قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے مستقبل کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
محمود اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ ان کے مطابق ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو خفیہ رکھا جائے گا اور اس کے بعد لانگ مارچ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ لانگ مارچ ختم یا معطل ہو تو پہلے عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔ اچکزئی کے مطابق وہ اتنا بڑا فیصلہ تنہا نہیں کرسکتے، اس لیے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے۔
دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں لانگ مارچ اور عمران خان سے ملاقات کا معاملہ مرکزی موضوع بنا رہا۔ فریقین کے درمیان مذاکرات میں اہم نکات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ڈیڈ لاک برقرار رہا، جبکہ اپوزیشن نے عمران خان سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے سے انکار کیا۔
محمود اچکزئی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان کی بہنوں کو رہا کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد مشترکہ مشاورت کے ذریعے فیصلہ کیا جائے۔
لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ فیصلہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہوگا: محمود اچکزئی

