راولپنڈی(شاہد ملک سے) پنجاب کے 11 ہزار کے قریب سکول اور کالجز اووٹ سورس کردیے گئے ہیں، جو کہ تعلیم کش اقدام ہے صوبہ پنجاب کے 13 اضلاع میں لانچ کی گئی پنجاب گورنمنٹ سروینٹس ہاسنگ فانڈیشن کے 70 ہزار کے قریب ممبران ،ریٹائرڈ اور حاضر سروس اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں میں 22 سالہ کٹوتیوں کے باوجود رہائشی حق غیر یقینی ہو کر رہ گیا ہے مہنگے پلاٹوں کی قیمتیں ادا کرنے کا نیا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ،اپنا گھر بنانے کے لیے سرکاری سکیم کی بجائے پرائیویٹ ہاسنگ سوسائٹیوں میں رجسٹریشن کرانے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جن کی فی مرلہ قیمت 7سے 8 لاکھ سے بھی زیادہ ہے ،ذرائع کے مطابق 2004 میں پنجاب کے سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو گھر فراہم کرنے کی خاطر پنجاب گورنمنٹ سروینٹس ہاسنگ فانڈیشن کے نام پر ایک سکیم لانچ کی گئی تھی جس کے تحت گریڈ 1 سے گریڈ 22 تک کے ملازمین سے ہر ماہ مقرر شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے باقاعدہ کٹوتیاں کی جاتی رہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد ہزاروں اساتذہ اب پلاٹ حاصل کرنے سے محروم ہوگئے ہیں فانڈیشن کے قواعد کے مطابق گریڈ 1 تا 7 پانچ مرلہ ،گریڈ 8 تا 16 سات مرلہ ،گریڈ 17 تا 18 دس مرلہ اور گریڈ 19 تا 22 ایک کنال رقبہ کی الاٹ منٹ مختتص کی گی تھی ،جبکہ پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاسنگ فانڈیشن پنجاب کے رجسٹرڈ متاثرہ ممبران بالخصوص ریٹائرڈ اساتذہ اور سرکاری ملازمین 2004 سے اپنی تنخواہوں سیمسلسل کٹوتیاں کرواتے ریے ،اور رہائش سے وابستہ امید پر رقوم جمع کروائیں گی ،لیکن اب ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا ہے پینشنرز کا موقف ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے روپے کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی ہوئی ہے 2004 اور موجودہ دور کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لینا ضروری ہے ان کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2004 میں امریکی ڈالر کی قیمت تقریبا 59 پاکستانی روپے تھی جبکہ 2026 میں فی ڈالر کا نرخ 287 تک پہنچ گیا ہیاس حساب سے ڈالر کی روپے میں قیمت تقریبا 4.9 گنا بڑھ چکی ہییہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طویل مدت کے دوران روپے کی قوتِ خرید اور بیرونی کرنسی کے مقابلے میں اس کی قدر میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ان قائدین نے سونے کی قیمتوں میں اضافے کو بھی اپنے مقف کی وضاحت کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2004 میں ایک تولہ سونے کی قیمت تقریبا 8,700 روپے تھی جبکہ اکتوبر 2026 میں فی تولہ قیمت 4 لاکھ 50 ہزار 936 کے قریب ہے ان اعدادوشمار کی بنیاد پر سونے کی قیمت میں تقریبا 51.8 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈالر یا سونے کی قیمت میں اضافہ بذاتِ خود اس بات کا قانونی ثبوت نہیں کہ فانڈیشن ہر ممبر کو اسی تناسب سے رقم ادا کرنے کی پابند ہے، لیکن یہ تقابلی اعداد و شمار ان کے نزدیک اس سوال کو ضرور اہم بناتے ہیں کہ ان کی رقوم کے مالیاتی انتظام، سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور متعلقہ قواعد کے تحت ممکنہ ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلات سامنیکیوں نہیں لائی جاتیں؟ جبکہ ان تمام پہلوں کا باقاعدہ آڈٹ اور شفاف جائزہ لے کر ممبران کو ان کے حقوق اور واجبات کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے،مفت زمین کے بجائے نجی ہاسنگ سو سائٹی کے مہنگے پلاٹ خریدنا محال ہے، جبکہ نجی زمین کی موجودہ قیمتیں عام ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی مالی استطاعت سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں بالخصوص ایسے افراد کے لیے جنھوں نے اپنی پوری ملازمت کے دوران تنخواہ سے کٹوتیاں برداشت کیں اور اب محدود پنشن پر گزارہ کر رہے ہے ،جبکہ ایک ایسا ریٹائرڈ ملازم جس کی ماہانہ پنشن 30 سے 40 ہزار روپے کے درمیان ہو وہ 22 سال پہلے شروع ہونے والی کٹوتیوں کے باوجود اگر آج پلاٹ کے حصول کے لیے لاکھوں روپے مزید ادا کرنے پر مجبور ہے تو اس کے لیے یہ رقم کہاں سے آئے گی؟ کسی بھی ہاسنگ پالیسی کی کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پلاٹ کسی نہ کسی طریقے سے فراہم کر دیا جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس سہولت سے اصل حق دار ممبران فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں اگر متبادل اسکیم میں قیمت اتنی زیادہ ہو کہ متاثرہ ریٹائرڈ ملازم اسے ادا ہی نہ کر سکے تو اس کے لیے رہائشی سہولت کا مقصد عملا پورا نہیں ہوتا اسی لیے متاثرین کا مطالبہ کیا ہے کہ جمع شدہ رقوم، سرمایہ کاری اور آڈٹ رپورٹس کی تفصیلات کو سامنے لایا جائے شفافیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 2004 سے اب تک ممبران کی تنخواہوں سے وصول کی جانے والی رقوم کا مکمل حساب سامنے لایا جائے ہر رجسٹرڈ ممبر کے نام پر جمع شدہ رقم، کٹوتیوں کی تاریخوں، مجموعی وصولیوں، متعلقہ فنڈز کے استعمال، سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور مجاز قواعد کے تحت ممکنہ ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلات فراہم کی جائیں یاد رہے یہ سکیم راولپنڈی،لاہور، سرگودھا ،گوجرانولہ،سیالکوٹ،فیصل آباد، ملتان ، بہاولپور، ساہیوال خانیوال، ڈیرہ غازی خان اور اب لودھراں اور جنگ میں لانچ کی گئی ہے،
