اسلام آباد /ٹیکساس (این این آئی)وفاقی وزیر اور چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کو بعض حلقوں کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، مطالبات کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی تسلیم کی جاچکی ہے اور باقی معاملات بھی بات چیت، افہام و تفہیم اور سیاسی عمل کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حالات کو بیرونِ ملک جس انداز میں پیش کیا جارہا ہے، مقامی سطح پر صورتِ حال اس سے مختلف ہے اور نئی حکومت کے قیام کے بعد معاملات بتدریج بہتری کی طرف جائیں گے۔آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج اور جانی نقصان کے حوالے سے بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں میں پائی جانے والی ناراضی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بعض معاملات کو بیرونِ ملک بہت زیادہ بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مقامی سطح پر صورتِ حال ایسی نہیں جیسی بعض حلقے بیان کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گھر کی بات ہے، اختلافات اور تلخیاں پیدا ہوسکتی ہیں، مگر ان کا حل گھر کے اندر ہی نکالا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں نئی حکومت آچکی ہے اور انہیں توقع ہے کہ معاملات بہتر سمت میں آگے بڑھیں گے۔انہوں نے بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتِ حال کو جذبات کے بجائے عقلی اور حقیقت پسندانہ بنیادوں پر دیکھیں۔
