وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ہر شہری اور سیاسی جماعت کو آئینی و قانونی طور پر پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں احتجاج کی روایت ختم ہونی چاہیے۔
گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ احتجاج کرنا ہو تو فیصل آباد، حیدرآباد، کراچی، پشاور یا ملتان سمیت دیگر شہروں میں کیا جا سکتا ہے، لیکن اسلام آباد کو احتجاج سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ ان کے مطابق یہ پابندی صرف تحریک انصاف تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پُرامن اجتماع اور امنِ عامہ ایکٹ 2024 کے تحت اسلام آباد میں پیشگی اجازت کے بغیر اجتماعات پر پابندی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے اور عوامی اجتماعات کی اجازت نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں غیر ملکی سفارت کاروں کی موجودگی کے باعث احتجاج سے ایک منفی پیغام جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی لانگ مارچ کا مقصد حکومت گرانا یا کسی شخص کو جیل سے رہا کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا ہو تو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی

