All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

آسٹریلیا ٹورمیں غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا

لاہور(اے این این)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا ہے کہ دو تین اننگز کی خراب کارکردگی یا ناکامی پر تبدیلیوں کے حق میں نہیں ہوں اتنی جلدی کھلاڑیوں کو اندر باہر کرنے سے انکا اعتماد خراب ہوتا ہے۔ مہینہ پہلے یہی ٹیم دنیا کی نمبر ون ٹیم بنی۔ کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع دینے کے لئے آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے سکواڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کو منتخب کیا جاتا ہے تو اسے بھرپور موقع ملنا چاہئے اگر پھر بھی ناکام رہتا ہے تو یقینا ٹیم سے باہر ہو گا۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے تمام پرفارمرز پر نظر ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ ہم نے غلطیاں کی ہیں۔ جب تیز کھیلنے کی کوشش میں وکٹیں گریں تو پھر چند اوورز روک لینا چاہئے تھے۔ بلے بازوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ غلطیوں سے سیکھنے اور کھیل میں بہتری لانے کے لیے زیادہ محنت لگن یکسوئی اور توجہ کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا کا دورہ بھی مشکل ہے عمدہ پرفارمنس سے کھلاڑی نام بنا سکتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ٹف کنڈیشنز میں بھی خود کو جلد ایڈجسٹ کرنا چاہیے ۔ فاسٹ بالرز کی کارکردگی پر بھی نظر ہے ماضی قریب میں زیادہ کامیابیاں یاسر شاہ کے آﺅٹ کرنیکی وجہ سے ملی ہیں لیکن فاسٹ باولرز کو بھی وکٹیں حاصل کرنا ہونگی یہ ہمارے لیے پریشان کن ہے کہ ایک بھی تیز گیند باز نے اننگز میں پانچ آوٹ نہیں کئے۔

انڈیا سے باہمی سیریزکی بھیک نہیں مانگیں گے

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں)چیئرمین پی سی بی نے کہا ہے کہ بھارت سے دوطرفہ سیریز کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ معاملہ ایشیائی کرکٹ کونسل میں اٹھایا جائے گا۔ شہریار خان نے کراچی میں حنیف خان کرکٹ اکیڈمی کے قیام کی خوشخبری دیدی۔چیئرمین پی سی بی مودی سرکار پر برس پڑے۔ کہتے ہیں انڈیا کے دو طرفہ سیریز سے بھاگنے کا معاملہ ایشین کرکٹ کونسل میں اٹھائیں گے۔ شہریار خان نے میڈیا سے گفتگو میں مودی سرکار کو پاک بھارت سیریز میں رکاوٹ قرار دیا۔ چیئرمین پی سی بی نے اس سے قبل سینیٹ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بتایا کہ بلوچستان، فاٹا اور کراچی میں کرکٹ اکیڈیمیز قائم کی جا رہی ہیں۔ کراچی کی اکیڈمی لیجنڈ کرکٹر حنیف محمد مرحوم کے نام سے منسوب کی جائے گی۔

ٹیسٹ رینکنگ میںیونس اوریاسرکوتنزلی کاسامنا

دبئی (اے پی پی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی تازہ ترین ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ میں بلے بازوں میں سٹیون سمتھ، باﺅلرز اور آل راﺅنڈرز میں روی چندرن ایشون بدستور سرفہرست ہیں، یونس خان 4 درجے تنزلی کا شکار ہو کر دسویں نمبر پر چلے گئے، اسدشفیق بھی ٹاپ ٹونٹی سے باہر ہو گئے، جونی بیئرسٹو 3 درجے ترقی پا کر ٹاپ ٹین میں شامل ہو گئے، یاسرشاہ 2 درجے تنزلی کے بعد نویں نمبر پر چلے گئے، نیل واگنر کی بھی ٹاپ ٹین میں شمولیت ہوئی ہے۔ آئی سی سی کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ کے تحت بلے بازوں میں سٹیون سمتھ پہلے اور جوروٹ دوسرے نمبر پر موجود ہیں، ویرات کوہلی ایک درجہ ترقی پا کر تیسرے نمبر پر آ گئے، ولیمسن ایک درجہ تنزلی کے بعد چوتھے نمبر پر چلے گئے، ہاشم آملہ کا پانچواں نمبر ہے، ڈی ویلیئرز، ڈیوڈ وارنر اور چیتشورپوجارا ایک، ایک سیڑھی چڑھ کر بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر آ گئے، انگلینڈ کے جونی بیئرسٹو تین درجے بہتری کے بعد نویں نمبر پر پہنچ گئے، یونس خان 4 درجے تنزلی کے بعد دسویں نمبر پر چلے گئے۔ مصباح الحق کا 14واں نمبر برقرار ہے، اظہرعلی ایک درجہ گر کر 17ویں نمبر پر چلے گئے، اسدشفیق کی 4 درجے تنزلی ہوئی ہے اور وہ 24ویں نمبر پر چلے گئے۔ باﺅلرز میں ایشون پہلے، ہیراتھ دوسرے، سٹین تیسرے، جیمز اینڈرسن چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جوش ہیزلووڈ 4 درجے ترقی کے ساتھ پانچویں نمبر پر پہنچ گئے، یاسرشاہ دو درجے گر کر نویں نمبر پر چلے گئے۔ نیوزی لینڈ کے نیل واگنر ترقی پاتے ہوئے پہلی بار ٹاپ ٹین میں شامل ہو گئے۔ آل راﺅنڈرز میں ایشون پہلے، شکیب الحسن دوسرے، بین سٹوکس تیسرے، جدیجہ چوتھے اور معین علی پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔

پروفیسر نے بڑا امتحان پاس کرلیا

دبئی(نیوزایجنسیاں)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستانی آل راو¿نڈر محمد حفیظ کے باو¿لنگ ایکشن کو قانونی قرار دے کر انھیں بین الاقوامی کرکٹ میں باو¿لنگ کی اجازت دے دی۔آئی سی سی کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’17 نومبر کو حفیظ کے باو¿لنگ ایکشن کا برسبین کے نیشنل کرکٹ سینٹر میں ٹیسٹ لیا گیا، جہاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ان کی کرائی گئی آف اسپن گیندوں میں کہنی کا زاویہ 15 ڈگری کے اندر تھا، جو آئی سی سی قواعد کے مطابق ہے’۔مزید کہا گیا کہ ‘امپائرز کو اب بھی اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ اگر وہ سمجھیں کہ حفیظ کا باو¿لنگ ایکشن مشکوک ہے، تو وہ اس کی رپورٹ کرسکتے ہیں، جبکہ امپائرز کی رہنمائی کے لیے انھیں محمد حفیظ کے تبدیل شدہ باو¿لنگ ایکشن کی تصاویر اور ویڈیوز بھی فراہم کی جائیں گی’۔باو¿لنگ ایکشن کلیئر ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمد حفیظ نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘پابندی کے دنوں میں وہ اپنی باو¿لنگ کو بہت مِس کرتے تھے، تاہم اب ان کی نظریں مستقبل پر مرکوز ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ قومی ٹیم کی جانب سے دوبارہ کھیلیں گے’۔واضح رہے کہ 50 ٹیسٹ، 177 ایک روزہ اور 77 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 36 سالہ محمد حفیظ کو 2014 سے باو¿لنگ ایکشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ایک سال میں دوسری بار ایکشن غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد ان پر جولائی 2015 میں انٹرنیشنل کرکٹ میں باو¿لنگ پر ایک سال کی پابندی لگادی گئی تھی۔کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ میں باو¿لنگ ایکشن کے ٹیسٹ سے قبل، محمد حفیظ کا ایکشن درست کرانے کے لیے باو¿لنگ کوچ کارل کرووے کی خدمات حاصل کیں، تاہم حفیظ نے فٹنس مسائل کے باعث ٹیسٹ نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔محمد حفیظ کو انجری اور فارم میں نہ ہونے کے باعث، ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں رواں ماہ نیوز لینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے بھی اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

بلاول بھٹو نے حکومت کیلئے نئی مشکل کھڑی کردی, ڈیڈ لائن جاری

لاہور (لیڈی رپورٹر) پےپلزپارٹی کے چےئر مےن بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ لگتا ہے نوازشرےف ہمارے 4مطالبات نہےں مانےں گے اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو پھر27دسمبر کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا‘27دسمبر دور نہیں ہے میں اپنی فورس تیار کررہا ہوں‘بلاول بھٹو سڑکوں پر نکلا تو پورا ملک سڑکوں پر آجائے گا سب مل کر تخت لاہورکی آمریت کو گرائیں گے اور انقلاب لائےں گے’شےر کو بلی بن کر بھاگنے نہےں دےں گے ‘مےں خر ےد ے ہوئے ججز ےا کنگرو کورٹس کے ذرےعے بلکہ ملک مےں جمہو ری عمل کے ذرےعے احتساب کی بات کر رہا ہوں ‘ےہ کےسا انصاف ہے‘ جس مےں بھٹو شہےد کو پھانسی ‘بے نظےر بھٹو کے قاتلوں غداروں کو آزادی ‘اکبر بگٹی کےلئے اےف16اور کالعدم تنظےموں کےلئے پر وٹوکول ہم اےسے انصاف کو نہےں مانتے ‘پانامہ لےکس کر پشن کا دنےا کاسب سے بڑ اسکےنڈ ل ہے حکمرانوں کو اس کا حساب دےنا ہی پڑ ےگا مگر انصاف کے ادارے اس پر پہلے بھی خاموش تھے اور اب بھی ہےں ‘ےوسف رضاگےلانی خط نہ لکھنے پرنااہل ہوئے مگر آج وزےر اعظم کے شاہی خاندان کو استثنیٰ کےوں دےا جا رہا ہے ‘ہمےں سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کےاجائے حکومت ہمارے 4مطالبات کو منظور کر لےں ‘2013کے انتخابات مےں اےک بکے ہوئے ججز اور دےگر لوگوں نے ہمےں پنجاب مےں دھاندلی سے ہرا ےا مگر2018مےں پےپلزپارٹی کامےاب ہو گی اور کسی کو دھاندلی نہےں کر نے دےں گے ‘ لاہور مےں نئی پےپلزپارٹی جنم لے رہی ہے‘ ملک مےں انقلاب ‘سوشل ‘اکنامک ‘بےوروکرےسی اور جوڈےشل رےفامز لےکر آئےں گے ےہ تمام جمہو ری او ر انقلابی رےفامز ضرور ہے جو وقت پر انصاف نہ دےا جائے وہ انصاف نہےں ہوتا ‘ہم پےپلزپارٹی کو بھٹو او ر بے نظےر بھٹو شہےد کے مشن کے مطابق لےکر چل رہے ہےں‘پیپلز پارٹی کشمیر،گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کی زنجیر ہے،ہم ضلعی سطح پر پارٹی کو منظم کریں گے،پارٹی کو نیا منشور دیں گے،ہم انٹرا پارٹی انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں،ایک نئی پیپلز پارٹی لاہور میں جنم لے رہی ہے ۔ وہ بدھ کے روز بلاول ہاﺅس لاہور مےں پےپلزپارٹی کے 49ےوم تاسےس کی تقرےب سے خطاب کر رہے تھے جبکہ اس موقعہ پر سابق وزر اءاعظم سےد ےوسف رضا گےلانی ‘راجہ پرو ےز اشرف ‘وزےر اعلی سےد مراد علی شاہ ‘اپوزےشن لےڈر سےد خورشےد شاہ ‘سابق وزےر اعلی سےد قائم علی شاہ ‘سےنےٹرز شےری رحمن ‘رحمن ملک ‘سعےد غنی ‘سندھ کے مشےر مولا بخش چانڈےو‘وزےر نثار کھوڑو ُپےپلزپارٹی کے صوبائی صدور مخدوم سےد احمد محمود ‘قمر الزمان کائرہ ‘جنرل سےکرٹری ندےم افضل چن ‘شعبہ خواتےن لاہور کی صدر فائزہ ملک سمےت پےپلزپارٹی کے چاروں صوبوں اور گلگت آزادکشمےر کے عہدےداروں سمےت ہزاروں کارکنان نے شر کت کی اس موقعہ پر بلاول بھٹو نے اپنے خطا ب کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے مےں لاہور سے پےار کر تاہوں اور آپ سب کو بلاول ہاﺅس لاہور مےں آنے پر خوش آمدےد کہتاہوں اس لاہور نے پےپلزپارٹی کو ہمشےہ بے نظےر محبت دی ہے 1970مےں لاہور نے بھٹو شہےد محبت دی اور 1986مےں مےری والدہ کو شاندار کو استقبال دےا ہے اس لےے بلاول بھٹو کے انقلاب کےلئے ہم نے لاہور کو چنا ہے آج ہم سب ملکر پارٹی کا 49ےوم تاسےس منا رہے ہےں لاہور جو داتا کی نگری اور پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے جو ترقی پسندوں کا شہر تھا جو پاکستان پےپلزپارٹی کی پےدائش کا شہر ہے اور جہا نگےر بدر بھی اسی لاہور کی پہچان ہے وہ آج ہم موجود نہےں مگر ہم سب کے دلوں مےں زندہ ہے وہ دلےری اور وفاداری کی اےک مثال تھے جو ہمےشہ ےاد رہےں گے مےں آج کا ےوم تاسےس جہا نگےر بدر کے نام کر تاہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کی شہےد ہونے کے بعد جب بے نظےر بھٹو لاہور آئی تو ان جےسا استقبال دنےا مےں کسی اور ملک مےں کسی کا نہےں دےکھا تھا لوگوں کو سمندر سٹر کوں پرتھا دنےا کی اور کون سے لےڈر ہے جس نے اتنی کم عمر مےں آمر ےت کا مقابلہ کےا وہ بھی روالپنڈی مےںدھر نہ دے دےتی تو پھر کےاہوتا ؟مگر بے نظےر بھٹو نے کسی چوک مےں دھر نہ دےا نہ کسی کا گالےاں دی اور نہ ہی کسی رےاستی ادارے پر حملہ کےاوہ سےاسی لےڈرہی نہےں وہ بے نظےر لےڈر تھےں جنہوں نے سےاسی مخالفےن کو ڈٹ کر مقابلہ کےا ہے ۔انہوں نے پاکستان پےپلزپارٹی آزاد کشمےر ‘گلگت اور چاروں صوبوں کی زنجےرہے ہر آمر ‘غاصب نے پےپلزپارٹی کو توڑنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام ہوئے مگر آج لاہور مےں نئی پےپلزپارٹی جنم لے رہی ہے پارٹی انتخابات تک کی جانب سے بڑھ رہے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب ‘سوشل ‘اکنامک ‘بےوروکرےسی اور جوڈےشل رےفامز لےکر آئےں گے ےہ تمام جمہو ری او ر انقلابی رےفامز ضرور ہے جو وقت پر انصاف نہ دےا جائے وہ انصاف نہےں ہوتا ےہ کےسا انصاف ہے بھٹو شہےد کےلئے پھانسی اور بے نظےر بھٹو شہےد کے قاتلوں کےلئے معافی ہے اور وزےر اعظم کے شاہی خاندان کےلئے معافی وزےر اعظم گےلانی کو اےک خط نہ لکھنے پرنااہلی ہوئی ہے اور آصف زداری 12سال کسی جرم کے بغےرجےل مےں رہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لےکس پر انصاف کے ادارے خاموش تھے اور ہے اکبر بگٹی کےلئے اےف16اور کالعدم تنظےموں اور اپنے بچوں کےلئے خصوصی پر وٹوکول ہم اےسے انصاف کو نہےں مانتے ۔ انہوں نے کہا کہ پےپلزپارٹی نے اس ملک کو آئےن دےا بڑے بڑے قانون دان دےئے ہےں ہم سب سے زےادہ آئےن وقانون کو کون جانتا ہے ہم تمام قانون دانوں ‘بار اےسوسی اےشن اور تمام طبقات سے ملکر ملک مےں جمہو ری رےفار مز لائےں گے ملک مےں آزاد خارجہ پالےسی سمےت تمام شعبوں مےں رےفامز لائےں گے بلاول آئےگا اور ملک مےں انقلاب لائےگا ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظےر بھٹو کے جےلوں مےں سندھ مےں تبدےلی لے آےا ہے اور مےں پارٹی مےں بھی تبدےلی لا رہے ہےںعوام مےرا ساتھ دےتے ہےں تو ہم سب ملکر ملک مےں جمہوری انقلاب لے آئےں گے ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لےگ اپنی ہٹ دھر می کی وجہ سے مےرے4مطالبات کو ابھی تک منظور نہےں کےا مےں نے کون سی اےسی ڈےمانڈ کی جو منظورنہےں ہوسکتی مےں اپنے لےے نہےں عوام ‘پار لےمنٹ ‘جمہو رےت کو مضبوط کر نے کی بات کر رہا ہے مےں خر ےد گئے ججز کے ذرےعے انصاف خر ےدنے اور کنگرو کورٹس کی بات نہےں بلکہ ملک مےں جمہو ری احتساب کی بات کر رہوں ۔انہوں نے کہا کہ اگلے الےکشن مےں ملک مےں کسی صورت دھاندلی نہےں ہونے دوں گا اور2018کے انتخابات مےں پےپلزپارٹی جےتے گی سندھ کو جوان وزےر اعلی دےاہے اور بھٹو شہےد کی پارٹی مےں نوجوانوں کو لےکر آےا ہوں۔انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کشمیر،گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کی زنجیر ہے،ہم ضلعی سطح پر پارٹی کو منظم کریں گے،پارٹی کو نیا منشور دیں گے،ہم انٹرا پارٹی انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں،ایک نئی پیپلز پارٹی لاہور میں جنم لے رہی ہے،یہ کیسا انصاف ہے ذوالفقار بھٹو کیلئے پھانسی،بے نظیر کو شہید کردیا جاتا ہے جبکہ دہشتگرد آزاد ہیں،ہم انصاف اور جمہوری اصلاحات کیلئے جدو جہد کریں گے۔

سی پیک منصوبہ, وزیراعظم کا تمام صوبوں کیلئے اہم اعلان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں اجلاس منعقد کیا گیا۔وزیرا عظم ہاﺅس کے اعلامیہ کے مطابق میاں نواز شریف کی زیر صدارت اقتصادی راہداری منصوبے پر ہونے والی پیش رفت اور ترقی کی رفتار کا جائزہ لینے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میںگوادر پورٹ کی ترقی اور گوادر میں دیگر منصوبوں کے قیام، توانائی ، ٹرانسپورٹ ، انفراسٹرکچر اور صنعتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 2روپے 60پیسے فی یونٹ کمی کر دی اجلاس میں شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ 2013ئ میں جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو اس وقت ملکی معیشت ابتر تھی مگر پھر چینی حکومت نے اس کڑے وقت میں معاشی بحالی کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کیا جس پر حکومت اور پاکستانی عوام چینی حکام کے شکر گزار ہیں۔” چین کے دوراندیش حکمرانوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے ہماری مدد کی “۔ وزیرا عظم نے 2013ئ کے دوران اپنے دورہ چین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے دونوںممالک کے مابین نہ صرف معاشی تعاون کو فروغ ملا بلکہ دوطرفہ تعلقات بھی مضبوط ہوئے ، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے پاکستان نے اقتصادی ترقی کا آغاز کیا جو اب دنیا اور خطے کے ممالک کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے اور اس سے سیکیورٹی کے حوالے سے منفی سوچ کوپاکستان کیلئے مثبت اقتصادی پیرائے میں تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کی چھتری تلے منصوبوں پر کامیابی سے عملدرآمد پاک چین لازوال دوستی کا برملا اظہار ہے اور یہ منصوبہ پاکستان میں مزید بیرونی سرمایہ کاری کا عکاس ہے اورا س میگا پراجیکٹ کے کامیابی کو دیکھ کر بین الاقوامی سرمایہ کارپاکستان میں سرمایہ کاری پر مجبور ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں سمیت کوئلے ، ہائیڈل ، ہوا ، سورج ، ایل این جی اور ٹرانسمیشن لائنز پر کام جاری ہے۔ اجلاس کے شرکائ نے سی پیک کے تحت جاری ہر منصوبے کی مدت ، شفافیت ، لاگت ، انفراسٹرکچر منصوبوں جن میں سڑکیں ، ریل ، ایوی ایشن اور ڈیٹا کنیکٹیوٹی کے بارے میں بتایا گیا اور اس دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان منصوبوں کو 2017ئ کے احتتام یا 2018ئ کے آغاز تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس دوران وزیرا عظم نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبے کے ثمرات سے کسی صوبے کو محروم نہیں رکھا جائے گا۔ اجلا س میں گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے ، نیوگوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ ، صاف پانی کے منصوبوں ، سپلائی اور ترسیل ، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ ، پاک چین دوستی ہسپتال ، فری زون کی ترقی اور گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان پر بھی غور کیا گیا اور زور دیا گیا کہ صنعتوں کو فوائد دیتے وقت مقامی آبادی کو ترجیخ دی جائے گی۔ اجلاس کے شرکائ کو سی پیک منصوبوں میں کام کرنے والے چینی مزدوروں کی سیکیورٹی اور تحفظ کے بارے میں اقدامات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کی تکمیل کیلئے ہماری انتھک کاوشوں سے پاکستان کا معاشی اور اقتصادی نقشہ تبدیل ہوجائے گا جہاں کسی کو فوائد کے حصول میں محروم نہیں رکھا جائے گا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ رواں سال سڑکوں کیلئے334ارب مختص کیے گئے ہیں،ملک کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کو بڑے شہروں سے ملایا جارہا ہے،ان اقدامات سے روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے،روڈ نیٹ ورک کی مضبوطی سے باہمی روابط اور قومی اتحاد کو فروغ ملے گا،سڑکوں کی بدولت صوبوں کے درمیان بھی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔وہ بدھ کو شاہراہوں کی تعمیر کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ بہترروڈ نیٹ ورک کی بدولت شرح نمو میں ایک سے ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوگا۔اجلاس میں چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی شاہد اشرف تارڑ نے اجلاس کو گوجرہ ،شورکوٹ،خانیوال موٹروے،لاہور عبدالحکیم،ملتان،سکھر اور لاہور،سیالکوٹ موٹروے پر بریفنگ دی اور بتایا کہ تاریخ میں پہلی بار ہزار ارب روپے سڑکوں کے نیٹ ورک پر خرچ کیے گئے ہیں،اعلیٰ معیار کا روڈ نیٹ ورک تشکیل دیا جارہا ہے،سڑکوں کی تعمیر میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ گوادر پورٹ سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کیلئے تمام وسائل فراہم کریں گے۔وزیر اعظم نواز شریف سے وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ میرحاصل بزنجو نے وزیراعظم ہاو¿س میں ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان حکومت کے معاملات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ میر حاصل بزنجو نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ گوادر سے بلوچستان کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کیلئے تمام وسائل فراہم کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کا وزیراعظم بارے اہم اعلان, ن لیگ میں کھلبلی

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کی جانب سے کیس میں اخباری خبروں کو لانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ کے موکل کے بارے انگریزی اخباروں میں جو 30 سال تک چھپتا رہا کیا اسے مان لیں ؟اخباری خبروں پر فیصلہ سنایا تو آپ کے موکل کےلئے بھی پریشانی ہو سکتی ہے ¾ یونہی زور نہ لگائیں اور کچی دیواروں پر پیر نہ جمائیں، ہم سیاسی بیانات کا جائزہ نہیں لے سکتے ¾آپ سونے میں کھوٹ کیوں ڈال رہے ہیں؟آپ کو 2006ءسے پہلے شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کی ملکیت ثابت کرنا ہو گی؟۔ اگر یہ ثابت ہوجائے تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہوگا۔ بدھ کو یہاں وزیراعظم نوازشریف¾ ان کے بچوں کےخلاف منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری کے الزامات اور پاناما لیکس میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور مسلم لیگ (ن) کے وزراءبھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت میں پی ٹی آئی کی نمائندگی نعیم بخاری اور بابر اعوان نے کی جبکہ وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ اور ان کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ بھی عدالت میں موجود تھے۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے کا این ٹی این ہی نہیں ہے۔ مریم نواز وزیر اعظم کی زیرکفالت ہیں اور وہ لندن فلیٹس کی بینی فشل اونر ہیں ¾وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں پیش کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہاکہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے مو¿قف سے مختلف ہے ¾نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے۔ نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا۔ نیب چیئرمین کےخلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے ¾اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آ چکا ہے ۔پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ رقوم کی منتقلی کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں ¾وزیر اعظم کے بیانات کے بعد وہ صادق اور امین نہیں رہے،وزیر اعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور دبئی میں کاروبار کےلئے رقم موجود نہیں تھی ¾وزیر اعظم نہ ایماندار اور نہ ہی سچ بولنے والے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بیان حلفی اور معاہدے کے دستخط میں تضاد ہے ¾ یہ نہیں کہنا چاہتا کہ طارق شفیع کے دستخط شہباز شریف نے کئے۔ جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ 12 ملین درہم کی رقم طارق شفیع نے قطر کیسے منتقل کی؟ رقم انہیں ملنے کی دستاویزات موجود نہیںجس پر وکیل اکرم شیخ نے جواب دیا کہ وہ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل ہیں۔ طارق شفیع کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پانامہ لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جمع کرائے گئے ضمنی جواب اور تقاریرمیں تضاد ہے جب کہ 2006سے پہلے آف شورکمپنیوں کی ملکیت ثابت ہوگئی تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہو گا۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ حامد خان نے قانون پر کتابیں لکھی ہیں اور وہ ایک سینئر وکیل ہیں ان پر ایسی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میڈیا کو ان کے حوالے سے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس کیس کی پانچ سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں اور اس میں مزید ٹائم ضائع کرنے کی بجائے کوئی رزلٹ نکالا جائے اور کمیشن مقرر کیا جائے عوام اس کیس کے حوالے سے جلد کوئی رزلٹ دیکھنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بنچ پر مکمل اعتماد ہے۔ گزشتہ سماعت پر جو الفاظ کا تبادلہ ہوا اس پر جسٹس عظمت سعید سے معافی مانگتا ہوں اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بخاری صاحب آپ اپنے کیس پر توجہ دیں خوشامد نہ کریں ۔ نعیم بخاری کا اپنے دلائل میںکہا کہ ریکارڈ سے ثابت کروں گا کہ وزیراعظم نے غلط بیانی کی اورٹیکس چوری کے مرتکب ہوئے، وزیراعظم نے 13 اپریل 2016 کو قوم سے خطاب کیا اور قوم سے جھوٹ بولا، دوسرے خطاب میں بھی وزیراعظم نے سچ نہیں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بیٹے سے پیسے لئے جب کہ وزیراعظم کے صاحبزادے کا این ٹی این نمبرہی نہیں ہے، مریم نواز وزیراعظم کی زیرکفالت ہیں اورلندن فلیٹس کی بینیفیشل آنر ہیں، وزیراعظم کو یہ بات گوشواروں میں ظاہرکرنا چاہیے تھی جبکہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے بالکل مختلف ہے۔نعیم بخاری نے کہا کہ نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے، نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا جس پر نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا، جس پر جسٹس عظمیت سعید شیخ نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آ چکا ہے۔ نعیم بخاری نے مو¿قف اختیار کیا کہ وزیراعظم نے اپریل 1980 میں 33 ملین درہم میں فیکٹری فروخت کرنے کا بتایا، دبئی میں فیکٹری کب بنائی گئی وزیراعظم نے اپنے بیان میں نہیں بتایا جب کہ دبئی حکومت کے خط پرکوئی دستخط بھی نہیں ہیں، شیئرز کی فروخت کا معاملہ وزیراعظم کی ذہنی اختراع ہے۔

اختیار اور نصیب کی بحث

متیاز احمد بٹ پلکوں تلے چراغ
ایک بزرگ شخصیت سے مکالمہ ہوا۔ فرمایا ”ذروں سے ستاروں تک، کائنات کی وسعتوںکا احاطہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک ہی ہستی کارفرما ہے جو خالق کائنات ہے، انسان اسی کائنات کا ایک جزو ہے، انبیاءؑ،ان کے آباﺅ اجداد اور ان کی اولادیں، برگزیدہ ہستیاں تو استثنیات ہیں۔ تقدیر، اختیاراور حاصل کی بحث تو عام انسانوں سے منسوب ہے، عقل و شعور، فکر و نظر اور علم و فضل انسانی زندگی کی تشکیل کے اعلیٰ اوصاف ہیںتاہم کامیابی و ناکامی، حاصل و لاحاصل کی بحث موجودہ انسانی زندگی میں سب سے بڑا موضوع ہے“۔ زندگی کے اسرار و رموز پر گویا ہوئے ”آج ہر شخص بہتر سے بہترین کی تلاش میں ہے۔ اپنی ذات،شکل و صورت اور مقام و مرتبہ کو ایک طرف رکھ کر اپنے سے بہتر افراد کی جگہ لینے کےلئے کوشاں ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔کامیابی، شہرت، عزت، دولت اور طاقت کا حصول اس کائنات میں بسنے والے کسی شخص کے تابع نہیں اور نہ ہی کسی کی میراث ہے۔“
ذرا توقف سے خاموشی ٹوٹی تو فرمایا ”میں،آپ یا اس دنیا پر بسنے والے دیگر افراد، کوئی ایک شخص بھی اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوا۔ ایک انسان کی اس دنیا میں آمد سے قبل اسے یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ پیدا ہونا بھی چاہتا ہے یا نہیں؟وہ کسی بادشاہ کے محل میں پیدا ہو یا کسی فقیر کی جھونپڑی میں،کسی ملک کی کون سی جگہ اس کی جنم بھومی قرار پائے، اس کا رنگ کیسا ہو، اس کے حسب ونسب، نسل و زبان کیا ہوں؟ گویا آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان کی زندگی کے سب سے اہم مرحلے کا اختیار اس کے پاس نہیں جوکہ اس کی آمدہ زندگی کی عمارت کی پہلی بنیاد ہے، انسان کی پیدائش کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔یوں کہیے کہ انسان کی کامیابی اور ناکامی کےلئے زندگی کے بنیادی پچیس فیصد اختیارات آپ کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔پیدائش کے بعد دوسرا اہم ترین مرحلہ ”پرورش“ قرار پاتا ہے،پرورش میں انسان کے والدین، گھرانا، عزیز و اقارب، ماحول معاشرہ، رہن سہن، زبان اور تعلیمی ادارے،علاقہ اور ملک مرکزی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کی اپنی پرورش میں اس کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والے بچے کی پرورش اسی ماحول کے مطابق ہوگی اور مالی طور پر مضبوط گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ ایک الگ ماحول میں پرورش پائے گا۔تھر میں پیدا ہونے والے بچے اور کراچی، لاہور، اسلام آباد کے پوش علاقوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی پرورش میں کوئی مطابقت نہیں۔ انتہائی سادہ زبان میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ سر شاہنواز بھٹو کی پوتی بےنظیربھٹو کے گھر پیدا ہونے والے بلاول کی پرورش کا سندھ میں کسی بھی دوسرے خاندان میں پیدا ہونے والے بچے سے کوئی موازنہ نہیں، بلاول کے مقدر میں جس پس منظر کا حوالہ ہے وہ خود اس کے اختیار میں نہیں تھا۔گویا ”پرورش“ بھی ”پیدائش“ کے فیصلوں سے جڑی ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان پرورش کے معاملہ میں بھی پیدائش کی طرح مکمل بے اختیار ہے۔“
پھر بولے ”انسان اپنی زندگی کا پچاس فیصد حصہ بے اختیاری میں مکمل کر کے اپنی کامیابی کےلئے مواقع تلاش کرتا ہے۔انسانی زندگی میں مواقع تلاش کرنا اس کے اختیار میں ہے مگر مواقع میسر آنا اس کے اختیار میں نہیں۔جب آپ ابتدائی بے اختیاری کے باعث اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے، مثبت ماحول میں پرورش نہیں پاسکتے تو کامیابی کے مواقع بھی مسدود ہو جاتے ہیں جبکہ اعلیٰ خاندان میں آنکھ کھولنے اور پرورش پاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے کےلئے وسیع تر مواقع موجود ہوتے ہیں مگر ان مواقع کے حصول کےلئے کسی دوسرے انسان پرانحصار کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات ایک جیسے ماحول، معاشرے اور اداروں سے تربیت پانے والوں کی منزل میں طول و عرض کا فرق ہوتا ہے۔ در‘در کی ٹھوکریں کھانے والے کامیابیوں کی اوج ثریا پر پہنچ جاتے ہیں اور مطلق العنان حکمرانوں کی اولادیں گوشہ گمنامی میں مقید ہو کر رہ جاتی ہیں، چائے کے سٹال پر کام کرنے والا نریندر مودی ہندوستان کا وزیراعظم، بڑھئی کا بیٹا بل گیٹس دنیا کا سب سے امیر ترین شخص، یونیورسٹی کا غریب ترین طالب علم مارک زکربرگ فیس بک کا بانی بن کر دنیا کامتمول شخص بن جاتا ہے اور نسل در نسل حکمرانی کرنے والے بہادر شاہ ظفر، شاہ افغانستان، شاہ ایران، عراق کے صدام حسین، مصر کے حسنی مبارک، لیبیا کے کرنل معمر قذافی کے چشم و چراغ آج کہاں ہیں کوئی جانتا بھی نہیں۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ کامیابی کے مواقع کا حصول اور ان سے محرومی بھی انسان کے اختیار میں نہیں۔انسان اپنی زندگی میں 75فیصد بے اختیاری کے بعد کامیابی اور کامرانی کےلئے محنت کو اپنا وسیلہ بنا لیتا ہے، محنت کے بل بوتے پر چھوٹی چھوٹی خوشیاں حاصل کرتا ہے پھراس کرہ ارض پرپھیلے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں فتح کے جھنڈے لہرانے کےلئے سرپٹ محنت کے گھوڑے دوڑاتا چلا جاتا ہے۔ “
” محنت کو انسانی زندگی میں کہاں رکھتے ہیں؟“ اس سوال پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا ”بیٹا! زمین کھودتے ہیں،بیج بوتے ہیں، پانی ڈالتے ہیں، پھل لگتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کہیں اور ہونا ہے پھر بتائیں محنت کا عمل دخل کتنا ہے۔چلیں محنت کا پھل مل بھی گیا، کامیابی آپ کا مقدر ٹھہری، کتنے دن کتنے سال؟تخلیق انسان کی طرح یہ بھی نہیں معلوم کہ کب تکمیل ہستی ہے۔حیرت الہ آبادی نے زندگی کو کیا خوب عبارت کیا کہ ”سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں“ انسانی زندگی کے لطیف ترین احساسات و جذبات کی تشکیل میں تہہ در تہہ تشکیک کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔بہتر سے بہتر اور سازگار حالات کےلئے محنت، کوشش یعنی عمل کا تسلسل مثبت نتیجہ کا حامل ہوتا ہے۔یہ چاند ستاروں، سیاروں سے مزین آسمان کی وسعتیں، بادلوں کی اوٹ سے برستی بارش، زمین کی کوکھ سے ابلتے چشمے، غرض کائنات میں بے مثال توازن کس کے سبب ہے؟ذرہ غور فرمائیں، اوّل و آخر ایک ہی ہستی کارفرما ہے، انسانی زندگی ہی نہیں کائنات کا ذرہ ذرہ اسی ایک ہستی کا معجزہ ہے۔ حاصل کلام یوں ہے کہ انسان کی تخلیق اور مابعد زندگی کے درجات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عنایات کا نتیجہ ہےں۔ پس! انسانی زندگی اس کل کائنات کا ایک جزو ہے۔ یہ سب کا سب میرے رب کی عطا ہے۔“٭٭

کمانڈ کی تبدیلی اور سیاست

اعظم ملک….اسمِ اعظم
جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی چیف کی حیثیت سے پاک فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچ رجمنٹ کے ذریعہ 1980ءمیں کمیشنڈ حاصل کیا۔ وہ کینڈین فورس کمانڈ اینڈ سٹاف کالج ٹورانٹو سے گریجوایٹ ہیں۔ اُنہوں نے بحیثیت کو ر کمانڈر روالپنڈی اور انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلوشن جی ایچ کیو خدمات سر انجام دیں۔جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی تاریخ ساز باب ماضی کا شاندار حصہ بن گیا۔ بلاشبہ جنرل (ر) راحیل شریف کی خدمات کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ اُنہوں نے پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا، دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے ساتھ ساتھ بحیثیت ادارہ فو ج کے وقار کو مزید بلند کیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے شاندار ریکارڈ اور پیشہ ور سپاہی ہونے کی بدولت دشمن ملک کے سابق آرمی چیف کا بیان اُن کی صلاحیتوں کا کھلا اعتراف ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا پیشہ وارانہ کیریئر اور دورانِ دھرنا جمہوریت کو چلتے رہنے کے حق میں ووٹ شاید اُن کی نامزدگی کی وجہ بنی۔اُن کی تقرری کے ساتھ ہی اُن کےخلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم شدید قابل مذمت ہے جس کےخلاف فوری سخت ایکشن لینا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کے اداروں یا اُن کے سربراہوں کےخلاف زہریلا پراپیگنڈا کرنے والوں کو لگا م ڈالنا بہت ضروری ہے۔ میں اس معاملے پر قومی سلامتی کے اداروں کی پالیسی سے متفق نہیں ہوں۔ پنجابی محاورہ ہے کہ © ” ٹوٹے چھتر دی طرح وھددا چلا جائے“ کے مترادف نہیں ہونا چاہیے۔
قومی سلامتی کے اداروں کو ان لوگوں کےخلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کرنے چاہئیں، ساتھ ساتھ اُن کی پرائم منسٹر ہاﺅس میں آمد کو جس انداز سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں پیش کیا جا رہا ہے وہ بھی کوئی قابل ستائش بات نہیں۔ یو ں معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ جنرل راحیل شریف اور حکومت کے درمیان نہیں تھا بلکہ سول و ملٹری تعلقات کا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پارلیمانی نظام میں ملک کا چیف ایگزیکٹو وزیر اعظم ہوتا ہے اور آئین و قانون کی رو سے تمام ادارے اُن کے جوابدہ ہیںلیکن مخصوص زاویوں سے الیکٹرانک میڈیا میں ٹاک شوز کروا کر حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ انگریزی میں محاورہ ہے:(You Need Power, Only when you want do something Harmful, Otherwise Love is Enough to get everythihng done.) ”آپ کو طاقت اُس وقت چاہیے جب آپ کسی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ورنہ محبت کافی ہے ہر کام کرنے کےلئے۔“
بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیوں حکومت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اُس نے آتے ہی آرمی چیف کو پروٹوکول کا پابند کر دیا ہے۔ نواز حکومت ہمیشہ ملٹری اسٹےبلشمنٹ سے خوف کا شکارنظر آتی ہے۔ اپنے اسی عدم تحفظ کے احساس کے سبب وہ غلط اقدامات لے کر سول و ملٹری تعلقات میں تلخی پیدا کر کے غیر جمہوری قوتوں کو شہ دینے کا باعث بنتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے 2018ءکے الیکشن تک اپنی حکمت عملی کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ آئندہ الیکشن مہم میں محترمہ مریم نواز شریف کو بطور اگلے پارلیمانی لیڈر کے طور پر میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پانامہ لیکس کو سپریم کورٹ میں فروری تک لمبا کر کے لے جانے کا پروگرام ہے۔ مسلم لیگ (ن) پہلی جنور ی سے Rising Pakistanکے نام سے موجودہ حکومت کی چار سالہ کارکردگی کو عوام میں پیش کرنے کی مہم شروع کر رہی ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کو مکمل کرنے کےلئے نواز شریف نے چےئرمین واپڈا کو اپریل تک کا ٹائم فریم دیا ہے۔ انکار پر اُس سے استعفیٰ لے کر جنرل مزمل کو یہ ٹاسک سونپا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ جون 2017ءتک بجلی کے منصوبوں کو مکمل کر کے اکتوبر نومبر میں چھ ماہ پہلے الیکشن کے اعلان کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کو قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلا شبہ یہ نہایت عمدہ سیاسی چال ہے جس سے پیپلز پارٹی کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ بلاول بھٹو جب بطور اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریںگے توتحریک انصاف کو ٹف ٹائم ملنے کا امکان ہے۔ عمران خان کی اسمبلیوں میں عدم دلچسپی بھی بلاول بھٹو کو فائدہ پہنچائے گی۔ مسلم لیگ کےلئے یہ بات باعث پریشانی نہیں کیونکہ پیپلز پارٹی بنیادی طور پر غریبوں کی پارٹی کہلاتی ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو پاکستان کے غریب طبقے کے ساتھ ساتھ یوتھ کو بھی ٹارگٹ کریں گے جس سے تحریک انصاف کو اپنا ووٹ بینک قائم رکھنے کےلئے فعال اپوزیشن کا کردار جاری رکھنا ہوگا۔مسلم لیگ کا ووٹ بینک تاجر برادری، زمیندار، اور متوسط طبقہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے اندرونِ خانہ 30 سیٹوں کا ہدف مقرر کیا ہے جس کےلئے بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض کی طرف سے ہر اُمیدوار کو الیکشن جیتنے کےلئے فنڈز دیئے جانے کی سینہ گزٹ خبریں زوروں پر ہیں۔ بلاول بھٹو نے بحریہ ٹاﺅن کے مالک کی طرف سے دیئے گئے تحفے بلاول ہاﺅس لاہور میں ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ وہ گراس روٹ سے لے کر لیڈر شپ تک معاملات کو بہتر بنانے کےلئے سر گرم عمل ہے اس تمام سیاسی صورتحال سے نمٹنے کےلئے تحریک انصاف کو سیاسی بصیرت کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔ عمران خان کو بیک وقت پانامہ کیس، انتخابات کی تیاری اور اصل اپوزیشن کی حیثیت برقرار رکھنے کے چیلنجز درپیش ہیں جس کےلئے اُن کو تجربہ کار ٹیم کی ضرورت ہے جو مختلف محاذوں پر ڈیوٹی سرانجام دے۔ شاہ محمود قریشی، چودھری سرور، عبدالعلیم خان، رائے عزیز، اسد عمر، خورشید قصوری، اعجاز چودھری موزوں شخصیات ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا آصف زرداری کی مبارکباد کا ٹیلی فون سننا واضح اشارہ ہے کہ ہر آرمی چیف کا معاملات کو دیکھنے کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔ آصف زرداری نے سیاسی شطرنج کے ماہر کھلاڑی ہونے کی حیثیت سے تھر ما میٹر لگا کر درجہ حرارت معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آصف زرداری، سید مراد علی شاہ کے ٹیلی فون فوج کےلئے پیغام تھا کہ فون بحیثیت ادارے کے اُن کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہے اور وہ مستقبل میں اُن سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گردی کےخلاف پالیسی کے علاوہ باقی معاملات میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن پچھلے چوبیس گھنٹے میں واضح ہو چکا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے ”ویژن ©©“ کے ساتھ کمانڈ کریں گے۔٭٭

سرائیکی کالا باغ ڈیم کے مخالف نہیں!

حمید اصغر شاہین….بحث و نظر
مورخہ 28نومبر 2016ءکو وزیر عباس سنگوال کا کالم شائع ہوا جس میں انہوں نے جھوٹ لکھا ہے کہ سرائیکی کالا باغ ڈیم کے مخالف ہیں۔ کون کہتا ہے کہ سرائیکی کالا باغ ڈیم کے مخالف ہیں؟ کالا باغ ڈیم تو سرائیکی قوم کےلئے زندگی موت کا مسئلہ ہے، میں ہر فورم پر اپنی جماعت سرائیکستان قومی موومنٹ کی طرف سے کالا باغ ڈیم کا مقدمہ لڑتا آ رہا ہوں، کالا باغ ڈیم اگر پختونخوا میں ہوتا یا پنجاب میں ہوتا تو کب کا بن گیا ہوتا کہ اس کے بدلے انہوں نے رائلٹی اور فوائد حاصل کرنے تھے۔ کالا باغ ڈیم کو متنازعہ جنرل ضیاءکی شہ پر اس کے گورنر جنرل فضل الحق نے بنایا اور صوبہ سرحد کے گورنر نے ولی خان کو جا کر کہا کہ تم یہ بیان دو کہ کالا باغ ڈیم بنا تو ہم بم سے اُڑا دیں گے، اگر ڈیم اتنے ہی برے ہیں تو پٹھانوںنے تربیلا ڈیم کوکیوںنہیں اڑایا، یہ ساری سیاسی ڈرامے بازی ہے اور پنجاب صرف اوپر سے نام لیتا ہے اندر خانہ پنجاب بھی کالا باغ ڈیم کا مخالف ہے کہ کالا باغ ڈیم سرائیکی خطے میں آتا ہے، اگر یہ میانوالی کی بجائے گجرانوالہ یا سیالکوٹ میں بننا ہوتا تو کب کا بن گیا ہوتا۔ سرائیکی صوبے کی شکل میں اس کی کمانڈ سرائیکی صوبے کے حصے میں آئے گی اور اس کا سب سے بڑا فائدہ میانوالی، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور دوسرے سرائیکی اضلاع کو ہوگا اور بجلی کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا، مگر اسے سیاست کی نذر کر دیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سرائیکی کی آواز بلند کرنے والا کوئی نہیں۔
یہ سب جاگیر دار انگریز اور اس کی معنوی اولاد کے پالے ہوئے ہیں، ان کی کوٹھیاں بنگلے سب کچھ لاہور میں ہیں، ان کا اٹھنا بیٹھنا، ان کی سوچ فکر اور ان کی سیاست اور ان کا سیاسی قبلہ سب کچھ لاہور ہے، میں آپ کو صاف بتانا چاہتا ہوں کہ چوری کا ہر کھرا گھوم پھر کر لاہور کی طرف جاتا ہے، ظلم بھی لاہور کر رہا ہے اور طعنے بھی لاہور کی طرف سے مل رہے ہیں۔ جو بھی سرائیکستان کی بات کرے اس کو ”را“ کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے، کوئی عورت بات کرے تو اسے دھریجی کا طعنہ ملتا ہے، ظہور دھریجہ کےخلاف بھی صبح شام غلیظ مہم شروع ہے جس کی میں سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ کبھی مشرف فاﺅنڈیشن والے صوبے کےخلاف لکھتے ہیں کبھی سرائیکی صوبہ تحریک یا فتنہ کے عنوان سے کالم لکھے جاتے ہیں، کبھی سرائیکی تحریک اور بھارتی عزائم کا نام دیا جاتا ہے، ان لکھنے والوں کو شرم نہیں آتی کہ وہ جھوٹ بول کر محروموں کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس خطے میں بھی سندھ جیسے حالات پیدا ہوں، مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا ہوں، لسانی فسادات ہوں، حکمرانوں کا بھی ایجنڈا سرائیکی خطے کو بلڈوز کرنا ہے، خطے میں آباد کاریاں ہو رہیں، زمینیں چھینی جا رہی ہیں، اب چپڑاسی بھی اپر پنجاب سے بھرتی ہو کر آ رہے ہیں۔ کسی ادارے، کسی محکمے میں سرائیکی لوگوںکو نہیں آنے دیا جا رہا، پانی کا حصہ نہیں مل رہا، ارساءمیں نمائندگی نہیں مل رہی، سندھ کو ڈبل نمائندگی ملی ہوئی ہے حالانکہ سرائیکستان پاکستان کا دل ہے، پاکستان کے عین درمیان میں ہے، دل کو زخمی کر دیا جائے گا تو پھر جسم کا کیا بنے گا؟ یہ کوئی نہیں سوچ رہا، آنے والے سخت اور مشکل حالات کا کوئی ادراک نہیں کر رہا۔ چائنہ راہداری کی شکل میں نئی مخلوق، نئے لوگ، نئے چہرے، نئے تاجر اور نئے صنعتکار پاکستان میں آنے والے ہیں، خطے کا پورا منظر نامہ تبدیل ہونے والا ہے، نئی کہانی اور نیا کھیل شروع ہونے والا ہے۔ہمارے بے بصیرت حکمرانوںکو کسی بات کا کوئی ادراک نہیں، وہ صرف لوٹ مار میں بد مست ہیں، غیر ملکی بینک بھرے جا رہے ہیں، غریبوں کا خون نچوڑا جا رہا ہے، سب سے زیادہ مشکل میں سرائیکی خطہ اور اس کے لوگ ہیں، آج سرائیکی خطے کا نوجوان یہ سوال کر رہا ہے کہ سب کچھ سرائیکی خطہ دے رہا ہے اس کے بدلے اس کو کیا مل رہا ہے؟ سرائیکی خطے کو اس کی پیداوار کا کیا معاوضہ مل رہا ہے؟
جناب ضیاشاہدصاحب! آخر میں یہ کہوں گا کہ مورخہ 29نومبر 2016ءکو شائع ہونے والے کالم میں رازش لیاقت پوری نے جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی ہے ‘ ہم جنوبی پنجاب کو نہیں مانتے، اپنی شناخت کی بات کرتے ہیں، جنوبی پنجاب کا لفظ گالی ہے۔ دوسری تمام قوموں کی اور تمام صوبوں کی اپنی اپنی شناخت ہو اور ہم اپنی شناخت غاصبوں کے نام سے موسوم کریں، یہ ہماری غیرت کو گوارہ نہیں۔ قوموں کے وطن ہوتے ہیں، ان کی پہچان،تاریخ، جغرافیہ،اقداراوران کی زبان ہوتی ہے، ایسے ہی جو اٹھتا ہے اپنے اپنے نام دے دیتا ہے تو اس کا کسی کو حق حاصل نہیں۔ کچھ لوگ منافقت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پنجابی، بلوچی، سندھی، سرائیکی، یہ جھوٹ کہتے ہیں۔ انسان کی ایک زبان ہوتی ہے، باقی سب زبانوں کا احترام اس پر لازم ہے۔کہا جا رہا ہے کہ چودھری منیر، چودھری سعود مجید، چودھری وحید ارائیں اور چودھری طارق چیمہ وغیرہ بھی سرائیکستان کے گورنر اور وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جو دھرتی کا وفادار نہ ہو، جیسے جاگیردار، لغاری، مزاری، کھوسے، دریشک اور چاہے میری اپنی سیہڑ برادری کے سردار بھی ہوں، اگر وہ دھرتی کے وفادار نہیں، خطے اور اس کی شناخت کی بات نہیں کرتے تو ان کو بھی گورنر اور وزیراعلیٰ نہیں بننا چاہئے اور جن آبادکاروں کے دل تخت لاہور کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو سرائیکستان پر قابض قوتوں کی چمچہ گیری اور خوشامد میں جاگیرداروں سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں، ایسے چاپلوس آبادکاروں کو بھی سرائیکستان کا گورنر تو کیا چپڑاسی بننے کا حق حاصل نہیں۔ سب چیز وسیب میں میرٹ پر ہونی چاہئے۔ ماں دھرتی کے وسائل کا حقدار وہی ہے جو اس کا حق دارہو۔ جو ماں دھرتی کی توہین کرے، ماں بولی کی توہین کرے، اس کی شناخت کی توہین کرے اور اس کے صوبے کی توہین کرے، پھر اسے چاہئے کہ وہ وہاں جا بسے جسے وہ پسند کرتا ہے۔ میری یہ باتیں کڑوی ضرور ہیں لیکن میرے یہ خیالات لوگوں تک پہنچنے چاہئیں کہ میں غداری کے الزام سنتے سنتے تھک چکا ہوں۔ ٭٭