پنجاب میں گندم کی قیمت میں اچانک اور نمایاں اضافے کے بعد آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت گزشتہ چار روز کے دوران 400 روپے اضافے کے بعد 5 ہزار 200 روپے فی 40 کلو تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گندم کی بڑھتی قیمت کے باعث 80 کلو باریک آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک ہزار روپے اضافے سے 12 ہزار 500 روپے ہوگئی، جبکہ 15 کلو آٹے کا تھیلا 300 روپے اضافے کے بعد 2 ہزار 300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سوجی اور گندم سے تیار ہونے والی دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
فلور ملز کو سرکاری نرخوں پر گندم کی فراہمی میں تاخیر بھی بحران کی ایک بڑی وجہ بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پنجاب فوڈ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے فلور ملز کو دو ہفتوں سے زائد عرصے سے سرکاری کوٹے کی گندم فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ملز کو مہنگی گندم اوپن مارکیٹ سے خریدنا پڑ رہی ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گندم کی قلت اور سرکاری کوٹے کی عدم فراہمی سے ملز کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اس صورتحال کا براہ راست بوجھ صارفین پر پڑ رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے بھی گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کا نوٹس لیا ہے۔ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو گندم اور آٹے کی سپلائی، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور غیرضروری قیمتوں میں اضافے کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

