ابیب ( نیوز ایجنسیاں) نیتن یاہو کے دوبارہ اسرائیلی وزیراعظم بننے کے امکانات معدوم، عرب جماعتوں نے گادی آئزن کوٹ کی حمایت کردی۔ اسرائیل میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد بنیامین نیتن یاہو کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے امکانات انتہائی کم ہو گئے۔نیتن یاہوکی اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے وزیراعظم کے لیے کسی کی بھی حمایت سے انکار کردیا، یہ جماعت قدامت پسند طلبہ کوفوجی سروس سے استثنیٰ دینے کا قانون منظور نہ ہونے پر ناراض ہے۔یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کے مطابق جماعت کے نمائندوں نے اسرائیلی صدر سے مشاورت میں کسی امیدوار کی سفارش نہیں کی جبکہ مستقبل کی کسی بھی حکومت کی حمایت فوجی سروس سے استثنی کے قانون سے مشروط ہوگی۔انتخابات میں 11 نشستیں حاصل کرنے والے عرب سیاسی اتحاد ‘جوائنٹ لسٹ’ اور 8 نشستیں حاصل کرنے والی عرب جماعت ‘رام’ (Ra’am) کی جانب سے ‘یشر’ پارٹی کے چیئرمین گادی آئزن کوٹ کی حمایت کے بعد انہیں اگلی اسرائیلی پارلیمنٹ(کنیسٹ)میں واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔عرب جماعت رام کے سربراہ منصور عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سازی کیلئے آئزن کوٹ کی حمایت اس لیے کی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا حکومت بنانا ممکن ہے۔عرب جوائنٹ لسٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے وزیر اعظم کے لیے صدر اسحاق ہرزوگ کو گادی آئزن کوٹ کا نام تجویز کریں گے۔ اس پیشرفت کے بعدآئزن کوٹ کو کنیسٹ میں 67 ارکان کی منظوری مل جائے گی جو کہ درکار 61 ارکان سے بھی زیادہ ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مبصرین کا ماننا ہے کہ آئزن کوٹ کی حمایت کرنے والی ان جماعتوں کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ حتمی طور پر حکومتی اتحاد میں شامل بھی ہوں گی۔جوائنٹ لسٹ کا کہنا ہے کہ اس کے تینوں دھڑوں کے درمیان یہ متفقہ فیصلہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے عوامی مطالبے کے جواب میں کیا گیا ہے۔دریں اثناء اسرائیلی اپوزیشن رہنما اور سابق آرمی چیف گادی آیزنکوٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی عوام نے تبدیلی اور موجودہ حکومت کی جگہ نئی حکومت لانے کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ہماری جمہوریت مضبوط اور متحرک ہے۔ ہم جلد از جلد قومی ہنگامی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کیساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایکس پر اپنے بیان میں گادی آیزنکوٹ کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد اسرائیل کو ایسی نئی قیادت فراہم کرنا ہے جو تمام اسرائیلی شہریوں کے مفادات کی نمائندگی کرے۔ اتحادیوں کے ساتھ مل کر مضبوط اسرائیل تعمیر کیا جائے گا، جو یہودی اور جمہوری ریاست ہونے کے ساتھ آزاد خیال اقدار اور تمام شہریوں کے لیے مساوات پر یقین رکھتا ہو۔
نیتن یاہو

