اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے اندر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے کردار اور سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں، پارٹی کے بعض رہنماں نے قیادت کو محمود اچکزئی کے خلاف اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر وہ مذاکراتی عمل اور احتجاجی تحریک میں مثر کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر کسی دوسرے رہنما کو موقع دیا جائے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے متعدد رہنماں کی جانب سے پارٹی قیادت تک یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے مذاکرات اور احتجاجی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے جو مینڈیٹ محمود خان اچکزئی کو دیا گیا تھا، اس کے مطابق عملی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر بعض رہنماں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری محمود اچکزئی کے پاس ہے تو وہ خود مذاکراتی عمل میں براہ راست اور فعال طور پر کیوں شریک نہیں ہو رہے۔ اسی طرح وزیراعظم سے ملاقاتوں اور سیاسی رابطوں کے معاملے میں بھی محمود اچکزئی کی جانب سے کسی نمایاں لچک یا عملی پیش رفت کا مظاہرہ نہ کیے جانے پر پارٹی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض رہنماں کا مقف ہے کہ ایک طرف پارٹی احتجاجی تحریک کے لیے سیاسی اور تنظیمی سطح پر مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے محمود اچکزئی کی موجودگی مذاکراتی عمل میں وہ نتائج پیدا نہیں کر پا رہی جس کی پارٹی قیادت کو توقع تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا منصب محض پارلیمانی عہدہ نہیں بلکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے، مذاکرات اور سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی اہم کردار رکھتا ہے، اس لیے اس عہدے پر ایسا رہنما ہونا چاہیے جو پارلیمانی اور سیاسی دونوں محاذوں پر فعال کردار ادا کر سکے۔ذرائع کے مطابق بعض پارٹی رہنماں نے قیادت کو یہ بھی پیغام دیا ہے کہ محمود اچکزئی نہ تو مذاکرات کے اہم مراحل میں خود فعال طور پر سامنے آتے ہیں، نہ حکومت کے ساتھ براہ راست رابطوں میں کوئی واضح پیش رفت دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی احتجاجی تحریک میں ان کی عملی شرکت نمایاں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر محمود اچکزئی کے خلاف آوازیں اب محض انفرادی تحفظات تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا دائرہ وسیع ہونا شروع ہوگیا ہے اور بعض رہنما اس معاملے کو پارٹی قیادت کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض رہنماں نے قیادت کے سامنے یہ مقف رکھا ہے کہ اگر محمود اچکزئی مذاکراتی عمل میں کوئی قابل ذکر پیش رفت کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور احتجاجی تحریک کے حوالے سے بھی مثر کردار ادا نہیں کرتے تو انہیں اپوزیشن لیڈر کے منصب سے دستبردار ہو کر کسی دوسرے رہنما کو موقع دینا چاہیے۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پارٹی کے اندر یہ بحث بھی جاری ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں اپوزیشن لیڈر کے منصب پر ایسا شخص ہونا چاہیے جو بانی پی ٹی آئی کے سیاسی مقف کو مثر انداز میں پارلیمان، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے سامنے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی مذاکرات اور احتجاجی حکمت عملی، دونوں محاذوں پر فعال کردار ادا کرے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر محمود اچکزئی کے کردار پر بڑھتے ہوئے تحفظات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں اختلافات برقرار ہیں اور احتجاجی تحریک بھی سیاسی منظرنامے پر موجود ہے۔ ایسے میں پارٹی کے اندر بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مذاکرات اور احتجاج دونوں محاذوں پر واضح حکمت عملی اور فعال قیادت کی ضرورت ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کے سامنے محمود اچکزئی کے حوالے سے اٹھنے والے تحفظات پر غور کیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی اور پارٹی کی اعلی قیادت کی مشاورت کے بعد متوقع ہے۔ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں کوئی واضح پیش رفت نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں محمود اچکزئی کے بطور اپوزیشن لیڈر کردار اور ان کے عہدے کے حوالے سے پارٹی کے اندر مزید آوازیں بلند ہونے کا امکان ہے، جبکہ بعض رہنما متبادل نام پر بھی مشاورت شروع کر سکتے ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا محمود اچکزئی مذاکراتی عمل کو کسی نتیجے تک پہنچانے اور احتجاجی تحریک میں عملی کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پی ٹی آئی قیادت اپوزیشن لیڈر کے منصب کے حوالے سے کوئی نئی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔
بریکنگ نیوز
- امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات اب بھی جاری ہیں: قطر
- محمود اچکزئی کیخلاف پی ٹی آئی کے اندر سے آوازیں بلند
- پٹرول 1.91 روپے مہنگا ڈیزل 1.19 روپے فی لیٹر سستا
- جے ڈی وینس کی اہلیہ نومولود بیٹے سمیت ہیلی کاپٹر سے اترتے ہوئے گرتے گرتے بچ گئیں
- مارکو روبیو اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، امریکی محکمہ خارجہ کی تصدیق
- ٹیسلا کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر کھرب پتی بن گئے
- سعودی آرامکو نے ایشیا کیلئے تیل سستا کر دیا، قیمتیں 6سال کی کم ترین سطح پر آگئیں
- بہت جہالت دکھا لی’ اب ذرا حقیقت بھی جان لیں: عظمیٰ بخاری
- راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کزن قاسم زمان کو تحویل میں لے لیا گیا
- نیویارک میں خسرہ کے بڑھتے کیسز’ گورنر نے ریاستی ایمرجنسی نافذ کر دی
- معاشی ترقی کے ساتھ برآمدات میں اضافہ اوالین ترجیح وزیر خزانہ
- گورنر راج آج لگا لیں مجھے فرق نہیں پڑتا بیشک میری جان لے لیں عوام دشمن پالیسی نہیں مانوں گا سہیل آفریدی
- بھارت ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج راہول گاندھی کچھ دیر پہلے کیلئے برقرار
- سیکورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان میں کاروائی 5 خوارج ہلاک 2 زخمی
- آئی ایم ایف کا پاکستان سے ڈومور کا تقاضا پٹرول ریلیف سکیم جاری رکھنے پر رضامند
- ناچنے والے گھوڑے میدان میں نہیں دوڑتے، فیصل کریم کنڈی کا علی امین گنڈاپور پر طنز
- شارٹ فال 4ہزار میگا واٹ سے متجاوز بد ترین لوڈ شیڈ نگ کا خدشہ
- ڈیرہ اسماعیل خان فائرنگ کے 2 واقعات ایف بی آر’پولیس کے5 اہلکار شہید’
- 10 اگست کو ہونیوالے عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ سامنے آگئی، میڈیکل بورڈ نے انزائٹی لیول تھری پلس قرار دیا
- پنجاب میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ
