھتہ خوری کرتے ہیں جبکہ رات کے اندھیرے میں انسانی جانوں سے کھیلنے والی ادویات ساز کمپنیوں کو ادویات مین شاہراہوں پر پھینکنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ چینل فائیو اور خبریں کی نشاندہی پر سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) عثمان انور نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے چیف ڈرگ کنٹرولر کو ادویات کا سٹاک قبضے میں لینے کا حکم دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا ۔ گھناﺅنے دھندے میں لوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔چینل فائیو اور خبریں کا ایک اور اعزاز، کروڑوں روپے مالیت کی زائد المعیاد ادویات کی بروقت نشاندہی کر کے اسے مخصوص طریقے سے تلف کرنے کے لئے محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کو رات گئے آگاہ کیا ۔ جس پر لاہور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی نے سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرکے احکامات پر اٹھا کر محفوظ مقام تک پہنچایا ۔

احساس ہونے لگا مسلمان ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتا، نصیرالدین شاہ

نئی دہلی (نیٹ نیوز) بولی وڈ کے لیجنڈری اداکار 69سالہ نصیرالدین شاہ نے بھارت کے موجودہ حالات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ 70سال بعد اب انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ مسلمان ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتے۔ ایوارڈ یافتہ اداکار نے بھارتی حکومت کی جانب سے دسمبر 2019میں بنائے گئے متنازع شہریت قانون اوراس کے خلاف مظاہرے کرنے والے افراد اورطلبہ پر تشدد کئے جانے پر پہلی بار خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ حالات سے خوفزدہ تو نہیں مگر انہیں غصہ ضرور ہے۔

فلور ملز مافیا اور چکی مالکان نے آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کیا ،خبریں ،چینل ۵نے اہم معلومات حاصل کر لیں

لاہور(نامہ نگار )صوبائی درالحکومت سمیت پنجاب بھر میںآٹے کی قیمتوں میں بے جا اضافہ جاری ، اوردستیابی کامسئلہ حل نہ ہوسکا ، چینل فائیوخبریں نے آٹے کے مصنوعی بحران کی بڑی وجہ کے حوالے معلومات حاصل کرلیں، پنجا ب میں 20کلوآٹے کی سرکاری قیمت 805روپے مقرر جبکہ دوسرے صوبوںمیںیہی تھیلا 1200سے لے کر1300روپے تک فروخت ہورہا ہے ،فلو ر ملز مالکان زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے پنجاب کی بجائے دیگر صوبوںکو سپلائی دینے کو ترجیح دینے لگیں۔ضلعی انتظامیہ ،محکمہ خوراک صوبائی درالحکومت میں آٹے کی دستیابی اور قیمتیںمستحکم کرنے میں ناکام ،فلور ملز مالکان کی چاندی ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمتوں میں کم از کم 100 روپے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اضافہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس میں کئی عناصر شامل ہیں۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں آٹے کی قیمت نہیں بڑھی۔ ہاں چکی کی قیمتوں کا فرق ضرور آیا ہے۔‘ان کا کہنا تھا پورے پنجاب میں فلور ملز کا آٹا 783 روپے ایکس مل اور 805 روپے میں ریٹیل ہورہا ہے۔ ’پنجاب میں چکی مالکان نے آٹے کے ریٹ بڑھا دیے ہیں اسی وجہ سے بحران کی صورتحال بنی ہے۔ اس حوالے سے چینل فائیو خبریں کو زرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق صوبائی درالحکومت سمیت پنجاب بھر میں20کلو آٹے کے تھیلے کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ فلور ملز مالکان کی جانب سے 10اور20کلو کے آٹے کے تھیلوں کی سپلائی دوسرے صوبوںکودینا بتائی جارہی ہے زرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ ۔کے پی کے اور بلوچستان میں 20کلو کا تھیلہ 1200سے لے کر 1300روپے تک فروخت ہورہا ہے جس کے باعث فلور ملزمالکان کی کوشیش ہے کہ وہ اپنے کوٹہ کا زیادہ تر آٹا پنجاب میںدینے کی بجائے دوسرے صوبوں کو فروخت کرکے زیادہ منافع کمائے جس میں محکمہ خورارک کے بیشتر افسران وملازمین کی بھی مبینہ ملی بھگت بتائی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ آٹے کی دستیابی کو یقینی بنانے ا ور سرکاری ریٹ پر فروخت کروانے میں بری طرح ناکام ہوتی نظر آرہے ہیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دعوے تو کیے جارہے ہیںمگرمقامی مارکیٹوںمیںآٹامناسب مقدار میں دستیاب نہ ہونے اور اضافی نرخ وصول کرنے کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہے اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ شہر بھر میںموجود تمام فلور ملزکو مانیٹرکیاجارہاہے اور تما م تحصیلوںکے اسسٹنٹ کمشنرز فلور ملز کے باقاعدہ دورے کررہے ہیں ۔

آٹا بحران جاری ،سبزیاں ،دالیں ،مرغی کا گوشت بھی مہنگا ،

لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی، کوئٹہ، گلگت (نمائندگان خبریں) ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول نہ پایا جا سکا، کراچی سے گلگت تک آٹا 75 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔ شہری مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ پشاور اور ہزارہ سمیت بیشتر شہروں میں تندور بند ہونے سے بھی لوگ پریشانی سے دوچار ہیں۔ ملتان میں آٹے کے مصنوعی بحران کے سبب عام مارکیٹ میں قلت ہونے پر شہری مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔حکومتی ایکشن، کارروائیاں سب بے سود، ملک بھر میں آٹے کا بحران برقرار، عوام اذیت سے دوچار ہیں۔ کراچی سے گلگت تک آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کا جینا مشکل بنا دیا۔ کئی شہروں میں آٹے کی قیمت 75 روپے کلو تک پہنچ گئی۔ ریلیف سینٹر بھی شہریوں کو ریلیف نہ دے سکے۔لاہور، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں آٹا 70 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے، لاہور میں آٹا چند روز میں مزید 6 روپے مہنگا ہوا۔پشاور اور ہزارہ سمیت بیشتر شہروں میں تندور بند پڑے ہیں ،روٹی کے حصول کیلئے شہری دربدر ہیں۔ حکومت کی جانب سے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امپورٹرز کے مطابق تمام سفری لاگت اور بین الاقوامی گندم کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے فی کلو درآمدی گندم 45 روپے میں پڑے گی۔ملتان کی عام مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت 2400 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جس سے دکانوں پر دیسی آٹے کی فی کلو قیمت 64 روپے جبکہ سفید آٹے کی 80 روپے تک وصول کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے تندو مالکان نے بھی سادہ، خمیری اور نان کی قیمت میں 2 روپے تک کا مزید اضافہ کر دیا ہے جس سے سستا آٹا اور روٹی خریدنا شہریوں کیلیے مشکل ہو گیا ہے۔یوٹیلیٹی اسٹورز اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص پوائنٹس پر سستا آٹا دستیاب نہیں لیکن اسکے باوجود ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دس کلو تھیلے کی سرکاری قیمت 402 روپے مقرر کر کے آٹے کی فراہمی کیلئے 80 پوائنٹس قائم کر دئیے ہیں جن پر روزانہ بیس کلو کے 29 ہزار 335 تھیلے فراہم کر نے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے حوالے سے شکایات موصول ہونے پر کارروائیاں بھی کر رہے ہیں۔سستا آٹا نایاب ہونے پر تنوروں پر سادہ روٹی کی قیمت 12 روپے، خمیری کے 14 جبکہ نان کے 20 روپے وصول کیے جارہے ہیں اور موجودہ صورتحال میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہونے پر شہریوں کی معاشی مشکلات کافی حدتک بڑھ گئی ہیں۔ایک طرف آٹے کا بحران تو ایسے میں سبزیوں، دالوں اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے، مہنگائی کے وار سے متوسط طبقہ بھی متاثر ہونے لگا۔مہنگائی کی لہر نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی، تنخواہیں وہیں لیکن مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو گیا، آٹا نایاب ہونے کے ساتھ ساتھ سبزیوں، دالوں اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں بھی عام آدمی کی قوت خرید سے تجاوز کر گئیں۔چند روز میں دال چنا 108، دال مونگ 172، دال ماش 180، دال مسور135، سفید اور کالے چنے 103 سے 108 روپے فی کلو تک پہنچ گئے، شہری دال کی قیمتیں بڑھ جانے پر سیخ پا ہیں۔دالیں تو دالیں سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، شملہ مرچ 180، مٹر 120، کریلے 200، مونگرے 140روپے کلو تک پہنچ گئے، ادرک اور لہسن ٹرپل سنچری مکمل کر چکے۔ شہری کہتے ہیں مہنگائی کے باعث دو وقت کی ہانڈی روٹی بھی مشکل ہو گئی۔دالوں اور سبزیوں کے بعد مرغی کی قیمت میں اچانک ہونے والے اضافے سے دکاندار بھی پریشان، شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے دعووں کے بجائے عملی اقدامات ہونے چائیے۔ خیبر پختونخوا میں نان بائیوں کی ہڑتال کا آج دوسرا دن ہے اور بعض علاقوں میں لوگ 60 روپے کی ایک روٹی خریدنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں آٹے کی قلت کے بعد نان بائیوں نے روٹی کی قیمت بڑھانے کے لیے ہڑتال کررکھی ہے۔ جس کی وجہ سے پشاور کے بیشتر تندور بند ہیں اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پشاور کے چارسدہ روڈ ، فردوس روڈ اور خیبر بازار سمیت بعض نان بائیوں کے تندور کھلے کھلی ہیں تاہم وہاں ایک روٹی 60 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔نان بائیوں کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے حکومت کے مقررہ نرخ پر روٹی کی فروخت ممکن نہیں ہے۔ اس لئے سرکاری قیمت میں اضافہ کیا جائے۔ روٹی کی قیمت میں اضافے تک ہڑتال جاری رہے گی۔ صوبائی درالحکومت میں آٹا بحران کے بعد چینی بحران کے خدشات بڑھ گئے ، چینی کی فی کلو قیمت 80سے 85روپے ہوگئی، آٹے اور چینی کے ہو ل سیلروں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ماموں بنانے کا نیا فارمولاتیار کرلیا پرچون کے دوکانداروںکے سرکاری نرخ کے مطابق بل بنا کر نیچے سابقہ واجبات لکھ کر اضافی رقم وصول کرنے لگے ۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ہول سیلروںکے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے چھوٹے دوکانداروں کو قانون کے دائرہ کار میں لانے میںمصروف ،پرچون فروش آٹا اور چینی فروخت کرنے سے کترانے لگے ،آٹے کے بعد چینی بھی نایاب ہونے کا اندیشہ لاحق ۔تفصیلا ت کے مطابق شہر بھر میں گزشتہ کئی روز سے آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد اب چینی کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ہے گزشتہ ایک ہفتہ میں چینی کا50کلو کا تھیلا 3300روپے سے بڑھ کر 3800روپے تک پہنچ چکا ہے جس کے بعدچینی 80سے 85روپے تک فروخت ہورہی ہے جبکہ چینی کی سرکاری قیمت 75روپے فی کلو مقر رہے دوسری جانب پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی نااہلی کی وجہ سے آٹے کی20کلو کے تھیلے کی قیمت بھی سرکاری مقرر کردہ نرخ 805روپے کی بجائے 900سے 950روپے تک فروخت ہو رہاہے ،دوکانداروں نے اپنی شناخت نہ ظاہر کر نے کی شرط پر بتایاہے کہ ہول سیلر انہیں خریداری کی جو رسید بنا کردیتے ہے اس کے اوپر تو سرکاری ریٹ کے مطابق قیمتیں لکھی جاتی ہے مگر بل کا ٹوٹل کرکے اس کے نیچے سابقہ واجبات لکھ کر اضافی رقم ڈال دیتے ہے جو کہ بالکل بے بنیاد ہوتی ہے اس طرح وہ پرائس کنٹر ول مجسٹریٹس کو بیوقوف بناکر لوٹ مار کرنے میں مصرو ف ہے جس کے باعث وہ گھریلوں صارفین کو مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہے اگر ان کی بجائے چینی اور آٹے کے بڑے ڈیلروں کے خلاف کاروائی کی جائے تو قیمتوںمیں اضافے کو باآسانی کنٹرول کیا جاسکتاہے،جبکہ شہری بھی روزبروز اشیائے خردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سخت اذیت سے دوچار ہے ان کا کہنا ہے کہ زائد نرخ ادا کرنے کے باوجو د بھی چینی اور آٹے کے حصول کے لیے انہیں در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہے اس حوالے سے سیاسی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے اپیل کی ہے کہ زمہ دران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے شہریوں کو اشیائے خردو نوش کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام لایاجائے۔

ٹرمپ کی پھر مسلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش ،خطے میں امن کے خواہشمند ہیں ،عمران خان

ڈیووس (مانیٹرنگ ڈیسک) ورلڈ اکنامک فور میں شریک وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے دوران وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں اطراف کے وفود بھی موجود تھے۔ پاکستانی وفد میں وزیر خارجہ شاہ محمود ریشی، وزیر تجارت عبدالرزاق داد، زلفی بخاری اور معید یوسف بھی موجود تھے۔ دونوں رہنماں کے درمیان ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے کہا کہ ہم کشمیر کی صورتحال پر بات کریں گے امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان اور امریکا کے درمیان اچھے تعلقات اچھے ہیں عمران خان دوست ہیں ان سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر سائد لائن میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے وفود بھی شامل تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے دوبارہ مل کر خوشی ہوئی، امریکی صدر سے افغانستان کی صورت حال پر بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، پاکستان خطے میں امن واستحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عمران خان میرے دوست ہیں، ان سے دوبارہ ملاقات پر خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے کردار ادا کر سکتا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان سے ترک کمپنی کیلک ہولڈنگ کے چیئرمین نے ملاقات کی، اس دوران دوطرفہ تعلقات سمیت معاشی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات ورلڈاکنامک فورم کی سائیڈ لائن پر ہوئی۔ اس موقع پر مشیر خزانہ، مشیرتجارت رزاق داد، زلفی بخاری اور معیدیوسف بھی موجود تھے۔ ترکی کمپنی کے چیئرمین سے ملاقات میں عمومی سفیر برائے سرمایہ کاری علی جہانگیر صدیقی بھی شریک ہوئے۔ کیلک ہولڈنگ توانائی، تعمیرات، ٹیکسٹائل، معدنیات اور ڈیجیٹل سیکٹر میں کام کرتی ہے۔ قبل ازیں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر سائد لائن میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے وفود بھی شامل تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے صدر ٹرمپ کے ساتھ امریکا میں ملاقات بہت مفید رہی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے اہم ایشوز اٹھائے، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کا ایشو بھی اٹھایا وزیراعظم نے صدرٹرمپ کو ایف اے ٹی ایف پر سپورٹ کا کہا، وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے صدرٹرمپ کو ٹریول ایڈوائزی میں بہتری کا بھی کہا، وزیراعظم کی صدر ٹرمپ سے تجارت کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، ملاقات میں فیصلہ ہوا کہ امریکا کا تجارتی وفد پاکستان آئے گا۔

ایلس ویلز کا پس پردہ مشن؟

عارف بہار
امریکہ کی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز بھارت اور سری لنکا سے ہوتے ہوئے پاکستان کا دورہ کر گئیں،یہاں انہوںنے پاکستان کے سول اور فوجی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔عمومی طور پر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ ایلس ویلز کے دورے کا مقصد افغانستان سے امریکہ کافوجی انخلاءاورخلیج کے حالات ہیں۔ اس سے چند ہی دن قبل وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی امریکہ کا دورہ کر چکے تھے۔دورہ ¿ امریکہ کے اختتام پر انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان نے طالبان اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھا کر ڈومور کردیا ہے ،اب امریکہ کو آگے بڑھ کر جوابی کردار ادا کرنا ہوگا ۔ انہوںنے پاکستان کےلئے ٹریول ایڈوائزری میں تبدیلی اور ایف ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد کا مطالبہ کیا تھا ۔یہ دونوں معاملات پاکستان کی معیشت کے ساتھ جڑے ہیں ۔ایف ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے جس طرح جکڑا گیا ہے اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے ۔کچھ یہی معاملہ ٹریول ایڈوائزری کا ہے ۔یہ دونوں معاملات غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کی پاکستان کی جانب متوجہ ہونے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کےلئے امریکہ نے اس کام میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا تھا او ر اس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام ملک پیش کر کے اسکی معیشت کو تنزل کی طرف دھکیلنا تھا ۔امریکہ اور بھارت کی اس مشترکہ مہم کے نتائج بھی برآمد ہوئے اور پاکستان کی معیشت آکسیجن ٹینٹ پر آگئی ۔امریکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کو حکم عدولی کی سزا دینا چاہتا تھا ۔اب جبکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں دوبارہ بہتری کے آثار پیدا ہورہے ہیں تو امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے معاندانہ سلوک کی ان تلخ یادوں کو جھٹک دینا چاہئے ۔پاکستان افغانستان میں امریکہ کی پھنسی ہوئی گردن چھڑانے میں مرکزی کردار اداکر چکا ہے ۔ معاملہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے آگے نکل گیا ہے اوراب طالبان عارضی جنگ بندی پر بھی آمادہ ہورہے ہیں ۔ یہ سب پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہوا۔اب پاکستان جوابی ڈومور کہہ رہا ہے تو یہ قطعی غلط نہیں ۔
پاکستان کےلئے افغانستان اور ایران سے زیادہ مشکل صورت حال کشمیر کے اندر اور کنٹرول لائن پر ہے ۔کشمیر بھارتی فوج کے بدترین محاصرے میں ہے اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کا گراف بہت بلند ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے اس صورت حال کی سنگینی کا اظہار یہ کہہ کر کیا ہے کہ اگر کنٹرول لائن پر نہتے لوگوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند نہ کیا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔وزیر اعظم کا یہ بیان ایلس ویلز کے دورے سے ایک دن قبل سامنے آیا تھا جس میں امریکہ اور چین جیسی طاقتوں کےلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے ۔ایلس ویلز کے دورے کا ظاہری مقصد افغانستان اور ایران ہو سکتا ہے مگر درون پردہ اس کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا آغاز ہو سکتا ہے۔اگلے ماہ بھارت میں شنگھائی ملکوں کی کانفرنس منعقد ہوناہے جس میں پروٹوکول کے تحت پاکستان سے وزیر اعظم نے شریک ہونا ہے ۔ بھارت عمران خان کو دعوت دینے اور نہ دینے کے معاملے پر مخمصے کا شکار ہے مگر میزبان ملک کی حیثیت سے دعوت دینے کے سوا کوئی چار ہ نہیں ۔دوسری طرف پاکستان کا مخمصہ بھی یہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کوموجودہ غیر معمولی اور کشیدہ صورت حال میں بھارت کا دورہ کرنا چاہئے یا نہیں؟۔شنگھائی تعاون تنظیم چین کے اثر رسوخ کی علامت ہے اس لئے پاکستان اس اہم فورم سے الگ بھی نہیں رہ سکتا ۔خود بھارت میں یہ خوف محسوس کیا جا رہا ہے کہ عمران خان اپنی بےباک طبیعت کے باعث اس اہم فورم کو نریندر مودی کی پالیسیوں بالخصوص کشمیر کے حوالے سے تنقید کےلئے استعمال نہ کریں ۔یہ خدشہ بھارت کے ایک اہم اور اسٹیبلشمنٹ سے قربت رکھنے والے صحافی سشانت سرین نے ”عمران خان ایس سی او کانفرنس میں بھارت کےلئے ہلچل پیدا کر سکتے ہیں“ کے عنوان سے لکھے مضمون میں ظاہر کیا ہے ۔ سشانت سرین نے لکھا ہے کہ عمران خان پہلے ہی نریندرمودی کے خلاف تحقیر آمیز زبان استعمال کر چکے ہیں وہ کانفرنس کو بھی اس مقصد کےلئے استعمال کرسکتے ہیں۔اس لئے بھارت کو انہیں سول سوسائٹی سے میڈیا تک کسی سے ملنے نہیں دینا چاہئے اور ان کے الزامات کے جواب میں پاکستان میں اقلیتوں کی صورت حال ،دہشت گردی اور میڈیا پرپابندیوں جیسے موضوعات کو اُٹھانا چاہئے۔بھارت کی فیصلہ ساز ہندو اشرافیہ کی ترجمانی کرنے والے صحافی اس خدشے میں تنہا نہیں امریکہ اور چین کو بھی یہ خدشات لاحق ہوں گے اور وہ اس موقع کو دونوں ملکوں کے درمیان آگرہ مذاکرات کی طرح کشیدگی میں اضافے کی بجائے امن کی طرف ایک قدم کے طور پر استعمال کرنا چاہیں گے ۔
14فروری کو پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں جو خرابی در آئی تھی پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی شناخت کے خاتمے کے بعد وہ ایک بڑی خلیج کی شکل اختیا رکرگئی ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت معطل ہوگئی ۔سفارتی تعلقات کا دائرہ محدود ہوگیا ۔فضائی حدود کی بندش جیسے اقدامات ہوئے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کا دائرہ سکڑنے کا نقصان دونوں ملکوں کو ہوا مگر بھارت کو اس کا زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔خود بھارت میں اب پالیسی کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی طرف سے پاکستان کےلئے موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ واپس لینے کے باعث دوطرفہ تجارت کی بندش سے 9354خاندان اور50000افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔امریکہ میں بھارت کے ایک سابق سفیر ارون کمار سنگھ کے مطابق تجارت کی بندش کا یہ فیصلہ اس وقت بھی نہیں کیا گیا جب بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے وقت حالات زیادہ خراب تھے۔بھارت نے پاکستان اشیا ءپردو سو فیصد ڈیوٹی عائد کردی جس سے دوطرفہ تجارت 2.56بلین سے کم ہو کر 547.22ملین رہ گئی۔بھارت سے پاکستان کےلئے اکثر اشیا سمندر کے راستے جاتی ہیں اس کے برعکس پاکستان سے جپسم ،سیمنٹ ،کھجور ،نمک وغیر ہ کی اشیا واہگہ کے راستے بھارت پہنچتی ہیں۔اس کام پر سرمایہ کاروں نے350کروڑ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور تجارت کی بندش کی وجہ سے یہ سرمایہ منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔ایک طرف پاکستان سے تجارت ختم ہونے کی وجہ سے بھارتی معیشت کو دھچکا لگا اس بحران میں مزید اضافہ امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کی طرف سے ایران کے تیل کی خریداری روکنے کا فیصلہ ہے جس کے جواب میں ایران نے بھارت سے باسمتی چاول خریدنا بند کر دیا ۔پاکستان کے ساتھ تجارت بند ہونے کی وجہ سے چاول کے کسانوں کو شدید معاشی خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔اس طرح بھارت کے اندر کاروباری طبقہ مودی حکومت پر پاکستان سے تعلقات معمول پر لانے کے لئے دباﺅ ڈال رہا ہے۔پاکستان میں بھی مہنگائی کی لہر سی آجانے کے پیچھے بھارت سے تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک خواہش معلوم ہوتی ہے ۔
سلامتی کونسل کے اجلاسوں کا مجموعی رنگ یہی ہوتا ہے کہ دونوں ملک باہمی طور پر مسائل حل کریں ۔بیرونی دباﺅ اور اندرونی مجبوریاںدونوں ملکوں کو حالات معمول پر لانے کے راستے پر ڈال سکتی ہےں مگر ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ حل طلب مسائل کی موجودگی میں نارمل حالات کے اس دور کا مطلب امن کی ہوا کے ایک جھونکے جیسا ہوگا جو آیا اور گزر گیا اور پیچھے پھر کشیدگی کی لُو کے تھپیڑے چھوڑ گیا۔
٭….٭….٭

ےہی چراغ جلےں گے تو روشنی ہو گی

فرحان شوکت ہنجرا
پاک سر زمےن اسلامی جمہورےہ پاکستان کا ابو الاثر حفےظ جالندھری کا تخلےق کردہ قومی ترانہ ملت اسلامےہ پاکستان کے سینوں کو اےک اےمانی اورقومی جذبے سے سر شار کر دیتا ہے۔ ارض پاک مےں ہرسطح پرمختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے متعدد شعبوں جیسے طب، انجینئرنگ، سول سروسز، کھیل، خدمت خلق، و دیگر شعبوں میں قومی اور بین الاقوامی سطح پرنام کمایا ہے ۔ان قابل فخر سپوتوں کی بدولت پاکستان نے بے پناہ ترقی کی منزلےں طے کی ہےں ۔ تاہم دوسری جانب کرپشن کے ناسور نے پاکستان کے امےج کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچاےا ہے۔ مالی،اخلاقی،سےاسی کرپشن نے ملک کے امےج کو داغدار کر کے رکھ دےا ہے ۔
کرپشن کے اس جھکڑ اور طوفان بد تمےزی مےں سول سروسز مےں اےسے جوہرنایاب بھی موجود ہیںجو امانت،دےانت،شرافت،صداقت،حقوق اللہ اورحقوق العباد کو اپنا شعارسمجھتے ہیںاور وہ ارض پاک کو کرپشن کی غلاظت سے پاک کرنے کے لےے ہمہ تن جدو جہد مےں مصروف عمل ہےں بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس سب سے بڑی ہے، آج انہی افسران کو دےکھ کر اللہ ےاد آتا ہے کہ وہ اپنے ان بندوں کی مدد کر رہا ہے ۔ رائے منظور ناصرحسین جو صوبہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر، استور ،صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالا، چنیو ٹ مےں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز رہے ہےں۔ اسی طرح بطور سیکرٹری پنجاب لےکو ڈےشن بورڈ اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں ۔ انہوں نے تقرےبا چھ ہزار کروڑ کا لےکو ڈےشن بورڈ پنجاب کو فائدہ پہنچاےا جس مےں ان کا لےگل کمےشن 600 کروڑ بنتا تھا لیکن انہوں نے یہ کمیشن حکومت سے لےنے سے انکار کر دےا۔ جی ہاں‘ ےہی نہےں جب وہ ڈپٹی کمشنر ضلع چنیوٹ تعےنات تھے اس وقت کے وزےر اعلیٰ پنجاب شہباز شرےف کی شوگر ملز کے جنرل منیجر کو کسانوں کو گنے کی عدم ادائےگی پر گرفتار کرواےا اور اس وقت رہا کےا جب کسانوں کو ان کی رقم کی تمام تر ادائےگی کرد ی گئی۔وہ جس جگہ سرکاری ذمہ داریوں پر تعینات رہے خدمت خلق اور دےانت کی اعلیٰ مثال قائم کر کے آگے بڑھتے رہے ۔رائے منظور حسین ناصر کی اس کارکردگی کو جانتے ہوئے امرےکہ کے اےک ادارے اکاﺅنٹبیلٹی لیب جس کے سربراہ بلیر کورس ہیں‘ اس ادارے نے 42ممالک سلیکٹ کیے جہاں کرپشن بہت زیادہ ہے اور سرکاری محکموں میں بغیر پیسے دیے کام نہیں ہوتے۔ان ممالک میں نیپال،لائیبریا اور پاکستان وغیرہ شامل تھے۔ان42ممالک میں انہےں پاکستان کے سرکاری اداروں نے رائے منظور حسین ناصر جیسے سرکاری افسر کو ایماندارافسر قرار دیتے ہوئے اےوارڈ سے نوازا جبکہ امرےکہ،جرمنی ،انڈیااور دےگر ممالک مےں اس قابل فخرافسر کی اعلیٰ شہرت کی رپورٹس مےڈےا پر نشر ہوئےں۔ پاکستان مےں ہونیوالی اےک تقرےب مےں بھی ان کی خوش قسمتی سمجھ لےجےے کہ انہےں پاکستان مےں صادق اور امےن جاننے والی قومی شخصےت امےر جماعت اسلامی سےنےٹر سراج الحق کے ہاتھوں اےوارڈ سے نوازا گےا ۔احمد خاور شہزاد صاحب ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹےک سنگھ تھے انہوں نے کمالےہ مےں 41سیکنڈمیں16 ہزار پودے لگا نے کا قومی رےکارڈ بنواےا تھا، اسی طرح پےر محل مےں وہ اےک دن مےں لاکھوں پودے لگانے کا عالمی گنیز بک آف ورلڈ رےکارڈ بنانے جا رہے تھے جس کی تمام تےارےاں مکمل کر لی گئےں تھی لےکن ان کا وہاں سے تبادلہ کر دےا گےا۔ آج وہ قائداعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری کے طور سرکاری فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔وہ پی ایچ ڈی اسکالر ہیںانہیں 27دسمبر2019ءکو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادمیں پیغام پاکستان کے برائے امن و مفاہمت کے ایوارڈ کے لیے منتخب کیاگیا۔ان کو یہ ایوارڈ ان کی ملکی سطح پر دہشتگردی ،تشد دکے خاتمہ اور سوسائٹی میں امن و امان کی کوششو ں کو تسلیم کرتے ہوئے دیا گیا۔محمد عبد اللہ خان سنبل قابل فخر بےورو کرےٹ ہےں جن کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ سے ہے۔ ان کی عوام الناس سے والہانہ انداز مےں محبت ،اخلاص،دےانت داری اور قومی خدمت کا ہر کوئی معترف ہے۔ عبد اللہ سنبل نے کمشنر لاہور ڈوےژن کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے لاہور کی تعمےرو ترقی کے لیے لاہور رنگ روڑ ، سیف سٹی پروجےکٹ ،PKLI ،پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹوٹ ہسپتال،گرےٹر اقبال پارک ،مینا ر پاکستان ایلیوٹیڈ پراجیکٹ سمےت لا تعداد منصوبے سٹیٹ آف دی آرٹ طرز پر مکمل کروائے اور قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت بھی کروائی۔اسی طرح موجودہ کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویثرن نسیم صادق جوڈپٹی کمشنر لاہور،فیصل آباد،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب،صوبائی سیکرٹری ہاوسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ،صوبائی سیکرٹری اینڈ لائیو سٹاک اینڈ ڈیر ی ڈویلپمنٹ اور سیکرٹری خوراک پنجاب تعینات رہے ہیںانہوں نے ان ذمہ داریوں پر جو خدمات سرانجام دی ہیںاس پر رشک آتا ہے۔اللہ کا یہ درویش بندہ راہ حق پر چلتے ہوئے قومی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔اللہ انہیں مزید استقامت عطاءکرے۔

وسطِ ایشیا کا عظیم کلاسیک شاعر

سلمیٰ اعوان
”علی شیر نوائی ہمارا قومی شاعر ۔“ تاشقند کی اِس میٹھی سی دھوپ میں یہ سنتے اور نوائی کے چمکتے مجسمے پر نگاہ ڈالتے ہوئے میں نے قدرے تعجب سے اپنی گائیڈ آریانا کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ”ارے تمہارا شاعر کیسے ہوگےا۔یہ تو افغانستان کے مغربی شہر ہرات جیسی تہذیبی اور علمی جگہ کی جم پل اور وہیں دفن بھی ہے ۔“
نوجوان آریانا نے فخر وغرور سے پُر لہجے میںتُرت جواب دیا تھا۔ ”ہرات ہمارا ہی تو حصہ تھا۔ہمارے تیمور جیسے عظیم شہنشاہ کے دور میں اور نوائی اُسی دور کا ہیرا ہے۔“
9فروری1441ءمیں ایک ارسٹوکریٹک فوجی خاندان میں پیدا ہونےوالا یہ علی شیرنظام الدین علی شیرہروائی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔تعلیمی سلسلہ زےادہ ہرات اور مشہد مےں ہوا۔ یہ شخصےت ادب اور فنون لطےفہ کی چند ایک نہےں بلکہ بے شمار جہتوں سے نہ صرف وابستہ بلکہ اُن مےں کمال فن کے درجے پر پہنچی ہوئی تھی۔اگرچہ وہ رومی کے کوئی 250 سال بعد پےدا ہوا۔ وسط ایشیا کا یہ عظیم انسان اپنی صوفی روایات سے جڑا ہوا تھا۔اتنی مختلف جہتوں مےں کام کرتا،کہےں کمال کا مصور،کہےں سیاست دان، کہےں ماہر تعمےرات ۔ان سب کے ساتھ شاعری کے والیوم۔ اِس سلسلے مےں وہ دانتے Chaucer (قرونِ وسطیٰ کا انگلش شاعر) اور Galoardsجےفرے (لاطےنی شاعر)کی طرح کا ہی تھا۔شاعر،ادےب،مترجم، سےاست دان، ماہر لسانےات، ماہر تعمےرات،صوفی کتنے روپ تھے اِس نوائی کے۔
اس وقت کا ہرات علم وادب کا گہوارہ ،اسلامی تہذیب وثقافت کا مرکز گردانا جاتا تھا۔ شہنشاہ تیمور بذات خود علم وفن سے بہر ہ ور اور اس کا بانی وسرپرست تھا۔ علی شیر خود چغتائی امر (جنہیں فارسی میں میر کہا جاتاتھا) سے تعلق رکھتا تھا جو اُس وقت کی سوسائٹی کی ایلیٹ کلاس تھی۔ باپ غیاث الدین کچکیناkichkina خراسان کے حکمران شاہ رخ مرزا کے محل کا افسر اعلیٰ تھا۔ ماں بھی محل میں شہزادے کی گورنس تھی۔خاندان تیمور شہنشاہ کے بہت قرےب تھا۔ اپنے پہلے ٹرکش دیوان کے دیباچے میں وہ لکھتا ہے ۔
میرا باپ تو محل باڑی کی مٹی جھاڑتا تھا
ماں وہاں خادمہ تھی
خود میں اُس درباری باغ کی بلبل یا کوّا
اس باغ سے باہرجو کچھ بھی ہوتا
میری روح جدائی کی ٹیسوں سے بے حال رہتی
عظیم تاریخ دان Hondamir کے مطابق عہد ساز شاعر نطفی نے اس کے بچپن مےں اُسے دےکھا۔بات چیت کی اور کہا۔ ”بہت فطین بچہ ہے۔ نامور ہوگا۔“
علی شیر نوائی کی زندگی سادہ بے حد مذہبی اور مجر د قسم کی تھی۔ شادی نہیں کی۔ ملازمت کا جہاں تک تعلق ہے خراسان کے سلطان کے منتظم اور مشیر اعلیٰ تھے۔ وہ ماہر تعمیرات بھی کمال کے تھے کہ تعلیمی درسگاہیں ، مسجدیں، خانقاہیں ، سرائے، پل ، حمام بہت کچھ تعمیر کروایا ۔ تعمیرات میں سب سے اہم صوفی شاعر فرید الدین عطار نیشاپور کا مقبرہ ہے اور ہرات کا مشہور مدرسہ۔ تعمیرات، ادب، شاعری اور دیگربے شمار حوالوں سے اِس عہد کو تیمور کا دُور ِنشاة ثانیہ کہا جاسکتا ہے۔ آغاز کا کچھ کام پرانی ازبک زبان مےں ہے۔مغرب مےں اِسے چغتائی لٹرےچر کہا جاتا ہے۔ نوائی ترکی زبان کا بہت بڑا مدّاح تھا۔ وہ اِسے فارسی زبان پر فوقیت دیتا اور مقابلتاً افضل گردانتا تھا اوراِس بارے وہ بڑا واضح اور دوٹوک تھا۔شاعری اِس نے اپنی مقامی زبان مےں کرنے کو ترجیح دی۔ شاید کہےں اس کی دلی محبت کا جھکاﺅ بھی یہاں شامل تھا۔ اس نے اِسے اپنے کام سے ثابت بھی کیا۔جب لکھنا شروع کیا تو قلمی نام نوائی رکھا۔ علی شیر نوائی نے ترک زبانوں مےں انقلابی سطح کا کام کےا۔تےس سالوں مےں تقرےباً تےس والےوم کا کام جس نے چغتائی زبان کو محترم و معزز بنادےا۔بہت سا کام فارسی مےں بھی ہے۔ےہاں قلمی نام فےنی تھا۔عربی مےں البتہ قدرے کم ہے۔ اِس منفرد چغتائی زبان میں شاعر ی کرنے کی وجہ سے ترکی بولنے والی پوری دنیا میں وہ ترک لٹریچر کے اولین بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ نظموںمےں بہترےن کام زےادہ تر چار دےوانوں مےں موجود ہے۔بہت سا کام شاعری کے مجموعوں مےں بھی پاےا جاتا ہے جو تقرےباً 5000 اشعار پر مشتمل ہے۔شاعری کی انفرادےت کا اندازہ اِس امر سے لگاےا جاسکتا ہے کہ اُس کے کام کا ہر حصّہ زندگی کے مختلف حصّوں کا منفرد انداز مےں ترجمان ہے۔ اِن نظموں کی ایک اور نمایاں خوبی غزل کی ساخت ہے۔قدیم عربی شاعری کے اندازو اطوار کے ساتھ غزل خراسان اور وسط ایشیا مےں پھےلتی چلی گئی۔جس پر صوفیانہ رنگ ڈھنگ اثر انداز ہوتا گےا۔اس کی ساخت کے ڈھانچے مےں وہی مخصوص محبت اور جدائی کا رنگ غالب رہا۔
استنبول کی سلےمان ذی شان لائبرےری مےں نوائی کے مندرجہ ذےل دےوان موجود ہےں۔1۔ غاراب الصغےر (بچپن کے اسرار) 2۔ نوادرال شباب (جوانی کی ندرتیں) 3۔ بدی ال وسط (اُدھیڑ عمری کے معجزے) 4۔ فوائد الکبیر (بڑھاپے کے فوائد)۔
1447ءمیں خاندان کو ہرات سے بھاگنا پڑا کہ شاہ رخ کی موت نے خراسان میں ابتری کی صورت کو جنم دیا تھا۔ علی شیر نے اپنی تعلیم مشہد ،ہرات اور سمر قند سے حاصل کی۔علی شیر نوائی کے بہت سے دیگراہم کاموں میں خمسہ بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پانچ رزمیہ نظموں کی صورت میں موجود ہے ۔ ایک طرح کہا جاسکتا ہے کہ یہ نظامی گنجوی کے خمسہ کی کسی حد تک نقل ہے ۔ 1۔ حیرت ال ابرار (صالح لوگوں کے اسرار) 2۔ فرہاد وشیریں 3۔لیلیٰ ومجنون 4۔سبعہ سیّار (سات سیارے) 5۔ سد سکندری (سکندر اعظم کے بارے)6۔ لسان اطیر۔ نوائی کے خمسہ کی دوسری داستان شیریں فرہاد جو 1484ءمیں لکھی گئی اس کا شمار کلاسیک میں ہوتا ہے۔ رومیو جیولیٹ کی طرح کی رومانی داستان وسط ایشیا کی محبوب کہانی۔ اسی طرح چار موسموں پر بھی قصیدے ہیں۔
ترک شاعروں کی نوائی نے بہت مختلف انداز میں بھی تربیت کی۔ ”میزان ال اوزان“ یعنی میٹروں فاصلوں پر بھی شاعری کی اصطلاحیں ایجاد کیں۔ ”مجالس ال نفیس“ میں بڑے لوگوں کی مجلسی محفلوں کے آداب پر پوری عصری شعرا کی سوانح حیات اور اُن کے کام کی تنقیدی جائزوں پر مشتمل کتاب 450خاکوں پر مشتمل ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مجموعے کو سونے کی کان سے مشابہت دی جاسکتی ہے کہ جس نے امیر تیمور کے زمانے کی خوبصورت ثقافتی اور دلکش تصویریں کھینچ دی ہیں۔ منطق لسان بظاہر پرندوں کی بولیوں پر مگرایک بے حد انوکھی وضع کی کتاب جو اس کے فلسفیانہ اور صوفیانہ نظریات پر مبنی ہے۔ Waqfiaوقفیہ بھی نوائی کا ایک اہم دستاویزی کام ہے۔ اسے بھی 1481ءمیں فینی کے نام سے لکھا گیا ۔ اس میں شاعرکی دنیا داری سے بھر ی ہوئی زندگی کی جھلکیاں ہیں۔ Wagfiyaتےرھویں صدی کی سماجی اور ثقافتی زندگی کی بہترےن عکاسی کرتی کتاب ہے۔ اسی طرح لیلیٰ مجنون چھتیس ابواب پر مشتمل3622اشعار پر مشتمل۔ یہ بھی انہی سالوں میں لکھی گئی۔
سروج المسلمین ۔ یہ اور اہم کا م ہے۔ اسلامی قوانین اور اسلام کے پانچ اہم ستون شریعہ، نماز ،زکوٰة، اور حج۔ اُسے حکومت ازبکستان نے 1992ءمیں بہت اہتمام سے چھاپا۔ نور الدین عبدالرحمن جامی کی نغمات انس کو چغتائی ترکی میں ترجمہ کیا۔ اور اسے کیا خوبصورت نام دیا۔ نسیم المحبت۔ اس کے صوفیانہ اور مذہبی خیالات اس کتاب میں بھرپور انداز میں سامنے آئے۔فارسی کی شاعری بھی 6000 لائنوں پر مشتمل ہے۔ نوائی کا آخری شاہکار کام Muhakmat al-Lughataynمحا کمتہ اللغتین کا ہے۔1499 میں لکھی جانے والی یہ کتاب دراصل دو زبانوں کے درمیان ادبی تقابلی جائزہ لےتی نظر آتی ہے۔
ےورپ میں علی شیر نوائی کے نام اور کام سے شناسائی بہت دےر میںہوئی۔ڈےنس ڈیلی Dennis Daily کو پڑھئےے کہ وہ اِس ضمن مےں کیا کہتا ہے۔
تمہارے سامنے ایک خداداد لکھاری ابھرتا ہے جو شاید تمہارے لےے میری طرح نہےں ہو۔مےرے لئےے تو سب سے پہلا سوال خود اپنے آپ سے تھا کہ یہ شاعر کون ہے ؟اور مےںنے اس کے بارے اب تک کےوں نہےں سُنا اور پڑھا؟میری عمر کے بہت سے لوگوں کی طرح میری بھی توجہ تعلیم اور مغربی ادب پڑھنے پر ہی مرکوز رہی۔پھر جب دوسرے خطوں کے ادب نے توجہ کھےنچی تو سب سے پہلے فارسی کے صوفی رومی اور حافظ نے متاثر کےا۔
مگر نوائی کو پڑھنا کتنا حےرت انگیز تھا۔رومی اور دوسرے شعرا کی طرح نوائی کی نظمیں بھی اپنی ظاہری چمک دمک کے ساتھ ساتھ معنی کی بھی بہت گہرائی مےں بھی اُترتی ہےں۔پڑھنے مےں لُطف دےتی، دوبارہ اور سہ بار پڑھنے پر اُکساتی آپ کے قلب و نظر میں سکون اتارتی چلی جاتی ہےں۔
سچ تو یہ ہے کہ نوائی وسط ایشیا کے ترک لوگوں کے محبوب شاعروں میں سب سے اہم نام ہے۔ اُسے بلا شک وشبہ چغتائی زبان وادب کا بہت بڑا نمائندہ کہا جاسکتا ہے۔ اس زبان پر اس کی مہارت اور کام کی وسعت اتنی زیادہ ہے کہ اُسے نوائی کی زبان کا ہی درجہ دے دیا گیا ہے۔ سوویت اور ازبک ذرائع کا اعتراف ہے کہ ازبک زبان کا بانی بلا شبہ نوائی کو ہی کہا جاسکتاہے۔
1941ءمیں پورے سوویت یونین میں نوائی کا پانچ سو سالہ جشن منایا گیا تھا۔ پورے وسط ایشیا میں بے شمار مقامات اور جگہیں اس کے نام پر منسوب ہوئیں ۔ تاشقند میٹرو اسٹیشن، انٹرنیشنل ائیر پورٹ۔ تاہم اب آزادی کے بعد ازبکستان نے اپنے شاعر کوابدیت کا پھول کا ٹائےٹل اس کی پانچ سو اکہتروےں 571سالگرہ کے موقع پر دےاہے۔
اس کی نظم کے اس بند سے اُسے خراج ِ عقیدت پےش کرتے ہوئے اِسے ختم کرتی ہوں۔
گرینائیٹ کے انبار میں موتی کی طرح
راکھ کے ڈھیر میں دہکتے کوئلے کی طرح
کانٹوںکے درمیان سرخ گلاب کی طرح
اور بے جان وجود میں ایک صاحب ِعلم روح کی طرح
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)