اسلام آباد (عادل عباسی) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کئی گھنٹوں پر محیط مذاکرات بے نتیجہ ختم کیوں ہوئے۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی، صوبائی حکومت کے کردار، وفاقی و سکیورٹی اداروں سے تعاون اور سکیورٹی معاملات میں صوبائی ذمہ داریوں کا تعین مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ بن کر سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں دونوں فریقین کے درمیان خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے طریقہ کار پر بنیادی اختلاف دور نہ ہوسکا، جس کے باعث مجوزہ تحریری سمجھوتہ حتمی شکل اختیار نہ کرسکا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے صوبائی حکومت کے واضح اور عملی کردار پر زور دیا گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جائے اور خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں خیبرپختونخوا حکومت سے بعض سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے تحریری یقین دہانی بھی طلب کی گئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت ایک تحریری معاہدے اور اس پر عمل درآمد کا منصوبہ 72 گھنٹوں کے اندر پیش کرنے پر آمادہ ہوئی تھی، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں صوبائی حکومت مبینہ طور پر ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پولیس قوانین پر نظرثانی، سکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے، دہشت گرد عناصر کو صوبے میں آزادانہ نقل و حرکت یا محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے، انسدادِ دہشت گردی کے لیے پولیس اور متعلقہ اداروں کو خاطر خواہ وسائل فراہم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد جیسے معاملات شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کو مکمل ذمہ داری اور ملکیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا جبکہ مسلح افواج کے ساتھ تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ سابق قبائلی علاقوں اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلوں، پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے اضافی مالی وسائل اور قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد بھی مذاکرات میں زیر بحث رہا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی مؤقف میں صوبائی حکومت سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت اور صوبے میں سکیورٹی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی موجودہ صورتحال کسی بھی صورت سیاسی اختلافات کا متحمل نہیں ہوسکتی اور سکیورٹی معاملات پر وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کے مؤقف سے اختلاف کیا۔ پی ٹی آئی کا مؤقف رہا کہ صوبے میں سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات آئینی دائرہ کار کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان باہمی اتفاق سے کیے جانے چاہئیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکومت کے مجوزہ طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ مذاکرات میں یہ معاملہ بھی زیر بحث رہا کہ صوبائی حکومت کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان ایک تحریری مسودے پر بھی کام کیا گیا اور مسودے میں متعدد مرتبہ ترامیم کی گئیں۔ بعض نکات پر فریقین کے درمیان پیش رفت ہوئی، تاہم آخری مرحلے میں انسدادِ دہشت گردی، صوبائی حکومت کی ذمہ داری، وفاقی اداروں سے تعاون اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اقدامات کے طریقہ کار پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا۔ یہی اختلافات مذاکراتی عمل کے حتمی مرحلے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔ مذاکرات کے دوران صرف انسدادِ دہشت گردی کا معاملہ ہی زیر بحث نہیں تھا بلکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی، ان سے ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی اور گرفتار رہنماؤں و کارکنوں کی رہائی سمیت دیگر مطالبات بھی پیش کیے گئے۔ دوسری جانب حکومت نے چار اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے اور سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے ہی مرحلے میں حکومت نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کے انسدادِ دہشت گردی میں کردار اور اسلام آباد مارچ کے معاملے پر پیش رفت ضروری ہوگی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ اگر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کا مکمل تعاون حاصل نہ ہو تو وفاقی اور سکیورٹی اداروں کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل درآمد مشکل ہوسکتا ہے۔ حکومت نے صوبائی پولیس، انسدادِ دہشت گردی کے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کی استعداد بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم کا مؤقف تھا کہ خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو صوبائی حکومت کی رضامندی اور آئینی دائرہ اختیار کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کی جانب سے بھی مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے طریقہ کار پر اختلاف کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران خیبرپختونخوا میں ممکنہ ہنگامی اقدامات اور صوبائی حکومت کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی پی ٹی آئی کے اندر زیر بحث رہے۔ تاہم مذاکراتی میز پر بنیادی توجہ انسدادِ دہشت گردی، وفاق سے تعاون، عمران خان تک رسائی اور مجوزہ لانگ مارچ کے معاملے پر مرکوز رہی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے بعد اپنے مؤقف میں کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مختلف اقدامات، تحریری معاہدے اور عمل درآمد کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا لیکن آخری مرحلے میں ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ ان کے مطابق صوبے میں سکیورٹی صورتحال کو سیاسی نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ادھر پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے مذاکرات میں بنیادی اختلافات برقرار رہنے کی بات سامنے آئی۔ راجہ ناصر عباس کے مطابق عمران خان سے ملاقات اور ان کے ذاتی معالج تک رسائی سمیت اہم معاملات پر اتفاق نہیں ہوسکا، جبکہ سلمان اکرم راجہ نے بھی مذاکرات میں بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہونے کی تصدیق کی۔ یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا۔ مذاکرات کی ناکامی نے خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی، وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی تعاون اور سیاسی معاملات کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ دوسری جانب چار اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کا معاملہ بھی بدستور موجود ہے، جس کے باعث حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ موجودہ صورتحال میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کا طریقہ کار، صوبائی حکومت کی ذمہ داری، وفاقی و سکیورٹی اداروں سے تعاون اور عمران خان تک رسائی وہ بنیادی نکات بن چکے ہیں جن پر فریقین کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوسکے۔ مذاکرات کے باوجود ان معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی تنازع کے ساتھ ساتھ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان سکیورٹی معاملات بھی آنے والے دنوں میں اہم سیاسی موضوع بنے رہیں گے۔
اندرونی کہانی
