Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ریاست مخالف بیانیہ’ بلوچستان کے 100 سرکاری ملازمین برطرف
    • محمود اچکزئی کی اختر مینگل سے ملاقات’ بلوچستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
    • آئی ایم ایف مشن کی رواں ماہ پاکستان آمد کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی
    • نادرا نے پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹ گھر بیٹھے حاصل کرنیکی سہولت متعارف کرادی
    • پاکستان تحریک انصاف میانوالی کے سر گرم لیڈران اور کارکنان کے خلاف گھیرا تنگ
    • کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات دریافت
    • آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ، ایک شخص جاں بحق،3زخمی
    • عراقی فورسز نے سعودی عرب میں پائپ لائن پر حملے میں استعمال مقام کا پتہ لگا لیا
    • جنوبی لبنان ‘ اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی،مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا
    • حوثیوں کا سعودیہ میں فوجی اڈے پر میزائل ڈرون حملہ ریاض کا جوابی وار یمن کا باغیوں کے 5 ڈرونز گرانے کادعویٰ
    • پنجاب میں 17ستمبر تک دفعہ 144نافذ
    • ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو 7شرائط پیش عالمی جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کی دھمکی
    • کرکٹ ایک بار پھر سیاست کی نظر بھارتی ویمنز ٹیم کا چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار
    • حادثات اور ہنگامی حالات میں بروقت طبی امداد ناگزیر مریم نواز
    • ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت دہشت گرد گروہوں کیخلاف مؤثر کارروائی کیجائے:پاکستان
    • مسجد اقصیٰ پر یہودی انتہاپسندوں کا دھاوا، 480 افراد صحن میں داخل
    • 4 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ بل ادائیگی کا معاملہ لندن کے ڈورچسٹر ہوٹل نے قطری شیخ کی گاڑی کے حوالے سے عدالتی حکم حاصل کر لیا
    • وزیراعظم شہبازولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ سعودیہ پرحوثیوں کے حملے کی مزمت مکمل یکجھتی کا اظہار
    • وزیرِ اعظم کا بڑا اعلان موٹر سائیکل رکشہ\رکشہ، چنگ چی 800 سی سی تک گاڑوں کو پٹرول پر 100 روپے ریلیف
    • ایم کیو ایم کا نئے صوبوں کے قیام کے لیے سڑکوں پر آنے کا اعلان
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    عدم اعتماد کی سیاست اور حکومت کا مستقبل؟

    By Daily Khabrainفروری 9, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ملک منظور احمد
    ملک میں سیاسی گہما گہمی بڑھتی چلی جا رہی ہے،ایک جانب اپوزیشن جماعتیں جو ڑ توڑ کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب حکومت بھی جوابی وار کے لیے تیار بیٹھی ہے گزشتہ دنوں میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پا رٹی کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملا قات نے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں زیر گردش ہیں کہ آخر کس طرح اچانک دو بڑی جماعتوں کی قیادت تمام تر اختلا فات با لائے طاق رکھتے ہوئے ملا قات کرنے کے لیے اکٹھی ہوگئیں۔سابق صدر آصف زرداری نے حکومت کی اتحادی جماعت ق لیگ کے ساتھ ملا قات کی ہے اور چوہدری شجاعت اور پرو یز الہیٰ کو حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے لیے منانے کی کوشش کی ہے جو کہ بظاہر نا کام ہو گئی ہے لیکن کہنے والے کہہ رہے ہیں ابھی کہانی کا اختتام نہیں ہوابلکہ ابھی تو کہانی کی شروعات ہوئی ہے۔بہر حال ایسا محسوس ہو رہا ہے اکہ اپوزیشن جماعتیں پہلی مرتبہ سنجیدگی کے ساتھ حکومت کو گرانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔حکومت بظاہر تو ان حالات میں پُر اعتماد نظر آرہی ہے لیکن محسوس ایسا ہو تا ہے کہ حالات کی تپش بہر حال حکومت کو بھی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ انھوں نے بھی گزشتہ روز اپنی سینٹرل ایگز یکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں بڑے جلسے کرنے اور عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    مارچ کے مہینے کو سیاسی طو رپر بہت اہمیت حاصل ہو گئی ہے اور پیپلز پا رٹی اور پھر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ بھی اس حوالے سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔لیکن معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں جتنے نظر آتے ہیں۔پی ڈی ایم کے اندر کی صورتحال ابھی تک پیچیدہ ہے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا گرین سگنل تو دے دیا ہے،لیکن اگر حکومت کے اتحادی نہیں مانیں گے تو تحریک اعتماد کامیاب کیسے ہو گی یہ سوال اہم ہے؟ تحریک عدم اعتماد لا کر وزیر اعظم کو گھر بھیجنا اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا کہ اپوزیشن سمجھ بیٹھی ہے اور نہ ہی حکومت ابھی تک سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے گرین سگنل کے مرحون منت اقتدار میں موجود ہے۔
    بہر حال اس حوالے سے یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ مولا نا فضل الرحمان جو کہ پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں اور پیپلز پا رٹی سے خاصے خفا بھی ہیں وہ اس سارے عمل سے باہر نظر آتے ہیں اگرچہ لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف نے ان کو اعتماد میں لینے کے لیے ان سے رابطے کیے ہیں لیکن ان اہم ملا قاتوں میں مولانا کو شامل نہ کرنا ان کی مزید نا راضگی کا باعث بن سکتا ہے۔
    اپوزیشن جماعتوں نے بھی ملک بھر میں جلسوں اور عوامی رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اور حالیہ دنوں میں پیپلز پا رٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان نے بڑے جلسے کیے ہیں،اپوزیشن کی یہی کوشش ہے کہ اپنے اپنے اعلان کردہ لا نگ ماررچز سے قبل حکومت مخالف مو مینٹم بنایا جائے جو کہ آخری ہلے سے قبل اپوزیشن کی مدد کر سکے۔ملک کی مجموعی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو کافی پیچیدہ نظر آتی ہے افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کو سرحد پر بھی مسائل کا سامنا ہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے خصوصاً بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں مسلسل تیزی دیکھنے میں آرہی ہے اور ملک کے جوان ملک کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں چین کا اہم دورہ مکمل کیا ہے اور اب اسی ماہ روس کے اہم دورے پر بھی جا رہے ہیں جو کہ یقینا بین الا ا اقومی سطح پر پاکستان کی مخالفت کا باعث بنیں گے۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور مغرب جن کی آجکل روس کے ساتھ یو کرائن کے معاملہ پر شدید کشیدگی ہے وزیر اعظم کے اس دورے کو اچھی نظر سے ہمیں دیکھیں گے اس صورتحال میں ملک کے وزیر اعظم کے پاس اپنی پا رلیمان اور اپوزیشن کی حمایت ہو نا بھی بہت ضروری ہے اور اس سے حکومتیں اور وزیر اعظم تقویت حاصل کرتے ہیں۔ پارلیمان کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہی ہوتا ہے کہ حکومت یا وزیر اعظم پر آنے والے دباؤ کو اپنے اوپر لے اور حکومت کو سپیس مہیا کرے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں گزشتہ ساڑھے تین سال سے تو ایسا کچھ بھی دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔یہ ملک کے لیے ایک آئیڈیل صورتحال نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں ہر شہر میں سیاسی حدت میں بلا شبہ اضافہ ہونے جا رہا ہے اور حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہوں گے۔ایسی صورتحال ہمیشہ حکومت کے لیے زیادہ مشکل ہوا کرتی ہے کیونکہ احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران اگر کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش آئے یا پھر پولیس کی جانب سے کوئی بھی کا رروائی کی جائے تو اس کا سارا ملبہ حکومت کے اوپر ہی آتا ہے۔اس لیے حکومت کو بھی چاہیے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کسی نہ کسی لیول پر رابطے کرے اور معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جانے سے روکا جائے لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ٹریک ریکا رڈ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسا کو ئی قدم اٹھایا جائے گا۔
    جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے تو حکومت کے اتحادیوں کے بغیر تحریک عدم اعتماد کو کسی صورت کامیابی نہیں مل سکتی ہے اور اگر اپوزیشن کی جانب سے ایسی کوشش بغیر حکومتی اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر کی گئی تو قوی امکان ہے کہ اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس صورت میں اپوزیشن کی سیاست کو شدید دھچکا لگنے کا بھی امکان ہے،حکومت کے لیے ایک مسئلہ مہنگائی کا ہے جو کہ جوں کا توں برقرار ہے بلکہ مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے،آئی ایم ایف کی نئی شرائط سامنے آئیں ہیں جن کے تحت حکومت کو مارچ تک بجلی اور ٹیکسوں کی شرح میں مزید اضافہ کرنا ہے جس کے باعث یقینا عوام کی مشکلا ت میں بھی اضافہ ہو گا اور حکومت پر عوامی دباؤ بھی بڑھے گا۔
    بڑھتی ہو ئی مہنگائی اور آئی ایم ایف کی شرائط اپوزیشن کے لیے ایک اچھا موقع ہو سکتی ہیں کہ عوام کو حکومت کے خلاف سٹرکوں پر لایا جائے دیکھنا ہو گا کہ اپوزیشن اس موقع کا فائدہ اٹھا پائے گی یا نہیں۔بہر حال آنے والے چند ہفتے سیاسی طورپر بہت دلچسپ ہو نے جا رہے ہیں،اقتدار کی اس کشمکش میں جیت کس کی ہو گی شاید اس بات کا جواب ہمیں مارچ کے آخر تک مل جائے گا۔
    (کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      لاہور میں کہیں ہلکی، کہیں زیادہ بارش اگلے 3 دن مزید بارش

      سابق پاکستانی ہاکی کپتان خالد محمود 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.