All posts by Daily Khabrain

جنرل راحیل شریف نے توثیق کر دی….اہم ترین خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزا پانیوالے 10مجرموں کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔ذرائع کے مطابق ان دہشتگردوں کو جنرل راحیل شریف کی ریٹائر منٹ سے قبل ہی تختہ دار پر لٹکا دیا جائیگا۔

خبریں کی خبر نے تہلکہ مچا دیاآئیسکو چیف رانا عبد الجبار کو ”فارغ “ کر نیکی تیاری ‘ نئے سربراہ پر غور

اسلام آباد (ملک نزاکت حسین سے)چیف ایگزیکٹو آئیسکو رانا عبدالجبار کی پی ایچ ڈی کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہونے کے حوالے سے خبریں میں شائع ہونے والی خبر نے تہلکہ مچا دیا ہے خبریں دفاتر میں ٹیلی فونز کالز کا تانتا بندھا رہا آئیسکو چیف کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ترجمان عائشہ ممتاز سے جب خبریں نے رابطہ کیا توانہوں نے کہا کہ اگرحکومت چیف ایگزیکٹو آئیسکو رانا عبدالجبار کی اصلی تعلیمی ا سناد تصدیق کے لیے ہمیں ارسال کرے تو کمیشن اس کی فوری تصدیق کرے گا اصلی کاغذات کے بغیر کمیشن ڈگریوں کی جانچ پڑتال نہیں کرتا اور نہ کمیشن ازخود تصدیق کے لیے کسی ادارے سے رجوع کرتا ہے جب ان کے علم میں لایا گیا کہ آئیسکو چیف کی پی ایچ ڈی کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہے اور یہ سٹوری خبریں میں شائع ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور آئیسکوکے حکام ڈگریوں کی تصدیق کے حوالے سے ہم سے رجوع کر سکتے ہیں ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چیف ایگزیکٹو آئیسکو رانا عبدالجبار کے اختیارات سے ناجائز تجاوز ، اقربا پروری ، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور خلاف ضابطہ تعیناتی کے حوالے سے خبروں کی اشاعت کے بعد حکومت نے کسی اہل اور دیانت دار شخص کو آئیسکو کا سربراہ لگانے کے حوالے سے غور وغوض شروع کر دیا ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ رانا عبدالجبار کو اس عہدے سے ہٹا دیا جائے گا آئیسکو کے افسران اور ملازمین نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری تبدیل کیا جائے اور میرٹ پر کسی سینئر افسر کو یہ ذمہ داری دی جائے۔

عمران….کرکٹ‘سوشل ورک اور سیاست (21)

کاش عمران کو کوئی سمجھانے والا ہو کہ جتنی زیادہ صلاحیت‘ محنت اورمستقل مزاجی اس کے اندر ہے اگر وہ اپنی پارٹی کی جو تحریک ہے کے لیے صحیح راستے کا انتخاب کرے‘ آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو ریاستی مشینری کی پکڑ میں آنے سے بچائے‘ ہر تیسرے دن حکومت کو چلتا کرنے کے دعوے نہ کرے بلکہ یکسو ہو کر عدالتی جنگ بھی لڑے اور 2018ءکے الیکشن کیلئے انتخابی اصلاحات کروائے‘ الیکشن کمیشن کو صحیح خطوط پر استوار کروائے‘ صوبائی حکومت کی طرف سے نامزدگیوں کے قانون کو ختم کروائے‘ عوامی تائید کے لیے بھرپور منشور تیار کرے اور مقبول عام نعروں کا انتخاب کرے‘ صرف ایک صوبے پر امیدیں لگانے کی بجائے بالخصوص سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب پر پوری توجہ دے جہاں اس کا ذاتی گلیمر بھی کم ہے اور عوامی تائید بھی اور حکومت میں آنے کیلئے صرف اور صرف مضبوط اور منصفانہ الیکشن پر تکیہ کرے اور شیخ رشید صاحب کے مشوروں کے مطابق جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی طرف بار بار نہ دیکھے تو میرے دوست کی شاندار صلاحیتیں ملکی سیاست میں زبردست کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وہ محنتی ہے‘ ہمت نہ ہارنے والا ہے‘ دھاندلی اور کرپشن کے خلاف ہے اور بہتر طرز حکومت کا دعویدار ہے۔ یہ تحریر کافی طویل ہے لیکن اسے بڑے صبروتحمل کے ساتھ اسے پڑھنا چاہئے اور اس کے ساتھیوں کو بھی جن کی اکثریت مخلص اور اچھے لوگوں پر مشتمل ہے اس پر غور کرنا چاہئے۔ میں عقلِ کُل نہیں‘ لیکن اپنی پچاس سالہ صحافت میں‘ میں نے حکومتوں کو آتے جاتے دیکھا ہے اور میں سیاسی کھلاڑیوں کے اچھے یا برے کھیل کو بخوبی سمجھتا ہوں۔
عمران اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کرو، صحیح راستے کا انتخاب کرو، اسمبلیوں کے اندر بھی جدوجہد کرو اور باہر بھی، بڑے اور درمیانے درجے کے شہروں کے پڑھے لکھے لوگ بالخصوص نوجوان تمہارے ساتھ ہیں، لیکن دیہات اور قصبات میں لوگ ابھی تک زمینداروں، پٹواریوں، سکول ماسٹروں، محکمہ نہر کے لوگوں، پولیس والوں اور اجارہ دار سیاست دانوں کے چمچوں کرچھوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ تعداد کروڑوں میں پہنچتی ہے جب تک تم انہیں رہائی نہیں دلواتے اور ایسے انقلاب کا قابلِ عمل پروگرام نہیں دیتے وہ اس قید سے رہائی نہیں پا سکتے جس میں وہ نسل در نسل خود کو حالات میں جکڑے ہوئے محسوس کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت نے بہت سے ا چھے کام بھی کیے ہیں یہاں آپ کی حکومت بھی ہے لیکن یہاں بھی آپ کو اکثریت حاصل نہیں اور حکومت سازی کے لئے سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ساتھ ملانا پڑتا ہے جو تمہاری سوچ سے کوسوں دور ہوں، بندئہ ِخدا پہلے وہاں تو مکمل اکثریت حاصل کرنے کے لیے جامع پروگرام بناﺅ، پھر پنجاب کے دیہات اور قصبات کے لوگوں کے دلوں تک پہنچو، آخر میں بلوچستان اور سندھ کے چند بڑے ناموں کو ساتھ ملا کر تسلی سے نہ بیٹھ جاﺅ، کبھی تم نے سوچا کہ مسائل میں گھری ہوئی ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو تحریک ا نصاف اس کی جگہ کیوں نہ لے سکی، تمہارے پہلے جلسے جس قدر بڑے تھے بعد میں ان کے حاضرین کی تعداد کیونکر کم ہوتی چلی گئی، کیا تمہارے لوگ ایسا کیڈٹ تیار نہیں کر سکے جسے اسمبلی کی رکنیت میں کھڑا کرو مگر وہ الیکشن سے کچھ گھنٹے پہلے مخالف سے جا ملتا ہو، کبھی تم نے ایم کیو ایم کی شدید گرفت میں اور اس کے ناجائز غیرقانونی دفاتر میں بیٹھے ہوئے مسلح افراد کی مدد سے محلوں، آبادیوں اور شہری علاقوں کو کیونکر یرغمال بنایا گیا کہ وہاں سانس لینے کے لیے بھی ایم کیو ا یم کے سیکٹر انچارج کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے لیکن تم تو کیا پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت انہیں یرغمال کی کیفیت سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ حتیٰ کہ صوبے میں حکمران موجود پیپلزپارٹی بھی آئے دن ان سے سمجھوتا کرنے اور ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے، تم کیوں انہیں رہا نہ کروا سکے۔ کیا تمہاری پارٹی نے کبھی واقعی تحریک بن کر سندھ کے ہاریوں کو وڈیروں اور زمینداروں کے چنگل سے آزاد کرانے کی کوشش کی، کیا جنوبی پنجاب میں تم نے ووٹروں کو بڑے زمینداروں، جاگیرداروں، ان کے گماشتوں، پیروں، گدی نشینوں سے رہا کروانے کا کوئی پروگرام وضع کیا۔ کیا پاکستان صرف وسطی پنجاب کے کچھ بڑے شہروں کا نام ہے؟ کیا یہ مقام حیرت نہیں کہ تمہارا اپنا ضلع میانوالی جہاں تم نے ایک شاندار یونیورسٹی بھی قائم کی وہاں تمہارے اپنے عزیز رشتہ دار بھی تمہارا ساتھ چھوڑ گئے اور حکومتی پارٹی نے وہاں سے نشستیں جیت لیں۔ تاثر کیوں عام ہے کہ زمیندار طبقے کی انگریزی سکولوں کی پڑھی ہوئی معمولی تعلیم یافتہ مگر جاگیر دارانہ سوچ اور استحصالی نظام کی علمبردار خوش شکل خواتین تمہاری پارٹی ٹکٹ کی امیدوار بنتی ہیں۔ تم نے کبھی نہیں سوچا کہ یہ خواتین اور ان کے آباﺅ اجداد اس علاقے میں ظلم اور جبر کی علامت رہے ہیں۔ بے چارہ عام شہری ایک طرف سے تمہاری طرف سے ”نئے پاکستان“ کی نوید سنتا ہے اور اس نوید کو عملاً کامیابی کی شکل دینے کےلئے تم انہیں انہی استحصالی طبقات کی خوش شکل خواتین کے حوالے کر دیتے ہو، جن کی تعلیمی ڈگریاں بھی جعلی ہوتی ہیں، بہت سے لوگ جو تمہیں پسند کرتے ہیں جب پانی کی طرح پیسہ بہانے والے لوگوں کے لیے انہیں بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے تو وہ اپنے اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں کہ ہم یہ کن لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمہارے پاس اچھی شہرت کے خوشحال لوگ بھی موجود ہیں لیکن قرعہ¿ فال تمہاری پارٹی میں قبضہ خوروں‘ لینڈ مافیا اور جاگیرداروں کی بگڑی ہوئی اولادوں کے نام نکلتا ہے۔ مجھے تمہارے ایک ناقد کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولتا جب اس نے کہا کہ ”عمران خان کو برسوں لگ جائیں گے مگر وہ ایک سمیرا ملک‘ ایک عائلہ ملک‘ ایک عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین کی صفائیاں نہیں دے سکتے۔ مگر میں ذاتی طور پر جہانگیر ترین کو جانتا ہوں جس کی سیاسی سوچ منجھی ہوئی ہے اور جو وفاقی وزیر تھا وہ نہ مسلم لیگ ق سے مطمئن تھا نہ ہمارے سیاسی نظام سے مگر شاعر کا ایک مصرعہ ضرور سامنے رکھو‘ کسی نے کیا خوب کہا تھا:
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
قارئین محترم‘ میرا دوست عمران ایک اچھا‘ محنتی اور مخلص انسان ہے‘ لیکن وہ جن لوگو ںمیں بری طرح گھرا ہوا ہے وہ رفتہ رفتہ اسے اپنے ووٹ بنک سے بھی محروم کرتے جا رہے ہیں۔ کرپشن‘ دھاندلی اور لوٹ کھسوٹ سے پاک منصفانہ نظام کا خواب کون نہیں دیکھتا‘ مگر عدالتوں کے بارے میں جس طرح کہتے ہیں کہ انصاف ہونا نہیں چاہئے‘ ہوتے ہوئے نظر آنا چاہئے۔ عمران کی جدوجہد بھی غریب اور محروم طبقات کو نظر آنی چاہئے۔ لالک چوک لاہور اور ڈیفنس کراچی تک محدود نہیں رہنی چاہئے‘ God Bless You ۔
٭٭٭

وزن کم کرنے کیلئے چار آسان مشقیں

لاہور (خصوصی رپورٹ)فربہ افراد کے لیے شاید زندگی کی سب سے بڑی خواہش وزن کم کرنا ہوتی ہے۔اس کوشش میں لوگ بہت سی ورزشیںکرتے ہیں ،انہی میں سے ایک سوئمنگ بھی ہے۔ سوئمنگ کے شوقین سوئمنگ پول میں ہی معمول میں اگردرج ذیل چارورزشیںبھی شامل کر لیں تو پھر دیکھیں کہ کس طرح دنوں میں وزن کم ہوتا ہے۔ 1:دیوار پر چڑھنا سوئمنگ پول میں ایکسرسائز کرنے کیلئے ضروری ہے کہ 1۔ پول کے ایک سائٹ پر اٹھائیں اور چہرے کو دیوار کی طرف کریں۔ اپنے پاوں دیوار پر رکھ دیں۔ 2 ۔ اپنے پاوں کو پول کے اوپر کی طرف چلائیں اور دوبارہ نیچے کی طرف لائیں۔ 3۔ اپنے بازوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے جسم کے اوپر کی طرف لائیں۔ 4 ۔ کم سے کم چار مرتبہ اس ایکسرسائز کو دہرائیں۔ 2:دل کو مضبوط کریں ایکسرسائز کیلئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ پول میں رش نہ ہو۔ آپ کو پول کو لمبائی میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے لوگوں کی کم سے کم تعداد آپ کے لیے بہتر ہوگی۔ 1۔ پول کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زگ زیگ اسٹائم میں جائیں۔ 2۔ اب بیک سائیڈ رن کریں بالکل اسی طرح جیسے پہلے کیا تھا لیکن اس مرتبہ بالکل سیدھی لائن میں جانا ہے۔ 3 ۔ اپنے آپ کے مزید ایکسرسائز کیلئے وارم اپ کریں۔ اس کے بعد کول ڈاوں ایکسرسائز کریں۔ یہ ایکسرسائز آپ کے پٹھوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ 4 ۔ ایک سے دوسری ایکسرسائز کے دوران چار یا پانچ منٹ کا وقفہ ضرور دیں ۔ 3: توازن کو برقرار رکھیں اس ایکسرسائز کے لیے اپنے توازن کو برقرار رکھیں جو آپ کے جسم کو استحکام دے گا اور بہتر بنائے گا۔ آپ کو پوری پوری توجہ کے ساتھ اقدامات کرنے ہونگے۔ 1۔ کمر تک پانی کی سطح میںایسی ایکسرسائز انجام دیں۔ 2 ۔ اپنی بائیں ٹانگ کو اٹھاکر گٹھنے کی طرف جھکائیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ آپ کی ران پول کے فرش کے متوازی ہو۔ 3۔ اپنی سائڈ پر اپنے ہاتھ رکھیں اور اپنی رائٹ سائڈ پر ٹانگ مضبوطی سے پول کے فرش پر رکھیں۔ 4۔ اسی پوزیشن میں کم سے کم ایک منٹ تک رہیں۔ 5۔ پھر اپنے بائیں گھٹنے کی مڑجائیں اس پوزیشن میں آپ کو ایک منٹ تک رہنا ہوگا۔ 6 ۔ پھر اپنی بائیں سائڈ پر پاوں رکھیں پول کے فرش پر اور اس پوزیشن کو اپنے دائیں پاوں کی طرف بھی دہرائیں۔ 4:بنیاد مضبوط کریں یہ ایکسرسائز بنیادی طاقت کو بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ایک پھولی ہوئی گیند کے ساتھ جو کم سے کم چھ انچ کی ہو۔ اس ایکسرسائز کیلئے آپ کو صرف ایک سہارے کی ضرورت ہوگی جس کیلئے مندرجہ ذیل ہدایات پیشِ نظر رکھیں۔ 1۔ آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنی دائیں ٹانگ کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں، دائیں گھٹنے کی طرف جھکیں اور اپنے پیچھے اپنے بائیں پاوں کو پھیلائیں۔ 2 ۔ دونوں ہاتھوں سے گیند کو پکڑیں اور اپنی ناف کے سامنے رکھیں اس پر اپنے ہاتھ رکھنے کیلئے سیدھے بڑھائیں۔ 3 ۔ اپنے کندھوں کو نیچے کی جانب رکھیں اور ان کو پیچھے کی جانب دھکا دیں۔ 4 ۔ دوبارہ یہی ایکسرسائز دہرائیں لیکن اس مرتبہ بائیں ٹانگ کی جگہ دائیں ٹانگ رکھیں۔ خلاصہ:پانی کی یہ بنیادی ایکسرسائز آپ کیلئے بہت زیادہ چیلنجنگ ہوسکتی ہے کیونکہ باہر سے جسم کی مومنٹ دوبارہ پانی میں دھکا دے گا۔

و ز یر اعظم قانون کے شکنجے میں

فیصل آباد  (ویب ڈیسک)مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک میاں فرخ حبیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے عدالت جانے سے نواز شریف پر خطرے کے بادل چھاگئے اور کسی بھی وقت قانون کے شکنجے میں آجائیں گے۔انہوں نے خورشید شاہ کے بیانات پر گہری تشویش اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موصوف اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے کرپٹ حکمرانوں کے قصدے خوانی میں مصروف ہیں انہیں عمران خان پر نشتر زنی سے سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔خورشیدشاہ صاحب نے بطور قائد حزب اختلاف حکومت سے وفاءسمیٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ،قوم جانتی ہے خورشید شاہ کو کرپشن سے کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہے نہ اس پر اعتراض ‘مک مکا اور لین دین کی سیاست کا وقت گزر چکا ۔اگر پیپلزپارٹی کو اپنی سیاسی قبر پر کتبہ نصب کرنے پر بضد ہے تو تحریک انصاف کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرکے ہی دم لے گی ۔ کرپٹ حکمرانوں کے خلاف جاری تحریک کی وجہ سے میاں برادران عدلیہ کے کٹہرے میں کھڑے ہونگے اور انہیں لوٹ گئی ایک ایک پائی کا حساب دینا ہو گا ۔ انہوں نے موجودحکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہےں۔بادشاہےت کا سورج غروب ہو نے والا ہے حکمرانوں کو لوٹی ہوئی دولت کا حساب دےناہو گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے لئے نہےں بلکہ پاکستانی قوم کےلئے لڑ رہے ہےں۔ہمارے قائد جب بھی جہاں بھی پہنچنے کاحکم دےتے ہےں وہاں پابندےوں کے باوجودہماراپہنچناضروری ہو جاتاہے۔رےاستی ہتھکنڈے ہمےں کاز سے نہےں ہٹا سکتے ہماری پارٹی لوگوں کو مروانے والی نہےں بلکہ ان کے حقوق دلانے والی ہے۔

دو سرے ٹیسٹ میں کامیابی کیلئے وسیم اکرم کامشورہ

لاہور (بی این پی) لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ فلیٹ وکٹوں پر رنز کرنا آسان ہوتا ہے لیکن نیوزی لینڈ میں نہیں، اگلے ٹیسٹ کیلئے بھی وکٹ ایسی ہی ہو گی اس لئے پاکستان مکمل تیاری کرے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ فلیٹ وکٹوں پر رنز کرنا آسان ہوتا ہے لیکن نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر اوپننگ آسان نہیں ہے جبکہ نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف ہوم ورک کیا ہوا ہے، اگلے ٹیسٹ کیلئے ایسی ہی وکٹ ہو گی اس لئے پاکستان کو مکمل تیاری کیساتھ میدان میں اترنا ہو گا۔

محمد حفیظ کی قسمت کا فیصلہ

لاہور(سپورٹس ڈیسک ) برسبین کی بائیومکینکس لیب سے محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن ٹیسٹ کی رپورٹ اس ہفتے ملنے کا امکان ہے۔بولنگ ایکشن ٹیسٹ کے بعد محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ امید ہے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کروں گا۔جولائی 2015 میں آف اسپینرمحمد حفیظ کابولنگ ایکشن ایک سال میں دوسری بارمشکوک قرار دیاگیا تھا۔ جس کے بعد آئی سی سی نے ان کی بولنگ پرایک سالہ پابندی عائد کردی تھی۔ دورہ انگلینڈ کے دوران پابندی کے خاتمہ ہوا، مگر فٹنس مسائل کی وجہ سے حفیظ نے ایکشن کلیئرکرانے کیلئےٹیسٹ نہیں کرایا۔محمد حفیظ نے پاکستان کی جانب سے 177 ون ڈے میں 5 ہزار4 سو 4 رنز کے ساتھ 129 وکٹیں،جبکہ 77 ٹی 20 میں 16 سو 14 رنز اور 46 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔