لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زیادہ ٹیکس لگائے گئے ہوں یا مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ ہو گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ منی بجٹ میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں کوئی بڑی خبر ایسی نہیں ملی جس پر اپوزیشن کو احتجاج کرنے کا موقع ملے اس سلسلے میں تو حکومت ٹریپ میں آنے سے بال بال بچ گئی۔ اسد عمر کے بارے میں کہا جا رہا ہے انہوں نے وضاحت بھی کی تھی کہ معمولی ردوبدل ہے لیکن کسی نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ اپوزیشن والے جو ڈنڈے سوٹے لے کر تیار بیٹھے ہوئے تھے لیکن ایسا بڑا واقعہ ہوا نہیں ہے جس کو اپوزیشن ایشو بنا سکے۔ جتنا شور مچا تھا کہ ٹیکسوں کی بھرمار کی گئی ہے عوام کا جینا حرام ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ چھوٹی موٹی ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ کوئی خبر ملی نہیں لوگوں کو۔ اسد عمر بال بال بچ گئے۔ جسے سوچا جا رہا تھا کہ ادھر سے منی بجٹ آئے گا ادھر سے ڈنڈے سوٹے لے کر اپوزیشن چڑھ دوڑے کی کہ یہ دیکھیں کیا کر دیا وہ ایسی کوئی چیز دکھائی نہیں دی۔ تین ارب ڈالر رقم پاکستانی خزانے میں مزید مجھے ہو گئی ہے قطر کی طرف سے، قطر نے یہ رقم کس لئے دی ہے یہ اتنی رقم ہے جتنی سعودیہ نے دی تھی۔ میری آئی ایس پی آر کے دوستوں سے بات ہو رہی تھی ایک تو کہا جا رہا تھا کہ نوازشریف صاحب کی حالت بگڑ گئی اس پر کل پرسوں سے خبریں چل رہی ہیں۔ آج ان کے پرسنل ڈاکٹر عدنان نے یہ کہہ دیا ہے کہ ان کی حالت بہت خراب ہے۔ لیکن جو اصل پوزیشن ہے وہ یہ ہے کہ ان کی پرسنل فزیشن کی جو بات ہے وہ جو کارڈیالوجسٹ ہے اور اچھا ڈاکٹر ہو گا لیکن ان کی بات پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا ہے اس کے لئے ضرورت ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے جو ڈاکٹر ہیں جن کا دن رات یہی کام ہے وہ اپنی ماہرانہ رائے دیں کہ کیا واقعی کوئی خطرے کی بات ہے جس کی بنیاد پر ان کو یہاں منتقل کیا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی طرف سے بھی کوئی تصدیق نامہ ااتا ہے تو پھر تو کوئی اگلا قدم اٹھانا چاہئے کہ باہر جانے دیا جائے قطر کی سٹوری ساتھ اس طرح سے جوڑی جا رہی ہے کہ یہ قطری خط بھی آیا تھا۔ قطر نے امداد بھی دی تھی۔ جس میں شیخ رشید اب تک پھنسے ہوئے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں کہ کس طرح سے بچ کر نکل گئے یہ ریٹ نہیں بتا رہے کہ کس طرح یہ این ایل جی خریدی۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے دور میں مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ یہ ریٹ خفیہ تھا اور یہ لوگوں کو نہیں بتایا جا سکتا۔ بہرحال وہی اب تین ارب ڈالر کے پیسے آئے ہیں اور بہت بڑی رقم ہے یہ تقریباً اتنی رقم ہے جتنی سعودی عرب نے دی تھی۔ حالانکہ سعودیہ مالی اعتبار سے قطر سے بہت آگے ہے۔ اس نوعیت میں فوجی دوستوں سے ریٹائر فوجیوں سے اور جو لوگ آج کل آئی ایس پی آر کی دیکھ بھال کر رہے ہیں ان سے بھی لوگ پوچھتے رہتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو وہ بھی کہہ جاتے ہیں لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ آرمی کا نقطہ نظر مجموعی طور پر یہ ہے کہ اگر کوئی این آر او کی بات چل رہی ہے تو ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ ہم عدالت ہیں نہ ہم حکومت ہیں حکومت جو وہ سول حکومت ہے تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ عدلیہ چیف جسٹس کے ماتحت ہے اور جو کچھ انہوں نے کرنا تھا ان کی طرف سے البتہ وقتاً فوقتاً ایسے فیصلے سامنے آ رہے ہیں جن میں نوازشریف صاحب اور ان کے ساتھیوں کو ریلیف مل رہا ہے حالانکہ سب سے بڑا ریلیف یہ تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو شیخ رشید کی رٹ تھی کہ شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سربراہ کیوں بنایا گیا وہ رٹ بھی مسترد ہو گئی۔ اس طرح سے عدالتوں کی طرف سے رفتہ رفتہ ان کے حق میں بھی فیصلے آنے لگے ہیں اور اب یہ نہیں کہا جا رہا کہ اب یکطرفہ ٹریفک چل رہی ہے۔ گرپ تو کمزور ہو رہی ہے کہ قیصر امین بٹ جس کی اتنی سٹوری بنائی گئی اور پھر ان کو گرفترا کرنے کی باتیں آئیں پھر یہ کہا گیا کہ وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں اب وعدہ معافیاں بھی ختم ان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا یہ تو عدالتوں کا موقف ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں میرٹ پر کرتے ہیں البتہ بادی النظر میں دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آج عدالتوں کا جو موڈ ہے وہ اکاموڈیٹو ہے۔ مسلم لیگ ن کے لئے ہے سابق حکمرانوں کے بارے میں ان کا جو گروپ برسراقتدار تھا ان کو رفتہ رفتہ مل رہا ہے۔ اس طرح کی ضمانت میں توسیع بھی ہو گئی ہے۔ ایک بار فیصلہ کر دینا چاہئے کہ ان کو کبھی گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ زرداری کی ضمانت میں توبسیع پر توسیع بتاتی ہے ان کو ”ستے خیراں“ ہیں اور زرداری صاحب تو ماشاءاللہ بڑے خوش نظر آتے ہیں اور وہ جو ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بنے ہوئے، ہنستے مسکراتے چمکدار دانت ان کے جو ہیں لگتا ہے کہ ”ستے خیراں“ ہیں۔ یا تو ان کے خلاف جو رپورٹ تھی وہ غلط تھی یا پھر وہ رپورٹ تو صحیح تھی تو پھر عدالتوں کا نقطہ نظر بدل گیا ہے اور اب لگتا ہے کہ ان کے لئے آسانی ہی آسانی ہے کبھی بار بار فالودے والے دکھائے جا رہے تھے اور رکشہ ڈرائیور دکھائے جا رہے تھے کہان کے اکاونٹس نکل آئے دلچسپ بات ہے کہ جب بھی بینک میں اکاﺅنٹ کھلتا ہے وہ کسی نہ کسی نے تو اٹیسٹ کیا ہوتا ہے جوپہلے سے اکاﺅنٹ ہولڈر ہوتا ہے مجال ہے کہ اب تک کوئی ایک گرفتاری بھی اس عمل میں آئی ہو کہ یہ منیجر جو تھا اس نے غلط اکاﺅنٹ کھولا تھا۔ ان کو کوئی فکر پریشانی ہی نہیں۔ ہمارا کیا تعلق ہے۔ اگر ایسے اکاﺅنٹس کھولے جو اس کے نہیں تھے بینک منیجر ذمہ دار ہے اور اگر اچانک فالودے والے کے اکاﺅنٹس سے اربوں روپے باہر بھیجے جانے لگے تو بھی اکاﺅنٹ کھولنے والا، کھلوانے والا سہولت کار اس کے لئے باہر پیسے بھجوانے والا سارے بینک منیجر ہیں لیکن کوئی ایسی خفیہ قسم کی انڈر سٹینڈنگ ہوئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ میرا تو خیال تھا کہ اس قسم کے کیسز میں کوئی دو چار سو بینک والوں کی گرفتاریاں ہوں گی مگر ایک بندہ نہیں ہے اللہ کا ہے جس کو پولیس نے چھوا بھی ہو لگتا ہے نیب بڑے پیمانے پر کوئی سودے بازی ہوئی ہے۔
ساہیوال واقعہ بارے ایک طرف حکومت صحافیوں کو سیکرٹ بریفنگ کا شور مچاتی رہی دوسری جانب سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وزیر قانون خود بریفنگ میں آئے نہ کسی اعلیٰ افسر کو بھیجا، محض خانہ پوری کے لئے ایک ایڈیشنل سیکرٹری کو بھیج دیا جس نے واقعہ بارے ابہام کو مزید گہرا کر دیا۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہوا تو اس میں رانا ثناءاللہ کا جو بھی کردار تھا وہ سامنے تو آتے رہے، راجہ بشارت تو سامنے ہی نہیں آ رہے۔ پولیس افسران کی قابلیت کا پول اس بات سے ہی کھل جاتا ہے ک ہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے لاہور بھیج دیا، پھر وہاں سے دوبارہ ساہیوال لے جا کر پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ کیا کسی پولیس افسر کو معلوم نہ تھا کہ جائے وقوعہ کے علاقہ میں ہی پوسٹ مارٹم کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ ساہیوال واقعہ بارے افواہوں کا بازار گرم ہے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ ملزم ذیشان کا تعلق کسی انتہا پسند جماعت سے نہیں تھا بلکہ اس سے تعلق تحریک منہاج القرآن سے تھا۔ وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وزیر قانون،ہوم سیکرٹری آئی جی کو ساتھ بٹھائیں اور ایک مفصل رپورٹ تیار کریں پھر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیں تا کہ ابہام ختم ہو اور حقائق سامنے آ سکیں۔

















