ملتان (مرزاندیم سے) ملک بھر میں ہنڈی حوالہ منی لانڈرنگ کی غیر قانونی دھندہ کرنے والوں خلاف سخت کارروائیوں کے احکامات ایف آئی اے
حکام نے بھاری ”نذرانوں ” کی نذرکردیے،اسی وجہ سے پنجاب بھرمیں منی لانڈرنگ ،ہنڈی حوالہ کا دھندہ عروج پکڑ گیاہے۔ حکومت اور ڈی جی ایف آئی اے کے واضح احکامات کے باوجود ایف آئی اے سرکل کے افسران چھوٹی موٹی کارروائیاں کرکے بڑے مگرمچھوں کو بچانے میں مصروف نظر آتے ہیں،باقاعدگی سے کروڑوں روپے اپنا ”حصہ ”وصول کر رہے ہیں۔ ایف آئی اے ملتان سرکل کی جانب سے کچھ عرصہ پہلے سلیم کنڈے والا کیخلاف مجبوراً کی گئی کارروائی میں ڈیل کے تحت اس کے دونوں گرفتار بیٹوں وسیم راجہ اور شکیل کو میڈیکل بنیادوں پر مبینہ کروڑوں روپے وصولی اور ایک اہم حکومتی شخصیت کے حکم پر جوڈیشل کروایا گیا ہے اور سلیم کنڈے والا اور اسکے دوسرے بیٹے نعیم کی گرفتاری کو بھی عمل میں نہ لایا گیا۔ مافیاپاکستان بھر میں نیٹ ورک چلانے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک دبئی، برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، ملائیشیا اور ساؤتھ افریقہ میں ہنڈی حوالہ منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک بنا کر اندھا دھند کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسٹیٹ بینک نے کارروائی کرتے ہوئے ملک بھرسے9ایکسچینج مالکان کے لائسنس منسوخ کئے جن میں الانس ایکسچینج ، میگا ایکسچینج ، یونائیٹڈ ایکسچینج،السہاراایکسچینج،راجگان ایکسچینج،محمدی ایکسچینج،آربی ایس ایکسچینج ،ڈریمزایکسچینج اورنوبل ایکسچینج شامل ہیں،مگراس کے باوجودبااثر افراد، صنعتکاروں، سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کی بلیک منی کو وائٹ کرنے کیلئے غیر قانونی ”ٹی ٹی” لگائی جا رہی ہے۔ ڈالر میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مافیانے اربوں روپے کا فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے مارکیٹ سے 1 سے 2 روپے ڈالر مہنگا خرید کر ”انویسٹر”کو 4 سے 5 روپے مہنگا فروخت کیا۔ گاہکوں سے انوائس سے 4 سے 5 روپے زیادہ وصول کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام ان کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیں تو نہ صرف منی لانڈرنگ ہنڈی حوالہ کے دھندے میں ملوث کئی صنعتکاروں بلکہ سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹس اور خود ایف آئی اے ملتان کے افسران بھی بے نقاب ہو جائیں گے۔
حوالہ ہنڈی
