انقرہ (این این آئی) تعلیمی سال 2025-2026 کے ڈیٹا نے ترکیہ کے تعلیمی نظام میں بچوں اور نوجوانوں
کی صورتحال کے بارے میں حیران کن اعداد و شمار کا انکشاف کیا ہے۔ اس انکشاف کے مطابق باقاعدہ براہ راس تعلیم حاصل نہ کرنے والے بچوں اور نوجوانوں کی تعداد 3.5 ملین کے قریب پہنچ رہی ہے۔ یہ تعداد ایک ایسے حساب کے طریقہ کار کے مطابق ہے جس میں تعلیمی اداروں میں غیر رجسٹرڈ افراد کے ساتھ ساتھ متبادل تعلیمی راستوں میں داخلہ لینے والے بھی شامل ہیں۔ترکیہ کی وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین شماریات کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے میں رجسٹرڈ نہ ہونے والے بچوں کی تعداد تقریبا 1 ملین 934 ہزار ہے۔ اوپن ایجوکیشن سسٹم اور ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز میں رجسٹرڈ طلبا کو شامل کرنے پر یہ تعداد بڑھ کر تقریبا 3 ملین 478 ہزار 325 بچوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ترکیہ کی قومی تعلیم کی وزارت کے تعلیمی سال 2025-2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 6 سے9 سال کی عمر کے گروپ کے لیے پرائمری تعلیم میں داخلے کی شرح98.46 فیصد رہی۔ مڈل سکول کے مرحلے میں10 سے13 سال کی عمر کے گروپ کے لیے داخلے کی شرح98.16 فیصد رہی۔ 14 سے 17 سال کی عمر کے گروپ کے لیے سیکنڈری سکول کے مرحلے میں یہ شرح مزید گر کر 87.09 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرحیں مختلف تعلیمی مراحل میں داخلے کی شرحوں کے درمیان فرق کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں جس میں سیکنڈری سکول کے مرحلے تک پہنچنے پر یہ خلا مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ یہ معطلی ان اعداد و شمار کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے جو روزانہ سکول کی تعلیم سے باہر موجود طلبہ سے متعلق ہیں۔ سکول کی تعلیم سے باہر ہونا تعلیمی ادارے میں عدم رجسٹریشن کی وجہ سے یا دیگر تعلیمی راستوں میں ان کی منتقلی کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ تعلیمی منظرنامہ صرف باقاعدہ سکولوں میں رجسٹرڈ طلبا تک محدود نہیں ہے کیونکہ وزارت کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوپن ایجوکیشن سسٹم میں طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق تعلیمی سال 2025-2026 کے دوران اوپن ایجوکیشن کے اداروں میں رجسٹرڈ طلبہ کی تعداد 1,051,493 تک پہنچ گئی۔ اوپن ایجوکیشن روزانہ کی باقاعدہ سکول کی تعلیم سے مختلف ہے کیونکہ یہ طلبہ کو سکولوں میں باقاعدہ حاضری سے مختلف تعلیمی نظام کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔یہ زمرہ براہ راست باقاعدہ تعلیم سے باہر موجود بچوں اور نوجوانوں کے بارے میں گردش کرنے والی کل تعداد کا ایک بنیادی حصہ بناتا ہے۔
بریکنگ نیوز
- محکمہ اوقاف کی ناقص کارکردگی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ایسی کتاب کی رونمائی کرا دی جو دستیاب ہی نہیں
- پنجاب ڈینٹل ادویات و ڈینٹل میٹریل اسٹاک میں خوردبرد سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف
- ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور کا مؤقف دینے سے گریز
- مجھے تو کوئی علم ہی نہیں ‘ سیکرٹری سے پوچھ کر بتائوں گا: ترجمان اوقاف
- حکومت اور اپوزیشن کو کھلے دل کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنا چاہیے، جے یو آئی
- ریلوے کی 13 ایکسپریس مسافر ٹرینیں آئوٹ سورس کرنے کا فیصلہ
- بلوچستان کے 10 نوجوانوں کو ہر سال دنیا کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس دینے کا اعلان
- ترکیہ میں 35لاکھ بچے رسمی تعلیم سے محروم
- مقبوضہ کشمیر: سرینگر میںپانی کی شدید قلت کے خلاف خواتین کا دھرنا، سڑک بند
- انڈیا بلاک کا 7 اکتوبر کو جموں میں ‘جمہوریت بچاؤ’ ریلی کا اعلان
- کپتان پر حملہ کرنیوالا شریک پائلٹ برطانیہ میں زیرتعلیم رہا
- شیری رحمان کا رات بھر حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کی کوریج کرنے والے پارلیمانی رپورٹرز،کیمرہ مینز کو خراج تحسین
- اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کے اعزاز میں الوداعی تقریب
- چوری ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
- سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6 کی تعمیر اگلے ماہ شروع ہوگی: عبدالعلیم خان
- عمران خان سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ کال آف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:حلیم عادل شیخ
- وزیراعظم آزاد کشمیر کا سابق سٹاف آفیسر سردار شفاعت خان کی وفات پر اظہار افسوس
- آل پاکستان انجمن تاجران کی سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت
- بھارت کی اپنی تاریخی ہزیمت چھپانے کی بھونڈی کوشش
- سندھ ٹیکنیکل بورڈ نے ڈی آئی ٹی ڈپلومہ کی رجسٹریشن کا شیڈول جاری کر دیا، 26 اکتوبر آخری تاریخ مقرر
