All posts by Muhammad Saqib

صدر بائیڈن امریکا تختہ الٹنا چاہتے ہیں، ٹرمپ کا الزام

امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے حریف سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انتخابی مہم کے حوالے سے بیان بازی اور الزام تراشی نے شدت اختیار کرلی ہے۔

سابق امریکی صدر نے جو بائیڈن پر امریکا کا تختہ الٹنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے صدر بائیڈن کو جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ بھی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن بھی اپنے تعدد بیانات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک اور جمہوریت دونوں کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

سپر ٹیوزڈے پرائمریز کے لیے جاتے ہوئے گرینزبورو، شمالی کیرولائنا میں سابق صدر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ جو بائیڈن امریکا کے دشمنوں کی حمایت بھی کر رہے ہیں اور انہیں امداد بھی فراہم کر رہے ہیں۔

غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے میں صدر جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات میں بہت فرق ہے۔ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔

انڈیا ٹوڈے نے ایک تجزیے میں کہا کہ سابق امریکی صدر بڑبولے پن کے لیے غیر معمولی شہرت کے حامل ہیں۔ وہ اپنے مخالفین کے بیانات ہی کو پلٹ کر اُن پر وار کرتے ہیں۔ انہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات کو پلٹنے کے لیے اپنے حامیوں کو امریکی دارالحکومت پر حملے کے لیے اکسایا تھا اور اس حوالے سے انہیں مقدمات کا بھی سامنا ہے۔

پرال کا وی باک سسٹم پاکستان سنگل ونڈو کو منتقل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پرال کا وی باک سسٹم پاکستان سنگل ونڈو کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ری اسٹرکچرنگ و اصلاحات کے تحت ایف بی آر کے ماتحت ادارے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کا وی باک سسٹم پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے وی باک سسٹم کی پاکستان سنگل ونڈو کو منتقل کرنے کے طریقہ پر اتفاق ہوگیا ہے۔

پاکستان سنگل ونڈو کی گورننگ کونسل نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وی باک کی پاکستان سنگل ونڈو کو منتقلی کیلیے پرال کو پاکستان سنگل ونڈو کونسل کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائے اور فوری طور پر پاکستان سنگل ونڈو کو وی باک سسٹم تک رسائی دے۔

اس حوالے سے’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے ممبر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر اشفاق احمد تونیو نے باضابطہ طور پر سرکلر جاری کردیا۔

پاکستان میں ’افراتفری کے بادشاہ‘ عمران خان سلاخوں کے پیچھے بھی جیت رہے ہیں، بی بی سی

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں “افراتفری کے بادشاہ’ عمران خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے ہوئے بھی جیت رہے ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے سابق سربراہ اور معروف تجزیہ کار و مصنف محمد حنیف نے لکھا ہے کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ شدید معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ملک کے لیے تھوڑے بہت استحکام کا سامان ہو جائے گا۔ اس کے بجائے ہوا یہ کہ ملک کو ایک ایسی حکومت مل رہی ہے جس میں کوئی بھی جماعت اکثریت کی حامل نہیں۔ ایسی مخلوط حکومت معرضِ وجود میں آرہی ہے جو خود اپنے ہی مینڈیٹ کے حوالے سے شکوک میں مبتلا ہے۔

انتخابی نتائج کے دو ہفتوں کے بعد مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا تاہم پی پی پی نے کہا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں ہوگی۔

مخلوط حکومت بنانے کا اعلان نصف شب کو کیا گیا اور ایسا تاثر ملا جیسے یہ زبردستی کا سودا ہو۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ بظاہر کوئی بھی وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کو راضی نہ تھا۔

اسٹیبلشمنٹ (یہ لفظ پاکستان میں میڈیا والے طاقتور فوج کے لیے استعمال کرتے ہیں) ہمیشہ اس بات یر یقین رکھتی آئی ہے کہ انتخابات اتنا حساس معاملہ ہیں کہ انہیں سویلین سیاست دانوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اس بار بھی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پرانی پلے بک کھولی اور ماضی کی طرح ہر ترکیب کامیابی سے بروئے کار لانے میں کامیاب رہی۔

انتخابات سے دو ہفتے قبل پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق چیئرمین عمران خان کو تین مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ’افراتفری کے بادشاہ‘ سمجھے جانے والے عمران خان پابندِ سلاسل ہونے کے باوجود جیت رہے ہیں۔

عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ان کی پارٹی کے امیدواروں کو بھی آزادانہ انتخابی مہم چلانے کا موقع نہ مل سکا۔ بیشتر کو انتخابی مہم چلانے سے زیادہ محنت گرفتاری سے بچنے پر کرنا پڑی۔ مخالفین کو تمام مقدمات میں بری کرکے آزادی سے انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی گئی۔

انتخابی عمل میں، بظاہر، پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مشکلات کھڑی کرنے کی خاطر موبائل فون سروس بند کردی گئی، سوشل میڈیا بھی بند کردیے گئے۔ عمران خان کے حامیوں نے غیر معمولی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے واٹس ایپ گروپ بنائے، راتوں رات کئی ایپس اور ویب سائٹس قائم کیں اور قابلِ رشک ٹرن آؤٹ یقینی بنایا۔

عمران خانے پیغامات پھیلانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز سے مدد لی گئی۔ جیل میں عمران کو جو شناختی نمبر دیا گیا ہے وہ سیاسی نعرے میں تبدیل ہوگیا۔ پی ٹی آئی کے حامیوں نے سب کچھ چھپ چھپاکر کیا اور پولنگ ڈے پر اچانک بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن کا رخ کیا۔

اسٹیبلشمنٹ نے ڈجیٹل ٹیکنالوجی سے غیر معمولی شغف رکھنے والی نسل کو بیسویں صدی کے ہتھکنڈوں سے دبانے کی کوشش کی اور ناکام رہی۔ نئی نسل نے بتادیا کہ وہ ایسی ناخواندہ و لاعلم نہیں جیسا کہ اسے سمجھا جاتا ہے۔

عمران بظاہر سیاست میں اُتنے مضبوط نہ ہوں جتنے احتجاج میں ہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان اسمبلی اِتنے نہیں کہ حکومت بناسکیں۔ عمران خان نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنے مخالفین کو کرپٹ قرار دیا اور اِسے ثابت کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی۔ جن سیاست دانوں پر وہ کرپشن کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ان کے ساتھ حکومت بنانے سے وہ گریزاں ہیں۔

جیل کی سلاخوں کے پیچھے تو بہت سے پاکستانی سیاست دانوں کو ڈالا جاتا رہا ہے تاہم اب تک جیل کو عمران خان سے زیادہ کسی نے انجوائے نہیں کیا۔ عوامی پلیٹ فارم تک پہنچنے سے روکے جانے پر عمران خان نے اپنے وکلا اور خاندان کے افراد کے ذریعے پی ٹی آئی کے ووٹرز سے رابطہ رکھا ہے اور اپنے امیدواروں کو کامیابی دلانے میں کلیدی کردار کے حامل رہے ہیں۔

گزشتہ مئی میں پی ٹی آئی کے سربراہ کی گرفتاری کے بعد کارکنوں کے خلاف تیز اور خاصا بے رحمانہ کریک ڈاؤن کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے بیشتر قائدین کو گرفتار کرکے وفاداری بدلنے پر مجبور کیا گیا۔ کچھ نے عمران خان پر تنقید کی اور کچھ سیاست ہی چھوڑ گئے۔

اسٹیبلشمنٹ یہ پیغام دینا چاہتی تھی کہ پی ٹی آئی ختم ہوچکی ہے مگر پارٹی قیادت کی دوسری پرت سامنے آئی اور اس نے پارٹی کو جوڑے رکھا اور کچلی ہوئی انتخابی مہم کو کامیابی میں تبدیل کیا۔

پی ٹی آئی کے دوسرے درجے کے قائدین کو اندازہ تھا کہ ان کے قائد کو اقتدار میں نہیں آنے دیا جائے گا مگر پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹے اور قائد کا ساتھ دیا۔

مخالفین کہتے ہیں کہ اقتدار میں عمران خان نے ملک چلانے سے زیادہ مخالفین کو دبانے پر توجہ دی۔ وہ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن لیڈر کی طرح کام کرتے رہے۔

2013 کا الیکشن ہارنے پر عمران خان نے جو احتجاجی تحریک چلائی وہ بہت حد تک اسٹیبلشمنٹ کے آشیرواد کا نتیجہ تھی۔ اب جبکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے دشمن نمبر ون ہیں، حالیہ انتخابی کامیابی نے ان میں نیا جوش و جذبہ پھونک دیا ہے۔

پی ٹی آئی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے مگر عمران خان پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ سڑکوں پر سیاست گری کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جلسوں اور جلوسوں کے ساتھ ساتھ وہ سوشل میڈیا پر بھی متحرک رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

معیشت کا برا حال ہے۔ ملک کے دوسرے بھی بہت سے مسائل ہیں۔ ایسے میں حکومت چلانا بچوں کا کھیل نہ ہوگا۔ حکمرانوں کو بیرون ملک سے امداد کے حصول کے لیے بھی بہت کوشش کرنا پڑ رہی ہے۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ جیل میں گزارا ہوا وقت عمران خان کو مزید میچیور سیاست میں تبدیل کرے گا مگر ایسا لگتا نہیں۔ آثار اس بات کے ہیں کہ عمران خان ایسا سیاست دان بننے کو ترجیح نہیں دیں گے جسے اسٹیبلشمنٹ آسانی سے نگل سکے۔

روایتی سیاست سے گریز، بلکہ اس پر حملوں نے عمران خان کی مقبولیت بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ عمران خان اپنی یہ شناخت ایک ایسے ملک کو چلانے کے لیے ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوں گے جسے چلانے پر کوئی بھی آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔

ایسے میں بہتر یہی ہے کہ عمران خان ملک کے مقبول ترین قیدی (نمبر 804) کی حیثیت سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

پاک نیوزی لینڈ سیریز؛ کیویز کا دو رکنی سیکیورٹی وفد پاکستان پہنچ گیا

پاکستان کے خلاف ٹی20 سیریز سے قبل سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے کیویز بورڈ کا دو رکنی وفد پاکستان پہنچ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیوی ٹیم کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کیلئے نیوزی لینڈ پلیئرز ایسوسی ایشن کے ہیتھ ملز اور آزاد سکیورٹی ماہر رگ ڈیکاسن شامل ہیں۔

وفد پہلے مرحلے میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں انتظامات کا جائزہ لے گا، بعدازاں ٹیم کے ہوٹل اور پنڈی اسٹیڈیم بھی جائے گا جبکہ پی سی بی کی جانب سے نیوزی لینڈ کے وفد کو اعلیٰ سطحی بریفنگ بھی دی جائے گی۔

دوسرے مرحلے میں کیوی وفد لاہور میں انتظامات کا جائزہ لے گا اور ٹیم ہوٹل سمیت اسٹیڈیم کا دورہ کرے گا۔

کیویز کی ٹیم 14 اپریل کو پاکستان پہنچے گی، جہاں دونوں ٹیموں کے مابین 5 ٹی20 میچوں مشتمل سیریز کھیلی جائے گی جبکہ سیریز کا پہلا میچ 18 اپریل کو شیڈول ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی تین میچز راولپنڈی جبکہ 2 میچز لاہور میں شیڈول رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی طلب 5ماہ کی کم ترین سطح پہنچ گئی

کراچی: پٹرولیم مصنوعات کی طلب 5ماہ کی کم ترین سطح پہنچ گئی۔

پٹرولیم مصنوعات کی طلب فروری میں پانچ ماہ کی کم ترین سطح 1.12 ملین ٹن پر پہنچ گئی، جس کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں میں کمی، زرعی ٹیوب ویلز کی سولر پر منتقلی اور فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کے بجائے مقامی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس اور نیو کلیئر پاور پلانٹس کی پاور سسٹم میں شمولیت ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق فروری کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں 8 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 19کمی ریکارڈ کی گئی ہے، مجموعی طور پر رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ جولائی تا فروری کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی طلب 13 فیصد کمی کے ساتھ 10.18 رہ گئی ہے جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 11.69 ملین ٹن رہی تھی۔

ڈائریکٹر اکسیر ریسرچ اویس اشرف نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے لوگوں کی قوت خرید میں کمی ہوئی ہے اور انھوں نے مہنگی اشیاء کی خریداری سے گریز کیا ہے، اس کے علاوہ معاشی بحران کی وجہ سے صنعتی سرگرمیاں بھی رک چکی ہیں، جس کی وجہ سے بھی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی ہے، امید ہے حکومت 5 سال پورے کرے گی، حنیف عباسی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی ہے، امید ہے حکومت 5 سال پورے کرے گی، مہنگائی اور غربت کو کم کرکے عوام کو ریلیف دیں گے، پیپلزپارٹی کے رہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ ملک کو مل جل کر مشکلات سے نکالیں گے جبکہ ایم کیو ایم کے امین الحق نے کہا لڑائی جھگڑا دنگا فساد مسائل کا حل نہیں۔

حنیف عباسی
اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں شفاف انتخابات ہوئے، سروے کے مطابق خیبرپختونخوا میں بدترین دھاندلی ہوئی، اس وقت کسی بھی جماعت کے لیے حکومت پھولوں کی سیج نہیں ہے۔

حنیف عباسی نے کہا کہ ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جانے کی بجائے جمہوریت کی طرف لے جائیں، حکومت کو معاشی چیلینجز سمیت دیگرمسائل کا سامنا ہے، عوام کے مسائل مل کرحل کرنے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم کے لیے 200 ووٹ پڑیں گے، 16 ماہ کی حکومت کا ڈنکے کی چوٹ پر دفاع کرتا ہوں، ہمارے پاس 200 کے قریب ممبرا ہیں، شہباز شریف کا کامیاب ہونا پاکستان کی کامیابی ہوگی۔

ن لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جارہا تھا ہم سب نے مل کر بچایا، سب کو قوم کی خدمت کرنی ہوگی، ایک جماعت کہتی ہیں، میں نہ مانوں، ایک پارٹی ہے جو سیم ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔

اعجاز جاکھرانی
پیپلز پارٹی کے رہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان کا وطیرہ ہے، انہوں نے ملکی معیشت حالات تباہ کر دیے، آپ جہاں جیتتے ہیں وہاں کہتے ہیں الیکشن صحیح ہوا ہے، جہاں ہارتے ہیں وہاں کہتے ہیں دھاندلی ہوئی ہے، اس وقت ملک کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، ان حالات سے نکلنے کے لیے شہباز شریف کا وزیراعظم بننا ضروری تھا۔

اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ مل جل کر حکومت کو چلائیں گے، اس صورتحال میں پیپلز پارٹی نے ضروری سمجھا کہ حکومت کا ساتھ دیں، یہ وقت ہے کہ ملک کو مل کر مشکلات سے نکالیں، ہم اپوزیشن کو بھی دعوت دیتے ہیں، پی ٹی آئی والے ڈائیلاگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

امین الحق
ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے کہا کہ لڑائی جھگڑا دنگا فساد مسائل کا حل نہیں ہے، ایم کیو ایم اپنے اتحادی ن لیگ کے ساتھ کھڑی ہے، شہباز شریف کو 200 پلس ووٹ ملیں گے،

پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے والے شہباز شریف معیشت کو استحکام دینگے، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا تھا اور اب انشاءاللہ معیشت کو استحکام دیں گے۔

اپنے ایک بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے لیےخوش خبری ہیں، انشاءاللہ ترقی کا جو سفر 2018 میں رک گیا تھا پھر سے شروع ہوگا، نوجوانوان کے روزگار، کاروبار اور ترقی کا دور شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ‎پاکستان میں سیاسی و معاشی استحکام آئے گا اور انشاءاللہ عوام کے مشکل حالات بہتر ہوں گے۔ الحمداللہ، ملک میں ایک بار پھر تعلیم، صحت، آئی ٹی، زراعت، صنعت اور نوجوانوں کی ترقی کا سفر شروع ہو رہا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ چار سال جس بے رحمی سے ملک کے تمام شعبوں کو برباد کیا گیا، ان کی بحالی اور تعمیر نو کا عمل شروع ہوگا، شفافیت اور عوامی خدمت کا دور پھر سے شروع ہوگا۔

ن لیگ کی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ نوجوان کو لیپ ٹاپ، آئی ٹی میں ترقی، روزگار اور کھیل کے مواقع دینے کا دور پھر شروع ہو رہا ہے۔

پاک بھارت میچ کی ٹکٹیں ری سیل سائٹس پر لاکھوں میں فروخت کیلیے پیش

نیویارک: ٹی20 ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کی ٹکٹیں ری سیل سائٹس پر لاکھوں میں فروخت کیلیے پیش کی جانے لگیں۔

ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان نیویارک میں شیڈول میچ کی ٹکٹیں ری سیل سائٹس پر لاکھوں کروڑوں میں فروخت کیلیے پیش ہونے لگیں، 9 جون کو شیڈول اس میچ کی کم سے کم آفیشل قیمت 6 ڈالر ہے تاہم ری سیل مارکیٹ میں یہ دگنے یا اس سے بھی زائد دام میں فروخت کیلیے پیش کی جارہی ہیں۔

روایتی حریفوں کے درمیان اس ہائی وولٹیج میچ کا وی آئی پی ٹکٹ 400 ڈالر کا ہے، ری سیل سائٹس پر اس کیلیے 50 ہزار ڈالر تک مانگے جارہے ہیں ، کچھ ٹکٹ کیلیے یہ رقم اضافی فیس کے بعد پاکستانی روپے میں لاکھوں کروڑوں تک پہنچ رہی ہے۔

معروف کمنٹیٹر اور ہاک آئی ٹیکنالوجی کے موجد ایک دوسرے سے الجھ پڑے

لندن: انگلینڈ کے معروف کمنٹیٹر مائیکل وان اور ہاک آئی ٹیکنالوجی کے موجد ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے چند روز قبل شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ میچز کے دوران ڈی آر ایس کے آپریٹر پر بھی کیمرہ نصب ہونا چاہیے تاکہ معلوم تو ہو کس بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے۔

ان کے اس مطالبے کے جواب میں ہاکنز نے کہا کہ وان پلیئر کافی اچھے تھے مگر ان کی کمنٹری حقائق سے نابلد ہے، انھیں مبصر کے طور پر اپنا ہوم ورک زیادہ بہتر کرنا چاہیے۔

سنی اتحاد کونسل کااچھا فیصلہ

یہ 2018میں جولائی کی 25تاریخ تھی۔پاکستان میں عام انتخابات کی پولنگ ہوچکی تھی اور ملک بھرمیں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری تھا۔ میں ان دنوںٹی وی چینل 92نیوز میں ایگزیکٹوپروڈیوسرتھا۔ نیوزروم میں الیکشن ٹرانسمیشن کے آپریشن کوسپروائز کرنے کے ساتھ ساتھ الیکشن سیل سے انتخابی نتائج لے کر ان کو آن ایئر کرنے کاسلسلہ جاری تھا۔ابھی ابتدائی نتائج ہی آنا شروع ہوئے تھے ۔الیکشن کے مواقع پرہمیں علم ہوتا ہے کہ الیکشن کی پوری رات ہی جگراتے کی رات ہوتی ہے ۔جب تک نتائج مکمل اور کسی جماعت کی حکومت بننے کی طرف صورتحال واضح نہ ہوجائے سارااسٹاف ہی دفتر میں موجود رہتاہے۔اس رات بھی شروع میں تو نتائج بڑی تیزی سے آئے لیکن رات دس بجے کے بعد نتائج آنے کی رفتار سست ہوگئی۔ہم نے ایک گھنٹہ انتطار کیا لیکن نتائج آنے کی رفتار بہتر ہونے کی بجائے مزید سست ہونے لگی۔اس صورت حال میں نتائج کی سست رفتار کسی کی ہار جیت سے زیادہ بڑی خبر بن گئی ۔رات بارہ بجے کے بعد نتائج مکمل رک گئے ۔خبر یہ آئی کہ الیکشن کمیشن نے نتائج کی ترسیل کے لیے جو رزلٹ مینجمنٹ سسٹم( آر ٹی ایس )بنایا تھا وہ خود ’’مینج‘‘ کیا جاچکا ہے ۔
سب پارٹیوں کی طرح مسلم لیگ ن بھی الیکشن کے نتائج کا انتظار کررہی تھی ۔میاں نوازشریف اور مریم نوازجیل میں تھے اور شہبازشریف ماڈل ٹاؤن میں ن لیگ کی قیادت کررہے تھے۔الیکشن سے پہلے پارٹی کی توڑ پھوڑ اور مقدمات کے باوجود ن لیگ کو یقین تھا کہ پانچ سال میں ان کی حکومت نے جو کام کیے ہیں اس کے بدلے انہیں ووٹ ضرور ملیں گے۔دوہزار تیرہ میں نتائج آنے کا یہ عالم تھا کہ نوازشریف نے رات 11بجے ہی وکٹری اسپیچ کرکے اپنی حکومت بنانے کا اعلان کردیا تھا۔ن لیگ اسی حساب میں بیٹھی تھی کہ آر ٹی ایس ہی بیٹھ گیا۔ پاکستان میں نتائج آنا بندہوجائیں تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ ان کی مینجمنٹ ہونا شروع ہوگئی ہے ۔یہ پیغام ن لیگ تک پہنچ گیا کہ اب ان کی خواہش اورامید کے مطابق نتائج نہیں ہوں گے ۔
وکٹری اسپیچ کے انتظار میں بیٹھے شہبازشریف رات دوبجے کے قریب ٹی وی پر نمودار ہوگئے ۔ان کے ساتھ ان کے باقی کے قائدین بھی تھے۔اسی رات شہبازشریف نے پریس کانفرنس میں انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگادیا۔رات گزر گئی اور ساتھ ہی آر ٹی ایس بھی اٹھنا شروع ہوگیا۔اگلے دن جب نتائج آئے تو پی ٹی آئی کو سادہ اکثریت تو نہ مل سکی لیکن وہ ایک مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ۔ان نتائج کو دیکھ کر مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمان ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ ان جماعتوں نے رابطے کیے اور ن لیگ کے بعد باقی جماعتوں نے بھی الیکشن نتائج کو مستردکرکے دھاندلی کے الزام لگادیے اور دوہزار اٹھارہ کو آرٹی ایس الیکشن کانام دے دیا گیا۔
ایک طرف عمران خان حکومت بنانے کے لیے کام کررہے تھے تو دوسری طرف اپوزیشن کی جماعتیں دھاندلی کے خلاف احتجاج کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔ ان سب جماعتوں نے الیکشن کے دو ہفتے بعد8اگست کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کی کال دے دی۔احتجاج کا دن آیا تو مولانا الیکشن کمیشن کے باہر خود موجود تھے لیکن شہبازشریف ویسے ہی اس احتجاج میں نہ پہنچ سکے جیسے وہ نوازشریف کو لینے ایئرپورٹ نہیں پہنچے تھے۔ن لیگ کی طرف سے راجا ظفرالحق شریک ہوئے۔اسی طرح پیپلزپارٹی کی طرف سے بھی نہ بلاول شریک ہوئے اور نہ ہی آصف زرداری وہاں پہنچے۔اس کے بعد مولانا نے سب جماعتوں کو مینڈیٹ واپس ملنے تک قومی اسمبلی میں نہ جانے کا مشورہ دیالیکن باقی جماعتوں نے سسٹم اور پراسس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان کے خلاف سلیکٹڈ کا بیانیہ بنایا جس نے آخرتک عمران خان کا پیچھا کیا۔انہوں نے مولانا کو بھی منایا کہ سب دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی جائیں گے اور بائیکاٹ کرکے سسٹم کو ڈی ریل نہیں کریں گے۔اُس وقت ان جماعتوں نے نتائج کو قبول کرکے سسٹم کے ساتھ چلنے کا بہترین فیصلہ کیا اور ملک کو ہیجان اور عدم استحکام کی نظر کرنے سے گریز کیا۔
اب ان جماعتوں کی جگہ پی ٹی آئی المعروف سنی اتحاد کونسل کھڑی ہے۔نتائج کی رات وہی کچھ ہوا جو کچھ اٹھارہ میں ہوا تھا۔پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کے لیے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی اور ساتھ ہی دھاندلی کے خلاف احتجاج بھی شروع کردیا۔ہمیں لگتا تھا کہ سنی اتحاد کونسل بہت سخت احتجاج کرے گی اور دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شاید اسمبلیوں کے بائیکاٹ کی طرف جائے گی لیکن اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے بھی پی ڈی ایم کی جماعتوں کی طرح اس جمہوری سسٹم کاحصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب میں سنی اتحاد کونسل نے حلف اٹھایا۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن بھی لڑاصرف وزیراعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر واک آؤٹ کیا جو پارلیمان میں ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے۔اس کے بعد خیبرپختوا میں تو ان کی اپنی پارٹی کی اکثریت تھی اس لیے انہوں نے کے پی میں حکومت بنالی ۔وہاں وہ کسی قسم کے احتجاج کی طرف نہیں گئے حالانکہ وہاں تو ان کی اپنی اکثریت تھی۔کسی کے مرہون منت بھی نہیں تھے۔ وہ چاہتے تو بطور احتجاج حکومت سازی کو طول دے سکتے تھے ۔اسپیکر ان کا اپنا تھا ۔ لیکن انہوں نے سسٹم کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک اچھی بات ہے۔
قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل نے احتجاج کیا ۔لیکن وہ سب ایوان میں بھی آئے اور سب نے حلف بھی اٹھالیا۔ یہ ایک بار پھر پیغام تھا کہ احتجاج اپنی جگہ لیکن وہ مینڈیٹ کو تسلیم اور قبول کررہے ہیں۔ اسی طرح اسپیکر کے انتخاب کے وقت بھی احتجاج کیا۔بلکہ اس قدر احتجاج کہ ایک مرحلے پر جب عمرایوب تقریرکررہے تھے وہ اس قدر جذباتی اور غصے میں بول رہے تھے کہ لگ رہا تھا کہ وہ آج کسی صورت اجلاس نہیں چلنے دیں گے اور شاید اسپیکر کا انتخاب ہی رک جائے لیکن دس منٹ بعد اسپیکر کے انتخاب کا اعلا ن ہو اتو ۔سنی اتحاد کونسل کی طرف سے عامر ڈوگر الیکشن لڑنے کے لیے موجود تھے اور ایک پولنگ ایجنٹ بھی انہوں نے مقررکیا۔سب نے آرام اور سکون نے خود بھی ووٹ کاسٹ کیے اور دوسری سائیڈ کو بھی کاسٹ کرنے دیے۔اسپیکر اور ڈپٹی کا جس طرح انتخاب ہوا آج اسی طرح قائد ایوان یعنی وزیراعظم کا الیکشن بھی ہوجائے گا۔آج پھر احتجاج ہوگا ۔نعرے لگیں گے۔ سنی اتحاد کونسل والے ان کو چور کہیں گے اور جواب میں وہ اپنی گھڑیاں اتار کر سنی اتحاد کونسل والوں کو دکھائیں گے ۔اسی طرح یہ ایوان چلے گا اور وقت کی گرد جس طرح دوہزا ر اٹھارہ کی دھاندلی پر پڑی تھی اسی طرح وقت کی گرد کے نیچے دھاندلی کے خلاف جذبات اور احتجاج اب بھی دب جائے گا۔کچھ دنوں بعد الیکشن ٹریبونلز کام شروع کریں گے پھر جیتنے والے ایوان میں مصروف ہوجائیں گے اور ہارنے والے عدالتوں میں ثبوت دیتے پھریں گے ۔اسی کشمکش میں کچھ فیصلے آئیں گے جو آگے جاکر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج ہوجائیں گے وہاں سے اسٹے ملیں گے اور اسی طرح جیتنے والے ارکان اپنی مدت پوری کرجائیں گے جس طرح گزشتہ اسمبلی میں ڈپٹی اسپپکرقاسم سوری نے اسٹے لے کر کرلی تھی۔میں سنی اتحاد کے جمہوری پراسس میں شامل ہونے کی تعریف کرتا ہوں کہ کم ازکم اس بارانہوں نے جذباتی فیصلہ نہیں کیا ۔شاید انہوں نے پہلے اسمبلیوں سے استعفوں اور دوصوبوں کی حکومتیں تحلیل کرنے سے کوئی سبق سیکھا ہو۔جو بھی ہوان کا یہ اقدام ملک کے لیے اچھا ہے ۔جمہوریت کے لیے اچھا ہے۔جتنا بھی احتجاج کرنا ہے ایوان کے اندرکریں۔یہ ملک چلے ۔ ملک میں سیاسی استحکام آئے اور ہمارا پیچھے کی طرف جانے والا سفر رک جائے۔
ایک بات اور کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کا حق ہے اس کو مل ہی جانی ہیں ۔بہتر ہے کہ الیکشن کمیشن خود فیصلہ کرلے یہ سیٹیں ان کے حوالے کردے نہیں تو عدالت نے فیصلہ کردینا ہے۔مجھے یقین ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا جو طے شدہ پراسس سنی اتحاد کونسل فالو نہیں کرپائی اس کو ایک طرف رکھ کر خصوصی حالات کے تحت ان کو رعایت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن یہ سیٹیں ان کو دے دے گا۔