All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

19جولائی۔یوم الحاق پاکستان

اعجاز حسےن ….اظہارخیال
لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اور پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری 19جولائی کو ”یوم الحاق پاکستان“ مناتے ہیں۔19 جولائی1947 ءکو سری نگر میں کشمیریوں کی نمائندہ تنظیم مسلم کانفرنس کے تاریخی اجلاس میں پاکستان سے الحاق کی قرارد پیش کی گئی ، جسے اجلاس کے تمام شرکاءنے متفقہ طور پر منظور کیا، اور اسی قرارداد کی بنیاد پر برطانوی حکمرانوں نے برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کے تحت یہ آزادی دی تھی کہ کشمیری جس ملک کے ساتھ چاہیں الحاق کرلیں۔ لیکن اکتوبر1947 ءمیں بھارت نے کشمیر پر قبضہ کرلیا اور کشمیر میں مسلمانوں پر بے شمار مظالم ڈھائے ، لیکن کشمیری آج بھی الحاق کی خواہش سے دستبردار نہیں ہوئے، اور پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے19 جولائی کو یوم الحاق پاکستان مناتے ہیں۔ اس سلسلے میں آزاد کشمیر، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں تقاریب، سیمینارز اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں جن کا مقصد اقوام متحدہ سے مطالبہ کرنا ہے کہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کر سکیں۔ آج مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کی سفاکیت انتہاءپر ہے، اور ارض کشمیر میں بسنے والے نہتے کشمیری بھارتی فوج کے خطرناک اسلحہ کا مقابلہ محض پتھروں سے کر رہے ہیں۔تمام آزادی پسند تحریکیں سیاسی اور عوامی میدان میں بھارتی ناجائز تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کےلئے برسرپیکار ہیں۔ مرد و زن عورتیں اور بچے آزادی کے نام پر مر رہے ہیں، کٹ رہے ہیں، زخمی ہو رہے ہیں، جیلوں میں سڑ رہے ہیں تو صرف اس لئے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری ان کی آواز پر توجہ دے۔ انہیں بھی دارفر اور مشرقی تیمور کی طرح علیحدگی کا رائے شماری کا حق دیا جائے جس کا اقوام متحدہ وعدہ کر چکی ہے۔ مگر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کشمیر کے مسئلے سے مسلسل آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔
ان حالات میں وہاں پرپتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے والے کشمیریوں میں غصہ اور اشتعال مزید بڑھ رہا ہے۔ بلاشبہ آزادی اےک اےسی نعمت ہے جو کسی بھی انسان کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔ اور کوئی بھی قو م اپنی ثقافت روایات اور مذہبی آزادی کے تحت اپنی زندگی بطور آزاد شہری گزار سکتی ہے، اور آزاد قومیں ہی دنیا میں اپنی نسل در نسل شناخت کا باعث بنتی ہیں۔ اور جب کسی قوم کو زبر دستی زیر کرنے یا پھران کے حقو ق سلب کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ ہتھیار تو کیا اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے حقوق کا دفاع کرتے ہیں یہ کیفیت ہر انسان کی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی نے کسی سے آزادی جیسی نعمت کو چھیننے کی کوشش کی تو اس کا کیا انجام ہوا ؟۔
حکومت پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں کئی بار اٹھایا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے حل کےلئے بھارت پر زور دیا گیا۔ لیکن کیا وجوہات ہیں کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قرار دادوں پر عملدر آمد کروانے میں بے بس ہے ؟۔ لاکھوں کشمیری عوام حق خود اردایت کے حصول کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ پاکستان بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم کے72 سال گزرنے کے بعد بھی اس مسئلے کے حل کے لئے مصروف عمل ہے ، لیکن بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں سنجیدہ نہیں رہا، اور اپنی ہٹ دھرمی اور طرح طرح کے الزامات اور دھمکےوں سے مسلسل مسئلہ کشمےر سے چشم پوشی اختےار کئے ہوئے ہے۔ جبکہ آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی وحشیانہ کاروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف ہیں،اور بھارتی میڈیا منفی پراپیگنڈہ پر عمل پیرا ہے ۔
پاکستان کو شدےد ضرورت ہے کہ وہ بھارتی ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی کی اصل صورتحال سے اقوام عالم کو آگاہ کرے، تاکہ کشمیری عوام کے موقف کی صحیح ترجمانی کی جاسکے۔ اس کے لئے صرف پی ٹی وی ہی نہیں بلکہ پرائیوٹ ٹی وی چینلز اور اخبارات کو اس معاملے میں سنجیدگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ مسئلہ کشمیر ہی پاکستان بھارت کشیدگی کی بنیادی جڑ ہے ، اس کے باوجود جب بھی پاک بھارت مذاکرات کا آغاز ہوا بھارت نے پیشگی شرائط عائد کرکے دوطرفہ مذاکرات کی راہیں مسدود کردیں۔ اگر بھارت نے اپنی دیرینہ ڈھٹائی کو برقرار رکھتے ہوئے کشمیر پر اپنا تسلط جمانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تو اسکے یہ عزائم علاقائی اور عالمی سلامتی کیلئے خطرات بڑھانے والے ہیں۔ اگر ان عزائم کو بھانپ کر بھی خطے کی سلامتی کو لاحق خطرہ کو محسوس کرنیوالے ممالک بھارت کیساتھ ایٹمی دفاعی تعاون کے معاہدے اور جدید ایٹمی اسلحہ کی فراہمی میں اسکی سرپرستی کررہے ہیں تو اسکے جنگی جنون میں اضافہ کرکے وہ اسکے ہاتھوں امن و سلامتی کیلئے خطرات کو خود بڑھا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصروں کو شکایات درج کرانے کے باوجود عالمی ادارہ بھارت سے نجانے کیوں سہما کھڑا ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک ہیں، کنٹرول لائن پر ایٹمی ممالک میں کشیدگی اگر بڑھ گئی تو تباہی کی ہولناکی دیکھنے والا شاید ہی ان دونوں ممالک میں کوئی بچے گا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے اور بر صغیر میں امن واستحکام کے قیام اور بقاءکے لئے کشمےر مےں مسلمانوں پر سنگےن ظلم و بربرےت اور انسانی حقوق کی بدترےن پامالی کو روکتے ہوئے ، مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا انتہائی ضروری ہے ، بھارت اب اندھی طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو محکوم بنا کر نہیں رکھ سکتا۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

بھارتی سازش بے نقاب

محمد فاروق عزمی….جواں عزم
پاکستان کو معرض وجود میں آئے 71 برس سے زیادہ ہوگئے ہیں، لیکن پاکستان کے دشمنوںمیں بھارت ایسا متعصب اور گھٹیا دشمن ہے جو روزِ اول سے ہی پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش رہتی ہے کہ پاکستان کو دنیا میں ناکام اور بدنام کیا جائے۔ اس کی ان مذموم کوششوں میں امریکہ اور اسرائیل بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں اور ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوتے ہیں۔تاہم اپنی تمام تر مکاریوں کے باوجود پاکستان کو اپنی ناپاک خواہش کے مطابق دنیا کے نقشے سے مٹانے میں ناکام ہیں اور اللہ کے فضل و کرم سے تاقیامت ناکام ہی رہیں گے۔ پاکستان صبح قیامت تک قائم و دائم رہے گا اور ترقی کرتا رہے گا۔ جہاں پاکستان کے دشمن ہمہ وقت پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں وہاں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے محب وطن، ذہین اور صاحبِ عقل و دانش افراد سے نوازا ہے جو ہمیشہ دشمن کو اس کی ناپاک سازشوں میں ناکام و نامراد کرنے اور ان کی سازشوں کا پردہ چاک کرکے انھیں بے نقاب کرنے میں مستعد اور تیار رہتے ہیں اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔
روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر اور معروف مصنف جناب ضیا شاہد نے ”گاندھی کے چیلے“ کے عنوان سے ایک ایسی تحقیقی اور دستاویزی کتاب لکھی جس میں انہوں نے خاص طور پر گاندھی کے پاﺅں دھونے والے سرخ پوش خان عبدالغفار خاں (عرف باچا خان) ان کے بھائی ڈاکٹر خان اور بیٹے عبدالولی خان کی پاکستان دشمنی اور ان کے انگریز اور ہندو کے ایجنٹ ہونے کے ٹھوس، ناقابل تردید ثبوت پیش کیے اور ایسی ناقابل تردید داستانیں اور اندرونی کہانیاں تحریر کیں کہ پاکستان کے ان اندرونی دشمنوں کو آج تک اس کا جواب میسر نہ آسکا۔ وجہ یہ کہ جناب ضیا شاہد نے جو کچھ اپنی کتاب میں بیان کیا ایک تو وہ سو فیصد سچ ہے اور دوسرے انہوں نے جتنے بھی ثبوت اور حوالے مہیا کیے وہ سب انہی پاکستان دشمن خاندان کے اپنے لوگوں کی کتابوں سے فراہم کیے۔ گویا ضیا شاہدصاحب نے ان کو انہی کی کرنسی میں ادائیگی کی، لہٰذا ان ننگِ وطن لوگوں کو ان باتوں کی تردید کی جرا¿ت کیسے ہوتی ؟ اس کتاب کا ایک ایڈیشن ستمبر 2017 ءمیں قلم فاﺅنڈیشن نے شائع کیا، اس کے بعد 2017 ءمیں ہی جناب ضیا شاہد نے اپنی ایک اور کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ میں ایسے دیگر اندرونی دشمنوںکو بے نقاب کیا تھا جو پاکستان میں رہ کر ، اس کی آزاد فضا میں سانس لے کر، اس دھرتی سے پیدا ہونے والا اناج کھاکر اپنے ہی وطن اپنی ہی دھرتی کے خلاف سازشوں کا جال بنتے رہتے ہیں اور دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتے۔ اس کتاب میں خاندانِ باچا خان کے علاوہ جن لوگوں کے چہروں سے ضیا شاہد کے قلم نے نقاب اتارا ہے ان میں الطاف حسین، محمود اچکزئی، اکبر بگٹی، بلوچی گاندھی، عبدالصمد اچکزائی ،حربیار مرمی، برہمداغ بگٹی، جی ایم سید وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ضیا شاہد صاحب جیسے محب وطن اہل قلم انہیں آئینہ دکھانے اور ان کے مکروہ چہروں سے نقاب نوچنے میں کسی سستی اور کاہلی کا شکار نہیں ہوتے۔
2008ءمیں بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک سازش کا جال بُنا اور اس کی خوب خوب تیاری کرکے ایک ڈرامہ تیار کیا اس کی ریہرسل کی اور اس ڈرامے کے لیے تیار کردہ کرداروں کو اچھی طرح ٹریننگ دے کر 26 نومبر 2008ءکو بھارت کے شہر ممبئی میں تاج محل ہوٹل اینڈ ٹاور، اوبرائے ٹرائڈنٹ ہوٹل، لیوپولڈ کیفے کے اسٹیج سے ”آن ایئر“ کر دیا اور تین دن تک دنیا کو اسے لائیو (Live) دکھایا جاتا رہا۔ اجمل قصاب اس ڈرامے کا مرکزی کردار تھا، کہانی کا مرکزی خیال پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنا اورد ہشت گرد ملک قرار دلوانا تھا، ممبئی ڈرامے کے اس ایکٹ میں 169 بھارتی مارے گئے۔دیگر مارے گئے افراد میں 25 کا تعلق، اسرائیل، جرمنی، برطانیہ، آسٹریلیا، مریشس، ملائیشیا ، جاپان، فرانس، امریکہ، سنگا پور، اومان، سپین ، فلپائن، کینیڈا، پولینڈ اور اردن سے تھا۔ بھارت اسرائیل او رامریکہ ایسے سنگ دل اور سفاک ممالک ہیں جو اپنے مذموم اور نا پاک مقاصد کی تکمیل کیلئے اپنوں کا ہی خون بہانے میں ذرا نہیں ہچکچاتے۔ بھارت میں اس کی تازہ مثال پلوامہ حملہ ہے جس میں بھارت نے اپنے ہی فوجیوں کو خون میں نہلایا اور یہی کچھ 26/11 میں رچائے گئے بھارتی ڈرامے میں ہوا جہاں پاکستان کو بدنام کرنے اور دنیا میں دہشت گرد ملک قرار دیئے جانے کی ناپاک کوشش کیلئے تیار کیے گئے ڈرامے میں اپنے ہی شہریوں اور غیر ملکی مہمانوں او رسیاحوں کو خون میں نہلا دیا اور اس کا سارا الزام کسی تاخیر اور تحقیق کے بغیر فوراً پاکستان پر تھوپ دیا پھر اپنے ایک جھوٹ کو چھپانے اور نبھانے کیلئے بھارت نے کتنے ہی جھوٹ گھڑے، امریکہ اس کا ہمنوا ہوا ، لیکن جھوٹ کے پیر کہاں ہوتے ہیں؟ ممبئی حملوں (26-11-2008) کو گذرے 10 برس سے زائد عرصہ ہوگیا ہے لیکن اس کی باز گشت ہر روز مختلف الفاظ اور واقعات کے تناظر میں امریکہ اور بھارت سنائے جاتے ہیں۔ منیر احمد بلوچ نے 26/11 کے ممبئی حملوں کے صرف پانچ دن بعد روزنامہ خبریں اور دی پوسٹ میں اپنے مضامین کے ذریعے بھارت کی پیش کی گئی کہانی کا جواب دیتے ہوئے اس حملے سے پہلے اور بعد کے کچھ پوشیدہ گوشے سامنے لانے شروع کر دیئے۔ اپنی معلومات اور پھر دنیا کے اہم ممالک میں گھومتے ہوئے ممبئی حملوں کے حوالے سے منیر احمد بلوچ کے علم میں کچھ ایسے انکشاف اور معلومات سامنے آئیں جن سے بھارت کے اس ”ڈرامے“ کا راز فاش ہوگیا اور جھوٹ اور فریب کی یہ ہنڈیا بیچ چوراہے کے ریزہ ریزہ ہوگئی ۔ ممبئی حملوں کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن دس گیارہ سال بعد بھی امریکی صدر کی نشست پر براجمان ڈونلڈ ٹرمپ وہی لب و لہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں جو سرا سر حقائق کے منافی ہے لہٰذا ضروری تھا کہ بھارت کو اس کے جھوٹ کے جواب میں سچائی کی تصویر دکھائی جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ اصل کہانی اور ڈرامہ کیا تھا۔ منیر احمد بلوچ نے بہت عرق ریزی اور تحقیقات کے بعد جو کتاب لکھی ہے اس کا نام ہے ”ممبئی 26/11 ہمینت کرکرے اور اجمل قصاب“ اجمل قصاب کو پھانسی ہوچکی اور دنیا اس کے نام سے واقف ہے۔یہ کتاب بھار ت کی مکاریوں کا پردہ چاک کرتی ہے ۔ بھارت، امریکہ اور اسرائیلی میڈیا کے مسلسل الاپے گئے اس راگ کے جواب میں بہت اہم اور موثر دستاویز ہے جس راگ کی تان ہر چھوٹے بڑے واقعے کا الزام پاکستان پر لگانے کے سوا کہیں نہیں ٹوٹتی۔ منیر احمد بلوچ نے ممبئی حملوں کے سلسلے میں اپنی تمام تحقیقات کو ترتیب اور سلیقے کے ساتھ کتابی شکل میں شائع کرکے دنیا کو بتا دیا ہے کہ ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ خود بھارت ہے ۔ اُردو میں لکھی گئی اس کتاب کے انگریزی ترجمے کی اشد ضرورت اوراہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ FATF کے ہر اجلاس سے پہلے ممبئی حملوں کی تمام گندگی بھارت پاکستان کی چار دیواری میںپھینکنے کی کوشش کرتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ انگریزی ترجمے کے ساتھ پاکستان کے موقف اور بے گناہی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے پیش کردیئے جائیں کیونکہ اس کتاب کا ایک ایک لفظ پاکستان کے خلاف کی جانے والی ان سازشوں کاپردہ چاک کرتا ہے جس کا تخلیق کار بھارت ہوتا ہے اور اس کی پشت پر امریکہ اور اسرائیل کا مکار چہرہ بھی نظرآتا ہے ۔ کتاب کے عمیق مطالعے سے منیر احمد بلوچ کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب میں انہوں نے بھارت کی تمام چالبازیوں ، جھوٹ اور مکاریوں کا جواب ایسے موثر انداز میں ثبوتوں کے ساتھ پیش کر دیا ہے کہ کوئی اس کی تردید کرنے کی ہمت نہیں کرسکے گا۔ پاکستان زندہ باد
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

پی ٹی وی کے پنشنروں کی فریاد!

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ نظر
پاکستان ٹیلی ویژن کے ہزاروں ریٹائرملازمین اس وقت بے شمار مسائل کاشکار ہیں لیکن ان کاکوئی پرسان حال نہیں۔ یہ وہ ریٹائرملازمین ہیں جنہوں نے اس سرکاری ادارے کے قیام سے لے کر اپنی ریٹائرمنٹ تک دن رات محنت کرکے اسے بام عروج تک پہنچایا اور اسے صحیح معنوں میں فیملی چینل بنایاتھا۔ ان ریٹائر ملازمین کے دور میں پی ٹی وی کے ڈرامے‘دستاویزی پروگرام‘ مارننگ شوز‘سپورٹس کی کوریج‘ ڈسکشن پروگرام‘ تعلیمی اور مذہبی پروگرام‘ براہ راست کوریج‘حالات حاضرہ اور خبرنامہ کی مقبولیت پاکستان بھر میں تھی۔ یہ قومی ادارہ اس خطے میں الیکٹرونک میڈیا کاTREND SETTERبھی تھا۔ میرے خیال میں سیاسی بنیادوں پر چیئرمین ،ایم ڈی اورسٹاف کی تقرری کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی اور آج یہ منافع بخش اوراعلیٰ ساکھ رکھنے والا ادارہ بے شمار مسائل کاشکار ہے ۔ہر حکومت نے اپنی پالیسیوں کو عوام تک پہنچانے اوراپوزیشن کورگڑا لگانے کیلئے اس قومی ادارے کو استعمال کیا۔ آج یہ ادارہ طرح طرح کے انتظامی اور مالیاتی مسائل کاشکار ہے جس کا تمام تر اثر بےچارے ریٹائرملازمین پرپڑ رہاہے۔ بڑھاپے کی عمر میں کبھی انہیں نقد ادائیگی پر ادویات خریدنے پرمجبور کردیا جاتا ہے اورکبھی انہیں ان کے میڈیکل بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ آپ کویہ جان کریقینا دکھ اورتکلیف محسوس ہوگی کہ پی ٹی وی اپنے ریٹائرملازمین کو پروفیسر ڈاکٹراور سپیشلسٹ سے چیک اپ کروانے کی فیس پوری ادانہیں کرتا۔ یہ ان بزرگ اوربوڑھے پنشنروں کے ساتھ صریحاً زیادتی ہے۔ پی ٹی وی کم ازکم پنشنرز کو پروفیسرڈاکٹر اور سپیشلسٹ کی پوری معائنہ فیس تو ادا کرے۔
اس وقت پنشن میں سالانہ اضافے کے حوالے سے بھی پی ٹی وی کے پنشنرز بے پناہ مسائل کاشکار ہیں۔ حکومت پاکستان ہر سال ریٹائرسرکاری ملازموں کی پنشن میں اضافہ کرتی ہے لیکن پی ٹی وی انتظامیہ اپنی مرضی سے پنشن بڑھاتی ہے۔ بہانہ یہ بنایا جاتاہے کہ پی ٹی وی کے اپنے قواعد وضوابط ہیں او راس کی آڑ میں ہی گزشتہ12سالوں کے دوران پنشنرز کی پنشن میں صرف چھ بار اضافہ کیاگیا۔ حالیہ وفاقی بجٹ2019-20ءمیں حکومت پاکستان نے پنشن میں دس فیصد اضافہ کیاہے جس کا تمام سرکاری محکموں کے پنشنرز پراطلاق بھی ہو چکاہے لیکن پی ٹی وی کے پنشنرز ابھی تک پنشن میں اضافے کے منتظر ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا پی ٹی وی حکومت پاکستان سے بھی بالاکوئی ادارہ ہے جس پر حکومت یا عدلیہ کے کسی فیصلے کااطلاق نہیں ہوتا؟
سپریم کورٹ آف پاکستان نے72سال کی عمر میں ریٹائرملازموں کو پوری پنشن(DOUBLE PANISON)دینے کا حکم صادر کیا تھا لیکن پی ٹی وی انتظامیہ 72سال تو ایک طرف رہے75سال پربھی پوری پنشن دینے کوتیار نہیں‘ اس مسئلے پر بھی یہی بہانہ کیاجاتاہے کہ ہمارے اپنے قواعدوضوابط ہیں جو بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور شدہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیاپی ٹی وی کے اپنے قواعدوضوابط کاسہارا لے کر پنشنرز کو ان کے جائز حق سے محروم کرنا انسانی حقوق اور آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ وزارت اطلاعات ونشریات کے تحت کام کرنے والے ادارے ریڈیو پاکستان(PBC) میں پنشنرزکی پنشن ہرسال حکومت کے اعلان کے مطابق بڑھ جاتی ہے اورانہیں پوری پنشن بھی مل جاتی ہے ایسی صورت میںPTVکے انوکھے قواعدوضوابط سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اس وقت تک پی ٹی وی کے درجنوں75سال سے زائد عمر کے پنشنرز پوری پنشن کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اورصرف25 کے لگ بھگ زندہ ہیں جبکہ ان میں سے 12شدید بیمار ہیں ،کیا پی ٹی وی انتظامیہ حکومت پاکستان کے قوانین کے عین مطابق72 سال کی عمر سے انہیں پوری پنشن کاحق دے گی؟ کیا پی ٹی وی کابورڈ آف ڈائریکٹر بوڑھے اوربزرگ پنشنروں کی پنشن میں ہرسال اضافہ اور72 سال پرپوری پنشن دینے کاان جائز حق دینے کیلئے فوری اورعملی اقدامات کرے گی؟ ایک بات ذہن نشین رہے کہ ہمارا دین بھی بوڑھے بزرگوں کے ساتھ محبت اورشفقت کرنے کاحکم دیتا ہے۔ ان کی خدمت کرنا ‘ان کاخیال کرنا‘ان کی ضروریات کوپورا کرنا اور ان کو علاج معالجے کی سہولتیں دینا اسلامی احکامات کے عین مطابق ہے۔ کیا اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کادعویٰ اورعزم کرنے والے اس طرف بھی توجہ دیں گے؟
پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنے ریٹائرملازمین کی فلاح وبہبود کی طرف کبھی بھی توجہ نہیں دی اورابھی تک پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ بھی قائم نہیں کیاجس سے ریٹائر ملازموں کو ان کی کمیوٹیشن(COMMUTATION) کی رقم ادا کرنے میں کئی سال کی غیر ضروری تاخیر ہو جاتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں وزیراعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان‘ چیئرمین پی ٹی وی اورنئے منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی نے203ریٹائرملازموں کو ان کی کمیوٹیشن کی رقم ادا کرنے کاعملی قدم اٹھایا جوکہ قابل صدتحسین ہے۔ یاد رہے کہ یہ ملازمین یکم جولائی 2016ءسے31 دسمبر2017ءکے دوران ریٹائر ہوئے تھے اور انہیں اپنے حق کمیوٹیشن کی رقم لینے کیلئے دو سال سے تین سال تک انتظار کرنا پڑا۔ یکم جنوری2018ءسے اب تک کے تقریباً250کے لگ بھگ ریٹائرملازمین کمیوٹیشن کے حصول کیلئے بے چینی سے ا نتظار کررہے ہیں اوربے پناہ مالی اورمعاشی مسائل کاشکار ہیں۔ اگرپاکستان ٹیلی ویژن نے پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ قائم کرکے اس میںاس مقصد کیلئے رقم رکھی ہوتی تو کبھی بھی ایسے حالات پیدا نہ ہوتے۔ضرورت اس بات کی ہے انتظامیہ پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ کافوری طورپر قیام عمل میں لائے اور اس میں پی ٹی وی کے ہرمرکز سے کم ازکم دو دوریٹائرملازمین کو ٹرسٹ میں شامل کرے تاکہ فنڈ اورریٹائرملازموں کے حقوق کاتحفظ ہوسکے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے پہلے پی ٹی وی انتظامیہ ملازمین کے پنشن کیلئے مختص رقم میں سےESPNسپورٹس چینل میں خاموشی سے671ملین روپے کی سرمایہ کاری کرچکی ہے جس کی وجہ سے2014-15ءمیں ریٹائرہونے والے ملازمین کو دو سال کی تاخیر سے کمیوٹیشن کی رقم ملی تھی۔اس طرح کی غیرقانونی کارروائیوںکوروکنے کیلئے ٹرسٹ میں ریٹائر ملازمین کی مو¿ثرنمائندگی بے حد ضروری ہے۔ ریٹائرملازمین کایہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ انتظامیہ پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ کاقیام فوری طورپرعمل میں لائے‘ اس سے معقول رقم رکھی جائے اوریکم جنوری2018ءسے اب تک ریٹائرڈ ہونے والے تمام ملازمین کو ان کی کمیوٹیشن کی رقم فوری طورپر ادا کی جائے اورآئندہ سے یہ پالیسی بنائی جائے کہ تمام سرکاری محکموں کی طرح ریٹائرمنٹ کے وقت ہی ریٹائرملازم کے تمام واجبات موقع پر ہی ادا کردئیے جائیں۔
ملک میں روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پی ٹی وی کے پنشنروں کی پنشن میں کم ازکم15فیصد کافوری اضافہ کیاجائے اور انصاف کے تقاضوں کوپورا کرنے کیلئے گزشتہ 12سالوں کے دوران انتظامیہ نے حکومت پاکستان کے ساتھ6مرتبہ ہماری پنشن میں اضافہ نہیں کیاتھا وہ کھوایاہوا ہمارا حق ہمیں فوراً واپس دیاجائے۔ یہ بات یاد رہے کہ اس وقت پنشن کے تمام معاملات صرف اس وقت زیر غور آتے ہیں جب دو سال بعد پی ٹی وی کی سی بی اے کے ساتھ انتظامیہ کے چارٹر (CHARTER) پر مذاکرات ہوتے ہیں اس سے ریٹائرملازمین کو بے شمار مسائل کاسامنا کرناپڑتاہے اورچارٹر کے انتظار میں کئی پنشنرز اللہ کوپیارے ہو جاتے ہیں لہٰذا انتظامیہ کو چاہئے کو وہ ریٹائرملازمین یعنی پنشنرز کوCBAیونین کے چارٹر کے ساتھ منسلک نہ کرےں بلکہ انہیں حکومت پاکستان کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ کے ذریعے پنشن میں اضافے کمیوٹیشن کی بروقت ادائیگی اوردیگر مراعات دے۔ پی ٹی وی ریٹائرڈ ایمپلائزویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین احسان اللہ خان کایہ مطالبہ سوفیصد درست ہے کہ پی ٹی وی میں نئی بھرتیوں کے وقت ریٹائرملازمین کے بچوں کیلئے دس فیصد کوٹہ مختص کیاجائے ۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان کے تما م محکموں اور اداروں میں ریٹائرملازمین کے بچوں کیلئے کوٹہ مختص کیاجاتاہے۔ایسا کرنے کیلئے ریٹائرملازمین کی خدمات کااعتراف کرنا سمجھا جاتاہے۔ان حالات میں پی ٹی وی انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ EOBIکے قوانین تک تمام ریٹائرملازمین کی کنٹری بیوشن یکم جولائی 2013ءسے فوری ادا کرے تاکہ ریٹائرملازموں کو مزید مالی نقصان سے بچایاجاسکے۔دوسری طرف پی ٹی وی نے اپنے ملازمین کی ماہانہ تنخواہ سے گروپ انشورنس کی پریمیم کی رقم کبھی بھی منہا نہیں کی جس کی وجہ سے آج ریٹائرمنٹ کے بعد ہزاروں پنشنرز گروپ انشورنس کی واپسی کی بھاری رقم سے محروم رہ گئے ہیں۔ اس بدانتظامی اور ریٹائرملازمین کے مالی نقصان کے ازالے کیلئے پی ٹی وی انتظامیہ کو فوری اقدامات کرنا چاہئیں۔ پی ٹی وی کے ریٹائرملازمین پی ٹی وی کے چیئرمین ارشد خان اور منیجنگ ڈائریکٹر عامرمنظور سے بہت سی امیدیں واستہ کیے ہوئے ہیں کہ وہ جہاں پی ٹی وی کے کھوئے ہوئے مقام کوواپس لانے کیلئے عملی اقدامات کرینگے وہاں ملازمین خاص طورپرریٹائرملازمین کومراعات دینے اور ان کے جائزحق کیلئے فوری اقدامات کریںگے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

کیپٹن انیکا چوپڑا۔خیال سے خواب تک

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
وہ لڑکی کہاں گئی، اسے مل کر ڈھونڈو….بھارتی سیکیورٹی ادارے آجکل سر پکڑے بیٹھے ہیں اور ہر افسر اسی نامعلوم لڑکی کے بارے میں فکرمند دکھائی دیتا ہے جس نے گذشتہ پندرہ ماہ میں تین سے زائد فوجی اہلکاروں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسایا اور ان سے حساس معلومات سمیٹ کر رفو چکر ہوگئی۔لطیفے کی بات یہ کہ را اور دیگر بھارتی انٹیلی جنس ادارے اس نامعلوم لڑکی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ نامعلوم لڑکی کی ان تمام بے وقوف بھارتی فوجی اہلکاروں سے کبھی بھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی، وہ اس کی محبت کے اسیر فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے ہوئے۔اس گمنام حسینہ کی ان دیکھی زلفوں کے اسیر ہونے والوں میں ضلع مہندر گڑھ کے رویندر کمار یادیو، روہتک کے سمویر سنگھ اور سونی پت کے گوروو کمارجی شامل ہیں۔اس لڑکی نے ان تینوں احمقوں سے اپنا تعارف کیپٹن انیکا چوپڑا کے طور پر کرایا تھا۔ رابطے کے لیے وہ زیادہ تر واٹس ایپ نمبر استعمال کرتی تھی اور وہ نمبر بھی بھارت میں رجسٹرڈ تھا۔ کیپٹن انیکا کے شکار ان تینوں فوجی اہلکاروں کے بنک اکاﺅنٹ میں مختلف اوقات میں معمولی درجے کی رقوم بھی بھیجی گئیں جس سے اندازہ ہوا کہ بھارتی فوجی اپنے معاشی حالات کے ہاتھوں اتنے تنگ ہیں کہ چھوٹی چھوٹی رقموں پر بک جاتے ہیں۔یہ اپریل 2018 کی بات ہے جب گروو کمار نام کے ایک نوجوان کو اپنی مشکوک حرکات کے سبب روہتک پولیس گرفتار کر کے انویسٹی گیشن سنٹر لائی۔ اس نوجوان کو ایک سے زائد بار فوجی بھرتی کے دفتروں میں آتے جاتے دیکھا گیا تھا۔مبینہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ نوجوان مذکورہ بھرتی دفاتر کی لوکیشن اور ان کے اندر کے ماحول کے بارے میں کیپٹن انیکا کو واٹس ایپ پر معلومات فراہم کرتا تھا۔یہ 23سالہ نوجوان تب سے روہتک کی سونیریا جیل میں قید ہے۔ اس گرفتاری کے کوئی ڈیڑھ ماہ بعدنرنول پولیس نے 10جولائی کو سڑک کنارے ایک ڈھابے سے ایک اور فوجی ملازم رویندر یا کماردیو کو حراست میں لیا، اس نوجوان پر بھی الزام ہے کہ اس نے کیپٹن انیکا سے بہت سی حساس معلومات کی شیئرنگ کی تھی۔ فیس بک حسینہ کیپٹن انیکا کے دام محبت میں پھنسنے والے تیسرے فوجی جوان کا نام سمویر سنگھ ہے جو اپنی گرفتاری سے پہلے راجھستان کی ایک آرمڈ کور میں تعینات تھا۔سمویر سنگھ اس وقت جئے پور جیل میں پابند سلاسل ہے۔
وہ لڑکی کون تھی، کہاں سے آئی اور کہاں کو چلی گئی، یہ بات کوئی نہیں جانتا لیکن بھارتی تحقیقاتی اداروں نے اس نام نہاد سچائی کو ضرور کھود لیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی۔گرفتار ہونے والوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ مذکورہ لڑکی سے بارہا انہوں نے اپنی انتہائی ذاتی نوعیت کی تصاویر بھی شیئر کیں اور جواب میں اس لڑکی نے بھی انہیں اپنی ناقابل تذکرہ قسم کی تصاویر سے نوازا لیکن بدقسمتی سے کسی بھی تصویر میں لڑکی کا چہرہ واضح نہیں تھا۔تاہم پکڑے جانے والوں نے امکانی طور پر یہی جواب دیا کہ ہم نے چہرے پر کچھ زیادہ توجہ نہیں کی۔نرنول پولیس کے ڈی ایس پی مسٹر ونود کمار نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے نہایت جدوجہد کے بعد یہ بات معلوم کر لی ہے کہ لڑکی کا فیس بک اکاﺅنٹ بھی جعلی تھا اور واٹس ایپ آئی ڈی بھی فرضی۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ بھارتی فوج اور پولیس کے تمام تحقیقاتی ادارے دن رات کی جدوجہد کے بعد اب تک صرف دو باتیں معلوم کر سکے کہ لڑکی کی فیس بک اور واٹس ایپ آئی ڈی جعلی تھی اور یہ کہ وہ لڑکی آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی۔سوال کرنے والے یہ سوال ضرور کریں گے کہ جس لڑکی کی سوشل میڈیا آئی ڈی بھی فرضی تھی، جس کی بھیجی تصاویر بھی واضح نہیں تھیں اور جس کی کسی بھی شکار سے بالمشافہ ملاقات بھی نہیں ہوئی اس کے بارے میں یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہ آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی۔ بالفرض اگر بھارتی تحقیقاتی اداروں کا یہ کہنا سچ بھی مان لیا جائے کہ وہ لڑکی آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی، تب بھی آئی ایس آئی کی کارکردگی کو سیلوٹ کرنے کو دل کرتا ہے۔یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ کہ جولائی 2019ءمیں بھارتی میڈیا کیپٹن انیکا نام کی جس لڑکی کے بارے میں خبر دے رہا ہے کہ اس نے تین فوجی اہلکاروں کو اپنے جال میں پھنسا کر اہم اور حساس معلومات پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کو منتقل کردیں، جنوری2019 میں اسی لڑکی کے بارے میں بھارتی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اس پاکستانی ایجنٹ نے 50سے زائد بھارتی فوجیوں کو اپنی جھوٹی محبت کے دام میں گرفتار کر لیا۔ ان سے مختلف فوجی کیمپوں کے بارے میں حساس معلومات حاصل کیں اور پاکستان منتقل کردیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی فرضی کہانیوں کا بھارتی میڈیا میں آنا کوئی نئی بات نہیں۔تاہم جب سے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو گرفتار ہوا اور اسے پاکستانی عدالت نے بے گناہ پاکستانیوں کے قتل کی منصوبہ بندی کے جرم میں سزائے موت سنائی، اس طرح کی بوگس کہانی نویسی کا سلسلہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیاہے۔ایسی من گھڑت داستانیں سنا کر بھارت شاید دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ خرابی میں پہل پاکستان کی طرف سے ہوتی ہے، ہم نے تو کلبھوشن کو جوابی حملے کے لیے بھیجا تھا۔ اس طرح کے آئی ایس آئی اور پاکستان مخالف ڈرامے رچانے میں ہمارے جنم جنم کے ہمسائے بھارت کو ایک خاص مہارت حاصل ہے اور سچ پوچھیں تو بھارت کا یہ عمل کچھ غلط بھی نہیں۔یہ انسانی فطرت ہے کہ جسے ہم طاقت ور سمجھتے ہیں، اپنے لیے خطرہ جانتے ہیں، اسے کمزور کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے رہتے ہیں، بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے مدتوں سے ایسا ہی کیا جارہا ہے، کبھی ممبئی دھماکے تو کبھی پٹھان کوٹ واقعہ، اپریل 2017میں بھی اسی طرح کا ایک ڈرامہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب دبئی سے کھٹمنڈو جانے والی ایک پرواز نے نئی دلی ائرپورٹ پر کچھ دیر کو قیام کیا۔مسافر امیگریشن کاﺅنٹر پر پہنچا اور زور زور سے چلانے لگا، ’ میں آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہوں لیکن میں اب اس کام سے تھک چکا ہوں۔میں اب آئی ایس آئی کے ساتھ کام نہیں کروں گا۔ مجھے بچاﺅ، مجھے بچاﺅ۔ ‘ معلوم نہیں اس سب کے بعد کیا ہوا لیکن را کی چھتری تلے پلنے بڑھنے والے کچھ میڈیا ہاﺅسز نے دلی ائرپورٹ پر ہونے والے اس شور ھنگامے کی رپورٹنگ بڑے بھرپور انداز میں کرکے اپنی روزی ضرور حلال کرلی تھی۔
بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے ایسی ناپختہ کاروائیوں سے ایک طرف ان ایجنسیوں کی استعداد کار پر لوگوں کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملتا ہے تو دوسری طرف اس خیال کو بھی مزید تقویت ملتی ہے کہ بے شمار مسائل اور اقتصادی رکاوٹوں کے باوجود بھی کارکردگی کے اعتبار سے آئی ایس آئی دنیا کی چند بہترین ایجنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ امکانی طور پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا اگلا نشانہ پاکستان کی طرف سے شروع کیا جانے والا کرتارپور راہداری منصوبہ ہوگا۔ سرحد کے اس پار آباد سکھ برادری کے لاکھوں افرادکے لیے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور ہمیشہ سے مرکز نگاہ رہا ہے۔پاکستان نے ان کی اس گوردوارے تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے کرتار پور راہداری منصوبے کا آغاز کیا جس کی تکمیل بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن کی تقریبات سے پہلے ہوجائے گی۔کرتاپور راہداری سرحد کے اس پار آباد سکھ برادری کے لیے گوردوارہ دربار صاحب تک رسائی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ، پاکستان سے ان کی محبت اور قربت میں بھی اضافے کا باعث ہوگی۔ سکھ بھارت میں اقلیت ہیں اور ان کو بھی وہاں اسی بدسلوکی کا سامنا ہے جو وہاں کی تمام اقلیتوں کا مقدر ہے۔ پاکستان کا ان سے حسن سلوک یقینا بھارت میں آباد انتہا پسند ہندو ٹولے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی لیے اندیشہ ہے کہ کوئی نہ کوئی کلبھوشن یادیو کرتار پور راہداری کو سبوتاژ کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں کسی منصوبہ بندی میں ضرور مصروف ہوگا۔ لیکن ایک اچھی بات یہ کہ آئیندہ کوئی بھی بھارتی جاسوس پاکستان کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے، عالمی عدالت انصاف کے اس حالیہ فیصلے کو ضرور پیش نظر رکھے گا جس میں عدالت نے کمانڈر کلبھوشن نامی را کے ایجنٹ کو رہائی دلوانے کی بھارتی درخواست کو بیک جنبش قلم رد کر دیا۔بلاشبہ یہ فیصلہ حق اور سچ کی فتح ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فتح کی بھی علامت ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سابق کپتان منظور جونیئر کو قومی ہاکی ٹیم کا چیف سلیکٹر بنانے کافیصلہ

لاہور(ویب ڈیسک) سابق کپتان منظور جونیئر کو قومی ہاکی ٹیم کا چیف سلیکٹر بنانے کافیصلہ کیاگیا ہے اور اس حوا لے سے باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن حکام نے اولمپک کوالیفائنگ راﺅنڈ کو سامنے رکھتے ہوئے ازسرنوسلیکشن کمیٹی اور ٹیم انتظامیہ کی تقرریوں پر اتفاق کیا ہے، جس کے پہلے مرحلے میں سلیکشن کمیٹی ارکان کو فائنل کیا جائے گا اور اس کی سربراہی 1982 لاس اینجلس اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ منظور جونیئر کو سونپی جارہی ہے۔ وسیم فیروز، خالد حمید اور ذیشان اشرف کو سلیکشن کے معاملات میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔نئی سلیکشن کمیٹی اگلے ہفتے کراچی میں شیڈول نیشنل ہاکی چیمپئن شپ کے میچوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی، ان کے ذمے ستمبر اکتوبر میں شیڈول اولمپکس کوالیفائنگ راﺅنڈ کے لیے ٹیم کی تشکیل ہوگی۔

شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری/فیاض الحسن چوہان کا رد عمل

لاہور(ویب ڈیسک)شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری پر شہباز شریف کا واویلا قوم کو گمراہ نہیں کر سکتا۔شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی کے ٹھیکوں میں آلِ شریف کے فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔ کروڑوں ڈالر کک بیکس اور کمیشن کی مد میں کمائے اور اپنے اکاﺅنٹ بھرے۔ شہباز شریف کی طرف سے اپنے دور میں اسپتالوں میں طبی سہولیات کی تعریف جچتی نہیں۔آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن اپنی کھانسی تک کا علاج لندن سے کرواتا تھا۔ان کے دور میں طبی سہولیات اتنی بہتر ہوتیں تو یہ اپنے علاج پاکستان میں کرواتے۔شاہد خاقان عباسی کرپشن کا وہ طوطا تھا جس میں شریف برادران کی جان تھی۔

جاپان میں اسٹوڈیو پر حملہ، 33 افراد ہلاک

ٹوکیو(ویب ڈیسک) جاپان کے شہر ٹوکیو میں تین منزلہ اسٹوڈیو میں آتش گیر مادے کے ذریعے مبینہ حملے میں تقریباً 33 افراد ہلاک ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ مطابق اسٹوڈیو کو آتش گیر مادہ پھینک کر جلایا گیا اور ٹوکیو پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار بھی کرلیا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ کیوٹو اینیمیشن نامی کمپنی میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔خبررساں ادارے کے مطابق مشتبہ شخص نے اسٹوڈیو کے داخلی راستے پر آگ لگائی تاکہ عمارت میں موجود افراد جان بچانے کے لیے دوسرے راستوں کا انتخاب کریں.مقامی پولیس کے ترجمان کزیوہیرو ہیاشی نے بتایا کہ آگ کے باعث تقریباً 36 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے 10 کی حالت نازک ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ اسٹوڈیو پر مشتبہ حملے کے الزام پر 41 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے اور اس کے قبضے سے متعدد چھریاں بھی برآمد کرلی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ تین منزلہ عمارت کی آخری منزل پر متعدد لاشیں ملیں۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ پہلی منزل سے 2، دوسری منزل سے 11 اور تیسری منزل سے 20 لاشیں ملیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مشتبہ شخص نے مٹی کا تیل چھڑک کر اسٹوڈیو کو آگ لگائی۔پولیس ترجمان کے مطابق زیر حراست مشتبہ شخص زخمی حالت میں گرفتار ہوا جسے مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی جاری ہے اور پولیس کی جانب سے تفتیش کا عمل جلد شروع کردیا جائے گا۔جاپانی میڈیا کے مطابق اسٹوڈیو کی پہلی منزل پر صبح ساڑھے دس بجے آگ لگی۔پولیس نے بتایا کہ مقامی رہائشیوں نے اسٹوڈیو سے اٹھنے والے دھوئیں اور دھماکوں کی آواز پر پولیس کو مطلع کیا۔بتایا گیا کہ آگ اس قدر خطرناک تھی کہ تقریباً 48 فائر فائٹرز کو متاثرہ اسٹوڈیو کی آگ بجھانے کے لیے تعینات کیا گیا۔جاپان کے وزیراعظم شینزو ایبے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں متاثرہ خاندان سے اظہار افسوس کیا۔

طیارے کے حادثے میں کن مسافروں کے بچنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے؟

ایمسٹر ڈیم(ویب ڈیسک)کیا آپ نے کبھی فضائی سفر کرتے ہوئے سوچا کہ حادثے کی صورت میں طیارے کے کونسے حصے کے مسافروں کے بچنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ طیارے کے حادثے میں کسی بھی حصے میں موجود مسافر کے بچنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے مگر ڈچ ائیرلائن کے ایل ایم کی بھارتی شاخ نے لوگوں کو اس حوالے سے مشورہ دینا ضروری سمجھا اور اس حوالے سے ایک متنازع ٹوئیٹ کیا۔کے ایل ایم انڈیا ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے ہونے والی پوسٹ میں لکھا تھا ‘ٹائم کی ڈیٹا اسٹڈیز کے مطابق طیارے کے درمیانی حصے کی نشستوں میں ہلاکتوں کی شرح سب سے زیادہ ہوتی ہے، تاہم فرنٹ میں یہ شرح کچھ کم جبکہ طیارے کے پچھے حصے کے مسافروں میں سب سے کم ہوتی ہے’۔اس ٹوئیٹ میں ایک نشست کی تصویر بھی تھی جو بادلوں کے اوپر رکھی ہے اور یہ الفاظ درج ہیں ‘طیارے کے پچھے حصے کی نشستیں سب سے محفوظ ہوتی ہیں’۔اس ٹوئیٹ کے بعد متعدد ٹوئٹر صارفین کی جانب سے کافی شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور کمپنی کا کافی مذاق بھی اڑایا گیا۔اس ٹوئیٹ کو کمپنی نے 12 گھنٹے بعد ڈیلیٹ کردیا اور ایک ٹوئیٹ میں لوگوں سے معذرت بھی کی ‘اس ٹوئیٹ میں لکھا تھا کہ ہم حالیہ اپ ڈیٹ پر معذرت کرتے ہیں، وہ پوسٹ عوامی طور پر دستیاب ایوی ایشن فیکٹ پر مبنی تھی اور یہ کے ایل ایم کی رائے نہیں تھی، ہمارا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ پوسٹ کو ڈیلیٹ کردیا گیا’۔خیال رہے کہ ٹائم میگزین نے 2015 میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ طیارے کی پچھلی نشستوں پر حادثے کی صورت میں بچنے کی شرح سب سے زیادہ (28 فیصد) ہوتی ہے، اس کے لیے 1985 تک ہونے والے فضائی حادثوں پر ہونے والی ایک تحقیق کو بنیاد بنایا گیا تھا۔اس مضمون کے مطابق طیارے کے پچھلے حصے میں حادثے میں ہلاکتوں کی شرح 32 فیصد، درمیانی حصے میں 39 فیصد جبکہ فرنٹ پر 38 فیصد ہوتی ہے۔

ملائکہ اروڑا دبنگ 3 کا حصہ ہوں گی یانہیں؟

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی منی ملائکہ اروڑا نے ”دبنگ 3“ کا حصہ ہونے پر خاموشی توڑدی۔بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان کی دبنگ سیریز کی تیسری فلم ”دبنگ3“ کا انتظار شائقین بے چینی سے کررہے ہیں۔ فلم سیریز کے پہلے حصے ’دبنگ‘ میں ملائکہ اروڑا نے ”منی بدنام ہوئی“ آئٹم سانگ پر ڈانس کرکے فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ فلم کے دوسرے حصے میں ملائکہ کی جگہ کرینہ کپور کو شامل کیا گیا۔تاہم فلم کے تیسرے حصے کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اس بار ایک بار پھر ملائکہ اروڑا فلم میں جلوے دکھائیں گی۔ ملائکہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ”دبنگ 3“ کا حصہ ہونے کی تردید کردی ہے۔ملائکہ اروڑا نے کہا کہ پروجیکٹ دبنگ سے جڑے بیشتر افراد آگے بڑھ چکے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”دبنگ3“ کے لیے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ دبنگ سیریز کی تیسری فلم کے پروڈیوسر بھی ارباز خان ہی ہوں گے تاہم اس بار فلم کی ہدایات پربھو دیوا دیں گے۔ فلم رواں سال کے آخر میں ریلیز کی جائےگی۔

شہبازشریف کے چہرے کی زردی بتاتی ہے کہ قانون پر عمل ہو رہا ہے، فردوس عاشق

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کے چہرے کا زرد رنگ یہ ثابت کر رہا ہے کہ قانون کی عمل داری رنگ دکھا رہی ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے نیب کو با اختیار بنا دیا ہے، اب ادارے آزاد ہیں اور شفاف انداز میں کام کررہے ہیں، جن لوگوں نے کبھی قانون کو تابع بنایا ہوا تھا آج وہ قانون کے تابع ہو رہے ہیں، آج پریس کانفرنس میں شہبازشریف کے چہرے کا زرد رنگ یہ ثابت کر رہا تھا قانون کی عمل داری رنگ دکھا رہی ہے، لیکن انہیں چاہئے کہ وہ اپنی صفائیاں میڈیا کے بجائے عدالتوں میں پیش کریں، بے گناہی کے ثبوت دینے کا فورم عدالتیں ہیں وہاں بے گناہی کے ثبوت دینے چاہیے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کہتے تھے کہ ان کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا ہے، جس نے گرفتارکرنا ہے کرلے، ان کی تو خواہش تھی کہ گرفتار کیا جائے آج ان کی خواہش پوری ہوئی، جب قانون کی عملداری شروع ہوتی ہے تو ان کے چہروں کا رنگ بدل جاتا ہے، جوشخص نیب کا ملزم ہو وہ ضمانت کراتا ہے یا قانونی چارہ جوئی کرتا ہے، لیکن شاہد خاقان عباسی نے کوئی ضمانت قبل از گرفتاری نہیں کرائی تھی، اب سابق وزیراعظم نے مکافات عمل سے گزرنا ہے۔معاوں خصوصی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نیب کے عمل میں حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو گھسیٹ رہی ہے، کیا عمران خان کا قصور یہ ہے کہ وہ ملک میں قانون کی عملداری چاہتے ہیں، سب کو یہ سمجھ لینا چاہئے کوئی مقدس گائے نہیں، حکومت کا وزیرِ بلدیات نیب کے ہاتھوں گرفتارہوا اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد رہا ہوا، وزیر جنگلات بھی گرفتار ہوا اور اس وقت نیب کی حراست میں ہیں، (ن) لیگ کے دور میں کوئی ایک مثال بتادیں جس میں وزیر گرفتار ہوا ہو۔