لاہور ، اسلام آباد، پشاور (اپنے سٹاف رپورٹر سے، ویب ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) حکومت کے بڑوں نے پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے سر جوڑ لئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر (ن) لیگ میاں نواز شریف سے تقریباً 3 گھنٹے تفصیلی ملاقات کی ، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وزیر داخلہ نے صدر مملکت آصف زرداری سے بھی رابطہ کیابعد ازاں گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی سے بھی ملاقات کی، انہوں نے مذاکرات ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیا۔وفاقی وزیرخواجہ آصف نے دہشت گردی معاملے پر سہیل آفریدی کومناظرے کا چیلنج دیدیاجبکہ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑکا کہنا ہے کہ کے پی حکومت دہشت گردوں کیخلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی گورنر راج یا ایمرجنسی کا عندیہ دیدیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی جاتی امرا میں صدر مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف سے ملاقات ہوئی ،جس ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔شہباز شریف نے میاں نواز شریف کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا ۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے وزیر داخلہ سے ہونے والی ملاقات اور پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کی۔نواز شریف سے ملاقات ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف جاتی امرا سے واپس روانہ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات 2 سے 3 گھنٹے جاری رہی۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال سمیت خیبرپختونخوا کی امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران یہ دوسری ملاقات تھی، جس میں وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا حکومت سے ہونے والے مذاکرات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے درمیان ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر آئندہ کے ممکنہ اقدامات زیر غور آئے، امن و امان کی بحالی اور ریاستی رٹ یقینی بنانے کیلئے مختلف آپشنز اور آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی، وزیر اعظم نے محسن نقوی سے ان کے ماموں اکمل حسین نقوی کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے مرحوم کے لئے فاتحہ خوانی کی اور ان کی بلندی درجات کے لئے دعا کی۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کیا۔ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاہے کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے خلوص نیت سے مذاکرات کئے، بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا مگر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کر دیئے، ہم کسی بھی صورت میں 9مئی جیسا سانحہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے ، اس دفعہ ہم اسلام آباد پر بار بار دھاوا بولنے والا معاملہ ہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے، ہر حال میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم بحال کروائیں گے اور اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار صرف اور صرف سہیل آفریدی ہوگا۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے محسن نقوی نے کہا کہ ہم نے انہیں کہا کہ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو وہ خود مذاکرات میں آ جاتے، سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ کے پی حکومت مذاکرات کو ویٹو کردے گی تو ہم مذاکرات ہی نہ کرتے۔جب آپ غیر سنجیدہ اور نا سمجھ لوگ اس قسم کی سیٹوں پر بٹھاتے ہیں تو اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے۔انہوںنے کہا وزیراعظم سے تفصیلی ملاقات ہوئی،صدر پاکستان اور وزیراعظم دونوں تمام معاملات سے بخوبی واقف ہیں، دونوں کو تمام معاملات پر بریفنگ دی ہے۔محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پر بلیک میلنگ کے الزام سے متعلق صحافی کے سوال پر کہا کہ بلیک میل کرنا چھوٹی بات ہے، وہ(سہیل آفریدی)اپنے صوبے کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں، اگر وہ عوامی نمائندے ہیں اور ان کے صوبے میں جنگ ہورہی ہے تو ان کو ذمہ داری لینی چاہیے، اگر ذمہ داری نہیں لیتے تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں۔ اب جو بھی صورتحال ہوگی وہ صدر اور وزیراعظم مل کر فیصلہ کریں گے۔ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو ٹی وی پر مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی خیبر پختونخوا میں عمران خان کے دور میں آئی، وہ صوبے میں دہشت گردوں کو بسانے کے سب سے بڑے ہامی تھے، اسمبلی تقاریر اور میڈیا ریکارڈ اس کے گواہ ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت شہری شہدا کے گھروں میں فاتحہ خوانی کے لیے جانے سے بھی انکاری ہے، وفاق سے اقتدار جانے کے بعد صوبے کے ہر وزیراعلی نے وفاق پر حملہ کیا، 9 مئی کا واقعہ اس کے علاوہ ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی قیادت سرکاری مال لوٹنے کے ساتھ دہشت گردوں کو بھتے کی صورت میں حصہ دیتی ہے، آپ دہشت گردوں کے پارٹنر ہیں، خیبرپختونخوا میں بہنے والے خون میں آپ کے ہاتھ بھی رنگے ہیں، قوم اور خدا آپ سے حساب لے گا۔خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد وطن کی وحدت اور وفاق کی علامت ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت ہے، ہمارے شہدا اپنے مقدس خون سے اس کی آبیاری کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام اور بہادر افواج اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ان شا اللہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی مختصر دورے پر پشاور گئے جہاں انہوں نے گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر بات کی۔ملاقات میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس موجود تھے، ملاقات میں صوبے کی سیاسی و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے حوالے سے گورنر ہاس کی جانب سے بیان جاری کیا جائے گا۔ادھر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف ریاست کی مدد نہ کرنے پر خبردار کردیا۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ نہیں دیا تو پھر شاید خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی طرف جانا پڑے۔بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور پی ٹی آئی کا دھیان سیاست پر ہے، نہیں چاہتے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگا کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے، اسلام آباد 10 دن سے بند پڑا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ اب پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے معاملے کا سیاسی حل نکالے، سیاسی بحران کو قومی مفاد سے الگ رکھے۔ادھر وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنا ہی نہیں چاہتے جبکہ این ایف سی میں انسداد دہشت گردی کی مد میں 700ارب سے زائد رقم مل چکی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا وطیرہ ہے کہ بات چیت کے لیے آتے ضرور ہیں مگر دوہرے معیار اور منافقت کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، تحریک انصاف اپنی دوغلی پالیسیوں سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے یو ٹرن لینے کے ماہر ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام کا تحفظ نہ کرنا صوبائی حکومت کی ناکامی ہے، ان کی پالیسی دہشت گردی کو فروغ دینا ہے، یہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ صوبے میں دہشت گردی کو کیسے پھیلایا جا سکتا ہے۔دریں اثناء نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے۔ شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے بار بار کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت، مذاکرات میں شامل ہو مگر خیبر پختونخوا کے وزیراعلی یا کابینہ کا کوئی نمائندہ مذاکرات میں نہیں آیا، اگر خیبر پختونخوا حکومت کے پاس کوئی قابل عمل ڈرافٹ تھا تو اسے خود مذاکرات میں آکر پیش کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل تبدیلیوں کے باوجود ہماری تمام ٹیموں نے مذاکرات پر توجہ برقرار رکھی، اتوار کی صبح ہونے سے پہلے تک ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے اور دروازے کھلے رکھے، ہم اس وقت تک انتظار کرتے رہے جب تک دوسری جانب سے مذاکرات میں واپس آنا بند نہیں کردیا گیا، قومی اسمبلی میں دن رات مذاکرات کی کوریج کرنے والے تمام صحافیوں کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں۔
سر جوڑ لئے
