All posts by Daily Khabrain

جنرل ٹائر۔ایک عہدایک نئے سفر کا آغاز

سی ای او /ایم ڈی جنرل ٹائر، حسین قلی خان لانچ کے وقت خطاب کرتے ہوئے

دوران سفر جہاں گاڑی کے تمام پارٹس کا بہترین اور کارآمد حالت میں ہونا ضروری ہے وہیں گاڑی کے ٹائرز اس میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی تیاری میں مضبوطی، بریکنگ اور روڈ گرپ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔جنرل ٹائر پاکستان میں تقریباََ تمام اقسام کی گاڑیوں کے ٹائرز بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے، جو پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں، ٹرک، بس اور ٹریکٹرمیں استعمال ہونے والے ٹائرزکی 80فیصدطلب پوری کرتا ہے۔

ویڈیو: TVC کلپ
پاکستان آٹو موٹیو فیکچررز ایسو سی ایشن (PAMA)کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2020 میں پاکستان میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 124,000 تھی۔ دراصل یہ ایک ایسا کاروبار ہے جس میں ہر برانڈ ایک دوسرے آگے بڑھنے اور سبقت لے جانے کے لیے مسلسل محنت کرتا ہے۔جنرل ٹائر نے بھی 50 سال سے زائد عرصے اپنی معیار ی پراڈکٹس کے ذریعے نہ صرف کسٹمرز کا اعتماد حاصل کیا ہے بلکہ اپنی اعلیٰ کوالٹی اور بہترین ساکھ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آج بھی اسے مزید بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے۔

تصویر: جنرل ٹائر کی جانب سے سال1964 میں تیارکئے جانے والا پہلا ٹائر۔

جنرل ٹائرکمپنی کی بنیاد سال 1963 میں رکھی گئی اورآغازمیں اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 120,000 یونٹس تھی جو سال 1985 میں نئے پلانٹ کی تنصیب سے بڑھ کر سالانہ 600,000 ٹائرز تک پہنچ گئی۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ اس ادارے نے گاڑیوں کی مختلف اقسام کے ٹائرز تیار کئے اور اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے یہ اپنے کسٹمرز کا اعتماد جیت کر دنیا کی بہترین ٹائرز بنانے والی کمپنی کی فہرست میں شامل ہوگئی۔ سال 1987میں جنرل ٹائرز نے پاک سوزوکی موٹر کمپنی کو ٹائرز کی فراہمی شروع کی۔

تصویر: 1980میں جنرل ٹائر کی جانب سے تیار کیا گیا فارمولا III ریسنگ کار ٹائر
جنرل ٹائر اس وقت پاکستان بھر میں آٹو مینوفیکچرنگ سے وابستہ تمام برانڈز کو ٹائرز فراہم کررہا ہے۔گاڑیاں تیار کرنے والی ان برانڈز میں سے زیادہ تر کمپنیز اپنے بنیادی اداروں سے منسلک ہیں جہاں ترجیحی بنیاد وں پر نہ صرف پراڈکٹ کے معیار کو جانچا جاتا ہے بلکہ ان کی جانب سے تیار کی جانے والی گاڑیوں میں کسی بھی پارٹ کی تنصیب سے پہلے اس کے خام مال سے لے کر اس کی تیاری تک کے تمام مراحل کے معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔جنرل ٹائر، پاکستان میں ٹائرزبنانے والا وہ واحد ادارہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر طے شدہ معیارپر مکمل طور پر پورا اترتا ہے۔جنرل ٹائرنے سال 2005 میں ISO 9001،سال 2018 میں ISO 14001 اوراسی سالISO 45001 سرٹیفیکیشنز حاصل کیں۔ادارے کی موجودہ پیداواری صلاحیت 4.1 ملین یونٹس سالانہ ہے۔اس کے علاوہ جنرل ٹائرز نے برطانیہ اور سوئیڈن کو فارمولا III ریسنگ کار (FAST) کے لیے ٹائرز بھی برآمد کئے۔

جنرل ٹائر کی ترقی کا سفر یہیں نہیں رکا بلکہ کمپنی نے ترقی کی نئی منازل طے کرنے کے لیے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت داری کی۔ ادارے کے ساتھ شراکت داری کے اس عمل میں ڈیلرز سے ڈسٹری بیوٹرز، سپلائرز سے مینوفیکچررز اور پارٹنرز شامل رہے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیا اور ادارے کی ترقی میں شراکت داربنے۔

جنرل ٹائراپنی اعلیٰ معیار کی پراڈکٹس کی فراہمی اور کسٹمرز کے اسی بھروسے کے ساتھ ترقی کے اس سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی مستحکم لیڈر شپ کے لیے ایک نئی شناخت کے ساتھ خود کو متعارف کرارہا ہے۔

جنرل ٹائر اینڈ ربر کمپنی پاکستان کے سی ای او/ایم ڈی، حسین قلی خان کے مطابقGTR ہمیشہ سے ہی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اور اعلیٰ ترین معیار کی پراڈکٹس تیارکرنے میں سرفہرست رہا ہے۔اس کے تیار کردہ ٹائر ہر لحاظ سے جانچ کے سخت ترین عمل سے گزرکر عالمی معیار کے عین مطابق تیار کئے جاتے ہیں اور اب اس نئی شناخت کے ساتھ ادارہ پر عزم انداز میں ترقی کی نئی منزلوں کی جانب رواں دواں ہے۔

تصویر: GTR کا نیا لوگو
جنرل ٹائرکے تیار کردہ ٹائر ز کی اعلیٰ کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کوالٹی کنٹرول کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ تاکہ انہیں عالمی معیار کے عین مطابق نہ صرف تیار کیا جاسکے بلکہ پاکستان کے اندر اور باہر موجود گاڑیاں بنانے والی بین الاقوامی کمپنیز کو فراہم بھی کیا جاسکے۔

پاکستان کی سڑکوں کی خراب حالت سے کون واقف نہیں ہے۔ گاڑی میں کراچی سے شمالی علاقہ جات تک سفر کے دوران ہمیں ہر طرح کی سڑک اور زمین کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان سڑکوں اور ریتیلی اور پتھریلی زمینوں پر گاڑی کے ذریعے سفر کے لیے ٹائرز کا مضبوط اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔پاکستان کی سڑکوں پر لگی ہوئی بڑی بڑی کیٹ آئنزبھی ٹائروں کی خرابی کا باعث بنتی ہیں۔جنرل ٹائرز، پاکستان میں موجود ان سڑکوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے، عالمی معیارکے عین مطابق ٹائر تیار کرتا ہے۔

جنرل ٹائر ز میں موجود جانچ کا سخت ترین نظام جہاں اس کی تیار کردہ پراڈکٹس کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتا ہے، وہیں ادارے کی جانب سے ٹائر ز کی تیاری کے لیے خام مال بھی میعار پر کسی بھی قسم کا بغیر کسی سمجھوتے کے انتہائی مستند اداروں سے درآمد کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں مختلف قسم کی گاڑیاں تیار کرنے والے ادارے اپنی گاڑیوں میں جنرل ٹائر ز کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔

جنرل ٹائرز کی تیار کردہ پراڈکٹس نے روڈ سیفٹی، بریکنگ اور روڈ گرپ اور اعلیٰ ترین معیار جیسی خصوصیات پر توجہ دیتے ہوئے ملک بھر میں اس صنعت کے طر ز عمل کو یکسر بدل دیا ہے۔

آن لائن شاپنگ سرچ انجن پاکستان میں ای کامرس انڈسٹری میں انقلابی رجحانات پیدا کررہا ہے

پاکستان میں ای کامرس انڈسٹری روایتی طریقوں پر قابو پا کر تیزی سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ روایتی خریداری کے طریقوں سے ای کامرس آن لائن شاپنگ سسٹم تک کا سفر آسان چیلنج نہیں تھا۔ تاہم ، وقت ہر چیز کو بدلتا ہے ، اور ہم سبھی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ، اب ای کامرس انڈسٹری میں عروج پر ہے۔ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ یہ آن لائن خریداری کی حقیقت کو بڑھا رہا ہے جہاں صارفین آن لائن پلیٹ فارم پر مذکورہ تازہ ترین تازہ کاریوں کا بھر پور انداز میں جواب دے رہے ہیں۔

آن لائن شاپنگ سامانوں کی لمبی فہرست کے مطابق ہر چیز جیسے مطلوبہ اشیا کی تلاش کرتے ہوئے گھنٹوں دکانوں میں گھومے بغیر اشیاء کو گھر لانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ خریداری ایک ضرورت ہے ، اور ان لوگوں کے لئے آن لائن شاپنگ بہترین آپشن ہے جو مطلوبہ مصنوعات کی ضرورت ہے اور وہ باقاعدگی سے سپر مارکیٹوں اور اسٹورز پر جانے سے قاصر ہیں یا بلنگ کے لئے لمبی قطار میں کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

آن لائن شاپنگ کے سلسلے میں لوگوں کے انفرادی تجربات پیدا کرکے لوگوں کی بڑھتی ہوئی مقدار ای کامرس انڈسٹری کو لوگوں کی ضروریات کو سمجھنے کے ل. بنا رہی ہے۔ کسی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ خریداری اتنی آسان ہوجائے گی کہ گھر بیٹھے اور کچھ کلکس کے ذریعہ ، مطلوبہ سامان گھر پر پہنچا دیا جائے گا۔

کس طرح صارفین اور آن لائن اسٹور پاکستان میں ای کامرس انڈسٹری کا معاون حصہ رہے ہیں؟

اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ لوگوں کی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ سیل فون استعمال کیے بغیر ایک دن بھی نہیں گزرتا ہے ، اور صرف یہی وجہ ہے کہ آن لائن شاپنگ گاہک کی دلچسپی کی وجہ سے آگے بڑھ رہی ہے۔

انٹرنیٹ پر دستیاب آن لائن اسٹورز صارف دوست ہیں ، جہاں کارٹیں ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ، اور آپ کی دکان کی تمام مصنوعات کارٹ میں شامل ہوگئیں۔ بلنگ کا آخری آپشن آن لائن ادا کرنا یا ترسیل پر نقد رقم دینا بھی سیدھا ہے۔

آن لائن اسٹورز کو سرچ کی گئی اشیاء کے ل recommended تجویز کیا جاتا ہے اور صارف کو سائٹ دیکھنے اور آن لائن خریداری کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔

حقیقی مصنوعات اور تفصیلات والے آن لائن اسٹور ای کامرس کا ایک معاون حصہ ہیں۔ جبکہ آن لائن سائٹس پر بھروسہ کرتے ہوئے صارفین آن لائن مصنوعات خرید رہے ہیں۔

چیٹ بوٹس آن لائن خریداری کے تجربے کو بہتر بنا رہے ہیں جہاں گاہک کے سوالات جبکہ ویب سائٹ کا سمارٹ سپورٹ سسٹم شاپنگ کی دشواریوں کو حل کرتا ہے۔

چیٹس کے لئے دستیاب نمائندے صارف کو بہترین چیز حاصل کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

آن لائن اسٹورز جن میں مستند مصنوعات کی تفصیلات اور وقت پر ترسیل کے ساتھ کاروبار کا کامیاب حصہ ہوتا ہے۔ یہ وہ اسٹورز ہیں جہاں پروڈکٹ مختلف برانڈز سے آن لائن دستیاب ہیں ، اور لوگ خریداری کرسکتے ہیں۔

شاپنگ ڈاٹ کام کے ذریعہ پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری میں انقلاب

شاپنگم پاکستان کا سب سے بڑا آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں پاکستان کے تقریبا تمام آن لائن اسٹورز مربوط ہیں۔ یہ پہلا ریئل ٹائم آن لائن شاپنگ سرچ انجن ہے جس نے ای کامرس انڈسٹری میں انقلاب برپا کیا اور اس کی ترقی کو فروغ دیا۔

یہ پلیٹ فارم ایک آسمان ہے جس کے تحت پاکستان کے 210 اسٹوروں سے 3.2 ملین سے زیادہ مصنوعات دستیاب ہیں۔ شاپنگم ایک سرچ انجن ہے جہاں صارف مطلوبہ اشیاء کو آسانی سے ڈھونڈ سکتا ہے اور آن لائن اسٹور سے منسلک ہوسکتا ہے جہاں آئٹم انتہائی مناسب قیمتوں میں دستیاب ہے۔ یہ سائٹ ہر وقت دستیاب ہے جو صارف کی سکرین پر تلاش کردہ مصنوعات کو ایک سیکنڈ میں مل جاتی ہے۔

انتہائی مستند اسٹوروں کا ذکر پلیٹ فارم پر اس کے ساتھ ساتھ مصنوع کی تفصیل ، اور اس کی دستیابی سے متعلق تفصیلات کے ساتھ ہے۔ سائٹ کے بارے میں اسٹورز پر دستیاب کسی بھی مصنوعات کی قیمت کا موازنہ کرنے کے لئے صارفین کے لئے ایک غیر معمولی خصوصیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ صارف بجٹ کے مطابق قیمت کی حد کو منتخب کرسکتا ہے۔

یہ ویب سائٹ صارف دوست اور تیز ہے جو اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ کے ذریعہ قابل رسائی ہے جس میں انٹرنیٹ دستیاب ہے ، اور اس پلیٹ فارم نے ای کامرس انڈسٹری میں انقلاب برپا کردیا جو آسان کام نہیں تھا لیکن اب یہ کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے اور ترقی کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں

جے ایس بینک کی بدولت ترسیلات زر بھیجنا آسان ہو گیا

جے ایس بینک وباء کے دوران ترسیلات زر کے مسئلہ کیلئے آسان حل لا رہا ہے۔

            جیسے کہ  COVID-19  کا مسئلہ فوری طور پر ختم نہیں ہو رہا، لوگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ رقم کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک مسئلہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ہے جو اپنے خاندانوں کے لئے بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

            پاکستان سے باہر رقم بھیجنا یا وصول کرنا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے اور COVID-19 کی وجہ سے معاشی بحران نے اس مسئلہ کو مزید پروان چڑھایا۔

لیکن اس وبائی مرض کے دوران جے ایس بینک ہر ایک کے لئے چیزوں کو آسان بنا رہا ہے۔

 

بینک اب ترسیلات زر کی خدمات پیش کر رہا ہے جس کی مدد سے آپ دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک سے ترسیلات زر بھیج یا وصول کرسکتے ہیں۔

چاہے آپ کے والدین پاکستان میں تنہاء ہوں یا آپ کی چھوٹی بہن جس کی سماجی فاصلے کی صورت میں شادی ہو رہی ہو، آپ کے اہل خانہ کے لئے جو بھی رقم درکار ہوسکتی ہے آپ اسے چند سیکنڈز کے اندر جے ایس بینک کی بدولت گھر بھیج سکتے ہیں۔

ہوائی سفر کے محدود مواقع اور اس کے خلاف اکثر ماہرین کی رائے کی وجہ سے لوگ اپنی فیملیوں  میں شادیوں جیسی اہم تقریبات سے محروم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ ویڈیو کال جیسی ٹیکنالوجی نے ایسے ایونٹس  میں عملی طور پر حصہ لینا آسان بنا دیا ہے لیکن رقم بھیجنے کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔

جے ایس بینک کو اس وبائی مرض کے باعث مسائل کا احساس ہے اور اس نے ترسیلات زر کو آسان بنا دیا ہے تاکہ آپ اور آپ کے اہل خانہ رقم کی فکر کرنا چھوڑ دیں اور ان حالات میں حتی الامکان لطف اندوز ہو سکیں۔

بینک کی ایپلی کیشن نے رقم بھیجنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

جے ایس بینک اس حوالے سے پاکستانیوں کو درپیش مسائل یا رقم بھیجنے اور وصول کرنے کو آسان بنانا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کے لئے ایک محفوظ اور آسان قانونی ذریعہ چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے رشتہ داروں کو فنڈز بھیجنے یا استعمال کرنے کے قابل ہو سکیں جنہیں ان کی ضرورت ہو یا بیرون ملک سے اپنی فیملی کی جانب سے وصول کر سکیں۔

سچ تو یہ ہے کہ جے ایس بینک جو اقدامات اٹھا رہا ہے وہ حیرت انگیز ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن نے بہت سے لوگوں کو ملازمت میں نقصان اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے شدید معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ بہت سے لوگوں کے لئے ایک مشکل وقت ہے اور اس وجہ سے فیملی اور دوستوں کی جانب سے تعاون طویل عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ جے ایس بینک کا شکریہ کہ اب یہ دنیا میں کہیں سے بھی ممکن ہے۔

 

            اس صورتحال کے دوران دنیا بھر سے پاکستانیوں کو آپس میں منسلک کرنے کے لئے جے ایس بینک کی مہم اجاگر کرنے سے متعلق یہ خوبصورت ویڈیو ملاحظہ کیجئے۔

اقراء اور یاسر کی مہندی پر سجل اور احد توجہ کا مرکز

اقراء عزیز اور  یاسر حسین کی مہندی پر  مداحوں کی پسندیدہ ترین جوڑی اداکارہ سجل علی اور احد رضا میر نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیئے۔مہندی کی تقریب پر جہاں اقراء عزیز اور یاسر حسین کے چرچے ہو رہے ہیں، وہیں اداکارہ سجل علی اور احد رضا میر بھی سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔سجل علی نے اقراء عزیز اور یاسر حسین کی مہندی کی تقریب پر خوبصورت ساڑھی پہنی ہوئی تھی جب کہ احد نے کالا کرتا زیب تن کیے کندھوں پر شال ڈال رکھی تھی۔اداکارہ اقراء عزیز اور  یاسر حسین کی شادی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز چند روز قبل مایوں کی رسم سے  ہوا تھا۔گزشتہ روز کامیڈین یاسر حسین کے گھر پر اداکار جوڑی کی مہندی کی رسم منعقد کی گئی۔ اس موقع پر یاسر حسین اور اقراء عزیز نے زبردست ڈانس کر کے سب کو حظوظ بھی کیا۔اداکارہ اقراء عزیز نے یاسر حسین کے ساتھ ڈانس کیا جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے جب کہ تقریب میں موجود دیگر شوبز شخصیات نے بھی ڈانس کیا۔اقراء عزیز اور یاسر حسین کی مہندی کی تقریب میں اداکارہ نے ڈیزائنر فائزہ سقلین کی ڈیزائن کردہ پیلے رنگ کی کام والی خوبصورت فراک  پہن رکھی تھی اور ساتھ ہی انہوں نے بالوں میں سفید پھلوں سے بنا گجرا اور ہاتھوں میں مہندی بھی لگا رکھی تھی۔

2019 پاکستان ویمن کرکٹ کی بہتری کا سال رہا: کپتان بسمہ معروف

‏پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے سال 2019 کو پاکستان ویمن کرکٹ کی بہتری کا سال قرار دے دیا۔‏پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے 2019 اور 2020 کے حوالے سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ اس سال پاکستان ویمنز ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی اور کھیل میں بہتری آئی ہے۔بسمہ معروف نے کہا کہ یہ سلسلہ گزشتہ برس شروع ہوا تھا اور اس میں بتدریج بہتری آتی گئی، ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے سال کا آغاز ہوا اور اپنے ہوم گراونڈز پر کامیابی حاصل کی جب کہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز جیتے۔انہوں نے کہا کہ سب سے یادگار سیریز ساؤتھ افریقہ کے خلاف رہی کیونکہ ساؤتھ افریقہ کی سرزمین پر کھیلنا کبھی آسان نہیں رہا، جانے سے پہلے سوچا نہیں تھا کہ ساؤتھ افریقہ میں کارکردگی اتنی اچھی ہو گی۔پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے کہا کہ کھیل کے تینوں شعبوں میں پاکستان ٹیم نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا، اس سیریز سے کھلاڑیوں میں اعتماد بڑھا کہ وہ کہیں بھی اچھا کھیل سکتی ہیں۔بسمہ معروف کہتی ہیں کہ بنگلہ دیش ویمن ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیم بہتری کی طرف گامزن ہے، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ سال کا اختتام اچھا نہیں رہا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ ملائیشیا میں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں نتائج توقع کے مطابق نہیں رہے، پاکستان ٹیم کو شکست ہوئی لیکن اس سیریز سے یہ اندازہ ضرور ہوا ہے کہ پاکستان ویمن ٹیم کو کہاں کہاں بہتری کی ضروت ہے اور اب ان شعبوں پر سخت محنت کی جا ئے گی

بینظیر بھٹو کی 12ویں برسی پر لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کی تیاریاں مکمل

بینظیر بھٹو کی بارہویں برسی کے موقع پر  پاکستان پیپلز پارٹی آج راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کرے گی۔راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تاریخی جلسے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، 12 سال میں پہلی بار محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی لیاقت باغ میں منائی جائے گی، یہی وہ مقام ہے جہاں 2007 میں بینظیر  کو شہید کیا گیا تھا۔بینظیر بھٹو کی بارہویں برسی کے موقع پرپیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پہلی بار لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کریں گے۔راولپنڈی کی اہم سڑکوں اور لیاقت باغ کے اطراف پیپلز پارٹی کے بینرز اور جھنڈے آویزاں کر دیئے گئے ہیں جب کہ  لیاقت باغ کے اطراف میں پارٹی کیمپس بھی قائم ردیئے گئے ہیں۔لیاقت باغ کے اطراف میں قائم کردہ پارٹی کیمپس میں پارٹی ترانے سرد موسم میں کارکنان کا خون گرما رہے ہیں۔لیاقت باغ میں مختلف شہروں سے پارٹی کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے جب کہ  جلسہ گاہ میں کرسیاں اور لائیٹں بھی لگا دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹوکی بیٹی بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کے بعد دہشت گرد حملے کانشانہ بنایا گیا تھا، دو بار وزیراعظم اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت بینظیربھٹو کی شہادت کو 12 برس بیت گئے ہیں۔

نیب نے شہباز شریف اور دیگر کیخلاف نئی انکوائری شروع کر دی

بہاولپور کے صحرائے چولستان میں 14 ہزار 400 کنال اراضی کی الاٹمنٹ میں بےضابطگیوں پر قومی احتساب بیورو (نیب) ملتان نے انکوائری کا آغاز کر دیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب ملتان نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق وفاقی وزیر میاں بلیغ الرحمن اور دیگر درجنوں افراد کے خلاف  انکوائری کا آغاز کرتے ہوئے چولستان ترقیاتی ادارے سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے مئی 2012ء میں لال سوہانرا نیشنل پارک کے 238 متاثرین کو زمین الاٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔مذکورہ افراد پر الزام ہے کہ الاٹیوں کی پیدائش پارک بننے کے کئی سال بعد میں ہوئی ہے اور زمینوں کی الاٹمنٹ میں پنجاب حکومت نے کئی بوگس نام بھی شامل کیے۔ الاٹمنٹ میں ہونے والی ان مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایت پر نیب نے شہباز شریف، بلیغ الرحمن اور سابق جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار چوہدری عمر محمود ایڈووکیٹ سمیت دیگر افراد کے خلاف انکوائری کا حکم دیا تھا

ملک کے شمالی علاقوں میں شدید سردی، اسکردو میں درجہ حرارت منفی 18 تک گر گیا

ملک بھر میں سردی کی شدت برقرار ہے جب کہ شمالی علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔سکردو میں درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے جب کہ استور میں درجہ حرارت  منفی12 اور گوپس میں منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔استور میں شدید سرد موسم کے باعث ہر چیز جم جانے سے عوامی مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔دوسری جانب  کراچی میں بھی سرد ہواؤں کا راج ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ریکارڈ کیا جانے والا کم سے کم درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ رہا جب کہ لاہور میں 6، پشاور میں صفر، کوئٹہ میں منفی 4، مظفر آباد میں صفر، گلگت میں منفی 6، ملتان میں 3، فیصل آباد میں 2 اور حیدر آباد میں کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ملک بھر میں سردی کی شدت کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پنجاب اور بالائی سندھ کے بیشتر میدانی علاقوں جب کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید دھند چھائے رہنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ  ملک کے دیگر علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی علاقوں میں شدید سرد رہے گا

پرویز مشرف نے سنگین غداری کیس کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے خلاف سنگین غداری کیس میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست کے ذریعے چیلنج کردیا۔

پرویز مشرف کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے لاہور ہائی کورٹ میں 86 صفحات پر مشتمل درخواست دائر جمع کرائی ہے جس میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔مذکورہ درخواست پر جسٹس مظہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بینچ 9جنوری، 2020 کو سماعت کرے گا۔عدالت عالیہ میں دائر کی گئی اس درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ’ فیصلے میں غیرمعمولی اور متضاد بیانات کا مرکب موجود ہے‘۔اس میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدال نے ’عجلت میں ٹرائل کو مکمل کیا جو کسی نتیجے تک نہیں پہنچا تھا‘۔مزید پڑھیں: ‘پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے’پرویز مشرف کی درخواست میں کہا گیا کہ ’ خصوصی عدالت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 342 کے تحت ملزم کا بیان ریکارڈ کیے بغیر سزائے موت سنائی‘۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ’مجرمانہ ٹرائل میں ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اس میں کوئی غفلت، ناکامی اور بھول چُوک پروسیکیوشن کے کیس کو بری طرح متاثر کرتی ہے‘۔درخواست میں کہا گیا کہ ’مجرمانہ ٹرائل اس لازمی قانونی شرط پر عمل کیے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا‘۔یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف سے متعلق فیصلہ: ‘افواج میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے’ساتھ ہی درخواست میں سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کے پیراگراف نمبر 66 کو بھی چیلنج کیا گا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ مفرور/مجرم کو پکڑنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں اور اسے یقینی بنائیں کہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اگر وہ وفات پاجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر ایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے‘۔درخواست میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے متعلقہ معزز صدر نے پیرا 66 کے ذریعے سنگدلی، غیر قانونی طریقے، غیر حقیقی طور پر کمزور کرنے والی، ذلت آمیز، غیر معمولی اور وقار کے خلاف ایک شخص کو سزا دے کرتمام مذہبی اخلاقی، سول اور آئینی حدود پار کیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائی کورٹ، خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر فوری عمل درآمد روکنے کا حکم دے اور سزا کو کالعدم قرار دے۔

2007میںبی بی شہید کی امتنان شاہد کے ہمراہ عشائیہ کے موقع پر آخری تفصیلی گفتگو محترمہ شہید کا کسی میڈیا گروپ ،چینل یا ادارے کو دیا گیا آخری انٹرویو

ء2007کے وسط میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو نے خبریں گروپ کو اپنی 9 سالہ جلا وطنی ختم کرنے سے چند ماہ قبل آخری تفصیلی انٹرویو دیا جو دبئی میں ان کی رہائشگاہ پر ایڈیٹر خبریں گروپ امتنان شاہد کو عشائےے کے موقع پردیا گیا۔ اسوقت شہید بینظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو حیات تھیں اور اسی گھر میں مقیم تھیں۔ البتہ بیماری کی وجہ سے اپنے کمرے تک محدود رہتیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان دنوں اپنی تعلیم مکمل کرکے چھٹیاں گزارنے والدہ کے پاس دبئی میں مقیم تھے اور اپنے لڑکپن سے گزررہے تھے۔ پاکستان اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھنے والے بینظیر بھٹو ایک منجھی ہوئی سیاستان اورباخبرشخصیت کی مالک تھیں۔ ….کمال کا حافظہ‘ بہترین میزبان اور بطور لیڈر اپنے ملک سے لگاﺅ رکھنے والی بے باک خاتون۔ وہ پاکستان کے ہر ادارے کو مضبوط دیکھنا چاہتی تھیں اور بار بار یہ بات دہراتیں کہ پاکستان کی نوجوان نسل میں بہت ”Potential“ہے۔ آرمی چیف اور اس کے وقت صدر پرویز مشرف سے اپنے مذاکرات کو ”Normal “قرار دیتیں اور اس بارے ہنستے ہوئے کہتی تھیں کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ معمول کی بات ہے اور روایت ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ہر دور میں فوجی اور عسکری اداروں سے بات چیت کرتی آئی ہیں۔ وہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زیادہ حق میں نہ تھیں البتہ کھل کر مخالفت بھی نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو انٹرویو میں ایک ”Flexible “جرنیل قرار دیا۔ 2008ءکے عام انتخابات میں اس وقت چند ماہ باقی تھے۔ انہوں نے بات چیت میں پیش گوئی کی تھی کہ آنے والے انتخابات میں پاکستانی قوم کے سامنے تین ”Choices“ ہونگی‘ فوج کی حمایت یافتہ جماعتیں‘ دینی جماعتیں یا جمہوریت پر یقین رکھنے والی طاقتیں…. ان کی پیش گوئی اس وقت بالکل درست ثابت ہوئی جب 2007ءکے آخر میں ان کی وطن واپسی پر پنڈی میں قاتلانہ حملے میں ان کی شہادت ہوئی اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے میدان مارلیا۔ یہ تھی شہید بینظیر کی سیاسی بصیرت جوکہ ان کی شہادت کے بعد بھی درست ثابت ہوئی۔ خبریں گروپ کو دیا گیا یہ انٹرویو ان کی 9 سالہ جلاوطنی ختم ہونے سے قبل پاکستان کے کسی میڈیا ادارے‘ اخبار یا ٹیلی ویژن چینل کو دیا جانے والا آخری تفصیلی انٹرویو تھا جس کے کچھ روز بعد وہ پاکستان روانہ ہوئیں اور اپنے وطن کی مٹی پر شہادت پاکر جہان فانی کی طرف کوچ کرگئیں۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
آج ان کی شہادت کو 12 سال پورے ہوگئے لیکن بینظیر بھٹو تاقیامت اس ملک میں ایک حقیقت بن گئیں جس کو مٹاناناممکن ہے۔