Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    پاکستان

    پاناما کیس میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل مکمل

    Daily KhabrainBy Daily KhabrainJanuary 11, 2017No Comments3 Mins Read
    supreme-court-khabrain

    اسلام آباد: پاناما کیس میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں جب کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے دلائل میں موقف اختیارکیا ہے کہ قطری خط کی حیثیت ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں کیونکہ یہ بیان حلفی کے بغیر اور سْنی سنائی باتوں پر مبنی ہے اور سنی سنائی بات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نوازشریف اور ان کے بچوں کےبیانات میں تضاد ہے، کمپنی کا بیریئر سرٹیفکیٹ پرائز بانڈ نہیں ہوتا کہ جس کے پاس ہو آف شور کمپنی اس کی ہوگی، قانون کے مطابق بیریئر سرٹیفکیٹ سے متعلق آگاہ کرنا ضروری ہے،قانون کے اطلاق سے فلیٹس کے ملکیت کی منتقلی تک بیریئر کا ریکارڈ دینا ہو گا۔ رجسٹریشن کے نئے قانون کا اطلاق سب پر ہوتا ہے، شریف خاندان کےبقول 2006 سےقبل بیریئر سرٹیفکیٹ قطری خاندان کے پاس تھے، اس لئے شریف خاندان کو بھی سرٹیفکیٹ کا قطری خاندان کے پاس ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔نعیم بخاری نے کہا کہ بلیک لاءڈکشنری کے مطابق زیرکفالت وہ ہوتا ہے جس کےاخراجات کوئی دوسرا شخص برداشت کرے، نوازشریف نے مریم کو کروڑوں روپے بطور تحفہ دیے، مریم نواز کے پاس آف شور کمپنیوں کے لیے پیسا نہیں تھا،آف شور کمپنیوں کے لیے مریم کو رقم نوازشریف نے دی۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی کی شادی کے بعد کفالت اس کا شوہر کرے جب کہ ریکارڈ کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی کوئی آمدن نہیں تھی۔جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ اگر آپ کی تعریف مان لیں تو کیا مریم حسین نواز کے زیر کفالت ہیں، ابھی بھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ فلیٹس کب خریدے گئے۔ آپ کے بقول شریف خاندان نے یہ فلیٹس 1993 اور 1996 کے درمیان خریدے جب کہ شریف فیملی کے بقول انھیں فلیٹس 2006 میں منتقل ہوئے، جسٹس اعجاز افضل نے سوال کیا کہ کیا والد کے ساتھ رہنے والا زیرکفالت ہوتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ باتیں پہلے بھی ہو چکی ہیں کوئی نیا نکتہ بیان کریں۔عمران خان کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ ہم عدالت سے وزیراعظم کی نا اہلی کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ نے عدالت کی بہترین معاونت کی ہے۔نعیم بخاری کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے دلائل میں کہا کہ وہ نعیم بخاری کی جانب سے دیئے گئے تمام دلائل سے متفق ہیں۔ میرا کوئی بچہ یا فیملی نہیں لیکن یہ قوم ہی میری فیملی ہے، یہ ایک خاندان بامقابلہ بیس کروڑ عوام کا کیس ہے، عدالت سب کچھ جانتی ہے ہم صرف معاونت کے لیے آتے ہیں، ایک طرف مریم کہتی ہیں کہ ان کی آمدن نہیں دوسری طرف وہ امیر ترین خاتون ہیں۔

    supreme-court-khabrain
    Daily Khabrain

    Related Posts

    مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد

    May 27, 2026

    صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟

    May 27, 2026

    ملک بھر میں عیدالاضحیٰ آج مذہبی جوش وجذبے سے منائی جا رہی ہے

    May 27, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.