تسلام آباد (ملک منظور احمد) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات دو روز کی نشستوں کے بعد کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، مذاکرات کی ناکامی کے بعد اسلام آباد میں مقیم غیر ملکی سفیروں اور سفارتی حلقوں نے بھی ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال گہری نظر رکھنا شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ سیاسی کشیدگی کے پیش نظر دارالحکومت میں غیر ملکی سفارتی مشنز اور سفیروں کی سکیورٹی کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال کے باعث سفارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والے مذاکرات میں لانگ مارچ، سیاسی مطالبات اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم فریقین کے درمیان بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا، جس کے باعث مذاکراتی عمل کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا۔ مذاکرات کی ناکامی کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کے مکمل خاتمے کے امکانات کم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان ایک اور اہم بیٹھک کا امکان موجود ہے، جس میں مذاکرات کے دوران پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ شروع ہوچکا ہے اور قافلے پشاور کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ 8 اکتوبر کو پشاور پہنچنے کا امکان ہے۔ پشاور پہنچنے سے قبل پی ٹی آئی قیادت اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک اور نشست متوقع ہے، جس میں اہم معاملات پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پشاور میں لانگ مارچ کے پہنچنے سے پہلے ہونے والی ممکنہ بیٹھک انتہائی اہم ہوسکتی ہے۔ فریقین کی جانب سے بعض معاملات پر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے اور آئندہ مذاکرات میں ”بڑا بریک تھرو” سامنے آنے کے امکانات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کے باوجود مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ دونوں جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور معاملات کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے رابطوں کے امکانات برقرار ہیں۔ اگر آئندہ نشست میں اہم نکات پر اتفاق ہوگیا تو لانگ مارچ کے اسلام آباد کی جانب بڑھنے سے قبل ہی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پہنچنے سے قبل لانگ مارچ کے حوالے سے بھی بریک تھرو ممکن ہے، تاہم اس کا انحصار آئندہ مذاکرات میں فریقین کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور اہم مطالبات پر پیش رفت پر ہوگا۔ ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں موجود غیر ملکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز بھی موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں میں ممکنہ اضافے اور لانگ مارچ کے آئندہ مرحلے کے پیش نظر سفارتی حلقوں میں سکیورٹی صورتحال کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق غیر ملکی سفیروں اور سفارتی عملے کی حفاظت کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنائے گئے ہیں، اہم سفارتی علاقوں اور سفارت خانوں کے اطراف نگرانی بڑھانے سمیت آمدورفت کے حوالے سے بھی اضافی حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی تو اسلام آباد میں ہونے والی بعض سفارتی سرگرمیاں، ملاقاتیں اور دیگر پروگرام بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ بعض سفارتی حلقوں کی جانب سے آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہونے تک اپنی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کا ازسرنو جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔ حکومتی اور سفارتی حلقے آنے والے دنوں کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایک طرف خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ جاری ہے اور دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی کوششیں بھی متوقع ہیں۔ اب نظریں اس ممکنہ بیٹھک پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین کسی سمجھوتے تک پہنچتے ہیں یا سیاسی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔
سفیر
