چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم بات چیت غیر مشروط ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک، قوم اور جمہوریت کے مفاد میں مذاکرات کا کامیاب ہونا ناگزیر ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مشروط ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں غیر مشروط طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیشگی شرائط عائد کرنے کے بجائے بات چیت کا عمل جاری رکھے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے موجود ہیں اور کوشش ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پریس کانفرنسز کے بجائے مذاکرات پر زیادہ توجہ دی جاتی تو معاملات میں پیش رفت ہوسکتی تھی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور ایسے اقدامات سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے اور گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنا ختم کرنے کے بعد حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بنیادی اختلاف مذاکرات کی شرائط پر برقرار ہے۔
مذاکرات سے انکار نہیں کیا، بیرسٹر گوہر کا حکومت سے غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ

