All posts by Daily Khabrain

سونا کشی سنہا اپنی ماں کی حقیقی بیٹی نہیں اداکارہ بارے حیران کن انکشاف

ممبئی (این این آئی) دنیا بھر میں طرح طرح کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں جن کا حقیقت سے دور تک بھی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسی ہی ایک افواہ بالی ووڈ اداکارہ سوناکشی سنہا کے بارے میں بھی گردش میں ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ماں پونم سنہا کی حقیقی بیٹی نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے باپ شتروگھن سنہا اور اداکارہ رینا رائے کی ناجائز بیٹی ہیں۔یہ افواہ اس وقت پھیلی جب سوناکشی سنہا نے 2010 میں سلمان خان کے مد مقابل دبنگ فلم میں انٹری دی۔ مداحوں کو یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ سوناکشی سنہا کا ناک نقشہ اپنی ماں پونم سنہا کی بجائے ماضی کی اداکارہ رینا رائے سے ملتا ہے۔ اس افواہ کو شتروگھن سنہا اور رینا رائے کے ماضی کے معاشقے نے اور زیادہ تقویت دی جس کے بعد ہر طرف سوالات کی بوچھاڑ ہوگئی۔واضح رہے کہ اداکار شتروگھن سنہا اور اداکارہ رینا رائے کا سات سال تک معاشقہ چلتا رہا ہے۔ 1980 میں شتروگھن سنہا نے پونم سنہا سے شادی کرلی تھی لیکن شادی کے بعد بھی ان کا رینا رائے سے معاشقہ چلتا رہا اور اس بات کا انہوں نے اپنی سوانح حیات میں بھی اعتراف کیا ہے۔سوناکشی سنہا کی والدہ ہونے کے حوالے سے رینا رائے نے تمام خبروں کی تردید کردی تھی اور کہا تھا کہ جب انہوں نے ایک فلم میں کام کیا تو انہیں خود بھی اداکارہ آشا پاریکھ کی بیٹی قرار دیا گیا تھا۔ یہ باتیں بالی ووڈ میں چلتی رہتی ہیں لیکن ان پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔اس حوالے سے اداکارہ سوناکشی سنہا بھی بات کر چکی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جو میرے باپ اور رینا رائے کے درمیان ہوا وہ میری پیدائش سے بہت پہلے کی بات ہے اس لیے میں اس بارے میں زیادہ نہیں سوچتی جبکہ پونم سنہا ہی میری حقیقی ماں ہیں۔بظاہر دیکھا جائے تو سوناکشی سنہا اور رینا رائے میں بے حد مماثلت ہے اور 2013 میں بننے والی فلم ہمت والا میں بھی سوناکشی نے رینا رائے کی طرح کا روپ دھارا تھا لیکن مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔بالی ووڈپر نظر رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ سوناکشی سنہا 1987 میں پیدا ہوئی تھیں جبکہ ان کے والد نے 1980 میں شادی کی تھی اور ان کا رینا رائے سے شادی کے بعد بھی 1981 تک معاشقہ چلتا رہا ہے۔ رینا رائے نے پاکستانی کرکٹر محسن حسن خان سے یکم اپریل 1983 کو کراچی میں شادی کرلی تھی جس سے ان کی ایک بیٹی صنم خان ہے۔

زمیندار کا ساتھیوں کیساتھ گھر گھس کر خاتون پر وحشیانہ تشدد ، ” خبریں ہیلپ لائن “ میں انکشاف

بہاولنگر (تحصیل رپورٹر) بہاولنگر جہاں ظلم وہاں خبریں ہیلپ لائن بنا مظلوم کی آواز نسیم بی بی انصاف لینے کے لیئے خبریں آفس بہاولنگر پہنچ گئی خبریں ہیلپ لائن کی ٹیم ملک مقبول احمد سے گفتگو کرتے ہوئے نسیم بی بی نے بتایا کہ گاﺅں سوہیل سنگھ کی رہائشی ہوں میں گھر میں اکیلی تھی تو وڈیرہ زمیندار جس کا نام ولی محمد اور علی محمد ہے وہ تین افراد سمیت میرے گھر میں داخل ہو گیا اور مجھے پکڑ کر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا جس پر میں بے ہوش ہوگئی اور اہل علاقہ کے لوگوں نے آ کر مجھے بچایا میں درخواست لے کر تھانہ گھمنڈ پور کے ایس ایچ او کے پاس کئی بار جا چکی ہوں جس کی ابھی تک میری کوئی کاروائی نہ ہوئی ہے میری ڈی پی او بہاولنگر میڈم عمارہ اطہر سے اپیل ہے کہ مجھے انصاف دلوایا جائے اور میرے پر ہونے والے تشدد کا فوری نوٹس لیا جائے تفصیلات کے مطابق با اثر زمیندار وڈیرہ ولی محمد اور علی محمد سمیت تین افراد کا خاتون نسیم بی بی پر وحشیانہ تشدد ہونے پر پولیس کی طرف سے کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے خلاف انصاف لینے کے لیئے متاثرہ خاتون سمیت اہل علاقہ کے لوگوں نے تھانہ گھمنڈ پور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر میڈم عمارہ اطہر سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ ہمارے ساتھ ہونے والے ظلم کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے متاثرہ خاتون نسیم بی بی نے بتایا کہ میں اور میرے خاوند محنت مزدوری کرتے ہیں اور ہم غریب آدمی ہیں مجھ پر تشدد کرنے والے ملزمان وڈیرے اور زمیندار ہیں جس کی وجہ سے پولیس نے میری کاروائی نہیں کی اور مجھے اب جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔

احتساب کے شکنجے سے ڈر کر ن لیگ ، پیپلز پارٹی نے اتحاد کر لیا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عدالت نے حمزہ شہباز کے بارے میں جو مناسب سمجھا حکم جاری کیا۔ یہ اچھی بات ہے کہ ان کو ریلیف مل گیا۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے ان کے خلاف جو کیس تھے وہ اس کی بنا پر ان کا نام بلیک لسٹ میں آیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ اس وعدے پر باہر جا رہے ہیں کہ میں واپس آ جاﺅں گا تو پھر یقین کر لینا چاہئے جب سے یہ خبر سنی ہے۔ دو چار لوگوں سے فون پر بات ہوئی ہے تو اکثر لوگوں کے پیسے باہر ہوتے ہیں وہ وقتاً فوقتاً باہر جاتے رہتے ہیں اور اپنے معاملات کو مینج کرتے ہیں۔ حمزہ شہباز کے بھی اسی قسم کے مالی معاملات ہوں گے ان کا ساری دنیا میں کاروبار پھیلا ہوا ہے اور ان کے کزنز کا تو اس لئے وہ ظاہر ہے جو آدمی جب تک خود موجود نہ ہو اور بینکوں میں کبھی کبھار جانا پڑتا ہے اور چیک کرنا پڑتا ہے کہ میرے پیسے پہنچ گئے ہیں کہ نہیں۔ انہوں نے پیسوں کے علاوہ یہ باہر جا کر کیا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کون سی ان کی ضرورت ہے جو یہاں پوری نہیں ہوتی۔ اثاثہ جات کی تفصیل جمع نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے سینکڑوں ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کئے جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں تو یہ محسوس کرتا ہوں کہ قومی اسمبلی یا سینٹ کے ارکان اسمبلی کو نوٹس بھی بھیجے گئے ہوں گے اور ان کو کوئی مہلت بھی دی گئی ہو گی بار بار شاید خط بھی لکھے جاتے ہیں لیکن لگتا ہے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد انسان میں اتنا گھمنڈ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ چھوٹے موٹے کامو ںکو وہ کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا۔ اب الیکشن کمیشن کو ہر سال یہ درست ہے کہ جب یہ لوگ اثاثہ جات کی تفصیل جمع کروا دیں گے تو ان کی رکنیت بحال ہو جائے گی۔ دو دن کا یہ مسئلہ لیکن یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے ارکان پارلیمنٹ کتنے سیریس ہیں اپنے ہی بنائے الیکشن کمیشن کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ 332 ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اس مقصد کے لے اسمبلیوں میں جاتے ہیں کہ اپنے اپنے کام کاج کی دیکھ بھال کر سکیں یا سیاست سیاست کھیل سکیں جس طرح کہ اب لگتا ہے کہ جتنے بھی لوگ سیاست میں تھے وہ سیاست کھیل رہے تھے نہ۔ اس کھیل ہی کھیل میں انہوں نے توجہ نہیں دی اب یہ ظاہر ہے کہ جس ملک کے ارکان پارلیمنٹ اپنے ملک کے الیکشن کمیشن کی بات نہ مانیں ان کے بارے میں کیا رائے قائم کی جا سکتی ہے جس میں میں حیران ہوں فواد چودھری، قاسم سوری سمیت اس میں 332 لوگ شامل ہیں۔ جب یہ لوگ جوان کو وقت دیا گیا ہے کل یہ فارم پر کر کے اسے دیں تو پرسوں ان کی رکنیت بحال ہو جائے گی۔ لیکن لگتا ہے کہ ایسے کاموں میں ان لوگوں کی دلچسپی کم ہے ذرا کچھ باہر اس سے زیادہ کام ہیں تو ہمارے جو ارکان اسمبلی انجام دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے کل کے اجلاس میں شہد خاقان عباسی کا بلاول بھٹو کے حق میں ایک بیان سامنے آنے پر کیا قیامت آ جاتی اگر بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جاتا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا اچھی بات ہے اور مسلم لیگ کے لوگ تو آج کل بہت خیال رکھتے ہیں پیپلزپارٹی کا حتیٰ کہ کافی برسوں سے ”آج میری واری کل تیری واری“ کا کھیل کھیل رہے تھے لیکن ایک دوسرے کو کھلی چھٹی دی ہوئی تھی انہوں نے کہ اس ملک کا جو چاہیں حشر کریں اس کے بعد اب جونہی موقع ملا ہے کہ جب ایک بڑے مخالف کے مقابلے میں یہ اکٹھے ہو گئے ہیں آصف زرداری جن کے بارے خود شہباز شریف یہ کہتے تھے کہ میں ان کو بھاٹی گیٹ چوک میں جو جلسہ ہوا تھا مجھے اچھی طرح سے یاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں آصف زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔ اب دونوں احتساب کے شکنجے میں کسے جانے کی جب سے خبریں عام ہوئی ہیں اس وقت سے اچانک ان کے دلوں میں ہمدردی جاگ گئی ہے چنانچہ آج کا اپوزیشن کا اتحاد کس کے خلاف اتحاد ہے۔ یہ اصل اتحاد اس بات کے خلاف ہے کہ پہلے تو ہم باری باری کھیلتے تھے اب تیسرا آ کر ہم دونوں کو پکڑ کر احتساب کی طرف کیوں دھکیل رہا ہے چنانچہ دیکھتے ہی چار چار پانچ پانچ سال باریاں لیتے تھے آپس میں۔ پھر ایک دوسرے کی باری میں فرینڈلی اپوزیشن کہا جاتا تھا خورشید شاہ کو اور جب اثاثہ جات ان کے کھلے تو آپ دنگ رہ جائیں گے کیونکہ ظاہر میں وہ اپوزیشن لیڈر تھے لیکن ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل کام ان کے لئے آسان تھا کیونکہ ان کی فرینڈلی اپوزیشن کی وجہ سے ان کے کام بہت ہوتے تھے۔ چنانچہ سکھر کا جو ان کا حلقہ انتخاب ہے اس کا نہیں بلکہ کراچی سے لے کر پشاور تک جس کو نوازنا چاہتے تھے وہ نوازتے تھے اور ملازمتیں اور مختلف قسم کے ٹھیکے اور پوسٹنگ ٹرانسفارز خورشید شاہ کی عملاً حکومت تھی یعنی نوازشریف وزیراعظم تھے باقی ڈپٹی وزیراعظم تو خورشید شاہ صاحب تھے۔ حکومت کو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے حوالے سے اتحاد پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے مزید کہا کہ جب ان دونوں نے برداشت کر لیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب نوازشریف ہیلی پیڈ پر اپنی گاڑی لے کر گئے تھے اور زرداری صاحب پہلے لاہور ایرئپورٹ پر اترے وہاں سہ ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر وہ اپنی رہائش گاہ ہے جاتی امراءمیں اس میں پہنچے تھے خود ہیلی پیڈ سے ریسیو کرنے گئے آصف زرداری کو ریسیو کرنے گئے اس وقت بھی چھوٹے بھائی جو تھے نے جو اپنی نام نہاد لڑائی تھی برقرار رکھی چنانچہ اس دن فیملی کے سارے لوگ موجود تھے اور حتیٰ کہ ان کے اہل خاندان بھی موجود تھے اور زبردست کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن شہباز شریف صاحب اس وقت تک اپنی تقریر نہیں بھولے تھے۔ بھاٹی گیٹ میں ان کو گھسیٹنے والی۔ لہٰذا وہ اس میں شامل نہیں تھے لیکن اب چونکہ صورت ایسی آن پڑی ہے کہ اب یہ سارے کے ساتھ جو ہیں بلی اور چوہے والا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے کلے مل رہے ہیں وار ناچ کود رہے ہیں اور بڑے اپنے آپ کو سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے زندگی بھر کا اثاثہ ہمیں مل گیا ہے۔
سندھ میں دونوں اطراف سے داﺅ پیچ جاری ہیں، زرداری نواز گروپ وفاقی حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش رکھتے ہیں، عمران خان سمجھتے ہیں کہ سندھ ان کا آخری قلعہ ہے اس لئے سندھ حکومت ختم کر دینی چاہئے۔ عمران خان کو سندھ سے پی پی کے 30 ارکان کی حمایت بھی مل گئی تو سندھ حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ یہ سارا گنتی کا کھیل ہے جس کی گنتی پوری ہو گئی دوسرے کو گرا دے گا۔ ابھی کھیل کی شروعات ہوئی ہے۔ جمہوریت میں یہ کھیل چلتا ہے۔ اگلے ایک سے دو ماہ میں صورتحال واضح ہو جائے گی بلی تھیلے سے باہر آ جائے گی زرداری شہباز یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس آخری موقع ہے اگر وفاقی حکومت کو گرا دیتے ہیں تو احتساب سے بچ جائیں گے اور پرانا کھیل شروع ہو جائے گا۔ سندھ پیپلزپارٹی کا آخری قلعہ ہے اس لئے سندھ کارڈ کھیلنے پر آ چکے ہیں۔ آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کی بات ہوئی، اومنی گروپ سامنے آیا تو بلاول کو فوراً سندھ کے حقوق یاد آ گئے ہیں۔ سندھ کے وزراءنے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وفاقی وزیروں کی سندھ داخل نہیں ہونے دیں گے۔ عمران خان نے بھی ایم کیو ایم سے بات چیت شروع کر دی ہے کیونکہ اس کا سندھ میں ایک خاص کردار ہے تاہم خدشہ ہے کہ متحدہ والے مطالبات پیش کریں گے کہ ہمارے دفاتر کھولے جائیں یہ کھیلیں گے کہ بھتہ لینے کی بھی اجازت دی جائے، پیسے اکٹھے کرنے کی کھلی چھٹی دی جائے۔ اگلے دو ماہ میں سیاسی میلہ لگا رہے گا۔ 18 ویں ترمیم کر کے صوبوں کو اتنے اختیارات دے دیئے گئے کہ وفاق ان کے آگے بے بس نظر آتا ہے۔ شیخ رشید سمیت کئی سیاستدان اسے چیلنج کرنے کا کہہ چکے ہیں اس معاملہ کو سپریم کورٹ لے جانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ آئین کے مطابق کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا کہ جس سے ملک کی سالمیت خطرے میں پڑے۔ سپریم کورٹ میں آخری فیصلہ کرے گی کہ یہ ترمیم آئین کے تحت ہے یا خلاف ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مینگل پارٹی سے جو معاہدہ کیا ہے اس کا پاس کرنا چاہئے کہ سیاسی معاہدے توڑنے کے لئے نہیں جوڑنے کے لئے ہوتے ہیں وفاقی حکومت کو چاہئے کہ سنجیدگی سے ان کے مطالبات پر غور کرے اور ان پر کام شروعکرے۔ کیونکہ ایک جانب سندھ کا معاملہ چل رہا ہے ایسے میں وفاقی حکومت بلوچستان حکومت بھی ہاتھ سے کھونے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عمران خان اس وقت ایک اتحادی کو کھونا برداشت نہیں کر سکتے جب انہیں ایک ایک ووٹ کی سخت ضرورت ہے۔ عمران خان پوری کوشش کریں گے کہ مینگل گروپ سے کئے معاہدے کو پورا کریں۔
گوجرانوالہ میں ایک بار پھر حوا کی بیٹی تیزاب گردی کا شکار ہوئی جو افسوسناک ہے۔ معاشرے کو اس حوالے سے خود آگے بڑھنا ہو گا۔ اگر کسی گھر میں جھگڑا فساد ہوتا ہے تو یقینی طور پر محلے داروں، عزیزواقارب کو پتہ تو چل جاتا ہے انہیں خاموش رہنے کی بجائے مصالحت کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔

وزیراعظم کیخلاف نااہلی کی درخواست صرف عمران خان پر سیاسی دباﺅ ڈالنے کی کوشش ہے: خالد چودھری ، موجودہ حالات میں کسی پارٹی کے رکن کا وزیراعظم کےخلاف عدالت جانا نیا ایشو ہے: امجد اقبال ، 62اور 63پر مشاورت ہونیوالی ہے لگتا ہے ان دو شقوں میں اتفاق رائے سے ترمیم ہو جائےگی، کامران گورائیہ ، اداروں کو اپنا کام کرنا چاہیے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے: میاں افضل ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالم نگار خالد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف نااہلی کی درخواست صرف عمران خان پر سیاسی دباﺅ ڈالنے کی کوشش ہے۔تمام جماعتوں کو آرٹیکل 62اور63پر سر جوڑڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ان دو شقوں کی موجودگی خطرے کی تلوار کی مانند ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری رائے کے مطابق جو عمران خان کو لائے تھے وہ انکی کا رکردگی سے خوش نہیںاپوزیشن کا اتحاد ایسے ہی نہیں ہو گیا۔ملک کی بقاءاس میں ہے ایسے الیکشن ہوں کہ سوال نہ اٹھیں۔نیب پر سوال اس لئے اٹھتے ہیں دس دس سال سے پڑے کیسوں کو نہیں نکالا جاتا جس کو پکڑنا ہو اس کے خلاف کیس بنا دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں امن نہیں چاہتا۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا کہ اس وقت کسی پارٹی کے رکن کا وزیراعظم کے خلاف عدالت جانا نیا ایشو ہے۔اس وقت اپوزیشن بھی متحد ہو رہی ہے۔میرے خیال میں ملٹری کورٹ کووقت ملنا چاہئے ہمارا عدالتی نظام ابھی اتنا مضبوط نہیں ہوا۔اگر بات قومی حکومت کی جانب گئی تو تحریک انصاف الگ ہو گی۔آج کل عدالتیں نیب پر بہت چڑھائی کر رہی ہیں۔منی لانڈرنگ کے کیس میں ملوث کسی کو چھوٹ یا ڈھیل نہیں مل رہی۔ کالم نگار کامران گورائیہ نے کہا کہ میرے خیال میں آئین کی شق 62اور 63کی زد میں سب ایم این ایز اور ایم پی ایز ہی آتے ہیں۔زندگی میں انسان سے چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی ہیں۔لگتا ہے ان دو شقوں پر پارلیمنٹ میں مشاورت ہونے والی ہے،شاید ان شقوں میں تمام جماعتوں کے اتفاق سے ترمیم بھی ہو جائے۔نواز شریف کے کیس میں کئے گئے پیرامیٹر خوفناک ہیں۔دہشت گردی کے کیسز کے لئے سپیڈی کورٹ ہونے چاہئیں۔ قومی ایشوز پر ن لیگ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو اکٹھا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اس سال کے آخر میں ری الیکشن کی بھی بازگشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معدنی وسائل پر چین اور امریکہ آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ کالم نگارمیاں افضل نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف پہلے بھی نااہلی کے لئے درخواست دی گئی تھی۔اداروں کو اپنا کام کرنا چاہئے تاکہ ملک ترقی کی راہ میں گامزن ہو سکے۔نیب اب تک ثابت ہی کیا کر سکا۔کرپشن کے خلاف ادارے مل کر کام کریں۔

دانتوں کا تکلیف دہ طریقہ علاج ماضی کا قصہ بننے کے قریب

لاہور (ویب ڈیسک ) دانتوں کی روٹ کینال بہت جلد ماضی کا قصہ بن جائے گی جس کی وجہ امریکی طبی ماہرین کی جانب سے ایک نیا طریقہ علاج دریافت کرنا ہے۔ٹیمپل یونیورسٹی کے ماہرین نے دانتوں کے خراب یا جراثیم زدہ نسیجی ریشوں کی جگہ مادہ بھرنے یا روٹ کینال کے مقابلے میں نیا طریقہ علاج دریافت کیا۔اس وقت ہر سال کروڑوں افراد کو دانتوں کے امراض یا سرجری سے قبل روٹ کینال کے تکلیف دہ مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ روٹ کینال کتنا تکلیف دہ طریقہ کار ہے جسے برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔اب سائنسدانوں نے اسے آسان بنانے کی کوشش کی ہے اور نئے طریقہ علاج کے تحت مریضوں کے خراب دانتوں کو اسٹیم سیلز کی مدد سے ٹھیک کیا جاسکے گا۔محققین کے مطابق دانت کے ٹشوز کو اسٹیم سیلز سے دوبارہ اگانا آسان نہیں اور اس کے لیے ٹو سائیڈڈ scaffold طریقہ کار اپنایا گیا جس سے یہ عمل آسان ہوگیا۔ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ طریقہ کار کس حد تک کارآمد ثابت ہوگا کیونکہ ابھی اسے انسانوں پر آزمایا نہیں گیا۔محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کام جاری ہے تاکہ پورا دانت اگانے کی صلاحیت حاصل کی جاسکے جبکہ ان نتائج کو جانوروں پر آزمایا جائے گا۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ٹشو انجنیئرنگ میں شائع ہوئے۔

’تماشہ‘ کے بعد دپیکا اور رنبیر دوبارہ ایک ساتھ فلم میں کاسٹ؟

ممبئی( ویب ڈیسک ) بالی وڈ کی معروف اداکارہ دپیکا پڈوکون کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ رواں برس اپنے سابق بوائے فرینڈ رنبیر کپور کے ساتھ فلم میں کام کریں گی۔دپیکا اور رنبیر سپر ہٹ فلم ’یہ جوانی ہے دیوانی‘ کے بعد فلم ’تماشہ‘ میں جلوہ گر ہوئے تھے اور اب خبریں ہیں کہ دونوں ہدایت کار لو رانجن کی فلم میں ایک ساتھ نظر آئیں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کے لیے ہدایت کار لو رانجن کی پہلی پسند دپیکا پڈوکون ہیں، جس میں اداکارہ کا اہم کردار ہے جب کہ فلم میں ہیرو کا مرکزی اداکار رنبیر کپور کریں گے۔رپورٹس کے مطابق فلم میں دپیکا پڈوکون اور رنبیر کے ساتھ اجے دیوگن کو بھی کاسٹ کیا گیا ہے، تاہم ہدایت کار کی جانب سے فلم کا نام اب تک واضح نہیں کیا گیا ہے۔دوسری جانب اس حوالے سے بھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ دپیکا نے لو رانجن کی پیشکش کو قبول کیا ہے یا نہیں۔

پرو لیگ کڑاامتحان، بہترین ٹیم تشکیل دی جائے ،شہبازسینئر

لاہور(نیوزایجنسیاں) سابق سیکرٹری پی ایچ ایف شہباز سینئر نے کہا ہے کہ ملک کی عزت سب سے مقدم ہے،میڈیاسے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پروہاکی لیگ کے آغازمیں کچھ روزہی باقی رہ گئے ہیں۔فیڈریشن کواس کی تیاری کرنی چاہئے۔ صدر پی ایچ ایف پرو ہاکی لیگ کے لیے قومی ٹیم مینجمنٹ کا اعلان کریں،نئی مینجمنٹ قومی ٹیم کو ورلڈ پرو لیگ کے لیے تیار کرے۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی نو منتخب باڈی نا منظور

لاہور(سپورٹس رپورٹر) ایشین فٹبال کنفیڈریشن نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نومنتخب باڈی کو ماننے سے انکارکر دیا۔ پاکستان اور فلپائن کے درمیان دو طرفہ فٹبال سیریز کے 4 میچز منسوخ کر دئیے گئے۔ایشین فٹبال کنفیڈریشن نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نومنتخب باڈی کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایف ایف کی نئی باڈی نے ایشین فٹبال کنفیڈریشن سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم انہوں نے انکار کر دیا ہے جس کے بعد پاکستان اور فلپائن کے درمیان دو طرفہ فٹبال سریز کے 4 میچز منسوخ کر دئیے گئے۔شیڈول کے مطابق رواں ماہ پاکستان نے فلپائن میں 2 میچز کھیلنے تھے جبکہ دو کی میزبانی پاکستان کو کرنی تھی۔ دوسری جانب رواں ماہ قومی خواتین فٹبال ٹیم کا دورہ یو اے ای بھی منسوخ ہوگیا۔ قومی خواتین ٹیم نے 6 روزہ دورے میں 3 پریکٹس میچ بھی کھیلنے تھے۔واضح رہے کہسپریم کورٹ کے احکامات پر بارہ دسمبر کو فٹبال فیڈریشن کے انتخابات کرائے گئے تھے۔ ماضی میں کئی بار پاکستان فٹبال فیڈریشن تنازعات کا شکار رہی۔یاد رہے کہ پی ایف ایف میں مسلسل سیاسی مداخلت اور کئی برسوں سے جاری فٹ بال کے بحران کے باعث فٹبال کی عالمی تنظیم نے سال 2017 میں پاکستان کی رکنیت معطل کر دی تھی، بعد ازاں پابندی ختم کردی گئی۔

پی سی بی میں آئندہ ماہ کئی بڑے فیصلے متوقع

لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کے چیئرمین احسان مانی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے 4ماہ بعد اب پی سی بی کے معاملات پر گرفت حاصل کررہے ہیں اور آئندہ ماہ بورڈ میں کئی اہم بڑے فیصلے متوقع ہیں۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آئندہ چند ہفتوں میں پی سی بی میں کئی اہم اور بڑے فیصلے ہوں گے،نئے ایم ڈی وسیم خان چھ فروری کو لاہور میں اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے جبکہ ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن ان سے دو دن قبل 4 فروری کو لاہور آئینگے ۔ذرائع کے مطابق نئے انتظامی سیٹ اپ کے مطابق کرکٹ کے تمام معاملات ایم ڈی وسیم خان کے پاس چلے جائیں گے جبکہ انتظامی معاملات چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد چلائیں گے۔ذرائع کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا نے اپنی کرکٹ ٹیم مارچ میں پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے خبر لیک ہونے کے بعد میڈیا ہی میں جواب دیا کہ کرکٹ آسٹریلیانے مروجہ طریقہ کار اپنانے کے بجائے اس انداز میں انکار کیا ہے جو درست نہیں ہے۔درست انداز اور طریقہ کار یہی تھا کہ کرکٹ آسٹریلیااپنے سیکیورٹی ماہرین کو پاکستان بھیج کر کوئی حتمی رائے قائم کرے۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کو پاکستان لانے کیلئے سفارتی کوششیں بھی کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمیشن کو بھی اعتماد میں لیا جارہا ہے۔احسان مانی 2004 میں بھارتی ٹیم کو پاکستان لانے کیلئے کردار ادا کر چکے ہیں اور اب وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور کی میٹنگ میں فرنچائز مالکان نے بتایا کہ آئی سی سی کے سابق سربراہ احسان مانی پی سی بی کے معاملات کوبہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں اوراس کا عملی مظاہرہ میٹنگ میں دکھائی دیا۔جن فرنچائز نے بورڈ کے واجبات ادا کرنا ہیں ان سے چیئرمین پی سی بی نے علیحدگی میں 45،45 منٹ بات چیت کی جبکہ پروڈکشن اخراجات پر اضافی خرچہ بورڈ خود ادا کریگا۔احسان مانی نے واضح کیا کہ پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ کا برانڈ ہے اس کی ٹیلی وڑن کوریج کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا کیوں کہ جب پروڈکشن کوالٹی بہتر ہوگی تو دنیا بھر میں اس ٹورنامنٹ کی زیادہ بہتر پذیرائی ہوگی۔ذرائع کے مطابق احسان مانی نے چارج سنبھالنے کے بعد بورڈ کے معاملات کو سمجھنے میں وقت لیا اور اب وہ خود ڈرائیوانگ سیٹ سنبھال رہے ہیں جبکہ آئندہ ماہ منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کی آمد کے ساتھ احسان مانی کئی معاملات کا انہیں کنٹرول سونپ دیں گے تاہم وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں احسان مانی دنیا بھر میں پاکستان کرکٹ کا بہتر امیج سامنے لانا چاہتے ہیں۔ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں سے پاکستان کے روابط میں بہتری لائی جائیگی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کرکٹ ٹیم کے معاملات میں بہتری لائی جائے گی۔

ویمنزچمپئن شپ،بسمہ کی کپتانی میں قومی ٹیم کااعلان

لاہور(سپورٹس رپورٹر) آئی سی سی ویمن کرکٹ چیمپئن شپ کیلئے پاکستان کی بیس رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا، کیمپ آج سے کراچی میں شروع ہو گا۔ بسمہ معروف کو کپتان مقررکیا گیا ہے۔آئی سی سی ویمن چیمپئن شپ راﺅنڈ فور کیلئے پی سی بی نے تربیتی کیمپ کیلئے بیس رکنی قومی ٹیم کا اعلان کردیا۔ انجری کی شکار بسمہ معروف کو کپتان برقرار رکھا گیا ہے۔سابق کپتان ثنا میر اور جویریہ خان بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ تربیتی کیمپ سترہ جنوری سے کراچی میں شیڈول ہے۔ ارم جاوید، ناہیدہ بی بی، ندا ڈار، نشرہ سندھو اور انم امین کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ویمن ٹیموں کے درمیان ایک ٹیسٹ اور سات ون ڈے میچز کی سیریز رواں سال مارچ میں شیڈول ہے۔