اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکانٹنٹس(اے سی سی اے) پاکستان نے کارپوریٹ کانفرنس 2026 کے فیصل
آباد و ملتان ایڈیشنز کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان کے دو اہم علاقائی اقتصادی مراکز میں سینئر پالیسی سازوں، کاروباری رہنماں، ماہرین تعلیم اور شعبہ مالیات سے وابستہ ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ ان کانفرنسز کا انعقاد بدلتی ہوئی دنیا میں قدر کی نئی تعریف کے موضوع کے تحت کیا گیا۔ ان کانفرنسوں کے ذریعے قومی کاروباری مکالمے کو بڑے میٹروپولیٹن مراکز سے آگے بڑھاتے ہوئے ان شہروں تک پہنچایا جارہا ہے، جو پاکستان کی ٹیکسٹائل، زراعت، صنعت اور برآمدات کے اہم مراکز ہیں۔ دونوں شہروں میں منعقدہ تقریبات کا آغاز مشترکہ افتتاحی اجلاس سے ہوا، جس میں تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معیشت میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو مستحکم بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں کانفرنسوں میں علاقائی سطح کے حوالے سے بھی خصوصی گفتگو کی گئی جس میں اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ پنجاب ملک کی ایک ٹریلین ڈالرز کی معیشت کے ہدف کو حاصل کرنے میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا، فیصل آباد ہمیشہ سے پاکستان کی صنعتی اور برآمدی قوت کا انجن رہا ہے۔ حکومت کی ترجیح ایسے حالات پیدا کرنا ہے جس سے مقامی کاروبار عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں اور اس کے لیے ہنرمندی، پائیداری و جدت طرازی میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ فیصل آباد میں منعقدہ سیشن کو ESG اور پائیداری سے متعلق رپورٹنگ کو ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ٹی ایم یو سی کی نگہت نسرین کی زیرِ صدارت پینل مباحثے میں ڈاکٹر فریگز انٹرنیشنل کے صہیب قیصر، مسعود ٹیکسٹائل ملز کے راجہ امجد علی اور پارکر روسل چارٹرڈ اکانٹنٹس کے جنید سبحانی نے شرکت کی۔ پینل میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ پاکستان کے برآمدی شعبے سے وابستہ صنعتوں کے لیے قابلِ اعتماد پائیداری رپورٹنگ عالمی خریداروں اور سرمایہ تک رسائی کی ایک اہم شرط کیوں بنتی جا رہی ہے۔ ستارہ لیبلز کے عبداللہ قادری ایف سی سی اے نے مقامی سطح سے علاقائی اثر و رسوخ تک فیصل آباد کے سفر پر روشنی ڈالی۔ ملتان میں سرمایہ، موسمیاتی خطرات اور استعداد کار کے موضوع پر ایک پینل مباحثہ منعقد ہوا، جس کی میزبانی اے ایس سی اے گلوبل کنسلٹنگ کے محمد عثمان ایف سی سی اے نے کی۔ پینل میں بودلہ گروپ کے پیر جنید بودلہ، فضل گروپ کے عبداللہ امیر فضل اور شاہز اینڈ ملتان میٹرز کی فلزہ ممتاز نے شرکت کی۔ شرکا نے اس بات کا جائزہ لیا کہ علاقائی کاروباری ادارے موسمیاتی خطرات سے نمٹتے ہوئے اپنی ترقی کے لیے درکار سرمایہ کس طرح حاصل کرسکتے ہیں۔ بیونڈ ایسٹ اور پیشن فوڈز کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر جواد خواجہ نے بتایا کہ کس طرح مقامی بنیادوں پر قائم کاروبار علاقائی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ اسد حمید خان نے کہا، پاکستان کی ترقی کا اگلا باب ایک یا دو شہروں میں نہیں لکھا جائے گا۔ یہ ملتان، فیصل آباد، پشاور اور ہر اس مرکز میں لکھا جائے گا جہاں کاروبار شروع ہورہے ہیں، برآمدات کو فروغ مل رہا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ آج قدر کا تعین استحکام، شفافیت اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے، اور مالیاتی شعبے سے وابستہ ماہرین اس عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کارپوریٹ کانفرنس کو دوسرے شہروں تک لے جانا ہمارے اس عزم کا اظہار ہے کہ علاقائی کاروباری رہنماں کو قومی مکالمے کا حصہ بنایا جائے اور انہیں مستقبل کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے ضروری صلاحیتوں اور معلومات سے آراستہ کیا جائے۔ دونوں شہروں میں منعقدہ تقریبات میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت (AI) سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی افرادی قوت کو کس طرح تیار کر سکتا ہے۔ ملتان میں بی زیڈ یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد زبیر اقبال نے علاقائی مسابقت کے لیے مستقبل کی مہارتوں کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔ اس کے بعد سینٹر آف انوویشن اینڈ ایکسپیریئنشل لرننگ کے ڈاکٹر ارسلان جاوید کی زیرصدارت پینل مباحثہ ہوا، جس میں شارک اسٹیک کی زرلش فاروق شیخ، بی زیڈ یو کے ڈاکٹر آصف یاسین اور AdEra Labs کے وقار طیب نے شرکت کی۔ فیصل آباد آئی ٹی کمپنیز آرگنائزیشن کے صدر نعمان سرور نے صنعتی قوت کو عالمی مسابقتی برتری میں تبدیل کرنے کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ بعد ازاں این آئی سی ایف کی ایمن شاہد کی زیرِصدارت پینل مباحثہ ہوا، جس میں ڈیجی کھاتہ کے عدنان اسلم، پی آئی پی ایف اے کے عثمان احسن اور ایف آئی ٹی سی او کے نعمان سرور نے شرکت کی۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت ترقی کی رفتار تیز کر سکتی ہے، تاہم موثر حکمت عملی اور نگرانی ہی اس ترقی کو درست سمت میں برقرار رکھ سکتی ہے۔ مقررین کا تعلق حکومت، ایوان ہائے صنعت و تجارت، صنعت، شعبہ تعلیم، اکانٹنسی کے پیشے اور اسٹارٹ اپ کمیونٹی سمیت مختلف شعبوں سے تھا، جو پاکستان کی علاقائی معیشتوں کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والی مختلف آوازوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کانفرنسوں کی سیریز اب پشاور کا رخ کرے گی، جہاں اے سی سی اے پاکستان کاروباری مکالمے کو خیبر پختونخوا کی کاروباری برادری تک لے کر جائے گا۔
