وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، حالانکہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔
قومی یومِ استقامت کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بار بار آنے والی قدرتی آفات، جن میں سیلاب، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، جنگلات کی آگ اور اسموگ شامل ہیں، کے باعث شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی آفات کی شدت اور تواتر میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو قومی ترقیاتی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ پانی و غذائی تحفظ، شہری منصوبہ بندی، زراعت، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی سرمایہ کاری میں موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ منصوبہ بندی ضروری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کو ادارہ جاتی ردعمل کا حصہ بنا رہی ہے، جبکہ قابلِ اعتماد ڈیٹا اور تجزیاتی نظام کی مدد سے مؤثر پیشگی انتباہی نظام تشکیل دینے پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ خطرات کو آفت میں تبدیل ہونے سے پہلے شناخت کیا جائے، نقصانات کو کم سے کم رکھا جائے اور انسانی جانوں، ذرائع معاش اور اہم بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ موسمیاتی معلومات، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور سائنسی بنیادوں پر خطرات کے تخمینے کو مربوط کرکے بروقت فیصلوں اور مؤثر اقدامات کی صلاحیت بہتر بنائی جا رہی ہے تاکہ ایک محفوظ، مضبوط اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے قابل پاکستان کی بنیاد رکھی جاسکے

