All posts by Daily Khabrain

وفاقی کابینہ نے منی بجٹ کی منظوری دے دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت آج رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔پارلیمنٹ ہاﺅس میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی بجٹ میں دی گئی تجاویز پر بریفنگ دی۔ اسد عمر نے کہا کہ ضمنی بجٹ لانا وقت کی ضرورت ہے، اس سے عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑے گا، وفاقی کابینہ کے ارکان نے اسد عمر کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے آج دوسرا منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس میں سگریٹ اورگاڑیوں سمیت کئی درآمدی اشیاءمہنگی ہونے کا امکان ہے جب کہ تنخواہ داروں کے لیے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 6 سے 8 لاکھ روپے، جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھا کر ساڑھے 17 فیصد ہونے کا امکان ہے جب کہ نان فائلر زائد ٹیکس دے کر گاڑی اور جائیداد خرید سکیں گے۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آج کا دن اہم ہے، تحریک انصاف کی حکومت اپنا اقتصادی ایجنڈا عوام کے سامنے رکھنے جارہی ہے، مالیاتی ایمرجنسی سے نمٹ لیا ہے اب اپنا اقتصادی وژن دے رہے ہیں، 2019ء اصل اہداف کے حصول کا سال ہے۔منی بجٹ پر اپوزیشن نے بھی کمر کس لی اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ اس حوالے سے شہباز شریف کی زیر صدارت اپوزیشن رہنماﺅں کا اجلاس ہوا۔ متحدہ اپوزیشن نے منی بجٹ کے خلاف قومی اسمبلی میں شدید احتجاج اور بجٹ اجلاس سے واک آﺅٹ کا فیصلہ کیا ہے۔اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنما پرپیپلز پارٹی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں انوکھا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، تیسرے بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا، عوام پر نئے ٹیکس نہیں لگنے دیں گے، ایک اور منی بجٹ حکومت کی معاشی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اس حکومت نے ادھار کا کشکول اٹھا کر ملک کی ناک کٹوا دی ہے۔

خدیجہ صدیقی کیس؛ دیکھنا ہے ہائیکورٹ کا نتیجہ شواہد کے مطابق ہے یا نہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے خدیجہ صدیقی قاتلانہ حملہ کیس میں کہا دیکھنا ہے کہ ہائیکورٹ کا نتیجہ شواہد کے مطابق ہے یا نہیں۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خدیجہ صدیقی قاتلانہ حملہ کیس کی سماعت کی۔ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملے کا ملزم شاہ حسین عدالت میں پیش ہوا۔وکیل خدیجہ صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے مقدمہ کے مکمل شواہد کو نہیں دیکھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کا نتیجہ شواہد کے مطابق ہے یا نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ خدیجہ صدیقی ملزم کو جانتی تھی وہ کلاس فیلو بھی تھے، اس کے باوجود ملزم کو 5 دن کی تاخیر سے مقدمے میں نامزد کیوں کیا گیا۔خدیجہ کے وکیل نے کہا کہ حملے کے وقت خدیجہ صدیقی حواس میں نہیں تھی، اس نے ڈاکٹر کو بھی اجنبی قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خدیجہ کی گردن کے اگلے حصے پر کوئی زخم نہیں تھا، وہ بول سکتی تھی۔لاہور میں مئی 2016 میں قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا لیکن خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی تھی۔ خدیجہ کے کلاس فیلو شاہ حسین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا جس کے مطابق اس نے گردن اور دیگر اعضا پر خنجر کے 23 وار کرکے خدیجہ کو شدید زخمی کیا۔ واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی پیش کی گئی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے شاہ حسین کو مجرم ثابت ہونے پر 7 برس قید کی سزا سنائی پھر سیشن کورٹ نے اس کی سزا کم کرکے 5 سال کردی۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے اسے بری کردیا۔ملزم کی رہائی پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ ملزم شاہ حسین کے والد ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی ہیں جنہوں نے از خود نوٹس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں قرارداد پیش کی جو منظور کرلی گئی تھی۔

کیا آپ ایک آسان سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ آپ انگلش حرف X کیسے لکھتے ہیں؟

لاہور( ویب ڈیسک) کیا آپ ایک آسان سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ آپ انگلش حرف X کیسے لکھتے ہیں؟

یعنی پہلے اوپری بائیں کونے سے نیچے کی جانب لکیر کھینچتے ہیں اور پھر دائیں جانب سے؟ یا پہلے دائیں جانب کی لکیر پسند کرتے ہیں؟

تو ایسا لگتا ہے کہ اس حرف کو متعدد طریقوں سے لکھنا ممکن ہے اور اس سوال نے سوشل میڈیا صارفین کو لگتا ہے کہ دیوانہ کرکے رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں : ٹوئٹر پر وائرل تصویر جو ہر ایک کو پسند آگئی

ٹوئٹر پر یہ سوال بہت تیزی سے وائرل ہوا ہے جس میں پوچھا گیا کہ لوگ X کو کیسے لکھتے ہیں۔

ٹوئٹر صارف @SMASEY کے اس سوال نے ہزاروں افراد کو ایک دوسرے سے اختلاف پر مجبور کردیا ہے اور ایسا کافی عرصے سے دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

ٹوئٹر صارف نے پوچھا کہ آپ کس طرح X کو لکھتے ہیں اور پھر 8 طریقے بھی دیئے ہیں، ہر ایک کے پہلے اسٹروک کی رنگت مختلف ہے، یعنی جیسے نمبرون آپشن میں سرخ رنگ دیا گیا، 2 نمبر آپشن میں نیلی لائن اور ایسے ہی تمام نمبرز میں رنگ کے ساتھ بتایا گیا کہ کس طرح ایکس کو تحریر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بلڈ پریشر بڑھا دینے والی وائرل ویڈیو گیم

اس خاتون صارف کے مطابق اس بات پر عام اتفاق ہے کہ امریکی شہری 7 اور 8 نمبر آپشن کو پسند کرتے ہیں جبکہ برطانیہ میں لوگ 5 اور 6 کو ترجیح دیتے ہیں۔

اب تک اسے ہزاروں افراد لائیک کرچکے ہیں جبکہ 21 ہزار سے زائد افراد نے جواب دیا اور 12 ہزار کے قریب ری ٹوئیٹ بھی ہوچکا ہے۔

کچھ لوگوں کو اپنے جواب پر مکمل یقین ہے جبکہ دیگر کو نہیں، اکثر کو تو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ X کو اتنے زیادہ طریقوں سے لکھنا بھی ممکن ہے۔

نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 57 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔سینٹرل پاورپرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں سماعت ہوئی، سماعت وائس چیئرمین نیپرا رحمت اللہ بلوچ کی سربراہی میں تین رکنی اتھارٹی نے کی۔دوران سماعت نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 57 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی، فیصلے سے صارفین پر 4 ارب 20 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔خیال رہے سی پی پی اے نے بجلی کی قیمت میں 63 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی ۔

سانحہ ساہیوال؛ حکومت پنجاب کا جےآئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ منظرعام پر نہ لانے کا فیصلہ

لاہور(ویب ڈیسک ) پنجاب حکومت نے سانحہ ساہیوال جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔لاہورمیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیرقانون بشارت راجہ کا کہنا تھا کہ سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر نہیں لاسکتے، جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی، جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کے تناظر میں جو اقدامات درکار تھے وہ اٹھالیے ہیں، جب تک جے آئی ٹی کی مکمل سفارشات نہیں آتی ابتدائی رپورٹ منظر عام پرنہیں لاسکتے جب کہ آج سانحہ ساہیوال کے حوالے سے امن وامان کی صورتحا ل پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھ لی ہے۔وزیرقانون نے کہا کہ میں اس بیان پر قائم ہوں کہ آپریشن معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جو آپریشن ہوا وہ ایک انفارمیشن کی بنیاد پر کیا گیا، ہم چاہتے ہیں اس مقدمہ کا چالان جلد از جلد مکمل کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کروا دیں جب کہ جو لوگ قصور وار ہیں ان کے خلاف کارروائی کردی گئی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پارٹی رہنماو¿ں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب انصاف کے وعدے کے ساتھ کھڑی ہے، تاریخ میں کبھی اس طرح کے واقعات پر اس قدر تیز ترین فیصلے نہیں ہوئے، 72 گھنٹوں میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے اعلان پرعمل کرکے دکھایا اور سانحہ ساہیوال پر انصاف کی فراہمی کا وعدہ پورا کیا۔واضح رہے ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ماں، باپ اور بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

جنوبی افریقی کھلاڑی کے خلاف ’نسل پرستانہ‘ لفظ کا استعمال، کپتان سرفراز احمد پر پابندی کا خدشہ

دوسرے ایک روزہ میچ کے دوران جنوبی افریقی کھلاڑی اینڈیل پہلوک وایو کے بارے میں بظاہر نسل پرستانہ الفاظ استعمال کرنا پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو کافی بھاری پڑ سکتا ہے۔
ڈربن میں کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقی اننگز کے دوران 37ویں اوور میں پہلوک وایو نے پاکستانی بولر شاہین آفریدی کی گیند پر اپنی نصف سنچری مکمل کی تو اس موقع پر سٹمپ مائیک کے ذریعے کپتان سرفراز کا فقرہ واضح طور پر سنائی دیا گیا جس میں انھوں نے پہلوک وایو کو اردو میں نسل پرستانہ لفظ سے مخاطب کرتے ہوئے ان کی بیٹنگ میں مسلسل خوش قسمتی پر جملہ کسا۔
سیریز کے پچھلے میچز کے بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے
جنوبی افریقہ کی پاکستان کے خلاف پانچ وکٹوں سے جیت
پاکستان نے جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی
گو کہ جملہ ٹی وی پر واضح طور پر سنائی دیا گیا تھا لیکن جب کمینٹیٹر مائیک ہیزمین نے اپنے پاکستانی ساتھی رمیز راجہ سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ‘یہ کافی لمبا جملہ ہے جس کا ترجمہ کرنا تھوڑا مشکل ہے۔’
میچ کی پہلی اننگز میں پاکستان کے 204 رنز کے جواب میں جنوبی افریقی بیٹنگ لائن شدید مشکلات میں تھیں لیکن وان ڈر ڈسین اور پہلوک وایو نے 127 رنز کی ناقابل شکست شراکت جوڑی اور اپنی ٹیم کو جیت دلائی۔
مین آف دا میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلوک وایو نے اپنی اننگز میں 69 رنز بنائے لیکن قسمت نے مسلسل ان کا ساتھ دیا جب ایک بار ڈی آر ایس نے ان کو ایک زندگی عطا کی، اس کے علاوہ متعدد بار وہ یقینی طور پر آو¿ٹ ہوتے ہوتے بچے اور ایک بار تو ان کا کیچ بھی ڈراپ ہوا۔
کرکتتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image caption
اینڈیل پہلوک وایو نے آل راو¿نڈ کھیل پیش کرتے ہوئے چار وکٹیں بھی حاصل کی تھیں
واضح رہے کہ عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے 2012 میں نسل پرستانہ رویہ کے خاتمے کے لیے بنائے گئے قوانین کے مطابق پہلی بار نسل پرستانہ رویہ دکھانے کے الزام میں دو سے چار ٹیسٹ میچ یا چار سے آٹھ محدود اوورز کے مقابلوں میں شرکت کرنے پر پابندی عائد ہوگی جبکہ یہ جرم دوبارہ کرنے پر تاحیات پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا ابھی تک منتظمین نے سرفراز احمد کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں اور نہ ہی اس بات کی تصدیق ہو سکی ہے کہ جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کا اس بارے میں کیا رد عمل ہے۔
البتہ قوانین کی روشنی میں میچ کے منتظمین اپنے طور پر خود قدم اٹھا سکتے ہیں لیکن اس میں دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر وہ کوئی کاروائی کرتے ہیں تو کیا وہ سرفراز احمد کے جملے کو آئی سی سی کے بنائے گئے کھلاڑیوں کے رویے کے قوانین کے تحت جانچیں گے یا نسل پرستانہ رویہ کے خاتمے کے لیے بنائے گئے قوانین کے تحت کاروائی کریں گے۔
آئی سی سی کے قانون میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی کھلاڑی نے اپنے کسی بھی ساتھی کھلاڑی یا میچ کے منتظمین اور شائقین کے ساتھ ان کے نسل، ذات، رنگ، مذہب، ثقافت، قومیت وغیرہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتا تو ان پر ان قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر سرفراز احمد کی جانب سے کہے گئے جملے پر تبصروں کی بوچھاڑ ہو گئی جہاں ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے پاکستانی کپتان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

کترینہ کیف نے ‘بھارت’ کے سیٹ پر کرکٹ کا میدان سجالیا

ممبئی ( ویب ڈیسک ) بالی وڈ اداکارہ کترینہ کیف اس وقت دبنگ اداکار سلمان خان کے ساتھ اپنی نئی فلم ’بھارت‘ کی عکس بندی میں مصروف ہیں، جہاں وہ فلم کے سیٹ پر شوٹنگ کے بعد کرکٹ کے جوہر بھی دکھا رہی ہیں۔اداکارہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہیں کرکٹ کھیلتے اور شاندار شاٹس لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس ویڈیو میں جہاں اداکارہ اپنے کھیل کے جوہر دکھا رہی ہیں، وہیں اس میں رنویر سنگھ کی نئی فلم ’گلی بوائے‘ کا گانا ’اپنا ٹائم آئے گا‘ بھی سنا جاسکتا ہے۔اداکارہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا، ’عکس بندی کے اختتام کے بعد سیٹ پر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ورلڈ کپ قریب ہو‘۔بعدازاں انہوں نے انوشکا شرما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم ٹیم کے کپتان (ویرات کوہلی) کے ساتھ مل کر کچھ کہہ سکتی ہو‘۔آخر میں کترینہ کیف نے خود ہی اپنی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘ مزید بہتری کی ضرورت ہے لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو میں اتنی بری بھی آل راو¿نڈر نہیں‘۔خیال رہے کہ کترینہ کیف اور انوشکا شرما فلم ’جب تک ہے جان‘ کے بعد ایک بار پھر شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’زیرو‘ میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوئی تھیں، جسے گذشتہ ماہ ریلیز کیا گیا۔اب اداکارہ نئی فلم ’بھارت‘ کی عکس بندی میں مصروف ہیں جو رواں برس عید کے موقع پر ریلیز ہوگی۔

انتظار ختم، پریانکا گاندھی بھی سیاست میں آ گئیں

ممبئی (ویب ڈیسک ) بھارت کے مقبول ترین سیاسی گھرانے ”گاندھی“ کے اگرچہ تقریباً متعدد فرد سیاست کا حصہ رہے، تاہم سونیا گاندھی کی بیٹی پریانکا گاندھی اب تک عملی سیاست سے دور تھی۔ پریانکا گاندھی بھارت کے چھٹے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کی بیٹی ہیں۔گاندھی کے بھائی راہول گاندھی پہلے ہی سیاست میں ہیں اور اس وقت اپنے آباو¿ اجداد کی سیاسی پارٹی انڈین نیشنل کانگریس(کانگریس) کے صدر ہیں۔پریانکا گاندھی کی دادی اندرا گاندھی بھی بھارت کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔پریانکا گاندھی بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی بیٹی کی پوتی ہیں۔اگرچہ پریانکا گاندھی گزشتہ چند سال سے کانگریس کی انتخابی مہم میں نظر آتی رہی ہیں مگر وہ تاحال باقاعدہ طور پر سیاست میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔لیکن اب کانگریس نے مخالف سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ٹف ٹائم دینے کے لیے پریانکا گاندھی کو بھی میدان میں اتار دیا۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنی بہن پریانکا گاندھی کو جنوبی اترپردیش کی مرکزی جنرل سیکریٹری کا عہدہ دے دیا۔کانگریس کے مرکزی جنرل سیکریٹری اشوک گلوٹ کے دستخط سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق پریانکا گاندھی آئندہ ماہ فروری کے پہلے ہفتے سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔یہ پہلا موقع ہے کہ پریانکا گاندھی کو پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر عام انتخابات سے قبل اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا گیا۔کانگریس نے نہ صرف پریانکا گاندھی بلکہ دیگر ریاستوں میں نئے افراد کو عہدے دے کر سیاسی جنگ کے لیے تیاری شروع کردی۔پریانکا گاندھی جنوبی اتر پردیش میں رواں سال ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات کے معاملات دیکھیں گی۔فوری طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آئندہ انتخابات میں پریانکا گاندھی انتخابات میں حصہ لیں گی یا نہیں، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ کانگریس انہیں میدان میں اتار کر فائدہ حاصل کرے گی۔یہی نہیں بلکہ کانگریس کی جانب سے بی جے پی کو ٹف ٹائم دینے کے لیے متعدد بولی وڈ اداکارائیں اور اداکار بھی میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی تیار کرلی گئی ہے۔گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ کانگریس بولی وڈ بے بو کرینہ کپور کو ریاست مدھیا پردیش کے شہر بھوپال سے میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔تاہم کرینہ کپور نے ایسی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ ان سے تاحال نہ تو رابطہ کیا گیا اور نہ ہی وہ اس وقت سیاست میں آنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

مستونگ میں پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ شہید

مستونگ ( ویب ڈیسک ) صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کےعلاقے کھڈ کوچہ میں پاک فضائیہ کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہونے سے پائلٹ شہید ہوگئے۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ایف سیون پی جی معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ مستونگ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔ترجمان کے مطابق اس اندوہناک واقعے میں طیارے کے پائلٹ نے جام شہادت نوش کیا۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایئر ہیڈکوارٹرز میں ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا۔اس سے قبل حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ڈپٹی کمشنر مستونگ ممتاز کھیتران کے مطابق کھڈ کوچہ کےعلاقے سے ایک پیرا شوٹ بھی ملا ہے۔

ساہیوال کا واقعہ: سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک ) دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے شہرت رکھنے والا کاو¿نٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پنجاب کیا کبھی ساہیوال جیسے واقعات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن سکتا تھا؟دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جانے والے اس ادارے کے قیام اور موجودہ شکل تک پہنچنے میں اس کے ارتقا پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے امکانات ہمیشہ سے موجود تھے۔ایسا کیوں ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ساہیوال کے واقعے کے پس منظر میں سی ٹی ڈی کے قیام کی وجوہات، اس کے پاس موجود اختیارات، اس کے کام کرنے اور خصوصاً انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے طریقہ کار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ابتدا میں کاو¿نٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پولیس کا کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ تھا۔ سنہ 2007 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی لہرسے داخلی سلامتی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک غیر فوجی ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی۔یہ ایسا ادارہ تھا جو انٹیلی جنس جمع کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے، مجرموں کو سزا دلوانے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اس کے لیے سی آئی ڈی کا انتخاب کیا گیا۔صوبائی سطح پر اس کی موجودگی پہلے سے تھی۔ سنہ 2010 میں سی آئی ڈی کا نام بدل کر سی ٹی ڈی کر دیا گیا جس کا دائرہ کار صوبائی سطح تک بڑھایا گیا۔سنہ 2015 میں سی ٹی ڈی کے لیے مخصوص پولیس سٹیشن قائم کیے گئے جہاں دہشت گردی سے متعلقہ مقدمات درج کیے جاتے اور ان کی تفتیش کی جاتی ہے۔سی ٹی ڈی کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا نظام موجود ہے۔ اس کی روشنی میں ادارہ اپنی کارروائیاں ترتیب دیتا ہے۔ اس کے دفاتر صوبوں کے مراکز کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی قائم ہیں۔چند برس قبل سی ٹی ڈی کے اندر ایک کاو¿نٹر ٹیررزم فورس بھی قائم کی گئی۔ سی ٹی ڈی پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق پڑھے لکھے 1200 جوانوں پر مشتمل اس فورس کو جدید تقاضوں کے عین مطابق پاک فوج اور دوست ممالک سے تربیت دلوائی گئی ہے۔‘تربیت کے بعد انھیں پنجاب بھر میں تعینات کیا گیا، جہاں وہ اپنے مقررہ کام سرانجام دیتے ہیں۔دفاعی تجزیہ کار عامر رانا کے خیال میں یہ فورس ’ٹرینڈ ٹو کِل‘ ہوتی ہے۔ یعنی وہ دہشت گردوں کے خلاف ’جان سے مارنے‘ کی غرض سے کارروائی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہااس میں تو کوئی دو رائے نہیں۔ ان کو جو احکامات ملیں گے انھیں ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کے آپریشنز کی منصوبہ بندی میں ”پورا تھِنک“ ٹینک شامل ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک افسر نے فورس اکٹھی کی اور آپریشن کرنے چل پڑے۔ اس میں دیگر اداروں کی رائے بھی شامل ہوتی ہے۔سی آئی ڈی کے زمانے سے ہی ادارے کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کا موثر نظام موجود ہے۔ عامر رانا کے مطابق سی ٹی ڈی معلومات اکٹھی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔سی ٹی ڈی کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا نظام موجود ہےتاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی طرف سے شت گردوں کے خلاف رد الفساد جیسے آپریشن کیے گئے۔ اس دوران مشترکہ آپریشن بھی کیے جاتے رہے۔ ’اس کے بعد پھر سی ٹی ڈی پنجاب پر باقی اداروں کا اثر و رسوخ آنا شروع ہوا۔خیال رہے کہ ساہیوال کے واقعے کے فوراً بعد بھی جاری کردہ بیان میں سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا تھا کہ مذکورہ کارروائی جس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اس میں پاکستان کے بنیادی حساس ادارے آئی ایسں آئی کی اِن پ±ٹ یا رائے بھی شامل تھی۔کیا ساہیوال میں کچھ مختلف ہوا؟ساہیوال کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ’سی ٹی ڈی کی جانب سے آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا۔‘ سی ٹی ڈی کے مو¿قف کے مطابق یہ آپریشن ساہیوال میں مارے جانے والے چار افراد میں شامل ذیشان نامی شخص کے خلاف کیا گیا۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیشان کے خلاف انٹیلی جنس کی نوعیت ایسی تھی کہ آپریشن کرنے والی ٹیم کو گولی چلانے کے احکامات دیے گئے تھے؟تجزیہ نگار عامر رانا کا خیال ہے کہ اس واقعے کو الگ تھلگ نہیں دیکھنا چاہیے۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق انھوں نے حالیہ دنوں میں گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں ایسے ہی آپریشن کیے تھے۔ ساہیوال آپریشن بھی اس کی ایک کڑی تھا۔’یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ ایک ادارہ جاتی فیصلہ تھا کہ جہاں بھی کوئی مشتبہ افراد ہیں انھیں بےاثر کیا جائے؟ پھر یہ کہ ایسا فیصلہ کس سطح پر اور کس خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا؟پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تجزیہ کار، پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو مانتے ہیں۔ اس میں سی ٹی ڈی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ تاہم صوبہ پنجاب ہی میں سی ٹی ڈی کی موجودگی میں دہشت گردوں کی جانب سے بڑی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ان میں لاہور میں مناواں پولیس اکیڈمی پر حملہ، ایف آئی اے کی عمارت پر دھماکہ، ماڈل ٹاو¿ن، داتا دربار، مال روڈ اور گڑھی شاہو میں بم دھماکوں جیسے واقعات شامل ہیں۔عامر رانا کا ادارہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز ایسے واقعات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سی ٹی ڈی سندھ نے اس جنگ میں نسبتاً زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کالعدم تنظیم داعش کے انصارلاشریعہ جیسے نیٹ ورک ختم کیے ہیں۔سی ٹی ڈی پنجاب کو بڑا خطرہ تین کالعدم گروہوں سے تھا۔ ان میں ایک پنجابی طالبان کے ٹوٹے ہوئے گروپ تھے۔ مگر ان میں سے بیشتر کو قبائلی علاقوں یا پھر افغانستان میں بےاثر بنایا گیا ہے۔’تاہم پنجاب کو جماعت الاحرار جیسی کالعدم تنظیم کا سامنا رہا جسے ختم کرنے میں سی ٹی ڈی پنجاب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی طرح تحریکِ طالبان پاکستان کے چند سلیپنگ سیل ختم کرنے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ جہاں تک داعش یا القاعدہ جیسے بڑے خطرات سے نمٹنے کی بات ہے تو اس کا کریڈٹ تمام اداروں کو مشترکہ طور پر جاتا ہے۔ساہیوال جیسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟حکومتِ پنجاب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ساہیوال کے واقعے میں گولی چلانے والے پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں قتل کے مقدمات چلانے کا حکم دیا ہے۔تمام تر توجیہات کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا گولی چلانا ہی آخری راستہ تھا؟ کسی کے خلاف دہشت گردی کے خدشات تھے تو اسے گرفتار کر کے صفائی کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟عامر رانا کا خیال ہے کہ ایسے واقعات کے بار بار ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی سمیت داخلی سلامتی کے اداروں کو بےپناہ اختیارات تو دیے گئے ہیں تاہم ان کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔اگر ایسے واقعات ہوتے رہے تو ان کے نتائج الٹ بھی نکل سکتے ہیں۔ آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ایسے واقعات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔عامر رانا کا کہنا ہے کہ ساہیوال کے واقعے میں حکومت کے پاس ایسا نظام بنانے کا ایک اور موقع موجود ہے۔