آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد میں دریائے جہلم میں اچانک پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث 55 سالہ خاتون رحمت بی بی تیز بہاؤ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئیں۔
واقعہ چناری اور ہٹیاں بالا کے درمیان پیش آیا، جہاں رحمت بی بی دریائے جہلم کے کنارے لکڑیاں جمع کر رہی تھیں کہ اچانک پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا اور وہ دریا میں بہہ گئیں۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور مقامی افراد نے خاتون کی تلاش شروع کی۔
کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد خاتون کی لاش مظفرآباد کے قریب پاشی پل کے مقام سے برآمد کرلی گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق دریائے جہلم کی سطح معمول کے 12 سے 14 فٹ کے مقابلے میں اچانک تقریباً 19 فٹ تک پہنچ گئی تھی۔
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک عہدیدار کے مطابق دریا میں پانی کی اچانک اضافے کی وجہ بھارت کے اڑی ڈیم سے بغیر پیشگی اطلاع پانی چھوڑنا تھی۔ ان کے مطابق پانی کی سطح دن کے دوران 18.5 فٹ سے تجاوز کرگئی، جبکہ شام کو پانی کا اخراج روکنے کے بعد سطح دوبارہ کم ہوگئی۔
دوسری جانب بعض رپورٹس میں مقامی افراد کے حوالے سے پانی میں اضافے کو بھارتی جانب سے پانی چھوڑنے سے جوڑا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے شہریوں کو دریائے جہلم، ندی نالوں اور دیگر آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ہو۔
دریائے جہلم میں اچانک طغیانی، خاتون جاں بحق

