All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

درگاہ شاہ نورانی میں دھماکا….25 افراد جاں بحق متعد زخمی

حب( نیوزڈیسک) حب میں درگاہ شاہ نورانی کے احاطے میں دھماکا اس وقت ہوا جب زائرین دھمال ڈال رہے تھے اور لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس دوران اچانک زور دھماکا ہوا اور ہر طرف کہرام مچ گیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکے میں 25 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور امدای ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں ہیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاہم ایمبولینسز کی کمی وجہ سے زخمیوں کو منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم امدادی ٹیمیں کراچی سے بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔ حب میں موبائل فون سگنل نہ ہونے کیوجہ سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ تاحال دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے درگاہ شاہ نورانی میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات و علاج معالجہ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا یہ لوگ مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں یہ ہمارے خون کے پیاسے ہیں ہمیں دہشت گردوں کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہے۔

سندھ کے نئے گورنر …. حکم نامہ جاری

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ کے نئے گورنر جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی نے سیکیورٹی اسٹاف کم کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔گورنر سندھ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی گورنر ہاوس پہنچے اور پہلا حکم صادر کرتے ہوئے اپنا سیکورٹی اسٹاف نصف کرنے کی ہدایات جاری کر دیں ، نئے گورنر نے اپنے اسٹاف کو ہدایت دی ہے کہ پرٹوکول اسٹاف بھی کم کیا جائے اور سڑکوں پر انکے لئے ٹریفک نہ روکی جائے، گورنر سندھ نے کہا شہریوں کو انکے آنے جانے سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔

سینئر سیاستدان کا ایک بار پھرمسلم لیگ ن میں شمولیت کا عندیہ

ملتان (ویب ڈیسک) سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک بار پھر مسلم لیگ میں شمولیت کا عندیہ دے دیا۔مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر مسلم لیگی ہو جانا چاہوں تو کون روک سکتا ہے ، ابھی تک فیصلہ نہیں کیا لیکن بہت جلد مسلم لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کرونگا۔ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر قوتوں کو ڈی سنٹرلائز کر کے صوبے زیادہ بنانے چاہیے تاکہ وہ اپنے مسائل حل کر سکیں ، یہ سوچ اب چھوڑ دینی ہو گی کہ سارے فیصلے اب پنجاب میں ہونگے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے الیکشن نے ثابت کر دیا ہے کہ اکثریتی حمائیت کچھ نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب دوسرے ممالک میں ٹانگ اڑانے والا ملک نہیں رہا اسکے اپنے ملک میں آگ لگی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوسرا گوربا چوف ہے لیکن یہ اس سے بھی بدتر ہو گا جسکی پالیسیوں سے امریکا تقسیم ہو گا۔انکا کہنا تھا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ چائنا ہمارے ملک میں آیا ہے ، چائنا دینے والا اور امریکا لینے والا ہے اسکی معیشت اور ڈالر بیٹھ رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ نیا تھنک ٹینک بنا کر آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کریں۔

حکومت نوجوانوں کو کتنے فیصد روز گار فراہم کر رہی ہے ؟؟؟

سکھر (ویب ڈیسک) قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ہر حکومت کے پاس وقت ہوتا ہے کہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے لیکن حکومتیں ٹائم پاس کر کے چلی جاتی ہیں۔آئی بی اے سکھر میں طلباءکو اعزازات دئیے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کا کام ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے حکومت نے کبھی اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کی۔ حکومت مجموعی آبادی سے دو فیصد کو روزگار فراہم کر سکی ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر 98 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے ، مشکل یہ ہے کہ حکومت پرائیویٹ سیکٹر کو فروغ دینے میں بھی ناکام رہی ہے اس لیے بے روزگاری محسوس بھی ہوتی ہے اور بڑھتی معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بہتر انداز میں رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں، خورشید شاہ نے کہا کہ آج کل بیوٹیشن ہی ناخن تراشنے کے پانچ ہزار روپے لے لیتے ہیں اس لیے میں سوچ رہا ہوں خود بھی کوئی کورس کر لو ، میری دو بیویاں ہیں دس ہزار روپے ماہانہ یہ بھی بچ جائیں گے، انہوں حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے۔

ینگ ڈاکٹرز اور انتظامیہ میں مذاکرات کا میاب ، دھرنا ختم

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں ینگ ڈاکٹرز اور میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ، جس کے بعد دھران ختم کر دیا گیا۔حکومت نے مظاہرہ ختم کرانے کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔اس سے پہلے سی سی پی او لاہور امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری مال روڈ پر پہنچی اور پہلے ینگ ڈاکٹرز اور واٹر منیجمنٹ کے ملازمین سے مذاکرات کئے لیکن جب مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو پولیس حکام نے بھاری نفری کے ہمراہ مال روڈ پر لگے احتجاجی کیمپ اکھاڑ کر پھینک دیئے۔ پولیس نے مال روڈ سے تمام احتجاجی کیمپ اکھاڑ کر سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دیا جب کہ اس موقع پر مظاہرین کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی۔

سی پیک معاہدہ؛ چین کا پہلا تجارتی قافلہ گوادر پہنچ گیا

گوادر(ویب ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہدری منصوبے کے تحت چین کا پہلا تجارتی قافلہ گوادر پہنچ گیا۔تفصیلات کے مطابق 50 ٹرکوں پر مشتمل چین کا پہلا تجارتی قافلہ سی پیک روٹ کے ذریعے گوادر پہنچ گیا ہے۔ چین کے تجارتی قافلے کو پاک فوج کی سخت سیکیورٹی میں خنجراب سے گوادر پہنچایا گیا۔

ٹرمپ مخالف مظا ہرے ….مختلف امریکی ریاستوں میں پھیل گئے

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تیسرے دن بھی مظاہرے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس میں بھی ڈونلڈٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ نیویارک کے شہر فلرسنٹر میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے۔ پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ میامی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج۔ میامی میں مظاہرین نے مک آرتھر کازوے کو بند کردیا۔ فلاڈیلفیا کے سٹی سنٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

واشنگٹن+ نیویارک (خصوصی رپورٹ)امریکہ میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف تیسرے روز بھی مختلف ریاستوں میں ہزاروں افراد نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے سڑکیں بلاک کر دیں اور ٹرمپ صدر نامنظور سمیت دیگر نعرے لگاتے ہوئے قومی پرچم نذرآتش کئے۔ کئی مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ بھی کی اور مزید 59 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ادھر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ یہ پیشہ ور مظاہرین ہیں اور انہیں میڈیا نے بھڑکایا۔ ملک میں شفاف انتخابات ہوئے۔ میڈیا کا پیشہ ور مظاہرین کو بڑھاوا دینا نامناسب ہے احتجاج غیرمنصفانہ ہے۔ دوسری طرف انتخابی مہم کے دوران تعصبانہ بیان دینے والے ٹرمپ کے صدر بنتے ہی کئی شہروں میں مختلف واقعات کے دوران غیرملکیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ تعصب اور نفرت انگیز وال چاکنگ بھی کی گئی جبکہ سان ڈیاگو میں تو تعصب پسند امریکیوں نے روایتی مسلم لباس میں ملبوس خاتون پر حملہ تک کر دیا اور پرس، گاڑی چھین کر فرار ہو گئے۔ کیلیفورنیا کی سین جوز یونیورسٹی میں ایک شخص نے مسلمان خاتون کا سکارف چھین لیا۔ نارتھ کیرولینا، لوزیانا اور فلاڈلفیا میں نفرت انگیز وال چاکنگ کی گئی ہے۔ منی سوٹا کے ہائی سکول اور دیگر عمارات کی دیوار پر افریقہ واپس چلے جا، امریکہ کو عظےم بنا، سفید فام افراد نے اقتدار سنبھال لیا جیسی تحاریر لکھی گئی ہیں۔ نیویارک کے ٹینڈم سکول آف انجینئرنگ میں نماز کی جگہ پر بھی نفرت انگیز تحریر لکھی گئی ہے۔ مسلمان طلباکا کہنا ہے کہ امریکہ میں پھیلنے والے تعصب سے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں۔ واشنگٹن، نیویارک، اوکلینڈ، شکاگو، لاس اینجلس، سان فرانسسکو، بوسٹن، برکلے سمیت دیگر شہروں میں مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور ہائی ویز کو بلاک کر دیا۔ ہزاروں افراد پھر ٹرمپ ٹاور کے گرد جمع ہو گئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کے باعث پہلی بار وائٹ ہاس کے باہر تمام لائٹس کو بند کر دیا گیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے ٹرمپ کی صدارت نسلی اور صنفی تقسیم پیدا کرے گی۔ دوسری جانب واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال رائن اور سینٹ کے قائدِ ایوان میچ میکونل سے ملاقات کی۔ اس مختصر ملاقات میں ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنھبالنے کے بعد اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیگریشن، ہیلتھ کیئر اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ان کی اولین ترجیح ہیں۔رپبلکن سینیٹر پال رائن کانگریس میں اہم عہدے پر ہیں اور انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ٹرمپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پال رائن کے ساتھ میڈیا سے مختصر بات چیت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی عوام کے لیے شاندار اقدامات متعارف کروائیں گے۔ بہت سی ترجیحات ہیں جن سے عوام خوش ہوں گے۔ ہم امیگریشن کے معاملے کو بہت سختی سے لیں گے۔ سرحدوں پر نظر رکھیں گے اور ہم ہیلتھ کیئر نظام کا بھی بہت کڑی نظر سے جائزہ لیں گے۔ ٹرمپ نے مظاہروں پر ردعمل میں کہا ہے کہ ان کے خلاف ہونے والے منظم مظاہرے میڈیا کے اکسانے پر کیے جا رہے ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والے مظاہرے ناانصافی پر مبنی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ریاست ایوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں مظاہروں نے پرتشدد صورتحال اختیار کر لی۔ پورٹ لینڈ میں سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے دکانوں اور گاڑیوں کے شیشے توڑے مظاہرین نے ایک بڑے کوڑا دان کو نذر آتش کر دیا جبکہ پولیس پر کریکرز پھینکے۔ پولیس نے ٹرمپ مخالف احتجاج کو ہنگامے قرار دیا ہے۔ زیادہ تر مظاہرین نوجوان ہیں۔ دریں اثنانومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر انتخاب کے ایک دن بعد ہی ان کے مواخذے کے منصوبے بننے لگے ہیں۔ ایک برطانوی اخبار ڈیلی سٹار نے رپورٹ دی ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور مختلف مواد جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے اساتذہ اور طلبا سمیت ہزاروں افراد ڈونلڈ ٹرمپ کی بدعنوانیوں بدزبانیوں اور بداعمالیوں کے خلاف متحد ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف آن لائن پٹیشن پر 30ہزار تین سو بائیس افراد نے دستخط کر دئیے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے مواخذے کا کیس انتہائی مضبوط ہے۔ قانون کے ایک پروفیسر کے مطابق ٹرمپ کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں اور فراڈ امریکی آئین میں مجرمانہ فعل ہے۔ دریں اثناڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف فراڈ کیس میں ٹرائل موخر کرنے کی درخواست کر دی۔ ٹرمپ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیمینارز میں فراڈ کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کے موقع پر ٹرمپ کے وکیل نے کہا ٹرمپ 28 نومبر کو شیڈول ٹرائل کو جنوری میں اپنا عہدہ سنبھالنے تک موخر کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے صدر بننے کے بعد امریکی صدر کو اس سے قبل کے مقدمات میں ٹرائل سے استثنی حاصل ہو جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے پر امریکی خواتین نے انکے عورتوں سے متعلق خیالات پر ملین مارچ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اب تک35ہزار خواتین نے مارچ میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
ٹرمپ / مظاہرے

ڈاکٹرز ہڑتال ….حکومتی کمیٹی بن گئی مریض موت کے حوالے….

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال شہریار نیازی گروپ کی جانب سے دھرنا تاحال جاری ہے تاہم میوہسپتال میں ایمرجنسی سروسز مکمل طور پر بحال ہیں اور آﺅٹ ڈور اور ان ڈور میں جزوی طور پر علاج معالجہ جاری ہے ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج ککے باعث میوہسپتال آنے والے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مال روڈ پر دھرنے کے باعث شہریوں کو بھی مسائل کا سامنا ہے جس پر مریضوں اور شہریوں کی جانب سے ینگ ڈاکٹرز کو بددعائیں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال کی جانب سے ہڑتال و احتجاج کے دو ہفتے مکمل ہو گئے ہیں جس کے باعث میوہسپتال میں مریضوں کو پریشانی کا سامنا ہے تاہم جزوی طور پر مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں علاوہ ازیں شہر کے دیگر تمام ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج معالجہ جاری ہے تاہم میوہسپتال میں آنے والے مریض ینگ ڈاکٹرز کی عدم موجودگی پر مسائل کا شکار ہیں اور علاج معالجہ نہ ملنے پر تکالیف کے مارے ہوئے لاچار مریض ڈاکٹرز کو بددعائیں دینے میں مصروف ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہسپتالوں سے ڈاکٹرز کے فسادی ٹولے کو فارغ کیا جائے تا کہ غریب مریضوں کا علاج معالجہ بحال ہو سکے۔

2018ءلوڈ شیڈنگ ختم ہوگی یا نہیں ؟؟؟ اصل صورتحال واضح ہو گئی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) بجلی کی لوڈشیڈنگ 2018ءتک مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں، جیسا کہ وزیراعظم عوام سے وعدہ کر رہے ہیں، اس بارے میں نیپرا نے اصل صورت حال کی وضاحت کی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا پاور سیکٹر پلانٹس اور ٹرانسمیشن سسٹم کو ڈیل کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی تکمیل 2018ءتک ممکن نہیں ہے، تمام منصوبے مقررہ وقت سے بہت پیچھے جا رہے ہیں، نیپرا کی وضاحت مسلم لیگ (ن) کو پریشان کرے گی جس کا دعویٰ ہے کہ لوڈشیڈنگ 2018ءتک ختم ہو جائے گی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کا یہ دعویٰ منصوبوں کے معائنہ پر مبنی ہے۔ لیکن متعلقہ امور کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں کی گئی۔ انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیپرا کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی غفلت کے باعث قومی خزانہ کو پہلے ہی 16بلین روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ کمپنی کا بیشتر ترقیاتی کام تاخیر کا شکار ہے۔

عمران….کرکٹ‘سوشل ورک اور سیاست…. 11

ضیا شاہد
عمران میں اب کافی پختگی آ گئی ہے لیکن شروع میں وہ بچوں کی طرح کوئی بات پسند نہ ہو تو شدید ردِعمل کا اظہار کرتا تھا، ایک مرحلے پر اُس نے بحث مباحثے سے تنگ آ کر کمپوزشدہ صفحے پھاڑ دیئے اور کہا ”ضیا، یار سارا کچھ مس ہو گیا،ضیا ،میرے خیال میں صُبح کی پریس کانفرنس ملتوی کروا دیتے ہیں“ ابھی میرا ذہن مطمئن نہیں ہے، کمرے میں ویسے بھی کافی گرمی تھی کیونکہ ہمیشہ کی طرح مجھے بہت گرمی لگتی ہے اور میں اپنا کمرہ بہت ٹھنڈا رکھتا ہوں لیکن اُس دور میں عمران خان بالعموم میرے گھر آتا تو سب سے پہلے ڈرائنگ روم کا اے سی بند کرواتا اور میرے دفتر آتا تو خود اٹھ کر دیوار پر لگے ہوئے سپلٹ یونٹ کا سوئچ آف کر دیتا پھر وہ ہمیشہ کی طرح مجھے لیکچر دیتا کہ کمرہ اتنا ٹھنڈا نہ رکھا کرو، آدمی کو خوب پسینہ آنا چاہیے۔ تاکہ اُس کے جسم کے مسام کھل جائیں چنانچہ دن بھر ٹھنڈے کمرے میں بیٹھتے ہو رات کو ٹھنڈے کمرے میںسوتے ہو، جاگنگ تم نہیں کرتے ورزش تم سے نہیں ہوتی دیکھ لینا تمہیں کوئی نہ کوئی بیماری لگ جائے گی۔
بہرحال میں ذکر کر رہا تھا اُس رات کا میں نے بھی مصنوعی غصے میں اُسے ڈانٹا اور کہا ہم رات سے بحث کر رہے ہیں اور اب صُبح ہونے والی ہے، آخر تمہارا پرابلم کیا ہے؟ عمران کی بات سن کر میں ہنسنے لگا۔ میں نے کہا ”بندہ خدا، جس طرح تم کرکٹ کے میدان میں اپنا ثانی نہیں رکھتے بہرحال ہم نے بھی عمر کا بڑا حصہ اخباروں میں صحافتی اداروں میں جھک ماری ہے اللہ کے بندے تمہیں کون سمجھائے کہ تم جسے مسئلہ سمجھ رہے ہو وہ کچھ بھی نہیں کسی دوست نے اُسے فون کیا جسے سن کر عمران نے کہا”یار میں مشکل میں پھنس گیا ہوں میرے کچھ دوست بڑے زمینداروں کے بیٹے ہیں لیکن خود بڑے پڑھے لکھے اور بہت اچھے خیالات رکھتے ہیں۔ نواب سعادت قریشی کا بیٹا تو میرے ساتھ شوکت خانم میں بھی رہا بڑا زبردست انسان ہے بہت ذہین اور محنتی، ایک اور دوست نے مجھے فون کیا ہے کہ کہیں کوئی اخبار والا یہ سوال پوچھ لے کہ زمین کی ملکیت کی حد کیا مقرر کرو گے تو میں کیا جواب دونگا مجھے اس پر سوچنے دو، میں نے جل کر کہا اگر تمہارا وہ دوست اس کمرے میں موجود ہوتا تو میں اُس جاہل انسان کے سر پر یہ ٹرے مارتا جو میز پر رکھی ہے، معلوم نہیں تمہارے دوستوں میں بیوقوفوں کی تعداد اتنی زیادہ کیوں ہے جنہیں سیاست کی اے بی سی نہیں آتی تُم صُبح صرف سیاست میں آنے کا اعلان کرنا ہے جس میں مختصراً مُلکی حالات کا جائزہ ہم نے تمہارے مشورے سے قلمبند کیا ہے۔ اول تو کوئی رپورٹر پہلے دن سیاست میں آنے والے سے یہ سوال نہیں کرے گا اور اگرکوئی بیوقوف ایسا کر بھی دے کہ احمقوں کی بڑی تعداد ہر میدان میں پائی جاتی ہے تو تم آسانی سے کہہ سکتے ہو کہ ابھی تو میں نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہم اپنی پارٹی کا پہلا کنونشن بلائیں گے، منشور کمیٹی کا اعلان کرینگے جو پارٹی کا منشور بنائے گی اور ان سارے مسائل پر پارٹی لائن واضح کی جائے گی، آج کی میٹنگ میں میں مختلف مسائل کے حل کیلئے کہ ہم نے کیا فیصلہ کیا ہے یا کرینگے اِس کی تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی، اکثر دوستوں نے جو کمرے میں موجود تھے میری تائید کی جس پر بالآخر عمران مان گیا اُس نے وعدہ کیا کہ کسی متنازع مسئلے پر کوئی فیصلہ کُن بات نہیں کروںگا۔ اگرچہ وہ تیارشدہ بیان کی کاپیاں پھاڑ چکا تھی لیکن میں نے کمپیوٹر سیکشن سے اس کی نقل پھر سے تیار کروائی اور کئی کاپیاں منگوا کر عمران اور چار پانچ شرکاءمیں تقسیم کیں۔ میری تجویز پر عمران نے حامی بھری کہ وہ اُسے پڑھ کر سُنا دیں تاکہ کوئی لفظ مشکل ہو یا تبدیل کرنا مقصود ہو تو تبدیل کیا جا سکے۔ عمران نے پڑھنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ بعض الفاظ اُس کے لئے مشکل ہیں وہ عمر بھر انگریزی میں پڑھتا اور لکھتا رہا تھا لہٰذا اخباری اور سیاسی زبان سے پوری طرح آگاہ نہ تھا۔
ہم نے کچھ الفاظ پر نشان لگائے اور پھر الگ سے اُنہیں کاغذ پر لکھا اور دوبارہ رومن میں کمپیوٹر پر کمپوز کروایا۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران پڑھائی لکھائی میں بہت ذہین اور محنتی ہے۔
”ایک بار بیان پڑھنے کے بعد وہ اور ہم سب مطمئن ہو گئے کہ مزید وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ رات بھر اِسی کمرے میں جہاں میں اس وقت بیٹھ کر اپنی یادداشتیں لکھوا رہا ہوں صُبح پانچ بجے یہ مجلس برخاست ہوئی اور دوپہر سے قبل 11 بجے ہوٹل میں ملاقات کے وعدوں کے بعد ہم نیچے اترے۔ اُس وقت تک ہماری بلڈنگ میں لفٹ نہیں لگی تھی لہٰذا ہم سیڑھیوں کے ذریعے گراﺅنڈ فلور تک پہنچے۔ عمران نے کہا وقت پر ہوٹل پہنچ جانا بلکہ آدھا گھنٹہ پہلے آ جانا۔“
میں نے کہا میں رات بھر جاگا ہوں صُبح دیر سے آنکھ کھلے گی یوں بھی میرا کام ختم ہوا۔ تم وقت پر پہنچ کر پریس کانفرنس کر دینا پھر میں نے مذاق میں کہا اب راستے میں یا گھر جا کر اپنا ارادہ تبدیل نہ کر لینا پہلے ہی بڑی مشکل سے گھیر گھار کر تمہیں یہاں تک لائے ہیں“
قارئین یہ اس رات کی روداد ہے جب ہم نے نوجوان پہلوان کو سیاست کے اکھاڑے میں اُتارا۔ اب تو ماشاءاللہ وہ اس میدان کا تجربہ کار کھلاڑی بن چکا ہے۔ آپ اُس سے اتفاق کریں یا اختلاف لیکن 2013ءکے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے بعد پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی اُس کی ہے اسکے باوجود اُس نے پنجاب میں بالخصوص دھاندلی پر احتجاج کیا، تحریک چلائی، دھرنا دیا، جوڈیشل کمیشن بنوایا۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر دھاندلی کا اعتراف کمیشن نے نہیں کیا۔ تاہم بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کی تصدیق ضرور کی۔
آج عمران 2 نومبر کو اسلام آباد کے دھرنے کے نتیجے اور سپریم کورٹ سے فیصلے کے بعد دھرنا ختم کر چکا ہے۔ ملک بھر میں حکومتی پارٹی ہو یا دیگر سیاسی جماعتیں اکثر اُس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ آپ بھی عمران سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ ایک صحافی کی حیثیت سے مجھے بھی اسکی بہت سی باتوں سے اختلاف ہے لیکن آپ کو ماننا پڑے گا کہ اتنے برسوں کی مشقت کے بعد وہ اپنے آپ کو ایک سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کروا چکا ہے۔ نئی نسل بالخصوص پڑھے لکھے لڑکے لڑکیاں اُس کی پارٹی کا غالب حصہ ہیں۔ گزشتہ بہت سے برسوں میں اُس نے بہت ناکامیاں دیکھیں اور موجودہ اسمبلی سے پہلے تو وہ گزشتہ الیکشن میں صرف اپنی سیٹ جیت سکا آج خیبرپختونخوا میں اُس کی پارٹی حکمران ہے لیکن وفاقی حکومت میں حکمرانی کا خواب ابھی بہت دُور ہے۔ تاہم جیسا کہ میں نے پہلے کہا میری تحریر کا مقصد اُس کی سیاسی حمایت ہے نہ مخالفت۔ میں نے تو ایک دوست اور خیرخواہ کی حیثیت سے اس کی شخصیت کے کچھ پہلوﺅں کی طرف نشاندہی کی ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ میرا تخمینہ میرا اندازہ عمران کے بارے میں میری Assessment سو فیصد نہیں تو اسی فیصد درست ضرور ثابت ہوئی ہے لیکن چھوڑیں اس بات کو ہم پھر ماضی کی طرف لوٹتے ہیں اور اُس کی پہلی پریس کانفرنس کے بعد ابتدائی دنوں کے کچھ دلچسپ واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔
(جاری ہے)