All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

دیا جلائے رکھنا ہے

حسینہ معین….مہمان کالم
ہم گھر کی دہلیز پر یا دریچوں میں دیئے جلا کر رکھتے ہیں شائد اس لئے کہ یا تو کسی کا انتظار ہوتا ہے یا یہ کہ شائد کوئی بھولا بھٹکا مسافر کوئی جائے پناہ ڈھونڈ رہا ہو تو اس روشنی کے آسرے پر اسے پناہ مل جائے گی۔
لیکن ہم راتوں کو دیئے اس لئے بھی جلا کر رکھتے ہیں کہ ہمارا چھوٹا سا خوبصورت ملک ہر طرف سے دشمنوں میں گھِرا ہوا ہے۔ دشمنی کی ویسے تو کوئی وجہ نہیں لیکن ہمارا وجود کسی کو گوارا بھی نہیں۔ دور پار کہیں بھی دیکھ لیں۔ چاہے وہ عراق ہو، شام ہو، فلسطین ہو، برما ہو، ترکی ہو، سپین ہو۔ وجہ آپ بھی جانتے ہیں ہم بھی جانتے ہیں۔جو چراغ آج سے14سو سال پہلے روشن ہوا تھا اورجس کی روشنی پھیلتے پھیلتے پوری دنیا پر چھاگئی تھی، یہ پیار کی روشنی تھی روح کی روشنی تھی۔ جو چراغ در چراغ پھیلتی جارہی تھی۔
بھلا یہ کیسے گوارا ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دشمنوں نے چراغ بجھانے شروع کئے۔ غرناطہ، مصر، ترکی، بالکن سٹیٹس۔ ورلڈ وار کے دوران سب کو تباہ کیاگیا۔ اسلام کی طاقت سے سب خوفزدہ تھے۔ پاکستان کا بننا ناممکنات میں سے تھا۔ اتنی بڑی اکثریت کے مقابلے میں ایک اقلیت جیت جائے کون یہ مان سکتا تھا۔ مگر۔۔۔ ایسا ہی ہوا۔ پاکستان ہزار مخالفتوں کے باوجود ایک شخص کی جرات، ہمت اور اس کے ساتھیوں کی کوششوں کے سبب وجود میں آگیا۔ یہ کڑوا نوالہ کسی کو بھی ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ نہ ہمارے پڑوسیوں کو نہ دور پار کے مخالفین کو۔ ابھی قدم سنبھلے بھی نہیں تھے کہ1948ءکی جنگ ہم پر مسلط کردی گئی۔ اس کے بعد 1965ءکی جنگ اس مکمل ارادے سے اچانک شروع ہوئی کہ آج پاکستان نہیں بچے گا۔ بچانے والا مارنے والے سے بہت مضبوط ہوتا ہے اور اس قوم کی ہمت اور جذبے کو کون مٹا سکتا ہے جوٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئی تھی۔ پوری قوم اس طرح جاگ گئی تھی جیسے اب کبھی آنکھیں بند نہیں کرے گی۔ ہمارے نڈر اور بہادر فوجیوں کی تو الگ بات ہے عام آدمی گھروں کی چھتوں پر ڈنڈے اور پتھر لئے کھڑے تھے، دشمنوں کے جہازوں کومارنے کے لئے۔ تاریخ میں ایسا منظرکسی قوم نے کم ہی دیکھا ہوگا۔ ریڈیو سٹیشن جاگ رہے تھے۔ نغمہ نگار دن رات لکھ رہے تھے، فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کو۔۔۔ اور ہمارے گلوکار اور گلوکارائیں اپنے روز و شب بغیر کسی خوف و خطرے کے، ریڈیو سٹیشن اور ٹی وی سٹیشن پر گزاررہے تھے۔ ایسا جذبہ شاید ہی پہلے کسی نے دیکھا ہوگا۔ ہم امن پسند قوم ہیں۔ ہم پرائے مال پر نظریں نہیں رکھتے، ہم اپنے چھوٹے سے گھر کی خود حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ مجھے بچپن ہی سے فوج ، فوجی وردی اورفوجی مارچ سے پیار تھا۔ بچپن میں کسی فوجی کو دیکھتی تو بے ساختہ سلیوٹ کرتی۔ اور جب وہ جواب میں سلیوٹ کرتے تو خوشی کا جو حال ہوتا تھا اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔
لکھنا لکھانا شروع کیا تو بات فوج تک بھی پہنچی۔ ہنسی خوشی کی باتیں سب کریں ، اچھی لگتی ہیں۔ جیسے گرم دوپہر میں ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑنے لگے۔ مزاحیہ ادب یا ڈرامے لکھنے والے شائد اسی لئے پسند کئے جاتے ہیں کہ وہ انسانیت کو فروغ دیتے ہیں۔ مثبت بات کرتے ہیں۔ منفی خیالات کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ شائد اس وجہ سے مجھے پہلی بار بڑی کم عمری میں پاسنگ آﺅٹ پریڈ میں بلایا گیا۔ میں اپنی دوست عاتکہ کے ساتھ گئی۔ جب پہلی بار میںنے اللہ میاں سے شکوہ کیا کہ اگر آپ مجھے لڑکا بنا دیتے تو آج میں یہاں کھڑی ہوتی۔ شائد کہ یہ اعزازی شمشیر مجھے مل رہی ہوتی۔ مجھے تو اس گھوڑے تک سے محبت ہوگئی تھی جو نظم و ضبط کے ساتھ چلتا ہوا آکر چیف کے سامنے ساکت کھڑا ہوگیا تھا۔
کئی بار میں 23مارچ کی پریڈ پر بطورِ مہمان گئی ہوں اور ہر مرتبہ میری محبت بڑھتی ہی گئی۔ اس سال بھی جب دعوت نامہ آیا تو میرے گھر والے ہنس رہے تھے کہ تم کیا پریڈ کو حفظ کرنے جاتی ہو۔ یا پھر یہ کہتے ایسا نہ ہو فوج تمہیں مجبور ہو کر سیٹی بجانے کا کام دے دے۔ میںنے جل کر کہا کہ جھاڑو لگانے کا کام دے دیں پھر بھی میں جاﺅں گی۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور انتہائی بااخلاق انسان ہیں، ان کی بیگم ان سے زیادہ مہمان نواز ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف اتنے مہربان اور ہنس مکھ لگتے ہیں کہ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ اتنی بڑی فوج کو اتنی خوش اسلوبی سے نہ صرف سنبھال رہے ہیں بلکہ دشمن کی ”کرم فرمائیوں“ کا جواب بھی ایسا دیتے ہیں کہ یقینا انہیں دانت دوبارہ لگوانے پڑتے ہوں گے۔
یہ تو خیر بہت بڑے لوگ ہیں لیکن جونیئر افسران بھی ہمارے بہت بڑے فین ہیں۔ اتنا خیال رکھتے ہیں کہ کچھ شرمندگی سی ہونے لگتی ہے۔ جن میں میجر منور، میجر عکرمہ، میجر منصور اور کئی نام میں بھول چکی ہوں جس کے لئے اور بھی شرمندہ ہوں۔ ہمیں ایک دن پہلے بلا لیا تھا۔ بہت ہی عمدہ ہوٹل میں ٹھہرایا۔ جو نیئر مہربان افسران کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جو کچھ ہوٹل میں موجود ہے ہمیں سب کھلا پلا دیں۔ صبح ہم ناشتے کے وقت موجود تھے،بس یہ ناشتے کا وقت ذرا امتحان کا ہوتا ہے کیونکہ ناشتہ چھہ بجے شروع ہوتاہے اور ہمیں سات بجے پریڈ گراﺅنڈ پر پہنچ جانا تھا۔ خیر میںنے اس کا انتظام یہ کیا کہ رات کی نیند سے معذرت کی کہ آج نہ بھی سوئے توکیا قیامت آجائے گی۔رات بھر ٹی وی دیکھتے رہے۔ صبح تیار ہو کر سب سے پہلے نیچے پہنچ گئے۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ حیران پریشان تھے کہ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے! میںنے گھڑی دکھائی۔ فوج کو پتہ چلے کہ ہم بھی وقت کے پابند ہو سکتے ہیں۔ لوگ جمع ہوگئے۔ تھوڑا بہت ناشتہ کرکے روانہ ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ بڑھاپا بچپن کی طرح ہی ہوتا ہے تو میرا تو ہمہ وقت بچپن ہی رہا۔ سخت پرجوش تھی۔ بڑی اچھی جگہ ہم لوگوں کو بٹھایا گیا۔ میرے ساتھ عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید تھے۔ ایوب کھوسہ بھی تھے۔ چونکہ یہ سب میرے ساتھ کام کرچکے ہیں اس لئے وقت اچھا گزرا۔ سدرہ اور ان کے میاں بھی ساتھ تھے۔ مہمانانِ گرامی میں ملائشیا کے وزیرِاعظم مہاتیر محمد گیسٹ آف آنر تھے۔ پریڈ وینیومیں تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔ سب سے پہلے وائس چیف آف ایئر سٹاف عاصم ظہیر پریڈوینیو میں تشریف لائے کیونکہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان فلائی پاسٹ کی قیادت کررہے تھے۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفرمحمود عباسی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ اور کئی حضرات تشریف لائے۔بعد میں وزیرِاعظم عمران خان تشریف لائے۔ تالیاں مسلسل بج رہی تھیں۔ بگل بجا کر صدرمملکت عارف علوی کی آمد کا اعلان ہوا جو پریذیڈنٹ گارڈ کی روائتی بگھی میں سوار ہو کر پریڈ گراﺅنڈ میں آئے۔ وزیرِاعظم اور مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔ صدرمملکت نے پریڈ کمانڈر کے ساتھ پریڈ میںشامل دستوں کا معائنہ کیا۔اچانک ایئر چیف F-16 میں سوار فضا میں نمودار ہوئے اور وہیں سے براہِ راست پیغام دیا’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاک فضائیہ ملکی آزادی اور خود مختاری کا بھرپور تحفظ کرے گی۔ پاکستان زندہ باد‘۔ کیا شاندار مظاہرہ تھا۔ ہم سب سانس روکے بیٹھے تھے، لگتا تھا کہ اس وقت صرف اور صرف پاکستان کی محبت ہے جو چہار سو پھیل چکی ہے۔ اور ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
اب وہ خوبصورت مناظر ہمارے سامنے تھے جو فوجی دستوں کی پریڈ دیکھ کر نظر آتے ہیں۔ جو قوم اس طرح شانہ بشانہ ساتھ ساتھ چل رہی ہو اسے شکست دینا ممکن نہیں۔ اس وقت میںنے دعا مانگی کہ کاش یہ قوم اسی طرح آپس میں تضادات چھوڑ کر یک جان ہو جائے۔صرف پاکستانی۔۔ صرف پاکستان۔
اپنے علاقائی رنگوں کی نمائش بھی فلوٹ کے ذریعے کی گئی۔ بڑا مزہ آیا جب گھوڑوں کے بعد اونٹوں کے دستے بھی مہمانوں کے سامنے سے قدم سے قدم ملاکر گزرے۔ اب بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔ آسمان پر جہازوں نے جو رنگ جمایا وہ میں مدتوں نہیںبھلا سکوں گی۔ اچانک آسمان پر رنگ ہی رنگ پھیل گئے۔ اس کے بعد کمانڈوز کا دس ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال ناقابلِ یقین نظارہ تھا۔ ان میں ملکی و غیر ملکی پیراٹروپر سب شامل تھے۔ آہستہ آہستہ سب کے سب اپنے اپنے پرچم سنبھالے اس جگہ آکے اترے جہاں انہیں اترنا تھا۔ نہ ڈگمگائے نہ گرے۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم گرنے والی قوم نہیں ہیں۔ لیکن جس منظر نے مجھ میں جیسے بجلی بھردی وہ گرلز کیڈٹ کا مارچ تھا۔ اللہ ہماری بچیوں کو اس سے زیادہ ہمت دے۔ کوئی فرق نہیں تھا ان کے مارچ میں اور نوجوانوں کے مارچ میں۔ وقت گزرنے کا احساس اب بڑی شدت سے ہورہا تھا۔ ہم کیوں اتنے پہلے دنیا میں آگئے۔ اب آتے تو شاید ہم بھی ان میں شامل ہوتے۔ اپنے ملک کے لئے جان دینے کو تیار ہوتے وہ تو اب بھی تیار ہیں۔ مگر اب جان کچھ جانِ ناتواں سی ہوگئی ہے۔ مگر ہے تو اپنے ملک کی۔ اتنے خوش تھے کہ سب کچھ ختم ہوگیا مگر ہم اپنی جگہ ساکت بیٹھے تھے۔میجر منور نے کہا۔۔۔ آپا واپس نہیںجانا۔۔ ہنسی آگئی۔۔۔۔
موج بڑھے یا آندھی آئے، دیاجلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سودکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے
(بشکریہ:ماہنامہ ہلال)
٭….٭….٭

مریم نواز کی واپسی

کامران گورائیہ
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی سیاست کے میدان میں واپسی ہوچکی ہے جسے حکمران جماعت کی تنقید اور مسلم لیگ ن کے اتحادیوں سمیت دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماﺅں کے حوصلہ افزا اور خیر مقدمی بیانات نے بے حد تانباک اور باوقار بنا دیا۔ یوں تو مریم نواز نے غیر رسمی انداز سے پہلے بھی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے ، اپنے والد اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کے ہمراہ ملک بھر میں منعقد کیے جانے والے جلسے جلوسوں سے خطاب کیا اور اپنے جوش خطابت سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات اور ہجوم کا لہو گرمائے رکھا، اپنے والد کے بیانیہ کوعوام کا پسندیدہ نعرہ بنوانے میں حسب توفیق حصہ بھی ڈالا۔ میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن میں اپنی علیل والدہ بیگم کلثوم نواز مرحومہ کو جتوانے کے لیے بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اورایک مضبوط ترین امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو شکست سے دوچار کیا۔ جولائی 2018ء کے انتخابات میں وہ والد کے ہمراہ جیل میں تھیں لیکن میا ں نواز شریف اور مریم نواز کا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ عوام کے دلوں میں گھر کر چکا تھا اسی لیے مسلم لیگ ن نے بے شمار مشکلات اور لاتعداد رکاوٹوں کے باوجود ثابت کر دیا کہ آج بھی اس جماعت کی جڑیں عوام میں بہت مضبوط ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نواز شریف اور عوام کے ساتھ کو40 سال کا طویل عرصہ بیت گیا ۔ان 40 سالوں میں جہاں عوام اور مسلم لیگ ن نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں وہاں آمریت اور محلاتی سازشوں کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ یوں تو مریم نواز کو میدان سیاست ورثہ میں ملا لیکن چند سال پہلے تک کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں نواز شریف کی جانشین ہی نہیں کہلائیں گی بلکہ عوام اور بالخصوص ملک کے نوجوان نسل کی مقبول ترین لیڈر بھی بن کر ابھریں گی۔ مریم نواز کو ن لیگ کا نائب صدر بنا دیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں شرکت کی، پارلیمنٹ میں جا کر اپنی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت کرنا ایسی علامات ہیں جنہیں ان کی سیاسی انٹری قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن غیر اعلانیہ طور پر وہ پہلے ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں اس لیے ان کا رات گئے اپنے والد کو جیل تک چھوڑنے جانا، سیاسی میٹنگز میں شرکت کرنا ان کی سیاست میں واپسی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ وہ چھوڑے ہوئے سیاسی میدان میں واپس آئی ہیں جسے ان کی پہلی انٹری نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی کی سیاست والا بیانیہ پٹ کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ خود بھی اب زیر عتا ب آ چکے ہیں۔
مریم نواز کی واپسی پر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی، میر حاصل خان بزنجوسمیت بہت سے سینئر سیاسی رہنماﺅں نے دلچسپ اور انتہائی زیادہ اہمیت کے حامل خیر مقدمی بیانات دیئے وہاں پر حکومتی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش اور ہلچل نے اس حقیقت کو مزید تقویت دے دی کہ مریم نواز ان کے لیے آنے والے دنوں میں ایک بڑی سیاسی حریف بن کر ابھریں گی جس کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر میں مریم نواز، مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سینئر سیاسی رہنماﺅں کے سر جوڑ کر بیٹھ جانے کو شیطانوں کی افطاری قرار دے دیا۔ حکومتی حلقوں میں بوکھلاہٹ کا عالم یہ رہاہے کہ وزیراعظم سے لے کر وزیراعلی پنجاب کے ترجمان تک کوئی ایک بھی حکومتی رکن ایسا نہیں تھا جس نے اس افطار ڈنر کے بہانے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں کے ایک ساتھ مل بیٹھنے کو کرپشن اور بدعنوانی کا نام نہیں دیا۔ بہرکیف جس رات کو میاں نواز شریف اپنی6 ہفتے کی طبی ضمانت کی مدت پوری ہونے کے بعد پھولوں کے ہار پہنے اور کارکنوں کے نعروں کی گونج میں جیل واپس پہنچے تو پاکستان مسلم لیگ ن میں بہت سی حیران کن تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایک بڑی سیاسی قوت کے قائد کا رات گئے خود کو جیل انتظامیہ کے سپرد کرنے کے لیے پہنچنا جہاں سیاسی حلقوں میں حیرت کا باعث بنا وہاں عوام کی بڑی تعداد میں موجودگی نے بھی اقتدار کے ایوانوں اور ملک کی فیصلہ ساز قوتوں کو دو ٹوک پیغام دے دیا کہ مریم نواز میاں نوازشریف کی جانشین ہیں۔ ریلی میں شہباز شریف کا بیانیہ کہیں نظر نہیں آیا بلکہ شہباز شریف نے اپنے بیانیہ کے برعکس اپنے قائد میاں نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت دینے کے لیے کوئی کوشش پیچھے نہیں چھوڑی جس کا ثبوت یہ بھی تھا کہ نواز شریف کی گاڑی کو ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ڈرائیو کر رہے تھے۔ بعدازاں یہ بھی دیکھا گیا کہ بلاول بھٹو کے افطار ڈنر پر جانے کے لیے جس گاڑی میں مریم نواز سوار تھیں حمزہ شہبازشریف ہی اسے ڈرائیو کر رہے تھے۔ اس طرح فی الوقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ جیل واپس جاتے ہوئے میاں نواز شریف نے اپنے مزاحمتی بیانیے کا جھنڈا پھر سے بلند کر دیا اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی سیاسی جماعت اور بیانیہ کی واحد جانشین مریم نواز کو بھی متحرک کر دیا۔
ہمیشہ ہی سے یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاست کو ایک کل وقتی پیشہ اور فل ٹائم جاب بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے مرحومہ بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز طویل عرصہ تک سیاست سے دور رہیں اور انہیں گھریلو خواتین ہی قرار دیا گیا لیکن وقت اور نظریہ ضرورت پہلے مرحومہ کلثوم نواز کو اور بعد میں مریم نواز کو بھی سیاست میں لے آیا۔ مرحومہ بیگم کلثوم نواز بھی عام دنوں میں سیاست سے قطع تعلق ہو کر گھریلو انجام دینے تک محدود رہیں مگر جوں ہی با ﺅ جی (نواز شریف )پر کوئی مشکل گھڑی آئی تو وہ سیاست میں متحرک ہو جایا کرتی تھیں۔ ابتدا میں یہی انداز مریم نواز نے بھی اپنارکھا تھا میاں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملنے والی 6 ہفتوں کی ضمانت تک وہ خاموش رہیں۔ یوں تو خاموشی کا یہ عمل بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا مگر وہ سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آئیں نا ہی انہوں نے کسی قسم کے سیاسی بیانیہ کو زبان زد عام کرنے کی کوشش کی۔ میاں نوازشریف کی 6 ہفتوں کی ضمانت منسوخ ہونے پر جیل واپسی کے فورا بعد انہوں نے اپنے والد اور پارٹی قائد کی خواہشات کو پیش نظررکھتے ہوئے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ایک بار پھر زندہ کر دیا ورنہ لگتا تھا کہ جیسے ن لیگ کی پوری قیادت صبر شکر کر کے سونے چلے گئی ہے لیکن جیل سے واپسی کے بعد سے لیکر حالیہ دنوں تک مریم نواز پوری طرح سے سیاسی سرگرمیوں کا از سر نو آغاز کر چکی ہیں جسے ان کی سیاسی واپسی بھی کہا جاسکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مریم نواز اپنے والد میاں نوازشریف کی خواہشات اور تواقعات کو پورا کر دکھانے کے لیے آنے والے دنوں میں مزید متحرک نظر آئیں گی۔ کچھ عرصہ تک میاں نوازشریف اور مریم نواز کی خاموشی سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ شہباز کا مصالحانہ بیانیہ کام دکھا گیا ہے اور نوازشریف کو ملنے والی تاریخ ساز طبی ضمانت ڈیل کا نتیجہ ہے مگر نواز شریف کی جیل واپسی نے اس تاثر کو زائل کر دیا، اب دیکھا یہ جا رہا ہے کہ شہبازشریف پر نت نئے مقدمات بنائے جا رہے ہیں ایسے میں مصالحت پسندانہ بیانیہ کیسے چل سکتا ہے۔ جاتی امرا سے کوٹ لکھپت جیل تک ن لیگ کی ریلی میں پائے جانے والے نظم و ضبط کا ٹرائل بھی تھا۔ انتخابات کے بعد سے ن لیگ کی تنظیموں پر جو سکوت اور خاموشی طاری تھی نوازشریف کی جیل واپسی اس کا امتحان تھا۔ اراکین اسمبلی اور پارٹی تنظیموں نے متحد ہو کر اس ریلی کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ شو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے 10 اپریل 1986 جیسا تھا اور نہ ہی عمران خان کے اکتوبر 2011 میں مینا ر پاکستان جیسا مگر اس حقیقت کو جھٹلانا بھی خود کو احمقوں کی جنت میں لے جانے کے مترادف ہوگا کہ مڈل کلاس کی نمائندہ جماعت ن لیگ کے حوالے سے یہ انتہائی متاثر کن شو تھا۔ مستقبل کی اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست میں دو بڑے نام ہی اگلے کئی سالوں تک نمایاں رہیں گے جن میں پہلے بلاول بھٹو ہیں اور دوسری مریم نواز ہیں۔ یہ درست ہے کہ مریم نواز خاتون ہیں اور ایک مشرقی بیٹی ہونے کے سبب وہ اپنے والد کی ہر درجہ وفادار بھی ہیں کہ اگر ان کے والد پر کوئی آنچ آ جائے تو وہ سایہ بن کر آگے کھڑی ہو جاتی ہیں مگر اس انداز سیاست کو ہمیشہ چلانا ممکن نہیں۔ مریم نواز کو اپنا سیاسی مستقبل مکمل سیاست دان بن کر تابناک بنانا ہوگا۔ سیاست میں مریم نواز کا مستقبل اسی صورت میں تابناک ثابت ہوگا جب وہ مستقل مزاجی کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گی جیسا کہ انہوں نے اب حکومت مخالف تحریک نکالنے کا عزم ظاہر کر کے کیا ہے اس کے علاوہ ان کا پارٹی کے مشاورتی اجلاس سمیت سوشل میڈیا پر متحرک ہونا بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مریم نواز کی سیاست میں واپسی ہو چکی ہے سیاسی میدان میں ان کا مستقبل کس قدر تابناک ہوگا اس کا انحصار خود ان پر ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭

دورویہ انڈس روڈ کی منظوری اور ہمارے وعدے

سردار اویس خان دریشک اظہار خیال
اپنے بھائی طارق خان دریشک جس نے ابھی ایم پی اے کا حلف بھی نہیں اٹھایا تھا‘ کی وفات ہمارے لیے ایسا صدمہ تھا جسے برداشت کرنا ہمارے لیے مشکل تھا لیکن کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے اور ہم بھی اسی مرہم کے طفیل آگے بڑھ رہے ہیں کہ ہمارے ماما سئیں سردار نصراللہ خان دریشک نے ہمارے مرحوم بھائی اور اپنے وعدوں کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی اسمبلی میں جنوبی پنجا ب صوبہ کی قرار داد منظور کروائی ۔اب میری قرار داد جو کہ انڈس روڈ کو ڈبل کرنے کے بارے میں تھی کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے توسط سے اسے نہ صرف منظور کرلیا بلکہ آنے والے بجٹ میں اس کے لیے فنڈز رکھنے کی بھی نوید دے دی ہے ،اس سے نہ صرف ہمارا خاندان مسرت کی کیفیت میں ہے بلکہ ہمیں یقین ہے ہمارے مرحوم بھائی کی بھی روح خوش ہوئی ہوگی کہ جس مشن پر انہیں عمران خان نے لگایا تھا وہ تکمیل کی جانب گامزن ہے ۔ ہمارے گھرانے کی سیاسی جدوجہد کافی عرصے پر محیط ہے مگر ہمیں کامیابی موجودہ الیکشن میں ملی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگوں کی ہمارے ساتھ محبت کا اظہار ہے اور ہم بھی یہ محبت ضرور لوٹائیں گے ۔ہمارا ضلع پنجاب کا آخری ضلع ہے اور دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ یہاں سے سوئی گیس نکل کر لاہور ،قصور اور اسلام آباد تو جارہی ہے مگر ہمارے علاقے میں نہیں ہے اور الٹا الزام بھی ہمارے سیاست دانوں پر لگا دیا جاتا ہے کہ یہ سردار وڈیرے ہی اپنے لوگوں کے دشمن ہیں ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سابقہ اداور میں لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں مقامی سیاست دان بھی اس میں برابر کے شریک ہیں مگر اب نئی نسلیں پڑھ لکھ گئی ہیں اور ان میں جدید سوچ کے نوجوان بھی موجود ہیں اس لیے پالیسی ساز اداروں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ اب وہ پسماندہ علاقوں کی طرف اپنی پالیسیوں کا رخ موڑچکے اور جہاں ہماری ضرورت پڑے گی، ہماری خدمات حاصل کی جائیں تو ہم چوبیس گھنٹے حاضر ہیں مگر اب جان بوجھ کر اگر کوئی ہمارے علاقوں کو نظرانداز کرےگا تو ہم اپنے عوام کے حقوق کے لیے ضرور بولیں گے اور ویسے بولنا بھی چاہیے کہ اب ووٹر بھی بہت سیانے ہوگئے ہیں جو سیاستدان ان کے حقوق کی بات نہیں کرتا وہ انہیں منہ بھی نہیں لگاتے،اس وقت ہم ٹیل پر موجود ہیں ایک طرف بلوچستان کی ٹیل تو دوسری طرف سندھ کی اسی طرح کے پی کے کی ٹیل بھی ہمارے ساتھ جڑی ہوئی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ پاکستان کا مرکزی علاقہ ہے یہاں ملکی دارالحکومت بنایا جاتا مگر اب بھی ہم ملکی ترقی اور حب الوطنی کے جذبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں اور لوگوں کو بھی یہی درس دیتے ہیں کہ یہاں ترقی ضرور ہوگی تھوڑا انتظار کرلیں ۔ یہاں میں طاہر بشیر چیمہ کو داد دینا چاہوں گا کہ وہ نئے صوبہ کی بات کررہے ہیں اور ممکن بھی یہی ہے اس لیے باقی صاحبان بھی اسی ایک سوچ پر متحد ہوجائیں تو بہت بہتر ہوگا اب تو سڑکیں بھی بن چکی ہیں اورپل بھی۔ ہمارے راجن پور کے دوست بھی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے رحیم یار خان جاتے ہیں ٹرین اور جہاز کا سفر بھی یہاں سے کرتے ہیں مستقبل میں کوئی اس سے بڑی ترقی بھی ہوسکتی ہے ،اب تووفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے بھی کہہ دیا ہے کہ حالات اور وقت بدل چکا ہے اب بہاولپور صوبہ ممکن نہیں، سو دوست سوچ بڑی رکھیں اور وقت کے دھارے کو پیچھے کی جانب لے جانے کے بجائے آگے کی طرف بڑھنے دیں یہی متوازن پاکستان کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت ہے۔
اس وقت اور کوئی ترقی ہونہ ہو وسیب کے لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے صوبے کے لیے کوئی نہ کوئی پیش رفت ضرور ہواور ہم بھی اپنی عوام کے ساتھ ساتھ ہیں ،دیہاتوں میں بھی جائیں تو جٹ پوچھتے ہیں سئیں ساڈا صوبہ کڈاں بنڑدا پے (ہمارا صوبہ کب بن رہا ہے) تو انہیں بھی ہم یہی کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو جو وعدے کیے تھے وہ ضرور پورے کریں گے ۔ اسوقت ڈیرہ غازی خان میں دل کے ہسپتال کی اشد ضرورت تھی، وزیر اعلیٰ نے کمال مہربانی سے اس کی منظوری دے دی ہے ،راجن پور میں سوئی گیس بھی جلد آجائے گی یہاں بھی یونیورسٹی کے کیمپس کے لیے پوری کوششوں میں ہیں ،لائیوسٹاک کے حوالے سے بھی ہمارا علاقہ زرخیز ہے یہاں اس حوالے سے بھی کوئی بڑا کام سامنے لائیں گے ،بےنظیر برج پر بھی کوئی اچھا منصوبہ اپنے لوگوں کو دیں گے ،بنگلہ اچھا کے مقام پر پل تو موجود ہے اپروچ روڈز بھی عوام کے لیے ضرور کھولیں گے تاکہ صوبوں کے درمیان فاصلے کم ہوں ۔
انڈس روڈ جسے لوگ قاتل روڈ بھی کہتے ہیں اسے نہ سرف ڈبل کرواکر دم لیں گے بلکہ یہاں انڈسٹری بھی لائیں گے۔ اگلے دن ایک قوم پرست دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ یہ روڈ کیونکہ پنجاب کی طرف نہیں جاتا اور یہاں پنجابیوں کی زمینیں بھی نہیں ہیں اس وجہ سے یہ نظراندازہوا ہے تو میں نے کہا کہ پنجابی بھائی اتنے بھی برے نہیں ہیں کہیں کمی ہمارے اندر بھی ہے کہ ہم مناسب انداز میں اپروچ ہی نہیں کرتے جس طرح اب جنوبی پنجاب صوبے کے لیے پراپر اپروچ جاری ہے،مناسب اور بہترین ورک سے انڈس روڈ دورویہ منظور ہوچکی ہے اسی طرح ہر اس کام کے لیے نیک نیتی سے کام کریں گے جس جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا اور ہمیں امید ہے ہمارا خدا ہمیںاپنے ہر وعدے میں سرخرو کرے گا ۔آخر میں گورنر پنجاب سے بھی توقع ہے کہ وہ ہمارے جنوبی پنجاب میں موجود جامعات کی فنڈنگ سمیت دوسرے مسائل بھی فوری حل کروائیں گے،خاص طور پر خواجہ فرید انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی رحیم یار خان کے معاشی مسائل کو جو ابھی نوزائیدہ ہے جسے تنخواہوں کی ادائیگیوں کا بھی مسئلہ ہے کیونکہ ہماری نوجوان نسل پہلے بھی پسماندگی اور احساس کمتری کا شکار ہے ،نوجوان نسل کو مسائل سے نکالنا نہ صرف ملکی مفاد میں ہے بلکہ اصل میں یہی حب الوطنی ہے اور اس بہترین درس پاکستان کے مرکزی علاقوں سے جابھی رہا ہے اور مزید بھی جائے گا کیونکہ اب نئے پاکستان میں ترقی کا رخ پسماندہ علاقوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے ۔
(کالم نگار تحریک انصاف کے ممبرپنجاب اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭

شعراءکے لہجوں میں تلخی کیوں؟

تحسین بخاری….درد نگر سے
ربنواز مخمور کی چند روز پہلے کال آئی کہ 19ویں محفل مشاعرہ کا انعقاد ہو رہا ہے آپ کا دعوت نامہ نادر مزاری تک بھجوا دیا ہے وہ آپ تک پہنچ جائے گا بس آپ لازمی شرکت کیجیے گا ۔میں نے کہا انشاءاللہ اپنی حاضری کو ضرور یقینی بناﺅں گا اور پھر اگلے ہی روز نادر مزاری کی کال بھی آگئی کہ آپ کا دعوت نامہ میرے پاس پہنچ چکا ہے ظفر چانڈیہ کے ہاتھوں بھجوا رہا ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے اور پھر اگلے ہی روز میںاپنی گاڑی پرروانہ ہو گیا۔ میں نے اپنے دیرینہ اور بے تکلف شاعر دوست شاہنواز پرواز سے بھی رابطہ کیا کہ ساتھ چلیں گے مگر اس نے اپنے ایک عزیز کی شادی کا بہانہ بنا کر جانے سے معذرت کر ڈالی ،پرواز بہت ہی پیار اور خوش مزاج دوست ہے یہ مجھے جب بھی ملتا ہے تو میں ان سے ان کی زبانی وہ واقعہ ضرور سنتا ہوں کہ پار جا تے ہوئے کشتی پر کیسے موٹر سائیکل چڑھا رہے تھے اور پھر آپ پر کیا گزری تھی،آپ کی بھی اگر کبھی پرواز سے ملاقات ہو تو یہ کہانی سننے کی فرمائش ضرور کیجیے گا۔ یہ داستان آپ کوکئی دنوں تک خوب ہنساتی رہے گی،خیر شیخ واہن میں میرے باقی تین دوست ظفر چانڈیہ ،اظہر خان اور شیخ اشفاق میرا انتظار کر رہے تھے میں نے ان کو ساتھ لیا اور روانہ ہو گئے ظاہر پیر سے ہوتے ہوئے چاچڑاں شریف سے گزرے تو روڈ کے ایک طرف اکھڑی اس ریلوے لائن کے ٹکڑے نظرآئے جو والی ءریاست بہاول پور نو اب صادق محمد خان نے اپنے مرشد سائیں خواجہ غلام فرید ©©ؒکیلئے خصوصی طور پر بچھوائی تھی اور پھر اس کے بعد اسے اکھاڑ دیا گیا ،ٹھنڈی آہ بھر کر وہاں سے گزرا تو آگے بینظیر شہید پل آ گیا ستم یہ ہے کہ اس پل پر بھی غنڈہ ٹیکس کیلئے ایک ٹول پلازہ قائم کر دیا گیا ہے دربار غلام فرید ؒتک پہنچنے کے لیے آپ کو نہ صرف آتے ہوئے بلکہ جاتے ہوئے بھی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی صحافیوں ضیا پہوڑ ،مہر اللہ دتہ اسد ،زبیر احمد اور دیگر دوستوں نے اس ایشو پر بڑی دھاڑ پٹ بھی کی تھی مگر کسی نے اس پر کان نہیں دھرے ،اور پھر وہاں پر بیٹھے بد تمیز قسم کے لڑکوں کا قائدہ قانون بھی نہیں آپ چاہے ٹول پلازہ سے ایک کلو میٹر آگے جا کر واپس آجائیں مگر آپ کو دوبارہ یہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ،خیر ہم ٹول پلازہ کراس کر کے پل پر پہنچے تو سندھ دریا کے پانی کا بہاﺅ اپنا ہی دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔ ڈھلتی شام کا سورج بھی خوب ڈبکیاں لے لے کر پانی میں اچھل کو د کر رہا تھا ہمیں بھی سیلفی بنانے کا شوق ہوا اور رک کر دو چار الٹی سیدھی سیلفیاں بنا کر چل پڑے ۔حضرت خواجہ غلام فرید ؒکی حاضری دیکر بازار سے گزرے توریڑھی پر رکھے لڈو پیڑے نظر آئے شوگر کے باوجود رہا نہ گیا اور لڈو پیڑے خرید کر خوب کھائے ،کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ جس چیز سے روکا جائے انسان اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے ،شوگر کے مریض کیلئے میٹھا ٹھیک نہیں ہے مگر پھر کبھی کبھی کھانا ہی پڑ جا تا ہے۔ ایک مشاعرے میں عزیز شاہد کو میزبان نے چائے پیش کرتے ہوئے پوچھا کہ( سائیں مٹھا کتنا ہووے ؟تو انھوں نے جواب دیا سائیں مٹھے دی آس تے تاں جیندے ودوں )جی ہاں جناب مٹھا تو پھر مٹھا ہوتا ہے ،تو جناب ٹھیک آٹھ بجے ہم عمر کوٹ جا پہنچے کھانا کھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ پیا را دوست شاعر و صحافی اسلم ساغر آ گیا ان کے پر ز ور اسرار پر ہم چائے پینے چلے گئے ،چائے کی آخری چسکی پر پیغام آیا کہ پروگرام شروع ہونے والا ہے جلدی پنڈال میں پہنچیں اور پھر ہم پنڈال میں جا پہنچے ،مشاعرے میں شہنشاہ سرائیکی ادب عزیز شاہد سائیں کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ کافی عرصے بعد ان کا درشن ہو امگر آج تو وہ خود بھی درشن کے ہمراہ تھے ،جی ہاںوہ اپنی نئی کتاب ’درشن‘بھی ہمراہ لائے تھے ،عزیز شاہد میٹھے لہجے کا کمال شاعر ہے اور یہ واحد شاعر ہے جس نے کبھی بھی اپنے محبوب سے شکوہ نہیں کیا ،ان کے علاوہ سائیں امان اللہ ارشد ،نادر مزاری ،بلال جوہر ،ریاض عصمت،ریاض بیدار ،ظفر چانڈیہ،اسلم ساغر،اختیار جوہر،ساجد مزاری،زاہد گبول کے علاوہ وسیب کے دیگر نامور شعرا بھی موجود تھے ۔میزبان ربنواز مخمور اور جام عابد حسین عابد نظامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ،پروگرام کے مہمان خصوصی سائیں خواجہ غلام فرید کوریجہ نے اپنے خطاب میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ورنہ ہم بھر پور تحریک چلائیں گے ،سرائیکی صوبے کے نقشے کے تخلیق کار احسان چنگوانی نے بھی اپنے خطاب میںحکمرانوں کو صوبہ بنانے کے وعدے خوب یاد دلائے ،انقلابی شعرا نے تو ماحول کو ایسا گرمایا کہ تالیاں بجا بجا کر سامعین کے ہاتھ لا ل پڑ گئے۔ ہر شاعر کا اپنی نظم میں ایک ہی مطالبہ تھا اور وہ تھاسرائیکی صوبے کا ۔
ہر شہر اجاڑ تے رکھ چھوڑی برباد نہ ہنڑ بی وستی کر
اساں پہلے ڈکھ دے ماریے ہوں نہ پیدا بی تنگدستی کر
توں حاکم ہیں تیڈا حق بنڑدے بہہ تخت تے جیجھی مستی کر
لگی بھا شالا کنٹینر کوں بکھ مردوں روٹی سستی کر
تیڈا وعدہ ہا تحسین ایہو ڈیساں سوبھ میں اجرک نیلی کوں
ساڈا صوبہ ہنڑ تئیں انج نی تھیا لیسوں بھا ایجھی تبدیلی کوں
اب پتہ نہیں کب بنے گا صوبہ۔ تین بجے پروگرام کا اختتام ہوا تو میں نے میزبا ن سے اجازت لی اور عزیز شاہد سامنے کھڑے تھے میں الوداعی ملاقات کیلئے ان کے پاس چلا گیا۔ جاتے جاتے انھوں نے اپنی کتاب درشن مجھے گفٹ کی جو میرے لیے اعزاز تھا ،میں ان کا شکریہ ادا کر کے گھر روانہ ہو گیا ، صبح چھ بجے گھر پہنچ کرکمرے کی کنڈی لگا کرایسے سو گیا جیسے صوبہ محاذ والے وزارتیں ملنے کے بعد لمبی تان کر سو گئے ،اگلے دن دوستوں کے ساتھ سسی کی ماڑی بھٹہ واہن جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں بھی ایک شاعر رفیق ساحل کوسننے کا موقع ملا،انہوں نے سسی کی شاعری کے علاوہ کچھ انقلابی شاعری بھی سنائی مگر ان کا لہجہ بھی تلخ تھا ،وہ شاعر جو کچھ عرصہ پہلے پیار ومحبت کی بات کرتے تھے اب تلخ باتیں کر رہے ہیں جو کہ حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی ہے ،اس لیے میرا ریاست اور اس کے اداروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ جو بھی ممکن ہو اس خطے کا صوبہ بنا دیں ورنہ مایوسی یہاں کے لوگوں کو بھی ڈی ٹریک کرسکتی ہے کیونکہ اب یہاں کے نوجوان کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پرامن رہ کر چالیس سال سے صوبہ مانگ رہے ہیں ،اب بھی صوبہ نہیں ملتا تو ہمیں کوئی اور راستہ اپنانا پڑے گا پھر ہم ایسے پرامن شاعر بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔
(سیاسی و سماجی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

امید کا دامن!

رازش لیاقت پوری وسدیاں جھوکاں
مجھ میں پتا نہیں ایسی کیا سیماب صفتی ہے کہ خود کو کبھی دفتر تک محدود نہیں رکھا ،کل بھی یہی کیفیت تھی آج بھی یہی ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گی اس لیے ”رول گابا“بنا رہتا ہوں اور شاید ملکو نے ہم ایسے لوگوں کے لیے ہی کہا ہے کہ” رل تاں گئے آں پر چس بڑی آئی اے“ اور ہم بھی ایسی ہی چس میں رہتے ہیں ۔ ابھی کچھ دن قبل جس دن قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک منظور ہورہی تھی اس دن ہم راجن پور میں تھے ،اس تحریک کی منظوری کے ایک دن قبل ہم اپنے مہربان دوست منظور خان دریشک کے گوپے پرموجود تھے تو یہاں ایک ایم پی اے بھی پہنچ گئے اور ہم نے غنیمت جانی کہ انہیں اپنی تازہ کتاب ”متوازن پاکستان“بھی پیش کی ،اس دوران انہوں نے کہا کہ ہم نے وسیب سے جوجووعدے کیئے تھے وہ ضرور پورے کریں گے مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ راجن پور سے نکلنے والی سوئی گیس راجن پوریوں کو کب دیں گے؟ہم نے اگلے دن سردار نصراللہ دریشک کو تحریک کی کامیابی کی مبارک باد دی تو انہیں اکادمی ادبیات اور لوک ورثہ میں سرائیکی وسیب کے پسماندہ لکھاریوں کو کھپانے کی بھی بات کی ،میری اس تجویز کی قسور خان دریشک نے بھی خوب تائید کی اس سے قبل شاہ نواز مشوری نے بھی انہیں ایسی کئی تجاویز دی ہیںجن پر راجن پوری سردار عمل کررہے ہیں مگر ان جیسے دیگر منتخب حکومتی نمائندوں کی سرکاری افسران کی کارکردگی پر بھی نظر ہونی چاہئے کہ ان کے اپنے شہر میں لیموں دس روپے کا ایک اور پانی کی بوتل ساٹھ روپے کی بک رہی ہے جبکہ پرائس کنڑول مجسٹریٹ کہاں گم ہیں کچھ پتا ہی نہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے لوگ ہوٹلوں اور دوسری کھانے پینے کی اشیاءکا معیار چیک کرنے کے بجائے ان سے پیسے لیکر انہیں سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں ،ہمیں امید تھی یہ ادارہ ناقص گھی سے اشیاءبنا کر دل اور دوسری بیماریوں کو بڑھانے والوں کا قلع قمع کرےگا مگر یہ بھی ریونیو جنریٹ ادارہ بن چکا ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں سمیت کئی اہم جگہوں پر سرکار نظر ہی نہیں آرہی ۔ ایسی ہی کارکردگی مجھے رحیم یارخان میں بھی نظر آئی کہ محکمہ ماحولیات کافی عرصے سے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر لانے کی مہم چلا رہا ہے مگر ضلعی سطح پر موجود اس کے افسران اس مہم کو خود ناکام کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ پہلے بھٹے والوں کو نوٹس دیتے ہیں بعدازاں ان سے مک مکا کرکے انہیں اس نوٹس سے بچنے کے قانونی راستے بھی بتا دیتے ہیں بلکہ خود انہیں عدالت لے جاکر سٹے کے لیے وکیل سے بھی ملوا دیتے ہیں ادھر پیسے کھرے کرلیے ادھر شاباش بھی لے لی کہ ہم کئی نوٹس دے چکے ہیں تو بھئی اب نوٹس نہیں کارکردگی دکھاﺅ،ایسی ہی بات عوامی وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی کہتے رہتے ہیں کہ ہم باتیں نہیں کام زیادہ کریں گے مگر لگتا یہی ہے کہ ضلعی لیول پر بیٹھے افسران ان کا یہ خواب کبھی بھی پورا نہیں ہونے دیں گے کہ جگہ جگہ خاندانی منصوبہ بندی کے دفتر کھلے ہیں مگر آبادی ہے کہ تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔
اس وقت ضلع لیول پر درجنوں محکمے کام کررہے ہیں مگر صحت اور تعلیم کے علاوہ کسی محکمے کا افسر فیلڈ میں نظر ہی نہیں آتا،لیبر ،انڈسٹری ،سوشل ویلفیئرایسے دوسرے چھوٹے موٹے اداروں کے تمام افسران دفتروں میں بیٹھ کرتنخواہیں کھری کررہے ہیں اگر کوئی کسی فائل کو ہاتھ لگا بھی لے تو اس کی رشوت لیتا ہے اس لیے آجکل یہ محاورہ مشہور ہوچکا ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سرکاری افسران کام نہ کرنے کی تنخواہ جبکہ کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں ۔محکمہ انہار کے اہلکاروں کو موگے توڑ کر پیسے لیتے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں جبکہ زراعت کے اہلکاروں کو پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کی دعوتیں اڑاتے بھی ان گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ بے بسی کی انتہا دیکھیں کہ ہم ابھی تک سبزیوں کے بیج تیار نہیں کر سکے اور انڈیا سے منگوانے پر مجبور ہیں جبکہ ہم صبح سویرے انڈیا کو گالیاں دیتے بھی نہیں تھکتے اور اپنے اداروں کی کارکردگی چیک کرنا تو ہم گناہ ہی سمجھتے ہیں ،ہم نظام عدل پر تنقید کرتے ہیں کہ کیسوں کو لٹکا کررکھتے ہیں ہم پولیس کو بھی کوستے رہتے ہیں مگر اور بھی کئی ادارے ہیں جنہیں ہم کبھی ڈسکس ہی نہیں کرتے ،ان اداروں میں بیٹھے سرکاری افسران مزے سے اپنی تنخواہیں کھری کررہے ہیں اور ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس ہی نہیں ۔اب رمضان کا مہینہ ہے روزمرہ کی اشیاءکے نرخ آسمانوں کو چھو رہے ہیںمگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کہیں نظر ہی نہیں آرہے ،ایک سیب چالیس روپے کا جبکہ ایک چھوٹا پپیتا سو روپے کا بیچا جارہا ہے ،سبزیاں ہیں کہ غریبوں کی پہنچ سے باہر ہیں لیکن ہم کوئی نیا سسٹم بنانے کے بجائی ابھی تک بولی سسٹم پر انحصار کیئے ہوئے ہیں ،ابھی ہوٹلوں کے ریٹس چیک کرنے والا کوئی نہیں جس کی جو مرضی صارفین سے وصول کررہے ہیں ،پٹواری کی جگہ نیا کمپیوٹر سسٹم آگیا مگر تحصیل دار اور اے سی ابھی تک ڈیلے ٹیکٹس استعمال کرکے لوگوں کو خوار کررہے ہیں ۔
لوگوں کو امید تھی کہ نئے پاکستان میں پرانا لوٹنے والا سسٹم نہیں ہوگا مگر سرکاری افسران کا مائنڈ سیٹ ابھی تک پرانا ہے ،عمران خان نے سیٹیزن پورٹل بنایا ہے مگر بیوروکریسی اسے ناکام کرنے پر تلی ہے جو شکایت کنندہ ہو،کسی محکمے کے خلاف شکایت کردے اس کی شکایت کے ازالے کے بجائے اسے خاموش رہنے کا کہا جاتاہے ،سیٹیزن پورٹل پر آنے ولی شکایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کے خلاف کچھ کارروائیاں ہوئیں مگر ابھی صورتحال اتنی اچھی نہیں جس کی تعریف کی جائے مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ بدلاﺅ نوٹ کیا جارہا ہے اسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔محتسب ،انٹی کرپشن ،صارف عدالتوں،نیب سمیت ان تمام اداروں کو مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے جو عام لوگوں کے لیے امید کی کرن ہیں تاکہ لوگ نئے پاکستان کا لطف اٹھا سکیں ، میں تو یہ کہوں گا کہ اب سرکاری اداروں کو کارکردگی کی بنیاد پر فنڈز دیئے جائیں اور ان اداروں کو بند ہی کردیا جائے جن کی کارکردگی صفر ہے تاکہ تنخواہوں کا بوجھ کم سے کم ہو ۔ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کئی ایسے ادارے شہر کے مرکز میں موجود ہیںجن کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اگر ان جگہوں کو کمرشل استعمال میں لایا جائے تو اچھا خاصا ریونیواکٹھا ہوسکتا ہے ۔ایک ایساادارہ بھی میں نے دیکھا ہے جو نیم سرکاری ہے جسے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کہا جاتا ہے اس ادارے سے منسلک اساتذہ کی تنخواہ سات ہزار سے زائد نہیں مگر انکی کارکردگی کسی چالیس ہزار والے استاد سے زیادہ ہے مگر ان کی ستائش تو کیا وقت پرتنخواہ ہی نہیں ملتی ۔اب بھی ٹھیکیدار یہی سوچ رہے ہیں کہ اب بھی ہم ٹھیکے خریدیں گے ۔یہ تو بات ہوئی سرکاری اداروں کی پھر آپ خود اندازہ کریں پرائیویٹ ادارے کیسے خلق خدا کو خوار کررہے ہوں گے جنہیں چیک کرنے والا بھی کوئی نہیں ،این آر ایس پی کے مظالم کی کہانی پھر سہی ۔ا ٓخر میں ایک سیانے کی بات یاد آگئی ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کئی ذہین لوگ دھکے کھارہے ہیں اور کئی جاہل اہم پوسٹوں پر بیٹھ کرمزے کررہے ہیں یہ سارے نصیب کی بات نہیں بلکہ ہماری قوم کی بدنصیبی ہے کہ یہاں کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے ہی نہیںمگر میں نئے اور متوازن پاکستان میں نا امید نہیں ہوں بلکہ پرامید ہوں کہ یہ حکومت کچھ نہ کچھ عام عوام کی بھلائی اور بہتری کے لیے کرے گی۔
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭

برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا مستعفی ہونے کا اعلان

لندن(ویب ڈیسک) برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے بریگزیٹ ڈیل کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کے باعث اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا، برطانوی وزیراعظم تھریسامے 7 جون کومستعفی ہوں گی۔برطانوی وزیراعظم عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں، ان کا کہنا تھا کہ ملک کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز تھا، بریگزٹ پر عمل درآمد نہ کرانے کا افسوس ہے اور ہمیشہ رہے گا جب کہ میں نے استعفی بریگزیٹ پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک پر دیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی یریگزیٹ کے ریفرنڈم کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔

کالعدم تنظیموں کے اکاﺅنٹس اور اثاثہ جات سرکاری تحویل میں

لاہور(ویب ڈیسک)کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے مختلف شہروں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں کے متعدد ارکان اور رہنماﺅں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں گوجرانوالہ سے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کا رکن محمد زاہد اور کالعدم تنظیم جیش محمد کا رکن عرفان احمد شامل ہیں۔ لاہور سے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ممبر حافظ محمد حمزہ اور حنظلہ بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ راولپنڈی سے کالعدم تنظیم جیش محمد کا رکن ظفر اقبال جبکہ ملتان سے سپاہ صحابہ کا رکن محمد اعجاز بھی گرفتار ہوا۔یہ بات صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے آج ڈی جی پی آر آفس میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن 4 مارچ کو شروع ہوا جس میں حکومت پنجاب دیگر تمام صوبوں سے آگے رہی۔ آپریشن کے دوران چند ہی ہفتوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں سے منسلک دیگر تنظیموں کے اکاﺅنٹس اور اثاثہ جات مساجد، مدارس، سکول، ہسپتال، ڈسپنسریاں وغیرہ کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا گیا۔ کالعدم تنظیموں کے تمام اثاثہ جات جن کی تعداد 581ہے کو سرکاری تحویل میں لے کر وہاں ایڈمنسٹریٹرز تعینات کر دیئے گئے اور ان کا کنٹرول محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے حوالے کر دیا گیا۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ ان اداروں میں کام کرنے والے تمام لوگوں کو باقاعدہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ تمام پرنٹنگ پریس پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کالعدم تنظیموں کے بارے میں کوئی مواد چھاپا نہ جا سکے۔ صوبائی وزیر نے متنبہ کیا کہ اگر کوئی پرنٹنگ پریس غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت پنجاب کالعدم تنظیموں کے تمام عناصر کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ اور ان کی روک تھام کے لئے پوری طرح سرگرم ہے۔ سید صمصام بخاری نے میڈیا کو بتایا کہ حال ہی میں اطلاعات ملیں کہ مختلف علاقوں میں بعض عناصر کالعدم تنظیموں کے لئے چندہ جمع کر رہے تھے۔ سی ٹی ڈی نے چھاپے مار کر ان تمام عناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔ صوبائی وزیرنے عوام پر زور دیا کہ وہ ایسے عناصر کے بارے میں جو چندا اکٹھا کرتے ہیں بروقت اطلاع دیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف کے حصول تک نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ حکومت پنجاب بلا ہچکچاہٹ مرکزی حکومت کے احکامات پر صوبہ بھر میں عملدرآمد کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔

تحریک انصاف سندھ میں ایک اور صوبہ بنانے کے خلاف ہے، وزیراعظم

کراچی(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے نئے بلدیاتی نظام کے تعارف کے بعد سندھ میں کسی تقسیم کی ضرورت نہیں رہے گی۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان سے سندھ میں تحریک انصاف کے اتحادی جماعتوں کے وفد نے ملاقات کی، وفد میں ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور پاکستان تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ ، فیصل واو¿ڈا، اشرف قریشی، ارباب غلام رحیم، نندکمار، نصرت سحر عباسی، صدرالدین شاہ راشدی اور دیگر نے شرکت کی۔ملاقات میں سندھ کی مجموعی و سیاسی صورتحال، سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری مختلف تر قیاتی منصوبوں اور اتحادی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ تحریک انصاف سندھ میں ایک اور صوبہ بنانے کے خلاف ہے، پی ٹی آئی کے نئے بلدیاتی نظام کے تعارف کے بعد سندھ میں کسی تقسیم کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ایران جنگ میں پاکستان کی کیا حکمت عملی ہو گی،آرمی چیف کی ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات

راولپنڈی(ویب ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات کی جس میں باہمی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات میں باہمی اور خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، تمام فریقین کو خطے کو جنگ سے بچانے کے لیے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

کینسر سے بہتر موت، مریض کی خودکشی

احمدآباد(ویب ڈیسک) بھارتی ریاست گجرات میں واقع نجی اسپتال میں زیر علاج کینسر کے مریض نے تکلیف اور مرض سے دلبرداشتہ ہوکر پانچویں منزل سے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیس سالہ شخص احمد آباد کے علاقے بپونگر میں واقع جنرل اسپتال میں زیرعلاج تھا۔ متوفی کو ایک برس قبل گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد ا±س کا علاج شروع ہوا اور اب کیموتھراپی کا مرحلہ جاری تھا۔خودکشی کرنے والے شخص کی شناخت وشال راجیندرا کے نام سے ہوئی جو وینائیک سوسائٹی کا رہائشی تھا۔اہل خانہ کے مطابق وشال کی 6 ماہ قبل ایک کیموتھراپی ہوچکی تھی اور وہ تکلیف کی وجہ سے دوسری نہیں کروانا چاہتا تھا، ہم نے ا±سے جمعہ کے روز اسپتال میں داخل کرایا تاکہ علاج کو جاری رکھ سکیں مگر ا±س نے صبح کے وقت پانچویں منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کردی۔پولیس حکام کے مطابق مقتول کے بھائی نے بیان دیا کہ صبح ساڑھے دس بجے کے قریب وشال نے کھانے میں مکھن مانگا اور جب ا±س کا بھائی کمرے سے لینے کے لیے باہر گیا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا اور شیشہ ٹوٹا ہوا تھا جب ا±س نے نیچے دیکھا تو وشال نیچے پڑا تھا اور ا±س کے خون نکل رہا تھا۔واقعے کا مقدمہ راکھیل پولیس اسٹیشن میں درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا، پولیس نے اہل خانہ اور ڈاکٹرز کو بھی شامل تفتیش کیا۔