پاکستان کے تیل و گیس کے ذخائر سے متعلق ایک رپورٹ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک پاکستان کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر تقریباً 253 ملین بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ ملک کے تیل کے ذخائر کی متوقع مدتِ استعمال 11 سال ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان کے تیل کے ذخائر میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے میں بارگزئی فیلڈ سے حاصل ہونے والے تقریباً 21.01 ملین بیرل کے نئے ذخائر نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ بیٹانی اور شاہدادپور فیلڈز میں بھی ذخائر میں اضافہ ہوا۔
نئے دریافت ہونے والے اسپن وام، بارگزئی، بٹرسِم ایسٹ، چاکر اور فاکر فیلڈز نے مجموعی طور پر 23.8 ملین بیرل تیل کے ذخائر میں اضافہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق ذخائر کی مدت میں بہتری کی بڑی وجہ نئی دریافتیں ہیں، تاہم پاکستان اب بھی اپنی مجموعی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل پر نمایاں انحصار کرتا ہے۔
حکومت نے توانائی کے تحفظ کے لیے مزید تیل و گیس کی تلاش اور اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کے قیام پر بھی کام شروع کیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن نے اگست 2026 میں اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کے قیام کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی شروع کی، جس کے لیے ووڈ میک کینزی کا انتخاب کیا گیا ہے۔
اہم نکتہ: 11 سال سے مراد موجودہ پیداوار کی شرح برقرار رہنے کی صورت میں ریزرو لائف ہے؛ یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ 11 سال بعد ملک میں تیل مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ نئی دریافتیں، پیداوار کی شرح اور استعمال میں تبدیلی اس مدت کو بدل سکتی ہے۔

