All posts by Daily Khabrain

سیلیکون ویلی مہنگے ترین فلیٹ کی کرائے دار بلیاں

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک ) امریکا میں ٹیکنالوجی کے گڑھ سیلیکون ویلی کے مہنگے ترین کاروباری علاقے میں جہاں لوگ رات سڑکوں پر بسر کرتے ہیں وہیں 2 خوش قسمت بلیاں ماہانہ 2 لاکھ روپے سے زائد کرایے کے فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں۔پالتو جانوروں سے محبت اور ان کی خدمت کے حوالے سے بے شمار مثالیں موجود ہیں مگر ایک ایسا خطہ بھی ہے جہاں بزنس جمانے کے لیے لوگ گھر کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔امریکی ریاستی کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے قریب واقع پوش علاقے میں دو بلیاں رہائش پذیر ہیں اور ان کا مالک ماہانہ دو لاکھ سے زائد پاکستانی روپے کرایہ ادا کرتا ہے، اس شخص نے بلیوں کو پرسکون رہائش کا تحفہ دیا ہے اور اب یہ بلیاں سیلیکون ویلی میں مہنگے ترین کرایہ دار جانور سے پہچانی جاتی ہیں۔ان خصوصی مکینوں کا ا?شیانہ بھی خصوصی ہے جہاں انہیں کافی سہولیات دستیاب ہیں، یہاں ٹی وی بھی موجود ہے اور دیگر فرنیچر بھی، بلیوں کے نگراں روزانہ ان کی دیکھ بھال کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں۔سوشل میڈیا ویب سائٹس کے اس گڑھ میں رہنے والی بلیوں کے سوشل اکاو¿نٹس بھی بنائے گئے ہیں، ان اکاو¿نٹس پر بلیوں کی سرگرمیاں اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں جنہیں اچھے خاصے لائیکس بھی ملتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ روز مرہ کے بہت سے ‘کیوں’ کے جوابات

لاہور( ویب ڈیسک ) کیا آپ جانتے ہیں کہ بائیں ہاتھ سے کیوں لکھا جاتا ہے ؟نیلا رنگ لڑکوں کے لیے ، گلابی لڑکیوں کے لیے کیوں ؟ گلہریاں ایک دوسرے کے پیچھے کیوں بھاگتی ہیں؟ ایسے اور بھی روزمرہ کے بہت سے کیوں ہیں جن کے سائنسی جوابات موجود ہیں۔کچھ کے جوابات تو ابھی لیجیے؛

کچھ لوگ بائیں ہاتھ سے کیوں لکھتے ہیں ؟
تقریباً 90 فیصد انسان سیدھے ہاتھ سے لکھتے اور دیگر کام کرتے ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق سیدھے ہاتھ اور الٹے ہاتھ سے کام کرنے میں ‘انسانی جینز’ کا ہاتھ ہوتا ہے۔یہ موروثی بھی ہو سکتا ہے۔ایک اور نظریہ یہ بھی ہے کہ انسانی دماغ کا بایاں حصہ جب انسانی جسم کنٹرول کرتا ہے تو الٹا ہاتھ بھی اسی کنٹرول کے تحت کام کرتا ہے۔

کیا الٹے ہاتھ سے کام کرنے والے قدم بھی الٹا ہی اٹھاتے ہیں؟ جی ہاں ایسا ہی ہوتا ہے ، الٹے ہاتھ سے کام کرنے والے ‘گوفی’ کہلاتے ہیں۔ایسے لوگ اپنا کوئی بھی کام کرنے کے لیے اپنا پہلا قدم بائیاں ہی اٹھاتے ہیں۔

تصویر کھینچتے ہوئے ‘چیز ‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

تصویر کھینچتے ہوئے ایک لفظ کا استعمال عام ہے ،یہ لفظ ہے ‘چیز’،یہ لفظ سنتے ہی سب فوری طور پر کیمرے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتے ہیں۔اور اس طرح سے تمام لوگ ایک وقت میں کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرانا شروع کر دیتے ہیں۔

اس لفظ کے استعمال کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شاید آس پاس چیز کے نہ ہونے کے باوجود یہ لفظ سن کر سب مسکرا دیتے ہیں۔ٹیکساس کے ایک اخبار کے مطابق اس لفظ کا استعمال 1943 سے ہورہا ہے۔

اس کی ایک وجہ اور بھی بتائی جاتی ہے کہ جب یہ لفظ ادا کیا جاتا ہے تو خود بخود ہونٹ اس انداز میں پھیل جاتے ہیں کہ یوں لگنا شروع ہو جاتا ہے جیسے کہ تصویر کچھوانے والا بندہ مسکرا رہا ہے۔

ٹریفک سگنل لائٹس نیلی، پیلی اور لال ہی کیوں ہوتی ہیں ؟

فوٹو کریڈٹ ؛ شٹر اسٹاک
لال رنگ کا استعمال رکنے کے لیے اس لیے کیا جاتا ہے کہ واضح ترین نظر آنے والے رنگوں میں لال سب سے زیادہ واضح نظر آنے والا رنگ ہے۔اس لیے اسے دور سے بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔اور اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لال رنگ صدیوں سے خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

سڑکوں پر گاڑیاں آنے سے بہت پہلے ریل گاڑیوں کے نظام کے لیے یہ رنگ 1830 سے استعمال کیا جاتا ہے۔ریل گاڑیوں کے نظام میں چلنے کے اشارہ دینے کے لیے سفید رنگ کی روشنی کا استعمال کیا جاتا ہے اور ہرا رنگ تیار ہوجانے کا اشارے ہے۔

1920 میں ریل گاڑیوں کے سگنل نظام کے رنگ لے کر سڑکوں کے لیے بھی سگنل نظام شروع کیا گیا، بعد میں ان رنگوں میں ترمیم ہوتی رہی۔

سڑکوں پر سفید رنگ اور کھمبے پر لگی ہوئی سفید روشنی میں فرق کرنا کچھ مشکل ہوجاتا ہے اس لیے سفید رنگ کی جگہ ہرے رنگ نے لے لی۔

پیلا رنگ فاصلے سے واضع طور پر نظر آنے والے رنگوں میں دوسرے نمبر پر سمجھا جاتا ہے۔اس لیے پیلے رنگ کا استعمال ‘تیار رہنے کا اشارہ دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔

پانی میں بہت دیر رہنے سے ہاتھ نرم کیوں پڑ جاتے ہیں ؟

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ زیادہ دیر تک پانی میں رہنے سے ہاتھوں کی جلد زیادہ پانی جذب کر لینے کی وجہ سے پھول جاتی ہے جبکہ سائنسی تحقیق کے مطابق ایسا ہے نہیں۔

سائنسدان 1930 سے یہ بات جانتے ہیں یہ صرف ‘اوسموس’یعنی باریک جھلی سے پانی کا جذب ہوجانے کا آسان سا عمل نہیں ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس کی وجہ جلد کے نیچے موجود خون کی نالیاں ہوتی ہیں جو بھنچ جاتی ہیں تاکہ گیلی اشیا پر آسانی سے گرفت بنائی جا سکے اور انھیں اٹھا یا جا سکے۔

نیلا رنگ لڑکوں کے لیے اور گلابی لڑکیوں کے لیے کیوں مخصوص ہے ؟

فوٹو کریڈٹ ؛ شٹر اسٹاک
نیلا رنگ لڑکوں کے لیے اور گلابی لڑکیوں کے لیے ہے، یہ بات اب روزمرہ کا حصہ بن چکی ہے۔ نہ صرف کپڑوں بلکہ ضرورت کی ہر چیز میں رنگوں کے اس انتخاب کا خیال رکھا جاتا ہے۔تاہم برسوں پہلے یہ تصور الٹ تھا۔

1927 میں ٹائم میگزین نے ایک چارٹ شا ئع کیا تھا جس میں چار بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز نے لڑکوں کے لیے گلابی رنگ کے ملبوسات تجویز کیے تھے۔1918 میں نومو لود بچوں کے اسٹور ارن شا کے مطابق لڑکوں کے لیے گلابی اور لڑکیوں کے لیے نیلا رنگ قابل قبول ہے۔

اس کی وجہ اسٹور کی جانب سے یہ بتائی گئی کہ گلابی رنگ زیادہ مستحکم اور مضبوط رنگ سمجھا جاتا ہے اس لیے اسے لڑکوں کے لیے ہونا چاہیے جب کہ نیلا رنگ زیادہ لطیف اور نازک ہوتا ہے اس لیے وہ لڑکیوں پر زیادہ اچھا لگتا ہے۔

سماجیات کے ماہر کے مطابق یہ تصور بیسیوں صدی سے پہلے ہی تبدیل ہونا شروع ہو گیا تھا۔ نیلا رنگ لڑکوں پر اچھا لگتا ہے اور گلابی لڑکیوں پر، اس تصور نے اپنی جگہ بنانی شروع کی اور فیشن مارکیٹ نے رنگوں کے اس تصور کو رائج کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ہچکی کیوں آتی ہے؟

فوٹو کریڈٹ ؛ شٹر اسٹاک
ہچکی کو عموماً کسی کے یاد کرنے سے جوڑا جاتا ہے۔آپ مانیں یا نہ مانیں ہچکی اکثر بغیر کسی خاص وجہ کے ہوتی ہے۔لیکن کبھی کبھار سگریٹ نوشی، ایک ساتھ بہت سا پانی پی لینے،کسی خوف یا بہت جوش کی وجہ سے بھی ہچکی شروع ہو سکتی ہے۔ بہت کم صورتوں میں ہچکی زیادہ وقت تک رہتی ہے۔ اگر ہچکی 48 گھنٹوں سے زیادہ رہے تو اسے Intractable Hiccups کہتے ہیں۔

انسانی جسم میں اپینڈکس کیوں ہے ؟

فوٹو کریڈٹ؛ ڈاکٹر ڈاٹ کام
ہم اکثر اپینڈکس کے بارے میں سنتے ہیں، بڑی آنت کے نزدیک ایک چھوٹا سا ٹکڑا جس کے بارے میں صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے جب اس میں کوئی انفیکشن پیدا ہو جائے اور فوری سرجری کی ضرورت پڑ جائے۔

چارلس ڈارون سمیت کئی اور سائنسدانوں کا بھی یہ ماننا تھا کہ یہ انسان جسم میں نظام ہضم کا حصہ تھا جو ارتقائی مراحل طے کرتا ہوا اب کسی کام کا نہیں رہا۔

لیکن موجودہ سائنسی نظریات کے مطابق انسان کے علاوہ دیگر دودھ پلانے والے جانوروں میں بھی اپینڈکس پایا جاتا ہے۔گمان کیا جاتا ہے کہ یہ چھوٹا سا عضو انسانی مدافعتی نظام کا حصہ ہے ، جو جسم کو گ±ڈ بیکٹیریا کو جمع کرنے کا کام کرتا ہے۔

ہمارے لیے نیند کیوں ضروری ہے ؟

فوٹو کریڈٹ ؛ شٹر اسٹاک
نیند انسانی جسم کے لیے تازہ دم ہونے کا ذریعہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ دماغ کو کچھ عرصے کے لیے ایک کام بند کر کے دوسرا کام کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اس دوران جو کچھ ہم سیکھتے ہیں یا دیکھتے ہیں اسے دماغ ذہن نشین کرتا ہے۔

گلہریاں کو ایک دوسرے کے پیچھے کیوں بھاگتی ہیں؟

فوٹو کریڈٹ ؛ شٹر اسٹاک
اب تو یہ منظر کم نظر آتا ہے لیکن پھر بھی کسی پارک یا شہر سے باہر کہیں کسی منظر میں آپ کو درختوں پر گلہریاں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتی ہوئی نظر آئیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح سے وہ حفظ مراتب کا خیال رکھتی ہیں۔ بڑی گلہری آگےجہاں جہاں بھاگتی نظر آئے گی چھوٹی گلہری اس کا پیچھا کرتی رہے گی۔کبھی کبھار چھوٹی گلہریاں ایک دوسرے کو پکڑنے کا کھیل بھی کھیلتی ہیں۔

آئندہ جب بھی کوئی کیوں ذہن میں آئے تو یاد رکھیے کہ ان کا جواب ضرور موجود ہو گا بس ذرا سی دیر انھیں ڈھونڈنے کی ہے۔

ڈی این اے ٹیسٹ سے کسی فرد کی عمر کی پیشگوئی ممکن، تحقیق

لاہور (ویب ڈیسک ) کسی انسان کی زندگی کتنی لمبی ہوگی، اب یہ ایک ڈی این اے ٹیسٹ جاننا ممکن ہوگیا ہے۔یہ دعویٰ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ایڈنبرگ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ایک نئے ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ پیشگوئی کرنا ممکن ہوگا کہ کسی فرد کی زندگی لمبی ہوگی یا نہیں۔محققین کے مطابق تھوک کے ذریعے ڈی این اے کا یہ ٹیسٹ ممکن ہوگا جس کی لاگت 150 برطانوی پونڈ ہوگی جس سے لوگوں کو جینیاتی زندگی کے امکانات کا علم ہوگا۔اس تحقیق کے دوران 5 لاکھ سے زائد افراد کے جینیاتی ڈیٹا کو دیکھا گیا جبکہ ان کے والدین کی زندگی کی مدت کے ریکارڈ کو بھی جانچا گیا۔محققین نے جینز کے زندگی کی مدت پر اثرانداز ہونے کے عمل کے تجزیے کے لیے ایک اسکورنگ سسٹم کو استعمال کیا۔تحقیق کے دوران انسانی جینوم کے 12 حصوں کی نشاندہی ہوئی جو کہ زندگی کی مدت کے حوالے سے نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں۔یہ جینز مختلف کینسر، امراض قلب، تمباکو نوشی سے ہونے والی طبی پیچیدگیوں سمیت دیگر مسائل کے اثرات کو جاننے میں مدد دیتے ہیں۔محققین کے مطابق عام طور پر کسی فرد کی طبی موت جینیاتی فرق یا سماجی ماحولیاتی عناصر کے نتیجے میں ہوتی ہے۔طبی جریدے جرنل ای لائف میں شائع تحقیق میں شامل مھققین کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی شخص کا جائزہ پیدائش یا بعد میں لیں اور زندگی کی مدت کے اسکور کو 10 گروپس میں تقسیم کریں، تو ٹاپ گروپ والے افراد نچلے گروپس کے مقابلے میں 5 سال زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا خرچہ محض ڈیڑھ سو پونڈ ہے اور کوئی اضافی لاگت نہیں۔

ہارٹ اٹیک یا فالج سے بچنے کیلئے اتنے گھنٹے نیند ضروری

لاہور (ویب ڈیسک ) رات کو 6 گھنٹے سے کم سونے کی عادت ہارٹ اٹیک یا فالج کا باعث بن سکتی ہے۔یہ انتباہ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔اسپین کے اسپینش نیشنل سینٹر فار کارڈیووسکولر ریسرچ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم نیند سے خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ 35 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔نیند کی کمی سے خون کی شریانوں میں ایسا مواد جمع ہونے لگتا ہے جو انہٰں تنگ اور سخت بناتا ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اچھی نیند امراض قلب کے علاج کے لیے مخصوص ادویات کے مقابلے میں زیادہ تیز اور سستا طریقہ کار ہے۔اس تحقیق کے دوران 4 ہزار بینک ملازمین کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 46 سال تھی جبکہ ان میں امراض قلب کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔محققین نے ان کی نیند کے دورانیے کا جائزہ ایک ہفتے تک لیا اور پھر انہیں چار گروپس میں تقسیم کردیا۔ایک گروپ 6 گھنٹے سے کم سونے والوں کا تھا، دوسرا 6 سے 7 گھنٹے، تیسرا 7 سے 8 گھنٹے جبکہ چوتھا 8 سے 9 گھنٹے تک نیند کے مزے لینے والوں کا تھا۔

اس کے بعد ان افراد کے دل کا تھری ڈی الٹرا سا?نڈ اور سی ٹی اسکین لیا گیا تاکہ خون کی شریانوں کے امراض کے شواہد اکھٹے کیے جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں : وہ عام عادتیں جو اچھی نیند سے محروم کردیں

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ہر رات 6 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں، ان میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ 7 سے 8 گھنٹے تک سونے والوں کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح ناقص نیند کے شکار افراد میں یہ خطرہ 34 فیصد زیادہ دریافت کیا گیا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئے۔

لمبی زندگی کے لیے دن بھر میں 30 منٹ اس کام کے لیے نکال لیں

لاہور (ویب ڈیسک ) آپ کو کسی مہنگے جم کی رکنیت یا صحت مند ہونے کے لیے دیر تک دوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ بس اپنے بیٹھنے کا وقت آدھا گھنٹہ کم کرلیں۔

جی ہاں یہ لمبی زندگی کا وہ راز ہے جو ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

اس سے پہلے متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا متعدد طبی مسائل جیسے خون کی شریانوں سے جڑے امراض، قبل از وقت بڑھاپا، گردوں کی بیماریوں اور دیگر کا باعث بنتا ہے۔

مزید پڑھیں : زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے 15 بڑے نقصانات

مگر اب ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں بیٹھ کر گزارے جانے والے وقت کے محض 30 منٹ کسی بھی قسم کی ہلکی جسمانی سرگرمی سے بدل دینا لمبی زندگی کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔

ایسی ہلکی سرگرمیاں جیسے چہل قدمی یا اپنی نشست سے اٹھ کر گھر میں ہی گھوم لینا قبل از وقت موت کا خطرہ 17 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اتنے دورانیے میں تیز چہل قدمی یا کچھ سخت ورزش سے قبل از وقت موت کا خطرہ 35 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بیشتر افراد کے لیے ورزش کرنا بہت مشکل کام محسوس ہوتا ہے مگر یہ ثابت ہوا ہے کہ گھنٹوں کی جسمانی سرگرمی کی ضرورت نہیں بلکہ چہل قدمی سے بھی اب بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بیٹھنے کی عادت کینسر کا خطرہ بڑھائے

یقیناً ورزش کے اپنے فوائد ہیں مگر زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والوں کے لیے ہلکی جسمانی سرگرمی بھی اس عادت کے منفی اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

یعنی اس تحقیق کے دوران 8 ہزار صحت مند افراد کے ڈیٹا کاجائزہ لیا گیا اور ان کی جسمانی سرگرمیوں کے لیے ٹریکرز کی مدد لی گئی۔

اس ڈیٹا کے ذریعے محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ سست طرز زندگی اور متحرک رہنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف Epidemiology میں شائع ہوئے۔

بے ربط اورطویل گفتگو دماغی بیماری کی علامت

لاہور (ویب ڈیسک ) امریکا کے میساچیوسٹس جنرل اسپتال کے نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل اور بے ربط گفتگو الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسی دماغی بیماریوں کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج انہوں نے گزشتہ دنوں بوسٹن میں ”امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس“ (AAAS) کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جن کے مطابق دماغ کو متاثر کرنے والے امراض کی کچھ اہم ظاہری علامات تقریباً دس سال پہلے ہی نمودار ہونے لگتی ہیں جنہیں پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے افراد پر زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے۔
اب تک مروجہ نفسیاتی معالجے (سائیکاٹری) میں دماغی بیماریوں کا کوئی باضابطہ علاج موجود نہیں اور اس ضمن میں دی جانے والی دوائیں زیادہ سے زیادہ بیماری کی پیش رفت ضرور سست کردیتی ہیں لیکن انہیں کسی بھی صورت میں ایسے امراض کا علاج قرار نہیں دیا جاتا۔
میساچیوسٹس جنرل اسپتال کی جینٹ شرمن کی قیادت میں کیے گئے ایک مطالعے میں دماغی طور پر 24 صحت مند اور نوجوان افراد جبکہ 22 ایسے افراد شریک کیے گئے جو ایسے ادھیڑ عمر ہونے کے ساتھ ساتھ ”ایم سی ا?ئی“ نامی ایک کیفیت کا شکار بھی تھے یعنی وہ نفسیاتی امراض کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔
ان افراد میں گفتگو کے انداز اور لفظوں کے استعمال کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ صحت مند افراد دوران گفتگو ایک جیسے الفاظ کا بار بار استعمال کرنے سے بچتے ہیں جبکہ ان کی گفتگو بھی غیر ضروری طور پر طویل نہیں ہوتی۔ دوسری جانب ایم سی ا?ئی میں مبتلا افراد کی گفتگو زیادہ طویل تھی جبکہ وہ یکساں الفاظ کا استعمال بھی بار بار کررہے تھے جس سے ظاہر ہوا کہ وہ الفاظ بھولتے جارہے ہیں۔
شرمن نے واضح کیا کہ ان کے مطالعے کا تعلق ان افراد سے نہیں جو باتونی مزاج ہوتے ہیں اور عادتاً لمبی لمبی گفتگو کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان کے مطالعے میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ معمول کی گفتگو کرنے والوں کی باتیں طویل اور بے ربط ہوجائیں اور وہ ایک جیسے الفاظ کا استعمال بار بار کرنے لگیں تو ان کے ارد گرد موجود لوگوں کو ہوشیار ہوجانا چاہیے۔ علاوہ ازیں ایسے لوگوں میں پیچیدہ باتیں سمجھنے اور پیچیدہ امور انجام دینے کی صلاحیت بھی دوسروں کے مقابلے میں کم ہونے لگتی ہے۔
دماغی امراض کی دیگر ابتدائی علامات میں وقت اور جگہ کے بارے میں کنفیوڑن، معمول کے کاموں میں دشواری، قوتِ فیصلہ میں کمی، شخصیت یا طرزِ عمل میں تبدیلی، چیزیں رکھ کر بھول جانا، تخیل کے استعمال میں مشکلات، یادداشت میں کمی اور روزمرہ کاموں پر اس کے اثرات سب سے نمایاں طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

ایپل اب آئی فونز میں ایک اور بڑی تبدیلی کرنے کے لیے تیار

لاہور (ویب ڈیسک ) ایپل کمپنی رواں سال اپنے آئی فونز میں تاریخ کی ایک بڑی تبدیلی کرنے والی ہے جو ان ڈیوائسز کو استعمال کرنے والوں کے لیے کافی بڑا دھچکا بھی ثابت ہوگی۔

درحقیقت ایپل اپنی موجود چارجنگ کیبلز اور دیگر مصنوعات کا استعمال متروک کرکے ان کی جگہ یو ایس بی ٹائپ سی کو دینے والی ہے۔

جی ہاں ایپل لائٹننگ کیبل کی جگہ آئی فون میں یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ اور کیبل کو لانے والی ہے۔

ایپل کی جانب سے آئی پیڈ پرو میں پہلے ہی یو ایس بی ٹائپ سی کیبل کا استعمال متعارف کرایا جاچکا ہے۔

اس تبدیلی کی صورت میں موجودہ ایپل چارجرز مستقبل کے آئی فونز کے لیے بیکار ہوجائیں گے مگر اچھی خبر یہ ہے کہ اینڈرائیڈ چارجر آئی فونز میں استعمال ہوسکیں گے۔

ایپل کا اوریجنل چارجنگ کیبل 25 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے مگر نقلی کیبل اس کے مقابلے میں سستی ہے۔

دوسری جانب یو ایس بی ٹائپ سی اس وقت متعدد لیپ ٹاپس اور اینڈرائیڈ فونز میں استعمال ہونے والی کیبل ہے۔

ایپل نے 2012 میں 30 پن کنکٹر لائٹننگ کیبل کے لیے متعارف کرایا تھا۔

اسی طرح آئی فونز میں نیا آئی فون ٹچ متعارف کرائے جانے کا بھی امکان ہے۔

گزشتہ دنوں ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایپل 2019 میں 3 نئے آئی فونز پیش کرے گی جن میں سے ایک آئی فون ایکس آر کا اپ ڈیٹ ورڑن ہوگا جس میں ایل سی ڈی اسکرین دی جائے گی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دیگر 2 آئی فونز او ایل ای ڈی ڈسپلے سے لیس ہوں گے جیسے 2018 میں آئی فون ایکس ایس (10 ایس) اور ایکس ایس میکس (10 ایس میکس) کی شکل میں دیکھنے میں آئے۔

مگر اس بار میکس ماڈل میں پہلی بار یہ کمپنی بیک پر 3 کیمرے دے گی جبکہ ایکس آر اور ایکس ایس کے اپ ڈیٹ ماڈل میں ڈوئل رئیر کیمرہ سیٹ اپ دیکھنے میں آئے گا۔

خیال رہے کہ 2018 سے اسمارٹ فونز میں زیادہ سے زیادہ کیمروں کو دینے کا رجحان زور پکڑ چکا ہے۔

ایران کی خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کی کوشش ناکام

ایران (ویب ڈیسک ) ایران کی جانب سے مقامی سطح پر تیار سٹیلائٹ کو خلا میں بھیجنے کی کوشش پہلے اور دوسرے مرحلے میں کامیابی کے بعد تیسرے مرحلے میں مطلوبہ رفتار سے پہنچنے میں ناکام ہوگیا۔

ایران کے وزیر برائے مواصلات محمد جاوید آزاری جاہرومی نے اعلان کیا کہ مقامی سطح پر تیار کیا گیا سیٹیلائٹ کو زمین کے مدار میں بھیجنے میں ناکامی ہوئی ہے۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر برائے مواصلات محمد جاوید آزاری جاہرومی کا کہنا تھا کہ ’پیام سیٹلائٹ لے کر جانے والا راکٹ لانچ کے تیسرے مرحلے میں ’مطلوبہ رفتار‘ سے پہنچنے میں ناکام ہوا‘۔

جاوید آزاری جاہرومی کا کہنا تھا کہ راکٹ نے تیسرے مرحلے میں مسائل پیدا ہونے سے قبل پہلا اور دوسرا مرحلہ کامیابی سے عبور کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب راکٹ نے سیٹلائٹ کو زمین کی فضا سے باہر بھیجا تو اس وقت کچھ غلط ہوا۔

انہوں نے ناکامی کی وجوہات نہیں بتائیں لیکن اس بات کا وعدہ کیا کہ ایرانی سائنسدان اس حوالے سے کام جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکی خدشات کے باوجود ایران کا خلا میں 2 سیٹیلائٹ بھیجنے کا اعلان

خیال رہے کہ ایران نے 2 نان ملیٹری سیٹیلائٹ پیام اور دوستی خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا، پیام جس کے معنی فارسی میں ’پیغام ‘ کے ہیں اور یہ ایک تصویری سیٹیلائٹ ہے جس کے متعلق ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کھیتی باڑی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد دے گا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ پیام کی ناکامی سے دوستی سیٹیلائٹ کے لانچ میں کیا اثر پڑے گا، جاہرومی نے وضاحت کیے بغیر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’دوستی خلا میں جانے کا انتظار کررہی ہے‘۔

جاہرومی کا کہنا تھا کہ آج ہونے والا لانچ ایران کے سمنان صوبے میں واقع امام خمینی اسپیس سینٹر میں کیا گیا تھا، یہ سینٹر ملک کی وزارت دفاع کے کنٹرول میں ہے‘۔

گزشتہ ہفتے سی این این کی جانب سے شائع کی گئی فوٹیجز میں لانچ سائٹ پر ہونے والی سرگرمی دکھائی گئی تھی اور خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ سیٹلائٹ بھارتی سمندر میں گرنے کے امکانات ہیں۔

ایران کے ریاستی ٹیلی ویڑن نے سیمورگ راکٹ کے لانچ کی فوٹیج چلائی جس میں رپورٹر کو کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ اس لانچ سے دنیا کو ’فخر، خود اعتمادی اور ایرانی نوجوانوں کی طاقت کا پیغام جاتا ہے‘۔

ٹی وی فوٹیج میں راکٹ کو تاریک آسمان میں ایک پوائنٹ بنتے دکھایا گیا اور اس کی ناکامی کا لمحہ نہیں دکھایا گیا۔

سیمورگ کو فارسی میں’ققنس‘ کہا جاتا ہے، اس راکٹ کوگزشتہ سیٹلائٹ کے لانچ میں بھی استعمال کیا گیا تھا، سفیر نامی سیٹیلائٹ گزشتہ برس خلا میں بھیجی گئی تھی۔

تہران امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے چانسلر احمد موتامیدی نے سیٹلائٹ ڈیزائن کی تھی، انہوں نے مہر ایجنسی کو بتایا کہ وزیر مواصلات نے پہلے سے ہی انہیں ایک اور سیٹیلائٹ ڈیزائن کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

’آنر 8 سی‘ کی خریداری پر بچت اور معیار ایک ساتھ

لاہور( ویب ڈیسک ) معیاری فونز کی مناسب قیمت پر صارفین تک رسائی کے وعدے کے تحت ا?نر اپنی دھماکے دار پیش کش کو لے کر ’ا?نر 8 سی‘ کو فروخت کے لیے پیش کر رہا ہے، جو اس کے صارفین سے اچھے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔اس موبائل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی بیٹری کو صارف ہر طرح کے استعمال کے لیے 2 دن تک استعمال کر سکیں گے، جس کے بعد ہی فون کو چارجنگ کی ضرورت پڑے گی۔

فون کی طاقتور اور جاندار بیٹری کا فون کے سائز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اس فون کی ڈیزائن اور اس کی پیکنگ بھی اپنی مثال ا?پ ہے، اس فون کی چکنی اور چمکدار باڈی لوگوں کو اپنی طرف توجہ دلاتی ہے۔

اس کے علاوہ ا?نر 8 سی اے ون ٹیکنالوجی کیمرے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے، جس وجہ سے اس کے کیمرے کے لینس طاقتور بن جاتے ہیں، جس سے بہترین سیلفیز لینا ممکن بن جاتا ہے۔

ا?نر موبائلز کی خاص بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے مارکیٹ میں ایک ایسے موبائل کے طور پر جگہ بنائی ہے، جن کے ذریعے بہترین سیلفیز لی جاسکتی ہیں۔

ان تمام باتوں سے ہٹ کر اہم بات یہ بھی ہے کہ اس فون کا اسکرین شاندار ہے، جسے دیکھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ اس قیمت پر ایسا اسکرین ناممکن ہے، کیوں کہ یہ بڑے ڈسپلے اور دیدہ زیب رنگ دکھانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

ا?نر 8 سی کی ٹیکنالوجی اس قدر بہترین ہے کہ اس فون کا چپ پراسیسر مارکیٹ میں دستیاب دوسرے فلیگ شپ موبائل فونز کے مقابلے تیزی کے ساتھ بہترین انداز میں کام سر انجام دیتا ہے۔

یہ سب سہولیات اور چیزیں ا?نر 8 کو اس قدر بہتر بناتی ہیں کہ اس پر بیک وقت متعدد ایپلی کیشنز پر کام کرنا ایک خواب جیسا لگتا ہے، کیوں کہ جہاں اس فون کو طاقتور پراسیسر کا بیک اپ حاصل ہوتا ہے، وہیں اس کی اسکرین اس کی رفتار اور کام کو بہتر بناتی ہے اور صارف کو یہ سب دیکھ کر یقین ہی نہیں ا?تا۔

یہ سب اور دیگر کئی اہم فیچرز اور طاقت سے بھرپور اس فون کی قیمت اتنی زیادہ نہیں جو کسی صارف کے بینک اکاو¿نٹ پر اتنا وزن نہیں ڈالتی، کیوں کہ ا?نر چاہتی ہے کہ وہ صارفین کو مناسب قیمت پر ایسے فونز فراہم کرے جو ان کے بجٹ کے اندر ہوں اور صارفین کے لیے مالی بوجھ کا سبب نہ بنیں۔

آج پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کا اجلاس ، بڑا کھڑاک متوقع

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کی ہدایت پر پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کا اہم اجلاس آج طلب کرلیا گیا۔ اجلاس 10 بجے پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوگا۔ نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے حکومتی جماعت کے اراکین کی بیٹھک ہوگی جس میں سیاسی صورتحال اور اپوزیشن اتحاد پر حکومتی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ معیشت اور منی بجٹ کے معاملات اراکین کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسد عمر حکومتی اراکین کی منی بجٹ پر بریفنگ دینگے۔ اقتصادی صورتحال پر حکومتی بیانیہ اراکین کے سامنے رکھیں گے۔ ارکان اسمبلی کو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی۔