اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے، جس کے تحت عوامی اجتماعات، ریلیوں، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی ہوگی۔ یہ پابندی دو ماہ کے لیے نافذ کی گئی ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ کی جانب سے جاری حکم کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں عوامی مقامات پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ ریڈ زون بھی ان پابندیوں میں شامل ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ امن و امان اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کو غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے اور سکیورٹی اداروں سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کے تحت بھی اجتماعات پر پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی پر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جارہے ہیں اور مختلف اہم راستوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

