All posts by Muhammad Saqib

عمران خان ڈیل کیلئے تیار نہیں، تمام کیسز کا سامنا کریں گے، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے عمران خان کے خلاف کیسز کو زندہ لاشیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بھائی کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے بلکہ تمام کیسز کا سامنا کریں گے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی ڈیل کے لیے تیار نہیں ہیں، عمران خان کا کہنا ہے کہ جہاں تک میرے مقدمات ہیں تو میں سامنا کروں گا‘۔

انھوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف نہیں بولیں گے تو یہ بڑھتا رہے گا، بانی پی ٹی آئی کو ظلم کے خلاف بولنے پر جیل میں ڈالا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون سے تحفظ نہیں ملے گا تو بڑی مشکلات ہوں گی۔

 

 

پنجاب میں پہلے سے بیلٹ باکس بھرے ہوئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی

راولپنڈی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں پہلے سے بیلٹ باکس بھرے ہوئے تھے اور جو لوگوں نے دیکھے یہ پہلے سے طے شدہ نتیجے تھے۔

راولپنڈی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات نتائج پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے، الیکشن کمیشن سے مطالبہ رہا ہے کہ ہمیں لیول پلئینگ فیلڈ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ کمیشن بنا کر فارم 45 پر تحقیقات کرتے تو ضمنی انتخابات میں دھاندلی نہ ہوتی چیف جسٹس کو یاددہانی کرانا چاہتے ہیں الیکشن کمیشن پر پٹیشن دائر کی لیکن نہیں سنی گئی۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران جوڈیشری سے کیوں نہیں ہیں، عوام کا حق ہے کہ ان کا ووٹ صحیح طرح سے گنا جائے۔ الیکشن کا عملہ خود کہہ رہا ہے کہ بیلٹ باکس پہلے سے بھرے ہیں، عوام جس کو ووٹ دیں وہ نمائندہ پارلیمنٹ میں بیٹھے اور سپریم کورٹ ہمارے ریزرو سیٹوں کی پٹیشن سنے۔

انہوں نے کہا کہ 190 ملین پاونڈ ریفرنس میں 21 گواہ مکمل ہوچکے ہیں اور اس کیس میں جلد از جلد عمران خان کو سزا دلوائی جائے گی لیکن اعلیٰ عدلیہ میں یہ کیس بھی سیاسی بنیادوں پر بنا ہوا ثابت ہوگا۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہم اس کیس پر وکلاء کنونشن کریں گے جس کا ایک نقطہ ہوگا رول آف لاء اور ہم سب سے اپیل کر رہے ہیں جمعہ والے دن تمام حلقوں میں پُرامن احتجاج ہوگا، صرف پاکستان اور پی ٹی آئی کے جھنڈے کے ساتھ ہمارے لوگ شریک ہوں گے، ہم کہتے ہیں ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں یہ مزاحمت نہیں ہے اور ہم اپنے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے۔

ٹریفک وارڈنز لاہور نے ایمانداری کی ایک اور مثال قائم کر دی

 لاہور: اچھرہ سیکٹر میں ٹریفک وارڈنز لاہور نے ایمانداری کی ایک اور مثال قائم کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سڑک سے ملنے والا قیمتی موبائل مالک کے حوالے کر دیا، قیمتی موبائل واپس ملنے پر شہری خوشی سے نہال ہوگیا۔

سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر نے شاباشی دی اور تعریفی سند کا اعلان کیا۔

مسجد اقصی میں دنبے کی قربانی کی کوشش پر 13 یہودی گرفتار

تل ابیب: مسجد اقصیٰ میں قربانی کی رسم کی ادائیگی کے لیے دنبے اور بکروں کو چھپا کر مسجد اقصیٰ لے جانے کی کوشش کے دوران 13 انتہا پسند یہودیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہودیوں کے سخت گیر فرقہ کے انتہاپسند پیروکاروں نے مذہبی تعطیلات کے دوران بکرے اور دنبے کی قربانی کی رسم کو مسجد اقصیٰ کے احاطے ٹیمپل ماؤنٹ میں ادا کرنے کی کوشش کی۔

تاہم پولیس نے ان کوششوں کو ناکام بنادیا اور تھیلوں میں بکرے اور دنبے چھپا کر لے جانے والے 13 یہودیوں کو گرفتار کرلیا جن کی عمریں 13 سے 21 سال کے درمیان ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے شہر بھر میں بھی ’’پاس اوور قربانی‘‘ کی روک تھام کے لیے چھاپا مار کارروائی کیں اور 4 افراد کو بکرے اور دنبے سمیت حراست میں لے لیا جب کہ 5 سے زائد کو چیک پوسٹ پر قربانی کے جانور چھپا کر لے جاتے ہوئے پکڑا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دنبے یا بکرے کی مسجد اقصیٰ میں ’’پاس اوور‘‘ قربانی سے امن عامہ میں بگاڑ اور نظم و ضبط میں خلل پڑ سکتا ہے جو آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ اس لیے یہ گرفتاریاں کی گئیں۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتہا پسندوں کو پلیٹ فارم فراہم نہ کریں جو امن و امان کی خلاف ورزی کا باعث بنتے ہیں۔

یاد رہے کہ انتہاپسند یہودی عوام کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں پاس اوور قربانی کی ترغیب دے رہے ہیں جس پر مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف رواں ماہ سعودی عرب جائیں گے

وزیر اعظم شہبازشریف کا اٹھائیس اپریل کو دورہ سعودی عرب متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے دورے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف 3 روز کیلئے سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔

شہباز شریف، پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق سعودی حکام سے ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب میں اعلیٰ شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

نازش جہانگیر نے بابراعظم سمیت دیگر کھلاڑیوں کو اپنا ’’بھائی‘‘ قرار دیدیا

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نازش جہانگیر قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کے فینز کی جانب سے انکی شادی کی تجویز پر حیران کن ردعمل کے حوالے سے وضاحت جاری کردی۔

اداکارہ نازش جہانگیر نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم سے متعلق اپنے سابقہ ​​بیان کے بعد تمام قومی کرکٹرز کو اپنا ’’بھائی‘‘ قرار دیدیا۔

اداکارہ نے گزشتہ روز انسٹاگرام ہینڈل پر سوال جواب کا سیشن رکھا تھا جہاں بابراعظم کے مداحوں نے سوال کیا تھا کہ اگر قومی ٹیم کے کپتان آپکو شادی کی پیشکش کریں تو آپکا کیا جواب ہوگا؟ جس پر نازش جہانگیر نے معذرت کرلی تھی تاہم کرکٹر کے مداحوں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ٹرول کیا۔
مزید پڑھیں: بابراعظم کیجانب سے شادی کی پیشکش پر میری طرف سے معذرت، نازش جہانگیر

نازش جہانگیر نے اپنے انسٹاگرام کے اسٹوری پر لکھا کہ بابراعظم کے مداح ٹریگر ہوگئے ہیں اور دل کھول کر منفی پہلو اجاگر کر رہے ہیں، بابر بھائی ہم سب کے بھائی ہیں! میرا کرکٹرز سے کوئی لینا دینا نہیں، خوامخواہ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: نسیم شاہ نے اروشی سے متعلق دلچسپ بیان دیدیا

بات قابل ذکر بات یہ ہے کہ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص سے شادی نہیں کریں گی، یہ اور بھی بہتر ہوگا کہ وہ پاکستان سے باہر ہو۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی سوچا نہیں لیکن اگر آپشن دیا گیا تو میں شادی کے بعد بیرون ملک کہیں بھی سیٹل ہو جاؤں گی، چاہے وہ امریکا، دبئی، کینیڈا یا لندن کیوں نہ ہو۔

واضح رہے کہ نازش جہانگیر نے سوال و جواب کے اس سیشن کے بعد اپنا آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پبلک سے پرائیوٹ کردیا ہے۔

پنجاب کا ضمنی الیکشن طے شدہ تھا جس میں ڈبے پہلے سے بھرے ہوئے تھے، عمران خان

راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کا الیکشن پہلے سے پلان تھا اور ضمنی انتخابات میں پہلے ہی ڈبے بھرے ہوئے تھے۔

اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت، قانون کی بالادستی اور فری اینڈ فیئر الیکشن پر کھڑی ہوتی ہے مگر یہاں جنگل کا قانون ہے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پولیس نے مداخلت کی پنجاب کا ضمنی الیکشن پولیس نے لڑا ہے خیبر پختونخوا میں بھی الیکشن ہوئے پولیس نے کہیں کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی اور نہ ہی دھاندلی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں یہ آٹھ فروری سے ڈرے ہوئے تھے، اکتوبر سے فروری تک انتخابات صرف پی ٹی آئی کو کرش کرنے کے لیے ملتوی کیے گئے، سپریم کورٹ میں بھی ہماری پٹیشن اس لیے نہیں سنی گئی کہ وہ بھی پی ٹی آئی کے کرش ہونے کا انتظار کررہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا نام و نشان ختم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، ملک میں اخلاقیات کو ختم کر کے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا، پنجاب کا الیکشن پہلے سے پلان تھا اور ضمنی انتخابات میں پہلے ہی ڈبے بھرے ہوئے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ ملک میں ادارے آئینی طور پر نہیں چل رہے صرف طاقتور کی حکمرانی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کریں تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، بیرون ملک مقیم پاکستانی یہاں پیسہ اس لیے نہیں لگاتا کہ اس کو کوئی تحفظ نہیں، مستحکم حکومت کے لیے جمہوریت ضروری ہے جو صرف شفاف انتخابات کے ذریعے ممکن ہے۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک کا موجودہ سیٹ اَپ پاکستان کے فیوچر کو نقصان پہنچا رہا ہے، مجھ سے ڈیل کی نہ کسی نے کوئی بات کی نہ کوئی پیغام آیا، سوال یہ ہے کہ وہ مجھ سے کس بات پر ڈیل کریں گے؟ آٹھ فروری کو جب پبلک ایک طرف کھڑی ہو گئی تو وہ وقت تھا بات کرنے کا ملک کی عوام ایک طرف کھڑی ہو جائے تو کیا اس سے کوئی جیت سکتا ہے؟

عمران خان نے کہا کہ عدلیہ سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے اپنے عوامی نمائندے کا انتخاب بنیادی حق ہے جو کہ عوام سے چھین لیا گیا ہے، میری بیوی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسے سزا دلوا کر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے، میری تینوں بہنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، مریم نواز اور بے نظیر سیات دان ہیں مگر میری اہلیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اچھے تھے اسی لیے ہمارے دور میں او آئی سی فارن منسٹر کانفرنس ہوئی۔

190 ملین پاؤنڈز کیس؛ وکلا کی جرح مکمل، مزید 6 گواہوں کے بیان قلمبند

راولپنڈی: 190 ملین پاؤنڈز کیس میں وکلائے صفائی نے اپنی جرح مکمل کرلی جب کہ مزید 6 گواہوں کے بیان قلمبند کرلیے گئے۔

اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈزکرپشن اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی، جس میں نیب کی جانب سے پیش کیے گئے 6 گواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے گئے جب کہ وکلائے صفائی نےبھی 2 گواہوں سے جرح مکمل کرلی۔

کیس میں اب تک مجموعی طور پر 21 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جب کہ 15 گواہوں سے جرح مکمل کرلی گئی ہے۔ اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے موقع پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ان کے وکلا ظہیر عباس چوہدری، عثمان گل، خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے جب کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی، پراسیکیوٹر امجد پرویز ٹیم کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

بعد ازاں اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن اسکینڈل ریفرنس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کردی۔

حکومت تمام اخراجات ادھار لے کر پورا کررہی ہے، احسن اقبال

 اسلام آباد: وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال ہم تمام اخراجات ادھار لے کر کر رہے ہیں پاکستان کو اگلے تین سال میں 70 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔

بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے امن، استحکام اور پالیسیز کا تسلسل ضروری ہے اور کم از کم دس سال کا تسلسل ہونا چاہیے، پاکستان میں سیاسی تسلسل قائم نہ ہوا تو دائروں میں گھومتے رہیں گے، 7 فیصد معاشی گروتھ سے 2047ء تک پاکستان 2 ہزار ارب ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نو فیصد معاشی گروتھ کے ساتھ 2047ء تک تین ہزار ارب ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے،  سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایس آئی ایف سی بہت اچھا حل ہے، پاکستان میں 2017 کے بعد حکومت کی تبدیلی سے سب سے پہلا نشانہ سی پیک بنا،
ہم خصوصی اقتصادی اور صنعتی زونز میں 30 سے 40 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی توقع کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اگلے تین سال میں 70 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، ہم اگلے سات سے آٹھ سال میں برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے گئے تو ٹیک آف کر جائیں گے تاہم پاکستان برآمدات بڑھانے میں ناکام رہا، حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کر سکتے ہیں، معاشی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، آئیں پاکستان کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کیلئے مل کر کام کریں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم غیر ضروری ریگولیشنز کو ختم کرنا چاہتے ہیں، نجی شعبے کیلئے راستہ کلیئر کرنا ہوگا، پاکستان کا سالانہ ریونیو 7 ہزار ارب روپے ہے، اس سال ہمیں قرضوں کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار ارب روپے درکار ہیں، قرضوں کی ادائیگی میں بھی ایک ہزار ارب روپے کا خسارہ ہے۔

لاپتا افراد کا معاملہ بہت پرانا ہے یہ عدالتی حکم پر راتوں رات حل نہیں ہوسکتا، وزرا

اسلام آباد: وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ اور عطا تارڑ نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے 2300 کیسز کا معاملہ حل طلب ہے وزیر اعظم کی ہدایت پر یہ معاملہ حل کیا جارہا ہے یہ چار دہائیوں پر مشتمل مسئلہ ہے جو عدالتی احکامات پر راتوں رات حل نہیں ہوسکتا۔

یہ بات وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حکومتی اور عسکری حلقوں میں زیر بحث رہا، پاکستاں نے چار دہائیوں میں دہشت گردی کا سامنا کیا، لاپتا افراد کا معاملہ دہشت گردی سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا معاملہ پیپلز پارٹی حکومت میں پہلی بار اٹھایا گیا جس کے بعد 10 ہزار 200 کیسز کمیشن میں گئے ان میں سے 8 ہزار سے زائد کیسز کمیشن میں حل ہوئے، لاپتا افراد کے 2300 کیسز کا معاملہ حل طلب ہے وزیر اعظم کی ہدایت پر لاپتا افراد کا معاملہ حل کیا جارہا ہے یہ چار دہائیوں پر مشتمل مسئلہ ہے یہ معاملہ عدالتی احکامات سے راتوں رات حل نہیں ہوسکتا۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ اس ملک میں شہید ہونے والے ورثہ کے شدید تحفظات ہیں، 2011ء میں میں لاپتا افراد کمیشن بنایا گیا، لاپتا افراد کے صرف 23 فیصد کیسز زیر التوا ہیں، لاپتا افراد کے معاملے پر بہت کام کیا گیا، ای سی ایل سے متعلق قواعد و ضوابط موجود ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ سے جو سمری آتی ہے کابینہ قواعد کے مطابق اس پر فیصلہ کرتی ہے، پی ٹی آئی لیڈرز کا نام ای سی ایل سے نکالنا کسی ڈیل کا حصہ نہیں۔

دریں اثنا  وفاقی وزیر قانون نے جسٹس کانفرنس میں تقریب سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ بہتری کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے، پاکستان نے تین یو این معاہدوں ہر دستخط کیے ہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق قانون میں بہتری کا عمل جاری رہتا ہے اس حوالے سے اعلی عدلیہ کے فیصلے میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کے مقدمات میں سزائے موت کے حوالے مختلف آراء پائی جاتی تھیں جس کے بعد پارلیمان نے قانون سازی کے ذریعے پھانسی کو ختم کیا، یقین دلاتا ہوں کہ حکومت عوام کی بہتری کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

وزیر قانون نے کہا کہ قوانین وضع کر رہے ہیں اور بہتری لا رہے ہیں، موجودہ قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ قوانین میں کچھ ترامیم ہونی چاہیں، ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ کسی بے گناہ شخص کو سزا نہ ہو، حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے، منشیات میں ملوث افراد کی بحالی کے لیے پالیسی مرتب کی جا رہی ہے۔