All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

پاکستان شرح سود میں نمبر 1

لاہور(ویب ڈیسک)مرکزی بینک کے مطابق خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں شرح سود سب دے زیادہ ہے۔ بھارت میں بنیادی شرح سود 6 فیصد، بنگلہ دیش میں 6.75 اور سری لنکا میں 8 فیصد ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافہ سے سب سے زیادہ نقصان حکومت کا ہوا ہے۔ اس کا مقصد مہنگائی کم کرنا ہوتا ہے۔ بنیادی شرح سود بڑھنے سے حکومت کے مقامی قرضوں میں 3 کھرب روپے 300 ارب روپے کا اضافہ ہو جائے گا جبکہ گاڑیوں اور گھروں کی خریداری پر قرض لینا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق بنیادی شرح سود بڑھانے سے گاڑیوں اور گھروں کی خریداری میں بھی کمی آئے گی۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے نئی سرمایہ کاری تعطل کا شکار ہو جائے گی۔

ورلڈ کپ کےلئے قومی کرکٹ ٹیم کی نئی جرسی کی رونمائی

لاہور(ویب ڈیسک) آئی سی سی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی نئی کٹ منظرعام پر آگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کی جانے والی تصاویر میں شرٹ میں ہمیشہ کی طرح سبز رنگ نمایاں ہے، ہلکے سبز رنگ کی پٹیاں بھی اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے، ایک طرف پیلے رنگ کا ستارہ اور دوسری طرف ورلڈ کپ لوگو بنایا گیا ہے، وسط میں سفید رنگ سے پاکستان کا لفظ نمایاں کیا گیا ہے، پشت پر پاکستان کا پرچم، کھلاڑی کا نام اور نمبر ہے، شرٹ کے علاوہ کیپ میں بھی گہرے اور ہلکے سبز رنگ کا امتزاج ہے۔

ورلڈ کپ کا آغاز 30 مئی کو انگلینڈ اور جنوبی افریقا کے مابین میچ کے ساتھ ہوگا، پاکستان ٹیم 31 مئی کو ویسٹ انڈیز کے خلاف میدان میں اترے گی۔

28 مئی طبل جنگ کی تاریخ مقرر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو کسی اپوزیشن ،کسی دشمن ،کسی تحریک ضرورت نہیں ہے یہ خود ہی گرتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کو جمہور اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے حصول کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے۔ ان قیادت کا اظہار انہوں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں پارٹی اجلاس سے قبل میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کو پارلیمنٹ جمہوریت سویلین بالادستی عوامی بالادستی کے اصولوں پر ہی چلایا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ موجودہ حکومت خود گرتی نظر آ رہی ہے اس کو کسی اپوزیشن، دشمن اور تحریک کی ضرورت نہیں ہے۔ بعدازاں مریم نواز نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر میں پارٹی کے محدود اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی، پارٹی کا محدود مشاورتی اجلاس چیئرمین سینیٹر راجہ ظفرالحق، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہوا۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز، رانا تنویر حسین، مریم اورنگزیب اور دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی۔ قومی اسمبلی کے آج منگل سے شروع ہونے والے اجلاس کی حکمت عملی طے کی گئی۔ شاہد خاقان عباسی نے متحدہ اپوزیشن کے گزشتہ روز کے اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں اعتماد میں لیا۔ یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق عید کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں کل جماعتی کانفرنس ہو گی۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اپنے فورمز پر ایجنڈا طے کر کے اے پی سی میں تجاویز پیش کریں گی۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے مل کر حکمت عملی بنانا ہوگی، مقدس ماہ میں دعا کریں ڈگمگاتی معیشت سنبھل جائے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کہا کہ معیشت سسکیاں لے لے کر مر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے،کوئی معاشی سمت نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ غیر یقینی کی صورتحال قوم کےلیے زہر قاتل ہے،لوگوں سے پوچھیں جن کی مائیں بیٹیاں دوائی کیلئے تڑپ رہی ہیں۔حمزہ شہباز نے کہاکہ ادویات کی قیمتوں میں 400 فیصد اضافہ ہوچکا ہے،گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہیں ہیں۔حمزہ شہباز نے کہاکہ پاکستان کی کشتی ہچکولے کھارہی ہے،رمضان کے مبارک مہینے میں دعا کریں ڈگمگاتی ہوئی معیشت سنبھل جائے۔حمزہ شہباز نے کہاکہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے مل کرحکمت عملی بنانا ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ دل پر پتھر رکھ کر حلف لیا تھا جمہوریت کی خاطر حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیں گے۔حمزہ شہباز نے کہاکہ ہم چاہتے تھے جمہوریت کی ٹوٹی پھوٹی گاڑی چلتی رہے، اگر ڈوبتی کشتی کو تقویت نہ بخشی تو ہم سب قصوروار ہونگے۔ مسلم لیگ ن نے عید کے بعد مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر رابطہ مہم چلانے کا اعلان کر دیا۔ اسلام آباد میں پارٹی رہنماں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر حکمران اپنے منہ بند رکھتے تو آج معیشت کا یہ حال نہ ہوتا، آج بھی حکمرانوں کو یہی مشورہ دیتا ہوں، حکومت اگر سچ نہیں بول سکتی تو جھوٹ بھی مت بولے۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم اجرت 20 ہزار روپے کی جائے اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی وہ قیمت رکھی جائے جو قابل برداشت ہو، آنے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے اور کسی ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہ کیا جائے۔آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ آئی ایم ایف سے شرائط میں بہت شکوک و شبہات ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ شاہد خاقان نے کہا کہ شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت گری ہوئی ہے اس کو گرانا مقصود نہیں، اصل مسئلہ عوام کے مسائل کا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ہدف حکومت توڑنے اور اقتدار کا نہیں ہے، ہمارا ہدف عوام کے مسائل کا حل ہے، آل پارٹیز کانفرنس فیصلہ کرے گی کہ سڑکوں پر آنا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل حکومت کو گرانے میں ہے تو فیصلہ اے پی سی کرے گی، مسئلے کا حل الیکشن میں ہے تو الیکشن کے مطالبے کا فیصلہ اے پی سی کرے گی۔قومی احتساب بیورو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین نیب کے اخبار کو انٹرویو کی تردید آنی چاہیے تھی، انٹرویو میں جو باتیں کہی گئیں وہ چیئرمین نیب کے دائرے اختیار میں نہیں آتیں۔انہوں نے کہا کہ وہ انٹرویو نیب کا نہیں جسٹس صاحب کا ہے، چیئرمین نیب کی پریس کانفرنس سے مزید شکوک پیدا ہو گئے ہیں، دو دن میں اس پر پریس کانفرنس کریں گے۔رہنما ن لیگ نے کہا کہ آج نیب کی حقیقت عوام کے سامنے آ گئی ہے، آج ہر شخص کہتا ہے کہ نیب کا عمل انتقامی ہے احتساب کا نہیں ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ ہمارا کل بھی تھا اور آج بھی ہے، آج اگر نواز شریف جیل میں ہیں تو اپنے بیانیے کی وجہ سے ہیں۔سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عید کے بعد ملک گیر رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔رہنما ن لیگ نے کہا کہ عوام کو یوم تکبیر پر بتائیں گے کہ نواز شریف سیاسی قیدی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کو کرپٹ نہیں سمجھتا،کرپٹ صرف وہ ہے جس کے خلاف ثبوت ہیں، اگر نواز شریف اور زرداری کے خلاف ثبوت ہیں تو عدالت میں رکھ دیں۔

ہواوے بلیک لسٹ، گوگل سروسز بلاک صارفین نے سر پیٹ لیا

نیویارک (ویب ڈیسک) چینی کمپنی ہواوے ٹیکنالوجیز پر گوگل کی سروسز معطل کردی گئیں، گوگل نے یہ قدم اس وقت اٹھایا ہے جب چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ہواوے موبائل انٹرنیٹ کے جدید فائیو جی نیٹ ورک کے آلات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور کئی مغربی ممالک اور ان کی کمپنیاں اس کے تیار کردہ آلات استعمال کرتی ہیں۔ہواوے کے صارفین فی الحال اینڈرائڈ ایپس اور گوگل پلے سروس استعمال کرسکیں گے تاہم رواں سال گوگل کے اگلے ورژن کے لانچ ہونے کے بعد ان کے ہواوے کی ڈیوائسز پر دستیاب نہ ہونے کا امکان ہے۔اس کے بعد ہواوے کے صارفین اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم اوپن سورس لائسنس کے ذریعے اس نئے ورژن کو استعمال کرسکیں گے۔دوسری جانب ہواوے کمپنی نے اپنا آپریٹنگ سسٹم بنانے کی تصدیق کردی ہے، ہواوے کے موبائل چیف رچرڈ یو چینگ ڈونگ کا کہنا تھا کہ اگر ہواوے پر گوگل اور اینڈرائیڈ سروسز مستقل طور پر معطل ہوگئیں تو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان کی کمپنی نے پہلے سے ہی اپنا ایک آپریٹنگ سسٹم تیار کرلیا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر موبائل فونز اور کمپیوٹرز کے لیے اس سسٹم کو متعارف کروا دیا جائے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کمپنی اس اقدام کے بعد دنیا بھر میں اپنے کاروبار پر پڑنے والے ہر قسم کے اثرات کے لیے تیار ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکی کمپنیوں پر ایسی غیر ملکی کمپنیوں کے تیار کردہ ٹیلی کام آلات استعمال کرنے پر پابندی ہوگی جنہیں امریکی حکومت قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہو۔ہواوے کی انتظامیہ ماضی میں کئی بار کہہ چکی ہے کہ وہ امریکا کے لیے خطرہ نہیں اور اس پر امریکی کمپنیوں کی جاسوسی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

روپے کی بے قدری جاری شرح سود% 12.25مہنگائی بڑھے گی’

کراچی(کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا۔مرکزی بینک نے شرح سود میں 1.50 فیصد اضافہ کردیا جس کے بعد شرح سود 10.75 سے بڑھ کر 12.25 فیصد ہوگئی۔گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی زیر باقی صفحہ 4بقیہ نمبر 8 صدارت مانیٹری پالیسی کا اجلاس ہوا جس کے بعد آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا۔جس میں بتایا گیا کہ مارچ 2019ءمیں زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے تین نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ حکومت ِپاکستان کا عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اسٹاف کی سطح پر 39 ماہ پر محیط توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تقریباً 6 ارب ڈالر کے لیے اتفاق ہوگیا ہے۔ پروگرام کا مقصد معاشی استحکام بحال کرنا اور پائیدار معاشی نمو میں معاونت کرنا ہے اور توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں خاصی مزید بیرونی مالکاری آئے گی۔ مالی سال 18ءکی اسی مدت سے موازنہ کیا جائے تو حکومتی قرض کے رجحانات مالی سال19ءکے پہلے نو ماہ کے دوران بڑھتے ہوئے مالی خسارے کی عکاسی کرتے ہیں۔علاوہ ازیں خسارے کی مالکاری کے لیے مرکزی بینک پر زیادہ انحصار نے پچھلی زری سختی کے اثر کو ہلکا کردیا ہے۔ گذشتہ زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے اب تک شرح مبادلہ میں 5.93فیصد کمی آئی ہے اور 20 مئی 2019ءکے اختتام پر 149.65 روپے فی امریکی ڈالر پر پہنچ گئی ہے جس سے مضمر معاشی عوامل اور مارکیٹ کے احساسات کے امتزاج کی عکاسی ہوتی ہے۔ مالی سال 19ءمیں معاشی نمو سست ہونے جبکہ مالی سال 20ءمیں کسی قدر بڑھنے کی توقع ہے۔یہ سست رفتاری زیادہ تر زراعت اور صنعت کی پست نمو کی وجہ سے ہے۔ مالی سا ل 19ءمیں حقیقی جی ڈی پی نمو کا دوتہائی سے زائد حصہ خدمات سے آنے کی توقع ہے۔ آگے چل کر آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام، شعبہ زراعت میں تیزی اور برآمدی صنعتوں کے لیے حکومتی ترغیبات کے تناظر میں مارکیٹ کے احساسات بہتر ہونے کے طفیل معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بحالی کی توقع ہے۔جولائی تا مارچ مالی سا ل 19ءمیں پچھلے سال کی اسی مدت کے 13.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں جاری کھاتے کا خسارہ کم ہوکر 9.6 ارب ڈالر رہ گیا یعنی 29 فیصد کمی ہوئی۔ اس کمی کا بنیادی سبب درآمدی کمی اور کارکنوں کی ترسیلات ِزر کی بھرپور نمو ہے۔ یہ اثر تیل کی بلند عالمی قیمتوں کی وجہ سے جزوی طور پر زائل ہو گیا۔ نان آئل تجارتی خسارہ جولائی تا مارچ مالی سال 18ءکے 13.7 ارب ڈالر سے گھٹ کر جولائی تامارچ مالی سال 19ءمیں 11.0 ارب ڈالر رہ گیا جس سے جنوری 2018ءمیں استحکام کی اب تک نافذ کردہ پالیسیوں کے اثر کی عکاسی ہوتی ہے۔جاری کھاتے میں بہتری اور سرکاری دوطرفہ رقوم کی آمد میں قابل ذکر اضافے کے باوجود جاری کھاتے کے خسارے کی مالکاری میں دشواریاں درپیش رہیں۔ نتیجے کے طور پر ذخائر آخر مارچ 2019ءمیں 10.5 ارب ڈالر سے کم ہوکر 10 مئی 2019ءکو 8.8 ارب ڈالر ہوگئے۔گذشتہ چند دنوں میں طلب و رسد کے حالات کی بنا پر شرح مبادلہ بھی دباﺅ میں آگئی۔ اسٹیٹ بینک کے نقطہ نظر سے شرح مبادلہ میں حالیہ اتار چڑھاﺅ ماضی کے جمع شدہ عدم توازن کے مسلسل تصفیے اور کسی حد تک طلب و رسد کے عوامل کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک صورت ِحال کا بغور جائزہ لیتا رہے گا اور بازار ِمبادلہ میں کسی قسم کے ناگوار تغیر سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔محاصل کی وصولی میں کمی، بجٹ سے بڑھ کر سودی ادائیگیوں اور امن و امان سے متعلق اخراجات کی بنا پر جولائی تا مارچ مالی سال 19ءکے دوران مجموعی مالیاتی خسارہ گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں خاصا بلند رہنے کا امکان ہے۔زری پالیسی کے نقطہ نظر سے مالیاتی خسارے کا بڑھتا ہوا حصہ اسٹیٹ بینک سے قرض لے کر پورا کیا گیا ہے: مطلق لحاظ سے یکم جولائی سے 10مئی مالی سال 19ءکے دوران حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 4.8 ٹریلین روپے قرض لیے جو پچھلے برس کے اسی عرصے میں لی گئی رقم کا 2.4 گنا ہے۔ اس قرض کا بڑا حصہ (3.7 ٹریلین روپے) کمرشل بینکوں سے ہٹاو کی عکاسی کرتا ہے جو موجودہ شرحوں پر حکومت کو قرض دینے سے ہچکچا رہے تھے۔اس کے نتیجے میں خسارے کی بڑھی ہوئی تسکیک ( monetization) نے مہنگائی کے دباﺅ میں اضافہ کیا ہے۔زری پالیسی کی حالیہ سختی کے باوجود یکم جولائی تا 10مئی مالی سال 2019ءکے دوران نجی شعبے کے قرض میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا۔ قرض میں بیشتر اضافہ خام مال کی اضافی قیمتوں کے باعث جاری سرمائے کے لیے تھا۔ زر ِوسیع (ایم ٹو) کی رسد پر بلند حکومتی قرض اور نجی شعبے کے قرضے کا توسیعی اثر بینکاری شعبے کے خالص بیرونی اثاثوں میں کمی کی وجہ سے جزواً زائل ہوگیا۔ مجموعی طور پر یکم جولائی تا 10مئی مالی سال 2019ءکے دوران زرِ وسیع کی رسد 4.7 فیصد بڑھ گئی۔ گذشتہ تین ماہ میں سالانہ بنیاد پر (annualized)ماہ بہ ماہ عمومی مہنگائی خاصی بڑھی ہے۔ اس طرح مہنگائی کا دباو کچھ عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ آئی بی اے ایس بی پی کے تازہ ترین اعتماد صارف سروے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر گھرانے اگلے چھ ماہ کے دوران بلند مہنگائی کی توقع کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا حالات اور اہم شعبوں کے منظر نامے کے پیش نظر اوسط عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی مالی سال 19ءمیں متوقع طور پر 6.5-7.5فیصد کی حدود میں رہے گی اور مالی سال 20ء میں اس سے بھی خاصی بلند رہنے کی توقع ہے۔ مالی سال 20ءمیں مہنگائی کا یہ منظر نامہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں ردّوبدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلیوں اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تغیر سے ابھرنے والے کئی خطرات سے مشروط ہے جو مہنگائی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ یہ منظرنامہ مستقبل بین(forward-looking) بنیاد پر حقیقی شرح سود میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔مذکورہ بالا حالات اور ارتقا پذیر معاشی صورتِ حال کے پیش نظر زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مندرجہ ذیل اسباب سے ابھرنے والے مہنگائی کے مضمر دباﺅ سے نمٹنے کے لیے مزید پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے(i)عمومی اور قوزی (core) مہنگائی کے حالیہ ماہ بہ ماہ بلند اعدادوشمار؛ (ii) شرح مبادلہ میں حالیہ کمی؛ (iii) مالیاتی خسارے کی بلند سطح اور اس کی بڑھی ہوئی تسکیک؛ اور (iv) یوٹیلٹی نرخوں میں ممکنہ ردّوبدل۔ اس تناظر میں زری پالیسی کمیٹی نے 21 مئی 2019ء سے پالیسی ریٹ کو 150بی پی ایس بڑھا کر12.25فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گورنر پنجاب کا کسان ایوارڈ کا اعلان ،ضیاءشاہد اور امتنان شاہد کی گورنر پنجاب سے ملاقات سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال

لاہور (تجزیہ نگار) گزشتہ روز چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد اور ایڈیٹر خبریں گروپ و سی ای او چینل ۵ امتنان شاہدگورنر پنجاب چودھری سرور سے گورنر ہاﺅس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ کیا گیا۔ ضیا شاہد اور امتنان شاہد نے گزشتہ دنوں خبریں ملتان کی طرف سے منعقد کئے گئے کسان میلہ میں شرکت پر گورنر پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔ گورنر پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ گندم،کپاس، چاول، مکئی، آم، کینو کی ریکارڈ اور بہترین پیداوار پر کسانوں کو ایوارڈز گورنر ہاﺅس میں دیئے جائیں گے۔ اس کے لئے کمیٹی بنا دی گئی جس میں ضیا شاہد، خالد کھوکھر، ممتاز منہیس سابق وزیر زراعت شامل ہیں۔ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ کسے ایوارڈ دینا ہے یہ ایوارڈ محکمہ زراعت (توسیع)، وزیرزراعت پنجاب کی نگرانی میں دیئے جائیں گے۔ تارا گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد حمید کا نام بھی کمیٹی میں شامل ہے۔

معاشی بحران کا حل، ڈالر اور دولت چھپانے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن

اہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے اتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پچھلے 15 سال سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ ہی اس ملک میں حکمران رہی ہیں اور بہت سی باتوں کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے آج اگر آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق جانے پر مجبور ہیں اِس کی وجہ بھی انہی دو پارٹیوں کی پالیسیاں ہیں جنہوں نے ہر جگہ پر وقتی طور پر سبسڈی دے کر وہ جو سیٹ بیک تھا وہ پہنچنے نہیں ہونے دیا مگر نقصان یہ ہوا کہ ہماری معیشت کھوکھلی ہوتی چلی گئی۔ اور اب کھوکھلی معیشت ایک دم بیٹھی ہے تو پھر سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کیا جائے۔ ان دونوں جماعتوں نے جن کلاسز پر ہاتھ رکھا ہوا تھا جن کو ساتھ رکھا تھا تاجر برادری، دکاندار برادری ان کے ساتھ دی اور بڑے بڑے ادارے ان کے ساتھ اور وہ پچھلے 30,25 برس سے وہ اس ملک میں خوب کھل کھیل رہے تھے اب جب بحران آیا ہے تو ان میں سے کوئی بھی پاﺅں ٹکانے کے لئے تیار نہیں ہے اور جو سابقہ حکومتیں اس طرح سے کرتی تھیں کہ ڈالر جب بحران پیدا ہوتا جاتا تھا اس کی قیمت بڑھتی تھی وہ مصنوعی طور پر کچھ پیسے ارینج کر کے بازار سے ڈالر خرید کر کرنسی کے فلو میں داخل کر دیتے تھے اور اس طرح سے وقتی ریلیف حاصل کر لیتے تھے چونکہ اس حکومت نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ہم نے سبسڈی نہیں دینی اس لئے اس کے اصل اثرات ہیں وہ بھگت رہے ہیں جو کہ بھگتنے چاہئیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ساری مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ مانیٹری پالیسی کے کیا اثرات ہوں گے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ساری چیزوں کا آپسش کا تعلق ہے اور ایک گہرا تعلق تو ہوتا ہے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ فوری طور پر اس کا کیا اثر ہو گا میں ماہر معاشیات نہیں ہوں جہاں تک عام معلومات کا تعلق ہے ان ساری باتوں کی بنیاد ایک ہی ہے کہ وہ یہ ہے کہ پرانی حکومتیں بے اندازہ قرض لیتی رہی اور خمیازہ موجودہ حکومت بھگت رہی ہے۔ ہر چیز خرید کر لوگوں کو دیتی رہی تا کہ لوگ شور نہ مچائیں اور ان کی کرپشن کے بارے میں آواز بلند نہ کریں۔ جو دو بڑی جماعتیں ہیں اب وہ عید کے بعد مہنگائی کے مسئلے پر کہ مہنگائی کیوں ہو گئی اور ڈالر ریٹ کیوں بڑھا رہی پر ہنگامے کرنا چاہتی ہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید وہ اپنے طور پر اگر کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں ہوتی اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن ایک بات کہی جا سکتی کہ ان سب کی بنیادی وجہ انہی دو پارٹیوں کی حکومتوں کی غلطیاں پالیسیاں ہیں۔ ہر دوسرے دن اخبارات میں کراچی کی سٹاک مارکیٹ کے بیٹھنے کی خبر آتی ہے پھر ساتھ ہی خبریں چھپتی ہیں کہ کتنا نقصان ہوا ہے کس قدر اس کا اثر پاکستانی معیشت پر پڑے گا سب سے پہلے تو مختصر بتایئے کہ سب کچھ کیوں ہوو رہا ہے اس میں کس کی کوتاہی ہے۔ یا اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے حکومت اپنی طف سے پوری کوشش کر رہی ہے کہ دیکھیں آنے والے ایک ہفتے میں پتہ چلے گا کہ ان کے اقدامات کس قدر کارگر ثابت ہوتے ہیں اگر ان کے اقدامات کارگر ثابت ہوئے تو کچھ صورت حال سنبھل جائے گی ورنہ اس سے بھی زیادہ بری ہو جائے گی۔ اپوزیشن کو حق حاصل ہے اگر کوئی تحریک چلانا چاہتی ہے تو بڑے شوق سے چلائے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ کیا جو کچھ معاملات اس وقت درپیش ہیں اور عام آدمی کو مہنگائی اور بیروزگاری کا سامنا ہے اور کرنسی کی بے قدری تنگ کر رہی ہے کیا اس کا ذمہ دار جو سابقہ حکومتیں ہیں ان کو کیا کچھ نہیں کہے گا۔ کیا وہ آرام سے وہ اپنا کام کرتی رہیں گی کیا موجودہ حکومت بھی اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کرتی کہا جاتا ہے وہ ان لوگوں کو پکڑنے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہے تو پھر کون پکڑے گا۔ مریم نواز کے بارے میں جو ایک عارضی حکم جاری کیا گیا جس کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے سیاست بھی شروع کر دی اب اس وقت وہ مکمل طور پر سیاست میں موجود ہیں وہ میٹنگز کر رہی ہیں وہ دوسرے لیڈروں کو بلا رہی ہیں وہ اپنی کاوش سامنے لا رہی ہیں اس سلسلے میں جو حکومت نے درخواست دی ہوئی ہے الیکشن کمیشن میں اس کو پرسو کرنا چاہئے حکومت بھی تو ڈبل مائنڈڈ لگتی ہے کیوں نہیں وہ اس بنیادی سوال پرکہ کیا مریم نواز سیاست میں حصہ لے سکتی ہیں یا نہیں اس پر وہ کوئی فیصلہ حاصل نہیں کرتی۔ افطار پارٹی میں مریم نواز، بلاول بھٹو ایک ساتھ بیٹھے ہیں یعنی نوازشریف اور زرداری صاحب کے جانشین ایک ساتھ بیٹھے ہیں ضیا شاہد نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت جو ہے وہ ڈبل مانڈڈ ہے اور کبھی وہ دیکھتی ہے کہ فلاں عدالت نے فلاں ریلیف دے دیا ہوا ہے تو اس پر خاموش ہو جاتی ہے حالانکہ اگر وہ عدالت کی کسی بات سے متفق نہیں ہے تو انہی عدالتوں میں وہ اپنا نقطہ نظر بھی لے کر جا سکتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ عید کے بعد سیاست کا نیا دور ضرور شروع ہو گا اوراس میں اپوزیشن پارٹیاں مکمل کوشش کریں گی کہ عوامی جوش و خروش کے اپوزیشن کو لا سکے اب وہ لا سکنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں اس کا اندازہ عید کے بعد ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن کے پاس سٹریٹ پاور ہے سیاسی پارٹیوں میں وہ ایک ایسی پارٹی ہیں جن کے پاس دینی مدارس کے طلبا ہیں اور جب وہ کہیں گے تو جو مدارس ان کی جماعت میں شامل ہیں ان کے طالب علم نکل آئیں گے یہی ایک پلس پوائنٹ ہے جو سیٹیں نہ ہونے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ سٹریٹ پاور مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے دیکھتے ہی کہ وہ سٹریٹ پاور وہ ہے کتنے لوگوں کو نکال سکتی ہے اور وہ سٹریٹ پاور جو ہے وہ کتنی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ گزشتہ 9 ماہ میں اپوزیشن کئی دفعہ متحد ہوئی ہے مگر اس میں دراڑ پڑتی آ رہی ہے اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ اب صرف 15 دن کا عرصہ ہے عید کے بعد یہ ٹیسٹ سڑکوں پر ہو گا کہ جس حد تک کامیاب ہوتا ہے لہٰذا عید کا انتظار کرنا پڑے گا قیافے یا اندازے لگانے کی بجائے عید کا انتظار کرنا ہو گا۔ پتہ چلے گا کہ کتنے لوگ ان کے ساتھ نکلتے ہیں۔ ابھی حکومت کو 9 ماہ ہوئے ہیں ایک نئی حکومت آئی ہے اس کو کام کرنے دیں اچانک آتے ہی اپوزیشن نے قومی حکومت کا کہہ دیا ہے قومی حکومت کی باتیں چوتھے پانچویں سال ہوتی ہیں جو آخری سال ہوتے ہیں یہ اس وقت زیب دیتی ہیں۔میرے خیال میں ابھی اس حکومت کو وقت ملنا چاہئے کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لے اور صحیح راستہ پر چل نکلے تو ہمارا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فلاں حکومت آئے اور فلاں حکومت نہ چلے۔ بلکہ کوئی بھی ہو وہ صحیح راستے پر چلے۔ نوازشریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست پر ضیا شاہد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کوئی ڈائریکشن دی تھی کہ آپ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں کیا اس میں کوئی پیشگی یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آپ جو رپورٹ دیں گے اس پر یقین کر کے اس پر عمل کیا جائے گا۔ اب تک پاکستان میں یہ بات کبھی نہیں مانی گئی۔ کہ باہر کی رپورٹوں کو من و عن ملکی ڈاکٹروں کی معائندہ رپورٹ کے بغیر تسلیم کر لیا جائے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس سے پہلے کبھی کسی قیدی کو 6 ہفتے کی ضمانت پر رہا بھی نہیں کیا۔ پھر یہ جو ایک سہولت نوازشریف کو اس سے خود عدالتوں پر لوگوں کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔

تبدیلی نہیں تبدیلیاں ہی تبدیلیاں

قسور سعید مرزا /ایک نظر ادھر بھی
وزیراعظم عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد تو شاید لوگوں کو اتنی یاد نہ ہو لیکن اسلام آباد کے دھرنے کے بعد سے جو کچھ عمران خان کہتے رہے ہیں وہ نہ میڈیا بھول پا رہا ہے اور نہ عوام بھولے ہیں۔ اب وزیراعظم کو احساس ہو چکا ہو گا کہ آفاقی خیالات‘ ان پر مبنی دعوﺅں اور زمینی حقائق میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف احتساب اور تبدیلی کے نعروں سے پہچانی جاتی رہی ہے اور آج بھی انہی نعروں پر قائم و دائم ہے۔ لیکن گزشتہ نو ماہ کے اقتدار میں جو احتساب ہوا ہے اور جو تبدیلی لائی گئی ہے اس پر بہت کچھ تحریر کیا جا سکتا ہے۔ ہر سو ہی ”تبدیلی“ کا سماں ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں تنظیمی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ پنجاب کو رانا ثناءاللہ اور سردار اویس خان لغاری کے حوالے کیا گیا ہے۔ مریم نواز نائب صدر بن گئی ہیں۔ خواجہ آصف‘ رانا تنویر اوراحسن اقبال بھی اہم عہدیدار بن گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ سیاسی بیان بازی کے حملے اب باقاعدہ طور پر بلاول بھٹو زرداری کے سپرد ہیں۔ یہ کام وہ بنفس نفیس خود سرانجام دے رہے ہیں۔ پارٹی کی مختلف سرگرمیوں اور اجتماعات میں انتہائی فعال نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں تو کافی تبدیلیاں ہو گئی ہیں۔ اسد عمر مذاکرات کرکے واشنگٹن سے لوٹے تو چلتے کر دیئے گئے۔ فواد چودھری صاحب ترجمان سے سائنسدان بنا دیئے گئے۔ وزیر صحت کو فارغ کر دیا گیا۔ غلام سرور خان کی وزارت تبدیل کر دی گئی۔ اسٹیٹ بنک اور ایف بی آر کے سربراہوں کو گھر بھیج دیا گیا۔ فردوس عاشق اعوان صاحبہ وزارت اطلاعات میں آ گئیں۔ وزارت خزانہ میں حفیظ شیخ آ گئے۔ ممتاز قانون دان مرحوم ایم ایس باقر کے صاحبزادے رضا باقر کو اسٹیٹ بنک کا گورنر لگا دیا گیا۔ ایم ایس باقر کو بھٹو صاحب نے اپنے دوراقتدار میں سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا تھا۔ راقم کو باقر صاحب نے سوئٹزر لینڈ میں سفیر مقرر کئے جانے کی وجہ بھی بتائی تھی، میرے ان سے ذاتی مراسم تھے۔ خیر یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ انہوں نے ملت پارٹی میں فاروق احمد خان لغاری کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ ایف بی آر کےلئے پرائیویٹ سیکٹر سے شبر زیدی کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ یہ ٹیکس پالیسیوں کا گہرا ادراک رکھتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے معاشی ماہرین کی ایک ٹیم بھی تشکیل دی ہے جو مالیاتی امور کو دیکھے گی۔ ان میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین‘ سابق گورنر اسٹیٹ بنک سلیم رضا اور صادق سعید شیر اعظم سرفہرست ہیں۔ اس ٹیم کی نگرانی جہانگیر ترین کر رہے ہیں جو اس ٹیم کے غیراعلانیہ سربراہ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جہانگیر ترین جدید دنیا کی ہستی ہیں لیکن بدقسمتی سے نااہل قرار دے دیئے گئے ہیں۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ مشیر خزانہ حفیظ اے شیخ اور گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر کی تعیناتی سے قبل وزیراعظم سے کوئی ملاقات نہیں حالانکہ مقتدر اعلیٰ ایسی آسامیوں پر تقرر کرنے سے پہلے ملاقات کرتا ہے۔ سوال جواب کئے جاتے ہیں۔ دونوں عمران خان صاحب سے کبھی نہیں ملے ، کہا جاتا ہے کہ جہانگیر ترین نے کہہ دیا اور وزیراعظم نے لگا دیا۔ حفیظ شیخ کا ماضی سب کے سامنے ہے، ان کا ریکارڈ تسلی بخش نہیں ہے، یہ 2010ءسے 2013ءکے درمیان معیشت کے ساتھ بگاڑ کرکے گئے تھے۔ حفیظ شیخ کی معاشی مینجمنٹ دیکھی بھالی ہے۔ بطور وزیر نجکاری پی ٹی سی ایل کی ایتصلات کو فروخت ان کا کیا دھرا ہے۔ اب تک ایتصلات کمپنی نے بقایا 800ملین دینے سے انکار کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی تمام جائیدادیں ان کے نام کی جائیں جبکہ یہ بات معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو مایوس کیا تھا پھر حفیظ شیخ نے پیپلزپارٹی میں نقب لگائی اور آصف زرداری نے ان کو گود لے لیا۔ انہوں نے ہی حبیب بنک کو اونے پونے فروخت کیا تھا۔ یہ سرکاری عہدے پر براجمان ہوں تو پاکستان میں نظر آتے ہیں ورنہ یورپ میں رہتے ہیں۔ ان کی بیگم صاحبہ امریکی ہیں اور اولاد برطانوی شہری ہے۔ ان کی ہاں جب بھی کسی بچے کی ولادت کے دن نزدیک ہوں تو فیملی برطانیہ چلی جاتی ہے تاکہ آنے والا برطانوی شہری ہو۔بعض افراد انہیں عالمی مالیاتی رسہ گیروں کے نمائندے کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے واپس انہی اداروں میں جانا ہوتا ہے۔ یہ آئی ایم ایف کو دکھانے کے لئے اور سختی کریں گے۔
یہ جو ہم سفید پوش طبقات سے تعلق رکھنے والے زمین زادے ہوتے ہیں نظریات‘ غیرت‘ عزت نفس‘ وفاداری‘ دوستی‘تعلقات اور روایات یہ سب ہمارے طبقے کی ”عیاشیاں“ ہیں۔ اشرافیہ کے تینوں طبقے ہوں یا گارڈز فادر آف اشرافیہ کسی کو ان میں سے کوئی ایک بھی ”بیماری“ لاحق نہیں ہوتی۔ اپنے ہنرمندوں سے کام نہیں لیا جاتا اور انہیں دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں۔ کیا عمر ایوب خان سے وزارت خزانہ کا کام نہیں لیا جا سکتا تھا؟ کیا وہ قابل اور ذہین شخصیت نہیں ہیں؟ کیا محمد میاں سومرو کو عجائب گھر میں سجانا ہے؟ کیا ان کی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق ان کا استعمال کیا جا رہا ہے؟اور قربان جاﺅں آپ کی بصیرت پر کہ آپ سومرو صاحب کو وزیر مملکت بنانے چلے تھے۔ اور مجھے یقین ہے کہ ان دنوں آپ کو وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے اس کا علم نہیں ہو گا۔ یہ یقیناً کسی اور کی مہین کاریگری تھی۔ محمد میاں سومرو کا پروفائل اس اسمبلی میں سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ سابق صدر‘ سابق وزیراعظم‘ سابق چیئرمین سینٹ کے علاوہ بنک آف امریکہ سے اٹھارہ سال کا تعلق ہے۔ لوائی کے بعد مسلم کمرشل بنک کے ہیڈ رہے ہیں، نیشنل بنک کی صدارت کی ہے، زرعی ترقیاتی بنک کے چیئرمین تھے، فیڈرل بنک فار کوآپریٹو کے سربراہ رہے اور بہت سے بنکوں سے تعلق رہا۔ خوشحال بنک کو مستحکم کیا اور بنایا، گورنر سندھ رہے، پاکستان میں ہیلتھ انشورنس سکیم لے کر آئے۔ ان کے دور گورنری میں ورلڈ بنک نے صوبہ سندھ کو براہ راست فنڈنگ کی۔ یہ جہاں جہاں بھی رہے انہوں نے رزلٹ دیئے۔ عجز و انکساری والے بندہ خدا ہیں۔ کم گو ہیں، چرب زبانی ان کوآتی نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے لئے ضروری ہے کہ مشیر اور مصاحب میں فرق رکھیں۔ حفیظ شیخ کا کچھ بھی داﺅ پر نہیں ہے۔ یہ مشیر ہیں قومی اسمبلی میں جا نہیں سکتے۔ ان کو اہمیت دی جائے کہ جن کا سب کچھ پاکستان میں ہے۔ اسی طرح اسد عمر کی چرب زبانی ان کو لے بیٹھی اور ایف بی آر میں گروپ بازی کا شکار رہے۔ زندگی میں پہلی بار اہم وزارت ملی۔ کپتان کا بے پناہ اعتماد حاصل رہا لیکن ڈیلیور نہ کر سکے۔ اب سنا ہے کہ انہیں وزارت خزانہ کے لئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ نہ جانے اب یہ کون سا تیر چلا لیں گے۔ ظاہر ہے کہ جو سبکی اسد عمر کی ہوئی ہے وہ ان کے دل سے تو جا نہیں سکتی۔ انہوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے علاوہ اور کیا کرنا ہے۔ اسد عمر آئی ایم ایف سے مذاکرات کرکے آئے تھے اور اگر آئی ایم ایف کا پریشر تھا تو کہتے اوکے۔ شرائط مان لیتے۔ اس وقت وزیر نہ ہٹاتے۔ اب یہ کام حفیظ شیخ اور رضا باقر کو لاکر کیا گیا۔اس کے بعد اپوزیشن نے پھبتی تو کسنی تھی کہ آئی ایم ایف نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کئے ہیں۔ خود مان لیتے۔ جگ ہنسائی کی کیا ضرورت تھی آئی ایم ایف کو اس وقت سر پر بٹھانا کوئی عقل مندی نہیں تھی۔ ویسے بھی جو بوجھ ہم پر آئی ایم ایف کے ذریعے گرے گا کیا یہ ہمارے لئے ان کی سپورٹ ہو گی یا ظلم۔ 39ماہ میں ملنے والے چھ سات ارب ڈالر اس وقت اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں۔ ہم ایک بند گلی کی طرف جا رہے ہیں۔ نظام زر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹماٹر اور لیموں کے نرخ تو آپ سے کنٹرول نہیں ہورہے ڈالر کو کیسے کنٹرول کرو گے۔
رمضان المبارک میں غریب تو غریب سفید پوشوں کا مہنگائی کے ہاتھوں کچومر نکل گیا ہے۔ کیسی حکومت اور کہاں کی تبدیلی۔ کیسا رمضان بازار اور کہاں کے یوٹیلٹی سٹورز‘ مجال ہے جو گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں پر ضلعی انتظامیہ نے ہاتھ ڈالا ہو۔ یا دوکانوں پر مجسٹریٹوں نے چھاپے مارے ہوں۔ کیا یہ کام بھی آئی ایم ایف نے کرنا تھا۔ اگر معیشت میں جان ڈالنی ہے تو ان کو نشان عبرت بتاﺅ جن کی وجہ سے عوام نشان عبرت بنتے چلے جا رہے ہیں۔ میاں نوازشریف کے دور کا قرضہ کیسے ادا ہو گا۔ پانچ برسوں کے لئے آئی ایم ایف سے لئے گئے اٹھائیس ارب الر جو قرضے اتارنے کے لئے حاصل کئے گئے تھے وہ کہاں منتقل ہوئے۔ گیس کے ایک سو ستاون ارب روپے کون دے گا۔ یہ فضول تنقید ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس کیوں گئے۔ کیا ہم پہلی مرتبہ ان کے پاس گئے ہیں۔ کبھی زرداری حکومت اور شریف حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا تھا۔ آئی ایم ایف نامی ادارے کو الزام دینا بھی ایک بھونڈی اور بھدی حرکت ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے جو کیا اور جو کرے گا وہ اس نے نہ گن پوائنٹ پر کیا اور نہ کرے گا۔ آپ نے خود کرایا اور ان کے در پر حاضریاں دے دے کر کرایا۔ اس کا کیا قصور۔ کیونکہ کمزور اور طاقتور میں معاہدہ طاقتور کی شرائط پر ہوتا ہے۔ سابقہ حکمران بھی ہمارا انتخاب تھے۔ ظاہر ہے سزا بھی ہمیں ہی ملے گی۔ آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بنک جتنے بھی عالمی فنانشل ادارے ہیں یہ اصل میں سیاسی ادارے ہیں، یہ خودمختار ادارے نہیں ہیں جو امریکہ کہے گا وہی آئی ایم ایف کرے گا۔ پاکستان کو نظریاتی اور سرحدی سمجھوتوں پر مجبور کیا جائے گا۔ وزیراعظم صاحب‘ میرے خیال میں آپ نے اپنی معاشی ٹیم تو ترتیب دے لی ہے۔ اب اس ٹیم پر اپنے پارلیمنٹ کے منتخب رکن کو وزیر خزانہ لگایا جائے تاکہ ٹیکنوکریٹ اور منتخب ممبران کے درمیان توازن قائم رہے۔ جو آپ کی حکومت کے استحکام کےلئے ضروری ہے۔ آپ کے اراکین پارلیمنٹ تشویش میں مبتلا ہیں۔ آپ کو کوئی نہ بتائے تو اور بات ہے۔ صاف صاف تحریر کردیتا ہوں کہ ان مشیران کے ہوتے ہوئے امریکہ آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان میں سی پیک کے عظیم الشان منصوبے کو ناکام بنانے کی ہر طرح کی کوشش کرے گا۔ پاکستان کو ڈی نیو کلیئر کرنے اور فوجی اخراجات میں کمی لانے اور ایران کے مدمقابل کھڑا کر دینے کے حربے استعمال کرے گا۔ ان خطرات کا داخلی استحکام اور مفاہمت کے جذبے سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور پارلیمان پر لازم ہے کہ کوئی بڑا فیصلہ عجلت یا ضد بازی میں نہ کیا جائے۔ وزارتیں تبدیل کرنے سے کیا ہو گا ۔
ہوش‘ بصیرت‘ تحمل‘ حوصلہ‘ بردباری سے کام نہ لیا گیا تو اگلا منظر نہ صرف خوفناک ہے بلکہ خطرناک ہو گا کیونکہ باقی تبدیلیاں بھی جلد آنے والی ہیں اور یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ گھر والے خود مجرم کو شہر کا چکر لگواکر جیل چھوڑ کر آتے ہیں۔ کیا خبر یہ شہرت ہے کہ رسوائی ہے۔
(کالم نگارایوان صدر پاکستان کے
سابق ڈائریکٹرجنرل تعلقات عامہ ہیں)
٭….٭….٭

تحریک انصاف بھی تبدیلی نہ لاسکی ؟

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
اسد عمر کو ہٹانے کی ایک بنیادی وجہ یہ سمجھی گئی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو یکسو کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ تاہم انہیں اس کا نعم البدل اس طرح عطا کیا گیا کہ چند دن بعد ہی انہیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کاچیئرمین مقررکردیا گیا۔ اس طرح وہ وزارت خزانہ کے معاملات میں ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ دخیل ہوگئے۔ نئے مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پیپلز پارٹی کے دور میں وزیرخزانہ کی حیثیت سے بھرپورنیک نامی کمائی تھی۔ ان کی یہ نیک نامی اس وقت انتہا پر پہنچ گئی تھی جب انہوںنے آخری بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سوفیصد اضافے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور نتیجتاً اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے رہین منت ہی تھا کہ جس کی بدولت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ‘ پنشن اور عام مزدور کی اجرت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ۔ بعد میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو انہوں نے صرف دس فیصد تک ہی سالانہ اضافے کی منظوری دی لیکن یہ منظوری ایڈہاک طور پر ہوتی تھی اور سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں اِسے شامل نہیں کیا جاتاتھا چنانچہ پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 2013ءمیں جو اضافہ کیا تھا، وہی اب تک چلا آرہاہے۔
عبدالحفیظ شیخ نے آتے ہی اولین ٹاسک اور چیلنج کے طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو حل کیا اور سات ارب ڈالر تک قرضہ لینے میں کامیاب رہے۔ بدلے میں آئی ایم ایف کی ساری شرائط بھی تسلیم کرلی گئیں۔ ان شرائط میں یوٹیلیٹی بلات میں اضافہ، ٹیکسوں کی شرح بڑھانا اور نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ، لائن لاسز کم کرنے ، روپے کی قدر مزید گھٹانے اور افراط زر کی شرح میں مزید اضافے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ قرضہ تین سال میں ملے گا ۔ ابھی حکومت کا کہنا ہے کہ معیشت کی حالت انتہائی خراب ہے اور خزانہ مکمل طور پر خالی ہے۔ سات ارب ڈالر اس وقت روپے میں تقریباً11کھرب روپے بن رہے ہیں۔ پاکستان کا امسال بجٹ 50کھرب روپے سے زائد کا پیش ہوگا۔ رواں مالی سال کے لئے ٹیکسوں کے حصول کا ہدف 40کھرب روپے کے قریب ہے اور اگر اس میں خسارہ بھی رہا تو بھی 30سے 35کھرب کے نزدیک ٹیکس وصولی کرلی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ مختلف ٹیکسوں، ڈیوٹیوں، سرکاری محکموں کی آمدن سے حاصل ہونے والی رقوم مسلسل قومی خزانے میں جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود کہاجاتاہے کہ خزانہ خالی ہے ۔ حیرت انگیز طور پر سٹیٹ بینک اگرچہ ہر کچھ دن بعد زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے خبر جاری کرتاہے جو اس وقت 15ارب ڈالر سے کچھ اوپر ہیں لیکن ایسے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں ہوتے جن سے معلوم ہوسکے کہ ایک سہ ماہی میں حکومت کو کس قدر وصولیاں ہوئیں۔ ایف بی آر اگرچہ ٹیکس وصولی کے اعدادوشمار ماہانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر جاری کرتاہے لیکن یہ بھی مکمل طور پر حتمی نہیں ہوتے۔ اس لحاظ سے کہاجاسکتا ہے کہ حکومت ہر مہینے تقریباً 3 کھرب روپے سے زائد صرف ٹیکس وصول کرتی ہے ۔ گویا صرف ساڑھے تین ماہ میں ہم 11کھرب روپے ٹیکس حاصل کرلیتے ہیں۔
اب ذرا آئی ایم ایف کے 7ارب ڈالر پر نظردوڑائیں۔ یہ سات ارب ڈالر ہمیں تین سال میں ملیں گئے۔ جب ہم یہ قرضہ لیں گئے تب اس کی مالیت کم ہوگی لیکن جب واپس کریں گے تو اس کی مالیت میں اضافہ ہوجائے گااور ایسا روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوگااور سود اس کے علاوہ ہوگا۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ قوم کے خون پسینے کی کمائی سے نچوڑے گئے ٹیکس اور سرکاری اداروں کی آمدن کی رقم آخر کہاں جاتی ہے۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ یہ رقم غیرترقیاتی اخراجات میں خرچ ہوجاتی ہے۔یہ غیرترقیاتی اخراجات سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و مراعات، پنشن، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں ، مراعات اور دیگر اللوں تللوں اور خسارے میں چلنے والی سرکاری کمپنیوں کے لئے بیل آﺅٹ پیکیج پر خرچ ہوجاتاہے۔ اتنی ہی رقم کے برابر آمدن کرپشن، لوٹ مار اور بدعنوانی کی نذر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت کو ریکارڈ آمدن ہونے کے باوجود بڑی سطح کے ترقیاتی پروگراموں کے لئے غیر ملکی امداد کی طرف دیکھنا پڑتاہے۔ یہ سب مس مینجمنٹ کا نتیجہ ہے۔ یہ بدانتظامی ہمیں مسلسل غیرملکی مالیاتی اداروں اور حکومتوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کیے رکھتی ہے۔
تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے برسراقتدارآتے ہی سعودی عرب، قطر، چین ، ترکی اور دیگر دوست ممالک سے 11ارب ڈالر کا قرضہ اور امداد حاصل کیے لیکن ان سب کے اخراجات کا زمین پر کوئی وجود نہیں۔ اسی طرح ابھی آئی ایم ایف سے جو قرضہ لیاجارہاہے اس کا وجود صرف مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں دکھائی تو دے گا لیکن ترقی و خوشحالی کے سلسلے میں اس قرضے سے ایک اینٹ تک نہیں لگائی جائے گی۔ یہ سب وزراءو مشیران کی مراعات وغیرہ پر خرچ ہوجائے گا۔ اب کل ملاکر ملک پر غیر ملکی قرضے کا حجم 100ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ پاکستان کے کئی سال کے بجٹ کے برابر ہے لیکن اتنے قرضے کے باوجود زمین پر اس کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیتا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور اس سے ملک میں کیا مثبت تبدیلی لائی گئی۔ جب بھی قرضہ لیاجاتاہے تو ملک میں مہنگائی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ سارا نقصان غریب عوام کا ہوتاہے۔ اور جن لوگوں کے نام پر قرضہ لیاجاتاہے وہ بیچارے اپنی آمدن میں مزید کمی اور اخراجات میں مزید اضافے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ عمران خان سے عوام نے توقع لگائی تھی کہ وہ تبدیلی لے کر آئیں گئے اور حقیقی معنوں میں یہ تبدیلی عوام کے دن رات تبدیل کردیگی اورمسائل کا خاتمہ ہوجائے گا لیکن پچھلے چند ماہ میں ہی 18ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں نے صاف بتادیا ہے کہ اس حکومت کے تِلوں میں بھی تیل نہیں۔ یہ بھی دور کے ڈھول سہانے کے مصداق مسند ِ اقتدار پر براجمان تو ہوگئی لیکن اِسے بھی نہیں معلوم کہ مسائل کا حل کیا ہے اور ریلیف کس طرح فراہم کرنا ہے۔ الٹا حکومت کے شروع کے دنوں میں ہی تجاوزات کے خاتمے کے نام پر لاکھوں انتہائی کمزور اور دال روٹی کے لئے محنت کرنے والے ریڑھی اور ٹھیلے برداروں اور بڑی دکانوں کے آگے اپناہلکا پھلکا سامان بیچنے والوں کا ستیاناس کردیا گیا۔ تجاوزات کا خاتمہ مستحسن اقدام ہے لیکن اس کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ پیشگی اطلاع اور مدت مقرر کیے بغیر ہی لوگوں کو بے روزگار کردیاجائے۔
فی الوقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہمارا غیر ملکی قرضہ100ارب ڈالر سے بڑھ چکا ہے اور ہم ایک طرح کی ڈیفالٹ ریاست کے دائرے میں داخل ہوچکے ہیں ۔ غربت بے انتہا بڑھ چکی ہے اور روپے کی قدر افغانستان، نیپال اور ایشیا کی دیگر کمزور ترین کرنسیوں سے بھی نیچے آچکی ہے۔ بیروزگاری کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے اور جب کوئی اس پر احتجاج کرتاہے تو کہا جاتاہے کہ یہ اپوزیشن کی کارستانی ہے اور یہ کہ مہنگائی سابقہ حکومتوں کے دور میں بھی تھی اور قرضے وہ بھی لیتے تھے۔ بجا کہ یہ سب پہلے بھی موجود تھا لیکن یہ بھی تو دیکھیے کہ ہم نے تبدیلی کے لئے ہی تو ووٹ دیا تھا ۔ ہم تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر حکومت حقیقی معنوں میں یہ تبدیلی لے آتی ہے تو یقین جانیے کہ اس حکومت کو پھر کوئی تبدیل نہیں کرسکے گا۔
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ذرا ان کا بھی سوچیں!

محمد عبد الشکور……..نقطہ نظر
نیو ایئر،محبت کا دن ،بسنت ڈے ان دِنوں میں تو موج میلہ ہوتا ہے۔مزہ آتا ہے،میڈیا کو اشتہار ملتے ہیں۔کاروباری طبقہ کروڑوں روپے کی آﺅٹ ڈور مہم چلاتا ہے۔بی بی سی،سی این این سمیت عالمی اور مقامی میڈیا اور چینل ہر رنگ اور زاویہ سے تقریبات کو نمایاں کرتے ہیں۔مگر یہ یتیم بچوں کا دن ،بھلا اس میں کیا مزہ ہے ؟کونسا فن ہے ؟ اسے کیوں منایا جائے ؟میں آج جب کچھ دانش ور دوستوں کے پاس بیٹھا یومِ یتامیٰ منانے کے طریقوں پرغور کر رہا تھا تو مجھے ایسے ہی بہت سارے سوالوں کا سامنا تھا۔ پھر مزدورں /کسانوں کا عالمی دن ہو تو اسے مزدور /کسان تنظیمیں بناتی اور مناتی ہیں۔مدر /فادر ڈے ہو تو مائیں یا باپ مناتے ہیں۔ کینسر ڈے ہو تو مریض یہ دن مناتے ہیں۔عید ،کرسمس اور دیوالی ہو تو ان مذاہب کے ماننے والے اسے مناتے ہیں۔یتیم بچوں کا دن تو بچوں کی نہ کوئی تنظیم ہے اور نہ کوئی آواز، پھر اسے کون اور کیوں منائے۔یہ اور اس طرح کے بہت سے مشکل سوالات تھے جو پاکستان آرفن کیئر فورم کے سامنے تھے ،جب اس تنظیم نے طے کیا کہ یہ لوگ مل کر پاکستان میں ایک نئی روایت ،جدت اور خوشگوار بدعت کو جنم دیں گے۔پاکستان آرفن کیئر فورم(پی او سی ایف) 25تنظیموں پر مشتمل ایک فورم ہے جس نے آج سے چار سال قبل اس مہم کا بیڑا اٹھایا۔یہ ساری رفاہی تنظیمیں ( این جی اوز) پاکستان میں یتیم بچوںکی کفالت ،تعلیم اور صحت کے حوالے سے کام کرتی ہیں۔انہیں جب معلوم ہوا کہ او آئی سی نے 2013ءمیں ترکی کی تجویز پر 15رمضان المبارک کو یتیموں کے عالمی دن کے طور پر منائے جانے کی قرارداد پاس کی ہے تو انہیں حوصلہ ملا کہ وہ اس کھٹن مگر اہم کام کا آغاز پاکستان میں بھی کر سکتے ہیں۔پاکستان آرفن کیئر فورم نے ایک طرف تو قومی اداروں ( قومی اسمبلی اور سینٹ) سے درخواست کی کہ وہ اوآئی سی کی پیروی کرتے ہوئے 15رمضان کو یتیموں کا عالمی دن قرار دے اور الحمد للہ پاکستان کے ان دونوں ایوانوں نے متفقہ طور پر پی او سی ایف کی درخواست قبول کرتے ہوئے 15رمضان کو یتامیٰ کا قومی دن قرار دیا اوردوسری طرف پبلک فورمز پر اس دن کو منانے کی مہم کاآغاز کیا۔
سوال یہ ہے کہ یتیم بچوں کا قومی /عالمی دن منانے کی ضرورت کیا ہے۔ آیئے مل جل کر پہلے اس کو سمجھ لیتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں تقریباً 42لاکھ بچے یتیم ہیں۔یہ خاصی بڑی تعداد ہے۔زلزلے ،قدرتی آفات،جنگ اور دہشت گردی کے واقعات نے اس تعداد میں خاصا اضافہ کیا ہے۔افغانستان ،عراق ،شام ،لیبیا ، یمن اور فلسطین میں گولہ بارود کی بارش نے لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے اور کئی کروڑ معصوم بچوں کو والد کی شفقت سے محروم کر دیا ہے۔صرف ترکی اورشام کے بارڈر پر 70ہزار سے زائد ایسے خاندان پناہ گزیں ہیں جن کے باپ شہید ہو چکے ہیں۔روہنگیا آگ میں جھلس کر ایک اور ویرانہ بن چکا ہے ،جہاں اَن گنت یتیم بچے اپنے مستقبل سے نا آشنا اندھیر نگری میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔مشرق وسطی اور جنوبی ایشیاءمیں ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچے بے بسی اور یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔تھوڑی دیر کےلئے اپنی آنکھیں بند کیجیے اور سوچئے ، مسلم دنیا کے کروڑوں کی تعداد میں بھوکے، ننگے ،افلاس کے مارے اور علم سے ناآشنا یہ بچے،جب آج سے پندرہ بیس سال بعد جوان ہوں گے تو ہماری گلیاں ،بازار اور جیلیں کس طرح کے انسانوں سے بھری ہوں گی۔پندرہ بیس سال تو شاید ہمیں ابھی زیادہ دور لگ رہے ہوں۔ا س وقت بھی دنیا بھر کے لاوارث بچوں کو لاکھوں کی تعداد میں ترغیب دے کر جنسی جرائم کی دنیا میں جس طرح دھکیلا جا رہا ہے اور انسانی منڈیوں میں بیچا جا رہا ہے اس کی خبروں سے نہیں ،صرف تصور ہی سے روح کانپ اٹھتی ہے۔اگر ہم اپنے مستقبل کو خوش گوار اور روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ ہم ان بچوں کے مستقبل کو پرسکون بنائے بغیر خود کو محفوظ اور مطمئن رکھ سکیں۔یہ تو مسئلے کا ایک دھندلا اور الجھا ہوا رخ ہے۔اس کا روشن رخ یہ ہے کہ پیارے نبی نے ہمیں بتایا ہے کہ یتیم بچے کسی اور کی نہیں میری اور آپ کی ذمہ داری ہیں۔یہ ہمارا خوش گوار ”آج “بھی ہیں اور یہی بچے ہمارا خوش گوار ”کل“ بھی ہیں۔اللہ سے جڑنے اور اس کی خوشنودی کا سیدھا اور آسان راستہ ہیں۔یہ ہماری ”مجبوری“ نہیں یہ ہمارے خوشی اور راحت ہیں۔کہتے ہیں یتیم مسکرائے تو کائنات مسکرانے لگتی ہے۔کلیاں چٹکتی ہیں اور فضائیں خوشبو سے معطر ہو جاتی ہیں۔پاکستان آرفن کیئر فورم ( پی او سی ایف)یوم یتامیٰ منا کر اسی آگہی کو عام کرنا چاہتا ہے۔
کتنا مانوس ہوں، فطرت سے کلی جب چٹکی
میں نے جھک کر یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا؟
ہم یتیم بچوں کی ان کلیوں کو کھلتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ آپ بھی اس سوچ ،اس خوشی اور اس غم میں ہمارے ساتھ شریک ہیں۔پاکستان آرفن کیئر فورم کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ آپ جو کچھ بھی ہیں اس دن کو منانے میں اپنا کردار ادا کریں۔فخر محسوس کریں۔
آپ صحافی ہیں تو ان یتیم بچوں کے مستقبل پر کالم لکھیں۔پ±رانے وقتوں کے کامیاب یتیم بچوں کی امید افزاءکہانیاں لکھیں۔
آپ ٹی وی پروگرام کے میزبان ہیں تو اپنے پروگرام کا آغاز اس طرح کریں کہ ” آج 15 رمضان ( 21مئی)اور یوم یتامیٰ ہے۔آیئے ان پھولوں اور کلیوں کے تذکرے سے اپنے پروگرام کا آغاز کرتے ہی“۔
آپ استاد ہیں تو یتیموں پر شفقت بھرالیکچر دیجیے۔
آپ سماجی اور سیاسی قائد ہیں یا اعلیٰ سرکاری عہدیدار تو یتیم بچوں کے اداروں کا وزٹ کریں یا اپنے دفتر /ڈیرے پر ان بچوں کی افطاری کا اہتمام کریں۔
آپ عالم دین ہیں تو مساجد کے خطبات میں یتیموں کا تذکرہ اور فضلیت بیان کیجئے۔
اگر آپ خاندان کے محض سربراہ ہیں تو اپنے عزیزوں/محلہ داروں میں کسی یتیم خاندان کو اپنے گھر ، اپنے بچوں کے ساتھ افطاری پر بلائیے۔ان سے ٹوٹ کر محبت کیجئے۔انہیں کوئی اچھا سا تحفہ دیجیے، آپ کا پورا گھر خوشبوﺅں سے معطر ہو جائے گا۔آپ کے اپنے بچے چہچہانے لگیں گے اور ایسے لگے گا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی بلندی سے آپ کو دیکھ کر مسکرا رہا ہے اور کہہ رہا ہے ” واہ میرے بندے“۔
15رمضان کو یہ کام کر کے دیکھئے آپ کو مزہ آئے گا۔حقیقی محبت کا دن۔سچا بسنت ڈے۔اصلی نیو ایئر نائٹ۔اللہ آپ کو ہمیشہ ایسی ہی خوشیاں دیتا رہے۔
(چیئرمین پاکستان آرفن کیئر فورم
صدر الخدمت فاو¿نڈیشن پاکستان ہیں)
٭….٭….٭