All posts by Muhammad Afraz

بہترین حکمت عملی کی ضرورت

فیصل مرزا
رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے ، اس مہینہ میں تراویح اور نمازوں کی مساجد میں ادائیگی تقریبا تمام مسلمان ہی یقینی بناتے ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے برے حالات ہیں خصوصی طور پر امریکہ، اٹلی، سپین اور فرانس وغیرہ میں تو تباہی کے حالات ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک میں تجارتی اور سرکاری ادارے تو لاک ڈاﺅن ہیں لیکن مغربی ممالک کی عوام صحت مند زندگی کے حصول کےلئے واک اور صحت افزاءمقامات کی طرف رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سماجی روابط قائم ہو رہے ہیں اور کورونا کا پھیلاﺅان ممالک میں گھمبیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں الحمداللہ اس طرح سے پھیلاﺅاور اموات نہیں ہو رہیں۔ بہرحال روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے مثبت کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ پریشانی کا باعث ہے، لاک ڈاﺅن کے باوجود یہ حالات ہیں تو اگر تمام انڈسٹریز ، مساجد اور دیگر کاروباری ادارے اس پر قابو پانے سے پہلے کھولے جاتے ہیں تو حالات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ ان پر قابو پانے کا حل اس وقت احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کے قیام پر بابندی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان المبارک میں مسجدوں سے دور رہنا ہمارے لئے فکرمندی کا باعث ہے ۔ لیکن جیسا کہ حالات ہر خاص عام کے سامنے ہیں کہ اگر مساجد میں رمضان کے دوران روایتی طرز پر لوگوں کا ہجوم ہو گا تو ملک بھر میں حالات خطرناک ہو سکتے ہیں ،گو کہ ہم بحیثیت مسلمان موت کو برحق سمجھتے ہیں لیکن یہ مسئلہ انفرادی سطح پر نقصان کا نہیں ہے اس سے پورا ملک متاثر ہو گا اور اگر امریکہ و دیگر یورپی ممالک جیسے حالات ہو گئے تو ہمیں اس نقصان سے نکلنے کیلئے دہائیوں پر محیط عرصہ کا وقت درکار ہوگا۔اس نقصان سے بچاﺅ کیلئے حکومت کو فوری طور پر مستحکم پالیسی بنانا ہو گی۔ علماءاور حکومت کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیہ طے پایا ہے جس کی پاسداری کرنی چاہئے۔
مساجد کی وسعت اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایت کردہ درمیانی فاصلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی حساب سے نمازیوں کے داخلے کی اجازت دی جائے اور اس عمل کو متعلقہ تھانوں کی نگرانی میں سرانجام دیا جائے ، مساجد کی کمیٹیا ں تو ہر گاﺅں اور شہر کی سطح پر موجود ہیں یہ کمیٹیاں بھی اس امر کو یقینی بنائیں ۔
رمضان میں حصول ثواب کیلئے اکثر مساجد میں اور دیگر مقامات پر افطاری اور افطار پارٹیوں کا بندوبست کیا جاتا ہے ان اجتماعات پر بھی بابندی عائد کر نا ہو گی اور جو لوگ افطاری کروانا چاہتے ہیں ان کو بابند کرنا ہو گا کہ گلی محلہ کے ضرورت مند لوگوں کے گھروں میں افطاری پہنچائیں تا کہ ایک فرد کے اجتماعات میں افطاری میں شمولیت کی بجائے ضرورت مندوں کا پورا گھرانہ افطاری کر سکے۔ مقصد تو افطاری کروانے والے کا ثواب کا حصول اور ضرورت مندوں کی مدد ہے تو یہ اس طریقہ سے بہتر انداز میں سرانجام دیا جا سکے گا۔
وزیر اعظم پاکستان نے ماہرین کی مشاورت سے اور ملکی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل لاک ڈاﺅن کی بجائے ملک بھر میں جزوی لاک ڈا¶ن جبکہ چندکاروباری شعبوں کو کھولنے کی اجازت دے رکھی ہے ، اور ملک کے دیگرکاروباری شعبوں سے وابستہ یونین رہنما بھی سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے حکومت پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش میں ہیں کہ ان سے وابستہ شعبوں کو بھی اجازت دی جائے تا کہ وہ بھی کاروباری مراکز کھول کر سکیں لیکن حکومت نے اگر دباﺅ میں آتے ہوئے اس کی اجازت دے دی تو حالات مزید خراب ہونگے۔ دیکھنے اور سننے میں آ رہا ہے کہ جو کاروباری شعبے کھولے گئے ہیں وہاں پر بھی حکومت کی طرف سے وضع کی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ باشعورلوگ بھی احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ کر گھروں سے باہر روزمرہ کی خریداری کیلئے ایک جگہ پر حکومت کے بتائے گئے فاصلے کو برقرار رکھے بغیر اکٹھے ہوتے ہیں جو کہ تشویش ناک ہے۔ اشیائے ضروریہ کی خریداری کے مقامات پر حکومت کو چاہیے کہ متعلقہ تھانوں اور لوکل گورنمنٹ کے ذریعے احتیاطی تدابیر کو یقینی بنائیں۔
وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے لاک ڈاﺅن میں نرمی کے حکومتی پیغامات میڈیا پر سننے میں آرہے ہیں عوام میں تناﺅ کم ہو رہا ہے اور عوام سمجھ رہی ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں لیکن ایسا ابھی سوچنا حماقت ہو گا۔گورنمنٹ کے آئی ٹی کے اداروں کے ملازمین گھروں میں فارغ بیٹھے ہیں انہیں گھروں پر موجود رہ کر ویب ایپس اور ویب چینل بنانے کے احکامات صادر کرنا چاہئیں تھے اور اب تک پروفیسر حضرات کو گھر پر بیٹھ کر ہی ان کے متعلقہ مضمونوں کے لیکچر تیار کر کے ان ایپس یا چینل پر لوڈ کر دینا چاہیے تھے لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔اس کے علاوہ حکومت دیگر سرکاری اداروں کو احکامات دے کہ لاک ڈاﺅن کے دوران آن لائن ورکنگ فوری شروع کی جائے ، تمام ادارے نادرا کی طرز پر اپنے آن لائن پورٹل یا ویب سائٹس حکومتی آئی ٹی اداروں کے ذریعے بنوائیں اور آن لائن درخواستیں حاصل کر کے عوام کی ضروریات کو پورا کریں۔
دیہی علاقوں کی اکثر آبادی شناختی کارڈ کا آج تک اجراءنہ کروانے کی وجہ سے احساس پروگرام سے فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہے جبکہ نادرا کے دفاتر بند ہیں اور آن لائن فریش درخواستوں کی سہولت نادرا کی ویب پر نہیں دی گئی جس وجہ سے ضرورت مند اور غریب طبقہ کی کافی تعداد محرم رہی ہے۔حکومت کو احساس پروگرام کی رجسٹریشن کیلئے توسیع دینی چائیے اور نادرا حکام کو احکامات دے کہ پاکستانیوں کی فریش کارڈ کے حصول کے لیئے درخواستوں کی آن لائن وصولی کو فوری یقینی بنائیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند لوگ احساس پروگرام سے فائدہ حاصل کر سکیں۔اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ لاک ڈاﺅن میں مزید نرمی نہ کرے اور مئی کے آخر تک ایک سو سے کم کیس پر آنے کے بعد ہی مزید نرمی کی جائے۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

تھانیداری اور نوٹس

جاوید کاہلوں
”تھانیدار “ لفظ کیا شان رکھتا ہے اور ”تھانیداری“ کرنے میں انسان کیسا نشہ محسوس کرتا ہے، اس کوپرانے وقتوں بالخصوص انگریزوں کے دور کے پولیس انسپکٹرز خود سمجھتے تھے۔ برصغیر میں کون تھا جو اس لفظ سے مرعوب نہیں ہوجاتا تھا، کسی حد تک تاحال بھی محکمہ پولیس کے انسپکٹرز کیلئے تھانیدار لگنا ابھی بھی کسی نشے سے کم نہیں، اس لئے آج بھی کسی پولیس سب انسپکٹر کیلئے تھانے میں بحیثیت ایس ایچ او تعیناتی ہی اس کیلئے اول و آخر ہوتا ہے۔ کچھ انسپکٹر حضرات کو تو ایس ایچ او لگنے اور پھر لگے ہی رہنے کی ایسی لت پڑ جاتی ہے کہ وہ محکمے میں کسی بھی دوسرے کام یا شعبے کو قبول نہیں کرتے، اور اگر کہیں انہیں زبردستی ادھر ادھر تعینات کر بھی دیا جائے تو وہ ادھر کسی کام کے نہیں ہوتے، جبکہ بحیثیت ایس ایچ او ان کے رنگ ہی الگ ہوتے ہیں۔ یہ لفظ SHOانگریز نے تو ”اسٹیشن ہاو¿س آفیسر“ کا محفف بنایاتھا، جس کا مطلب کسی پولیس اسٹیشن میں انچارج اسٹیشن لگناہے، مگر برصغیر میں چونکہ اسٹیشن ہاو¿س کا مقامی ترجمہ ”تھانہ“ کیاگیا، اس لئے اس کے بڑے ذمے دار کو ”تھانیدار“ بلکہ ” بڑا تھانیدار“ کہا گیا، اور عامة الناس نے اسے ایسے ہی کہا، لکھا اور پہچانا۔ کسی بھی تھانے میں بڑے (وڈے ) تھانیدار کے علاوہ چند ایک چھوٹے (نکے) تھانیدار بھی تعینات ہوتے تھے، یہ چھوٹے تھانیدار پہلے ”ذیل آفیسر“ کہلاتے تھے مگر آجکل انہیں تفتیشی افسر کہا جاتا ہے، ایسے افسران عموماً اسسٹنٹ سب انسپکٹر یا پھر زیادہ سے زیادہ سب انسپکٹرز کے رینک کے ہوتے ہیں۔ ذیلداری نظام ختم ہونے پر آزادی کے بعد انہیں تفتیشی افسر کہا جانے لگا مگر عامة الناس آج بھی ان کو نکّے تھانیدار کہتے ہیں، جبکہ وڈا تھانیدار ایک ہی ہوتا ہے کہ تھانے کا انچارج ہوتاہے، اور اس کی گفتگو، مخاطبت کے انداز اور چال ڈھال سے جس قدر تھانیداری ٹپکے وہ اتنا ہی موثر ایس ایچ او کہلاتا ہے۔
آزادی سے پہلے پولیس کے یہ تھانیدار اکثر گھڑسوار ہوتے تھے۔ گھوڑا، اس کا سائیس اور راشن وغیرہ بھی کسی ایس ایچ او کی سرکاری کٹ کا ایک لازمی حصہ ہوتا تھا۔ پنجاب میں تو تھانیدار کے علاوہ اس کے زیر استعمال گھوڑے سے بھی کئی قصے کہانیاں اور ضرب الامثال جڑی ہوئی ہیں۔ ہماری پیدائش گوکہ تقسیم ہند کے بعد کی ہے مگر ہمیں ایک ذیلدار گھرانے میں آنکھ کھولنے کے ناطے اپنی بچپن کی کچھ یادوں میں سے گھڑسوار تھانیداروں کی ہماری حویلی میں آمد، لوگوں کا اکٹھ ، پولیس دستے کی خاطر مدارت اور چوکیدار کے ہاتھوں بڑے تھانیدار کے گھوڑے کے آگے سپیشل چارہ بلکہ دانہ چنا ڈالنے کے مناظر ابھی تک محفوظ ہیں، بلکہ ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ ایسے تھانیدار کی آمد پر سو فیصد دیسی مرغ(کیونکہ برائلر ابھی تک دریافت ہی نہیں ہواتھا)پکایاجاتا تھا، دیگر لوازمات بھی بہت سے ہوتے تھے، مگر انگلیوں سے بنی چھوٹی چھوٹی میٹھی سویاں بھی ضروربنتی تھیں۔ اس روز ہمیں یاد ہے کہ کسی گھروالے کو مرغے کی ٹانگ کی بوٹی نہیں مل سکتی تھی کیونکہ وہ اس ڈونگے کا لازمی حصہ ہوتی تھیں جس نے تھانیدار کے سامنے جانا ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے بچپن کی کچھ ایسی یادیں اور بھی ہیں جن میں کہ یہ تھانیدار لوگ کبھی ملزموںپر بے پناہ تشدد بھی کیا کرتے تھے اور ہم اسے حویلی کے پچھلی طرف لگے ایک چھوٹے سے روشندان سے چوری چھپے جھانک کر دیکھتے تھے۔ اس طرح سے ہمارے جیسے دیگر بچوں میں بھی پولیس کی دہشت اور رعب دوچند نہیں بلکہ سو چند ہوجاتاتھا۔ ایسا تشدد عام طور پر بڑے دالان میں عموماً مغرب کے بعد اس وقت کیا جاتاتھا جب کہ عام لوگ اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس وقت ہماری والدہ اپنے میکے میں اپنی کسی چچی کی بابت یہ کہانی سناتی تھیں کہ جب کبھی بھی ان کے گاو¿ں میں پولیس آتی تھی تو ان کی بوڑھی چچی کا ہاضمہ ڈھیلا پڑجاتاتھا، وہ بار بار غسل خانے میں جاتیں اور پوچھتی رہتیں کہ وہ ”لال آندھی “ ابھی گاو¿ں سے واپس گئی ہے کہ نہیں؟ اور جب انہیں معلوم بلکہ یقین ہوجاتا کہ پولیس چلی گئی ہے تب کہیں جاکر ان کے پیٹ میں کوئی کھانا ٹھہرتا۔ یاد رہے کہ انگریزوں کے وقت پولیس یونیفارم میں لال رنگ کے کپڑے کی ایک باقاعدہ شملے والی پگڑی پہنی جاتی تھی اور اسی واسطے وہ بڑھیا ان کو ”لال آندھی“ کا نام دیتی تھیں۔ آج کے مشرقی پنجاب کی پولیس میں ابھی تک وہ لال پگڑی پولیس یونیفارم کا بدستور حصہ ہے، جبکہ ہمارے یہاں یہ اب متروک ہوچکی ہے۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ یہ تھانیداری کچھ اس قسم کی چیز تھی اور ہے کہ عام آدمی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، جس کو جی چاہے پکڑ لو، جسے جی چاہے چھوڑ دو یا دوبارہ پکڑلو، جیسا جی میں آئے جس کیلئے بھی جی میں آئے اس کو منہ پھٹ طریقے سے کہہ دو۔ بلکہ پرانے وقتوں میں تو یہ تھانیداروں کی تھانیداری کی دھاک بٹھانے کیلئے ضروری ہوتاتھا کہ وہ پیش لفظ اور آخر کلام میں اپنے ہر فقرے کے ساتھ غلیظ مغلظات بھی جوڑ کر رکھتے تھے۔
یہ لمبی شان نزول ہم نے تھانیدار اور تھانیداری کی تعریف میں بیان کی ہے۔ ہم اگراس شان نزول کو وطن عزیز کی حالیہ عدالتی تاریخ میں رکھ کر پرکھیں تو ہمیں ان لفظوں کی تشریح کافی حد تک آئین میں لکھے ہوئے ”سوموٹو نوٹس“ جسے ہم از خود نوٹس بھی کہتے ہیں ‘کے حالیہ اطلاق میں نظر آتی ہے۔اس حق کا کثرت سے استعمال دراصل افتخار چوہدری نے اپنے وقت میں دن رات کیا۔ ان دنوں میں تو ایسے از خود نوٹس اس انداز میں عدالت عظمیٰ سے نکلے کہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر تمام صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے ذمے داران اور میڈیا کے درجنوں کیمرے ہمہ وقت عدالتی احاطے میں موجود رہتے تھے کہ ”خبر“وہیں سے نکلتی تھی۔ اس روایت کامگر ایک اچھا پہلو بھی نکلا۔ اگر چوہدری افتخار ایسا نہ کرتے تو کوئی بعید نہ تھا کہ اس وقت کا زرداری یا بعد کے شریف برادران اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر اس ملک کے درختوں کے پتے تک چٹ کرجاتے ۔ مگر غلط یہ ہوا کہ آئین کی ایک ایسی شق کہ جس کا استعمال ایسے موقعوں کےلئے محدود رہتا تھاکہ جس سے وطن عزیز کی سیفٹی اور سکیورٹی کے غیر معمولی حالات میں عدالت عظمیٰ ملکی انتظامیہ سے سوال جواب کرتی، وہ پکوڑوں اور سموسوں کی قیمتوںکے تعین پر ٹکے ٹوکری ہوکر رہ گئی۔
اب جبکہ گلوب پر موجود کوئی دوسوسے اوپر کے ممالک میں ایک وباءپھیل گئی ہے جس کی تباہ کاری تاحال اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان میں بہت ہی محدود ہے، اس پر ”از خود نوٹس“ صرف اور صرف یہاں کی عدالت نے لیا۔ اس نوٹس پر کارروائی بھی ہوئی، ایک پیشہ ور میڈیکل ڈاکٹر کی تعلیم اور سرٹیفکیٹ بھی زیر بحث آئے، کچھ عدالتی آبزرویشن بھی میڈیا میں شہ سرخیوں سے چھپیں اور سوشل میڈیا ایسی جگ ہنسائی سے ابھی تک بھرا پڑا ہے، یہاں تک کہ محترم وزیراعظم پاکستان کو اپنے ایک مرکزی تادیبی کارروائی کرنیوالے محکمے کو اس پر خصوصی ہدایت بھی دینا پڑگئی ہے، کیونکہ عدالتیں بھی بہر حال اپنی ہی ہیں اور ان کے عزت و قار کی پاسداری بھی ہمارا فرض عین ہے۔
بہرحال! جو ہوا سو ہوا۔ میرے خیال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مقننہ ابھی آگے بڑھ کر ایسے قوانین اور رولز آف بزنس طے کرے کہ جس سے سو موٹو نوٹسز کے اختیارات کو کسی ادارتی کمیٹی کی منظوری سے مشروط کردیاجائے تاکہ اس کا بے جا استعمال رک سکے، اقوام تجربات دہراتی نہیں بلکہ اپنی بہتری میں ان سے سیکھتی ہیں اور نئے رولز بناتی ہیں۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭

ریاستی و قومی وسائل کو اشرافیہ کے شکنجے سے چھڑوانا ہے، وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد( و یب ڈ سک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ریاستی و قومی وسائل کو اشرافیہ کے مضبوط شکنجے سے چھڑوا کر نادار شہیریوں کو غربت سے نجات دلانی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے 24ویں یوم تاسیس پر ٹوئٹ میں خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 24برس قبل آج ہی کےدن تحریک انصاف نے قائد کےوڑن کی روشنی میں پاکستان کوایک جدیداسلامی فلاحی ریاست کی صورت میں ڈھالنے کےاپنے نصب العین کی جانب سفرکا آغازکیا۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ہمیں دو اہم سنگ میل طے کرنا ہوں گے جس میں سب سے پہلے قانون کی ایسی بالادستی کا قیام ہے کہ اس کی نظرمیں سب برابراورطاقتور اسکےتابع ہوں۔ اس کے بعد ریاستی و قومی وسائل کو اشرافیہ کے مضبوط شکنجے سے چھڑوا کر انکی ازسرِ نو اور قدرے منصفانہ تقسیم کہ محروم اور نادار شہریوں کیلئے غربت سے نجات ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری یہ جدوجہد کسی بھی سیاسی جماعت سے زیادہ طویل، کٹھن اور صبر آزما رہی ہے۔ آج میں اپنے ان بانی اراکین، نعیم الحق، احسن رشید اور سلونی بخاری کو بھی یاد کرنا چاہتا ہوں جن کی رفاقت سے آج ہم محروم ہیں۔

شہباز شریف کا بچنا مشکل ہے، آصف زرداری کے معاملات ٹھیک ہوگئے، شیخ رشید

لاہور( و یب ڈ سک) وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ 6 ہزار ارب کی کرپشن پر وزیر ہو پیر فقیر سب رگڑے جائیں گے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ آٹا چینی اسکینڈل رپورٹ میں تاخیر ہوسکتی ہے، آئی پی پیز اسکینڈل پر کابینہ اجلاس میں تینوں وزیر خسرو بختیار، ندیم بابر اور عبدالرزاق داود اٹھ کر چلے گئے تھے، 6 ہزار ارب کی کرپشن پر وزیر، پیر یا فقیر سب رگڑے جائیں گے، چینی، آٹے والے اور آئی پی پیز سب چور چکاری اندر ہوں گے۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) اور دیگر رپورٹ منظر عام پر لانے کاکریڈٹ عمران خان کو دیں، انہی کی وجہ سے ہی یہ رپورٹیں منظر عام پر آئی ہیں، وہ نہ ہوتے تو یہ رپورٹس کبھی منظر عام پر نہ آسکتی تھیں۔شیخ رشید نے کہا کہ شہباز شریف کا کیس سنجیدہ ہے، ان کا بچنا مشکل ہے، وہ جو سوچ لے کر آئے تھے اس کا سیاسی جنازہ نکل گیا، شہباز شریف کی اپنی بھتیجی مریم نواز سے نہیں بن رہی، دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں، بھتیجی کہتی ہیں کہ پارٹی صدر شاہد خاقان عباسی کو بنا دیں، شہباز شریف کا جانا ٹہر گیا اور ان کی بچت نہیں ہے، لیکن اگر دوسرا فارمولا اپنا لیں اور ہمیشہ کی طرح راستہ نکالتے ہیں تو اور بات ہے۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ آصف زرداری کے 40 فیصد معاملات ٹھیک ہو گئے ہیں، وہ گھونسلے میں چلے گئے ہیں اور سمجھ تے ہیں کہ 2،3 ماہ سیاست کیلیے نہیں ہیں۔

چین سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

راولپنڈی( و یب ڈ سک) چین سے میڈیکل ایمرجنسی ریلیف آئٹم کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق میڈیکل ریلیف آئٹمزمیں پی سی آر ٹیسٹنگ کٹس ، سرجیکل ماسک ، حفاظتی لباس ، این 95 ماسک اور وینٹیلیٹر شامل ہیں جب کہ میجر جنرل ہوانگ چنگزین کی سربراہی میں چینی طبی ٹیم کل پاکستان پہنچ چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چین کی میڈیکل ٹیم میں وبائی امراض، آئی سی یو، پلمنالوجی اور نرسنگ کے ماہرین شامل ہیں۔ ماہرین کی یہ ٹیم ملک بھر کے مختلف ہسپتالوں میں دو ماہ تک کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرے گی۔

سندھ میں کورونا پھیلاو کا سبب بننے والوں پر 10لاکھ جرمانہ ہوگا

کراچی( و یب ڈ سک) کورونا وائرس وبا پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت کا غیر معمولی اقدامات کا فیصلہ، وبائی مرض کورونا کے پھیلاو کا سبب بننے والے کسی بھی فرد ادارے پر جرمانہ عائد کیاجائے گا جو دس لاکھ روپے تک ہوگا۔سندھ حکومت کا سندھ وبائی امراض ایکٹ 2014میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لایا جائے گا آرڈیننس کا مسودہ منظوری کے لئے سندھ کابینہ اجلاس میں پیش کیاجائیگا جس کے بعد گورنر سندھ کو منظوری کے لئے ارسال کیا جائیگا۔سندھ حکومت نے صوبے میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں رکاوٹ بننے اور پھیلاوکا سبب بننے والے افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے سے متعلق حکومتی اقدامات پر عمل نہ کرنے کی مسلسل شکایات اور طبی عملے کو درپیش مشکلات کا حل نکالنے کے لئے یورپی وخلیجی ممالک کی طرز پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے سندھ حکومت نے وبائی امراض ایکٹ 2014میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے اور ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیاجائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جو بھی وبائی امراض ایکٹ میں شامل دفعات کی خلاف ورزی کرے گا اس پر جرمانہ عائد کیاجائے گا اور جرمانے کی رقم دو لاکھ روپے سے دس لاکھ روپے تک رکھنے کی تجویز ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ جرمانہ ادا کرنے کے بعد دوسری مرتبہ کوروناوائرس کے پھیلاو کا سبب بنا تو پھر دس لاکھ تک جرمانہ دوبارہ ادا کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ پہلی مرتبہ وبائی امراض ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی پر درج شرح سے جرمانہ وصول کیاجائے گا جب کہ مسلسل خلاف ورزی پر جرمانے کی شرح میں اضافہ ہوگا

کورونا وائرس سے جاں بحق ڈاکٹر جاوید کو سول ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان

پشاور( و یب ڈ سک) خیبر پختون خوا حکومت نے کورونا مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران جان قربان کرنے والے ڈاکٹر جاوید کو سول ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کردیا۔خیبر پختون خوا حکومت نے ڈاکٹر جاوید کو سول ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کردیا۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جا کر اسپتال انتظامیہ سے ڈاکٹر جاوید کے کورونا وائرس سے انتقال پر تعزیت کی۔وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جان قربان کردی، ہم فرنٹ لائن پر کام کرنے والے طبی عملے کے ساتھ ہیں۔حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے پروفیسر محمد جاوید ایک ہفتہ قبل کورونا کے مرض میں مبتلا ہوئے تھے اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے آج صبح ان کا انتقال ہوا ہوگیا

َََََََََرمضان کے پہلے دن عوام نے ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا، ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد( و یب ڈ سک) وزیراعظم کےمعاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزا کا کہنا ہے کہ رمضان کے پہلے دن عوام نے ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔معاون خصوصی صحت ڈاکٹرظفرمرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے، رمضان المبارک میں کورونا سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان کے پہلے روز شہریوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا، عوام رش والی جگہوں پر جانےسے گریز کریں کیوں کہ احتیاط نہ کی گئی تو کورونا وائرس تیزی سے پھیلے گا۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ چینی اورجاپانی کمپنی نے کورونا ویکسین کی ٹیسٹنگ کیلیےرابطہ کیا ہے۔

کورونا روک تھام، کوریا پاکستان کو 3 لاکھ ڈالرز امداد دے گا

اسلام آباد( و یب ڈ سک) کوریا پاکستان میں کورونا کی روک تھام کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ذریعے 3 لاکھ ڈالرز کی امداد فراہم کرے گا۔کورین سفارتخانہ کے مطابق کورین کمپنیوں نے بھی کوویڈ 19 کے لئے پاکستان کو 47 ہزار امریکی ڈالر اضافی رقم فراہم کرنے میں مدد کی۔ کورین سفارتخانہ کے مطابق امید ہے یہ رقم پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام میں معاونت فراہم کرے گی۔

پاک بحریہ کا شمالی بحیرہ عرب میں اینٹی شپ میزائلز فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ

اسلام آباد( و یب ڈ سک) شمالی بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کی جانب سے اینٹی شپ میزائلز فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ رب میں اینٹی شپ میزائلز فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ کیا جس میں پاک بحریہ کے جنگی بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں نے سطح سمندر پر مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلز فائر کیے۔ترجمان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے میزائلز فائرنگ کا مشاہدہ کیا اور اس دوران ان کا کہنا تھا کہ میزائلز فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیت اور حربی تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاک بحریہ دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔