All posts by Daily Khabrain

آفریدی نے اپنے پسندیدہ چار بلے بازوں کے نام بتا دیئے ، ویرات کوہلی بھی شامل لیکن پاکستان سے کون ہے ؟ جانئے

لاہور (ویب ڈیسک )پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راونڈر شاہد آفریدی نے موجودہ دور میں اپنے 4 پسندیدہ بیٹسمینوں کے نام بتا دیئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی نے ٹوئٹر اکاونٹ پر سوال جواب کے سیشن کے دوران اپنے مداحوں کو بتایا کہ ویرات کوہلی، بابر اعظم، اسٹیو اسمتھ اور جوئے روٹ ان کے پسندیدہ کرکٹر ہیں۔جب ایک اور مداح نے ا±ن سے پوچھا کہ ویرات کوہلی اور بابر اعظم میں سے انہیں کون زیادہ پسند ہے تو بوم بوم نے جواب دیا کہ دونوں۔واضح رہے کہ ٹی 20 کرکٹ میں اس وقت صرف بابر اعظم اور ویرات کوہلی کے رنز کا اوسط ففٹی پلس ہے، بابر اعظم کا اوسط 54 اعشاریہ 21 جبکہ ویرات کوہلی کا اوسط 50 اعشاریہ 85 ہے۔

وزیراعظم کا کشمیر مشن، صدر ٹرمپ سے کل ملاقات، تھنک ٹینک سے خطاب شیڈول

نیویارک (ویب ڈیسک) کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کا مشن شروع ہو گیا، وزیراعظم نے نیویارک میں کشمیر سٹڈی گروپ کے بانی فاروق کاٹھواری سے ملاقات کی، مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کےسامنے بے نقاب کرنے کی ہدایت کر دی، صدر ٹرمپ سے ملاقات کل ہو گی، امریکی تھنک ٹینک سے بھی خطاب کا پروگرام ہے۔وزیراعظم 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، کئی ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں شیڈول ہیں عالمی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے علاوہ پاکستان، ترکی اور ملائشیا کی سہ فریقی سمٹ سے خطاب بھی کریں گے۔نیویارک میں وزیراعظم سے کشمیر سٹڈی گروپ کے بانی فاروق کاٹھواری نے ملاقات کی۔ عمران خان نے فاروق کاٹھواری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی تسلط اور انسانی حقوق کی پامالی کو مزید اجاگر کرنے کی تلقین کی، فاروق کاٹھواری امریکی صدارتی کمیشن براے ایشیائی امریکیوں کے کمیشن کے ممبر رہ چکے ہیں۔عمران خان کل امریکی صدر سے ملاقات کریں گے، ترجمان دفترخارجہ کے مطابق، وزیراعظم کی ٹرمپ سمیت کئی ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کشمیر کا مقدمہ پیش کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں 49ویں روز بھی کرفیو جاری ہے، موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات معطل ہیں

سری نگر(ویب ڈیسک) آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 49ویں روز بھی کرفیو جاری ہے، موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات معطل ہیں۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 49ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی میں کرفیو کے باعث 3 ہزار 9 سو کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے، وادی میں کھانا میسر ہے اور نہ ہی دوائیں۔ سرینگر اسپتال انتظامیہ کے مطابق کرفیو کے باعث روزانہ 6 مریض لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان 7 روزہ دورے پر امریکا پہنچ گئے، پیر کو ٹرمپ سے ملیں گے

نیویارک (ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان امریکا کے 7 روزہ طویل دورے پر نیویارک پہنچ گئے۔وزیراعظم عمران خان پیر 23 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم کے دورے کا اہم نکتہ مسئلہ کشمیر اور خطے کی صورت حال ہوگی۔’جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل سعودیہ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا تھا’وزیراعظم عمران خان مصر، ایتھوپیا ، نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم سے ملاقات کریں گے اس کے علاوہ عمران خان کی ترک صدر طیب اردگان و دیگر رہنماوں سے ملاقاتیں بھی دورے میں شامل ہیں۔وزیراعظم عمران خان 19 ستمبر کو 2 روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہوئے تھے جہاں انہوں نے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے دورہ سعودی عرب میں عمرے کی سعادت بھی حاصل کی اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول پر بھی حاضری دی، جس کے بعد وہ امریکا کیلئے روانہ ہوئے تھے۔وزیراعظم عمران خان امریکا کے دورے پر خصوصی سعودی طیارے کے ذریعے نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پہنچے جہاں امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے ان استقبال کیا۔ وزیراعظم کے وفد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بھی شامل ہیں ہیں۔عمران خان کا وزارت عظمیٰ کا منصب سنھالنے کے بعد یہ امریکا کا دوسرا دورہ ہے جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماﺅں سے ملاقاتیں کریں گے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 27 ستمبر کو خطاب کریں گے۔ وزیراعظم اقوام متحدہ میں بھارتی مظالم کا پردہ چاک کریں گے اور کشمیریوں کا مقدمہ انتہائی مو¿ثر انداز میں اقوام عالم کے سامنے پیش کریں گے۔

سیالکورٹ ائیرپورٹ پر برطانوی جوڑے سے کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن برآمد

سیالکورٹ (ویب ڈیسک)سیالکورٹ ائیرپورٹ پر برطانوی جوڑے سے کروڑوں روپے مالیت کی 25 کلو ہیروئن برآمد کر لی گئی۔برطانوی جریدے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یوکشائر سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ محمد طاہر ایاز اور ان کی 20 سالہ اہلیہ اقراءحسین کو سیالکوٹ انٹرنیشل ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا جن کے سامان سے اعلیٰ کوالٹی کی 25 کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔رپورٹ کے مطابق ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) نے ہیروئن خاتون کے سامان سے برآمد کی جو انہوں نے کپڑوں میں چھپا رکھی تھی۔اے ایس ایف حکام کے مطابق برطانوی جوڑا پاکستان سے براستہ دبئی لندن ہیروئن اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جوڑے کو پہلے امارات ائیرلائن کی پرواز ای کے 621 سے دبئی اور پھر وہاں سے لندن روانہ ہونا تھا۔اے ایس ایف حکام نے جوڑے کو فوری طور پر حراست میں لیتے ہوئے ان کے خلاف کیس دائر کر دیا ہے اور دونوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔اے ایس ایف کی جانب سے ملزمان اور برآمد ہونے والی ہیروئن کو انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق برآمد ہونے والی ہیروئن کی قیمت 20 لاکھ پاﺅنڈز ہے جو پاکستانی روپوں میں 38 کروڑ 94 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔واضح رہے کہ سیالکوٹ ائیرپورٹ پر ہیروئن اسمگلنگ کا یہ اب تک پیش آنے والے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر کا پاسپورٹ ضبط

کراچی (ویب ڈیسک)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر میئر کراچی وسیم اختر کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا۔ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشتگردوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔وسیم اختر کی بیرون ملک جانے کی درخواست منظور۔عدالت نے میئر کراچی وسیم اختر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کراچی کے میئر ہیں لیکن شہر کے لیے کچھ کیا۔عدالت نے وسیم اختر کو پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کو پاسپورٹ آفیشل وزٹ کے لیے واپس دیا گیا تھا، اگر آفیشل وزٹ نہیں کر رہے ہیں تو پاسپورٹ واپس جمع کرائیں۔

عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لینے والے پر آئین کی پاسداری لازم ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

کراچی (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والوں پر آئین کی پاسداری لازم ہے اور ہم ہر اس شخص کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں، جس نے آئین کے برعکس کوئی کام کرنا چاہا ہو۔کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں انہوں نے تقریب سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے قانون، عدالتی مداخلت اور سماجی تبدیلی’ پر بات کی۔واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر ہے، جسے انہوں نے چیلنج کیا ہوا ہے اور اس پر سپریم کورٹ کا 10 رکنی بینچ 24 ستمبر کو سماعت کرے گا۔اس ریفرنس کا آغاز مئی میں ہوا تھا، جس میں ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام مبینہ طور پر اپنی جائیدادیں چھپائیں۔تاہم جسٹس عیسیٰ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ان کے بے باک خیالات کے لیے ریاست کے اندر دھڑوں کی جانب سے نشانہ بنایا جارہا جبکہ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان کے خلاف الزام عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ’72 سال پہلے آزادی حاصل کی، نہ کوئی جنگ لڑی نہ کسی عسکری قوت نے ہمیں ایک آزاد ملک مہیا کیا بلکہ یہ ایک سوچ تھی، ایک نظریہ تھا اور اسی سوچ اور نظریے پر یقین رکھنے والوں نے دوسروں کو قائل کیا اور ناممکن کو ممکن میں تبدیل ہوگیا’۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کو ایک معجزہ ہی سمجھیں اور اسی کو برقرار اور محفوظ رکھنے کے لیے عوام نے ایک طریقہ کار مہیا کیا جسے ہم آئین کہتے ہیں اور اس کا پورا نام آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔آئین پاکستان پر ہی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کا آغاز ایک مختصر تمہید سے ہوتا ہے، جس میں واضح بیان کیا گیا ہے کہ عوام نے یہ آزاد ملک حاصل کیا جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ واضح کیا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہوگا، اس کے ساتھ ہی آئین کی تمہید یہ کہتی ہے کہ جمہوریت کو قائم رکھنا ایک فریضہ ہے اور یہ فریضہ یقین دلاتا ہے کہ عوام ظلم و ستم سے محفوظ رہیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسی تہمید میں آزاد عدلیہ کا بھی بالخصوص ذکر ہے، آئین 1973 میں مرتب کیا گیا مگر اس کی تمہید 1949 میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور اس وقت کی پارلیمان نے مرتب کی اور اس کو قرارداد مقاصد کا نام دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آئین کے شروع ہی میں بنیادی حقوق کا ذکر ہے اور یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق سے کوئی بھی عمل اور قانون متصادم نہیں ہوسکتا۔دوران خطاب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کی شق 199 اور شق (3) 184 کے ذریعے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ بنیادی حقوق پر عملدرآمد یقینی بناتی ہیں، عدالت عظمیٰ کو آئین کی شق (3) 184 کے استعمال سے قبل اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جن بنیادی حقوق کی عملداری جاری ہے وہ ایسے ہیں جو مفاد عامہ سے منسلک ہے۔بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس عدالت عالیہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ جن بنیادی حقوق کی عملداری کی جارہی ہے وہ مفاد عامہ سے منسلک ہیں یا نہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی شخص یا ادارہ بنیادی حقوق سے تجاوز کرے تو عدلیہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اسے روکے، عدلیہ آئین پاکستان کا تیسرا ستون ہے اور وہ آئین و قانون کی تشریح کرتی ہے جبکہ عدلیہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہر شخص اور ادارہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں کیونکہ تاریخ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جب ادارے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہیں تو ناصرف لوگوں کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں بلکہ ملک کمزور ہوتا ہے اور ٹوٹ بھی سکتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم مغربی پاکستان کو اب پاکستان کہتے ہیں مگر حقیقتاً یہ نصف پاکستان ہے، کیا ہم نے تاریخ سے سبق سیکھا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 1971 میں صدر ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت کے چیف جسٹس حمودالرحمٰن پر مشتمل کمیشن مقرر کیا تاکہ وہ معلوم کریں کہ کونسی وجوہات تھیں جن کی بنا پر ہم آدھا ملک کھو بیٹھے لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج 47 برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی حمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ شائع نہ کی گئی۔اپنے ادارے سے متعلق جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہ کریں، ادارے اور ملک تب ہی مضبوط ہوتے ہیں جب وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور آئندہ وہ غلطیاں نہیں دہراتے، کسی اور ادارے پر انگلی اٹھانے سے قبل میں اپنے ادارے کی بات کروں گا۔اس دوران انہوں نے اپنی بات کی وضاحت چند مثالوں سے دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کی پارلیمان نے موبائل فون پر ٹیکس لگائے مگر نامعلوم شکایت پر عدالت عظمیٰ نے شق (3) 184 کو استعمال کرتے ہوئے ایک حکم امتناع کے ذریعے 6 مختلف ٹیکسز کو معطل کردیا۔اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب حتمی طور پر یہ کیس سنا گیا تو فیصلہ ہوا کہ ایسا حکم امتناع صادر کرنے کا جواز نہ تھا کیونکہ ٹیکسز بنیادی حقوق میں شامل نہیں کیے گئے ہیں لہٰذا ان کو عائد کرنے پر بھی عدالت عظمیٰ شق (3) 184 کے تحت غور نہیں کرسکتی تھی، تاہم جس مدت تک یہ 6 ٹیکسز معطل رہے اس عرصے میں ایک سو ارب روپے کا نقصان ہوا، یہ رقم اب اکٹھی نہیں کی جاسکتی۔سپریم کورٹ کے جسٹس نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کا کام ہے کہ وہ ہرمسئلے کو بڑے غور و فکر کے ساتھ سنے اور کوئی حکم دینے سے قبل اس بات کو یقینی بنائے کہ جو حکم جاری کیا جارہا وہ آئین و قانون کے مطابق ہو کیونکہ جو فیصلے آئین و قانون کو نظرانداز کرکے کیے جاتے ہیں وہ بظاہر عوامی امنگوں کےمطابق ہوں لیکن وہ دیرپا نہیں ہوتے۔پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس پر کوئی شک نہیں کہ اس وقت ملک میں ہر طرح کی خبریں شائع و نشر کرنے پر قدغن ہے، جس کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی نامور صحافی اب ٹیلی ویژن پر نظر نہیں آتے، کیا کسی کو حق ہے کہ وہ سینسر شپ کرکے کسی دوسرے کی رائے پر پابندی لگائے؟۔انہوں نے کہا کہ آئین کی شق 19 میں موجود ہے کہ چند معاملات کے علاوہ ہرشہری کو آزاد اظہار رائے کا بنیادی حق حاصل ہے اور اس بات پر بالکل قدغن نہیں لگائی جاسکتی کہ وہ بیانیہ جو کسی کو ناپسند ہو وہ نشر یا شائع نہ ہو، کوئی بھی ادارہ اپنی پسند کے مطابق یہ حکم نہیں دے سکتا کہ کوئی خبر شائع کی جائے یا نہ کی جائے اور نہ ہی کسی ٹیلی ویژن یا اخبار پر بندش لگائی جاسکتی ہے کہ وہ کسی کو ملازمت دیں یا ملازمت سے برطرف کریں، اس کے علاوہ حکومت کے پاس یہ بھی اختیار نہیں کہ وہ سرکاری اشتہار اپنی مرضی کے چینلز اور اخبارات کو ہی دیں اور اس طرح ان کا معاشی استحصال کریں۔انہوں نے کہا کہ نہ ہی یہ اختیار ہے کہ کسی کو مجبور کریں کہ وہ حکومت کے خلاف یا کسی حکومتی ادارے یا کسی حکومتی شخص پر تنقید نہ کریں یا کسی صحافی کو برطرف کریں یا ان کے پرواگرام پر بندش لگائیں یا ان کے اداریوں پر پابندی لگائیں، یہ سارے ہتھکنڈے نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ غیر آئینی بھی ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک اور طرز عمل جس سے میں بخوبی واقف ہوں وہ یہ کہ کبھی کچھ چینلز ٹی وی پر نظر نہیں آتے کیونکہ کچھ علاقوں میں کیبل آپریٹرز کو فون کرکے حکم دیا گیا ہوتا ہے کہ ان کی نشریات نہ دکھائیں۔عدالت عظمیٰ کے جسٹس نے کہا کہ جب خوف اس حد تک بڑھ جائے کہ لوگ اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنے کے لیے عدالتوں سے رجوع نہ کریں تو یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ بنیادی حقوق بھرپور طریقے سے رائج ہیں، لہٰذا جمہورت کو مستحکم کرنے کے لیے جس طرح آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے اسی طرح آزاد میڈیا بھی ضروری ہے۔جسٹس فائز عیسٰی نے کہا کہ آئین پاکستان کی شق 5 کے مطابق ہر شہری پر فرض ہے کہ وہ آئین و قانون پر عمل کرے جبکہ شق 6 کہتی ہے کہ کوئی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت یا دیگر غیرآئینی ذریعے سے آئین کی تنسیخ کرے یا اس کی کوشش کرے، تخریب کرے یا اس کی سازش کرے تو وہ ملک کے خلاف سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ شخصیات جنہیں عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ دی جاتی ہے اور جو اپنے عہدوں پر فائز ہونے سے قبل حلف اٹھاتے ہیں ان پر آئین کی پاسداری لازم ہے، مجھ سمیت صدر پاکستان، وزیراعظم، وزراء اور افواج پاکستان کا ہر افسر اور سپاہی ہم سب پر آئین کی پاسداری کرنا اور بھی لازم ہے کیونکہ ہم عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ وصول کرتے ہیں اور یقیناً رزق حلال ہی حاصل کرنا چاہیں گے۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اگرہم زندہ قوم رہنا چاہتے ہیں توہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ہر وہ طریقہ اپنائیں جو آئینی و قانونی ہو اور ہر اس شخص کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں جس نے آئین کے برعکس کوئی کام کرنا چاہا ہو۔

50 لاکھ انعام کا اعلان ، قاتلوں کی شناخت کے لیے پہلی بار ووٹرز لسٹوں کا استعمال، 150 افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ مگر چونیاں پو لیس پھر بھی نا کا م

لاہو ر (ویب ڈیسک)پنجاب حکومت قصور میں ہونے والے اندوہناک واقعے میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سنجیدہ تو دکھائی دیتی ہے تاہم پنجاب پولیس اب تک چونیاں واقعے میں ملوث درندوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے قاتلوں کی اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کردیا جب کہ قاتلوں کی شناخت کے لیے پہلی بار ووٹرز لسٹوں کا بھی استعمال کیا گیا اور 150 افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا ہے۔دوسری جانب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، چونیاں میں امن وامان کے پیش نظر آج اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیشن ویک میں ماڈلز کی کچرے سے بنے لباس پہن کر کیٹ واک

 

نیو یا ر ک (ویب ڈیسک)آپ سب نے دنیا بھر میں منعقد کیے جانے والے فیشن ویک کے بارے میں تو عام طور پر سنا ہی ہوگا مگر کیا آپ نے کبھی ماڈل کو ریمپ پر کچرے سے بنے لباس میں کیٹ واک کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو اب دیکھیے۔نیویارک میں ہر سال مشہور فیشن ویک کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں بڑے سے بڑا ڈیزائنر حصہ لیتا ہے اور اس سال بھی نیویارک فیشن ویک2019 کا انعقاد کیا گیا۔جس میں پچھلے سال کی طرح اس سال بھی ’رپلی ٹریشی فیشن شو‘ کا منعقد کیا گیا۔مگر اس کی خا ص بات فیشن ویک میں ماڈلز کی کچرے سے بنے لباس پہن کر کیٹ واک تھی۔

تو بہ تو بہ اما م مسجد بچے کے ساتھ بدفعلی کے الزام میں گرفتار

راولپنڈی:(ویب ڈیسک) 12 سال کے لڑکے کے ساتھ زیادتی کے الزام میں امام مسجد کو گرفتار کر لیا گیا۔ایس پی صدر رائے مظہر اقبال کے مطابق 12 سالہ بچہ جواد ظریف دھمیال کیمپ کی مسجد میں مولوی لیاقت سے دینی تعلیم حاصل کرتا تھا تاہم شکایت کے باوجود والدین کو یقین نہیں تھا کہ مولوی ایسی حرکت کر سکتا ہے۔رائے مظہر اقبال نے بتایا کہ مولوی صاحب نے اپنے چند حمایتی افراد کے ہمراہ احتجاج بھی کیا لیکن پولیس نے اپنا کام جاری رکھا اور تحقیقات میں مولوی کی لڑکے سے زیادتی ثابت ہو گئی ہے۔
12 سالہ بچہ دھمیال کیمپ کی مسجد میں مولوی لیاقت سے دینی تعلیم حاصل کرتا تھا۔ ملزم کے خلاف تھانہ صدر بیرونی میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ایس پی صدر کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف تھانہ صدر بیرونی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اب ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا جائے