All posts by Saqib Nasir

سپریم کورٹ میں کل ٹی ایل پی کے خلاف ریفرنس دائر کریں گے، وزیر داخلہ

اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں کل ٹی ایل پی کے خلاف ریفرنس دائر کریں گے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی، اس موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ دے کر امن کو یقینی بنایا، 580 پولیس والے زخمی ہیں اور سب کوسلام پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پوری کوشش کی کہ بات چیت سے مسئلے حل ہوں تاہم ان کے ارادے بہت خطرناک تھے اور وہ اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہتے تھے، میں دو سالوں سے مسلسل ٹی ایل پی سے رابطے میں رہا، مگر ٹی ایل پی فیض آباد آنے پربضد تھی۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کے نوٹیفکیشن کے لیے ضروری کارروائی کی جاری ہے، کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی کی منظوری دی، کچھ ہی دیر میں نوٹیفیکیشن بھی جاری ہوجائے گا جب کہ کل سپریم کورٹ میں ٹی ایل پی کے خلاف ریفرنس بھی دائر کردیں گے۔

وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ دو سال کوشش کرتا رہا ہوں کہ ٹی ایل پی ریگولر سسٹم میں آئے، اسمبلی میں قرارداد کے حوالے سے ہم پیچھے نہیں ہٹے تھے تاہم حکومت قرارداد کا ایسا مسودہ لانا چاہتی تھی جس سے ہم پر سفارتی سطح پر کوئی اثر نہ پڑے۔

سارہ خان ناسازی طبیعت کے باعث ہسپتال میں داخل

‘ثبات’ اور ‘رقصِ بسمل’ جیسے ڈراموں سے مداحوں میں مقبول ہونے والی اداکارہ سارہ خان ناسازی طبیعت کے باعث ہسپتال میں داخل ہیں۔

ان کے شوہر اور گلوکار، فلک شبیر نے فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک اسٹوری میں مداحوں کو سارہ خان کے ہسپتال میں داخل ہونے سے متعلق بتایا۔

فلک شبیر نے انسٹاگرام اسٹوری میں سارہ خان کی تصویر شیئر کی جس میں وہ ہسپتال کے بستر پر موجود ہیں اور لکھا کہ ‘ وہ ٹھیک نہیں ہیں’۔

تاہم فلک شبیر نے اپنی اسٹوری میں سارہ خان کے ہسپتال داخل ہونے کی وجہ نہیں بتائی تھی۔

اس حوالے سے دی کرنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سارہ خان کے منیجر کے مطابق اداکارہ کو ٹائیفائیڈ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔

جس کے بعد ساتھی اداکاروں عمران اشرف اور ریشم نے اداکارہ کے ہسپتال میں داخل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

علاوہ ازیں مداحوں نے بھی ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جبکہ کچھ مداحوں نے دونوں کو کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا کہا اور امید کی کہ سارہ خان کورونا سے محفوظ ہوں۔

خیال رہے کہ سارہ خان اور فلک شبیر گزشتہ دنوں ترکی میں تھے اور وہاں کے سیاحتی مقامات کی سیر کی تصاویر بھی پوسٹ کررہے تھے۔

سارہ خان گزشتہ برس جولائی میں شادی کے بندھن میں بندھی تھیں، انہوں نے اور گلوکار فلک شبیر نے 14 جولائی کو منگنی کا اعلان کیا تھا اور اگلے ہی دن دونوں کی شادی کی تقریبات کا آغاز ہوا تھا اور وہ 17 جولائی کو شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے۔

بانی خبریں گروپ ضیاءشاہد کے انتقال پر امتنان شاہد سے یوسف رضا گیلانی اور علی حیدر گیلانی تعزیت کے بعد دعا مانگ رہے ہیں

لاہور (خبریں، چبنل۵ ویب ڈیسک) بانی خبریں گروپ ضیاءشاہد کی وفات پر اظہارتعزیت کے لیے ملک بھر سے سیاسی ، سماجی اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی آمد کا سلسلہ ایڈیٹر خبریں امتنان شاہد کی رہائش گاہ پر گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ سابق وزیراعظم اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی اپنے صاحبزادے علی حیدر گیلانی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے وفد نے صدر قمر الزمان کا ئرہ اور جنرل سیکرٹری چوہدری منظور کی سربراہی میں تعزیت کی وفد میں سینئر نائب صدر اسلم گل ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک عثمان اور فرخ بصیر شامل تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ترجمان پنجاب حکومت شوکت بسراءملک کے نامور عالم دین سید ضیاءاللہ بخاری اور ان کے صاحبزادے ڈاکٹر سید اسامہ بخاری نے تعزیت کی اور اس موقعہ پر دعا بھی کروائی۔تفصیلات کے مطابق ایڈیٹر خبریں امتنان شاہد کی رہائش گاہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سینیٹر یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی نے کہا ضیاءشاہد کی وفات سے صحافت کا روشن باب بند ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے کہا ہمیشہ رابطے میں رہے انہوں نے اپنی صحافت کے ساتھ کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔

زمبابوے کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک پر 8سال کی پابندی عائد

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر زمبابوے کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک پر 8سال کی پابندی عائد کردی۔

ہیتھ اسٹریک پر کرپشن میں ملوث شخص سے بٹ کوائن میں رقم وصول کرنے سمیت آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قوانین کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

زمبابوے کی تاریخ کے عظیم ترین فاسٹ باؤلر تصور کیے جانے والے ہیتھ اسٹریک 2017 اور 2018 میں کھیلے گئے میچ کی وجہ سے مسلسل زیر تفتیش تھے اور یہ میچز اس وقت کھیلے گئے جب وہ زمبابوے کی کوچنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

وہ 2016 سے 2018 تک زمبابوے کے کوچ رہنے کے ساتھ ساتھ انڈین پریمیئر لیگ، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور افغانستان پریمیئر لیگ سے بھی منسلک رہے۔

ہیتھ اسٹریک پر الزام ہے کہ انہوں نے کرپٹ سرگرمیوں میں ملوث افراد کا ٹیم کے کھلاڑیوں سے رابطہ کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا جبکہ ان پر کرپٹ افراد کی جانب سے رابطے کے بارے میں آگاہ نہ کرنے اور ان سے تحائف اور رقوم وغیرہ وصول کرنے کا بھی الزام ہے۔

زمبابوے کے سابق کپتان پر الزام ہے کہ انہیں دو بٹ کوائن کی شکل میں رقم کی ادائیگی کی گئی جس کی مالیت 35ہزار ڈالر بنتی ہے جبکہ انہیں ایک آئی فون بھی بور تحفہ دیا گیا تھا لیکن اس حوالے سے بھی انہوں نے آگاہ نہیں کیا۔

کرک انفو کے مطابق ہیتھ اسٹریک نے ابتدائی طور پر ان الزامات کا عدالت میں سامنا کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ٹھوس شواہد کو دیکھتے ہوئے انہوں نے الزامات اور سزا کو قبول کر لیا ہے۔

ان پر 8 سال کے لیے ہر طرز کی کرکٹ میں شمولیت پر پابندی عائد کردی ہے اور وہ 28 مارچ 2029 سے دوبارہ کھیلوں کی سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں گے۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کے سربراہ ایلکس مارشل نے کہا کہ ہیتھ اسٹریک ایک تجربہ کار سابق کرکٹر ہیں اور قومی ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ متعدد ایسے سیشنز میں شرکت کر چکے ہیں جس میں کرپٹ سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی لہذا وہ اپنی ذمے داریوں سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ سابق کپتان اور کوچ کی حیثیت سے ان پر ذمے داری عائد ہوتی تھی کہ وہ کھیل کی شفافیت کو برقرار رکھیں لیکن انہوں نے ناصرف متعدد مرتبہ ان قواعد کی خلاف ورزی کی بلکہ چار کھلاڑیوں کی کرپٹ عناصر تک رسائی کا سبب بھی بنے جبکہ انہوں نے ہماری تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی کوشش کی۔

ایلکس مارشل نے کہا کہ اسٹریک کے اقدامات سے میچ کے نتیجے پر کوئی فرق نہیں پڑا اور انہوں نے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن تعلیمی پروگرام سے تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

زمبابوے کے سابق کھلاڑیوں سمیت کھیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہیتھ اسٹریک کی سرگرمیوں پر پابندی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

زمبابوے کے سابق وزیر کھیل ڈیوڈ کولارٹ نے اس رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے افعال کے لیے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن نے کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ زمبابوے کرکٹ کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہیے۔

زمبابوے کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک 90 کی دہائی میں زمبابوے کی ٹیم کے اہم رکن تصور کیے جاتے تھے اور انہوں نے اپنی عمدہ باؤلنگ اور بیٹنگ سے کئی میچز میں زمبابوے کو فتح دلائی۔

نامور آل راؤڈر کو 65 ٹیسٹ اور 189 ون ڈے میچز میں زمبابوے کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے اور اس دوران انہوں نے 450 سے زائد وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ 4 ہزار 933 رنز بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زمبابوے کی کوچنگ کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف لیگز میں بھی بطور کوچ فرنچائزوں سے منسلک رہے۔

خلیجی ممالک کیلئے عمرہ پروگرام کی نئی شرائط جاری

مکہ مکرمہ: سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے خلیجی ممالک کے شہریوں کے لیے عمرہ پروگرام کی شرائط جاری کردیں۔

نائب وزیرحج و عمرہ کے مطابق خلیجی ممالک سے آنے والوں کو کورونا ویکسین کا کورس مکمل کرنالازمی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ معتمرین مکہ مکرمہ میں قائم نگہداشت کے مرکز میں عمرہ کی ادائیگی سے کم از کم 6 گھنٹے قبل رجوع کریں جہاں ان کی میڈیکل ہسٹری دیکھنے کے بعد ’محفوظ‘ کیٹگری کی تصدیق کی جائے گی۔

وزارت حج و عمرہ کے مطابق محفوظ کیٹگری کی تحقیق ہونے کے بعد عمرہ کے لیے آنے والوں کو مخصوص کمپیوٹرائزڈ ’ڈیجیٹل کڑا‘ دیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق دستاویزات کی فراہمی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے سابق عہدیدار اکبر ایس بابر کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 6 اپریل کو اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکم دیا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی ریگولر ورکنگ ڈیز میں صبح 10 بجے سے سہ پہر3 بجے تک کام کرے جب کہ فریقین ایک ایک چارٹر اکاؤنٹنٹ اور ایک ایک مالی ایکسپرٹ کمیٹی کو فراہم کریں۔

الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کو مئی کے آخر تک کام مکمل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

سینئر ہدایت کار ایس سلیمان انتقال کرگئے

پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور ہدایت کار اور پروڈیوسر ایس سلیمان 80 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔

ایس سلیمان طویل عرصے سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور ان کا انتقال آج (14 اپریل کی) صبح ہوا۔

ان کی اہلیہ اور معروف اداکارہ زری بیگم نے ایس سلیمان کے انتقال کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ ایس سلیمان گزشتہ ایک سال سے مختلف اوقات میں نجی ہسپتال میں زیر علاج رہے لیکن 2 روز قبل ان کی حالت زیادہ بگڑ گئی تھی۔

ایس سلیمان کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کا بڑا بیٹا بیرون ملک مقیم ہے اور وہ 15 اپریل کی رات تک لاہور پہنچے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 16 اپریل بروز جمعہ کو لاہور کی نجی سوسائٹی میں ایس سلیمان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

خیال رہے کہ ایس سلیمان نے معروف اداکارہ اور کلاسیکل پرفارمر زری عرف پنا سے شادی کی تھی جن سے ان کی ایک بیٹی اور 2 بیٹے ہیں۔

وزیر ثقافت پنجاب خیال احمد کاسترو نے سینئر ہدایت کار ایس سلیمان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایس سلیمان پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہری دور کے روح رواں تھے، اللہ تعالی ایس سلیمان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

ایس سلیمان اپنے دور میں انڈسٹری کے 2 معروف ترین ہیروز سنتوش کمار (سید موسیٰ عباس رضا) اور درپن (سید عشرت عباس) کے چھوٹے بھائی تھے۔

انہوں نے 1961 سے 1998 کے دوران 48 فلموں کی ہدایات دیں جن میں سے 2 فلمیں پنجابی زبان میں ریلیز ہوئی تھیں۔

ایس سلیمان صرف 21 برس کی عمر میں اپنی پہلی فلم کی ہدایات دی تھیں اور انہوں نے متعدد ٹی وی سیریلز کی ہدایات بھی دیں۔

انہوں نے سب سے زیادہ فلمیں اداکار محمد علی اور ندیم بیگ کے ساتھ بنائیں جو 70 کی دہائی کے اواخر میں ریلیز ہوئیں۔

ایس سلیمان کی کامیاب ترین فلموں میں ‘گلفام’، ‘باجی’،’ زینت’، ‘الزام’ اور ‘تصویر’ شامل ہیں۔

انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ انہیں 10 نگار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔

کراچی میں 40 فیصد لوگ کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں نیم متوسط طبقے کے لیے کبھی ایسے منصوبے پیش نہیں کیے گئے جہاں وہ اپنا گھر بنا کر ساری زندگی سکون سے گزار سکیں جبکہ محض کراچی میں 40 فیصد لوگ کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں۔

سرگودھا میں کم قیمت ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ 10 برس کے دوران 10 ہزار روپے ماہانہ کی قسط پر نیم متوسط طبقہ اپنا گھر حاصل کرسکے گا اور اس منصوبے کے آغاز پر ہر اس شخص کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جس نے منصوبے کے لیے کوششیں کیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 31 سائٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہاؤسنگ اسکیم کے منصوبے نہ ہونے سے کچی آبادیوں نے جنم لیا۔

اس موقع پر عمران خان نے کراچی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بریفنگ دی گئی کہ پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر میں 40 فیصد لوگ کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس لیے کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں کہ کبھی ان کے لیے کوئی ہاؤسنگ اسکیم بنی ہی نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادی میں نظام زندگی تباہ حال ہے کیونکہ ایسے طبقے کی کبھی کسی نے پرواہ نہیں کی۔

عمران خان نے کہا کہ کچی آبادی میں مالکانہ حقوق اور نہ ہی سہولتیں میسر ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور تمام تحصیلوں میں رواں سال کے آخر تک ہاؤسنگ اسکیم کے منصوبے شروع ہوجائیں گے۔

علاوہ ازیں انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کی طلب زیادہ ہے اور ہمارے پاس اتنے گھر نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بینکوں میں نیم متوسط طبقے کو ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق معلومات کے حصول یا دیگر امور کی انجام دہی کے لیے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے متعدد شکایات موصول ہورہی ہیں۔

تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے بینک آف پنجاب کے صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ اپنے عملے کی اضافی ٹریننگ کرائیں تاکہ اس صورتحال سے نمٹا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بینکوں نے کم آمدن سے وابستہ ہاؤسنگ اسکیم کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کردیا تو پاکستان میں معاشی انقلاب آجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شعبہ تعمیرات کے ساتھ 30 دیگر صنعتیں منسلک ہیں اور جیسے ہی تعمیرات کا عمل شروع ہوتا ہے بڑے پیمانے پر روزگار ملنا شروع ہوجاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ہاؤسنگ اسکیم کے لیے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت وقت بچ گیا کیونکہ اشتہارات کے بعد ٹینڈر ہوتے ہیں، اس میں انتخاب کرنا اور پھر لوگوں کو قومی احتساب بیورو (نیب) سے ڈر ہوتا ہے اس لیے سیدھا سیدھا دونوں اداروں کو کہا کہ وہ اس منصوبے میں شرکت کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر ہو تو دونوں ادارے اپنا کام نہیں روکتے کیونکہ ان کے پاس اپنے بہت وسائل ہیں۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کو سرگودھا میں 64 کنال اراضی پر 320 گھر بنانے کے منصوبہ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

حکومت کا تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

ملک کے مختلف شہروں میں 3 روز سے جاری پُر تشدد احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔

ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پابندی کی قرارداد حکومت پنجاب کی جانب سے آئی تھی جس کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو معاہدہ کیا اس پر قائم تھے اور ہیں لیکن جس مسودے کا تقاضا وہ کررہے تھے وہ اس ملک کو دنیا میں انتہا پسند ملک کا نام دیتا، جس کے لیے ہم تیار نہیں تھے، ہم شائستہ اور پارلیمانی زبان میں وہ قرار داد لا رہے تھے جو انہوں نے یکسر مسترد کردی۔

شیخ رشید نے کہا کہ احتجاج کے دوران ایمبولینسز کو روکا گیا، کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے منگوائی گئی آکسیجن روکی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جی ٹی روڈ، موٹرویز بحال ہیں، اس پر تشدد احتجاج کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 340 زخمی ہوئے، اس کے علاوہ مظاہرین نے کچھ اہلکاروں کو اغوا کر کے ہم سے مطالبات کیے جو اب واپس اپنے تھانوں کو پہنچ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سڑکیں بلاک کرنے اور بد امنی کے پیغامات دینے والوں کا قانون پیچھا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ قومی اسمبلی میں ناموس رسالت سے متعلق ایسا بل پیش کریں جس سے نبی ﷺ کا جھنڈا بلند ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ٹی ایل پی سے متعدد مرتبہ مذاکرات کیے گئے اور جب یہ اجلاس میں آتے تھے تو گھروں میں پیغامات ریکارڈ کروا کر آتے ہیں کہ فلاں فلاں سڑک بند کرنی ہے۔۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری آخری حد تک یہ کوشش رہی کہ ہم باہمی اتفاق رائے سے اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے کے لیے ان کو راضی کرلیں لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام کوششوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہی بھی تھی کہ وہ ہر صورت میں فیض آباد چوک اسلام آباد آنا چاہتے تھے اور ان کی بڑی لمبی تیاری تھی جسے روکنے کے لیے پولیس نے بہت زبردست کام کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ اس جماعت کا میڈیا چلا رہے ہیں میں ان سے کہوں گا سرینڈر کردیں، آپ ایک دن، 2 دن 4 دن میڈیا چلالیں گے لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ سوشل میڈیا کے ذریعے اس حکومت کو مسائل سے دوچار کرسکتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو مسائل سے دوچار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسا مسودہ چاہتے ہیں کہ جس سے نبی ﷺ کا جھنڈا بلند ہو لیکن یہ جو مسودہ چاہ رہے تھے اس سے دنیا میں ہمارے لیے انتہا پسند مملکت کا تاثر جاتا اور جب بات مذاکرات پر ہوتی ہے تو گنجائش رکھی جاتی ہے کہ ریاستی معاملات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی والے ایسا مسودہ چاہتے تھے کہ تمام یورپی ممالک کے لوگ ہی یہاں سے فارغ ہوجائیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے بہت تیاری کر رکھی تھی اور حکمت عملی بنائی ہوئی تھی، آج ہم نے انہیں عطیات دینے والوں کی بھی بازپرس کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات پر آنے سے قبل سوشل میڈیا کے لیے تمام تر پیغامات ریکارڈ کروا کر آتے تھے لیکن اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی لگادی جائے۔

شیخ رشید نے کہا کہ جو مقدمات درج ہیں ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، عدالتیں سب کے لیے کھلی ہیں جو چاہے ان سے رجوع کرے۔

ٹی ایل پی احتجاج کا پس منظر

ٹی ایل پی نے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر رواں سال فروری میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔

حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔

جس پر ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

اس حوالے سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز سعد رضوی نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں، جس کے باعث حکومت نے انہیں گزشتہ روز گرفتار کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ سعد رضوی ٹی ایل پی کے مرحوم قائد خادم حسین رضوی کے بیٹے ہیں۔

ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے جنہوں نے بعض مقامات پر پر تشدد صورتحال اختیار کرلی۔

جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے اور سڑکوں کی بندش کے باعث لاکھوں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

PPP,ANPفیصلے پر نظر ثانی کریں PDM مولانا مفاہمت چاہتے ہیں تو پہلے بتائیں کس کے کہنے پر لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی کیا تھا:پیپلز پارٹی

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ وجمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے تو قع نہیں تھی کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو باپ بنالیں گے ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کوایک موقع دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں ہم آپس میں بیٹھ کر شکوے اورشکایات دور کرسکتے ہیں۔پی ڈی ایم میدان میں رہے گی، پی ڈی ایم کی تحریک اور اس کے آگے بڑھنے کی رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کااظہارانھوں نے اپنی رہائش گاہ پر پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلا س میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی، میرطاہر بزنجو،آفتاب شیر پائو ،احسن اقبال، اویس نورانی اوردیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی نے پی ڈی ایم سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کر دیا اور ان کے عہدیداروں نے اپنے استعفے بھی بھیج دیئے ہیں، انہوں نے اپنے آ پکو علیحدہ کر دیا لیکن ہم پھر بھی کوشش کریں گے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کریں ا س لئے ابھی پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کے استعفے قبول نہیں کر رہے بلکہ انھیں ایک موقع دے رہے ہیں ،ہم نہیں چاہتے تنظیمی معاملات چوراہوں پر لائیں بلکہ ان کا بات چیت سے حل نکالیں ، پی ڈی ایم منصب کے لیے لڑنے کا فورم نہیں، ہم نے مکمل احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر جواب طلب کئے ، افسوس ہے جواب دینے کی بجائے استعفے بھجوادیئے ۔انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم برقرارہے اور برقرار رہے گی ، افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اتحاد اورپارٹیاں اپنے نظریات کیساتھ قائم رہتی ہیں، پی ڈی ایم دس جماعتوں کے اتحاد کا نام ہے اور ا سمیں شامل تمام جماعتوں کی حیثیت برابر ہے ۔ جہاں پی ڈی ایم کے اندر دس جماعتوں کا اتحاد ہے وہاں ایک باضابطہ تنظیمی ڈھانچہ بھی ہے ، صرف یہ نہیں ہے کہ جماعتیں ہیں اور سربراہان نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ایک مستقل صدر، نائب صدر، سیکرٹری جنرل اور دیگر ذمہ دار ہیں ۔انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سے جدا ہونے والی دونوں جماعتوں کا سیاسی قد کاٹھ کا تقاضا تھا کہ باوقار انداز سے نوٹس کا جواب دیتے لیکن غیر ضروری طور پر عزت نفس کا مسئلہ بنا لیا۔ ان کا جواب میڈیا کی طرف سے آیا انہیں عزت نفس کا مسئلہ ہے کون ہوتے ہیں ہم سے پوچھنے والے اور وضاحت کا نوٹس پھاڑ دینا یہ سب میڈیا سے آیا۔انھوں نے کہاکہ دونوں جماعتیں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس بلا کر وہاں پر بھی آ کر جواب دے سکتی تھیں اور سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بھی بلا سکتی تھیں اور کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پی ڈی ایم جماعتوں کی طرف سے اکثر فیصلے اتفاق رائے سے آئے ہیں، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور قائد حزب اختلاف کے امیدوار کا انتخاب تحریری طور پر اتفاق رائے سے ہوا تھا اور جب ان فیصلوں کی خلاف ورزی ہوئی اور جو نتائج آئے تو تنظیمی تقاضا تھا کہ جس جماعت سے شکایت ہے اس سے جواب لیا جائے اور کسی جماعت سے جواب مانگنا کوئی نئی چیز نہیں ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ قوم پی ڈی ایم کیساتھ ہے ۔عیدکے بعدمشترکہ فیصلے سے حکومت مخالف تحریک کے بارے میں لائحہ عمل دیں گے ۔ پی ڈی ایم ایک سنجیدہ اور قومی مقاصد حاصل کرنے کیلئے بنایا گیا فورم ہے ، پی ڈی ایم کا فورم پاکستان، عوام اور جمہوریت کے عظیم مقصد کیلئے تشکیل دیا گیا تھا اور آج بھی اس عظیم مقصد کو مد نظر رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب بھی اے این پی اور پیپلز پارٹی کے لئے موقع ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں ۔ پی ڈی ایم کا پروگرام عوام کی امانت ہے کیونکہ پاکستان معاشی طور پر تباہ ہو چکا ہے ، عوام مشکلات میں ہیں، وہاں ہم اپنے چند سیاسی مقاصد کیلئے نہیں لڑ سکتے ، ہم چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے عوام کیلئے فیصلے کریں، پیپلز پارٹی اوراے این پی نے بہت چھوٹی سطح پر آ کر فیصلے کئے ہیں جو ان کا مقام نہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مسائل کاحل کہاں تک نکلتا تھا ہم نے کوشش کی ،ملک کی سیاست اورجمہوریت کی خاطر یہ فورم قائم کیا گیا تھا ،تحریک لبیک کے ساتھ روا رکھا جانے والاحکومتی رویہ درست نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بیان بازی میں بالکل نہیں الجھنا، یہ ہمارا آخری بیان ہے ، ہماری طرف سے جواب آگیا، اب ان سے توقع ہے کہ وہ بلوغت کا مظاہرہ کریں گے ،پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ووٹ لینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ \’باپ کو باپ بنائیں گے ۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں کرسیوں کی سیاست سے ہٹ کرملک کی بات کرنی چاہئے ۔عباسی کا پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم سے علیحدگی کے اعلان سے متعلق کہنا تھا کہ جو جماعت اتحاد کا اعتماد کھو بیٹھے ، میری نظر میں اس کیلئے کوئی گنجائش نہیں، فیصلہ پی ڈی ایم کی جماعتیں کریں گی۔ جو جماعت اتحاد میں نہیں رہنا چاہتی تو پھر ان کا اپنا راستہ ہے اور ہمارا اپنا راستہ ہے ، ہمارا مقصد نظام کی تبدیلی ہے ۔ادھر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے بطور ایڈمن پی ڈی ایم کے واٹس ایپ گروپ سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے رہنماؤں کو نکال دیا۔پیپلزپارٹی کی جانب سے پی ڈی ایم کے عہدوں سے مستعفی ہونے پر احسن اقبال نے شیری رحمان،راجہ پرویز اشرف،قمرزمان کائرہ کو نکال دیا ۔احسن اقبال نے اے این پی کے میاں افتخار کو بھی پی ڈی ایم کے واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا۔دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم کے واٹس ایپ گروپ سے نکالنے پر سوشل میڈیا پر صارفین دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوذب نے واٹس گروپ کا سکرین شاٹ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں لڑائی ہوگئی، پی ڈی ایم کے جنازے کے بعد۔اس پر سانولی نامی ٹویٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ ‘کیا یہ اتحاد سینیٹ کے الیکشن تک کے لیے تھا۔وجیہہ ہلال نے اس پر لکھا کہ ہمیں کیوں نکالا۔ عدنان صدیقی نے تحریک انصاف کی ایم این اے کو لکھا کہ ‘عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں، پلیز عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھیں۔شہزاد ملک نامی ٹویٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ ‘لو جی واٹس ایپ صحافت کے بعد حاضر ہے واٹس ایپ سیاست، نکالنے چلے تھے وزیر اعظم کو، نکال رہے ہیں ایک دوسرے کو واٹس ایپ سے ۔آر جے طیبہ نے ٹویٹ کیا کہ سب کو نکال دیا، پی ڈی ایم ختم ہو گئی۔ ، پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مولانا نے انتہائی نامناسب بات کی کہ باپ کو باپ نہیں بنانا چاہئے ، میں توقع کررہا ہوں آپ اپنے الفاظ واپس لیں گے ، ہم نے استعفے دے دیئے ،(ن) لیگ والے تلخ باتیں کرتے رہے ، اگر خط اور شوکاز میڈیا سے ملے تو جواب بھی میڈیا سے ملنا چاہیے ، میاں صاحب اے آر ڈی کو بغیر بتائے باہر چلے گئے تھے کوئی شوکاز نہیں جاری کیا، زبیر صاحب دو مرتبہ آرمی چیف سے ملے ،اتحادوں میں کبھی کسی کو شوکاز نہیں ہوتے لیکن ہمیں شوکاز دے دیا گیا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ ہم اے این پی کے ساتھ ہیں، چھوٹی بڑی کوئی جماعت نہیں ہوتی ۔پیپلز پارٹی اس ملک کی بڑی جماعت ہے ، ہم سب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے استعفیٰ دے دیا ، گروپ میں رہیں نہ رہیں ، جن صاحب نے گروپ سے نکالا ہے لگتا ہے مسلم لیگ لندن کو ہمیں گروپ سے نکالنے کی کافی جلدی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جہانگیر ترین سے ہمارے کوئی رابطے نہیں ۔( ن) لیگ تلخ باتیں کرتی رہی ان کا احترام کرتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں پیپلز پارٹی جواب دے شوکاز جاری کیا ہے ۔ مولانا نے فرمایا ہے کہ شاہد خاقان کے جواب کے لئے پی ڈی ایم میں آجانا چاہیے تھا، اگر خط اور شوکاز میڈیا سے ملے تو جواب بھی میڈیا سے ملنا چاہیے ۔ تلخ باتیں دونوں طرف سے ہوئی ہیں۔ مولانا ہم سے وضاحت طلب کررہے ہیں آپ ساری تحریکوں کا حصہ رہے ہیں ،ہم نے پی ڈی ایم اتحاد بنایا تھا اس کا فورم تشکیل دیا تھا، اس کا چارٹر 26 پوائنٹس پر مشتمل تھا، فیصلہ ہوا تھا اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا، پیپلز پارٹی ہر معاہدے کے ساتھ کھڑی ہے ، ہم اس کے ایک ایک لفظ کا پہرا دے رہے ہیں۔ کہا گیا سب کے ساتھ ساتھ کسانوں، تاجروں کے ساتھ بھی رابطے کئے جائیں ، کسی ایک سے بھی رابطہ نہیں کیا گیا، ہمیں کہا گیا عدم اعتماد کیسے لائیں ، ہمارے پاس نمبرز نہیں ،ہم نے کہاں حکومت سے ووٹ لئے ہیں، جماعت اسلامی کو گالی مت دیں وہ حکومت کا حصہ نہیں ۔انہوں نے کہاکہ سینیٹر دلاور ن لیگ کے سینیٹر ہیں آپ ان کو نکال دیں ن لیگ سے ، ان کے ساتھ تین سینیٹرز آئے ۔پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن 2002 کی اسمبلی میں پی پی کی اکثریت کے باوجود خود اپوزیشن لیڈر بن گئے تھے ۔اگر مولانا فضل الرحمن مفاہمت چاہتے ہیں تو پہلے بتائیں کہ کس کے کہنے پر لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی کیا۔مولانا فضل الرحمن آگاہ کریں کہ پی ڈی ایم کے ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے ۔اکثریتی جماعت کا حق ہے کہ وہ ایوان بالا و زیریں میں اپنا اپوزیشن لیڈر لائے ۔یہ کیسی منطق ہے کہ پی پی کے استعفے حلال اور ن لیگ کے استعفے حرام ہیں۔دوسری طرف پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم سے اپنی پارٹی کے استعفے مولانا فضل الرحمن کی رہائشگاہ پر پہنچا دیئے ۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے تحریری منظوری دی۔ پیپلز پارٹی نے سینیٹر شیری رحمن، راجہ پرویز اشرف، قمرزمان کائرہ کے پی ڈی ایم کی طرف سے دئیے گئے عہدوں سے استعفے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر پہنچائے ۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ملک کو جلد عوام دشمن حکمرانوں سے نجات دلائی جا ئے گی۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے 30 ماہ میں پبلک ڈیٹ 12.5 کھرب روپے بڑھ گیا ہے ، مجموعی پبلک ڈیٹ 44 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جو جی ڈی پی کا 90 فیصد ہے ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ 2023 میں سرکلر قرض مجموعی طور پر 4.6 ٹریلین روپے تک پہنچ جائے گا۔