خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کی تحصیل ادنزئی کے پہاڑی علاقوں میں پراسرار اور شدید بخار کی اطلاعات کے بعد تشویش پھیل گئی ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 10 افراد، جن میں 4 خواتین اور 6 بچے و نوجوان شامل ہیں، جاں بحق ہوئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں خانپور، اسبنڑ، برمکئی، بوچکے، شادم اور شورشنگ سمیت دیگر دیہات شامل ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق متاثرہ مریضوں کو تیز بخار، سانس لینے میں دشواری اور خون میں سفید خلیوں کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ متعدد مریضوں کو چکدرہ، سوات اور دیگر شہروں کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
تاہم ضلعی صحت افسر ڈاکٹر نیاز محمد آفریدی نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ تمام اموات ایک ہی بیماری یا وبا کے باعث ہوئیں۔ بعض اموات کی دیگر طبی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ بوچکے میں شدید بخار کی ایک بیماری کو ممکنہ طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری قرار دے کر نمونے لیبارٹری تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
صحت حکام نے متاثرہ علاقوں میں ریپڈ رسپانس ٹیم بھی بھیج دی ہے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے کر بیماری کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکے۔ ٹیم متاثرہ دیہات سے مزید معلومات اور نمونے جمع کرے گی۔
لوئر دیر میں پراسرار بیماری کا خوف 10 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاع

