All posts by Daily Khabrain

پی ٹی آئی کا کرارا جوابی وار ، زرداری شدید دباﺅ کا شکار ، سندھ میں گورنمنٹ گرانے کی تیاریاں

کراچی (تجزیہ نگار) پی ٹی آئی کی حکومت جوابی وار کے طور پر سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کیلئے پوری طرح کوشاں ہے۔ سندھ میں مراد علی شاہ حکومت گرانے کے لئے تحریک انصاف کو 49 ارکان درکار ہوں گے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ انہیں پیپلزپارٹی کے فارورڈ بلاک 33 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اسی بنیاد پر فواد چودھری پیپلزپارٹی کو پیغام دے رہی ہے۔ مراد علی رضاکارانہ طور پر وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو مجبوراً پی ٹی آئی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کی حکومت کو چلتا کرے گی۔ اگر پی ٹی آئی ایم کیو ایم، جے ڈی اے تحریک لبیک کو ساتھ ملانے کے علاوہ پیپلزپارٹی کے 33 ارکان کو ساتھ ملا لیتی ہے تو پیپلزپارٹی کے لئے سندھ میں حکومت برقرار رکھنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کو پیپلزپارٹی کے فارورڈ بلاک کے 33 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور پی ٹی آئی مزید ارکان کو ساتھ ملانے کے لئے کوششوں میں مصروف ہے اوراس کو کامیابی ملنے کا امکان بھی موجود ہے۔

حکومت مشکل معاشی فیصلوں سے پہلوتہی کررہی ہے:اقتصادی ماہر وقار مسعود

اسلام آباد (ویب ڈیسک )سیکرٹری خزانہ و اقتصادی ماہر وقارمسعودنے کہا ہے کہ منی بجٹ لانےکامقصدٹیکسوں کی کمی پوری کرناہوتا ہے، حکومت مشکل معاشی فیصلوں سے پہلوتہی کررہی ہے۔سابق وقار مسعو دنے کہا ہے کہ منی بجٹ لانےکامقصدٹیکسوں کی کمی پوری کرناہوتا ہے، آئی ایم ایف کہتاہے پاکستان کی ٹیکس وصولی کمزورہے، پہلے 6 ماہ میں3 فیصد کی گروتھ ہوئی ، حکومت نے 190 ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں کاکہاتھا حکومت کوآدھے ٹیکس انتظامی فیصلوں سے حاصل ہوناہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل معاشی فیصلوں سے پہلوتہی کررہی ہے، گیس کی قیمتیں بڑھانے پرحکومت تنقیدسے گھبرا گئی تھی۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں جانیوالی حکومت آنیوالی حکومت کیلئے مسائل چھوڑجاتی ہے۔

پنجاب میں شدید دھند ، موٹروے بند ، حد نگاہ انتہائی کم

لاہور )مانیٹرنگ ڈیسک( پنجاب کے اکثر علاقے شدید دھند کی لپیٹ میں آگئے۔ شدید دھند کے باعث لاہور سے شیخو پورہ تک موٹروے بند کردی گئی ہے۔لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں نے دھند کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔ سڑکوں پر حد نگاہ انتہائی کم رہ گئی ہے جس کے باعث رات کو سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق لاہور سے شیخوپورہ موٹروے پر دھند کے باعث حد نگاہ 5 میٹر رہ گئی ہے جس کے باعث موٹروے کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس نے ہدایت کی ہے کہ دوران سفر گاڑیوں پرفوگ لائٹس استعمال کی جائیں۔ دھندکے دوران غیر ضروری سفرسے گریز کیا جائے۔ شہری گھر سے نکلنے سے پہلے ہیلپ لائن 130 پر کال کرکے یا ہم سفر ایپ کا استعمال کرکے دھند کے حوالے سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

الوداع ، چیف جسٹس صاحب ، الوداع

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) چیف جسٹس آف پاکستان 2 سال اور 17 دن عوام کی خدمت کرنے کے بعد آج ریٹائر ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اپنے دور میں کئی اہم کیسز کے فیصلے کئے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کیا۔جسٹس ثاقب نثار 18 جنوری 1952ءکو لاہور میں پیدا ہوئے ، پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی،1982ءمیں لاہور ہائی کورٹ سے وکالت کا آغاز کیا،1994ءمیں سپریم کورٹ کے وکیل بنے، 1997ءمیں وفاقی سیکریٹری قانون کے عہدے پر تعینات ہوئے، 1998ءمیں لاہور ہائی کورٹ کے جج اورفروری 2010ءمیں سپریم کورٹ کے جج کا عہدہ سنبھالا۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں ثاقب نثار کو 7 دسمبر 2016ءکو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کیا گیا جس کے بعد انہوں نے 31 دسمبر 2016ءکو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف ا±ٹھایا اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مقدمے پانامہ لیکس پربینچ تشکیل دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں کئی تاریخی کیسز کو نمٹایا گیا۔جن میں جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس، دوہری شہریت،پینے کے پانی کی قلت شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے کئی معاملات پر از خود نوٹسز بھی لیے۔ انہوں نے پانامہ لیکس کیس سننے والے بنچ سے خود کو الگ کرکے شاندار مثال قائم کی۔ اپنے دور میں انہوں نے 43 ازخود نوٹسز لیے،سب سے پہلا از خود نوٹس شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی رہائی پر تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے بنک اکاو¿نٹس، جائیدادوں،ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت، گنے کی قیمتوں، سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال، وکلا کی جعلی ڈگریوں، مارخور کی نسل کے خاتمے،بڑھتی ہوئی آبادی،پینے کے پانی کی قلت،زیر زمین پانی کے کمرشل استعمال،لاہور میں بل بورڈزہٹانے، ہسپتالوں میں سہولتوں کے فقدان اور سرکاری ہسپتالوں میں کمی اور آرمی پبلک سکول انکوائری کمیشن پر ازخود نوٹس لیے۔نوازشریف کی تاحیات نااہلی، انہیں مسلم لیگ ن کی صدارت سے ہٹانے کا کیس، عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سمیت جعلی بینک اکاﺅنٹس سے متعلق مقدمات، اہم ریمارکس اور فیصلے جسٹس ثاقب نثار کی وجہ شہرت بنے۔ نقیب اللہ محسود قتل کیس میں سابق ایس پی راو¿ انواربارہا طلبی کے بعد آخر کار جسٹس ثاقب نثار کے ہی روبرو پیش ہوئے،ڈی پی او پاک پتن کیس اور موجودہ حکومت سے متعلق معاملات میں جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت وفاقی وزرا کوبھی طلب کیا۔کراچی میں ہسپتالوں کی حالت زار اور تھر میں غذائی قلت سے متعلق مقدمے میں جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی طلب کیا۔ جسٹس ثاقب نثار اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2007ء میں سابق صدر پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف ا±ٹھانے سے انکار کیا تھا۔ جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالتے ہی اپنی کارکردگی سے لوگوں میں اپنا مقام بنایا اور کم ہی عرصہ میں عوام میں مقبول ہو گئے ، یہی وجہ تھی کہ عوام انصاف کے لیے چیف جسٹس ثاقب نثار سے اپیل کرنے لگی جبکہ جسٹس ثاقب نثار نے بھی عوام کو انصاف دلوانے اور ان کی فریاد سننے کی حتی الامکان کوشش کی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کل 17 جنوری 2019ءکو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ گذشتہ برس ان کی کارکردگی کے حوالے سے ایک سروے کروایا گیا جس میں 57 فیصد پاکستانیوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا۔ گیلانی ریسرچ فاو¿نڈیشن کے مطابق یہ سروے گیلپ اور گیلانی پاکستان نے منعقد کروایا۔ اس سروے میں 57 فیصد پاکستانیوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا۔ جسٹس ثاقب نثار کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالیں گے۔

انٹر بینک میں ڈالر کی قدر گھٹ گئی، اوپن مارکیٹ میں مستحکم

کراچی (ویب ڈیسک ) انٹر بینک میں بدھ کو روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر گھٹ گئی جبکہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو انٹر بینک میں9پیسے کی کمی سے ڈالر کی قیمت خرید 138.90روپے سے کم ہو کر 138.86روپے اور قیمت فروخت139روپے سے کم ہو کر138.91روپے ہو گئی۔

گوگل پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھنے کی وجہ کیا تھی؟

( ویب ڈیسک )پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے مگر گزشتہ شب گوگل کے نظام میں ایک غلطی نے پاکستانیوں کو خوش کردیا۔منگل کو رات گئے گوگل کے آن لائن کرنسی کنورٹر میں آنے والی خامی کے نتیجے میں متعدد افراد الجھن کا شکار اور حیرت زدہ ہوگئے۔درحقیقت اس وقت گوگل نے پاکستانی روپے کی قدر کو اتنا بڑھا دیا کہ ڈالر کی قیمت لگ بھگ 50 فیصد تک کم ہوگئی۔یعنی ایک ڈالر 76 روپے کا شو ہونے لگا، بلکہ لگ بھگ تمام کرنسیاں پاکستانی روپے کے مقابلے میں سستی ہوگئیں جیسے ایک انڈین روپیہ ایک روپے 7 پیسے کا ہوگیا۔اور صاف ظاہر ہے یہ بات سوشل میڈیا سے دور نہیں رہ سکی اور وائرل ہوگئی جہاں کچھ لوگوں نے تفریحاً نئی حکومت کی ‘تبدیلی’ قرار دیا اور وہ بھی اتنے کم وقت میں۔درحقیقت صرف گوگل نہیں بلکہ مائیکروسافٹ کے بنگ سرچ انجن میں آن لائن کرنسی کنورٹر بھی پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی یہی قیمت دکھا رہا تھا۔لوگ حیران تھے کہ آخر پاکستانی روپیہ اچانک اتنا زیادہ مضبوط کیسے ہوگیا ؟بعد ازاں گوگل اور بنگ میں اسے درست کردیا گیا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی صحیح قدر ظاہر ہونے لگی۔گوگل کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان تو جاری نہیں ہوا مگر ممکنہ طور پر یہ اس تھرڈ پارٹی سروس کی خامی ہوسکتی ہے جو گوگل اور بنگ کی جانب سے کرنسی ایکسچینج ریٹ کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔جیسا ایک ٹوئیٹ میں اس امکان پر روشنی ڈالی گئی۔

ماضی کے آئیکونک ریزر فون کی نئی شکل میں واپسی

لاہور( ویب ڈیسک ) موٹرولا ریزر وہ فون ہے جسے جب متعارف کرایا گیا تو اس نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی تھی اور اب وہ ایک بار پھر نئی شکل میں واپس آرہا ہے۔

اس بار یہ فون فولڈ ایبل اسمارٹ فون کی شکل اختیار کرے گا مگر اس کی قیمت ڈیڑھ ہزار ڈالرز (2 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) ہوسکتی ہے اور یہ اگلے ماہ ہی متعارف ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔

اوریجنل ریزر فون ہر دور کے مقبول ترین موبائل فونز میں سے ایک ہے اور موٹرولا کی پیرنٹ کمپنی لیناوو اس برانڈ کے نام سے فائدہ اٹھا کر اسے فولڈ ایبل اسمارٹ فون کی شکل دینا چاہتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نئی ڈیوائس فی الحال آزمائشی مراحل سے گزر رہی ہے اور اس کے حتمی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوسکیں۔

اس فون کے بارے میں ابھی کوئی ٹھوس معلومات سامنے نہیں آسکی یعنی اس کا اسکرین سائز کیا ہوگا، فیچرز اور کیمرہ کیسا ہوگا، کچھ بھی معلوم نہیں۔

یہ بھی واضح نہیں کہ ماضی کے فلپ ڈیزائن والے اس فون کا اوریجنل ڈیزائن ہوگا جسے کسی قسم کی فولڈنگ اسکرین سے لیس کردیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ریزر برانڈ ایک بار پھر وایسی کی کوشش کررہا ہے، 2011 اور 2012 میں موٹرولا نے ایسی کوشش کی تھی۔

مگر اب کمپنی کو لگتا ہے کہ پرانے اسمارٹ ڈیزائن کو جدید شکل دے کر اپ ڈیٹ کرنا لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : موبائل فونز کے بارے میں 8 حیران کن حقائق

نوکیا فونز کا لائسنس رکھنے والی کمپنی ایچ ایم ڈی نے 3310 اور 8110 کو دوبارہ نئی شکل میں متعارف کرایا جو کہ کامیاب بھی ہوئے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق لیناوو کو توقع ہے کہ 2 لاکھ نئے ریزر فون فروخت ہوسکتے ہیں جو کہ ڈیڑھ ہزار ڈالرز والے فون کے لیے کافی بڑی سوچ ہے۔

مگر خیال رہے کہ ریزر وی تھری جب متعارف کرایا گیا تھا تو دنیا بھر میں اس کے 130 ملین یونٹ فروخت ہوئے تھے۔

مائیکرو سافٹ بھی فولڈ ایبل فون متعارف کرانے کیلئے تیار؟

لاہور(ویب ڈیسک ) کو فولڈ ایبل فونز کا سال قرار دیا جارہا ہے، چین کی کمپنی رائل کراپ کے فلیکس پائی اور سام سنگ کے پہلے کمرشل فولڈ ایبل فون کے بعد اب مائیکروسافٹ بھی اس دوڑ کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔

یہ کمپنی مستقبل میں کسٹمائز ونڈوز انٹرفیس کو مستقبل میں فولڈ ایبل ڈیوائسز کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ورج کے مطابق مائیکرو سافٹ نے مستقبل میں ونڈوز اور سرفیس مصنوعات کے لیے اپنی توجہ فولڈ ایبل فونز اور ڈوئل اسکرین ڈیوائسز پر مرکوز کردی ہے۔

یہ کمپنی ونڈوز کے ایسے اپ ڈیٹ ورڑن پر کام کررہی ہے جو فولڈ ایبل اسکرین والی ڈیوائسز پر اپلیکشن چلانے میں مدد دے سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مائیکرو سافٹ انٹیل اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ مل کر ونڈوز پر چلنے والی فولڈ ایبل ڈیوائسز کے لیے بھی کام کررہی ہے اور یہ ڈیوائسز ٹو ان ون لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کی جگہ لیں گی۔

مائیکرو سافٹ کے حوالے سے کافی عرصے سے یہ رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ وہ ایک فولڈ ایبل سرفیس ڈیوائس پر کام کررہی ہے جسے Andromeda کا کوڈ نام دیا گیا ہے۔

مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے ونڈوز پر چلنے والا پہلا فولڈ ایبل فون رواں سال کے آخر میں کسی وقت متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں دی ورج کی ہی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مائیکروسافٹ کی جانب سے اس ڈیوائس پر خاموشی سے کام کیا جارہا تھا اور مانا جارہا تھا کہ یہ ایسا ٹیبلیٹ ہوگا جو موبائل اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے درمیان ایک نئی حد قائم کرے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیب میں آجانے والا یہ نیا ٹیبلیٹ اپنے ساتھ جدید ترین ہارڈوئیر اور سافٹ وئیر تجربہ صارفین کو فراہم کرے گا۔

تاہم مائیکرو سافٹ کو ڈوئل اسکرین اور فولڈ ایبل ڈیوائسز کی مارکیٹ میں سخت مسابقت کا سامنا ہوگا۔

گوگل پہلے ہی ایسے ڈیوائسز کی سپورٹ اینڈرائیڈ میں فراہم کرنے کا اعلان کرچکی ہے جبکہ فولڈ ایبل فونز مارکیٹ میں آنے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔

مٹی کے استعمال سے ‘موٹاپے میں کمی’ ممکن؟

لاہور (ویب ڈیسک ) موٹاپے کے علاج کے لیے عموماً لوگ ورزش، ڈائیٹنگ اور ادویات کا سہارا لیتے ہیں تاہم حال ہی میں محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ مٹی کی ایک خاص قسم کو رات کے کھانے کے ساتھ کھانے سے موٹاپے میں کمی میں مدد مل سکتی ہے۔اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق ہر سال عالمی معیشت کو موٹاپے کی وجہ سے 2 کھرب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور دنیا بھر کے مختلف ممالک موٹاپے سے بچاو¿ کے لیے کثیر اخراجات کر رہے ہیں، لیکن حال ہی میں یونیورسٹی آف ساو¿تھ آسٹریلیا کی ایک تحقیق میں موٹاپے کا آسان ترین حل بتایا گیا ہے۔پی ایچ ڈی کی طالبہ تاہنی ڈیننگ کی قیادت میں دیگر محققین نے جسم میں ادویہ کے جذب ہونے کے عمل میں مٹی کے اثرات پر تحقیق کی، جب انہوں نے دیکھا کہ مٹی کے ذرات آنتوں میں جانے والے چکنائی کے ذرات کو جذب کر رہے تھے۔تاہنی ڈیننگ نے سائنس ڈیلی کو بتایا کہ ’یہ بہت حیران کن ہے، میں جسم میں اینٹی سائیکوٹک ادویات کے جذب ہونے میں مٹی کے ذرات کے اثرات پر تحقیق کر رہی تھی جب میں نے دیکھا کہ مٹی کے ذرات دوائی کے جذب ہونے میں مدد دینے کی بجائے چکنائی کو جذب کر رہے تھے۔آسٹریلوی محقق نے مزید کہا کہ ’مٹی کےذرات نہ صرف خود چکنائی کو جذب کر رہے تھے بلکہ وہ انہیں جسم میں جذب ہونے سے بھی روک رہے تھے‘۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں مونٹ موریلونائٹ (قدرتی چکنی مٹی جو گندگی اور لیپونائٹ سے پاک ہے) کے اثرات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے لیبارٹری میں چوہوں کو چکنائی سے بھرپور غذا کھلائی اور انہیں 3 گروہوں میں تقسیم کیا، ایک کو مونٹ موریلونائٹ، دوسرے کو بے ضرر دوا اور تیسرے گروہ کو اورلی اسٹیٹ (وزن کم کرنے کی معروف دوا) کھلائی اور 2 ہفتے تک ان کی نگرانی کی۔

اس عرصے میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چکنی مٹی اور اورلی اسٹیٹ نے چوہوں کی وزن میں کمی کی تھی، لیکن چکنی مٹی کے اثرات دوائی کے مقابلے میں زیادہ تھے۔

روزانہ کتنے انڈے وٹامن ڈی کی کمی سے بچاتے ہیں؟

لاہور (ویب ڈیسک ) وٹامن ڈی جسم کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے جو کہ ہڈیوں، دانتوں اور مسلز کو صحت مند رکھتا ہے۔مگر اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں جسم کے لیے کیلشیئم کو ریگولیٹ کرنا مشکل ہوتا ہے۔وٹامن ڈی کی بہت زیادہ کمی ہڈیوں میں درد، موسمی بیماریوں کا آسان شکار، ہر وقت تھکاوٹ، ہڈیوں کی کمزوری، ڈپریشن، خطرناک انفیکشن، خون کی شریانوں کے امراض (بلڈ پریشر، فالج یا ہارٹ اٹیک وغیرہ)، ذیابیطس، بانجھ پن، کمردرد، بالوں کا گرنا اور بہت زیادہ پسینے جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ ناشتے میں انڈے کھا کر اس کمی سے بچ سکتے ہیں۔انڈوں ان چند غذاﺅں میں سے ایک ہے جو قدرتی طور پر وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہیں اور 2 انڈوں میں 3.2 ایم سی گی وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے اور ہفتہ بھر میں 6 انڈے کھانا صحت کو اچھا بنانے کے لیے کافی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق انڈوں میں موجود وٹامن ڈی اور دیگر اجزا اچھی صحت کے ساتھ عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والی بیماریوں کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔اسی طرح انڈے جسمانی وزن میں کمی، یاداشت کو بہتر بنانے، آنکھوں اور ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔اور یہ خیال رہے کہ وٹامن ڈی کی کمی انتہائی عام عارضہ ہے جس کے شکار دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہیں۔چونکہ یہ وٹامن صحت اور لمبی عمر کے لیے لازمی ہے تو اس کی کمی دور کرنا بھی ضروری ہے۔انڈوں کا زیادہ استعمال اس حوالے سے فائدہ مند ہے جبکہ چربی والی مچھلی بھی اس میں مدد دے سکتی ہے تاہم وہ کافی مہنگی ثابت ہوتی ہے۔واضح رہے کہ 50 سال سے کم عمر افراد کو روزانہ 5 ایم سی جی وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ 50 سے 65 سال کی عمر کے افراد کے لیے یہ مقدار 10 ایم سی جی اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے 15 ایم سی جی ہے۔انڈوں کے ساتھ سورج میں روزانہ بیس سے 30 منٹ گھومنا بھی وٹامن ڈی کی کمی کے خطرے سے بچاتا ہے۔