All posts by Khabrain News

امریکی وزیرخزانہ جیسے لوگوں کے فضول مشورے تیل کو 120 ڈالر تک لے گئے: باقر قالیباف

ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی وزیرخزانہ جیسے لوگوں کے فضول مشورے تیل کو 120  ڈالر تک لے گئے اور یہ 140 تک جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تین دن گزر گئے، تیل کا کوئی کنواں خشک نہیں ہوا، ایسا 30 دن میں بھی نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا تھاکہ ناکہ بندی سے ایران کی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی، تیل کی پیداوار روکنا پڑے گی جس کے دیرپا نقصانات ہوں گے۔

خیال رہے کہ عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، برطانوی خام تیل کی قیمت میں 8 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی نئی قیمت 121 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

متحدہ عرب امارات، اوپیک علیحدگی کے بعد…!

آج اکیسویں صدی کے جدید دور کی عالمی معیشت میں توانائی، خصوصاً تیل، بنیادی حیثیت رکھتا ہے، تیل کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل بھی عالمی مالیاتی نظام، تجارت، صنعت اور عام آدمی کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے،ایک ایسے وقت میں جب دنیا کا ہر ملک ایران جنگ کی وجہ سے تیل کے بحران کا سامنا کررہا ہے، متحدہ عرب امارات نے پیٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کے حکومتی اتحاد اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کرکے تیل کی عالمی منڈیوں میں ایک نیا بھونچال برپا کردیا ہے، حالیہ پیش رفت نے نہ صرف عالمی توانائی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسکے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

تاریخی طور پرتیل ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کے مابین اوپیک اتحاد 1960 میں قائم ہوا جسکابنیادی مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے تیل کی پیداوار کا کوٹہ مقرر کرنا تھا، اوپیک ممبران میں سعودی عرب، ایران، ونیزویلا، کویت اور متحدہ عرب امارات کا شمار اہم ترین ممبران میں کیا جاتا ہے ، تاہم 2016ء میں روس، آذربائیجان، قازقستان، میکسیکو، عمان، بحرین اور ملائشیا وغیرہ کی شمولیت سے اوپیک پلس کا پلیٹ فارم تیل کی عالمی سیاست کا مرکز بن گیا، مذکورہ اتحاد کے ممالک دنیا کا چالیس فیصد سے زیادہ تیل پیدا کرتے ہیں جبکہ اسی فیصد سے زیادہ تیل کے ذخائر پر بھی انہی اوپیک ممالک کا کنٹرول ہے۔

اوپیک کا ہیڈکوارٹر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں قائم ہے، تاہم اسکی غیررسمی قیادت سعودی عرب کے پاس سمجھی جاتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جب متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سے اس اہم فیصلے پر سعودی عرب یا دیگر اتحادی ممالک سے مشاورت کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ مکمل طور پر یو اے ای کا اپنا فیصلہ ہے اور اس کیلئے کسی دوسرے ملک سے مشورہ نہیں کیا گیا۔

اماراتی حکام کے مطابق لگ بھگ ساٹھ سال بعد اوپیک اتحاد سےعلیحدگی کا مقصد عالمی منڈی میں متحدہ عرب امارات کو ایک ذمہ دار، خودمختار اور قابلِ اعتماد تیل ایکسپورٹ کرنے والے ملک کے طورپر منوانا ہے، اوپیک اتحاد کی وجہ سے امارات کو دیگر ممبران ممالک کی مانند ایک مخصوص کوٹے کے تحت تیل پیدا کرنا پڑتا تھا تاکہ عالمی منڈی میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا توازن برقراررہ سکے۔ عالمی میڈیا میں کچھ ایسی خبریں بھی منظرعام پر آئی ہیں کہ یو اے ای گزشتہ چند برسوں میں اپنی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے، اماراتی حکام کی خواہش ہے کہ زیادہ زرمبادلہ کمانے کیلئے زیادہ تیل ایکسپورٹ کیا جائے،اس حوالے سے یو اے ای نے آئندہ برس 2027 تک یومیہ پانچ ملین بیرل تیل پیدا کرنے کا ہدف پہلے ہی مقرر کررکھاہے،تاہم اوپیک کا طے شدہ کوٹہ سسٹم متحدہ عرب امارات کے عزائم میں حائل تھا، اوپیک سے علیحدگی کے بعد اب یو اے ای کسی قسم کےکوٹہ سسٹم کے تحت اپنی تیل کی پیداوار کو محدود کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔

اگرچہ یو اے ای کا سرکاری موقف یہی ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس سے اوپیک یا اوپیک پلس کے دیگر ممالک پر فوری طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اسکے طویل مدتی اثرات نہ صرف عالمی تیل منڈی پرمرتب ہونگے بلکہ اب خطے میں نئی صف بندیوں میں تیزی آئے گی۔ یو اے ای کا شمار مشرق وسطیٰ کی مضبوط ترین معیشتوں میں ہوتا ہے ، یو اے ای کے اوپیک کو خیرباد کہہ دینے سے تیل کی قیمتوں میں غیریقینی حد تک اُتار چڑھاؤ متوقع ہے، اگر عالمی منڈی میں اماراتی تیل زیادہ مقدار میں آجاتا ہے تو قیمت میں کمی ہوسکتی ہے جبکہ جغرافیائی کشیدگی قیمتوں کو اُوپر لے جا سکتی ہے، اماراتی حکام اب اپنی مرضی سے اپنی شرائط پر ایشیائی اور دیگر ممالک کے ساتھ براہ راست معاہدے کر سکتے ہیں۔

تاہم یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات کی عالمی تجارت کا بڑا دارومدار آبنائے ہُرمز پر ہے ، جسکی حالیہ بندش نےامارات کی سپلائی چین کو بھی شدیدمتاثر کیا ہے،انہی خطرات کے پیش نظر یو اے ای نےفجیرہ پورٹ کو ایک اہم متبادل بندرگاہ کے طور پر تیار کیا ہے، جو آبنائے ہرمز کی حدودسے باہر واقع ہے،ابوظہبی فجیرہ پائپ لائن خلیج فارس کے اندر سے تیل کو براہ راست فجیرہ تک پہنچاتی ہےجس سے ہرمز پر انحصار کم ضرور ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں۔

ماضی میں یو اے ای کے سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بہت زیادہ قریبی جبکہ قطر کے ساتھ کشیدگی کا شکار رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کا علاقائی منظر نامہ اتنی تیزی سے تبدیل ہواہے کہ اب مشترکہ مفادات کا حصول امارات اور قطرکو ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے، قطر کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ اسکی بحری تجارت بھی بڑی حد تک آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قطر بھی امارات کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور متبادل راستوں میں دلچسپی رکھتا ہے، دوسری طرف عالمی میڈیا میں ایسی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ آیا اوپیک سے علیحدگی کا اماراتی فیصلہ خطے میں جاری ایران کشیدگی کے تناظر میں اُٹھایا گیا ہے یا پھریہ اوپیک کے بااثر ترین ممبر سعودی عرب سےمبینہ ناراضی کا اظہارہے؟

تاہم اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ یو اے ای کا اوپیک سے نکلنا عالمی توانائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، اس فیصلے سے جہاں امارات کو اپنی معیشت کے استحکام اور توانائی پالیسی کو خودمختارانہ انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی، وہیں عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ ایران امریکہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی سیاست میں اہم تبدیلیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے،ایسے میں توانائی کے معاملات مزید حساس ہو جائیں گے، امارات کے نقش قدم پر مزید ممالک بھی اوپیک کو خیرباد کہہ سکتے ہیں، تیل کی سپلائی کے نئے راستے اور نئے تجارتی معاہدے طے پاسکتے ہیں جس سے عالمی تجارت کا توازن یکسر بدل سکتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کیلئے یہ نازک صورتحال ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی کہ ہم اپنی توانائی پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کریں،اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیےتوہمارے خطے میں ہونے والی یہ تبدیلیاں ہماری معیشت کو کسی نئے بحران سے دوچار کرسکتی ہیں۔

کم عمر افراد میں بڑھتے کینسر کی ممکنہ وجہ کی نشاندہی

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہے کہ مٹاپا 50 برس سے کم عمر افراد میں بڑھتے ہوئے کینسر کیسز کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔

اگرچہ یہ خیال معاملے کو پوری واضح نہیں کرتا اور اس حوالے مزید شواہد کی ضرورت ہے لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ وزن یا موٹاپا کینسر میں کردار ادا کرتا ہے۔ ایسا ممکنہ طور پر انسولین کی بلند سطح اور جسم میں سوزش کے باعث ہو سکتا ہے۔

 

حالیہ برسوں میں محققین خاص طور پر اس رجحان پر پریشان ہیں کہ نوجوانوں میں کینسر کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن میں آنتوں اور بیضہ دانی کا کینسر شامل ہیں۔

 

2023 میں انگلینڈ میں 20 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں تقریباً 31 ہزار کینسر کیسز سامنے آئے، یعنی اندازاً ہر ہزار میں سے ایک شخص۔

اس کے مقابلے میں 50 سے 79 سال کے افراد میں کیسز کہیں زیادہ (2 لاکھ 44 ہزار) تھے، یعنی ہر 100 میں سے تقریباً ایک۔

کم عمر گروپ میں سب سے زیادہ عام بریسٹ کینسر تھا (8500 کیسز) جبکہ آنتوں کے کینسر کے 3000 اور میلانوما اسکن کینسر کے 2800 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافے کا انکشاف!

ایک نئی تحقیق میں تشویش ناک انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) بوٹس کے ذریعے کیے جانے والے سائبر حملوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران دس گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

 

سائبر سیکیورٹی کمپنی تھیلیز کی 2026 کی ’بیڈ بوٹ رپورٹ‘ کے مطابق روزانہ اے آئی سے چلنے والے بوٹ حملے صرف ایک سال میں 20 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 50 لاکھ تک جا پہنچے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ اے آئی سے ہونے والے حملوں میں یہ اضافہ اہم ہے لیکن 2025 میں اصل بڑی تبدیلی یہ تھی کہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن خود انٹرنیٹ کے ڈھانچے کا عام حصہ بن گئے۔

 

اے آئی سے ہونے والے حملے مختلف صنعتوں اور خطوں میں دیکھے گئے جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی پر مبنی آٹومیشن کا دائرہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہے۔

اے آئی بوٹس کے نشانے پر آنے والی صنعتوں میں ریٹیل، کاروبار، تعلیم اور حکومتی شعبے سب شامل ہیں یعنی اب کوئی بھی سیکٹر اس خطرے سے محفوظ نہیں رہا۔

امریکا: رفتار کی حد ’17.3‘ میل فی گھنٹہ! لیکن کیوں؟

امریکا میں ایک ری سائیکلنگ سینٹر کے باہر لگایا گیا نیا اسپیڈ لمٹ سائن اپنی عجیب و غریب حد (17.3 میل فی گھنٹہ) کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

 

ایپلٹن میں واقع آؤٹاگیمی کاؤنٹی ریسائیکلنگ اینڈ سالِڈ ویسٹ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ سینٹر کے اندر نئی رفتار کی حد 17.3 میل فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔

 

پوسٹ میں کہا کہ 17.3 ہی کیوں؟ کیونکہ یہ آپ کو چونکاتا ہے، آپ کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ اس ’آٹو پائلٹ‘ موڈ کو ختم کر دیتا ہے جس میں ہم اکثر مانوس راستوں پر ڈرائیونگ کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔

پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ہمارے سینٹر میں روزانہ ٹرک ڈرائیورز، کنٹریکٹرز اور عام شہری آتے جاتے ہیں۔ اتنی زیادہ سرگرمی کے درمیان ہر کسی کا ہوشیار رہنا ہی سب کی حفاظت کی ضمانت ہے۔

امریکا ایران مذاکرات میں عدم پیشرفت، خام تیل کی قیمتیں 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں عدم پیشر فت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔

عالمی منڈی میں برینٹ 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی 112 ڈالر پر ٹریڈنگ جاری ہے۔

ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 1 ہزار 144 پوائنٹس کمی کے بعد 1 لاکھ67 ہزار268 پوائنٹس پر دیکھا گیا۔

کوریا اور ہانگ کانگ کے شیئر بازاروں میں مثبت رجحان دیکھا گیا جبکہ جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں کمی آئی۔

یورپی سرمایہ کاری بینک کا پاکستان کیلئے 160 ملین یورو فنانسنگ کا اعلان

اسلام آباد : یورپی سرمایہ کاری بینک نے پاکستان کے لیے 160 ملین یورو فنانسنگ کا اعلان کر دیا۔

اعلامیے کے مطابق سندھ میں سیلاب متاثرہ گھروں کی تعمیرِ نو کے لیے 100 ملین یورو مختص کیے ہیں۔ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ 21 لاکھ گھروں کی تعمیرِ نو کی جائے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ  کراچی میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے 60 ملین یورو مختص کیے گئے ہیں ۔کراچی میں 2 فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر سے 22 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا، روزانہ 30 کروڑ لیٹر پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق  منصوبے یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

ان  معاہدوں کا اعلان اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کےموقع پر کیا گیا۔

 یورپی انویسٹمنٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ گلوبل گیٹ وے حکمت عملی کے تحت پاکستان میں ترقیاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

یورپی انویسٹمنٹ بینک کے حکام نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کیلئے تعاون کا اعادہ کیا ہے۔

 یورپی انویسٹمنٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ کمزور طبقات کیلئے محفوظ رہائش اور صاف پانی کی فراہمی ترجیح ہے، ای آئی بی کی پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری سے شراکت داری مزید مضبوط ہو گی۔

یورپی انویسٹمنٹ بینک حکام کے مطابق گھروں کی تعمیر میں عوامی شمولیت اور ماحولیاتی معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔

ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل کمی، فی تولہ سونا 5500 روپے سستا ہوگیا

کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل ہزاروں روپے کی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 5500 کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 4لاکھ 79ہزار 562 روپے کا ہوگیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونےکا بھاؤ 4 ہزار 715 روپے کم ہوکر4لاکھ 11ہزار 147 روپے ہوگیا ہے۔

دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 55 ڈالر کم ہوکر 4572 ڈالر فی اونس ہے۔

اسمارٹ فونز کے وہ ماڈلز جن پر واٹس ایپ اب نہیں چلے گا

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 ستمبر 2026 سے کئی پرانے آپریٹنگ سسٹم والے فونز کے لیے اپنی سروسز بند کر دے گی، جس کے باعث لاکھوں صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔

واٹس ایپ ہیلپ سینٹر کے مطابق، اب واٹس ایپ صرف ان اینڈرائیڈ فونز پر چلے گا جن کا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ 6 یا اس سے نیا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ تمام صارفین جو اینڈرائیڈ ورژن 5.0 یا 5.1 استعمال کر رہے ہیں، ستمبر کے بعد اس ایپ تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وہ اسمارٹ فونز زیادہ متاثر ہوں گے جو 2014 یا اس سے پہلے لانچ کیے گئے تھے، جن میں سام سنگ، سونی، ایچ ٹی سی اور ہواوے کے پرانے ماڈلز شامل ہو سکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور نئی فیچرز کو مؤثر طریقے سے متعارف کروانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پرانے آپریٹنگ سسٹمز واٹس ایپ کے نئے فیچرز اور جدید سیکیورٹی پروٹوکولز کا ساتھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے صارفین کا ڈیٹا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

واٹس ایپ باقاعدگی سے پرانے سسٹمز کو سپورٹ لسٹ سے باہر کرتا رہتا ہے تاکہ ایپ کو محفوظ اور تیز رفتار رکھا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی چیٹس اور میڈیا کا بیک اپ پہلے ہی محفوظ کر لیں تاکہ اہم ڈیٹا ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

اگر آپ کا فون بھی اس فہرست میں شامل ہے، تو آپ کے پاس دو آپشنز ہیں۔

سافٹ ویئر چیک کریں: اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر اباوٹ فون میں اینڈرائیڈ ورژن چیک کریں۔ اگر اپ ڈیٹ دستیاب ہے تو فوراً اپ ڈیٹ کر لیں۔

نیا فون خریدیں: اگر آپ کا فون اینڈرائیڈ 6 یا اس سے اوپر سپورٹ نہیں کرتا، تو واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے آپ کو نیا اسمارٹ فون لینا ہوگا۔

اوپن اے آئی میرا آئیڈیا تھا، جسے بڑے لوگوں نے چرایا: ایلون مسک کا دعویٰ

ایلون مسک نے اوکلینڈ، کیلیفورنیا میں ایک اہم مقدمے کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی دراصل ان کا آئیڈیا تھی، جسے بعد میں اس کے منتظمین نے اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، جس میں انہوں نے کمپنی کی موجودہ انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ منگل کے روز شروع ہونے والے اس اہم مقدمے میں ایلون مسک نے موقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی دراصل ان کا اپنا آئیڈیا تھا، لیکن بعد میں اس کے عہدیداروں نے اسے چرالیا۔

ایلون مسک نے کہا کہ اوپن اے آئی کو انہوں نے اس مقصد کے لیے شروع کیا تھا کہ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہو جو انسانیت کے فائدے کے لیے کام کرے۔ ان کے مطابق کمپنی کو بعد میں ایک منافع کمانے والے ادارے میں تبدیل کر دیا گیا، جو ان کے بقول اصل وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔

مسک نے عدالت میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی خیراتی ادارے کو اس طرح تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی تو امریکا میں فلاحی کاموں کی بنیاد ہی کمزور ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کا مقصد کسی فرد کو فائدہ پہنچانا نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی تھا۔

اپنی گواہی میں ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نہ صرف اس منصوبے کا خیال پیش کیا بلکہ اس کا نام رکھا، اہم افراد کو ٹیم میں شامل کیا اور ابتدائی مالی مدد بھی فراہم کی۔ ایلون مسک کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر اسے منافع کمانے والا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔

دوسری جانب اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سَم آلٹمین کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شروع ہی سے ایلون مسک کے عزائم مختلف تھے۔ ان کے مطابق مسک نے کمپنی کی ابتدائی ترقی میں سرمایہ کاری کی اور بعد میں اسے ایک کاروباری ادارہ بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ خود اس کے سربراہ بن سکیں۔ وکلاء نے یہ بھی کہا کہ مسک نے اس مقدمے کا سہارا اس وقت لیا جب انہیں اپنی مرضی کا نتیجہ نہیں ملا۔

اوپن اے آئی کے وکلاء کے مطابق کمپنی کو 2019 میں ایک منافع بخش ڈھانچے کی طرف لے جانا اس لیے ضروری تھا تاکہ جدید کمپیوٹنگ وسائل حاصل کیے جا سکیں اور ماہر سائنسدانوں کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر گوگل جیسے بڑے اداروں کے ساتھ مقابلے کے لیے۔

مقدمے میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور اس کے شراکت دار مائیکروسافٹ سے 150 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش ادارہ بنایا جائے اور اس کی موجودہ قیادت کو ہٹا دیا جائے۔

دوسری طرف مائیکروسافٹ کے وکیل نے کہا کہ کمپنی نے ہر مرحلے پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں کی گئی۔

عدالت میں جج نے ایلون مسک کو سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کے حوالے سے بھی تنبیہہ کی، خاص طور پر ان پوسٹس پر جن میں انہوں نے اوپن اے آئی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مسک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی سوشل میڈیا سرگرمی کم کریں گے۔

یہ مقدمہ نہ صرف اوپن اے آئی کی قیادت اور اس کی ساخت پر سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت اور اس کے مستقبل پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔