All posts by Muhammad Arsalan

عامرلیاقت کا فضا علی کے ساتھ تیسری شادی کی خواہش کا اظہار

کراچی: (ویب ڈیسک )پاکستانی ڈراموں کی نامور اداکارہ ومیزبان فضا علی نے انکشاف کیا ہے کہ عامر لیاقت نے شو کے دوران اپنی بیوی طوبیٰ کے سامنے ایک بار پھر ان کے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔اداکارہ فضا علی کی ایک ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ انٹرویو دیتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزبان ان سے پوچھتی ہوئی نظر آرہی ہے آپ کے شو میں عامر لیاقت نے اپنی دوسری اہلیہ طوبیٰ کے سامنے اظہار کیا کہ وہ آپ کے ساتھ شادی کے خواہشمند تھے تاہم آپ نے انہیں منع کردیا تھا آپ کے منع کرنے کی وجہ کیا تھی۔فضا علی نے کہا کہ عامرلیاقت نے طوبیٰ کے سامنے تو ابھی کہا لیکن وہ میرے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہار بہت پہلے کرچکے تھے۔ فضاعلی نے کہا عامر صاحب بہت اچھے اورصاف دل کے انسان ہیں اور جو وہ سوچتے ہیں وہ کہہ دیتے ہیں۔اداکارہ فضا نے کہا کہ جب میری طلاق ہوئی اور اس بات کا علم عامر لیاقت کو ہوا تو انہوں نے بہت صاف دل کے ساتھ مجھے شادی کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ میں آپ کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہوں اوردنیا کے سامنے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اس وقت ان کی پہلی بیگم بھی ساتھ ہی تھیں۔ لیکن اس وقت میں طلاق ہونے کی وجہ سے بہت ڈپریشن میں تھی لہذٰا میں نے یہ بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی۔فضا علی نے مزید کہا کہ بہت وقت کے بعد میں نے عامر لیاقت کی طوبیٰ کے ساتھ شادی کا سنا، دونوں ہی میرے بہت اچھے دوست ہیں اور مجھے ان دونوں کی شادی کا سن کر بہت خوشی ہوئی۔ فضا علی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں عامر لیاقت اپنی بیوی طوبیٰ کے ساتھ ان کے شو میں شریک ہوئے اورایک بار پھرخواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی، میں ابھی بھی راضی ہوں طوبیٰ کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بعد ازاں فضا علی نے ہنستے ہوئے کہا عامر لیاقت ہر بات ایسے ہی کہہ دیتے ہیں۔

سنی دیول کرتارپور افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے، سدھو کو بھی اجازت

نئی دہلی: (ویب ڈیسک )نامور بالی ووڈ اداکار وسیاستدان سنی دیول اور نوجوت سنگھ سدھو کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر کل پاکستان آئیں گے۔اداکار سنی دیول کی پاکستان آمد کی تصدیق بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے گزشتہ روز کی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کرتارپور راہداری افتتاح کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے وفد میں سنی دیول بھی شامل ہوں گے۔سنی دیول کے علاوہ بھارتی وفد میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی شامل ہوں گے جب کہ نوجوت سنگھ سدھو کرتارپور آنے والے پہلے بھارتی وفد میں شامل ہوں گے۔سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کرتارپور راہداری افتتاح کی تقریب میں شرکت کی اجازت کے لیے بھارتی حکومت کو 3 خط لکھے تھے۔ جس کے بعد انہیں بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے کرتارپور افتتاحی تقریب میں شرکت کی اجازت مل گئی۔واضح رہے کہ اداکار و سیاستدان سنی دیول کا تعلق بھارتی پنجاب کے ضلع گورداس پور سے ہے اور سنی دیول نے بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ضلع گوردار پور سے ہی بھارتی الیکشن میں حصہ لیاتھا۔

نوازشریف، شہبازشریف اورمریم نوازکا لندن جانے کا امکان

لاہور:(ویب ڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف اورمریم نوازکا لندن جانے کا امکان ہے جس کے لئے اسحاق ڈار نے لندن میں انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔شریف خاندان اور(ن) لیگی رہنماو¿ں کا اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوازشریف کا علاج لندن سے کرایا جائے گا۔ (ن) لیگی ذرائع کے مطابق نوازشریف کے علاج کے لئے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے لندن میں انتظامات مکمل کرلئے ہیں، نوازشریف کے ساتھ شہبازشریف بھی جائیں گے اور بیرون ملک علاج کے لئے پنجاب حکومت کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔خاندانی ذرائع کے مطابق مریم نوازکا بھی نوازشریف کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہونے کا امکان ہے۔ مریم نوازکے پاسپورٹ کی واپسی کے لئے درخواست عدالت کے روبرو جمع کروائی جائے گی۔ وہ اپنے والد کی دیکھ بھال کے لئے بیرون ملک ہی قیام کریں گی۔نواز شریف کے معالج ڈاکٹرعدنان نے بھی بیرون ملک علاج کے لئے جانے کا مشورہ دیا اور شریف خاندان کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی طبیعت سے متعلق رپورٹس ٹھیک نہیں۔والدہ شمیم اختر نے نوازشریف سے کہا کہ بیرون ملک علاج کروایا جائے جب کہ شہبازشریف نے کہا کہ آپ کی صحت کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں، علاج کروانا بہت ضروری ہے۔ اس متعلق مریم نوازنے کہا کہ حکومت نے ہمارے خلاف سب کچھ کرلیا لیکن کچھ ثابت نہ ہوا، کرپشن کیسز بنتے رہے لیکن کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہ کرسکے۔

اپوزیشن کے قانون سازی اور پارلیمنٹ کے حوالے سے مطالبات منظور ہوں گے، وزیراعظم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے آزادی مارچ سے متعلق قائم حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو مکمل اختیار دے دیا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم ہاو¿س میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر، وزیر دفاع اور کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک سمیت پرویز الہٰی، نورالحق قادری، اسد عمر اور شفقت محمود شریک تھے۔اجلاس میں کمیٹی نے وزیراعظم کو گزشتہ روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات سے متعلق آگاہ کیا۔بعدازاں تمام تر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعظم نے کمیٹی سے کہا کہ جو بھی آپ فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہوگا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مذاکراتی ٹیم کو مکمل اختیار دیتے ہوئے استعفے کے علاوہ کوئی بھی جائز اورآئینی مطالبہ ماننے کی منظوری دی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے قانون سازی اور پارلیمنٹ کے حوالے سے مطالبات منظور ہوں گے لیکن استعفے کی خواہش قبول نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے مذاکرات میں کردار ادا کرنے پر چوہدری برادران کا شکریہ بھی ادا کیا۔یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ 6 روز سے اسلام آباد کے ایچ 9 گراو¿نڈ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بیرونی قرضوں کی واپسی کے تمام ریکارڈ توڑیں گے، حماد اظہر

ا سلام آباد(ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ہم بیرونی قرضوں کی واپسی کے تمام ریکارڈ توڑیں گے۔اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کے دوران حماد اظہر نے کہا کہ گردشی قرضے 450 ارب سے بڑھ کر 1200 ارب روپے ہوگئے تھے، قرضوں کی وجہ سے توانائی کا پورا نظام مفلوج ہوگیا تھا،تحریک انصاف نے گزشتہ سال 10 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ اتارا، ہم بیرونی قرضوں کی واپسی کے تمام ریکارڈ توڑیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پہلے 13ماہ میں مہنگائی ساڑھے21 فیصد جب کہ ن لیگ کی حکومت میں 8.3 فیصد تھی، تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا، ایسا اس لیے ہوا کہ پچھلی حکومت کرنٹ اکاو¿نٹ خسارا بہت زیادہ چھوڑ کرگئی، گزشتہ سال کرنٹ اکاوَنٹ خسارے میں 32 فیصد کمی آئی، رواں سال کرنٹ اکاوَنٹ خسارے میں 65 فیصد کمی آئی، کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں کمی کے باعث آئندہ مہینوں میں مہنگائی میں کمی ہوگی۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہورہا ہے، تین ماہ میں اسٹاک ایکسچینج میں 5500 پوائنٹس کا اضافہ ہوا،سرکاری محکموں میں اصلاحات کی جارہی ہیں مگر کسی کو فارغ نہیں کیا جارہا۔کارکے تنازع کے حوالے سے حماد اظہر نے کہا کہ کار کے کیس میں پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے، کمپنی نے 200 ارب روپے معاف کیے، پاکستان اور ترکی کے وزرائے اعظم نے اس تنازع کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

محب مرزا نے آمنہ شیخ سے راہیں جدا کرلیں

کراچی(ویب ڈیسک ) معروف ڈرامہ و فلمی اداکارہ محب مرزا نے اہلیہ و اداکارہ آمنہ شیخ سے راہیں جداکر لیں۔دس سال قبل رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی ڈرامہ انڈسٹری کی محب مرزا اور آمنہ شیخ کی جوڑی نے اب ایک دوسرے سے راہیں جدا کرلی ہیں جس کی تصدیق خود محب مرزا نے کی ہے۔اداکار احسن خان کے شو میں بطور مہمان شرکت کرنے والے محب مرزا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر نہایت تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ یہ انکشاف کرتے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو میں شو کے میزبان احسن خان کی جانب سے محب مرزا سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کے کتنے بچے ہیں ساتھ ہی یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ اور آمنہ ساتھ رہتے ہیں؟محبت مرزا نے سوال کے جواب میں لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ میری ایک بیٹی ہے اور آمنہ اور میں اب ایک ساتھ نہیں رہتے جس پر احسن خان نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی افواہیں زیر گردش تھیں اور سننے میں بھی آیا تھا کہ آپ دونوں الگ ہو گئے ہیں تاہم آپ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے اور آج بھی آپ لوگ اچھے دوست ہیں۔واضح رہے کہ محب مرزا اور آمنہ شیخ رشتہ ازدواج میں 2005 میں منسلک ہوئے تھے ان کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا نام میسا مرزا ہے۔

سی این جی اسٹیشنز کے لیے گیس کے نئے کنکشن دینے پر پابندی ختم

لاہور(ویب ڈیسک) حکومت نے سی این جی اسٹیشنز پر گیس کے نئے کنکشن دینے پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے۔آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے پابندی ختم کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی این جی کی وجہ سے حکومت کو ایک ارب ڈالر کا تیل کم امپورٹ کرنا پڑے گا اور سی این جی کے استعمال سے فضائی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ وفاقی حکومت نے سی این جی کنکشن پر کئی برسوں سے عائد پابندی ہٹا لی، پابندی کے خاتمے کے بعد سی این جی اسٹیشن لگانے کے لیے فوری گیس کا کنکشن مل جائے گا اور جو گیس نہ ملنے کی وجہ سے پہلے ہی بند تھے، وہ دوبارہ کھل جائیں گے۔غیاث عبداللہ پراچہ کے مطابق سی این جی اسٹیشن کی بحالی سے گاڑیوں میں سی این جی کے استعمال میں اضافہ ہوگا جس سے پیٹرولیم مصنوعات کم امپورٹ کرنے سے حکومت کو تقریباً ایک ارب ڈالر سالانہ کی بچت ہو گی، حکومت جلد ہی سی این جی اسٹیشنوں کے قیام کی پالیسی بھی لائے۔

عدلیہ مخالف پریس کانفرنس پر فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس

اسلام آباد (ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف پریس کانفرنس کرنے پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔عدالت عالیہ کی جانب سے توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا۔نوٹس میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس میں عدلیہ پر تنقید کی اور کہا کہ نواز شریف کو ضمانت دینے کا حکم مختلف بیماریوں کا سامنا کرنے والے قیدیوں کو اسی طرح کی درخواستیں دینے کے لیے راستہ کھولے گا۔توہین عدالت کے نوٹس میں کہا گیا کہ فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بدنام کرتے ہوئے کہا کہ بیمار نواز شریف کی رہائی پر درخواست کی سماعت خصوصی طور پر کی۔معاون خصوصی کو جاری نوٹس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی ترجمان کے طور پر اپنے اس بیان سے عوام کی نظر میں عدلیہ کو اسکینڈلائز، عدلیہ کے وقار کو نیچا دکھانے کی کوشش کی، وزیراعظم کی معاون خصوصی کے طور پر آپ کا عدلیہ سے متعلق بیان غیر ضروری ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری نوٹس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات کو یکم نومبر (جمعہ) کو صبح 9 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا۔ساتھ ہی شوکاز نوٹس میں یہ کہا گیا کہ فردوس عاشق اعوان بتائیں کہ کیوں ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔واضح رہے کہ ہفتہ 26 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی درخواست پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو 29 اکتوبر تک طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی۔اس ضمانت کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے پریس کانفرنس کی تھی، جس میں نواز شریف کی ضمانت اور عدالتی کارروائی پر بات کی تھی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کردی تھی۔عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطل کی جاتی ہے جس کی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف کو 8 ہفتے کے لیے ضمانت پر رہا کیا جائے، بیس بیس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرائے جائیں جبکہ 8 ہفتوں کی رہائی کی مدت ضمانتی مچلکے داخل ہونے کے بعد شروع ہو گی۔عدالت کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت ناساز رہنے کی صورت میں 8 ہفتے کی مدت ختم ہونے سے قبل پنجاب حکومت سے رجوع کیا جائے جبکہ صوبائی حکومت جب تک نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ نہ کرے ان کی ضمانت برقرار رہے گی۔عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ اگر نواز شریف نے صوبائی حکومت سے رابطہ نہ کیا تو 8 ہفتے کی مدت کے بعد ان کی ضمانت ختم تصور ہو گی۔اس فیصلے کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے پریس کانفرنس کی تھی اور عدالتی فیصلے اور عدالتی کارروائی پر بات کی تھی۔

حکومت اور تاجروں کے مذاکرات کامیاب، شناختی کارڈ کی شرط تین ماہ کےلئے موخر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سیلز ٹیکس کے نفاذ اور شناختی کارڈ کی شرط پر حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شناختی کارڈ کی شرط پر خریدو فروخت پر کارروائی 31 جنوری تک مو¿خر کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 کروڑ تک ٹرن اوور پر ڈیرھ فیصد کے بجائےاعشاریہ 5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس ہوگا جب کہ 10 دس کروڑ روپے تک کی ٹرن اوور والا ٹریڈر ودہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا۔اس کے علاوہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلئے بجلی کے سالانہ بل کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھاکر 12 لاکھ روپے کردی گئی ہے، کم منافع رکھنے والے سیکٹرز کے ٹرن اوور ٹیکس کا تعین ازسرنو کیا جائے گا۔اجمل بلوچ نے مزید بتایا کہ تاجروں پر مشتمل ریجنل اور مرکزی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں گی، جیولرزایسوسی ایشنز سے مل کر ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، آڑھتیوں کی تجدید لائسنس فیس پر ودہولڈنگ ٹیکس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھاکہ ٹریڈرزکےمسائل کےفوری حل کیلئے اسلام آبادایف بی آرمیں ڈیسک قائم ہوگا جب کہ نئےٹریڈرزکی رجسٹریشن اور انکم ٹیکس ریٹرن کےلئےاردومیں فارم ہوگا۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، اسپورٹس اور سرجیکل آلات کیلئے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرکے واپس 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے اور 50 ہزار سے زائد کسی بھی قسم کی خرید و فروخت میں شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھنے کی شرط کے خلاف تاجر برادری نے 13 جولائی کو بھی ملک گیر شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی تھی۔آل پاکستان انجمن تاجران اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تاجروں نے ملک بھر میں 29 اور 30 اکتوبر کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔تاجر برادری کی ہڑتال کے بعد کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، خاران، پشاور، کوہاٹ، بنوں، سرگودھا، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور ملتان سمیت ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں دکانیں اور مارکیٹیں بند اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔

جنسی ہراساں کیس: میشا شفیع، گواہان عدالت میں پیش نہ ہو سکے

لاہور: (ویب ڈیسک)گلوکار و اداکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر کیے گئے ایک ارب روپے ہرجانے کے کیس میں گلوکارہ اور ان کے گواہ دوسری مرتبہ بھی عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔اس سے قبل لاہور کی سیشن کورٹ نے میشا شفیع اور ان کے گواہوں کو بیانات قلمبند کروانے کے لیے انہیں رواں ماہ 7 اکتوبر کو طلب کیا تھا، تاہم گلوکارہ و ان کے گواہ پیش نہ ہوسکے تھے۔میشا شفیع اور ان کے گواہوں کی جانب سے پیش نہ ہونے پر عدالت نے انہیں 10 اکتوبر کو طلب کیا تھا لیکن گلوکارہ اور اس کے گواہ ایک مرتبہ پھر عدالت میں پیش نہ ہوسکےعلی ظفر کی ایک ارب روپے ہرجانے کی درخواست پر چلنے والے کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے کی، سماعت کے دوران میشا شفیع کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ گلوکارہ کینیڈا میں ہیں، اس لیے پیش نہیں ہوسکیں، وہ جلد ہی عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروائیں گی۔سماعت کے دوران علی ظفر کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ میشا شفیع اب عدالتی کاروائی کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار بنا رہی ہیں اور عدالت گلوکارہ کو ایک ارب روپے ہرجانے کا حکم دے۔خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ 21 ستمبر کو عدالت میں علی ظفر اور ان کے گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کی گئی تھی۔آخر میں میشا شفیع کے وکلا نے علی ظفر سے تین دن تک جرح کی تھی۔یہ کیس گزشتہ ڈیڑھ سال سے زیر سماعت ہے اور اس کی متعدد سماعتیں ہوئیں اور اسی کیس میں میشا شفیع نے سیشن جج پر بھی بد اعتمادی کا اظہار کیا تھا اور ان کی درخواست پر سماعت کرنے والے جج کو بھی تبدیل کیا گیا تھا۔اسی کیس میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے خلاف میشا شفیع نے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی درخواستیں دائر کی تھیں اور دونوں اعلیٰ عدالتوں نے سیشن کورٹ کو گواہوں کو جرح کے لیے وقت دینے سمیت مناسب وقت میں کیس کا فیصلہ سنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔اسی کیس میں علی ظفر کی جانب سے پیش کیے گئے 12 گواہان نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ انہوں نے علی ظفر کو میشا شفیع کو جنسی ہراساں کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور ان کے سامنے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔میشا شفیع نے اپریل 2018 میں ٹوئٹ کے ذریعے علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جسے گلوکار نے مسترد کردیا تھا۔بعد ازاں علی ظفر نے اداکارہ کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر کیس زیر سماعت ہے، دوسری جانب میشا شفیع نے بھی علی ظفر کے خلاف اسی عدالت میں 2 ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے اور اس پر بھی اسی عدالت میں 26 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔