لاہور میں رواں سال ریپ اور گینگ ریپ کے مقدمات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے 8 ماہ کے دوران شہر میں 498 ریپ اور 36 گینگ ریپ کے مقدمات درج ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں بالترتیب 413 ریپ اور 26 گینگ ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق ریپ کے مقدمات میں تقریباً 20 فیصد جبکہ گینگ ریپ کے کیسز میں تقریباً 38 فیصد اضافہ ہوا۔
لاہور کے مختلف پولیس ڈویژنز میں بھی کیسز کی تعداد بڑھی۔ سٹی ڈویژن میں ریپ کے مقدمات 36 سے بڑھ کر 56، سدر ڈویژن میں 98 سے 132 جبکہ اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 46 سے بڑھ کر 80 ہوگئے۔ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں ریپ کے مقدمات کی تعداد دونوں برسوں میں 98 رہی۔
گینگ ریپ کے مقدمات میں کینٹ ڈویژن میں تعداد 5 سے بڑھ کر 9 جبکہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 5 سے بڑھ کر 10 ہوگئی۔ سول لائنز میں یہ تعداد 2 سے 3، اقبال ٹاؤن میں 4 سے 6 اور سٹی ڈویژن میں ایک سے بڑھ کر 2 ہوگئی۔
دوسری جانب پنجاب بھر کے سرکاری اعداد و شمار بھی خواتین کے خلاف جرائم کی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں صوبے میں 4,446 ریپ اور 940 گینگ ریپ کے مقدمات درج ہوئے، جبکہ 2025 کے پورے سال میں بالترتیب 8,553 اور 1,922 کیسز رپورٹ ہوئے۔
لاہور میں جنسی تشدد کے واقعات کے حوالے سے پنجاب جینڈر پیریٹی رپورٹ کے مطابق 2024 میں صوبے کے تمام اضلاع میں سب سے زیادہ ایسے مقدمات لاہور میں 669 رپورٹ ہوئے تھے۔
لاہور میں ریپ اور گینگ ریپ کے کیسز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ

