All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

ٹرمینیٹر کی ایک بار پھر واپسی

نیو یارک(ویب ڈیسک)ٹرمینیٹر کی ایک بار پھر واپسی ہورہی ہے بلکہ یہ چھٹی بار ہے جب وہ پردہ اسکرین میں جلوہ گر ہوگا۔ٹرمینیٹر : ڈارک فیٹ کا پہلا ٹریلر سامنے آگیا ہے جو کافی متاثر کن ہے جو کہ 1991 کی ٹرمینیٹر ٹو کا ڈائریکٹ سیکوئل ہے۔ٹرمینیٹر 2 کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون 1991 کے بعد پہلی بار اس فلم کے پروڈیوسر ہیں جبکہ ڈیڈپول فلم کے ڈائریکٹر ٹم ملر نے ڈارک فیٹ کی ہدایات دی ہیں۔ٹرمینیٹر ٹو میں کام کرنے والی لنڈا ہملٹن ایک بار پھر سارہ کونر کے روپ میں نظر آئیں گی۔گیبرئیل لونا ولن کے روپ میں ہوں گے جو وینم جیسی صلاحیت رکھنے والا ٹرمینیٹر ہے جو لیکوئیڈ بن کر مختلف شکلیں دھار لیتا ہے۔آرنلڈ شوازینگر ٹی 800 کے طور پر واپس آئیں گے اور ٹرمینیٹر 2 ججمنٹ ڈے کی طرح ایک بار پھر پیرو جیسے کردار کو ہی نبھائیں گے۔مگر میکنزی ڈیوس ایک ایسی روبوٹ فوجی گریس کا کردار ادا کریں گی جو مستقبل سے ماضی میں آکر ایک نوجوان لڑکی ڈانی راموس کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔اس ٹریلر میں بھی زیادہ توجہ گریس اور راموس پر دی گئی ہے جن پر ولن ٹرمینیٹر حملہ کرتا ہے اور سارہ کونر وہاں انہیں بچانے کے لیے پہنچتی ہے۔وہ ان لڑکیوں کو اپنا نام بتاتی ہے اور کہتی ہیں کہ انہوں نے گریس جیسا کسی کو نہیں دیکھا جو لگ بھگ انسان ہی لگتا ہے۔گریس جواب میں کہتی ہے کہ وہ انسان ہی ہے مگر ٹریلر سے لگتا ہے کہ وہ اتنی بھی انسا نہیں۔پھر یہ تینوں آرنلڈ شوازینگر سے ملتے ہیں جبکہ ایک سین میں گریس کی ولن ٹرمینیٹر سے لڑائی ہوتی ہے۔ٹریلر سے یہ فلم آخری ٹرمینیٹر فلم سے بہت زیادہ بہتر نظر آرہی ہے اور اوریجنل دو فلموں سے مشابہت رکھتی ہے۔جیمز کیمرون فلم کے ڈائریکٹر تو نہیں مگر ان کے کام کی جھلک ٹریلر میں محسوس کی جاسکتی ہے۔ٹرمینیٹر : ڈارک فیٹ کو یکم نومبر 2019 کو دنیا بھر میں ریلیز کیا جائے گا۔خیال رہے کہ ٹرمینیٹر کی پہلی فلم 1984 میں ریلیز ہوئی اور اب تک اس سیریز کی پانچ فلمیں ریلیز ہوچکی ہیں۔9 سال قبل 2009 میں سیریز کی چوتھی فلم ’ٹرمینیٹر سیلویشن‘ کے بعد 2010 تک اس فرنچائز نے دنیا بھر سے 3 ارب ڈالر کی کمائی کی تھی، جب کہ سیریز کی پانچویں فلم 2015 میں ریلیز ہوئی، جس نے بھی خوب پیسے بٹورے۔

کانگریس نے مودی کی جیت تسلیم کر لی

نئی دلی(ویب ڈیسک) کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندرا مودی کو لوک سبھا کے انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے ایوان زیریں (لوک سبھا) کے انتخابات کے نتائج کے بعد پریس کانفرنس میں اپنی جماعت کی شکست تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرا مودی کو الیکشن جیتنے پر مبارک باد دی۔راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بھارتی ووٹرز کی رائے کا احترام کرتا ہوں اور ووٹرز کی رائے پر ہی مودی اور بی جے پی کی جیت کو ماننا پڑے گا۔ ہمارے سیاسی اور نظریاتی اختلافات ہیں جو برقرار رہیں گے اور جس پر آئندہ بھی بات ہوتی رہے گی لیکن آج ان کی فتح کا دن ہے۔کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنی مدمقابل امیدوار اداکارہ سمرتی ایرانی کو بھی جیت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی عوام کی رائے کا احترام کرتا ہوں، پارٹی کارکن اور رہنما گھبرائیں نہیں، دل برداشتہ نہ ہوں اور کسی سے ڈریں نہیں، آپ کی لڑائی سچ اور حق کی لڑائی ہے جو جاری رہے گی۔واضح رہے کہ بھارت میں لوک سبھا انتخابات کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے تحت حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 543 میں سے 346 نشستیں جیت کر کے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔

بھارتی انتخابات میں کامیابی کی دوڑ میں شامل شوبز شخصیات

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں لوک سبھا (قومی اسمبلی) کی 542 نشستوں کے لیے 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات میں شوبز کی دنیا سے وابستہ شخصیات نے بھی حصہ لیا اور کامیابی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ لوک سبھا کے انتخابات میں بھارتی سیاسی شخصیات کے علاوہ شوبز، اسپورٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے بھی قسمت آزمائی۔ اداکارہ ارمیلا مٹونڈکر نے انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے شمالی ممبئی سے انتخاب میں حصہ لیا اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق شکست سے دوچار ہو رہی ہیں۔اداکار شتروگن سنہا بھی کانگریس کے ٹکٹ پر ضلع پٹنا صاحب سے الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن اب تک کے نتائج کے مطابق وہ بھی ہار رہے ہیں۔اداکارہ ہیما مالینی اتر پردیش کے شہر متھورا سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار تھیں اور کامیابی سمیٹی۔اداکار راج ببر نے بھارتی شہر فتح پور سکری سے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور مخالف امیدوار کے مقابلے میں آگے ہیں۔اداکارہ کرن کھیر بھی بی جے پی کی امیدوار ہیں، جنہیں چندی گڑھ کی نشست پر برتری حاصل ہے۔سابق بھارتی ٹی وی اداکارہ اور سیاسی رہنما سمریتی ایرانی نے ایک مرتبہ پھر بی جے پی کے ٹکٹ پر ضلع امیتھی سے انتخابات میں حصہ لیا اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق انہیں مخالف امیدوار پر برتری حاصل ہے۔بھارتی مذہبی اسکالر اسد الدین اویسی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین جماعت کے امیدوار ہیں اور انہوں نے حیدرآباد کے حلقے سے الیکشن لڑا اور مخالف امیدوار پر سبقت حاصل ہے۔مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی لوک سبھا کے انتخابی دوڑ میں شامل ہیں اور ان کا نتیجہ آنا باقی ہے۔ان کے علاوہ اداکار سنی دیول، بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر اور سابق آرمی چیف وی کے سنگھ بھی بی جے پی کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور انتخابی نتیجے میں مخالف امیدواروں سے آگے ہیں جن کے حتمی نتائج آنا باقی ہیں۔

پاکستان امن و استحکام کے عمل سے گزر رہا ہے، آرمی چیف

کوئٹہ(ویب ڈیسک) سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی قریب کے درپیش چیلنجز کے سبب امن واستحکام کے عمل سے گزر رہا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا، اس موقع پر کمانڈرساﺅتھرن کمان بھی اس موقع پر موجود تھے، آرمی چیف نے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے آفیسرز کی پیشہ وارانہ کارکردگی کو سراہا۔شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی قریب کے درپیش چیلنجز کے سبب امن واستحکام کے عمل سے گزررہا ہے۔سربراہ پاک فوج نے کہا کہ ملک میں امن واستحکام کا عمل سست لیکن مثبت سمت میں کوشاں ہے، ہمیں ثابت قدمی کے ساتھ قومی مقاصد کے حصول کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ماحولیاتی آلودگی8 1ملین افراد کو لے ڈوبے گی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) پوری دنیا میں سمندروں کی اوسط سطح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض کے مستقل برفانی ذخائرکا پگھلاﺅہے اوراس صدی کے اختتام تک کروڑوں افراد نقل مکانی پرمجبورہوسکتے ہیں۔ امریکا میں ماہرین نے نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی پروسیڈنگزمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہرکیا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے مقابلے میں اب گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی رفتار6 گنا بڑھ چکی ہے۔ 1980 کے عشرے میں گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی شرح بھی کئی گنا بڑھی ہے یعنی اس وقت سالانہ 40 ارب ٹن برف پانی میں گھل رہی تھی اور اب سے اس کی شرح 252 ارب ٹن سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس برف پگھلنے سے انسانیت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اگراگلے 80 برس میں زمین کا اوسط درجہ حرارت 5 درجے سینٹی گریڈ بڑھ جاتا ہے تو اس سے سمندروں کی سطح انچوں میں نہیں بلکہ فٹوں میں بڑھ سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے 80 برس یعنی 2100 تک شنگھائی سے لے کر نیویارک تک کے ساحلی علاقے بری طرح متاثر ہوں گے جس کی وجہ سے 18 کروڑ 70 لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا پگھلتے برف کو نظرانداز کررہی ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔امریکا میں واقع نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر کے مطابق گرین لینڈ کا رقبہ ٹیکساس سے تین گنا بڑھا ہے اور اگر اس میں انٹارکٹیکا کو بھی شامل کرلیا جائے تو پوری دنیا کا 99 فیصد میٹھا پانی برف کی صورت میں یہاں موجود ہے۔ اس کا پگھلنا کسی سانحے سے کم نہ ہوگا۔ دونوں خطوں میں برف کی پرتیں تین کلومیٹر تک بلند ہیں۔ انسانوں کی جانب فضا میں گرین ہاو¿س گیسوں کے بے تحاشہ اخراج سے اب سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی سکت ختم ہورہی ہے اور اس کے بعد زمینی درجہ حرارت بڑھنے سے برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندروں کی اوسط سطح بلند ہورہی ہے اور دنیا کی دو سے ڈھائی فیصد آبادی اس کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوگی۔

پاکستان سے کھیلنے کا فیصلہ بورڈ نے کرنا ہے، میری کوئی ذاتی سوچ نہیں، ویرات کوہلی

اوول(ویب ڈیسک)بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنا ہے یا نہیں اس بارے میں خالصتاً فیصلہ بورڈ کو کرنا ہے، نہ یہ ان کا کام ہے اور نہ اس بارے میں وہ کوئی سوچ رکھتے ہیں۔277بین الاقوامی ون ڈے میچوں میں 41 سنچریوں کے ساتھ 10843 رنز بنانے والے کوہلی اعتراف کرتے ہیں کہ ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ میں ٹیم انڈیا کی قیادت ان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔کوہلی کہتے ہیں کہ انہیں نہیں لگتا کہ ورلڈ کپ میں ٹیمیں بڑے اسکور کے حصول میں تواتر کے ساتھ کامیاب ہوں گی۔وہ کہتے ہیں کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ کا اپنا دباو¿ ہوتا ہے، جسے آپ نظر انداز نہیں کرسکتے، لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ 270 رنز برا مجموعہ نہیں ہوگا۔پاک بھارت میچ کے بارے میں بھارتی کپتان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً سب کو 16 جون کا انتظار ہے جب اولڈ ٹریفورڈ پر پاک بھارت مقابلہ ہوگا۔کوہلی نے کہا کہ ان کی نگاہ میں ورلڈ کپ کا ہر میچ اہمیت کا حامل ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انگلینڈ کی ٹیم اپنے میدانوں پر اس مرتبہ مخالف ٹیموں کیلئے آسان نہیں ہوگی۔

بذریعہ انٹرنیٹ مریخ پر اپنا نام بھیجیں

واشنگٹن(ویب ڈیسک) اگرچہ انسان کی مریخ تک رسائی کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے لیکن ناسا کی ویب سائٹ پرجاکر آپ اپنا نام مریخ پر ضرور بھیج سکتے ہیں اوریہ نام ایک مائیکروچپ میں ڈجیٹل فارمیٹ کی صورت میں محفوظ ہوجائے گا۔مارس 2020 روور نامی خلائی گاڑی اگلے برس جولائی میں لانچ کی جائے گی اور سب کچھ بہتر ہونے کی صورت میں فروری 2021 میں یہ خلائی جہاز سرخ سیارے پر اترے گا۔ اس مشن میں عوامی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ناسا نے پوری دنیا کے لوگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنا نام اس مائیکروچپ میں لکھوائیں جو اس خلائی جہاز میں نصب کی جائے گی۔جدید ترین روبوٹک خلائی جہاز کا وزن 1000 کلوگرام ہے اور اس کا اہم ترین مشن سطح مریخ پر خردبینی زندگی کی تلاش، وہاں کی آب و وہوا اور ارضیات پر تحقیق اور سب سے بڑھ کر بعض نمونوں کو جمع کرکے دوبارہ زمین تک آنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اہم منصوبے کو مریخ پر انسانی قدم رکھنے میں اہم قرار دیا جارہا 30 ستمبر 2019 تک آپ اپنے اس ویب سائٹ https://mars.nasa.gov/participate/send-your-name/mars2020/ پر جاکر اپنا نام، پوسٹ کوڈ، ملک کا نام اور ای میل ایڈریس شامل کرکے مریخ کا بورڈنگ پاس لے سکتے ہیں۔ اس موقع پر ناسا سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ تھامس زربوکن نے کہا کہ اس اہم سفر میں ہم پوری دنیا کے لوگوں کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔ناسا نے امید ظاہر کی ہے کہ مارس روور 2020 مریخ سے متعلق ہمارے کئی سوالات کے جوابات تلاش کرے گے۔ اس کی بدولت پڑوسی سیاروں، اور خود زندگی کی ابتدا کے کئی راز منکشف ہوں گے۔ ناسا نے کہا ہے کہ اپنے نام کا بورڈنگ پاس آپ 30 ستمبر تک حاصل کرسکتے ہیں۔

انتخاب لڑے بغیر سنی لیونی اپنی جیت پر حیران

نئی دہلی(ویب ڈیسک)بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا گیا جن کے مطابق بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو واضح برتری حاصل ہے۔بی جے پی ایک بار پھر سادہ اکثریت حاصل کرکے تنہا حکومت بنانے کے اہل ہوگئی ہے، تاہم انتخابات کا حتمی اعلان کچھ دن بعد ہوگا۔انتخابات کے ابتدائی نتائج متعدد بھارتی ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھائے اور اس دوران کئی ٹی وی چینلز پر کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔بھارتی ٹی وی چینل ’ریپبلک‘ میں الیکشن ٹرانمشن کے دوران صحافی ارناب گوسوامی نے ریاست پنجاب کے حلقے گرداس پور کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے سنی لیونی کو جیتنے والا امیدوار بتایا۔تاہم فوری طور پر ارناب گوسوامی نے اپنی غلطی کو درست کرتے ہوئے صحیح امیدوار یعنی اداکار سنی دیول کا نام لیا اور بتایا کہ وہ اپنے حلقے سے دیگر حریف امیدواروں سے آگے ہیں۔دراصل سنی دیول ریاست پنجاب کے حلقے گرداس پور سے بی جے پی کی ٹکٹ پر میدان میں اترے تھے اور انہوں نے اس حلقے سے دیگر حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو گرداس پور میں فاتح امیدوار قرار دیے جانے کی انارب گوسوامی کی یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں نے ان کا خوب مذاق اڑایا۔سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو کامیاب امیدوار قرار دیے جانے کی یہ ویڈیو خود اداکارہ نے بھی دیکھی جس کے بعد انہوں نے مختصر ٹوئیٹ میں مزاحیہ انداز میں سوال کیا کہ وہ دیگر حریف امیدواروں سے کتنے ووٹوں سے آگے ہیں؟سنی لیونی کے ٹوئیٹ پر کئی مداحوں نے جواب دیے اور ایک مداح نے جواب میں لکھا کہ اداکارہ 135 کروڑ بھارتی افراد کے دلوں پر راج کرکے آگے جا رہی ہیں۔اسی طرح ایک اور صارف نے سنی لیونی کو جواب دیا کہ وہ 69 ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔ ایک صارف نے تو سنی لیونی کو وزیر اعظم قرار دے دیا۔خیال رہے کہ گرداس پور سے اداکار سنی لیونی کامیاب ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں ای جوڈیشل سسٹم متعارف

اسلام اآباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں ای جوڈیشل سسٹم متعارف کروا دیا گیا، ای کورٹ سسٹم سے سائلین کو کم خرچ میں جلد انصاف میسر ہوگا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ای جوڈیشل سسٹم متعارف کروا دیا گیا، انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ’ای کورٹ‘ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ای جوڈیشل سسٹم کے تحت پہلے مقدمے کی سماعت 27 مئی کو ہوگی۔سپریم کورٹ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس مقدمے کی سماعت ای جوڈیشل سسٹم سے کریں گے۔ ای جوڈیشل سسٹم پر کراچی کے کچھ مقدمات کی سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اسلام آباد میں موجود ہوں گے۔اعلامیے کے مطابق وکلاءکراچی رجسٹری میں کمرہ عدالت سے دلائل دیں گے، بنچ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 ججز پر مشتمل ہوگا۔ای کورٹ کی سہولت سے مقدمات کے التوا کی حوصلہ شکنی ہوگی، وکلا اپنا کیس کسی تاخیر کے بغیر پیش کر سکیں گے، وکلاءکو اپنے ہی شہر میں دلائل دینے کی سہولت میسر ہوگی۔ای کورٹ سسٹم سے سائلین کو جلد انصاف اور پیسے کی بھی بچت ہوگی۔ ای کورٹ سسٹم مقدمات کا بیک لاک ختم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

کیا اب اشتہارات بھی کمپیوٹر ہی بنائیں گے؟

( ویب ڈیسک )کمپیوٹر پروگرامنگ کو جدید سے جدید ترین کرنے پر سائنسدان عرصے سے کام کر رہے ہیں جس کا مقصد پروگرامنگ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا کر انسان کا کام آسان بنانا ہے لیکن کیا کمپیوٹر انسانی ذہن کا متبادل ہو سکتا ہے؟اشتہارات کسی بھی کاروبار کے لیے اوکسیجن قرار دیے جاتے ہیں، کمپیوٹر کا استعمال اشتہارات کی کاپی لکھنے یا بنیادی نیوز اسٹوری لکھنے کے لیے ہو رہا ہے کیا یہ اتنی ہی بہتر ہیں جتنا کہ انسان کی لکھی ہوئی کاپی یا خبر؟مارکیٹنگ کی دنیا کے بڑے نام ڈینسٹسو ایگس نیٹ ورک نے ایک خود کار کاپی لکھنے والا پروگرام تیار کیا تھا اب اس پروگرام کو مزید تخلیقی بنانے پر کام ہو رہا ہے۔فرم کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ ہم گوگل کے اشتہاری نظام میں تبدیلی کے بعد پروگرام گزشتہ برس متعارف کروایا تھا، یہ پروگرام انگریزی میں 20 سے 25 مکمل اشتہار سیکنڈوں میں تیار کر دیتا ہے۔ایک کلک کی بنیاد پر قیمت طے ہونے والے گوگل کے ایڈورٹائزنگ سسٹم کے مقابلے میں ایک مکمل اشتہار کی قیمت کہیں زیادہ ہے۔خودکار کاپی رائٹنگ کے پروگرام کے ‘الگورتھم’ کو زیادہ تخلیقی بنا دیا گیا ہے، اب اس میں انہوں نے سفرناموں اور محاوروں سے اداریاتی سرخیاں ڈالنا شروع کر دی ہیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ ان کا پروگرام کیا کچھ سیکھ سکتا ہے۔مینجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے ان کی خواہش ہے کہ وہ اس مصنوعی ذہانت کے کاپی رائٹر میں انسانی تخلیقی صلاحیتیں ڈال سکیں۔مصنوعی ذہانت کا سہارا لیتے ہوئے اشتہارات کو زیادہ جاندار اور تخلیقی بنانے کا کام کسی حد تک پہلے سے ہی چین میں ہو رہا ہے۔کمپنی کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشہور ویب سائٹ علی بابا نے اپنی سائٹ سے منسلک مرچنٹس کو اپنے ای کامرس سسٹم میں علی بابا کی مصنوعی ذہانت کی کاپی رائٹنگ سروس میں زبان کا انداز شامل کرنے کا انتخاب رکھا ہوا ہے۔تاو باو شاپنگ سائٹ پر کاروباری حضرات خودکار کاپی کے لیے اپنی مرضی سے اسٹائل پسند کر سکتے ہیں، جیسے کہ مختصر ٹائٹل، مخصوص سیلنگ پوائنٹ اور جذباتی یا دل کو گرما دینے والے جذبات۔ترجمان نے مزید بتایا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ کاپی رائٹر لاکھوں کی تعداد میں پہلے سے موجود نمونوں سے 20000 سطروں پر مشتمل کاپی چینی زبان میں سیکنڈوں میں لکھ لیتے ہیں۔علی بابا پر موجود چھوٹے کاروباری حضرات کے لیے اس سروس نے اشتہار بنانے کی سہولت پیدا کر دی ہے اور خود کار کاپی سے وہ اپنی مارکیٹنگ خود کر لیتے ہیں۔علی بابا کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ آرم علی ماما کے مارکیٹنگ ریسرچ اینڈ ایکسپیرئینس سینٹر کے ڈائریکٹر لی مو کا کہنا ہے کہ ایک چیز کے لیے بھی کاپی 10 مختلف اشکال میں چاہیے ہوتی ہے۔ پوسٹرز، ویب بینرز، پراڈکٹ پیچ اینڈ ایونٹ پیچ کے لیے۔کئی کاروباری حضرات خصوصاً چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے کے پاس ذرائع کی کمی ہوتی ہے اور ہم ان کے مسائل اس ٹیکنالوجی سے حل کرنا چاہتے ہیں۔کمپنیاں خود کار کاپی رائٹنگ کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں لیکن ابھی ان کے سامنے اس سسٹم کو تخلیقی ہونے کے لیے مزید چیلینجز کا سامنا بھی ہے۔