All posts by Khabrain News

حارث رؤف اور نسیم شاہ نے انجریز سے چھٹکارا حاصل کر لیا

لاہور: (ویب ڈیسک) انگلش کاؤنٹی کرکٹ کے دوران زخمی ہونے والے حارث رؤف اور نسیم شاہ نے انجریز سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔
دونوں پیسرز انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں اگلے میچز کیلیے اپنی ٹیموں کو دستیاب ہوں گے۔
یارکشائر کی نمائندگی کرنے والے حارث رؤف سائیڈ انجری کا شکار ہوئے تھے جبکہ دوسری جانب گلوسٹر شائر کے اسکواڈ میں شامل پیسر کندھے کی انجری سے نجات پانے کے لیے کوشاں تھے۔
ہیمسٹرنگ کی وجہ سے گلوسٹر شائر کو محمد عامر چھٹے راؤنڈ میں دستیاب نہیں ہوں گے، مڈل سیکس کی نمائندگی کرنے والے شاہین شاہ آفریدی کو آرام دیا گیا ہے جبکہ محمد رضوان فیملی وجوہات کی بنا پر اس راؤنڈ میں سسکیس کو دستیاب نہیں ہو سکیں گے۔

بسمہ معروف سیزن 23-2022 کے لیے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان برقرار

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ نے بسمہ معروف کو سیزن 23-2022 کے لیے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس سیزن کے دوران پاکستان کو اے سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ اور آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سمیت 25 میچز کھیلنے ہیں۔ سیزن کا آغاز رواں ماہ سری لنکا کے خلاف کراچی میں شیڈول تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز سے ہوگا۔
اس کے بعد قومی خواتین کرکٹ ٹیم بیلفاسٹ آئرلینڈ روانہ ہوجائے گی، جہاں وہ میزبان آئرلینڈ اور ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت کرے گی۔ یہ سیریز 12 سے 24 جولائی تک کھیلی جائے گی۔
سہ ملکی سیریز مکمل کرنے کے بعد قومی خواتین کرکٹ ٹیم بسمہ معروف کی قیادت میں برمنگھم روانہ ہوگی، جہاں اسے 25 جولائی سے 8 اگست تک شیڈول کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کرنی ہے۔
آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2022 کی طرح بسمہ معروف بیلفاسٹ اور برمنگھم بھی اپنی بیٹی اور والدہ کے ہمراہ روانہ ہوں گی۔ پی سی بی اپنی پیرنٹل اسپورٹ پالیسی کے تحت یہ اخراجات برداشت کرے گا۔
پھر اکتوبر میں آئرلینڈ کی ویمنز کرکٹ ٹیم کو پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ دورے میں تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز شامل ہوں گے۔ اس کے بعد قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو اے سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں شرکت کرنی ہوگی۔
اس کے فوری بعد پاکستان ویمنز ٹیم آسٹریلیا پہنچے گی، جہاں وہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل میزبان ملک کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز کھیلے گی۔
قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کی قیادت کرنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے اعزاز ہوتا ہے اور انہیں خوشی ہے کہ وہ اس عہدے پر کام جاری رکھیں گی۔ سیزن 23-2022 پاکستان ویمنز کرکٹ کا ایک مصروف ترین سیزن ہے اور تمام کھلاڑی اس سیزن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سیزن میں شیڈول ہر میچ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سیزن میں شامل دوطرفہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز پاکستان ویمنز ٹیم کی آئندہ آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں براہ راست رسائی کی صورتحال واضح کر دیں گے جبکہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز قومی خواتین کرکٹ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کو فروری میں شیڈول آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں میں معاونت کریں گے۔
بسمہ معروف نے کہا کہ وہ اب تک اپنے کرکٹ کیرئیر میں بھرپور تعاون کرنے اور اب فاطمہ کی پیدائش کے بعد ورک لائف توازن کو برقرار رکھنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی بہت مشکور ہیں۔ ایک وقت آیا تھا کہ جب انہوں نے اپنے شوق کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا مگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے میٹرنٹی پالیسی متعارف کرواکے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور اپنے شوق کی تکمیل میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ بھرپور سپورٹ کرنے پر اپنے اہلخانہ خصوصاً شوہر ابرار کی بھی بہت شکر گزار ہیں۔
بسمہ معروف نے دسمبر 2006 میں 15 سال کی عمر میں بھارت کے خلاف ڈیبیو کیا تھا۔ وہ 5000 سے زائد انٹرنیشنل رنز بنانے والی پاکستان کی واحد خاتون کھلاڑی ہیں۔ انہیں 2016 میں قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم اور 2017 میں قومی ون ڈے انٹرنیشنل ٹیم کی کپتان مقرر کیا گیا تھا۔

لڑکوں کی پٹائی کرنے کی افواہوں پراب تک شادی نہیں ہوئی،کنگنا رناوت

ممبئی: (ویب ڈیسک) بالی وڈ کی ہیروئن کنگنا رناوت نے اب تک شادی نہ ہونے کی وجہ بتا دی۔
بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بالی وڈ کی متنازع ہیروئن کنگنا رناوت کا کہنا تھا کہ میرے بارے میں افواہیں پھیلا دی گئیں کہ میں لڑکوں کو مارتی ہوں اسی لئے اب تک میری شادی نہیں ہوسکی۔
کنگنا رناوت کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلموں میں اسٹرونگ عورت کا کردار ادا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ عام زندگی میں بھی میں لوگوں خصوصا لڑکوں سے سختی سے پیش آتی ہوں۔شادی اب تک نہ ہونے کی وجہ وہ افواہیں ہیں جولوگوں نے میرے متعلق پھیلائی ہیں کہ میں لڑکوں کی پٹائی لگاتی ہوں۔
کنگنا رناوت نے سوال کیا کہ کبھی کسی نے حقیقی زندگی میں مجھے کسی سے لڑتے یا پٹائی لگاتے دیکھا ہے۔ ایسا صرف مجھ سے جلنے والوں کا پروپینگنڈا ہے۔

لکڑی کا یہ مکان، دنیا کا سب سے دورافتادہ ڈاکخانہ بھی ہے

بیجنگ: (ویب ڈیسک) اگرآپ دنیا کا سب سے الگ تھلگ اور دوری پر واقع ڈاکخانے کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو وہ چین کے انتہائی کم آبادی والے علاقے منگولیا میں واقع ہے جس کے چاروں طرف ریگستانی ریت کے علاوہ اور کچھ موجود نہیں۔
منگولیا کے وسط میں ایک لق و دق تنجرنامی صحرا میں یہ کئی دہائیوں قبل بنایا گیا تھا۔ لکڑی کے چوکورخانے کا رقبہ صرف 15 مربع میٹر ہے اور اسے دیکھنے کو شاید ہی کوئی نمودار ہوتا ہے۔ لیکن 35 برس تک یہاں انسانوں کی آمدورفت نہ تھی لیکن اب اسے دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
بعض افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت یہاں انٹرنیٹ رابطہ بھی لگایا ہے اور یوں اب ایک مصروف مقام بن چکا ہے۔ اگرچہ یہاں کوئی نہ آسکا لیکن اس کے باوجود صرف دسمبر 2021 میں یہاں 20000 خطوط بھیجے گئے تھے۔ اس کی پشت پر ایک خاتون زینگ کا ہاتھ ہے جنہوں نے دل وجان سے اس کی بحالی پر کام کیا ہے۔
قریبی سڑک بھی پوسٹ آفس سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ زینگ اور ان کے ساتھیوں نے اسے مصروف بنانے کےلیے دنیا بھر کے لوگوں سے کہا ہے وہ دنیا کے تنہا ترین اور انتہائی مسافت پر واقع اس پوسٹ آفس پر خطوط اور پوسٹ کارڈ بھیجیں۔ ان میں ایسے لکھاری بھی ہیں جو پس پردہ رہ کر رقم کے بدلے دوسروں کے لئے لکھتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اب آسٹریلیا اور سنگاپور سے بھی خطوط موصول ہورہے ہیں۔
اس کا ڈھانچہ درست کرنے کے بعد اسے دوبارہ یہاں لگایا گیا ہے جس کی تشکیل میں 20 دن کا عرصہ لگا ہے۔ اب چینی محکمہ ڈاک نے دوبارہ اسے اپنی فہرست میں شامل کیا ہے اور اس کے لیے ریگستانی طرز کی مہر بھی تیار کی ہے۔ اب یہاں سے خطوط بھیجے اور وصول کئے جارہے ہیں۔
اس کی اطراف 43000 مربع میٹر وسیع ریگستان ہے جو اسے ایک انوکھا پوسٹ آفس بناتا ہے۔

بھارت میں مسافر بس سے کروڑوں روپے مالیت کے بندر برآمد

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی کسٹم افسران نے مسافر بردار بس سے کروڑوں روپے مالیت کے غیر ملکی بندر ضبط کر لیے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی کسٹم افسران نے ریاست آسام سے سیلیگوری جانے والی بس کو مغربی بنگال میں روکا تو بس سے غیرملکی نسل کے بندر برآمد ہوئے۔
مسافر بردار بس میں چار بندر موجود تھے جنہیں چین، بنکاک اور آسٹریلیا سے براستہ بھارت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں منتقل کیا جا رہا تھا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بندروں کی مالیت 2 کروڑ 69 لاکھ روپے سے زائد ہے اور ابھی تک کسی نے بندروں کی ملکیت کا دعویٰ بھی نہیں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کسٹم حکام نے سیکشن 110 کسٹم ایکٹ 1962 کے تحت بندروں کو ضبط کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں جنگلی جانوروں کی غیرقانونی درآمد وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کے تحت سنگین جرم ہے۔

نیلی سبز الجی سے چھ ماہ تک کمپیوٹر چلانے کا حیرت انگیز مظاہرہ

کیمبرج: (ویب ڈیسک) سبزنیلی الجی سے ایک بہت چھوٹے کمپیوٹر کو مسلسل چھ ماہ تک چلانے کا کمیاب عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس طرح ایک راہ کھلی ہے کہ ہم مستقبل میں الجی اور سائنو بیکٹیریا سے بھی بلاتعطل بجلی حاصل کرسکیں گے۔ اگرچہ اب بھی اس توانائی کی شرح بہت کم ہوسکتی ہے۔
یہ الجی سائنوبیکٹیریا بھی کہلاتی ہے جوضیائی تالیف (فوٹوسنتھے سز) سے توانائی بناتےہیں۔ خیال ہے کہ ان سے چھوٹے آلات کو مہینوں بلکہ برسوں تک قوت دی جاسکتی ہے۔ اس طرح ماحول دشمن سیل اور بیٹریوں سے کا استعمال کم کیا جاسکتا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹٰی کے سائنسداں کرسٹوفر ہووے اور ان کے ساتھیوں نے ایک چھوٹی سی، پینسل سیل کے برابر ڈبیا میں سبزنیلی الجی کو بھرا۔ یہ ڈبیا المونیئم سے بنی تھی اورایک طرف شفاف پلاسٹک لگا تھا۔ اس میں پی سی سی 6803 سائنوبیکٹیریا بھرا تھا جسے ’سبز نیلی الجی‘ بھی کہا جاتا ہے جو روشنی میں فوٹوسنتھے سز عمل سے اپنی خوراک اور توانائی بناتے ہیں۔
مناسب دورانئے کی دھوپ کے لیے اسے کھڑکی کے قریب ایک تختے پر رکھ دیا گیا۔ سے 2021 کے لاک ڈاؤن میں فروری میں لگایا گیا جہاں وہ اگست تک موجود رہا اور ایک چھوٹے مائیکروپروسیسر کے اینوڈ اور کیتھوڈ تک مسلسل بجلی فراہم کرتا رہا۔
کمپیوٹر بہت چھوٹا تھا جسے صرف 0.3 مائیکروواٹ بجلی درکار تھی اور اسٹینڈبائے پاور 0.24 چاہیئے تھا۔ کمپیوٹر کے ساتھ مائیکروکنٹرولر نصب کیا گیا جو بجلی کی مقدار نوٹ کرتھا تھا۔ کمپیوٹر کا کام یہ تھا کہ وہ 45 منٹ کے سائیکل تک چلتا تھا اور کچھ حساب کتاب کررہا تھا۔ اس کا ڈیٹا کسی ڈسپلے کی بجائے براہِ راست کلاؤڈ تک جارہا تھا جہاں سائنسدانوں نے اس ڈیٹا کا مکمل تجزیہ کیا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پورے عمل میں ایک منٹ بھی بجلی نہیں رکی اور الجی اور بیکٹیریا نے چھ ماہ تک بجلی فراہم کی۔ لیکن اب تک ماہرین یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ بجلی کہاں سے آرہی ہے؟ شاید بیکٹیریا ہی براہِ راست بجلی بنارہے ہیں یا پھر المونیئم ڈبیا میں زنگ لگنے سے کوئی ری ایکشن ہورہا ہے جس سے الیکٹران بن رہے ہیں۔ غالب خیال ہے کہ بیکٹیریا ہی الیکٹران بنارہے ہیں۔
کیا حیاتیاتی بجلی کا یہ نظام بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اس کا فی الحال تسلی بخش جواب نہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ یعنی گھر کی چھت پر سائنوبیکٹیریا کا نظام پورے گھر کو بجلی نہیں دے سکتا۔ تاہم غریب اور دورافتادہ علاقوں میں چھوٹے آلات کی برقی بھوک کو ضرور اس سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ماحول میں لگے حیاتیاتی سینسر یا موبائل فون چارجنگ کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔
بیکٹیریا دھوپ سے اپنی خوراک خود بناتے ہیں اور مہینوں زندہ رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ آلہ تاریکی میں بھی بجلی بناتا رہتا ہے۔ اگے مرحلے میں پلاسٹک کی عام بوتلوں میں الجی بھر کر کچھ مزید تجربات کئے جائیں گے۔

اسمارٹ سگنل روشنیوں اور اے آئی سے ٹریفک جام کم کرنے کا نیا منصوبہ

برمنگھم: (ویب ڈیسک) ایسٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ٹریفک روشنیوں کو قابو کرنے والا مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسا نظام بنایا ہے جس کی بدولت ٹریفک جام قصہ پارینہ ہوجائے گا۔
اپنی نوعیت کا یہ پہلا جدید ٹریفک سگنل نظام اپنے طاقتور کیمروں کی بدولت ازخود اندازہ کرتا ہے کہ کس طرح کی گاڑیوں کو روکنا ہے اور اس کے لیے سرخ، و سبز بتیوں کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے۔
اگرچہ یہ خود بہت سی ویڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے بنایا گیا ہے لیکن پروگرام مسلسل خود کو بہتر بناتا رہتا ہے اور آزمائش میں یہ ٹریفک کنٹرول کرنے والے تمام نظاموں سے بہتر اور مؤثر قرار پایا ہے۔
پاکستان کے گنجان آباد شہریوں کی طرح دنیا میں آبادی کا بڑا حصہ ٹریفک جام میں اپنا قیمتی وقت خراب کرتا ہے اور یہ ٹیکنالوجی اسی بڑے مسئلے کو حل کرتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ دوسری جانب سبز بتی کے انتظار میں لاکھوں کروڑوں روپے کا ایندھن الگ ضائع ہوتا ہے۔
سافٹ ویئر کو حقیقی سڑک کے ایک تھری ڈی سیمولیٹر پر تربیت دی گئی ہے۔ اس میں مختلف موسمیاتی کیفیات اور ٹریفک کے پس منظر کو شامل کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقی ماحول میں استعمال کے بعد بھی یہ ہمیشہ سیکھتا اور خود کو بہتر بناتا رہتا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے سافٹ ویئر کو بتایا گیا ہے کہ ٹریفک جام گھاٹے کا سودا ہے اور اگر کوئی سواری انتظار نہیں کرتی اور تیزی سے آگے بڑھے تو اسے انعام قرار دیا گیا ہے۔ یوں سافٹ ویئر پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ سگنل کو کچھ اس طرح استعمال کرے کہ کاریں کسی رکاوٹ یا ٹکراؤ کے بغیر آگے گزرتی رہیں۔
مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلجنس) کی بنا پر ٹریفک سگنل کو ازخود چلانے والا یہ نظام فی الحال سڑک پر لگے سینسر سے کاروں کی تعداد نوٹ کرتا ہے اور اس پر ردِ عمل دیتا ہے۔ یعنی گاڑیوں کو شمار کرکے اپنا کام کرتے ہوئے بہتر فیصلہ دیتا ہے۔
اس پورے نظام کی عملی آزمائش اسی برس شروع کی جائے گی۔

تربوز کے فوائد جو اسے سپرفوڈ بناتے ہیں

کراچی: (ویب ڈیسک) تربوز ایک خوشذائقہ، خوش رنگ اور غذائیت سے مالامال ایسا پھل ہے جو برصغیر کی عوام کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹ اور معدنیات سے مالامال تربوز کے یہی خواص اسے سپرفوڈ بھی بناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تربوز پاک و ہند میں کثرت سے پیدا ہوتے ہیں اور بہت کم قیمت میں عام دستیاب ہے۔
تربوز کا غالب حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ 80 سے 90 فیصد پانی کی بنا پر یہ فوری پیاس بجھاتا ہے جس کی ذود ہضم شکریات اسے فوری توانائی کا خزانہ بناتی ہیں۔ گرمیوں میں تھکاوٹ اور نڈھال سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے یہ قدرت کا انمول تحفہ بھی ہے۔
تربوز میں گودے کی کمی کے باوجود اس میں کئی طرح کے مفید اجزا موجود ہیں جس کی فہرست بہت طویل ہے۔ تربوز میں فولاد، پوٹاشیئم، سوڈیئم، فاسفورس، کیلشیئم، اور دیگر قیمتی اجزا موجود ہیں۔ یہ معدے میں جاکر پورے نظامِ ہاضمہ کو انتہائی طاقتور اور بہتر بناتا ہے۔ طبی لٹریچر بھی تربوز کی مدح سرائی میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ تربوز میں موجود کئی طرح کے وٹامن بھی انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ہیلتھ لائن نے تربوز کے نو بڑے فوائد بیان کیے ہیں جو فوری حاصل ہوتے ہیں۔ اول یہ پیاس بجھاتا ہے اور بدن میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھتا ہے، دوم اس کے گودے میں کئی مرکبات اور معدنیات پائی جاتی ہیں، سوم، کئی تحقیق سے ثابت ہے کہ یہ کینسرکی راہ میں رکاوٹ ہے، سب سے بڑھ کر دل کے لیے بہت مفید ہے۔ اس میں موجود بعض اجزا جلد کو خوبصورت بناتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض حسن آور کریموں اور فیس پراڈکٹ میں تربوز کے اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے اسے دل اور بلڈ پریشر کے لیے انتہائی مفید قرار دیا ہے۔ ویب ایم ڈی نامی ویب سائٹ کے مطابق تربوز میں موجود لائسوپین اور دیگر اقسام اینٹی آکسیڈنٹس کی بدولت یہ ذیابیطس کا خطرہ بھی ٹالتا ہے۔ یہی لائسوپین سخت دھوپ میں جلد کو جھلسنے سے بھی بچاتا ہے۔
اس میں موجود ایک جزو سٹرولائن دل اور بلڈ پریشر کو تندرست حالت میں رکھتا ہے۔ بعض چھوٹے مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ تربوز کا باقاعدہ استعمال دل کے دورے کے خطرات کم کرتا ہے۔
تربوز کے بے تحاشہ قدرتی رنگوں میں ایک بی ٹا کرپٹوزینتھین بھی ہے۔ یہ جوڑوں کے درد اور ان کی اندرونی سوزش کم کرتا ہے۔ اس لیے تربوز کا باقاعدہ استعمال جوڑوں کے درد سے بھی محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تربوز میں وٹامن اے کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے جو آنکھوں اور بصارت کے لیے بہت ضروری وٹامن ہے۔ اگر روزانہ تربوز کی صرف ایک قاش بھی کھائی جائے تو اس سے روزمرہ وٹامن اے کی 10 فیصد تک مقدار حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے بالخصوص بچوں کو تربوز ضرور کھلائیں۔
تربوز اینٹی آکسیڈنٹس اور کئی طرح کے امائنو ایسڈ سے بھرپور ہے جو ورزش کرنے یا کام کی قوت بھی فراہم کرتا ہے۔ یوں نوجوانوں کے لیے تربوز سے بڑھ کرکوئی بہترین مقوی غذا نہیں۔

چارسدہ: دیرینہ دشمنی پر فائرنگ، باپ بیٹے سمیت 3 افراد قتل

چارسدہ: (ویب ڈیسک) دیرینہ دشمنی پر فریقین کے مابین پر فائرنگ سے باپ بیٹے سمیت تین افراد مارے گئے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے تھانہ پڑانگ کی حدود ماجوکے میں فریقین کے مابین فائرنگ ہوئی، یہ فائرنگ عرصہ سے دشمنی چلی آ رہی تھی۔
دونوں فریقین کے مابین فائرنگ کے باعث تین افراد چل بسے، مرنے والوں میں جلال ولد جوہر، جوہر ولد محب، وصال ولد شریف شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کو پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ مزید کارروائی شروع کردی ہے۔

وفاقی وزیر صنعت نے مقامی تیار ہونے والی گاڑیوں کے ریٹ میں اضافے کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار سید مرتضی محمود نے مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے ریٹ میں اضافے کا نوٹس لے لیا اور انجینرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر نے مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے ریٹ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتوں میں حالیہ اضافے کا نوٹس لے لیا ہے اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا، صارفین کو گاڑیوں کی ڈلیوری بروقت کیوں نہیں کی جارہی، بروقت گاڑیاں ڈلیور نہ کرنے والوں کے خلاف اقدامات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
وفاقی وزیر نے بجٹ 2022-23 کیلئے گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی مانگ لی اور ساتھ گاڑیوں پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی تفصیلات طلب کر لیں۔ رپورٹ میں قیمتوں میں حالیہ اضافے میں ڈالر، خام مال کی قیمت اور فریٹ چارجز کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔