اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پولینڈ کے وزیر، کونسل آف منسٹرز کے رکن
اور کوآرڈی نیٹر برائے خصوصی خدمات ٹوماش شیمونیاک نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، کاروباری روابط اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کی تاریخی دوستی کو طویل المدتی، مضبوط اور کثیر الجہتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ روابط کا جائزہ لیا اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اعلی سطحی قیادت کے تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔شہباز شریف نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط مزید بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیراعظم نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے حوالے سے پاکستان کی حمایت پر پولینڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔ملاقات میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور، بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے علاقائی کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دریں اثناء وزیرِاعظم نے لائیو اسٹاک کی برآمدات میں اضافے کے لیے درآمد شدہ مویشیوں کی خصوصی فارم ہاسز میں نشوونما کرکے برآمد کرنے، لائیو اسٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے اس میں نجی ماہرین کے ذریعے اصلاحات کی تیاری و نفاذ کی منظوری دے دی۔وزیر اعظم کی زیرِ صدارت لائیو اسٹاک کے شعبے کی جاری اصلاحات پر اعلی سطح جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مویشیوں کی برآمد کیلئے خصوصی فارم ہاؤسز کا قیام عمل میں لایا جائے، ان خصوصی فارم ہاؤسز میں اعلی نسل کے زیادہ پیداوار کے حامل مویشیوں کو درآمد کرکے انکی برآمدات کیلئے نشونما کی جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ان خصوصی فارم ہاؤسز میں مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی فری کیا جائے اس امر کو یقینی بنانے کیلئے مذکورہ فارمز میں نشوونما کردہ مویشی برآمد کئے جائیں، مویشیوں کی ٹیگنگ کا جدید نظام متعارف کروایا جائے۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے اسکی کارپوریٹ طرز پر تنظیمِ نو کی جائے، اس مقصد کیلئے شعبے میں نجی ماہرین کے تجربے سے استفادہ کیا جائے، ملکی زرعی شعبے کا 60 فیصد سے زائد لائیو اسٹاک پر مبنی ہے، شعبے میں برآمدات کی بھرپور استعداد موجود ہے۔وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک سے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کیلئے مقررہ اہداف کے ساتھ لائحہ عمل آئندہ دو ہفتے میں مرتب کرکے پیش کیا جائے، ملک بھر میں قائم ذبیحہ خانوں کی بین لاقوامی سرٹیفیکیشن یقینی بنائی جائے، ذبیحہ خانوں کے بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، لائیو اسٹاک میں بیماریوں کے خاتمے کیلئے وزارت قومی غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے، گوشت اور لائیو اسٹاک کی برآمدی صنعت کی مزید ترقی کیلئے پوری ویلیو چین کی بہتری پر کام کیا جائے۔ انہوں نے گوشت، لائیو اسٹاک اور اس سے منسلک برآمدات کے اہداف متعین کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو لائیو اسٹاک شعبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور شعبے کی ترقی و برآمدات میں اضافے کیلئے آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس میں پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کی مجموعی استعداد کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں تقریبا 245 ملین مویشی موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریبا 5.5 کھرب روپے بنتی ہے، لائیو اسٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے، جبکہ سالانہ تقریبا 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے، ملک کے تقریبا 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو اسٹاک سے وابستہ ہیں، تاہم چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے کا رجحان اور بکھری ہوئی سپلائی چین برآمدی استعداد سے بھرپور استفادے میں رکاوٹ ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ مالی سال 2025-26 میں گوشت کی برآمدات تقریبا 530 ملین ڈالر رہیں، جبکہ موجودہ برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر شامل ہیں، ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک نئی اور توسیعی منڈیوں کے طور پر نمایاں امکانات رکھتے ہیں۔اجلاس میں لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں قومی پروگرام برائے حیوانی بیماریوں کی نگرانی، ان سے تحفظ اور جانوروں کی ٹریس ایبلٹی، منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کا قیام، ویکسینیشن و بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی، ایکسپورٹ گریڈ فارمز اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن کا نظام شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت فیڈ لاٹ فارمنگ، کولڈ چین، ڈی-بوننگ، ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور برآمدی انفراسٹرکچر کو فروغ دینے پر بھی توجہ دے رہی ہے، جبکہ 2028 تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
شہباز شریف
