اسلام آباد میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ہفتہ 3 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہوگا۔ جمعہ کو ہونے والے پہلے دور میں دونوں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف اور مطالبات پیش کیے، تاہم کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے اور دیگر سیاسی و عدالتی معاملات پر پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت نے 4 اکتوبر کے اسلام آباد احتجاجی مارچ کو منسوخ کرنے پر زور دیا ہے۔ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ یہ معاملہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف تعاون سے متعلق ہے، جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شوقت یوسفزئی نے کہا ہے کہ 4 اکتوبر کا مارچ ہوگا اور مختلف علاقوں سے قافلے صوابی میں جمع ہوکر اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔

