Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی
    • اوپن اے آئی کے بے قابو بوٹس کی امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس میں مداخلت
    • 7 سال بعد ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی، بابر اعظم صرف 12 رنز بنا کر آؤٹ
    • 2027 ورلڈ کپ بھارت کی جانب سے میرا آخری ورلڈ کپ ہوگا: ویرات کوہلی
    • سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں: شہباز شریف
    • جوش انگلس انجری کے باعث جنوبی افریقہ کے خلاف باقی ون ڈے میچز سے باہر
    • چکلالہ کینٹ انتظامییہ کی غفلت قبرستان بنیادی سہولیات اور صفائی ستھرائی سے محروم
    • تحریک انصا ف کے ممکنہ لانگ ما رچ کے پیش نظر اٹک پل پر حالات غمگین
    • اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کی زیرِ صدارت ریونیو عملہ، سرکل ریونیو افسران کا اجلاس
    • بوجہ جاری ضلعی ترقیاتی پراجیکٹس محدود فیڈرز پر عارضی بجلی بندش شیڈول
    • ٹیکسلا، موضع جلالہ کے رہائشی کی زمین پر قبضہ مافیا کی غیر قانونی کاروائی
    • بہتر تجارتی روابط اور کنیکٹیویٹی معاشی ترقی کا بنیادی محرک، عبد العلیم خان
    • چیئرمین سی ڈی اے کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ
    • آسان ٹیکس سکیم’ایک ماہ میں 9806دکاندار شامل ہو چکے
    • پنجاب لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ نے نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا
    • خبریں کی خبر پر ایکشن، گوجر خان میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کی صفائی کا کام شروع
    • پولیو ٹیم کو حراساں اور مزاحمت کرنے والے دو افراد گرفتار
    • BYD نے 10 ہزار گاڑیوں کے پاکستانی سڑکوں پر آنیکا اہم سنگ میل عبور کرلیا
    • پاکستان پوسٹ نے مختلف سروسز کے نرخوں پر نظرثانی کیلئے ٹیرف کی منظوری دیدی
    • عوامی مسائل کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدام
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اسلام کی پہلی مسجد شہید

    By Daily Khabrainنومبر 9, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    masjid attacks by americans
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (خصوصی رپورٹ)مشرقی افریقا کے غریب ترین ملک اریٹیریا کی فورسز نے ملک میں دینی مدارس اور مساجد منہدم کرنے اور علمائے کرام کی گرفتاری کی وحشیانہ مہم میں تیزی لاتے ہوئے 31اکتوبر کو دینی مدرسے کے 28 طلبہ کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتاردیا ہے۔ اریٹیریا اس رحم دل مسلمان نجاشی بادشاہ کا ملک ہے جس نے کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر ہجرت کرنے والے صحابہ کرامؓ کا نہ صرف استقبال کیا بلکہ انہیں اپنے دربار میں خصوصی مہمان بنانے کے بعد بحفاظت وہاں رکھا۔ اریٹیریا کی حکومت نے گزشتہ کئی سالوں سے ملک میں دینی مدارس کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں تازہ واقعہ 31اکتوبر کو اریٹیریا کے دارالحکومت اسمرا میں رونما ہوا۔ دینی مدرسے کے طلبہ فورسز کے ہاتھوں اپنے اساتذہ کی گرفتاری اوردینی مدرسے کی بندش کے خلاف سڑکوں پر نکل کر پرامن احتجاجی مظاہر ے کررہے تھے کہ اریٹیریا کی پولیس اور فوج نے نہتے طلبہ پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 28 طلبہ جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے۔ فورسز کی فائرنگ سے طلبہ کے جاں بحق ہونے کے بعد اسمرا میں عوام کی بڑی تعداد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ عوامی مظاہرین کو اریٹیرین حکومت کی اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 31 اکتوبر اسمرا کے مسلم اکثریتی علاقے اکریا سے شروع ہوا جہاں ملک کا سب سے بڑا دینی مدرسہ مدرسہ الضیاءالاسلامیہ واقع ہے جس میں 3ہزار طلبہ دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ دینی مدرسہ کے طلبہ کی حکومت مخالف مظاہروں کی وجہ حکومت کی جانب سے مدرسے میں دینی تعلیم پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ تھا۔ اریٹیرین حکام نے رواں برس اگست میں دینی مدرسے کو ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ضم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ مدرسے میں مزید دینی تعلیم کا سلسلہ بند کردیا جائے۔ دینی مدرسے میں پڑھنے والی طالبات حجاب نہیں پہنیں گی اور مدرسے میں لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے مخصوص الگ نظام تعلیم کو ختم کرکے مخلوط نظام بنایا جائے۔ مدرسے کے سرپرست اور معمر عالم دین شیخ موسیٰ محمد نور نے حکومت سے مذاکرات کرکے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی تاہم حکومت کے انکار پر شیخ موسیٰ نے اپنے موقف پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے عالم دین کو حراست میں لے لیا جو گزشتہ اڑھائی ماہ سے جیل میں ہیں۔ شیخ موسیٰ کی عمر 90 سال سے متجاوز ہے۔ انہیں افریقی ممالک میں ہزاروں علماءکا استاد مانا جاتا ہے۔ انہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف بھی مو¿ثر مزاحمت کی تھی۔ استعماری جیلوں میں عرصے تک جیل کاٹنے اور استعمار کی مخالفت میں دنیوی پیشکشوں کو ٹھکرانے کے سبب انہیں انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ شیخ موسیٰ کی گرفتاری کے بعد رواں ہفتے فورسز نے مدرسے کی عمارت پر قبضے کے لئے علاقے کا گھیراﺅ کیا جس پر طلباءمشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل آئے۔ رپورٹ کے مطابق فورسز نے دارالحکومت اسمراءکی مساجد کو سیل کیا جس کے سبب 31 اکتوبر سے اسمرا میں نماز با جماعت نہیں ہوسکی ہے۔ مساجد کی بندش اور طلباءکی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا دائرہ دارالحکومت اسمرا سے دیگر شہروں تک بھی پھیل گیا ہے جن شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے ہورہے ہیں ان میں اغرادات‘ کرن‘ عدی فیح اور مصوع کے نام سرفہرست ہیں۔ جہاں ہجرت سے قبل 614ءمیں ہمیشہ کی طرح ہجرت کرنے والے صحابہ کرام ؓ کا پہلا قافلہ پہنچا تھا۔ ان کی کشتی مصوع کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوئی تھی۔ مصوع میں ہی دنیا کی پہلی مسجد قائم کی گئی تھی جو مسجد راس مدرس کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نسبت سے مصوع کو افریقہ کے لئے اسلام کا دروازہ کہا جات ہے۔ ارینیری حکومت نے دینی مدارس اور مساجد کے خلاف کریک ڈاﺅن کی مہم کے دوران مصوع شہر پر بھی وحشیانہ بمبماری کرکے اسلام کی پہلی مسجد کا بیشتر حصہ شہید کیا ہے اور اب اس اولین مسجد کا صرف ممبر اور محراب باقی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اریٹیریا میں شروع ہونے والی عوامی تحریک کو دینی مدرسے کی نسبت سے ”ضیاءانقلاب“ کا نام دیا گیا ہے۔ 1969ءمیں تعمیر ہونے والا مدرسہ الفسیاءالاسلامیہ دینی مدارس کے خلاف کریک ڈاﺅن کے بعد باقی رہنا والا اکلوتا دینی مدرسہ ہے۔ اس سے قبل سینکڑوں دینی مدارس حکومت نے بند کردیئے ہیں نے ملک کی آزادی میں بھی کلیدی کردار کیا ہے۔ اریٹیریا نے ایک طویل مزاحمتی جدوجہد کے بعد 1993ءمیں اپنے ہمسایہ ایتھوپیا اور برطانیہ سے آزادی حاصل کی ہے تاہم ملک میں اس وقت پارلیمنٹ اور دیگر جمہوری اداروں کا وجود نہیں ہے۔ ملک میں آمریت قائم ہے جو سیکولرازم کی کھلی حمایت او پرچار کررہی ہے۔ ملک کا صدر اسایاسافورتی 1993ءسے اب تک اقتدار پر قابض ہے۔ ایٹیریا میں عیسائیوںکی مذہبی سرگرمیوں پر بھی پابندیاں عائد ہیں اور ملک کے سینکڑوں عیسائی پادری مذہبی سرگرمیوں کی پاداش میں جیلوں میں ہیں۔ اریٹیریا میں 48 فیصد مسلمان ہیں جن کی اکثریت عربی زبان بول رہے ہیں۔ ملک میں سینکڑوں دینی مدارس کو حکومت نے سیکولرازم میں تبدیل کردیئے ہیں۔ مدرسہ الفسیاءالاسلامیہ واحد اسلامی ادارہ ہے جس کی انتظامیہ نے آمریت کے کفریہ نظام کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح سے حالیہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ایٹیریا میں 1993ءکے بعد پہلا ہے۔ ایٹیریا انسانی حقوق کے حوالے سے افریقہ کے بدترین ممالک میں سے ای ہے۔ 2015ءمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسانی حقوق سے متعلق اپنی رپورٹ میں اریٹیریا کو بدترین ملک قرار دیا تھا۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی

      میجر جنرل شمریز خان نئے ڈی جی آئی ایس آئی مقرر

      فضائی آلودگی میں لاہور پھر دنیا بھر میں پہلے نمبر پر

      تازہ ترین

      اوپن اے آئی کے بے قابو بوٹس کی امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس میں مداخلت

      شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ، NDMA نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کو خبردار کردیا

      ایران نے آبنائے ہرمز 7 دن میں کھولنے کی پیشکش کردی

      5 دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا، قیمت میں 4,700 روپے اضافہ

      پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ اب 5 اکتوبر کو ہوگا : ذرائع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.