All posts by Daily Khabrain

منی بجٹ : کوئی ٹیکس نہ مہنگائی میں اضافہ ، اپوزیشن کو کوئی بڑا ایشو بنانے کا موقع نہ ملا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زیادہ ٹیکس لگائے گئے ہوں یا مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ ہو گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ منی بجٹ میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں کوئی بڑی خبر ایسی نہیں ملی جس پر اپوزیشن کو احتجاج کرنے کا موقع ملے اس سلسلے میں تو حکومت ٹریپ میں آنے سے بال بال بچ گئی۔ اسد عمر کے بارے میں کہا جا رہا ہے انہوں نے وضاحت بھی کی تھی کہ معمولی ردوبدل ہے لیکن کسی نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ اپوزیشن والے جو ڈنڈے سوٹے لے کر تیار بیٹھے ہوئے تھے لیکن ایسا بڑا واقعہ ہوا نہیں ہے جس کو اپوزیشن ایشو بنا سکے۔ جتنا شور مچا تھا کہ ٹیکسوں کی بھرمار کی گئی ہے عوام کا جینا حرام ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ چھوٹی موٹی ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ کوئی خبر ملی نہیں لوگوں کو۔ اسد عمر بال بال بچ گئے۔ جسے سوچا جا رہا تھا کہ ادھر سے منی بجٹ آئے گا ادھر سے ڈنڈے سوٹے لے کر اپوزیشن چڑھ دوڑے کی کہ یہ دیکھیں کیا کر دیا وہ ایسی کوئی چیز دکھائی نہیں دی۔ تین ارب ڈالر رقم پاکستانی خزانے میں مزید مجھے ہو گئی ہے قطر کی طرف سے، قطر نے یہ رقم کس لئے دی ہے یہ اتنی رقم ہے جتنی سعودیہ نے دی تھی۔ میری آئی ایس پی آر کے دوستوں سے بات ہو رہی تھی ایک تو کہا جا رہا تھا کہ نوازشریف صاحب کی حالت بگڑ گئی اس پر کل پرسوں سے خبریں چل رہی ہیں۔ آج ان کے پرسنل ڈاکٹر عدنان نے یہ کہہ دیا ہے کہ ان کی حالت بہت خراب ہے۔ لیکن جو اصل پوزیشن ہے وہ یہ ہے کہ ان کی پرسنل فزیشن کی جو بات ہے وہ جو کارڈیالوجسٹ ہے اور اچھا ڈاکٹر ہو گا لیکن ان کی بات پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا ہے اس کے لئے ضرورت ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے جو ڈاکٹر ہیں جن کا دن رات یہی کام ہے وہ اپنی ماہرانہ رائے دیں کہ کیا واقعی کوئی خطرے کی بات ہے جس کی بنیاد پر ان کو یہاں منتقل کیا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی طرف سے بھی کوئی تصدیق نامہ ااتا ہے تو پھر تو کوئی اگلا قدم اٹھانا چاہئے کہ باہر جانے دیا جائے قطر کی سٹوری ساتھ اس طرح سے جوڑی جا رہی ہے کہ یہ قطری خط بھی آیا تھا۔ قطر نے امداد بھی دی تھی۔ جس میں شیخ رشید اب تک پھنسے ہوئے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں کہ کس طرح سے بچ کر نکل گئے یہ ریٹ نہیں بتا رہے کہ کس طرح یہ این ایل جی خریدی۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے دور میں مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ یہ ریٹ خفیہ تھا اور یہ لوگوں کو نہیں بتایا جا سکتا۔ بہرحال وہی اب تین ارب ڈالر کے پیسے آئے ہیں اور بہت بڑی رقم ہے یہ تقریباً اتنی رقم ہے جتنی سعودی عرب نے دی تھی۔ حالانکہ سعودیہ مالی اعتبار سے قطر سے بہت آگے ہے۔ اس نوعیت میں فوجی دوستوں سے ریٹائر فوجیوں سے اور جو لوگ آج کل آئی ایس پی آر کی دیکھ بھال کر رہے ہیں ان سے بھی لوگ پوچھتے رہتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو وہ بھی کہہ جاتے ہیں لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ آرمی کا نقطہ نظر مجموعی طور پر یہ ہے کہ اگر کوئی این آر او کی بات چل رہی ہے تو ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ ہم عدالت ہیں نہ ہم حکومت ہیں حکومت جو وہ سول حکومت ہے تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ عدلیہ چیف جسٹس کے ماتحت ہے اور جو کچھ انہوں نے کرنا تھا ان کی طرف سے البتہ وقتاً فوقتاً ایسے فیصلے سامنے آ رہے ہیں جن میں نوازشریف صاحب اور ان کے ساتھیوں کو ریلیف مل رہا ہے حالانکہ سب سے بڑا ریلیف یہ تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو شیخ رشید کی رٹ تھی کہ شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سربراہ کیوں بنایا گیا وہ رٹ بھی مسترد ہو گئی۔ اس طرح سے عدالتوں کی طرف سے رفتہ رفتہ ان کے حق میں بھی فیصلے آنے لگے ہیں اور اب یہ نہیں کہا جا رہا کہ اب یکطرفہ ٹریفک چل رہی ہے۔ گرپ تو کمزور ہو رہی ہے کہ قیصر امین بٹ جس کی اتنی سٹوری بنائی گئی اور پھر ان کو گرفترا کرنے کی باتیں آئیں پھر یہ کہا گیا کہ وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں اب وعدہ معافیاں بھی ختم ان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا یہ تو عدالتوں کا موقف ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں میرٹ پر کرتے ہیں البتہ بادی النظر میں دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آج عدالتوں کا جو موڈ ہے وہ اکاموڈیٹو ہے۔ مسلم لیگ ن کے لئے ہے سابق حکمرانوں کے بارے میں ان کا جو گروپ برسراقتدار تھا ان کو رفتہ رفتہ مل رہا ہے۔ اس طرح کی ضمانت میں توسیع بھی ہو گئی ہے۔ ایک بار فیصلہ کر دینا چاہئے کہ ان کو کبھی گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ زرداری کی ضمانت میں توبسیع پر توسیع بتاتی ہے ان کو ”ستے خیراں“ ہیں اور زرداری صاحب تو ماشاءاللہ بڑے خوش نظر آتے ہیں اور وہ جو ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بنے ہوئے، ہنستے مسکراتے چمکدار دانت ان کے جو ہیں لگتا ہے کہ ”ستے خیراں“ ہیں۔ یا تو ان کے خلاف جو رپورٹ تھی وہ غلط تھی یا پھر وہ رپورٹ تو صحیح تھی تو پھر عدالتوں کا نقطہ نظر بدل گیا ہے اور اب لگتا ہے کہ ان کے لئے آسانی ہی آسانی ہے کبھی بار بار فالودے والے دکھائے جا رہے تھے اور رکشہ ڈرائیور دکھائے جا رہے تھے کہان کے اکاونٹس نکل آئے دلچسپ بات ہے کہ جب بھی بینک میں اکاﺅنٹ کھلتا ہے وہ کسی نہ کسی نے تو اٹیسٹ کیا ہوتا ہے جوپہلے سے اکاﺅنٹ ہولڈر ہوتا ہے مجال ہے کہ اب تک کوئی ایک گرفتاری بھی اس عمل میں آئی ہو کہ یہ منیجر جو تھا اس نے غلط اکاﺅنٹ کھولا تھا۔ ان کو کوئی فکر پریشانی ہی نہیں۔ ہمارا کیا تعلق ہے۔ اگر ایسے اکاﺅنٹس کھولے جو اس کے نہیں تھے بینک منیجر ذمہ دار ہے اور اگر اچانک فالودے والے کے اکاﺅنٹس سے اربوں روپے باہر بھیجے جانے لگے تو بھی اکاﺅنٹ کھولنے والا، کھلوانے والا سہولت کار اس کے لئے باہر پیسے بھجوانے والا سارے بینک منیجر ہیں لیکن کوئی ایسی خفیہ قسم کی انڈر سٹینڈنگ ہوئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ میرا تو خیال تھا کہ اس قسم کے کیسز میں کوئی دو چار سو بینک والوں کی گرفتاریاں ہوں گی مگر ایک بندہ نہیں ہے اللہ کا ہے جس کو پولیس نے چھوا بھی ہو لگتا ہے نیب بڑے پیمانے پر کوئی سودے بازی ہوئی ہے۔
ساہیوال واقعہ بارے ایک طرف حکومت صحافیوں کو سیکرٹ بریفنگ کا شور مچاتی رہی دوسری جانب سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وزیر قانون خود بریفنگ میں آئے نہ کسی اعلیٰ افسر کو بھیجا، محض خانہ پوری کے لئے ایک ایڈیشنل سیکرٹری کو بھیج دیا جس نے واقعہ بارے ابہام کو مزید گہرا کر دیا۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہوا تو اس میں رانا ثناءاللہ کا جو بھی کردار تھا وہ سامنے تو آتے رہے، راجہ بشارت تو سامنے ہی نہیں آ رہے۔ پولیس افسران کی قابلیت کا پول اس بات سے ہی کھل جاتا ہے ک ہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے لاہور بھیج دیا، پھر وہاں سے دوبارہ ساہیوال لے جا کر پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ کیا کسی پولیس افسر کو معلوم نہ تھا کہ جائے وقوعہ کے علاقہ میں ہی پوسٹ مارٹم کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ ساہیوال واقعہ بارے افواہوں کا بازار گرم ہے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ ملزم ذیشان کا تعلق کسی انتہا پسند جماعت سے نہیں تھا بلکہ اس سے تعلق تحریک منہاج القرآن سے تھا۔ وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وزیر قانون،ہوم سیکرٹری آئی جی کو ساتھ بٹھائیں اور ایک مفصل رپورٹ تیار کریں پھر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیں تا کہ ابہام ختم ہو اور حقائق سامنے آ سکیں۔

چینی پرنسپل اور 700 بچوں کی ایک ساتھ ورزشی رقص کی ویڈیو وائرل

بیجنگ (ویب ڈیسک ) سوشل میڈیا پر ایک اسکول پرنسپل کی 700 بچوں کے ساتھ ورزشی ڈانس کی ویڈیو مقبول ہورہی ہے جو پرجوش انداز میں بچوں کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کررہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اساتذہ اور بچے ایک ساتھ ورزشی اسٹیپ پر عمل کررہے تھے اور ویڈیو میں اس مہارت کو دیکھ کر لوگ حیران ہورہے ہیں۔ اس کا ایک کلپ اب تک 70 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔چین کے صوبے شانکسی کی لینائی کاو¿نٹی میں واقعہ ڑی گوان پرائمری اسکول کے پرنسپل بھی اس ورزشی ڈانس میں بچوں کے ساتھ شامل ہیں۔ اسکول کی دومنزلہ بلڈنگ پر’انجوائے ہیپی ایجوکیشن‘ لکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے ’ خوشی سے تعلیم کا لطف اٹھاو¿۔‘اس ڈانس کو گائبو کہا جاتا ہے جس میں بازو کی حرکتوں کے ساتھ ساتھ ایڑھی اور انگوٹھوں کے اسٹیپ شامل ہوتے ہیں۔ تاہم چین کے کئی اسکولوں میں ایک عرصے سے بچوں کو سخت مشقت اور ورزشیں کرائی جاتی رہیں جس کا مقصد ان کی صحت کو درست رکھنا اور چاق و چوبند بنانا ہے۔دوسری جنگِ عظیم کےبعد بھی جرمنی اور سوویت یونین کے اسکولوں میں اسی طرح کی ورزش اور ڈانس کے پروگرام رکھے گئے تھے جس کا مقصد بچوں کو ورزش کی ترغیب دلانا اور انہیں جسمانی طور پر لچک دار بنا کر ایک ٹیم کی صورت میں کام کی جانب راغب کرنا تھا۔

کینیا میں سِکوں پر سیاستدانوں کی بجائے جانوروں کی تصویریں کیوں ہوتی ہیں؟

لاہور( ویب ڈیسک ) کینیا میں نئے ڈھالے گئے سکوں پر ملک کے صدور کی تصاویر ہٹا کر جانوروں کی تصاویر چھاپ دی گئیں۔اس سے قبل کینیا کے 3 سابقہ حکمرانوں ، جومو کینیاٹا، ڈینیئل ارام موئی اور موائی کیباکی کی تصاویر چھاپی جاتی تھیں۔

کینیا کے مقامی لوگ کرنسی پر حکمرانوں کی تصاویر کو حکمرانوں کی طرف سے ذاتی تشہیر کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

نئے سکوں پر ملک کی مشہور جنگلی حیات کی تصاویر جیسے شیر، ہاتھی، ذرافے اور گینڈے کی تصویریں چھپی ہوئی ہیں۔

کینیا کے کرنسی نوٹوں پر اب تک ان سابق صدور کی تصاویر چھاپی جاتی رہی ہیں— فوٹو: فائل
کینیا کے حالیہ صدر اوہورو کینیاٹا ، جو کینیا کے پہلے رہنما جومو کینیاٹا کے بیٹے ہیں، ان کے مطابق یہ بہت بڑی تبدیلی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کی قوم نے کتنی جدوجہد کی ہے۔

ڈینیئل ارام موئی کے 24 سالہ دور حکمرانی کے خاتمے کے بعد 2002 میں انتخابات جیتنے والے صدر کیباکی نے کرنسی پر اپنی تصاویر نہ چھاپنے کا وعدہ پورا نہیں کیا اور ان کی تصویر کینیا کی کرنسی پر چھپتی رہی۔

کینیا کے بانی رہنما جومو کینیاٹا کی تصویر کرنسی نوٹ پر — فوٹو: فائل
کینیا کے بانی رہنما جومو کینیاٹا کی تصویر والے نوٹ ابھی بھی گردش میں ہیں۔

جمہوریت اور انسانی حقوق کا بول بالا کرنے کے لیے 2010 میں بے انتہا عوامی دباو¿ پر نیا آئین ملک میں لاگو ہوا۔اس میں یہ درج تھا کہ کرنسی پر اب کسی فرد کی تصویر نہیں چھاپی جائے گی بلکہ اس کی جگہ کینیا کی پہچان سمجھے جانے والے جانوروں کی تصویریں موجود ہوں گی۔

کینیا کے مرکزی بینک نے سکوں کی صورت میں اس وعدے کو پورا کردیا جبکہ نئے چھپنے والے نوٹوں پر یہ تبدیلی آئندہ چند ماہ میں نظر آئے گی۔

بینک کا کہنا ہے کہ جانوروں کا انتخاب نئے اور کامیاب کینیا کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے ماحول کے لیے احترام ظاہر ہوتا ہے۔

حکومتی آمدن میں کمی یا زائد اخراجات‘ منی بجٹ کا باعث بنتے ہیں: ڈاکٹر فرخ ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بجٹ کو اپنی پالیسی کے تحت تبدیل کرنا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا: محمد زبیر ، امریکہ مذاکرات سے آگے بڑھنا چاہتاہے بہتری کی جانب بڑھیں گے: اعجاز اعوان کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

چینل فائیوکے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایک ہی مالی سال میں 3 بجٹ جاری نہیں کئے گئے۔ حکومتی آمدن میں کمی یا اخراجات میں بے پناہ اضافہ منی بجٹ کا باعث بنتی ہے۔ ایف بی آر نے چند ماہ میں170ارب روپے کم وصولیاں کی ہیں جنہیں پورا کرنا ہے۔ حکومتی اخراجات اگلے چھ ماہ میں 5 سے 6 سو ارب روپے اضافی ہوں گے۔جس سے ہر پاکستانی خاندان کو 28سے30ہزار کا ٹیکہ لگے گا،ریلیف کی بات بھول جائیں۔ پاکستان کو 24سے 25ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن غیریقینی کی فضا کو بھی ختم کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کے متبادل حکمت عملی ہے تو واضح کی جائے۔ مختلف ممالک سے بھیک مانگنے ، منی بجٹ کی پالیسی بیکار ہے ، 1.8ارب ڈالر ماہانہ خسارہ ہو رہا ہے۔حکومت میں پالیسی سازی ، فیصلہ سازی کا فقدان ہے اصلاحات ہو تی نظر نہیں آرہی۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی میں زیادہ آنا چاہئے ، انکے آنے سے وزراءتیاری سے آئیں گے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے بجٹ کو اپنی پالیسی کے تحت حکومت کو تبدیل کرنا چاہئے تھا مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ خسارہ بڑھ گیا ہے جسے عوام پر ٹیکس لگا کر پورا کیا جارہا ہے، عوام کے لیے منی بجٹ سے مشکلات میں اضافہ ہونے جا رہاہے۔ حکومت نے اکنامک گروتھ مومینٹم کو تباہ کیا جسکی وجہ سے افراط زر ، خسارہ اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ حکومت کے لیے ڈالرز کی کمی چیلنچ تھا جس کے لیے بہترین راہ آئی ایم ایف کے پاس جاناتھا، جاتے تو پاکستان کی معیثت آج بہتر ہوتی۔ عمران خان ایسا کوئی بین الاقوامی دورہ ہی نہیں کرتے جسمیں بھیک نہ مانگنی پڑے ۔ سینئر تجزیہ کار جنرل(ر)اعجاز اعوان نے کہاکہ امریکا نے طالبان کو ایک قوت تسلیم کرنے کے ساتھ پاکستان کاافغان معاملہ جنگ کی بجائے مذاکرات سے حل کرنے کا موقف بھی تسلیم کر لیا ہے۔امریکا پاکستان کے ذریعے یہ مذاکرات آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ طالبان سے مذاکرات یقینابہتری کی طرف جائیں گے ۔طالبان چاہتے ہیں کہ امریکا ٹایم فریم کے مطابق افغانستان سے نکل جائے ۔ امریکا لچک دکھا چکا ہے ، طالبان اپنی شرائط منوانا چاہیں گے۔ ٹرمپ اگلے انتخابات سے پہلے امریکا سے نکلنا چاہتے ہیں۔ امریکا اپنی ریگولر فورس افغانستان سے نکالنے کا عندیہ دے چکا ہے مگر پینٹاگون اورسی آئی اے افغانستان سے نکلنا نہیں چاہتے۔ افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو ٹرمپ کے حق میں جائے گا ۔اشرف غنی حکومت فوری انتخابات چاہتی ہے ۔پاکستان کا دورہ قطر کا ایک پہلو پاکستان میں سرمایہ کاری اور دوسرا طالبان سے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں تمام ثالثی ممالک کا کردار یقینی بنانا تھا تاکہ امریکا افغانستان سے چلا جائے اور امن قائم ہو۔ سانحہ ساہیوال کے حوالے سے اعجاز اعوان نے کہاکہ انٹیلی جنس بیس آپریشنز میں انٹیلی جنس ادارے معلومات دیتے ہیں ، پولیس کو ڈکٹیٹ نہیں کرتے ۔ آپریشن پولیس کی اپنی ذمہ داری ہے ۔ سی ٹی ڈی کا آپریشن کا طریقہ کار غلط تھا ، معصوم لوگوں کی جانیں گئیں۔ سفاکی، نا اہلی اور بے دردی سے قتل کرنے پولیس اہلکاروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔

سانحہ ساہیوال کے مجرم آپریشن کی اطلاع اور اجازت دینے والے لوگ ہیں، میاں حبیب ،بین الاقوامی فورسز دہشتگردوں کو زندہ پکڑتی ہےں، مجرمان سامنے ہیں کچھ چھپا ہوا نہیں: خالد چودھری،حکمرانوں کی باتیں ان کے گلے پڑ رہی ہیں، مہنگائی رکنے والی نہیں، غریب کی سانسیں چھین رہے ہیں: میاں افضل،بدقسمتی سے قرضہ ملنے پر جشن منایا جاتا ہے، بجٹ کے موقع پر مسکرانا زخموں پر نمک چھڑکنا ہے: اعجاز حفیظ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کےپروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان تجزیہ نگار میاںحبیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں سال کی بجائے چھ ماہ بعد بجٹ آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بجٹ ہمیشہ غریب عوام کو پیستا ہے۔ غریب عوام سر پھوڑ لیں گے یا دیوار گرا دیں گے۔حکومت امپورٹ ڈیوٹی بڑھانے کی بجائے بند کر دے تو کیا مر جائیں گے؟ سانحہ ساہیوال کا مجرم آپریشن کی اطلاع اور اجازت دینے والے ہیں۔ بین الاقوامی فورسز دہشتگردوں کو زندہ پکڑتی ہیں۔ کیس میں تمام مجرمان سامنے ہیں، کچھ چھپا ہوا نہیں۔ حکومت جتنے بھی قرض لے لے۔ زراعت اور انڈسٹریل وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پیداوار نہیں بڑھائی گئی تو کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کے لیے مقامی انڈسٹری کو فروغ دینا ہوگا۔ کالم کار خالد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے اداروں کی اپر کلاس کو ڈالر200 کی روپے پر جانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اثرات غریب کے لیے ہیں، حکمران عوام کو خط غربت سے نیچے لے گئے ہیں، عوام کا غصہ ٹائم بم کی طرح پھٹے گا اور کوئی روک نہیں سکے گا۔ سانحہ ساہیوال میں انصاف ہوگا جیسا اس ملک میں70 سال سے ہورہا ہے۔ کیس کومکمل طور پر بگاڑ دیا گیا ہے۔ ایک فٹ کو فاصلے سے بچوں کو گولیاں ماری گئیں، اتنا ہائی ویلیو ٹارگٹ تھا تو زندہ پکڑتے۔ ساہیوال کیس کا کچھ نہیں ہوگا۔ حکومت کے اللے تللے پرانے نوابوں کی طرح ہیں مگر تنخواہیں بڑھانے کے معاملے پر حکومت، اپوزیشن اور بیوروکریسی ایک ہو جاتے ہیں، وہ جنکی ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن بارہ سے پندرہ لاکھ ہے۔ قرضوں سے صرف عوام پسے گی۔ حکومت انڈسٹری پر توجہ دے۔ تجزیہ کار میاں افضل نے کہا کہ پاکستان کے بچوں کی نشونما نہ ہونے کے بیان دینے والے کے دور میں بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ اس گورکھ دھندے سے عام آدمی کا تعلق نہیں۔ غریب کے بچے سے زہریلا دودھ بھی چھینا جارہاہے، کیا غریب کی سانسیں بھی چھین لیں گے؟ عمران خان کی باتیں انکے گلے پڑ رہی ہیں۔ مہنگائی کا شرح تناسب رکنے والا نہیں۔ حکومت اپنی ترجیحات طے کرے۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر بڑھائی جاتی ہے اور کم ہونے پر عوام کر ریلیف نہیں ملتا۔ سانحہ ساہیوال میں آئی جی پنجاب کو بھی فارغ کرنے کی تیاری تھی مگر چوہدری سرور اڑے آگئے۔ ذیشان لشکر طیبہ کا سرگرم رکن تھا اگر کاروائی کرنی ہے تو اسکے بڑوں کیخلاف کی جائے۔ یو اے ای سے لیا گیا قرض 20سال بعد ڈالرز میں واپس کرنا ہے جو کئی گنا ہوجائے گا۔ ہماری ذراعت اور دیگر انڈسٹریز کوفعال ہونا ہوگا۔ تجزیہ کار اعجاز حفیظ کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اسد عمر ہمارے وزیر خزانہ ہیں۔ انکا ایسے بجٹ کے موقع پر مسکرانہ زخموں پر نمک چھڑکنا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں ہر ماہ بڑھنا منی بجٹ نہیں ہے؟ پہلی مرتبہ حکومت نے سانحہ ساہیوال پر فوری ایکشن لیا،شہباز شریف کے دور میں سانحہ ماڈل ٹاون کا مقدمہ چھ ماہ بعد درج کیا گیا۔ شہباز شریف حمزہ شہباز سانحہ ساہیوال پر سیاست کر رہے ہیں۔ سانحہ ساہیوال ریاست کا ٹیسٹ کیس ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ قرضے ملنے پر جشن منایا جاتا ہے۔

کیا سام سنگ گیلکسی ایس 10 کمپنی کا سب سے مہنگا فون ہوگا؟

جنوبی کوریا (ویب ڈیسک) اس سال ریلیز ہونے والا سام سنگ گیلکسی ایس 10 سام سنگ کی جانب سے پیش کیا جانے والا سب سے مہنگا فون ثابت ہوسکتا ہے۔ اسمارٹ فون کی دنیا سے وابستہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس فون کا ایڈوانسڈ ورڑن 1800 ڈالر یا ڈھائی لاکھ روپےمیں دستیاب ہوگا اور اس کا کم قیمت ورڑن گیلکسی ایس 10 لائٹ سوا لاکھ روپے میں مل سکے گا۔ تاہم یہ محض اب تک ایک قیاس ہے۔اس کی وجوہ بتاتے ہوئے تجزیہ نگاروں نےکہا ہے کہ ایس ٹین میں 12 جی بی ریم اور ایک ٹیرابائٹ کی گنجائش رکھی گئی ہے جو سام سنگ اسمارٹ فون میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں کی گئی تھی۔ تاہم بعض تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ ایک ٹیرابائٹ کی بجائے سام سنگ کے نئے ماڈل میں 6 سے 8 جی بی ریم اور 512 گیگا بائٹ کی گنجائش ہوگی۔یہاں ایک اور بات اہم ہے کہ سام سنگ اپنا پہلا فولڈنگ فون ’ گیلکسی ایف‘ اسی سال کے وسط میں لانچ کرے گا جو گیلکسی فون سے ہٹ کر ہوگا۔ تاہم اگلے ماہ (20 فروری تک) گیلکسی ایس 10 ریلیز ہونے کا قوی امکان ہے۔ دونوں اسمارٹ فون میں بیزل ختم کردیا گیا ہے اور اسکرین کے پیچھے فرنٹ کیمرہ رکھا جائے گا۔ بعض افواہوں کے مطابق گیلکسی ایس 10 میں دو فرنٹ کیمرے لگائے جارہے ہیں جو ایک ساتھ تصویر لے کر کسی سافٹ ویئر کے تحت اس میں تھری ڈی ایفیکٹ کا اضافہ کریں گے۔

پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر ہو گی ، جرمنی سی پیک کا حصہ بن سکتا ہے ، پاکستان اور جرمنی کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ہونا چاہیے، کرپشن کے خاتمہ کیلئے عمران خان کے اقدامات خوش آئند ہیں: جرمن سفیر کی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد(انٹر ویو :ملک منظور احمد ،تصاویر :جان نکلس )اسلام آباد میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے کہا ہے جرمنی مستقبل میں سی پیک کا حصہ بن سکتا ہے،سی پیک کے تحت قائم ہونے والے خصوصی اقتصادی زونز اور دیگر منصوبوں میں شفا فیت لا نے کی ضرورت ہے ،تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا سکے ۔پا کستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہوگئی ہے لیکن اب بھی مسائل موجود ہیں ،لیکن اس سے یہ تاثر قائم کرنا کہ صرف پا کستان میں ہی بم دھماکے ہوتے ہیں با لکل درست نہیں ہے ،میں ذاتی طور پر سوشل میڈیا فیس بک اور ٹوئٹر کے ذریعے دنیا میں پاکستان کا بہتر تشخص ابھارنے کی کوشش کر رہا ہوں ،عمران خان کی نئی حکومت کی طرف سے کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات خوش آئند ہیں ،کرپشن سرمایہ کاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔پاکستان اور بھارت کو اپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے جرمنی اور فرانس کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے ۔جرمنی اور پا کستان کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ہونا چاہیے ۔پا کستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنی رہائش گاہ پر چینل فا ئیو کے پروگرام ڈپلو میٹک انکلیو میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہو ئے کیا ۔پاکستان اور جرمنی کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نے پا کستان آنے سے قبل میرے سے پہلے پا کستان میں خدمات سرانجام دینے والے سابق جرمن سفیروںسے سے اس حوالے سے رائے لی کہ پا کستان اور جرمنی کو کن شعبوں میں مزید تعاون کی ضرورت ہے ،تو سب نے تین شعبوں کی نشاندہی کی ،پہلاپا کستان کے نوجوان اور تعلیمی شعبہ ،پاکستان کی اس وقت آبادی 20کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور سال 2054تک پاکستان کی آبادی میں مزید 10کروڑ کا اضافہ متوقع ہے ،اور اس میں سے ایک بہت بڑی اکثریت تیس سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہو گی ،ان نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت ہماری پہلی ترجیح ہے ،دوسری ایک جدید معیشت ،اور یہاں مجھے کہنا پڑا گا کہ میں اس وقت پاکستان اور جرمنی کے درمیان با ہمی تجارت سے بالکل مطمئن نہیں ہوں ،اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان صرف 2.9ارب امریکی ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے ،جو کہ بہت ہی کم ہے پا کستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور جرمنی دنیا کی ایک بڑی صنعتی طاقت ،ہم باہمی تجارت میں خاظر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں ،میں پا کستان میں جرمنی کی سرمایہ کاری جو کہ 300ملین ڈالر ہے اس سے بھی بالکل مطمئن نہیں ہوں ،جرمن کمپنیاں جو سرمایہ کاری بھارت میں کر رہیںہیں یہ اس سے بہت کم ہے ،میری پوری کوشش ہے کہ اس صورتحال میں بہتری لائی جائے ،اور اس حوالے سے میں پاکستان اور جرمنی دونوں کی چیمبر آف کامرس سے مشاورت کر رہا ہوں۔میں پاکستان میں لوفتھنساائر لائن کی براہ راست پروازیں بھی چاہتا ہوں ،اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ پا کستان انٹر نیشل ائر لائن پا کستان کے صنعتی حب سیالکوٹ سے پیرس اور بارسیلونا کے لیے براہ راست پروازیں شروع کر رہی ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے ۔اور تیسرا شعبہ ماحولیات کا ہے ،کیونکہ پا کستان سمیت دنیا بھر گلوبل وارمنگ سے متاثر ہو رہی ہے ،پاکستان ماحو لیاتی تبدیلیوںسے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا آٹھواں ملک ہے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ،ہمیں دیکھناہو گا کہ جرمن کمپنیاں پا کستان میں آکر کاروبار اور سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہیں ،میرے خیال میں اس کی ایک تو بڑی وجہ ،سیکیورٹی خدشات ہیں ،میں ذاتی طور پر پا کستان کا تشخص بہتر کرنے کی کوششیں کر رہا ہوں ،پاکستان میں اب سیکیورٹی صورتحال میں اب بہتر ی آچکی لیکن اب بھی مسائل موجود ہیں ،پچھلے سال ہی دھماکوں میں 700افراد جاں بحق ہوئے ہیں لیکن اس سے یہ تاثر قائم کرنا کہ پاکستان میں صرف بم دھماکے ہی ہوتے بالکل درست نہیں ہے ،اگر جرمن کمپنیاں پاکستان نہیں آتیں تو ہمیں جرمن کمپنیوں کے پاس جانا پڑے گا میں نے حال ہی میں پا کستان تاجروں کے وفد کی ملاقات جرمن کمپنیوں کے نمائندوں سے دبئی میں کروائی ہے اور ہم نے انھیں بتانے کی کوشش کی کہ پاکستان میں اصل صورتحال ہے کیا ،اس کے ساتھ ساتھ میں ذاتی طور پر سوشل میڈیا فیس بک اور ٹوئٹر کے زریعے دنیا میں پا کستان کا بہتر تشخص ابھارنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ ،جرمن کمپنیوں کے خیال میں پاکستان میں سارا کام چینی ہی کرتے ہیں اور سارے پراجیکٹس بھی چین کوہی مل جاتے ہیں جو کہ کسی حد تک درست بھی ہے لیکن مکمل طور درست نہیں ہے ، آج بھی جب جرمن کمپنیاں مجھ سے سی پیک منصوبوں کے بڈنگ پراسیس کے بارے سوال کرتیں ہیں یا یہ پو چھتیں ہیں کہ ہم سی پیک منصوبوں میں کہاں اور کیسے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں تو میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا،کیونکہ ان منصوبوں کی کوئی ویب سائٹ بھی موجود نہیں ہے جس سے ان کے بارے میں معلومات لی جا سکیں۔سی پیک کے تحت جو چھ خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے جارہے ہیں ،ان میں سرمایہ کاری لانے کے لیے بہت اہم ہے کہ ان کو شفاف بنایا جائے ان کی تمام تفصیلات بھی انٹرنیٹ پر شیئر کی جائیں ،اور اس سلسلے میں ایک پا ک جرمن مشترکہ چیمبر بھی ہونی چاہیے جس پر ہم کام کرہے ہیں ،اور مجھے پوری امید ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت آنے کے بعد سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا ۔سرمایہ کاری میں اعتماد ہی سب سے اہم چیز ہوتی ہے ۔سی پیک میں جرمنی کی شمولیت کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مارٹن کابلر نے کہا کہ ،مستقبل میں جرمنی سی پیک کاحصہ بن سکتا ہے ،بلکہ اس وقت بھی کسی حد تک جرمن کمپنیوں کی سی پیک منصوبوں میں شمولیت کا عمل جاری ہے ،کچھ عرصہ پہلے ہی میں نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور چین کے سفیر کے ہمراہ ایک پاور اسٹیشن کا افتتاح کیا جو کہ جرمن کمپنی سیمنز نے تعمیر کیا تھا ،اس کے ساتھ ساتھ جرمن کمپنیاں کئی پن بجلی منصبوں پر بھی کام کر رہیں ہیں،اب سی پیک کا اگلہ مرحلہ جو کہ خصوصی اقتصادی زونز پر مشتمل ہے کا آغاز ہو رہا ہے ،اور میں یہ چا ہتا ہوں کہ جرمن سرمایہ کار اس منصوبے میں بھرپور طریقے سے سرمایہ کاری کریں اور پا کستانی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں،ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ،پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کے لیے نئی حکومت کی سمت درست ہے ،سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آچکی ہے اور نئی حکومت کرپشن کے خلاف بھی اقدامات اٹھا رہی ہے ،کرپشن بھی سرمایہ کاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ،پاکستان کرپشن انڈیکس میں 180ممالک میں سے 137ویں نمبر پر ہے ان چیزوں سے بھی سرمایہ کاری میں مشکلات پیش آتیں ہیں اس صورتحال میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ،نئی حکومت کی ترجیحات اس حوالے سے درست معلوم ہوتیں ہیں نئی حکومت صحت تعلیم اور کرپشن کے خاتمے پر کام کر رہی ہے ،معیشت کو بھی ایک نئی سمت میں ڈالا جا رہا ہے ان اقدامات کے نتائج راتوں رات نہیں آتے ،لیکن اگر سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہو کہ کسی بھی ملک کی سمت درست ہے تو وہ اس ملک میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں ۔پاکستان میں پانی کی کمی اور ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ ہر کام حکومت پر ڈالنے سے پہلے ہر شخص کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ،ڈیمز کی تعمیر اچھی بات ہے لیکن یہ بہت طویل منصوبے ہوتے ہیں ان کی تعمیر میں بہت وقت صرف ہوتا ہے ،عوام کو گھریلو سطح پر پانی کی بچت کرنی چاہیے ،گھروں میں گاڑیاں دھوتے وقت پائپ کی بجائے بالٹی کا استعمال کرنا چاہیے ،کسی صور میں بھی پانی کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے ۔پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ سیاسی اور سفارتی تعلقات رہے ہیں ،گزشتہ سال پا کستان میں بھی الیکشن ہوئے اور جرمنی میں بھی لیکن اس کے بعد بد قسمتی سے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر کوئی ملاقاتیں نہیں ہوئیں ، ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح سیاسی تعلقات انھیں ملاقاتوں پر منحصر ہوتے ہیںجرمن چانسلر انجیلا مرکل نے عمران خان کو وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد فون کال کرکے ان کو مبارک باد دی اور ان کو جرمنی کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ،مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے جرمنی کا دورہ کریں گے ،میں ذاتی طور پر اس معاملے پر کام کر رہا ہوں ۔افغانستان میں امن کی کوششوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مارٹن کابلر نے کہا کہ ،میں نے سنا ہے کہ امریکی نمائندے برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی پاکستانی حکام سے بامقصد ملاقاتیں ہوئیں ہیں،یہ ایک خوش آئند بات ہے ،افغانستان کے مسئلہ کے حل میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے ،اور پاکستان کا امن بھی افغانستان کے امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے ،اگر افغانستان کی صورتحال خراب ہوتی ہے ۔تو پاکستان پر بھی اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں ،جر من افواج ابھی تک افغانستان میں موجود ہیں اور میں خود بھی دو سال افغانستان میں رہا ہوں اور میں نے اپنی آنکھوں سے وہاں پر شہریوں اور اتحادی افواج کے سپاہیوں کی اموات دیکھیں ہیں،جرمنی کی یہ دیرینہ خوہش ہے کہ ،افغانستان میں سترہ سالہ جنگ کا خاتمہ ہو ،اور مقصد کے حصول کے لیے پاکستان اور ایران سمیت افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا کردار نہایت اہم ہے ۔پاکستان میں توانائی بحران سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں چین نے پا کستان کی بہت مدد کی ہے ،اور گزشتہ حکومت کا بھی اس حوالے سے کردار بہت اہم رہا ہے ،پاکستان نے 1947ءسے لے کر 2013تک 19ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جبکہ گزشتہ پا نچ سالوں میں 11ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی جو کہ ایک بڑا کا رنامہ ہے جرمنی پا کستان کو متبادل زرائع سے توانائی پیدا کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پا کستان نے گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف 80ہزار جانوں کی قربانیاں دیں ہیں،یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا پا کستان سے باہر بہت ہی کم لو گوں کوادراک ہے ۔دہشت گردی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کی بنیادیں سیاسی مسائل میں ہیں جرمنی اس حوالے سے پاکستان کی کوئی زیادہ مدد نہیں کر سکتا،یہ مسئلہ پا کستان کو خود ہی حل کرنا ہو گا ،اگر افغانستان کا مسئلہ جلد حل کر لیا جائے تو پا کستان میں بھی امن آسکتا جو لوگ لڑرہے ہیں ان کو قومی دھارے میں آنا ہو گا ۔پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت اور فرانس اور جرمنی کے درمیان تعلقات میں کئی فرق پائے جاتے ہیں ،فرانس اور جرمنی بالکل مختلف قومیں تھیں جن کا رہن سہن زبان کھانا پینا سب کچھ بالکل مختلف تھا جبکہ پا کستان اور بھارت کے مسائل 1947ءکے بعد شروع ہوئے ،پاکستان اور بھارت کے لوگوں میں کئی مشترکات پائی جاتی ہیں ان لو گوں کا کھا نا پینا ،زبان اور کئی چیزیں مشترک ہیں ،فرانس اور جرمنی کی دوستی کو بھی کئی دہیاں لگ گئیں،اس حوالے سے اسکولوں میں پروگرام شروع کیے گئے جس کے تحت فرنچ اور جرمن طلباءایک دوسرے کے ملکوں میں جا کر تعلیم حاصل کرتے تھے ،تو ایک طرح سے نئی نسل نے پرانی نسل کی دشمنیاں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ،پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی عوامی رابطوں کو بڑھانا ہو گا ،کلچر ڈپلومیسی اور فنکاروں کے تبادے جیسے اقدامات بھی کرنے ہوں گے ،ابھی دونوں ممالک میں بات چیت بند ہے لیکن امیدہے کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد معاملات میں بہتری آئیگی،تعلقات بڑھانے کے لیے لیڈرشپ کا سیاسی عزم بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ،کرتار پور راہداری بھی اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔اسی طرح کھیلوں کی سرگرمیاں بھی تعلقات بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتیں ہیں۔پاکستان کے عوام کو میں یہی پیغام دینا چاہوں گا کہ پاکستان میں نے اپنی زندگی کا بہترین لمحات گزارے ہیں ،غیرملکیوں کی مہان نوازی جاری رکھیں ،ہر کسی کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئیں،کیونکہ یہی عمل کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے ،میں پا کستان میں بہت خوش ہوں ،اور اپنے قیام کے دوران زیادہ سے زیادہ پا کستانیوں سے ملنے کی کوشش جاری رکھوں گا ۔

دنیا کا پہلا ‘ڈبل فولڈ ایبل’ اسمارٹ فون سامنے آگیا

لاہور (ویب ڈیسک ) سام سنگ کا پہلا فولڈ ایبل فون باضابطہ طور پر اگلے ماہ متعارف کرایا جارہا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کا جادو چینی کمپنی شیا?می نے توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

جی ہاں یہ کمپنی ‘دنیا کا پہلا ڈبل فولڈنگ فون’ متعارف کرانے والی ہے۔

ویسے تو شیا?می کے فولڈ ایبل فون کی پہلی جھلک رواں ماہ کے شروع میں سامنے آئی تھی جو کہ کافی دنگ کردینے والی تھی۔

مزید پڑھیں : شیاو?می بھی فولڈ ایبل فون متعارف کرانے کے لیے تیار؟

مگر اب شیا?می کے صدر لین بن نے اس کی تصدیق ایک مختصر ویڈیو میں کردی ہے۔

51 سیکنڈ کی یہ ویڈیو چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو میں پوسٹ ہوئی اور اس فولڈایبل فون کو شیا?می ڈوئل فلیکس یا می فلیکس کا نام دیا گیا ہے۔

یہ فون مکمل اوپن ہونے پر ایک چوکور شکل کے ٹیبلیٹ جیسا لگتا ہے جس میں شیا?می کا آپریٹنگ سسٹم موجود ہے، مگر اسے دائیں اور بائیں جانب سے موڑ کر فون کی شکل دی جاسکتی ہے۔

شیا?می کے صدر نے پوسٹ میں بھی فولڈایبل فون کا اعلان کرتے ہوئے کہا ‘ہم دنیا کا پہلا ڈبل فولڈنگ فون بنارہے ہیں جو کہ ٹیبلیٹ اور موبائل فون کا تجربہ فراہم کرے گا’۔

یہ بھی پڑھیں : شیاو¿می کا پہلا 48 میگاپکسل کیمرے والا فون متعارف

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس فون کو کامیابی ملی تو پھر ہم مستقبل میں بڑے پیمانے پر اس کی پروڈکشن کریں گے۔

رواں ماہ کے شروع میں بھی شیا?می کے اس فولڈنگ فون سے ملتے جلتے فون کی ویڈیو منظرعام پر آئی تھی جو کہ ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے شیئر کی تھی۔

شیا?می کی جانب سے پہلا فولڈایبل فون ممکنہ طور پر اگلے ماہ بارسلونا میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

اس کمپنی کا ایونٹ 24 فروری کو ہوگا جس میں فائیو جی اسمارٹ فون بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر شیاﺅمی اور سام سنگ کے ساتھ ساتھ موٹرولا کی جانب سے بھی فولڈ ایبل فون متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

منشیات روکنا ہے تو نوجوانوں کیلئے کھیل اور تفریح کے مواقع پیدا کریں ،مشاعرے، ادبی محفلیں کم، منشیات کی لعنت پروان چڑھ گئی ہے : ضیا شاہد

لاہور (رپورٹنگ ٹیم) چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے تعلیمی اداروں میں منشیات بارے ایکشن لیا جس پر کافی کام ہوا بھی ہے متعلقہ ادارے متحرک ہوئے اس پر کنٹرول کر نے کی کوشش بھی کی جارہی ہے میں سابق چیف جسٹس کی اس کاوش کو سراہتا ہوں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں یہ لعنت کیوں شروع ہوئی؟ ہمارے زمانے میںسرکاری تعلیمی درسگاہوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے ان میدانوں میں طالبعلم کھیل کود میں مصروف رہتے تھے جس سے ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما پروان چڑھتی تھی لیکن آج کے دور میں پرائیوئٹ تعلیمی درسگاہیں صرف چند کنال یامرلوں زمین پر محدود ہوگئیں ہیں جس میں کھیل کود کے لیے کوئی گراﺅنڈ نہیں ہوتا پھر وہ ادبی مشاعرے جن سے ذہنی نشو و نما ہوتی تھی اس کا فقدان ہے ہمارے زمانے میں ادبی مشاعروں، ملی نغموں کا انعقاد کیا جاتا تھا جس سے شعور پید ا ہوتا تھا لیکن آج کے دور میں یہ مشاغل ناپید ہوگئے ہیں ان کے فقدان کی وجہ سے منشیات جیسی لعنت تعلیمی اداروں میں پروان چڑھ رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کی آگاہی بارے چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا دارہ اس بارے ہر تعلیمی ادارے میں سیمینار کا انعقاد کر ے گا اور منشیات کی روک تھام بارے طالبعلموں کو آگاہی دے گا۔ انہوں نے حکومت کو بھی تجویز دی کہ وہ تعلیمی اداروں میں کھیل کے پروگراموں کو فروغ دیں کھیل کے میدان بنائے جائیں کھیلوں کو فروغ دیا جائے تا کہ نوجوانوں کی مصروفیات بڑھیں۔

جگر کے جان لیوا مرض کا شکار کردینے والی عام عادت

لاہور (ویب ڈیسک ) جگر انسان جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور کچھ لوگوں کے لیے بہت تاخیر ہوجاتی ہے۔جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔مگر ایک عام عادت آپ کو جگر کے امراض کا شکار بنا سکتی ہے، اور وہ ہے میٹھی اشیائ خصوصاً مشروبات کا زیادہ استعمال۔طبی جریدے دی جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹھے مشروبات اور غذاﺅں کا بہت زیادہ استعمال جگر پر چربی بڑھانے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو، جگر کے کینسر یا خراشوں جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ایموری یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ بدقسمتی سے لوگ غذائی عادات پر زیادہ توجہ مرکوز نہیں کرتے ، جس کے نتیجے میں جگر کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ سافٹ ڈرنکس، فروٹ جوسز اور چینی سے بنی غذا?ں کا کم استعمال کرکے لوگ جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں یا اگر اس کے شکار ہیں تو چربی اور ورم کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا صحت مند طرز زندگی کی مدد سے بچوں اور بڑوں میں موٹاپے کی وبا سے جگر پر چربی چڑھنے کی شرح کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔عام طورپر فیٹی لیور کی علامات بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں اور اس کے شکار بیشتر افراد کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔اس تحقیق کے دوران محققین نے 40 ایسے بچوں کا جائزہ لیا جو کہ جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا شکار تھے۔ان بچوں کو 2 مختلف غذائی پلان دیئے گئے ہیں اور 8 ہفتے تک ان پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ایک گروپ کو میٹھے کا استعمال محدود جبکہ دوسرے گروپ کو معمول کی غذا جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھی اشیائ کا استعمال محدود کرنے والے گروپ کے جگر کی صحت میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی اور جگر پر چربی اوسطاً 31 فیصد تک کم ہوگئی، جبکہ دوسرے گروپ میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس سے قبل امریکا کے فنکشنل میڈیکل انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پانی کم پینا بھی جگر کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی براہ راست جگر کی جسم کے نقصان دہ اجزائ کو فلٹر کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جب انسان پانی کا کم استعمال کرتے ہیں تو جگر ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہونے لگتا ہے اور ان اجزائ کو کھونے لگتا ہے جو جسم کے باقی حصوں کی نگہداشت کا کام کرتے ہیں۔