وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لانگ مارچ روکنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار رہا۔ مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات، ان کے ذاتی معالجین تک رسائی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت سے تعاون سمیت اہم امور پر اتفاق نہ ہو سکا۔
مذاکرات میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے قافلے مارچ میں شریک ہوں گے۔
منصوبے کے مطابق قافلہ کرک، کوہاٹ اور پشاور سے ہوتا ہوا 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچے گا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈلاک : پی ٹی آئی لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج شروع ہوگا

