All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

کپتان پھر دُولہا بنیں گے،دلہن تیار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور شوبز کی معروف شخصیت عائشہ وارثی کی شادی کے حوالے سے خبریں اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ یہ خبریں اس وقت گردش میں آئیں جب عائشہ وارثی نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان سے ان کی رہائش گاہ بنی گالا میں ملاقات کی۔ ملاقات کے موقع پر عمران خان اورعائشہ وارثی کی تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان عائشہ وارثی کو تحریک انصاف کا پرچم دے رہے ہیں جبکہ ایک جگہ عائشہ وارثی عمران خان کے ساتھ محو گفتگو ہیں۔ عمران خان اور عائشہ وارثی کی شادی کی خبروں کے حوالے سے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا تھا کہ ان تصاویر کو اگر دیکھا جائے تو اس میں صاف نظر آتا ہے کہ عائشہ وارثی سے ملاقات کے دوران عمران خان خصوصی طور پر تیار ہوئے نظر آتے ہیں اور کسی شوبز پرسنیلٹی کی طرح لگ رہے ہیں۔ عارف نظامی نے کہا کہ ان کی اس ملاقات کے بعد عائشہ وارثی کے ساتھ ان کی شادی کی خبریں سامنے آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ وہ اب ایک سرٹیفائیڈ بیچلر ہیں اور اس میں مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہو گی اگر یہ بات سامنے آئے کہ عائشہ وارثی اور عمران خان دونوں کی جانب سے ایسی امیدیں سامنے آئیں۔عارف نظامی کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ میری اس بات کے بعد کہا جائے گاکہ بابا جی! آپ شادیاں کراتے رہتے ہیں، اور پھر مجھے بڑی گالیاں پڑیں گی لیکن میں یہ کہوں گا کہ جادو وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ مجھے سامنے آنیوالی تصاویر میں نہ جانے کیوں کچھ نیا لگ رہا ہے۔ عارف نظامی نے کہا کہ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنےوالوں کو ویلکم کرنا عمران خان کے فرائض منصبی میں شامل ہے اور اہم افراد کو خود اپنے دست مبارک سے شامل کرنا اچھی بات ہے۔ عارف نظامی نے کہا کہ وہ ایک مصدقہ غیر شادی شدہ شخص ہیں فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک میری جدوجہد کامیاب نہیں ہوتی اور منطقی انجام تک نہیں پہنچتی وہ شادی نہیں کرینگے۔

حدیبیہ کیس :سپریم کورٹ نے ریکارڈ طلب کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نیب سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے احتساب عدالت کی کورٹ ڈائری اور اس وقت کے چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار طلب کرلیا ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بینچ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کررہا ہے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حدیبیہ ریفرنس کی دستاویزات کدھر ہیں جس پر خصوصی پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے کہا کہ ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر ریفرنس خارج کیا تاہم عدالت کہے تو ریفرنس کی دستاویزات فائل کردیتے ہیں۔جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ حدیبیہ پیپرملز سے متعلق ریفرنس کی بات جے آئی ٹی کے کس والیم میں کی گئی، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ والیم 8 میں حدیبیہ پیپرزملز ریفرنس کے بارے سفارشات دی گئی ہیں جس پر عدالت نے رجسٹرار آفس سے والیم 8 اور والیم 8 اے منگوالیا۔جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ حدیبیہ پیپرزمل کے اصل ریفرنس کی دستاویزات دیکھناچاہتے ہیں، عمران الحق کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے لیے اکنامک ریفارمز ایکٹ کا سہارا لیاگیا اور منی لانڈرنگ کے لیے جعلی فارن کرنسی اکاؤنٹ کھولے گئے جب کہ ملزمان کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے کارروائی روک دی گئی تھی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کسی کوجبری طورپر باہر بھیجنا یا کسی کاعدالت سے فرارہونا مختلف چیزیں ہیں جب کہ کس کے حکم پر نواز شریف کو باہر بھیجا گیا تھا، وکیل نیب نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کو اس وقت کے چیف ایگزیکٹو پرویزمشرف کے حکم پر باہر بھیجا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فریقین بیرون ملک کب گئے جس پر وکیل نیب کا کہنا تھا کہ دسمبر 2000 میں جلا وطن ہوئے اور نومبر 2007 میں جلا وطنی سے واپس آئے جب کہ ملزمان 2014 میں مقدمہ پر اثر انداز ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نیب کو ریفرنس پرکتنے عرصے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نیب کو ایک ماہ کے اندر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ کیا کسی کے خلاف ریفرنس بنا کر اس پر ہمیشہ کے لیے تلوار لٹکائے رکھیں گے، ریفرنس کو طویل عرصہ تک زیر التواء نہیں رکھا جا سکتا، آپ سمجھتے ہیں ہم اپیل پر ابھی حکم جاری کر دیں گے۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ حدیبیہ کا ریفرنس کہاں ہے، جس پر وکیل نیب کا کہنا تھا کہ پاناما کے مقدمہ کے بعد اپیل دائر کی۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ حدیبیہ ریفرنس پر دلائل دیں، نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ حدیبیہ ریفرنس پر میری مکمل تیاری نہیں ہے تاہم حدیبیہ پیپر ملز 1999 تک خسارے میں چل رہی تھی،اس وقت کمپنی کے ڈائریکٹرز کے پاس بہت بڑی رقم تھی۔

سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نیب سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے احتساب عدالت کی کورٹ ڈائری اور اس وقت کے چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار بھی طلب کرلیا۔ عدالت نے نیب کی جانب سے دستاویزات پیش کرنے کے لئے 4 ہفتوں کی مہلت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیس میں سنجیدگی دکھائیں، سپریم کورٹ نے خاص بینچ بنایاہے، کیا نیب ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ وکیل نیب نے جواب دیا کہ بدقسمتی سے ایساہی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11دسمبر تک ملتوی کردی۔

ختم نبوت حلف نامہ کو کس نے تبدیل کیا ؟؟سابق وزیر قانون نے بالآخر زبان کھول دی

اسلام آباد(این این آئی، آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ منظور کرلیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق زاہد حامد نے گذشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دوگھنٹے طویل ملاقات کی تھی، جس کے بعد رضاکارانہ طور پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو استعفیٰ پیش کیا تھا۔ ایک بیان میں زاہد حامد کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میں ہونے والی تبدیلی میں ان کا براہ راست کردار نہیں تھا اور اسے مشترکہ کمیٹی نے منظور کیا تھا تاہم ملک کو درپیش بحران کے خاتمے کے لیے وہ رضاکارانہ طور پر عہدے سے مستعفی ہورہے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ کسی کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ذاتی حیثیت میں فیصلہ کرکے قومی مفاد میں عہدہ چھوڑا ہے پیر کے روز سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے کسی کے کہنے پر وزارت قانون سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ذاتی حیثیت میں بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرکے قومی مفاد میں عہدہ چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا تھا جسے وزیر اعظم نے منظور کرلیا ہے۔

 

شاہ زیب کیس :ملزموں کی سزائے موت کالعدم قرار

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے پانچ سال قبل ڈیفنس کے علاقے میں قتل ہونیوالے شاہ زیب کے کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور اس کے دیگر ساتھیوں کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے مقدمہ ازسرِنو سماعت کے لئے سیشن عدالت میں بھیج دیا۔شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور اس کے دیگر ساتھیوں نے اپنی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ کیس کی سماعت میں ملزمان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو سزا سنائی، سزا کے وقت شاہ رخ جتوی کی عمر 18 سال سے کم تھی اور یہ مقدمہ بچوں کے مقدمات میں آتا تھا جب کہ کیس کے تفتیشی افسر نے شاہ رخ جتوئی کا جو پیدائشی سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا اس پر بھی والد کا غلط نام درج تھا، مدعی دستبردار اور گواہ منحرف ہوگئے، یہ جھگڑا بھی ذاتی نوعیت کا تھا اس لئے اس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں تو بنتا ہی نہیں۔عدالت نے شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور، سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ کی سزا کالعدم قرار دے دی اور مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے مقدمہ ازسرِنو سماعت کے لئے سیشن عدالت میں بھیج دیا۔

 

ادویات مزید مہنگی کرنیکی تیاریاں

لاہور(ویب ڈیسک) عوام پر آج ادویات کی مہنگائی کا بم گرائے جانے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کی ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کا 24 واں اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، جس میں ادویات کی قیمتوں کا تعین کر کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مطمئن کرنے کیلئے ایجنڈا کے مطابق قیمتیں بڑھائی جائیں گی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جو ادویات مارکیٹ سے غائب ہیں ان کے نایاب ہونے کا جواز پیش کر کے ادویات کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی۔ ڈرگ لائرز فورم کے صدر ڈاکٹر نور مہر کا کہنا ہے کہ 2016 اور 2017 میں اتنی زیادہ قیمتیں بڑھنے کے باوجود اب دوبارہ قیمتیں بڑھانا کہاں کا انصاف ہے۔

وزیر اعظم کو پھر مہلت مل گئی

لاہور،اسلام آباد(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل کی عدم حاضری پر نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت 4 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی  مختصر سماعت کی۔اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر  کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں نہ آئے۔اس موقع پر نواز شریف کے معاون وکیل نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں اس لئے آج پیش نہیں ہو سکتے۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تین ریفرنسز یکجا کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اسی ہفتے  آنے کا امکان ہے اس لئے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی جائے۔جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ پھر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست میں یہ استدعا ہونی چاہیے تھی۔عدالت نے سوال کیا کہ دو گواہ عدالت میں موجود ہیں، ان کا کیا کریں جس پر نواز شریف کے معاون وکیل نے کہا کہ اگر عدالت سمجھے ہماری وجہ سے تاخیر ہوئی توپیر سے مسلسل تین دن آجائیں گے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا، ٹرائل پر اسٹے آرڈر نہیں دیا اور اگر حکم امتناع نہیں ملا تو ٹرائل چلنا چاہیے۔نیب کے افسر نے کہا کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ کب فیصلہ سنائیں گے، ہو سکتا ہے دو ماہ میں بھی فیصلہ نہ آئے۔

فاضل جج نے نواز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز میں ایک فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متبادل استدعا بھی کی ہے کہ کم از کم دو ریفرنسز ہی یکجا کر دیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے نہ آنے پر نواز شریف نے تینوں ریفرنس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی جس پر عدالت نے سماعت 4 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

سابق وزیراعظم اپنی صاحبزادی کے ہمراہ پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آباد پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر میئر اسلام آباد شیخ انصر نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پہنچے۔

احتساب عدالت میں مجموعی طور پر 5 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں اور آج مزید دو گواہان کے بیانات قلمبند ہونا تھے تاہم وہ آج نہ ہوسکے ۔

قومی خزانے کو کروڑوں کا چونا ، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سمیت بورڈ آف گورنرز کی مراعات میں چونکا دینے والا اضافہ

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین پہلے ہی پرکشش مراعات حاصل کرتے ہیں اور اب انہیں حاصل مراعات اور سہولتوں میں اضافے کے لئے ایک اور تجویز سامنے آئی ہے۔ملک کی بڑی ملٹی نیشنل یا سرکاری کمپنیوں کی طرز پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اراکین اور چیئرمین کی مراعات میں اضافے کے لئے نیا پیپر ورک تیاری کے مرحلے میں ہے، جس کے بعد ان کی مراعات میں کئی گنا اضافہ کردیا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے منگل کو لاہور میں ہونے والے اجلاس میں گورننگ بورڈ کے رکن عارف اعجاز اور چیف فنانشل آفیسر بدر منظور پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔اجلاس میں چیف آپریٹنگ آفیسر نے اراکین کو چیئرمین اور اراکین کی مراعات پر بریفنگ دی اور بتایا کہ یہ مراعات کئی سال پرانی ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے کئی اراکین کی اس تجاویز سے اتفاق کیا گیا کہ پی سی بی کے آڈیٹر میسرز ڈی لیوٹ یوسف عادل کو یہ ذمے داری سونپی جائے کہ وہ مارکیٹ کا سروے کر کے نئی مراعات کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ اس وقت بورڈ کے چیئرمین، چیف ایگزیکٹیو کی جو مراعات ہیں ان کا موازنہ ان بڑی سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں سے کیا جائے جن کا سالانہ ٹرن اوور چار سے پانچ بلین ہو۔اسی کو بنچ مارک بنا کر چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو کی مراعات کا شیڈول ترتیب دیا جائے، ان میں چیئرمین، چیف ایگزیکٹیو اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین کا ڈیلی الاونس، میٹنگ الاونس، ٹریول انٹر ٹینمنٹ (ملک اور بیرون ملک) پر کمیٹی نظر ثانی کرے گی۔

عارف اعجاز جن کا تعلق کارپوریٹ سیکٹر سے ہے وہ سی ایف ایف او کے ساتھ ملک کر مارکیٹ کا جائزہ لیں گے اور نئی سفارشات مرتب کریں گے۔

ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے اس وقت بورڈ آف گورنرز کے مراعات پر کشش بتائی جاتی ہیں، بی او جی اراکین کو ڈیلی الاؤنس کی مد میں دس ہزار روپے ملتے ہیں، میٹنگ والے دن ڈیلی الاؤنس دس ہزار کے علاوہ بیس ہزار روپے میٹنگ الاؤنس ملتا ہے۔

پاکستان میں بی او جی اراکین کو بزنس کلاس کا جہاز کا ٹکٹ یا سفر کے لئے لگژری کار ملتی ہے، اگر بی او جی کے اراکین کسی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کے لئے آتے ہیں انہیں یومیہ دس ہزار روپے اور بیس ہزار روپے میٹنگ الاؤنس ملتا ہے۔ملک کی طرح بیرون ملک بھی مراعات پر کشش ہیں، بیرون ملک کا ڈیلی الاؤنس چھ سو امریکی ڈالرز ہے، اگر بورڈ کسی رکن کے ہوٹل کا انتظام کرتا ہے تو اسے یومیہ الاؤنس تین سو ڈالرز ملے گا۔انگلینڈ میں ڈیلی الاؤنس 900 ڈالرز ہے، دستاویز کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے تمام کمیٹیاں تحلیل کردیں تھیں۔نئی کمیٹیوں کا اعلان اگلے چند ماہ میں کردیا جائے گا۔اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ ،گورننگ بورڈ میں نجم عزیز سیٹھی،عار ف اعجازوزیر اعظم کے نامزد کردہ ہیں۔واپڈا کی نمائندگی لیفٹنٹ جنرل (ر)مزمل حسین،حبیب بینک کے نعمان ڈار،سوئی سدرن گیس کے مفتاح اسماعیل، یو بی ایل کے منصور مسعود خان، کوئٹہ کے مراد اسماعیل، سیالکوٹ کے محمد نعمان بٹ اور لاہور ریجن کے شاہ ریز عبداللہ خان روکڑی شامل ہیں۔یہ بورڈ ملک میں کرکٹ کا سب سے بڑا پالیسی ساز ادارہ ہے، بورڈ نے آڈٹ کمیٹی کا اعلان کردیا ہے جس کے سربراہ عارف اعجاز ہیں جبکہ ایچ آر کمیٹی بھی تشکیل کے آخری مراحل میں ہے اس کمیٹی کی صدارت بھی عارف اعجاز کو سونپی جارہی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ بارے نواز شریف کا حیرت انگیز جواب ،صحافی منہ دیکھتے رہ گئے

لاہور(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ بہت سی باتیں کرنی ہیں لیکن ایک دو روز ٹھہر جائیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس میں پیشی کے لئے احتساب عدالت پہنچے جہاں سماعت شروع ہونے سے قبل انہوں نے صحافیوں سے مختصر اور غیر رسمی گفتگو کی۔صحافیوں نے پہلے مریم نواز سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میں میرا بات کرنا بنتا نہیں۔ جس کے بعد صحافیوں نے نواز شریف سے پوچھا کہ آپ عدالتی فیصلے پر کیا کہیں گے جس پر نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دینے سے گریز کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے، بہت سی باتیں کرنی ہیں، بس ایک دو روز ٹھہر جائیں۔

نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ معزز جج نے انہیں کمرہ عدالت میں میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا ہے اس لئے وہ بات نہیں کرسکتے۔

”ان کی موجودگی میں میرا با ت کرنا نہیں بنتا “ مریم نواز کی گفتگو

لاہور(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ بہت سی باتیں کرنی ہیں لیکن ایک دو روز ٹھہر جائیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس میں پیشی کے لئے احتساب عدالت پہنچے جہاں سماعت شروع ہونے سے قبل انہوں نے صحافیوں سے مختصر اور غیر رسمی گفتگو کی۔صحافیوں نے پہلے مریم نواز سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میں میرا بات کرنا بنتا نہیں۔ جس کے بعد صحافیوں نے نواز شریف سے پوچھا کہ آپ عدالتی فیصلے پر کیا کہیں گے جس پر نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دینے سے گریز کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے، بہت سی باتیں کرنی ہیں، بس ایک دو روز ٹھہر جائیں۔

نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ معزز جج نے انہیں کمرہ عدالت میں میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا ہے اس لئے وہ بات نہیں کرسکتے۔

تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کے آرمی چیف بارے خیالات سامنے آگئے

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی، کرائم رپورٹر) حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیر خادم حسین رضوی نے فیض آباد انٹرچینج پر 22 روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ حکومت سے معاہدے میں پاک فوج ضامن بنی، رانا ثنا اللہ کے معاملے پر علما و مشائخ کی کمیٹی قائم کردی گئی، رانا ثنا اللہ علما و مشائخ کے سامنے پیش ہو کر بیان کی وضاحت کریں گے۔ دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک لیبک یارسول اللہ کے امیر خادم حسین رضوی نے کہا کہ وزیر قانون کے استعفی کے بعد یہاں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، انتظامیہ کی جانب سے ہمیں فیض آباد خالی کرنے کے لئے بارہ گھنٹے کا وقت دیا ہے اس دوران کارکنان اپنا سامان سمیٹ لیں ۔ تحریک لیبک کے امیر نے کہا کہ ہم نے اللہ کی رضا کے لئے جدوجہد کی مگر ہمیں دہشت گرد کہا گیا، فوج کے ضامن بننے کے بعد ہمارے مطالبات مانے گئے جس پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں ساتھ ہی انہوں نے پیغام دیا کہ ملک بھر کے مختلف شہروں میں جاری دھرنوں کو فوری طور پر ختم کردیا جائے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر قانون زاہد حامد کا استعفی منظور کرلیا ہے جس کے بعد حکومت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک نے دھرنا ختم کرنے کو آئندہ 12گھنٹوں کی اندر کارکنان کی رہائی سے مشروط کردیا ہے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ملک کو بحرانی صورتحال سے نکالنے کے لئے خصوصی تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا گیا تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے منظور کرلیا ہے اور اب آئندہ چند دنوں میں نئے وزیر قانون کا بھی حکومت اعلان کردے گی دھرنا قائدین اور حکومت میں معاملات طے پانے کے بعد تحریک لبیک کے مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی نے فیض آ باد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس معاملے پر ذاتی دلچسپی لے کر جوان مردی کا مظاہرہ کیا اور ملک کو بحرانی صورتحال کی کیفیت سے نکالا انہوں نے کہا کہ ڈی جی ریجنرز کے بھی شکر گزار ہیں جو کہ ہمارے پاس خود چل کر آئے اور ہمارے مطالبات سننے کے بعد ان کے حل کی یقین دہانی کرائی علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ زاہد حامد کے استعفی کے بارے میں معلوم ہوچکا ہے لیکن یہ ہمارے خون کی قیمت نہیں ہے جو کہ حکومتی آپریشن کے دوران بہایا گیا ہماری آنے والے نسلیں بھی اس خون کو نہیں بھلاسکیں گی انہوں نے کہا کہ باضابطہ طور پر ہم دھرنا ختم کرنے کا اعلان اس وقت کریں گے جب 12 گھنٹوں کے اندر اندر ہمارے گرفتار کارکنان کو رہا کردیا جائے گا جونہی ہمیں کارکنان کے رہائی کے فہرستیں ملنا شروع ہونگی تو ہم بھی اپنا سامان سمیٹنا شروع کردیں گے علامہ خادم حسین رضوی نے مطالبات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ 12گھنٹوں میں ہمارے کارکنان کو رہا کرے گی ڈاکٹر عافیہ کی بھی رہائی اور بہترین علاج کے لئے وزارت داخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے تحریک لبیک کے 2کارکنان بھی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ہونگے الیکشن ایکٹ ترامیم کے ساتھ حلفہ نامہ لگادیا گیا ہے اور اس کی کاپی بھی ہمیں پہنچا دی گئی ہے وفاقی اور صوبائی حکومت نے جشن عید میلادنبی کی خصوصی تیاریوں میں ہمارے تمام مطالبات منظور کیے ہیں اس کے علاوہ حکومت اور دھرنا قائدین میں جو معائدہ طے پایا اس کے مندرجات میں بتایا گیا کہ تحریک لبیک ایک پر امن جماعت ہے جو کسی قسم کی تشدد اور بد امنی پر یقین نہیں رکھتی ہم ختم نبوت اور تحفط ناموس رسالت میں قانونی ردوبدل کے خلاف اپنا نقطہ نظر حکومت کے پاس لے کر آئیں مگر حکومت نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا 21دن تک مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے جو کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کے وزارت کے ذریعے اس قانون کی ترمیم پیش کی گئی ان کو فوری طور پر اپنی عہدے سے مستعفی کیا جائے ہماری جماعت ان کے خلاف کسی کا کوئی فتویٰ جاری نہیں کریں گے ہماری جماعت مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت پاکستان الیکشن ایکٹ 2017میں 7Bاور 7C کو مکمل متن مع اردو میں حلفہ نامہ شامل کرے اور قائد ایوان راجہ ظفر الحق کی انکوائری رپورٹ 30دن میں منظرے عام پر لئے جائے جس میں جو شخص ذمہ دار ہو ان پر ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے 6نومبر 2017سے لیکر دھرنے کے اختتام پزیر ہونے تک جتنے بھی کارکنان گرفتار کیے گئے ان کو 3دن تک ضابطہ کاروائی کے مطابق رہا کیا جائے اور ان پر مقدمات اور نظر بندیاں ختم کی جائیں 25نومبر 2017کو ہونےوالے حکومتی ایکشن کے خلاف ہماری جماعت کو اعتماد میں لیکر ایک انکوائری بورڈ تشکیل دیا جائے جو تمام معاملات کی چھان بین کرکے حکومت اور انتظامیہ ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا تعین کرکے 30روز کے اندر انکوائری مکمل کرے اور ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کا اغاز کیا جائے 6نومبر 2017سے دھرنے کے اختتام تک جو سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچا اس کا تعین کرکے ازالہ وفاقی اور صوبائی حکومت ادا کرے حکومت پنجاب سے متلعقہ جن نکات پر اتفاق ہوچکا ہے ان پر من و من عمل کیا جائے۔