All posts by Saqib Nasir

پاکستان اور تاجکستان پنج شیر کشیدگی ختم کرانے کو تیار

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، افغانستان میں ایسی جامع حکومت کے قیا م کی ضرورت ہے جس میں تمام گروپوں کی نمائندگی موجود ہو، افغانستان کے دوست کی حیثیت سے ہم پنج شیر کے معاملہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں، پاکستان اس سلسلے میں پشتون گروپوں جبکہ تاجکستان تاجکوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پاکستان اور تاجکستان کے مابین مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخطوں کے بعد تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کامیاب انعقاد پر تاجکستان کے صدر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے تاجکستان میں اپنی اور اپنے وفد کی بہترین میزبانی پر تاجکستان کے صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارت، سیاحت، اطلاعات، ادویہ سازی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین افغانستان کی صورتحال پر بھی اہم بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پورے خطے کیلئے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان عوام 40 سال سے مشکلات کا شکار ہیں، انہیں امن کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنج شیر میں طالبان اور تاجکوں کے مابین تنازعہ کے پرامن حل کیلئے ثالثی پر بھی بات چیت ہوئی، ہم کوشش کریں گے کہ اس معاملہ کو بات چیت سے حل کیا جائے، اس سلسلہ میں پاکستان پشتون گروپوں جبکہ تاجکستان تاجکوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ میں یہ فیصلہ کن گھڑی ہے، افغانستان میں پشتون 45 فیصد ہیں، اس کے علاوہ تاجک اور ہزارہ سمیت کئی اور گروپ بھی موجود ہیں، افغانستان میں جامع حکومت کے قیام کے ذریعے ہی پائیدار امن ممکن ہے، اس سلسلہ میں ہم اپنی پوری کوششیں کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان کا امن بھی وابستہ ہے، تین دہشت گرد گروپ اب بھی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، افغانستان میں قیام امن جامع حکومت کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ قبل ازیں دونوں ملکوں کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ اس سلسلہ میں تقریب دوشنبے کے صدارتی محل ”قصر ملت” میں ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے مذاکرات میں پاکستانی جبکہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان جبکہ صدر امام علی رحمان نے تاجکستان کی طرف سے مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے اور دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ دونوں ملکوں کے مابین خارجہ امور ، صنعتی تعاون ، دوہرے ٹیکسوں کے بچا ،منی لانڈرنگ ، دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے، فنانشل انٹیلی جنس، سیاحت اور کھیل، اطلاعات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ تاجک خبر رساں ایجنسی اور پاکستان کے قومی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی )کے مابین بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں سے دونوں ملکوں کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔

نیب کو ٹیکس گزاروں کے ڈیٹا تک رسائی مل گئی

ٹیکس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے پر5 لاکھ جرمانہ، ایک سال قید سزا مقرر
نان فائلر پروفیشنلز کیلئے بجلی بل کی مختلف سلیب پر 35 فیصد ٹیکس عائد

پروفیشنلز میں وکلائ، ڈاکٹر، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور اکاﺅنٹنٹ شامل
ایف بی آر کو نادرا ڈیٹا تک رسائی حاصل، انکم ٹیکس آرڈیننس سیکشن 198 ختم

نیب20 سال پرانی بند فائلیں بھی کھول سکے گا، آرڈیننس جاری
نان فائلرز کے فون، یوٹیلیٹی کنکشن کاٹنے کا اختیار بھی حاصل
اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)

افغان مسئلے کا واحد حل مشترکہ حکومت ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان مسئلے کا واحد حل مشترکہ حکومت ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں، طالبان نے گزشتہ 20 سال میں بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ تبدیل ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے، افغانستان 40 سال کی جنگی صورت حال کے بعد استحکام کی طرف بڑھے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان غلط سمت گیا تو افراتفری، انسانی بحران، پناہ گزینوں کے بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت ایک مشترکہ حکومت ہے، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران سے سارے ہمسائے متاثر ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے میں  سمجھتا ہوں جو کچھ صدر بائیڈن نے کیا وہ سمجھداری کا فیصلہ تھا، تاہم امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان کے نکتہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشت گردی کا بھی خطرہ ہے،  پہلے سے ہی تین دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کروارہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے 2 روزہ دورے پر تاجکستان میں موجود تھے، دورے کے دوران وزیرِ اعظم کی ایران، قازقستان ، بیلاروس اور ازبکستان کے صدور سے ملاقاتیں بھی ہوئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان عوام کوانسانی ہمدردی کی بنیاد پرامداد کی ضرورت ہے،افغانستان ایساملک ہےجس میں کوئی باہرسے حکمرانی نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دنیا کا افغانستان کےساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے، پچھلی افغان حکومت 75 فیصدغیر ملکی امداد پر چل رہی تھی، افغانستان کی موجودہ صورتحال میں عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ طالبان کوسیاسی استحکام کےساتھ افغان عوام کا بھروسہ جیتنا ہوگا، افغانستان میں ایسا سیاسی ڈھانچہ ہو جس میں تمام افغان گروپوں کی نمائندگی ہو، پاکستان سمجھتا ہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں، پاکستا ن پر امن افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے،افغانستان کوتنہا چھوڑا تو مختلف بحران ایک ساتھ جنم لیں گے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ افغانستان کی صورتحال پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے،افغانستان کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا،عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا، افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم نے افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ یکساں موقف رکھا ، افغانستان کا مسئلہ ہم سب کومل کرحل کرناہوگا، پاکستان نےدہشت گردی کےخلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا،دہشت گرد ی کے خلاف جنگ میں 80 ہزارسےزائد جانوں کی قربانی دی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معیشت کونقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجکستان کےساتھ دیرینہ اوربرادرانہ تعلقات ہیں،شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی پر تاجک صدر کے مشکور ہیں، تجارت، سرمایہ کاری، روابط کےفروغ کیلئے تنظیم اہم پلیٹ فارم ہے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ کورونا سے پوری دنیا کی معیشتیں متاثرہوئیں ،خطےکوکئی چیلنجزکا سامنا ہے، ہمیں مل کرمسائل سے نمٹنا ہے، کورونا میں صحت کےساتھ معاشی صورتحال پر بھی نظر رکھنی ہے، دنیا کا ہیلتھ سیکٹر کورونا صورتحال میں مقابلہ نہیں کرسکتا۔

اجلاس میں خطاب کے دوران انہوں نے مزید کہا تھا کہ دنیا کودوسرا بڑا چیلنج ماحولیاتی آلودگی کا ہے، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے ہم نے شجر کاری مہم شروع کی ، دنیا کے مختلف خطے پرعالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔

عمر شریف کے علاج کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیدیا، وفاقی حکومت

گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وفاقی وزیر اطلاعات فواہد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق لیجنڈری اداکار عمر شریف کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے آغا خان ہسپتال میں عمر شریف کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ہی اداکار کی عیادت کرنے آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عمر شریف کا 11 ستمبر کو ہسپتال میں ڈائلاسز بھی ہوا ہے اور ان کے علاج کے لیے وزیر اعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جو اداکار کے علاج سے متعلق فیصلہ کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی حکومت عمر شریف کے علاج کے تمام اخراجات اور انتظامات کرے گی۔

انہوں نے عمر شریف کو ملک و قوم کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداکار نے ماضی میں وزیر اعظم عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے لیجنڈری اداکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کو مختص کرکے لیجنڈری ٹرسٹ ادارے کو فعال کرنے کی بات بھی کریں گے۔

میڈیا سے بات کرتے وقت چوہدری فواد نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر ہی ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمر شریف کے معالج ڈاکٹر یاور کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جو اداکار کے علاج سے متعلق فیصلہ کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو فیصلہ میڈیکل بورڈ کرے گا، حکومت اس پر عمل درآمد کرے گی اور عمر شریف کے علاج کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دل کے عارضے کا علاج پاکستان میں بھی ممکن ہے مگر جو فیصلہ میڈیکل بورڈ کرے گا، اس پر ہی عمل کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بیرون ملک کا ویزا جاری کرنا یا ایئر ایمبولینس فراہم کرنا مسئلہ نہیں ہے لیکن میڈیکل بورڈ پہلے یہ دیکھے گا کہ عمر شریف بیرون ملک سفر کرنے کی حالت میں ہیں یا نہیں؟

چوہدری فواد حسین کے مطابق میڈیکل بورڈ عمر شریف کی صحت، حالت اور بیرون ملک سفر کرنے کی طاقت کو دیکھتے ہوئے جو بھی فیصلہ کرے گا، اس پر عمل کیا جائے گا۔

اسی دوران گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حکومت میڈیکل بورڈ کی تجاویز پر عمر شریف کو ایئر ایمبولینس فراہم کرنے سمیت امریکا و جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی علاج کے لیے بھیجے گی۔

خیال رہے کہ عمر شریف گزشتہ کچھ عرصے سے علیل ہیں اور ابتدائی طور پر ان کے اہل خانہ نے ان کی علالت کی خبروں کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

گزشتہ ماہ اگست کے اختتام پر عمر شریف کی سوشل میڈیا پر بیماری کی تصاویر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد ابتدائی طور پر ان کے اہل خانہ نے ان کے علیل ہونے کی خبروں کو غلط قرار دیا تھا۔

بعد ازاں ان کے اہل خانہ نے تسلیم کیا کہ عمر شریف علیل ہیں اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، ساتھ ہی اداکار کے خاندان نے حکومت سے بیرون ملک علاج کے لیے مدد بھی مانگی تھی۔

دو دن قبل عمر شریف نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے بیرون ملک علاج کروانے سے متعلق مدد مانگی تھی۔

بعد ازاں اداکار کے اہل خانہ نے واضح کیا تھا کہ انہوں نے حکومت سے مالی مدد نہیں مانگی بلکہ انہوں نے حکومت سے جلد سے جلد بیرون ملک کا ویزہ جاری کرنے اور ایئر ایمبولینس کا بندوبست کرنے سے متعلق مدد مانگی ہے۔

اہل خانہ اور اداکار کی جانب سے اپیل کیے جانے کے بعد متعدد شوبز و اسپورٹس شخصیات سمیت بھارتی شوبز شخصیات نے بھی وزیر اعظم عمران خان سے عمر شریف کی مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

اداکار اور اہل خانہ سمیت دیگر شخصیات کی جانب سے اپیل کیے جانے کے بعد وزیر اعظم کی ہدایات پر ہی چوہدری فواد اور عمران اسماعیل نے 11 ستمبر کی شام کو عمر شریف کی عیادت کی، جس کے بعد انہوں نے اداکار کے علاج سے متعلق میڈیکل بورڈ کے قیام کی تصدیق کی۔

مائیکرو سافٹ کا نیا آفس سافٹ ویئر 5 اکتوبر کو متعارف کرانے کا اعلان

مائیکرو سافٹ نے اپنے مقبول سافٹ ویئر پروگرام آفس کے نئے ورژن کو 5 اکتوبر کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، یعنی اسی دن جب ونڈوز 11 کی دستیابی کا سلسلہ شروع ہوگا۔

مائیکرو سافٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگرچہ سبسکرائپشن سروس مائیکرو سافٹ 365 پر زیادہ توجہ دی جائے گی، مگر ان افراد کے لیے آفس 2021 کو متعارف کرایا جائے گا جو ابھی کلاؤڈ پر منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں۔

اب ایک بلاگ میں آفس 2021 کی دستیابی کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا۔

آفس 2021 کو 2 ورژنز میں پیش کیا جائے گا، ایک کمرشل صارفین کے لیے جسے آفس لانگ ٹرم سروسنگ چینل (ایل ٹی ایس سی) کا نام دیا گیا ہے۔

دوسرا ورژن گھریلو صارفین کے لیے ہوگا۔

بلاگ میں بتایا گیا کہ آفس ایل ٹی ایس سی ورژن 16 ستمبر سے ہی دستسیاب ہوگا اور اس میں accessibility فیچرز کو بڑھایا گیا ہے جبکہ ورڈ، ایکسل اور پاور پوائنٹ کی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

اسی طرح تمام ایپس کے لیے ڈارک موڈ سپورٹ بھی فراہم کی جارہی ہے۔

ذاتی استعمال کے لیے آفس 2021 صارفین کو 5 اکتوبر سے دستیاب ہوگی مگر فی الحال قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

آفس کے دونوں ورژنز ونڈوز اور میک ڈیوائسز پر کام کرسکیں گے اور ون نوٹ ایپ کے ساتھ فراہم کیے جائیں گے۔

یہ دونوں 32 اور 64bit ورژنز پر دستیاب ہوں گے اور مائیکرو سافٹ کی جانب سے سافٹ ویئر کو 5 سال تک سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

امریکا سے جنگ کا باب ختم ہوگیا اب نئے تعلقات کی شروعات چاہتے ہیں، ترجمان طالبان

دوحہ: قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ جب امریکا سے جنگ تھی تو وہ ہمارا دشمن تھا لیکن اب حالات یکسر مختلف ہیں۔ 

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی نمائندہ مونا شاہ کو خصوصی انٹرویو میں امریکا کے دوست یا دشمن ملک ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ جب امریکا سے افغانستان میں جنگ تھی تب وہ ہمارا دشمن تھا تاہم اب جنگ کا چیپٹر ہی ختم ہوگیا اور امریکا کو بھی سمجھ آگیا کہ مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے۔

ترجمان طالبان سہیل شاہین نے مزید کہا کہ جنگ کا دور ختم ہوگیا اور اب نیا دور شروع ہو رہا ہے جس میں امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات کی شروعات چاہتے ہیں تاہم یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کام کرکے افغانستان میں غربت کے خاتمے، تعلیم کے شعبے، اور افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کو کھڑا کرنے میں مدد کرتا ہے یا نہیں۔

ٹی ٹی پی پر پاکستان کے خدشات اور داعش کی روک تھام کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ترجمان طالبان نے کہا کہ ہم کسی بھی گروہ کو افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ داعش کو کنڑ اور ننگرہار میں شکست دی تھی اور اب بھی داعش پر قابو پانے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ترجمان طالبان سہیل شاہین نے عبوری حکومت میں افغانستان کی تمام اقوام اور طبقات کی نمائندگی نہ ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت تمام نسلی گروپس کی حمایت سے بنائی گئی ہے جب کہ فوری الیکشن کا امکان کو بھی رد کرتے ہوئے کہا کہ ابھی آئینی مسودے پر کام جاری ہے۔

خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ شریعت کے تحت خواتین کو تمام حقوق دیں گے لیکن اعلیٰ حکومتی عہدوں پر خواتین کی تعیناتی پرعلمائے دین سے مشوروں کے بعد ہی غور کیا جاسکتا ہے۔

یہ خصوصی انٹرویو وائس آف امریکا کی ویب سائٹ پر شائع ہوا تھا۔

کوہلی نے ورلڈ کپ کے بعد ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی چھوڑنےکا اعلان کردیا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ  کے بعد مختصر فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ میں انتہائی خوش قسمت رہا ہوں کہ میں نے ناصرف بھارت کی نمائندگی کی ہے بلکہ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق بھارتی کرکٹ ٹیم کی قیادت بھی کرتا ہوں۔

کوہلی کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد کا مشکور ہوں جنہوں نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے میرا ساتھ دیا۔ میں ساتھی کھلاڑیوں ، سپورٹنگ اسٹاف، سلیکشن کمیٹی اور کوچ سمیت ہر وہ بھارتی شہری جس نے ہماری ٹیم کے لیے دعا کی ،کا شکر گزار ہوں، ان کی مدد اور سپورٹ کے بغیر میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ کام کے بوجھ کو سمجھنا بہت اہم  ہے ۔ گذشتہ8 سے 9 سالوں میں تینوں فارمیٹ کھلیتے ہوئے اور 5 ،6 سالوں سے مسلسل کپتانی کرتے ہوئے بہت زیادہ ‘ورک لوڈ’ کو محسوس کرتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ  مجھے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بھارتی ٹیم کی قیادت بہتر طریقے سے کرنے کے لیے خود کو آرام دینے کی ضرورت ہے۔

ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کے کپتان کی حیثیت سے میں نے ٹیم کے لیے ہرممکن کوشش کی ہے اور آئندہ بھی میں ٹی ٹوئنٹی میں ایک بیٹسمین کی حیثیت سے  اپنی کوشش جاری رکھوں گا۔

بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے تک پہنچنے میں مجھے کافی وقت لگا ، اپنے قریبی لوگوں، کوچ روی بھائی اور روہت کے ساتھ کافی غوروفکر اور بات چیت کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اکتوبر میں دبئی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ٹی 20 کی کپتانی سے مستعفی ہوجاؤں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) کے صدر ساروو گنگولی اور سیکرٹری جے شاہ سمیت سلیکٹرز کو بھی اعتماد میں لیا ہے، میں اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ بھارتی کرکٹ ٹیم کی خدمت جاری رکھوں گا۔

یو اے ای کا پاکستانی ائیرپورٹس پر موجود لیبارٹریوں کے معیار پر تحفظات کا اظہار

وفاقی وزارت صحت نے تمام ملکی انٹرنیشنل ائیرپورٹس پر لیبارٹریوں کے فوری معائنےکا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی حکام کا کہنا ہےکہ ائیرپورٹس پرکام کرنے والی اکثر لیبارٹریوں کا عملہ غیر تربیت یافتہ ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان سے 75 ہزار مسافر متحدہ عرب امارات گئے تھے، جن میں سے 684 افراد میں کورونا وائرس پایا گیا تھا۔

پاکستان سے آنے والے افراد کے کورونا سے متاثر ہونے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان میں لیبارٹریوں کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان تاجکستان بزنس فورم: وزیراعظم کی سرمایہ کاروں کو ہرقسم کی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی

وشنبے : وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تاجکستان بزنس فورم میں سرمایہ کاروں کو ہرقسم کی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا دونوں ملکوں میں تجارت سے فائدہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تاجکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کےفورم کامقصد دونوں ممالک کے کاروباری روابط کو بڑھانے سمیت پاکستان اورتاجکستان کےتاجروں سےمخاطب ہونا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بجلی مہنگی ہے، اپنے ملک کاروباری طبقے کو سہولتیں فراہم کرنےکی کوشش کررہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو سہولیات کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ توانائی کےمنصوبے کاسا 1000کی جلد تکمیل چاہتے ہیں، ہم پاکستان میں صنعتکاروں کوسہولتیں فراہم کررہےہیں اور پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملکوں میں تجارت سے فائدہ ہوگا اور بزنس کمیونٹی کو ہرقسم کی سہولت فراہم کی جائےگی، پاکستان سےمختلف67کمپنیاں تاجکستان آئی ہیں، توانائی کے منصوبے کاسا1000کی جلد تکمیل چاہتے ہیں، سستی اورماحول دوست ہائیڈر و پاور انرجی سے فائدہ اٹھاسکے۔

پی آئی اے کا لاہور سے پشاور کیلئے پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ

پی آئی اے نے لاہور سے پشاور کیلئے پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی ایئر لائن پی آئی اے نے لاہور سے پشاور کیلئے پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر اور جمعہ کو پروازیں آپریٹ ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق  اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے  نے کہا کہ پی آئی اے لاہور سے پشاور کیلئے ہفتہ وار 2 پروازیں آپریٹ کرے گی، پروازیں پیر اور جمعہ کو آپریٹ ہوں گی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ یکم اکتوبر کولاہور سے پرواز صبح11 بج کر40 منٹ پر پشاور روانہ ہوگی جبکہ لاہور سے پشاور پروازکے لیےاے ٹی آر طیارہ استعمال کیا جائے گا۔

واضح  رہے اس سے قبل رواں سال 7 اپریل کو قومی ایئر لائن پی آئی اے  نے تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور سے اسکردو کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کیا تھا، یہ ادارے کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا، لاہور سے پہلی پرواز ایئر بس 320 کے ساتھ 160 مسافروں کو لے کر اسکردو پہنچی تھی۔